عقیده مهدویت کو لاحق خطرات

327

۱) کلمه انتظار فرج سے علط مطلب نکالنا:
پهلی قسطبعض لوگ امام کے ظهور اور فرج کی دعا میں انتظار فرج سے مراد معمولی حد تک امر بالمعروف و نهی عن المنکر مراد لیتے هیں اس سے بڑھ کر اپنے لیے کوئ ذمه داری نهیں سمجھتے -جبکه بعض دیگر معمولی حد تک بھی امر بالمعروف و نهی عن المنکر کے قاﺋل نهیں هیں بلکه انکا نظریه هے که غیبت کے زمانه میں هم کچھ نهیں کرسکتے اور نه هماری کوئ ذمه داری هے امام زمانه جب ظهور کریں گے تو خود سب امور کی اصلاح فرماﺋیں گے -ایک گروه کا نظریه هے که لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دینا چاهے جو چاهیں کریں جب ظلم و فساد بڑھے گا تو امام ظهور کریں گے-ایک چوتھا گروه انتظار کی یه تفسیر کرتا هے که نه صرف یه که لوگوں کو گناه کرنے سے نه روکیں بلکه خود بھی گناه کرو تاکه امام کا ظهور جلد هو-انهی لوگوں میں سے بعض یه کهتے هیں که زمانه غیبت میں هر حکومت کسی بھی شکل میں هو باطل هے اسلام و شریعت کے خلاف هے کیونکه روایات میں یه آیا هے که قاﺋم کے ظهور سے پهلے هر علم اور پرچم باطل هے-
ایسے نظریات کے نتاﺋج:۱)اپنی یا معاشره کی موجوده غلط صورت حال پر قانع هونا اور بهتر وضیعت کےلیے کوشش نه کرنا -۲) پسماندگی۳) اغیار کی غلامی۴) نا امید هونا اور جلد شکست قبول کرنا۵) حکومت اور ملک کا کمزور هونا۶)ظلم و ستم کا وسیع هونا اور اس کے مد مقابل سست رد عمل۷) ذاتی اور اجتماعی زندگی میں ذات اور بد بختی کو قبول کرنا۸) سست اور غیر ذمه دار هونا۹) امام کے قیام اور اقدامات کو مشکل بنانا چونکه جتنا فساد اور تباهی زیاده هوگی امام کا س سے مقابله اتنا هی سخت اور طولانی هوگا۱۰) بهت سی آیات اور روایات پر عمل درآمد نه هونا یعنی وه آیات و روایات جو امر بالمعروف و نهی عن المنکر ٬سماجی تربیت اور سیاست کے حوالے سے راهنما هیں ٬کفار اور مشرکین کے ساتھ طر ز عمل دیت ٬حدود تعزیرات اور محروم لوگوں کے دفاع کے حوالے هیں-
ایسے منحرف نظریات کے اسباب:اسے منحرف نظریات کی وجوهات اور اسباب مندرجه ذیل هیں:۱: کوتاه فکری اور دین کے حوالے سے کافی بصیرت کا نه هونا۲: اخلاقی انحرافات (دوسرے نظریے کے قاﺋل)۳: سیاسی انحرافات (چوتھے اور پانچویں نظریے والے)۴: یه وهم رکھنا که امام زمانه طاقت کے زور سے یا معجزه کے ذریعے تمام کاموں کو انجام دیں گے لهذا انکے ظهور کےلیے اسباب فراهم کرنے کی ضرورت نهیں هے-۵: یه وهم رکھنا که امام زمانه سے هٹ کر کوئ شخض بھی مکمل طور پر برا ﺋیوں اور فساد کو ختم نهیں کرسکتا اور معاشره کے تمام پهلوں میں خیروصلاح کو نهیں جاری کرسکتا-۶: اچھے هدف تک پهنچنے کےلیے هر قسم کے وسیله کو استعمال میں لایا جا سکتا هے لهذا جلد ظهور کے زمانه تک پهنچے کےلیے فساد اور برائ کو عام کیا جاۓ-۷: وه روایات جو آخری زمانه میں طلم و جور کی بات کرتی هیں انهیں درست نه سمجھنا بلکه یه غلط فکر کرنا که جو هوتا هے وه هوتا رهے همارا ان براﺋیوں سے کوئ تعلق نهیں یا یه که دوسروں کو بھی ان براﺋیوں کی طرف دعوت دینا-۸: ایسے سیاستتدانوں یا وه سیاست جو اسلامی معاشروں کو زوال کی طرف لے جا رهی هے ان سے بڑھ کر خود ابھی ایسی روایات کو غلط انداز سے سمجھنا که جو ظهور سے پهلے هر علم کو باطل قرار دے رهی هیں
