حضرت زھراء سلام اللہ علیھا

222

الرسول(ص): يا فاطمةُ انّ اللّه يغضبُ لِغضبك و يَرضى لرضاكاے فاطمہ(س)تیرے ناراض ہونے سے خدا ناراض ہوتاہے ، اور تیرے راضی ہونے سے خدا راضی ہوتاہے۔{ مستدرك حاكم: 3/154; مجمع الزوائد: 9/203 و حاكم در كتاب مستدرك احاديثى }الرسول(ص): يا فاطمة! ألا ترضيناے فاطمہ کیا آپ اس بات پہ راضی نہیں کہ ۔أن تكونَ سيدةَ نساء العالمين آپ سرور زنان عالم ہوںو سيدةَ نساءِ هذه الأُمّة سرور زنان امت محمدی ہیںو سيدة نساء المؤمنين اور سرور زنان مومنین ہیں{ مستدرك حاكم: 3/156}خدا نے فضیلت وشرافت کی بناپر بعض اشیاء کو برگزیدہ بنایا ہےجو ہستی ,مجموعہ ہستی میں بافضیلت ترو با شرف تر ہوگی ۔اس کا مقام بالا تر ہوگا، اس کی دوستی بھی حیثیت والی ہوگی ۔اور اس ہستی سے دشمنی بھی نسبتاً خطرآور ہوگی۔ایسی ہستی پہ کی ناراضگی بھی نسبتاً سنگین نتائج کی حامل ہوگی۔الرسول(ص):يا سلمانُ من أحب فاطمةَ ابنَتيْاے سلمان جو میری بیٹی فاطمہ(س) سے محبت کرے ،فهو في الجنةِ معي وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔ومَنْ أبْغَضَها فهوَ في النارِ جو انہیں غضبناک کرے وہ جہنم میں ہوگيا سلمان حبُّ فاطمةَ اے سلمان فاطمہ(س) کی محبتيَنْفَعُ في مائةِ موطنٍ فائدہ دیگی سو مقامات پہأيسرُ تلكَ المواطنِ آسان ترین مقام ان مقامات میںالموتُ و القبرُ مقام موت اور مقام قبرہےو الميزانُ و المحشرُ مقام میزان ومقام حشر ہےو الصراطُ و المحاسبةُ مقام صراط ومقام حساب ہےفمنْ رَضِيَتْ عنهُ ابْنتيْ فاطمةُ جس سے میری بیٹی راضی ہوگیرَضيتُ عنه میں اس سے راضی ہونگو من رَضيتُ عنه اور جس سے میں راضی ہونگا۔رضي الله عنه خدا بھی اس سے راضی ہوگا۔و من غضبتْ عليه فاطمةُ جس سے میری بیٹی ناراض ہوگیغضِبتُ عليه میں اس سے نارض ہونگو من غَضِبْتُ عليه اور جس سے میں ناراض ہونگا۔غَضِبَ اللهُ عليه خدا بھی اس سے نا راض ہوگا۔يا سلمانُ ويلٌ اے سلمان ہلاکت وبربادی ہےلمنْ يَظْلِمُهَا اس کے لیے جو اس پر ظلم کرےو يَظْلِمُ ذُريَّتَها و شِيْعَتَها جو انکی ذریت اور انکے شیعوں پہ ظلم کرے(بحارالأنوار/27/116/باب 4- ثواب حبهم و نصرهم و ولايتهم /ص/73)محبت فاطمہ سلام اللہ علیھا سبب بنتی ہے کہ انسان محب جنتی ہونہ صرف جنتی ہو بلکہ جنت میں بھی ہمنشین رسول خداﷺ ہو۔وہ محبت مفید ہے جو انسان کو اپنے محبوب کا مطیع بنا دے ۔سچی محبت اور جھوٹی محبت میں یہی تو فرق ہے ۔کہ سچی محبت میں محب ، محبوب کا مطیع وفرمانبردار ہوتاہے،جبکہ سچی محبت میں محب چاہتاہے کہ محبو ب اس کا مطیع ہو۔محبوب وہی انداز اپنائے جو محب چاہے،سچی محبت میں محب خود کو ویسا بنانا چاہتاہے جیسا محب چاہےاور جھوٹی محبت میں محب چاہتاہے کہ محبوب وہی رنگ اپنا لے جیسا محب چاہتاہے۔