امام محمدباقرعلیہ السلام

218

پانچویں امام کے زمانہ امامت میں ایک طرف تو بنی امیہ کے مظالم کی وجہ سے اسلامی ممالک میں ھر روز انقلاب اور جنگیں رونما ھوتی رھتی تھیں اور دوسری طرف خود اموی خاندان میں اختلاف پیدا ھو رھے تھے۔ ان مشکلات نے خلافت اور حکومت کو اپنی طرف مشغول کر رکھا تھا جس کی وجہ سے ایک حد تک وہ اھلبیت(ع) پر ظلم کرنے سے باز رھے۔دوسری طرف واقعہ کربلا اور اھل بیت(ع) کی مظلومیت جس کی مثال امام چھارم تھے، ایسے امور تھے جو مسلمانوں کو اھل بیت(ع) کا گرویدہ بنا رھے تھے۔ ان حالات و عوامل کی وجہ سے عوام خصوصاً شیعہ ایک سیلاب کی مانند پانچویں امام کے پاس مدینہ منورہ میں پھنچ کر اسلامی حقائق اور تعلیمات اھل بیت علیھم السلام حاصل کرنے میں پیش پیش تھے اور آپ کے پاس لوگوں کا اس قدر مجمع لگا رھتا تھا کہ آپ سے پھلے ائمہ اھل بیت علیھم السلام کو ایسا موقع میسر نہ آسکا تھا۔ اس دعوے کا ثبوت وہ بے شمار احادیث و روایات ھیں جو پانچویں امام سے نقل اور روایت ھوئی ھیں۔ آپ کے بھتسے اصحاب شیعہ دانشمند اور رجال علم تھے جو آپ سے مختلف علوم میں فیض یاب ھوئے اورآپ کے معارف اسلامی کے مکتب میں تعلیم حاصل کرتے تھے ۔ ان کے نام آج بھی فھرستوں اور علم رجال کی کتابوں میں درج ھیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.