ایسے منحرف نظریات کا مقابله اور علاجان نظریات کا تفصیلی جواب دینے سے پهلے چند مفید نکات جاننا ضروری هے :۱: ان غلط نظریات اور غلط سمجھنے کے مد مقابل دین میں علم و بصیرت پیدا کرنا -۲: هوا و هوس کے مد مقابل تقوی۳: سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں علم و بصیرت سے کام لینا تاکه دشمن اور دوست کی پهچان هو اور سیاست دانوں کی فعالیت واضح هو-۴: دینی و سیاسی اور معاشرتی مساﺋل کے بیان میں علماء اور دانشوروں کا واضح اور روشن کردار -۵: ایسے سچے اور مخلص علماء کی پیروی که جو امام کے ناﺋب عام شمار هوتے هوں۶: پسمانده اور جمود میں ڈالنے والے نظریات کو پس پشت ڈالنا –
تفصیلی جواب :۱: امام زمانه(عج) کا قیام اور دیگر امور معمول کے مطابق انجام پاﺋیں گے ایسا نهیں هے که یه سب معجزه کے ساتھ انجام پاۓ گا-جیسا که امام صادق ۜ فرماتے هیں:٫٫ لو قد خرج قاﺋمنا ۜ لم یکن الا العلق و العرق و النوم علی السروج ٬٬(غیبت نعمانی باب ۱۵ ص۲۸۵)جب همارے قاﺋم (عج) قیام فرماﺋیں گے تو سب فقط زینوں (سواریوں )پر خون و پسینه گراﺋیں گے اور نیند چھوڑ دیں گےیعنی ایسا نهیں که سب هاتھ پر هاتھ دھرے رهیں گے اور امام معجزه کے ساتھ جنگ کریں گے نه بلکه سب اس جنگ میں شریک هونگے اپنا آرام و خون اس پر قربان کریں گے-۲: امام زمانه(عج) کے قیام سے پهلے لوگ اس قیام کے اسباب فراهم کریں گے اور تیاری کریں گے جیسا که روایات ایک گروه کے بارے میں ذکر هوا هے که وه امام مهدی کی حکومت کےلیے تیاری کریں گے -٫٫ فیوطﺋون غیبۃ والقاﺋلین بامامته و المنتظرین لظهوره افضل من اھل کل زمان ۔ ۔ ۔ ۔ اوﻟﺋک المخلصون حقا و شیعنا صدقا و الدعاۃ الی دین الله سرا و جھرا (الاحتجاج ج۲ ص۳۱۷ )غیبت کے زمانه میں امام کی امامت کے قاﺋل اور انکے ظهور کے منتظر هر زمانے والوں سے افضل هیں ۔ ۔ ۔ وه حقیقی طور پر مخلص ٬سچے شیعه اور الله کے دین کی طرف علانیه اور خفیه دعوت دینے والے هیں -۳: اگر انسان کسی امر میں مکمل طور پر اصلاح نهیں کرسکتا تو اپنی طاقت کے مطابق کرنا اس پر فرض هے یه اس سے ساقط نهیں هوگا-۴: یه نظریه که جلد ظهور هونے کیلئے گناه کریں مکمل طور پر غلط هے کیونکه جسطرح امام مھدی (عج) کی حکومت ظلم و جور کو ختم کرنے والی اور عدل و انصاف کو قائم کرنے والی هے اس حکومت تک پهنچنے کا راسته بهی اسی طرح هے که اس راستے میں نه کسی پر ظلم هے نه شقاوت هے نه ریاکاری اور جھوٹ هے کبهی بهی مقدس ھدف کی بنا پر گناه جائز نهیں هوتا کیونکه گناه سے گناه پیدا هوتا هے اور ظلم سے کبهی عدل جنم نهیں لیتا۔5۔ واضح سی بات هے که ایسا ضروری نهیں هے که سب لوگ ظالم یا فاسد هو جائیں تو پهر زمین کا ظلم سے بهر جانا هوگا۔ نه بلکه اس سے مراد یه هے که دنیا میں ظالم هونگے اور مظلوم بهی هونگے اور امام زمانه کے محبین هونگے جو مسلسل فعالیت اور کوشش سے آپکے ظهور کیلئے راه هموار کریں گے۔ جیسا که امام صادق نے فرمایا هے !۔۔۔۔۔۔۔لا والله لایاتیکم حتی یشقی من مشقی و یسعد من سعد(کمال الدین ج ۲ ص ۳۴۶) یه ظهور اسوقت تک بپا نهیں هوگا جب تک ظالم اور نیک اپنے کام کاانجام نه دیکه لیں۔پس معلوم هوا که اس روز میں سب ظالم اور فاسد نهیں هونگے بلکه ظالموں کے ساته نیک بهی هونگے البته ظالم اپنے ظلم کریں گے که معلوم هوگا دنیا ظلم سے پرهوگئ هے اور دنیا میں اب نیک لوگوں کے لئے اب جگه نهیں رهی۔ دوسری بات یه هے که آیات اور روایات میں همیں ظلم و ستم سے جنگ کرنے کی دعوت دی گئ هے جیسا که آنحضرتۖ فرماتے هیں:یکون فی آخر الزمان قوم یعملون المعاصی و یقولون ان الله قد قدرها علیهم٬ الراد علیهم کشا هر سیفه فی سبیل الله(الطرائف ج ۲ ص۳۴۴)آخری زمانه میں ایک گروه معصیت کرے گا اور کهیں گے که الله نے یه انکی قسمت میں لکها تها(یعنی جبر کے قائل هونگے) تو جو انکی باتوں کو رد کرے گا اس شخص کی مانند هے که جس نے الله کی راه میں تلوار چلائی هو۔۶۔ یه جو بعض روایات میں آیا هے که ظهور سے قبل پر علم اور پرچم باطل هے اس سے مراد یه نهیں هے که معاشره کی اصلاح کیلئے هر تحریک اور قیام با طل هے نه بلکه اس سے مراد یه هے که هر وه قیام اور تحریک جو امام زمانه کے نام سے شروع هو(کوئ جھوٹا دعوی کرے)وه باطل هے ۔اسی لیے آئمه نے حضرت زید کے قیام اور انکی مانند اسی طرح کی دیگر کوششوں کی تائید کی مثلا امام کاظمۜ فرماتے هیں:رجل من اهل قم یدعو الناس الی الحق یجتمع معه قوم کزبر الحدید لا تزلّھم الریاح العواصف و لا یملّون من الحرب و لا یحبنون علی الله یتوکلون و العاقبۃ للمتقین (سفینۃ البحار ۷ ص۷)اهل قم میں سے ایک شخص لوگوں کو حق کی طرف دعوت دے گا اس کے حامی محکم اور فولادی جذبوں والے هونگے که جو جنگ سے تھکیں گے نهیں اور نه دشمن سے خوف کھاﺋیں گے فقط الله پر توکل کریں گے اور اچھی عاقبت ان کےلیے هے که جو اھل تقوی هوںامام باقر ۜ ظهور سے پهلے ظالموں سے جنگ کرتے هوۓ قتل هونے والوں کو شهدا کے عنوان سے ذکر کرتے هیں ۔ ۔ ۔ ۔ قتلا ھم شهدا(غیبت نعمانی باب ۱۶ ص۲۷۳)امام خمینی ره الله فرماتے هیں :پوری دنیا کو عدالت سے بھرنا یه هم نهیں کرسکتے اگر کر سکتے تو ضرور کرتے لیکن چونکه ایسا نهیں کرسکتے -اگر طاقت هوتی تو ضرورت روکتے چونکه ظلم روکنا همارا شرعی وظیفه هے لیکن یه پوری دنیا کا ظلم چونکه هم نهیں روک سکتے تو ضروری هے آپ ۜ تشریف لاﺋیں لیکن هم کو چاهیے که امام کی نصرت کے لیے کام کریں اس کام کے اسباب فراهم کریں اس طرح تیاری کریں که ان کے آنے کے تمام اسباب مهیا هوں-یه جو کهتے هیں که هر حکومت و علم انتطار فرج کے خلاف هے یه نهیں سمجھتے که یه کیا کهه رهے هیں -یه جو لوگوں کے ذهنوں میں یه ڈال رهیں هیں لیکن خود نهیں سمجھتے که وه کیا کهه رهے هیں حکومت صالح نه هو یعنی لوگ ایک دوسرے پر تجاوز کریں-ایک دوسرے کو قتل کریں اور مار دیں یه سب قرآنی آیات کے خلاف بات هے فرض کرو ایسی اگر ۲۰۰ روایات بھی هو پس سب کو دیوار پر دے مارتے چونکه یه روایات قرآنی آیات کےخلاف هیں جو روایات یه کهتی هیں که نهی عن المنکر نه کرو وه قابل عمل نهیں هے بلکه آپ لوگ انکے تشریف لانے کے اسباب مهیا کریں اکٹھے هوں مل جل کر کام کریں که انشاء الله حضرت ظهور فرماﺋیں ٬اب جبکه هم زمانه غیبت میں هیں ضروری هے اسلام کے حکومتی احکام باقی رهیں اور جاری هوں تاکه لوگوں میں فتنه و فساد پیدا نه هو ضروری هے اسلامی حکومت تشکیل پاۓ ٬ عقل بھی یهی کهتی هے تاکه اگر دشمنان اسلام هم پر حمله کریں هم ان کو روک سکیں اگر مسلمانوں کی ناموس پر حمله هوگا تو هم دفاع کرسکیں-غیبت صغری سے لیکر اب تک هزار سال اور چند صدیاں گذر ﮔﺋیں اور ممکن هے لاکھوں سال اور گذر جاﺋیں کبھی مصلحت پیدا نه هو که آپۜ ظهور کریں تو اس مدت میں اسلامی احکام اسی طرح پڑے رهیں گے ٬جاری نه هو ٬جو بھی کچھ کرے کرتا رهے ظلم و فساد هوتا رهے؟ایسی باتوں پر عقیده رکھنا تو اسلام کے منسوخ هونے کے عقیده سے بھی بد تر هے -اب جبکه غیبت کا زمانے میں الله تعالی کی طرف سے کوئ خاص شخص اسلامی حکومت کی تشکیل کےلیے معین نهیں هے تو هماری شرعی ذمه داری کیا هے ؟ آیا اسلام کو چھوڑ دیں آیا اسلام صرف دو سو سال تک تھا اب همارے لیے کوئ تکلیف نهیں یا یه که حکومت بنانے کی کوئ ذمه داری نهیں هے اسلامی حکومت نه هونے کا معنی یه هے که مسلمانوں کی کوئ حدود نهیں (نه کوئ قانون نه کوئ اجراء)هم هاتھ پر هاتھ رکھ کر بیٹھے رهیں-وه جو کریں کرلیں هم خاموش رهیں ۔ ۔ ۔ ۔ (صحیفه امام ج۲۱ ص۱۶ ٬۱۷٬۱۸)