سچی محبت میں محب کو محبوب کی خواہشوں کی فکر ہے نہ کہ اپنی۔جبکہ جھوٹی محبت میں محب کو صرف اپنی لذتوں اور خواہشوں کی فکر ہے، نہ کہ محبوب کی ،وہ اپنی خواہشات کی حدتک محبوب سے محبت کرتاہے ۔ہماری محبتیں اہل بیت عظام سے سچی ہونی چاہئیےہم انکے مطیع وفرمانبردار بنیں ،ہم انہیں اپنے مطیع بنا نے کی کوشش نہ کریں۔ہم ان سے راہنمائی اور ہدایت لیں ، ان سے مشورہ لیں۔یہ کوشش نہ کریں کہ انہیں مشورہ دیں ۔ہم انہیں یہ نہ کہیں کہ وہ ایسے بنیں جیسے ہم چاہتے ہیں۔بلکہ ہم خود ایسے بنیں جیسے وہ چاہتے ہیں۔ہم اہل بیتؑ سے صرف یہ تقاضا نہ کریں کہوہ ہماری مشکلات کو ہمیشہ اسرع وقت میں حل کریں۔جبکہ ہمیں انکی مشکلات کی کوئی فکرنہ ہو۔نہ چاہیں کہ وہ ہمیشہ ہماری حاجتوں کو پوری کرتے ہیں ۔جبکہ ہمیں انکی حاجتوں کی فکر نہ ہو۔یہ کوشش نہ کریں کہ ہم اہلبیت(ع) کو اپنی آرزوں کے لیے وسیلہ بنائیںجبکہ انکی آرزوؤں سے ہم بکلی بے خبر ہوں۔سیدہ کونین(س) سے محبت کا تقاضا صرف یہ نہیں کہ ہم اور ہماری خواتین صرف بارگاہ خدا وندی میں انہیں وسیلہ قراردیں تاکہ وہ ہماری مادی خواہشات ومادی آرزوؤن کو پوری کریں او ر بس۔اگر ہماری مادی آرزوئیں انکے وسیلے سے پوری ہوں تو ہم انکی تعریف کریں، اور محبت کا اظہار کریں۔جبکہ اگر وہ آرزوئیں پوری نہ ہوں تو دل سرد ہوجائیں ،بی بی سے حاجت لینے کے لیے کن کن کہانیوں کو نہیں پڑھتے ؟ہر اس کہانی کو بی بی سے منسوب کرکے پڑھتے ہیں جس میں حاجت روائی کا کوئی قصہ ہو خواہ اس کا نقل کرنے والا کوئی شیعہ ہو یا نہ ہو، مومن ہویا نہ ہو، حتی کہ اس کا ناقل معلوم بھی نہ ہو۔کبھی یہ بھی سوچاہے کہ یہ بی بی اپنی تمام تر نورانیت کے ساتھاپنی تما م تر معنویات کے ساتھ ، تمام تر شرف وعزت کے ساتھان ساری مصیبتوں کو مشکلات کو برداشت کیا تو کس لیے کیا؟وہ اس لیے نہ تھیں کہ خدا سے ہماری دنیوی ومادی چند بے ارزش حاجتوں کو خدا سے سفارش کرکے ہمارے لیے مانگیں ،بلکہ وہ اس لیے تھیں کہ ہمیں خدا سے ملادے ،اور ہم خدا کی اطاعت وپرستش کے ذریعے اپنی آخرت میں کامیاب وکامران ہوجائیں ، اور جہنم سے بچیں ۔وہ اس لیے آئی ہیں کہ ہم ان سے خدا کی اطاعت وپیروی کرنا سیکھیںان سے یہ سیکھیں کہ خدا سے محبت کس طرح کرنی چاہئیے۔ان سے سیکھیں کہ کہاں تک خدا کی راہ میں قربانی دینی ہے۔ان سے سیکھیں کہ راہ خدا کیا ہے ، اور کیسے راہ خدا پہ چلا جاسکتا ہے؟ہماری ابدی زندی، ہماری اخروی زندگی ہے۔ہمیں اس دنیا میں اس طرح زندگی گذارنی ہے کہ ہماری اخروی زندگی آباد ہوجاہے،اس لیے زھرائے مرضیہ بانوان اسلام کے لیے نمونہ عمل ہے کہ کائنات کی خواتین ان سے سیکھیں کہ ایک خاتون کو اپنی آخرت کس طرح سنوارنی چاہئیے ؟اسی لیے سیدۂ کونین اصول زندگی بیان فرمارہی ہیں،اورہمیں بتارہی ہیں کہخدا کے نزدیک کون سی خاتون سب سے بہتر خاتون ہوسکتی ہے، ؟