امام مہدی عليہ السلام کی طولانی عمر
اس وقت بھی دنیا میں ایسے افراد کم نہیں جو مناسب کھانے پینے اور متناسب آب و ہوا اور دوسری بدنی و فکری سرگرمیوں کی بنا پر ١٥٠ سال یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں۔ اسکے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آسمانی اور تاریخی کتابوں میں بہت سے ایسے افراد کا نام اور ان کی زندگی کے حالات بیان کئے گئے ہیں جن کی عمر آج کل کے انسان سے بہت زیادہ طولانی تھی۔ہم ذیل میں چند نمونے بیان کرتے ہیں:
۱۔ قرآن کریم میں ایک ایسی آیت ہے جو نہ صرف یہ کہ انسان کی طولانی عمر کی خبر دیتی ہے بلکہ عمر جاویداں کے امکان (ہمیشہ کی زندگی )کے بارے میں خبر دے رہی ہے۔ چنانچہ حضرت یونس عليہ السلام کے بارے میں ارشادہوتا ہے:َلَولاَ اَنَّہُ کَانَ مِن المُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ اِلَی یَومِ یُبعَثُون (سورہ صافات،آیات١٤٤،١٤٣.)ترجمہ:’اگر وہ (جناب یونس عليہ السلام ) شکم ماہی میں تسبیح نہ پڑھتے تو قیامت تک شکم ماہی میں رہتے’۔
لہٰذا مذکورہ آیہ شریفہ بہت زیادہ طولانی عمر (جناب یونس عليہ السلام کے زمانہ سے قیامت تک) کے بارے میں خبر دے رہی ہے جسے ماہرین حیاتیات کی اصطلاح میں ‘عمر جاوداں’کہتے ہیں۔
٢۔ قرآن کریم میں جناب نوح عليہ السلام کے بارے میں ارشادہوتا ہے: ‘بے شک ہم نے نوح کو ان کی قوم میں بھیجا جنھوں ان کے درمیان٥٠ ٩ سال زندگی بسر کی’۔ (سورہ عنکبوت،آیت١٤.)مذکورہ آیہ شریفہ میں جو مدت بیان ہوئی ہے وہ ان کی نبوت اور تبلیغ کی مدت ہے، کیونکہ بعض روایات کی بنا پر جناب نوح عليہ السلام کی عمر ٢٤٥٠ سال تھی۔ (کمال الدین،ج٢،باب٤٦ح٣،ص٣٠٩.)
حضرت امام زین العابدین عليہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ:’امام مہدی عليہ السلام کی زندگی میں جناب نوح عليہ السلام کی سنت پائی جاتی ہے اور وہ ان کی طولانی عمرہے’۔ (کمال الدین، ج١،باب٢١،ح٤،ص٥٩١.)
۳۔ اور اسی طرح جناب عیسیٰ عليہ السلام کے بارے میں ارشادہوتاہے۔’بے شک ان کو قتل نہیں کیا گیااور نہ ہی ان کو سولی دی گئی ہے بلکہ ان کو غلط فہمی ہوئی…۔ بے شک ان کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ اللہ تعالی نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے کہ خداوندعالم صاحب قدرت اور حکیم ہے’۔ (سورہ نساء ،آیت١٥٧،١٥٨.)تمام مسلمان قرآن و احادیث کے مطابق اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ عليہ السلام زندہ ہیں اور وہ آسمانوں میں رہتے ہیں اور حضرت امام مہدی عليہ السلام کے ظہور کے وقت آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ کی نصرت و مدد کریں گے۔
حضرت امام محمد باقر عليہ السلام فرماتے ہیں:’ صاحب امر (یعنی امام مھدی عليہ السلام ) کی زندگی میں چار انبیاء علیہم السلام کی چار سنتیں پائی جاتی ہیں… ان میں حضرت عیسیٰ عليہ السلام کی سنت یہ ہے کہ لوگ ان ( یعنی امام مہدی عليہ السلام ) کے بارے میں بھی کہیں گے کہ وہ وفات پاچکے ہیں، حالانکہ وہ زندہ ہوں گے’۔ (بحار الانوار،ج٥١،ص٢١٧.)