نتیجه گفتگو:آیات و روایات سے ٫٫امر بالمعروف اور نهی عن المنکر ٬٬ حدود کا اجرا کرنا ٬ دیتوں کا دیا جانا ٬دفاع ٬جھاد ٬محروم لوگوں کی مدد٬ظلم کا مقابله ٬وغیره موضوعات پر حکم ملنا بتاتا هے که هم مثبت انتظار کریں نه منفی نظریے والا انتظار -دوسری طرف باطنی پیغمبر یعنی عقل نے بھی هماری ذمه داریاں واضح کیں هیں که :۱)یه ممکن هے که زمانه غیبت میں زمانه ظهور تک تمام احکام اور فرامین خدا ایک ساﺋیڈ پر رکھ دیے جاﺋیں انکو کوئ اجراء کرنے والا نه هو؟ ضروری هے که انکا محافظ اور انکا اجراء کرنے والا هو تاکه دین خدا جاری رهے یه دین قیامت تک هر لحظه لحظه کےلیے هے ایسے لوگ هوں جو اس کےنگهبان هو اس کے احکام اجرا کریں اور عمل کریں-اس طرح لوگوں کو زمانه ظهور کے لیے تیار کریں جیسا که روایات میں هے ٫٫فیوطﺋون للمهدی یعنی سلطانه٬٬۲) امام زمانه کا پروگرام بهت بلند لیکن مشکل هے کیونکه آپ نے پوری دنیا کی اصلاح کرنی هے ۰دوسری طرف سے روایات سے معلوم هوتا هے که امام زمانه نے اپنے اصحاب اور ماننے والوں کے ساتھ کفر اور مادیت پرستوں کے خلاف جنگ و جهاد کرنی هے اپنی جنگی قوتوں کی مدد دشمنوں اور ظالموں کی فو ج کو شکست دینی هے ان مندرجه بالا دو چیزوں کو دیکھتے هوۓ اب مسلمانوں کی ذمه داری کیا هے ؟اول:اپنی اصلاح میں مشغول هوں ٬ اسلامی اخلاق سے آراسته هوں اور اپنے شخضی احکام اور ذمه داریوں پر عمل کریں که جو قران و سنت سے ان پر لاگو هوتے هیں-دوم :اسلام کے اجتماعی حیثیت کے احکام کو ڈھونڈیں کریں اور اسے مکمل طور پر اجراء کریں تاکه اسلامی احکام کے عملی نتاﺋج دنیا والوں کے سامنے روشن هوں۰گویا اصلاح کرنے والے منتظرین پهلے خود اپنی اصلاح کریں- امام زمانه کا عظیم هدف ایک وسیع پیمانے کا انتظار چاهتا هے که جس میں مسلمان خود کو تیار کریں که کیسے انهوں نے اسلام کی قدرت کو دنیا میں محقق کرنا هے اور اسباب ظهور کو فراهم کرنا هے –
بے فاﺋده آرزو
نویں قسطبعض لوگ یه گمان رکھتے هیں که فقط اهل بیت پر عقیده اور امام زمانه کی محبت کافی هے ان لوگوں کے خیال کے مطابق انهیں اپنے گناهوں کے مد مقابل عذاب نه هوگا -اس قسم کے غلط خیال اور گمان کو قرآن اور روایات میں رد کیا گیا هے اور ایسے گمان کو تمنی کاذب یا امید کاذب کا نام دیا گیا هے – یه لوگ اهل کتاب کی مانند هیں جو یه سمجھتے هیں که یهی که وه بظاهر اس دین و مذهب پر هیں پس اهل سعادت هیں اور انهیں بد عملیوں پر عذاب نه هوگا- قرآن میں هے :٫٫و قالوا یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاری تلک امانیھم قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین (بقره ۱۱۱)اور وه کهتے هیں که کوئ بھی جنت میں نهیں جاۓ گا مگر یه که وه یهودی یا عیسائ هو یه ان کی آرزوﺋیں هیں آپ کهیے اگر تم سچے هو تو اپنی دلیلیں لیکر آوروایات میں بھی اس گروه کو جھٹلایا گیا هے اور انهیں کذب المتمنون (غیبت نعمانی باب ۱۱ص۱۹۷) کا عنوان دیا گیا هے که جس کا مطلب هے که خیالی باتوں میں پڑے آرزومند جھوٹے هیں)امام صادق ۜ کے فرزند حضرت اسماعیل کهتے هیں که میں نے اپنے والد گرامی سے پوچھا:همارے گناه گاروں اور همارے غیر گناه گاروں کے بارے میں آپ کیا فرماتے هیں ؟تو امام نے یه آیت تلاوت فرمائ ٫٫لیس بامانیکم و لا امانی اھل الکتاب من یعمل سوءا لیجز به ۔ ۔ ۔(سوره نسا ۱۲۳) تمهاری آرزوں کو اهل کتاب کی آرزوں پر فضیلت حاصل نهیں هے جو بھی برا عمل کرے گا اس کی سزا پاۓ گا ۔ ۔ ۔ تو اسماعیل کهتے هیں که میں نے امام صادق ۜ کی خدمت میں عرض کی :ایک گروه گناه کرتے هیں اور کهتے هیں که همیں امید و رجا هے اور وه اسی طرح رهتے هیں یهانتک که مر جاتے هیں امام نے فرمایا:یه وه هیں جو اپنی آرزوں میں غرق رهے اور انکی آرزوں نے انهیں راه حق سے منحرف کردیا وه جھوٹ بولتے هیں وه اهل رجاء اور امید نهیں هیں-یقینا جو کسی چیز کی امید میں هوں اسے طلب میں رهتا هے اور جو کسی چیز سے ڈرتا هے اس سے پرهیز کرتا هے (اصول کافی ج۲ ص۶۸)حقیقی امید اور رجا ایک اور چیز هے مفضل کهتے هیں امام صادق نے فرمایا:ایاک و السفلۃ فانما لشیعۃ علی من عف بطنه و فرجه و اشتد جهاده و عمل لخالقه و رجا ثوابه و خاف عقابه فاذ ارأیت اوﻟﺋک فاوﻟﺋک شیعۃ جعفر(وساﺋل الشیعه ج۱ باب۲۰ ص۸۶)پست لوگوں سے پرهیز کرو فقط وه علی کے شیعه هیں که جو شکم و شهوت کے مسائل میں عفت رکھتے هیں ٬کو شش و زحمت کرتے هیں٬الله کیلئےعمل کرتے هیں اسی کے ثواب کی امید رکھتے هیں اور اسکے عذاب سے ڈرتے هیں جب تم ایسے افراد کو دیکھو تو جان لو یه لوگ جعفر بن محمد صادق کے شیعه هیں۔ لیکن افسوس کی بات هے که بعض لوگ اھل بیت کی طرف توسل اور انکی شفاعت کے موضوع کی طرف توجه و دقت کیے بغیر یه غلط فکر خطابت یا شعر کے ذریعے لوگوں کے ذهن میں منتقل کر رهے هیں۔
ایسی طرز فکر کے نتائج:۱۔اپنے فردی اور اجتماعی وظائف اور تکالیف(واجبات و محرمات) پر عمل نه کرنا۲۔منفی قسم کا انتظار کرنا که جسمیں امام کے حوالے سے نه عملی قدم اٹھایا گیا هے اور نه کوئی وظیفه انجام دیا گیا هے۳۔فضول وهم(که جسمیں انسان اپنے طرز عمل سے خواه مخواه ناراض رهتاهے اور حقیقت سے آنکھیں بند رکھتا هے)
ایسی فکر کے اسباب:۱۔همیشه خیالات اور آرزوں میں رهتے هوئے حقیقی امید و رجا اور توهمات میں فرق نه سمجھنا۲۔نفسانی خواهشات جیسا که سوره قیامت کی آیه۵ میں هے(بل یرید الانسان لیفجر امامه) انسان معاد میں شک نهیں رکھتا بلکه وه چاھتا هے که آزاد رهے اور بغیر کسی حساب و کتاب کے ڈر کے ساری عمر گناه کرے۴۔الله تعالی کی صحیح معرفت نه هونا اگر چه وه مھربان هے لیکن حکیم اور عادل بهی هے۵۔آئمه علیھم السلام کی نسبت جذباتی اور غیر منطقی نگاه رکھنا۔
علاج:۔۱۔ آیات و روایات میں غور و فکر اور تدبر مثلایه آیت(ان اکرمکم عند الله اتقیکم) حجرات۱۳ اللاه کے نزدیک تم میں سے سب سے زیاده با فضیلت شخص وه هے جو سب سے زیاده متقی هے۲۔ اس نکته کی طرف توجه رکھنی چاهیے که اعمال کا معیار و ملاک خالص نیت کے ساتھ ساتھ فردی اور اجتماعی و ظائف کو انجام دینے میں هے-بسم الله الرحمن الرحیم و العصر ٬ان الانسان لفی خسر الا الذین آمنو و عملو الصالحات و تو اصو بالحق و تواصو بالصبر(سوره والعصر)شروع کرتا هوں الله کے نام سے جو بڑا مهربان اور رحم کرنے والا هےزمانه کی قسم تمام انسان خسارے میں هیں مگر وه لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیےاور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے هیں اور صبر کی تلقین کرتے هیں۔
دنیاوی اقدار کےلیے عشق
دسویں قسطبعض لوگ آﺋمه اور امام زمان(ع) سے صرف دنیاوی مفادات اور دنیاوی جاه و منصب کی خاطر محبت کرتے هیں حتی که اگر امام زمان(ع) کے ظهور کےلیے دعا بھی کریں تو بھی اپنے دنیاوی طمع کی خاطر هے جیسا که امام صادق ۜ سے نقل هوا که همارے بارے لوگوں کی تین اقسام هیں:دو قسم وه لوگ هیں که جو جاه و مقام کی خاطر اور لوگوں کو ضرر پهنچانے کی خاطر هم اهل بیت سے محبت کا اظهار کرتے هیں اور تیسرا گروه (ایسا نهیں هے)هم اهل بیت میں سے هے اور هم ان سے هیں(تحف العقول ص۵۱۳)تو یه جو دنیاوی طمع کی خاطر امام سے محبت کا دعوی رکھتے هیں اور انکے لیے ظهور کی دعا مانگتے هیں اگر کچھ مصالح کی بنا پر امام ان پر توجه نه کریں تو یهی لوگ اهلبیت کی دشمنی میں کھڑے هوجاتے هیں تاریخ میں طلحه و زبیر بهت تھے اور بهت هونگے -البته یهاں جو هم پیش کرنا