جناب فاطمہ كى معنوى شخصيت

198

ہے (20) ان كى معنوى شخصيت كے گوشے ہم خاكيوں كى گفتار و تحرير ميںكيونكر جلوہ گر ہوسكتے ہيں ؟اس بناء پر ، فاطمہ كى شخصيت كومعصوم رہبروں كى زبان سے پہچاننا چاہئے ۔ اور اب ہم آپ كى خدمت ميںجناب فاطمہ كے بارے ميں ائمہ معصومين(ع) كے چند ارشادات پيش كرتے ہيں:1۔ پيغمبراكرم (ص) نے فرمايا : جبرئيل نازل ہوئے اورانہوں نے بشارت دى كہ ‘ … حسن (ع) و حسين (ع) جوانان جنّت كے سردار ہيں اور فاطمہ (ع) جنّت كى عورتوں كى سردار ہيں ۔ (21)2۔ آنحضرت (ص) نے فرمايا: دنيا كى سب سے برتر چار عورتيں ہيں : مريم بنت عمران، خديجہ بنت خويلد ، فاطمہ دختر محمد (ص) اور آسيہ دختر مزاحم ( فرعون كى بيوي) (22)3۔ آپ (ص) نے يہ بھى فرمايا: ‘ خدا ، فاطمہ كى ناراضگى سے ناراض اور ان كى خوشى سے خوشنود ہوتا ہے’ ۔ (23)4۔ امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا: ‘ اگر خدا ،اميرالمؤمنين كوخلق نہ كرتا تو روئے زمين پر آپ كا كوئي كفو نہ ہوتا ‘ ۔ (24)5۔ امام جعفر صادق ۔سے سوال ہوا كہ : ‘ حضرت فاطمہ كا نام’ زہرا’ يعنى درخشندہ كيوں ہے؟ تو آپ نے فرمايا كہ : ‘ جب آپ محراب ميں عبادت كے لئے كھڑى ہوتى تھيں تو آپ كا نور اہل آسمان كو اسى طرح چمكتا ہوا دكھائي ديتا تھا كہ جس طرح ستاروں كا نور ،زمين والوں كے لئے جگمگاتا ہے ۔ (25)
حوالہ جات :20بحار الانوار جلد 34/19_ و26كشف الغمہ جلد 1مطبوعہ تبريز /458، الغدير جلد 3/20 _21 امالى مفيد ص 3، امالى طوسى جلد 1 ص 83، كشف الغمہ جلد 1 ص 456_22 بحار جلد 43/9_ 26 … … … … مناقب ابن شہر آشوب جلد3 ص 322_23 بحار جلد 43/9_ كشف الغمہ جلد 1 ص 467 _24 بحار جلد 43/19_ 26 ، كشف الغمہ مطبوعہ تبريز جلد ص 472_25 بحار جلد 43 ص12، علل اشرائع مطبوعہ مكتبہ الداورى قم ص 181 ‘ قال : سئلت ابا عبداللہ عن فاطمہ ، لمَ سميّت زہراء فقال: لانّہا كانت اذ اقامت فى محرابہا زہر نورہا لاہل السماء كما يزہر نور الكواكب لاہل الارض’_

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.