اورسب سےبدتر خاتون کون سی ہوسکتی ہے؟کون سی خاتون سعادتمند اور خوش بخت ہے ؟اور کون سی خاتون بدبخت ونامراد وناکا م ہے؟الزھراء۔ؑ:قالَتْ فاطِمَةُ(عليها السلام) فى وَصْفِ ما هُوَ خَيْرٌ لِلنِّساءِبی بی نے اس سلسلے میں کہ خواتین کے لیے کیا چیز بہتر ہے ،فرمایخَيْرٌ لَهُنَّ أَنْ لايَرينَ الرِّجالَ، وَ لا يَرَوْ نَهُنَّ.خواتین کے لیے سب سے بہتر عمل یہ ہے کہ وہ نہ کسی نامحرم کو دیکھے اور نہ ہی کوئی نامحرم انہیں دیکھے ۔بعض خواتین کو اس بات کی فکر نہیں کہ محرم کیا ہے تو نامحرم کیاہے؟انکے نزدیک سب محرم ہے،انہیں صرف بات کی فکر ہے کہ سیدہ کونین کی کون سی کہانی پڑھوں تاکہ سیدہ کونین ہماری کہانی کو سنے اور ہماری بھی حاجت روائی کرے۔فاطمہ(س) کی نگاہ ان خواتین پر ہے جو حلال وحرام ، جائز وناجائز ،اور محرم ونامحرم کی فکرمیں ہوتی ہیں۔سیدہ کی نگاہ میں وہ لوگ بد ترین امت ہیں جنہیں صرف کھانے پینے، اور بولنے کی فکر لگی ہوئی ہے،اور اطاعت وعبادت ، تقوی، واخلاص وتعلیم وتربیت وغیرہ کی کوئی فکر نہیں ہے۔الزھراء۔(س):قالَتْ قالَ رَسُولُ اللّهِ (صلى الله عليه وآله وسلم)،شِرارُ أُمَّتى میری امت میں بد ترین لوگ وہ ہیں جوالَّذينَ غَذُّوا بِالنَّعِيم انواع واقسام کی نعمتیں کھاتے ہیںالَّذينَ يَأكُلُونَ أَلْوانَ الطَّعامِ قسم قسم کے کھانے کھاتے ہیںوَ يَلْبَسُونَ أَلوانَ الثِّيابِ رنگا رنگ کپڑے پہنتے ہیں۔وَ يَتَشَدَّقُونَ فِى الْكَلامِ. ہرقسم کی باتیں بکتے ہیں۔اگر ہم بے بندوبار ہوجائیں اور حرام وحلال کی پرواہ کئے بغیرزندگی گزاریں تو بی بی سے ہمارا رشتہ بر قرار نہیں رہے گا۔
الباقر۔(ع):وُلِدَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَ عَلَى بَعْلِهَا السَّلَامُ بَعْدَ مَبْعَثِ رَسُولِ اللَّهِ ص بِخَمْسِ سِنِينَفاطمۃ الزھرا(س)ء سلام اللہ علیھا پیغمراسلام(ص) کی بعثت کے پانچ سال بعد پیدا ہوئیں۔وَ تُوُفِّيَتْ وَ لَهَا ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً وَ خَمْسَةٌ وَ سَبْعُونَ يَوْماور جب شھید ہوگئیں، تو انکی عمر اٹھارہ سال اور پچہتر دن تھی۔وَ بَقِيَتْ بَعْدَ أَبِيهَا ص خَمْسَةً وَ سَبْعِينَ يَوْمبی بی اپنے والد رسول خدا(ص) کی وفات کے بعدصرف پچہتر دن زندہ رہیں:اس کے بعد انکی شھادت ہوئی۔الصادق۔(ع):إِنَّ فَاطِمَةَمَكَثَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ خَمْسَةً وَ سَبْعِينَ يَوْمفاطمہ سلام اللہ علیھا ،اپنے والد محترم کے بعد پچہتر دن زندہ رہیں۔وَ كَانَ دَخَلَهَا حُزْنٌ شَدِيدٌ عَلَى أَبِيهَانکے والد کی وفات کی وجہ سے انہیں شدید صدمہ پہنچا تھا۔