چاهتے هیں وه انحراف عمومی هے که اکثر لوگ ایسی نگاه آﺋمه کے حوالے رکھتے هیں-امام سے توسل کرنا اور انکو الله کی درگاه میں واسطه قرار دینا اگرچه ایک صحیح امر هے اور روایات میں اسی پر تاکید هوئی هے لیکن یه سب کچھ صرف دنیاوی امور اور دنیاوی مشکلات دور کرنے کیلئے هو تو یه عدم معرفت کی علامت هے معلوم یه هوتا هے که ایسے کرنے والے کو ابھی نه امام کی معرفت و شناخت حاصل هے که امام کیسی با عظمت ذات هے اور اس کائنات میں اسکا کیا مقام و اهمیت هے اور نه اسےع اپنے لیے امام کی ضرورت کا صحیح ادراک حاصل هے که مجھے اور میرے وجود کو امام کی کیا ضرورت هے؟
ایسی طرز فکر کے نتایج :۱: امام سے دشمنی وبعض۲: خواهشات اور احتیاج الهی مصالح کی بنا پوری نه هو تو امام کے حوالے سے عقیده کم هونا یا عقیده ختم هوجانا
ایسی طرز فکر کے اسباب:۱: امام اور امامت کے مقام کا درک نه کرنا۲: خود خواهی اور اپنی ضرورت کو فقط دیکھنا
علاج:۱: دین میں غور و فکر کرتے هوۓ معرفت پیدا کرنا۲: امامۜ کی چاهت و حکم کو اپنی خواهشات پر مقدم رکھنے کی مشق کرنا اور اپنی تربیت کرنا-حضرت سلمان فارسی رض کی ایک صفت که جن کی بنا پر وه ممتاز شخصیت کے حامل تھے یه تھی که امام کی طلب و حاجت کو اپنی خواهشات پر مقدم رکھتے تھے-منصور بزرج روایت کرتے هیں که میں نے امام صادقۜ کی خدمت میں عرض کیا :اے میرے مولا و آقا میں اکثر آپ سے سلمان فارسی کا ذکر سنتا هوں آپۜ نے فرمایا:یه نه کهو سلمان فارسی بلکه کهو سلمان محمدی تم جانتے هو میں کیوں ان کا بهت زیاده ذکر کرتا هوں میں نے عرض کیا نهیں آپۜ نے فرمایا انکے تین اوصاف کی بنا پر انکا زیاده ذکر کرتا هوں ایک یه که وه امیر المومنین کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم رکھتے تھے دوسرا یه که فقراء سے محبت کرتے تھے اور انهیں امراء پر مقدم رکھتے تھے – تیسرا یه که علم اور علماء سے محبت رکھتے تھے-(امالی طوسی ٬مجلس ۵ ص۱۳۳)
مهدویت اور انکی نیابت کے جھوٹے مدعی
گیارهویں قسطهر زمانه میں ایک گروه نے مھدویت کے جھوٹے دعوے کیے یا دوسروں نے انکی طرف اپنی نسبت دی اور اس طرح مختلف فرقے ایجاد هوۓ-اسی طرح غیبت صغری اور غیبت کبری میں ایسے لوگ بھی تھے که جنهوں نے امام کی خاص نیابت یا انکا وکیل هونے کے جھوٹے دعوی کیے یه دعوے مختلف صورتوں میں سامنے آۓ -۱: دعوی مهدویت۲: انکی خاص نیابت ٬وکالت ٬اور بابیت ۔ ۔ ۔ ۔ وغیره کے دعوے یعنی ایسے افراد میں که جو دعوی رکھتے هیں که جب چاهیں امام سے رابط کرسکتے هیں اور انکے ذریعے مشکلات حل هوتی هیں اور وه لوگوں اور امام کے درمیان رابطه اور باب هیں بظاهر امام سے لوگوں کےلیے پیغام لاتے هیں اور لوگوں کے پیغام امام تک پهنچاتے هیں۳: عمومی نیابت :بعض لوگ خود کو علماء اورفقها و مراجع کی جگه پر پیش کرتے هیں حالانکه سب کو معلوم هے که اس دور میں عقل و حدیث سے همارا وظیفه یه هے که هم فقط علماء اور فقها کی طرف رجوع کریں لیکن یه لوگ قرآن و سنت سے هٹ کر عجیب وغریب چلّے کے راستے بتاتے هیں اور لوگوں کو فریب دیتے هیں
ایسی طرز فکر کے نتاﺋج:۱: لوگوں کی گمراهی۲: اهل بیت کی راه سے دوری۳: دین سے کھلینا۴: انحرافی فرقوں کی پیروی کی وجه سے دین میں اختلافات ڈالنا
ایسی طرز فکر کے اسباب :۱: روحی اور نفسیاتی مشکلات که احساس کمتری کی بنا پر اپنی شخصیت اور ذات کو لوگوں کے سامنے کسی بهانے سے پیش کرنا اور منوانا۳: اخلاقی مشکلات اور ایمانی ضعف۴: توهمات اور خیالی پروازیں۵: هوا و هوس اور دنیاوی جاه و مقام کی خواهش۶: جهالت اور نا آگاهی۷: علماء اور دانشوروں کا سکوت یا موقع پر رد عمل کا اظهار نه کرنا۸: سیاسی مشکلات اور اغیار کی سازشیں جیسا که محمد علی باب کو اغیار نے تیار کیا -۹: امام کے مقام اور انکی نیابت کے حوالے سے ضروری معرفت و شناخت کا نه هونا