قرآن کریم کے علاوہ خود توریت اور انجیل میں بھی طولانی عمر کے سلسلہ میں گفتگو ہوئی ہے۔ توریت میں بیان ہوا ہے:’… جناب آدم کی پوری عمر نو سو تیس سال تھی جس کے بعد انہوں نے وفات پائی … ‘انوش’ کی عمر نو سو پانچ سال تھی، ‘قینان’ نے عمر نو سو دس سال کی عمر پائی، ‘متوشالح’ نے نو سو اُنہتر سال کی عمر میں وفات پائی ‘۔ (توریت،ترجمہ فاضل خانی،سفرپیدائش باب پنجم،آیات٥تا٢٢) اس بنا پر خود توریت میں متعدد حضرات کی طولانی عمر (نو سو سال سے بھی زیادہ) کا اعتراف کیا گیا ہے۔
انجیل میں بھی کچھ ایسی تحریریں ملتی ہیں جن سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ جناب عیسیٰ عليہ السلام سولی پر چڑھائے جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے اور آسمانوںپ رچلے گئے اور ایک وقت آسمان سے نازل ہوں گے(عہد جدید،کتاب اعمال رسولان،باب اول آیات١تا١٢.) اور اس وقت جناب عیسیٰ عليہ السلام کی عمر دو ہزار سال سے بھی زیادہ ہے،اسکے علاوہ اوربھی تاریخ میں اس کے بہت سے نمونے ملتے ہیں۔
خداوندعالم کی لا محدود قدرت کے لحاظ سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ تمام آسمانی ادیان کے ماننے والوں کے عقیدے کے مطابق کائنات کا ذرہ ذرہ خداوندعالم کے اختیار میں ہے اور تمام اسباب و علل کی تاثیر بھی اسی کی ذات سے وابستہ ہے اگر وہ نہ چاہے تو کوئی بھی سبب اور علت اثرانداز نہ ہو سکے، نیز وہ بغیر طبیعی سبب اور علت کے بھی پیدا کرسکتا ہے۔وہ ایسا خدا ہے جو پہاڑوں کے اندر سے اونٹ نکال سکتا ہے اورجلانے والی آگ کو جناب ابراہیم عليہ السلام کے لئے گلزار بنا دیتا ہے۔ نیز جناب موسیٰ عليہ السلام اور ان کے ماننے والوں کیلئے دریا کو خشک کرکے اس کے اندر سے راستہ بناکراورانہیں پانی کی دو دیواروں کے درمیان سے نکال سکتا ہے۔ (سورہ انبیاء آیت ٦٩، سورہ شعراء آیت ٦٣.)
تو کیا تمام انبیاء اور اولیاء کے خلاصہ، آخری ذخیرہ الٰہی اور تمام صالحین کی تمناؤں کے مرکز نیز قرآن کریم کے عظیم وعدہ کو پورا کرنے والے کو اگر اللہ تعالی طولانی عمر عطا کرے تو اس میں تعجب کیا ہے؟!
حضرت امام حسن مجتبیٰ عليہ السلام فرماتے ہیں:
‘اللہ تعالی ان (اما م مہدی عليہ السلام ) کی عمر کو ان کی غیبت کے زمانہ میں طولانی کردے گا اور پھر اپنی قدرت کے ذریعہ ان کو جوانی کے عالم میں (چالیس سال سے کم) ظاہرکرے گا تاکہ لوگوں کو یہ یقین حاصل ہوجائے کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے’۔ (بحار الانوار ج٥١،ص ١٠٩.)
لہٰذا ہمارے بارہویں امام حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طولانی عمر مختلف طریقوں: عقل، سائنس اور تاریخی لحاظ سے ممکن اور قابل قبول ہے اور ان سب چیزوں سے بڑھ کر اللہ تعالی کے ارادہ اور قدرت کے جلووں میں سے ایک جلوہ ہے۔