وَ كَانَ يَأْتِيهَا جَبْرَئِيلُ ع فَيُحْسِنُ عَزَاءَهَا عَلَى أَبِيهَجبریل آتے اور انہیں انکے والد کی رحلت پہ تسلیت عرض کرتےوَ يُطَيِّبُ نَفْسَهَا وَ يُخْبِرُهَا عَنْ أَبِيهَا وَ مَكَانِهِانہیں خوش حال کرتے ،انکےوالد کی خبر اورانکے مقام کی خبر دیتےوَ يُخْبِرُهَا بِمَا يَكُونُ بَعْدَهَا فِى ذُرِّيَّتِهَانہیں خبر دیتے کہ انکے بعد انکی ذریت کے ساتھ کیا پیش آئیگوَ كَانَ عَلِيٌّ ع يَكْتُبُ ذَلِكَاور علی علیہ السلام ان باتوں کو لکھتے جاتے تھے ۔(اصول كافى /2 /355 روايت 1)الکاظم۔علیہ السلام:إِنَّ فَاطِمَةَ ع صِدِّيقَةٌ شَهِيدَةٌبی بی فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا صدیقہ تھی(راستگو) تھی ۔شھیدہ تھی(ظلم وستم سے انہیں شھید کیا گیا) ۔وَ إِنَّ بَنَاتِ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَطْمَثْنَ(اصول كافى /2 / 356 روايت 2)اور انبیاء کی بیٹیاں ماہانہ دیکھنے والی نجاستوں سے پاک تھیں۔الحسین۔علیہ السلام: لَمَّا قُبِضَتْ فَاطِمَةُ (سلام اللہ علیہا)جب دختر رسول(ص) نے وفات پائٰ ۔دَفَنَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ سِرّاًعلی علیہ السلام نے انہیں مخفیانہ دفن کردیوَ عَفَا عَلَى مَوْضِعِ قَبْرِهَااور قبر کی جگہ کو ناپدید کردیا۔ثُمَّ قَامَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَى قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ (ص)پھر علی(ع) اٹھے ، اور اپنا رخ قبر پیغمر(ص) کی طرف کیا ۔فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنِّىاور کہا اے رسول خدا(ص) آپ پہ میری طرف سے سلام ہو۔وَ السَّلَامُ عَلَيْكَ عَنِ ابْنَتِكَ وَ زَائِرَتِكَآپکی بیٹی کی طرف سے سلام ہو جوآپکی ملاقات کے لیے آرہی ہیںوَ الْبَائِتَةِ فِى الثَّرَى بِبُقْعَتِكَآپکی وہ بیٹی ہوکرجو زیر خاک آپ کے پاس پہنچ رہی ہیں۔وَ الْمُخْتَارِ اللَّهُ لَهَا سُرْعَةَ اللِّحَاقِ بِكَخدا نے انہیں جلد ہی آپ کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔قَلَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ صَفِيَّتِكَ صَبْرِىاے رسول خدا(ص) تیری محبوب بیٹی کی جدائی میں میرا صبر کم ہواہےوَ عَفَا عَنْ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ تَجَلُّدِىسرور زنان عالم کی جدائی میں میری خود داری نابود ہوچکی ہے۔إِلَّا أَنَّ لِى فِى التَّأَسِّى بِسُنَّتِكَ فِى فُرْقَتِكَ مَوْضِعَ تَعَزٍّمگر یہ کہ تیری جدائی میں تیری سنت کی پیروی کرنے میں ہی میری دلداری ودلجوئی باقی ہے ۔فَلَقَدْ وَسَّدْتُكَ فِى مَلْحُودَةِ قَبْرِكَبے شک میں نے ہی تیرے سر کو تیری قبر کی لحد میں رکھا تھا۔وَ فَاضَتْ نَفْسُكَ بَيْنَ نَحْرِى وَ صَدْرِىآپ کی روح میرے گلے اور سینے کے درمیان ہی پرواز کر گئٰیعنی: رحلت کے وقت آپ کا سر میرے سینے پہ تھا۔