علاج:۱: تقوی اور تهذیب نفس۲: علماء کی اور دانشوروں کی دینی اور سیاسی علم و بصیرت۳: علماء اور دانشوروں کی طرف ان امور میں راهنمائ کرنا اور منحرف لوگوں کی تکذیب کرنا۴: اسلامی حکومت کا ان لوگوں سے قاطعانه برتاو۵: انحرافات اور بدعتوں کے معاملے میں تسامح اور چشم پوشی نه کرنا-
ولایت فقیه اور عمومی ناﺋبین کی پیروی نه کرنا
بارهویں قسطایک چیز که جس سے اسلامی وحدت کو نقصان پهنچتا هے اور اسلام و مهدویت کے دشمنوں کو فعالیت اور سازشیں کرنے کا موقع ملتا هے وه یه هے که غیبت کبری میں امام زمانه کے عمومی ناﺋب فقها اور مراجع عظام کی پیروی نه کرنا حالانکه احادیث میں انکی اطاعت پر بهت زیاده زور دیا گیا هے –
نتاﺋج :۱: گمراهی و ضلالت۲: افراد ملت اسلامیه کا بکھرنا اور عدم وحدت۳: دشمن کے مد مقابل شکست اور مقابله کی همت ختم هونا
اسباب:دین میں کافی بصیرت نه رکھناعقلی اور نقلی دلاﺋل کی طرف توجه نه کرنا۳: امام زمانه کی ڈاﺋرکٹ پیروی کا وهم رکھنا۴: زمانه غیبت میں امام کے خاص ناﺋبین کی توقع رکھنا۵: هوا و حوس۶: سیاسی اغراض اور اغیار کی شیطانیت
علاج:عمومی ناﺋبین یعنی فقها اور مراجع کی تقلید کی ضرورت کو واضح کرناامام صادق ۜ کا فرمان هے :فقها میں سے وه فقیه که جو اپنے نفس کو بچانے والا ٬اپنے دین کا محافظ ٬اپنی خواهشات کا مخالفت کرنے والا اور اپنے مولی کی اطاعت کرنے والا هو تو عوام کو چاهیے که اس کی تقلید کریں-اس طرح کی صفات رکھنے والے بعض فقها شیعه هیں نه سب (وساﺋل الشیعه ج۲۷ ص۱۳۱) غیبت صغری میں دوسرے خاص ناﺋب محمد بن عثمان عمری کی توقیع میں امام زمانه نے اسحاق بن یعقوب کو خطاب میں یه فرمایا: حوادث اور پیش آنے والے مساﺋل میں هماری احادیث کے راوی(فقها)کی طرف رجوع کرو کیونکه وه میری طرف سے تم پر حجت هیں اور الله کی طرف سے تم پر حجت هوں (غیبت طوسی فصل ۴ ص۲۸۰)۲: دینی اور سیاسی بصیرت۳: ایسے فقیه که جو ان امور کے اهل اور عهده دار هیں انکی تمام علماء اور دانشور حضرات حمایت کریں -۴: علماء اور دانشوروں کے تعاون کے ساتھ اسلامی معاشره کی دینی ٬فکر ٬سیاسی اور سماجی مشکلات حل کرنے کےلیے کوشش اور زحمت کرنا-
حضرت مهدی کی امامت پر عقلی دلاﺋلتمام اسلامی مذاهب اور مکاتب امام ٬پیغمبرۖ کے خلیفه اور مسلمانوں کے رهبر کے وجود کو تسلیم کرتے هیں اس مسأله میں تمام مسلمان خواه شیعه یا سنی سب متفق هیں-اهل سنت میں یه مسأله اس قدر اهمیت کا حامل هے که جب ان پر اعتراض کیا جاۓ که ابھی پیغمبر اکرمۖ کے وجود کو غسل و کفن نهیں دیا گیا تھا تو کیوں اصحاب که جن میں خلیفه اول و دوم بھی شامل تھے سقیفه کے ماجرا میں پیغمبر اکرم کی جانشینی والے مسأله میں پڑ گۓ تو وه کهتے هیں که امامت اور امت اسلامی کی رهبری پیغمبر اکرم ۖ کے کفن و دفن سے اهم هے -پس امام کی ضرورت کا مسأله نه صرف شیعه بلکه اهل سنت کے مختلف فرقوں کےلیے بھی بهت اهمیت کا حامل هے یه که ایک امام و خلیفه ضرور هونا چاهیے جس میں کسی قسم کا شک وشبه نهیں رکھتے البته یه که وه کیسا هونا چاهیے ان مساﺋل میں اهل سنت کا ایک مکتب شیعه سے اختلاف نظر هے -یهاں سب سے پهلے هم شیعه و سنی فرقوں کی اس مسأله میں راۓ بیان کریں گے-