بَلَى وَ فِى كِتَابِ اللَّهِ لِى أَنْعَمُ الْقَبُولِہاں قرآن میں میرے لیے (اس مصیبت پہ صبر کے سلسلےمیں)بہترین پذیرش ہے ۔کہ میں اس مصیبت پہ بہترین صبر اختیار کرو۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَکیونکہ ہم سب خدا کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جاناہے۔قَدِ اسْتُرْجِعَتِ الْوَدِيعَةُاے رسول خدا(ص):مجھ سے امانت واپس لے لی گئٰ۔وَ أُخِذَتِ الرَّهِينَةُجو چیز میرے پاس گروی تھی واپس لے لی گئی۔وَ أُخْلِسَتِ الزَّهْرَاءُیا رسول اللہ(ص) زھراءسلام اللہ علیھا میرے ہاتھ سے گئی۔فَمَا أَقْبَحَ الْخَضْرَاءَ وَ الْغَبْرَاءَکس قدر یہ آسمان وزمین مجھے بد صورت لگتی ہے ۔يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا حُزْنِى فَسَرْمَدٌاے رسول خدا(ص)،میرا غم اب سرمدی ہوچکا ،۔جاودان ہوچکا۔وَ أَمَّا لَيْلِى فَمُسَهَّدٌاب میری راتیں بے خوابی میں گزرے گی۔وَ هَمٌّ لَا يَبْرَحُ مِنْ قَلْبِىاب غم واندہ میرے دل میں ہمیشہ رہے گا۔أَوْ يَخْتَارَ اللَّهُ لِى دَارَكَ الَّتِى أَنْتَ فِيهَا مُقِيمٌتا اینکہ خداوند میرے لیے بھی اسی گھر کا انتخاب کرے جس میں آپ لوگ اس وقت موجود ہیں۔یعنی میں مرجاؤں اور آپ(ص) سے ملحق ہوجاؤں۔كَمَدٌ مُقَيِّحٌایسا غم سے دل میں جو پھوڑے کی طرح سوجھا ہوا ہے۔وَ هَمٌّ مُهَيِّجٌ (ہیجان انگیز ھم وغم ہے)ایسا آتش اندوہ ہے دل میں جو آگ کی طرح بھڑک رہا ہے۔سَرْعَانَ مَا فَرَّقَ بَيْنَنَکس قدر جلد میرے اور زھرا ء (س)کے درمیان جدائی آگئی۔وَ إِلَى اللَّهِ أَشْكُواے رسول خدا(ص) میں میں صرف خدا سے یہ شکایت کرتا ہو۔وَ سَتُنْبِئُكَ ابْنَتُكَ (آپکی بیٹی عنقریب آپ کو آگاہ کریگی)اے رسول خدا(ص) آپ کی بیٹی جلد آپ کو بتا دے گی۔کہبِتَظَافُرِ أُمَّتِكَ عَلَى هَضْمِهَآپکی امت انکے حق کو غصب کرنے میں ہمدست ہوچکی۔فَأَحْفِهَا السُّؤَالَ آپ ان سوال کیجئیےوَ اسْتَخْبِرْهَا الْحَالَ آپ ان حال احوال پوچھئیے(شاید آپ اگر نہ پوچھیں تو زھراء(س) کا صبر اجازت نہ دے کہ آپ کو بھی وہ مصیتیں بتادیں جو ان پہ ٹوٹیں)فَكَمْ مِنْ غَلِيلٍ مُعْتَلِجٍ بِصَدْرِهَانکے سینے میں در د وغم کی ایسی آگ ہے جو بھڑک رہی ہےلَمْ تَجِدْ إِلَى بَثِّهِ سَبِيلًآپ کی بیٹی کو درد وغم کی یہ داستان کہنے کو دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہ ملی (آپ پوچھیں تو شاید آپ کو سنا دیں)(ان سے سنیں تا کہ انکا دل ہلکا ہوجائے۔)وَ سَتَقُولُ عنقریب وہ آپ کو بتا دینگی۔وَ يَحْكُمُ اللَّهُ وَ هُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَاو ر خداہی فیصلہ کریگا، کہ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔سَلَامَ مُوَدِّعٍ اے رسول خدا(ص) آپ پہ میرا الوادع سلاملاَ قَالٍ وَ لاَ سَئِمٍ میں نہ خشمگین ہوں نہ دلتنگیعنی: خشمگین ہوکر یا دلتنگ ہوکر الوداع نہیں کررہا ۔ بلکہ چارہ نہیںفَإِنْ أَنْصَرِفْ فَلاَ عَنْ مَلاَلَةٍاگر میں قبر زھراء (س) سے اٹھ کر جارہا ہوں تو اس لیے نہیں کہ میں یہاں بیٹھ کر دلتنگ ہوچکا ہوں۔وَ إِنْ أُقِمْ فَلاَ عَنْ سُوءِ ظَنٍّ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الصَّابِرِينَاگر میں یہاں بیٹھا رہوں تو یہ اس لیے نہیں کہ میں خدا کے اس وعدے کے بارے میں بد گمان ہو جو اس نے صبر کرنے والوں کے ساتھ کیا ہے۔(کہ انکے لیے خوشخبری ہے{}وبشر الصابرین الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو انا للہ وانا الیہ راجعون {وَاهَ وَاهاً افسوس ، صد افسولوَ الصَّبْرُ أَيْمَنُ وَ أَجْمَلُ اور صبر وبردباری مبارک تر وبہتر ہےوَ لَوْ لاَ غَلَبَةُ الْمُسْتَوْلِينَ لَجَعَلْتُ الْمُقَامَاگر زور گو دشمنوں کا غلبہ نہ ہوتا تو میں یہیں پرہمیشہ بیٹھا رہتمگر خوف دشمن ہے کہ وہ سرزنش کرینگے ، قبر زھرائ کو دیکھ لینگےممکن ہے کہ قبر زھرائ کو کھول لیں۔اس لیے میں یہاں سے جارہاہوں ، ورنہ میں ہمیشہ یہیں رہتوَ اللَّبْثَ لِزَاماً مَعْكُوفورنہ میں یہاں اعتکاف کرنے والوں کی طر ح چپک کر رہتا۔وَ لَأَعْوَلْتُ إِعْوَالَ الثَّكْلَى عَلَى جَلِيلِ الرَّزِيَّةِمیں اس ماں کی طرح نالہ وشیون بلند کرتا ,اس ماں کی طرح فریاد کرتا جو اپنے جوان بیٹے کی عظیم مصیبت پہ فریاد کرتی ہے۔فَبِعَيْنِ اللَّهِ تُدْفَنُ ابْنَتُكَ سِرّاً اے خدا کے رسول(ص) میں خدا کی نگاہوں کے سامنے مخفیانہ تیری بیٹی کو سپرد خاک کررہاہوںوَ تُهْضَمُ حَقَّهَا جس کا حق پایمال کیا گیا۔وَ تُمْنَعُ إِرْثَهَا جسے میراث سے محروم کردیا گیا۔وَ لَمْ يَتَبَاعَدِ الْعَهْدُ حالانکہ زیادہ وقت نہ گذرا تھا۔وَ لَمْ يَخْلَقْ مِنْكَ الذِّكْرُ ابھی تک آپکی یاد پرانی نہ ہوئی تھیوَ إِلَى اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْمُشْتَكَىاے خدا کے رسول(ص) میں خدا سے شکایت کرتاہوں۔وَ فِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْسَنُ الْعَزَاءِاے رسول خدا(ص) بہترین دلداری تیری طرف سے ہےتیری موت پہ میں نے صبر کی اب زھراء کی موت پر بھی صبر کرونگا,اور صبر کے بارے میں آپ کی فرمائشات مجھے یاد ہے, پس میں صبر کرونگا،اگر چہ میرا سینہ اس غم سے پھٹا جارہاہےصَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَ عَلَيْهَا السَّلَامُ وَ الرِّضْوَانُخدا کا درود وسلام ہو آپ پر آور آپ کی بیٹی پر۔رضوان الھی، خوشنودی خدا ہو آپ اور آپ کی بیٹی کے لیے. (اصول كافى جلد 2 صفحه 356 روايت 3)

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.