شیعه کلامی فرقے:۱:امامیه اثنا عشریهامامیه کی نظر میں امامت واجب هے اس کی تا ﺋید کےلیے امامیه کے ایک بڑے عالم خواجه نصیر الدین طوسی کی کلام پیش کرتے هیں که انهوں نے فرمایا:الامامیۃ یقولون نصب الامام لطف ٬لانه یقرب من الطاعۃ و یبعد عن المعصیۃ و اللطف واجب علی الله (تلخیص المحصل ص۴۰۷)امامیه کهتے هیں که امام کا نصب کرنا لطف هے کیونکه امام لوگوں کو اطاعت کے قریب کرتا هے اور گناه سے دور کرتا هے اور یه لطف الله تعالی پر واجب هے –
نوٹ :اگرچه فریقین امامت کے وجوب کے قاﺋل هیں لیکن یه که یه الله تعالی پر واجب هے یا لوگوں پر واجب هے اس میں اختلاف نظر رکھتے هیںیه که الله ر واجب هے یه شیعوں کا کلامی (علم کلام سے متعلق)وجوب هے اور یه که لوگوں پر واجب هے یه اهل سنت کا فقهی (علم فقه سے مربوط) وجوب هےوجوب کلامی سے مراد یه هے که کوئ فعل عدل ٬حکمت ٬ جود ٬رحمت یا کوئ اور الهی صفات کمالیه کے تقاضوں کے مطابق هو اور ایسے فعل کا ترک چونکه الهی ذات میں نقص کا موجب هے لهذا محال هے پس ایسے فعل کا انجام دینا ضروری هے اور واجب هےالبته یه بات واضح هے که کوئ الله پر کسی فعل کو واجب قرار نهیں دیتا بلکه وه خود اپنی صفات کمالیه و جمالیه کے تقاضوں کے مطابق اسے اپنے اوپر واجب قرار دیتا هے که جیسا که پروردگار فرما رها هے :کتب ربکم علی نفسه الرحمۃ ٬ ٬ ٬ تمهارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو فرض کیا۔ ۔ ۔ ٫٫ان علینا للھدئ٬٬ همارا فرض هدایت ۔۔۔اسی طرح دیگر آیات ۔۔ ۔ ۔ ۔امامیه چونکه امامت کو الهی حکمت و لطلف کے تقاضوں کے مطابق جانتے هیں لهذا اسے الله تعالی پر واجب شمار کرتے هیں-
۲ :اسماعیلیه :مشهور یهی هے که اسماعیلیه بھی امامیه کی مانند وجوب امامت کے قاﺋل هیں لیکن امامیه کے ساتھ فلسفه امامت میں اختلاف نظر رکھتے هیں انکے نزدیک امامت کا فلسفه فقط یه هے که وه الله تعلی کی معرفت کی بشر کو تعلیم دے-(ارشاد الطالبین ص۲۲۷)
۳: زیدیه :یه بھی امامیه کی طرف وجوب امامت کے قاﺋل هیں لیکن امامت کی شراﺋط اور مصادیق میں امامیه کے ساتھ بهت زیاده اختلاف نظر رکھتے هیں-(قواعد العقاﺋد ص۱۷)
اهلسنت کے کلامی فرقے:
۱: اشاعره :یه امامت کے وجوب کے قاﺋل هیں لیکن یه چونکه حسن و قبح عقلی کے قاﺋل نهیں هیں لهذا امامت کا وجوب لوگوں پر سمجھتے هیں بالفاظ دیگر وجوب فقهی کے قاﺋل هیں دوسرا یه که یه لوگ امامت پر وجوب عقلی کے قاﺋل نهیں هیں بلکه یه وجوب انکے نزدیک دلیل نقلی سے ثابت هے (شرح مواقف ج۸ ص۳۴۵)
۲: معتزله :اکثریت معتزله بھی وجوب امامت کے قاﺋل هیں اور یه وجوب انکے نزدیک بھی دلاﺋل نقلی سے ثابت هوتا هے-
۳: ماتریدبه :یه بھی اشاعره کی مانند وجوب امام کے قاﺋل هیں اور یه وجوب انکے نزدیک بھی دلاﺋل نقلی سے ثابت هوتا هے
۴: وھابیه :یه لوگ بھی امامت و خلافت کو واجب سمجھتے هیں لیکن اس کےواجب کفائ هونے کے قاﺋل هیں(لمعۃ الاعتقاد ص۱۵۶)یهاں سے معلوم هوا که شیعه سنی فرقے امام کے وجوب کے قاﺋل هیں اس حوالے سے اتفاق نظر رکھتے هیں اگر چه اختلاف دیگر مساﺋل میں هے که آیا یه خدا پر واجب هے یا لوگوں پراب یهاں سوال پیدا هوتا هے که وجوب امامت پر کونسی ادله هیں یهاں اجمالی طور پر بعض ادله کی طرف اشاره کیا جاتا هے :
۱: قاعده لطف:ایک عقلی دلیل و برهان که جس کی بنا پر اکثر متکلمین نے وجوب امامت پر استدلال کیا٬ قاعده لطف هے شیخ طوسی علیه الرحمۃ فرماتے هیں: لطف وه عنایت هے که انسان کو جو کام ضروری کرنا چاهیے ا سکے انجام دینے پر برانگیخته کرتا هے اور اسے اس کام میں مدد فراهم کرتا هے اگر اس کی طرف سے انگیزه اور مدد نه هو تو انسان وه کام انجام نهیں دے سکتا اسی طرح هو کام جو انسان کو نهیں کرنا چاهیے لطف اسے اس کام سے دور کرتا هے لطف کے تین مراحل هیں:۱: توفیق:کام کو انجام دینے کےلۓ ضروری وساﺋل اور امکانات فراهم کرنا-۲: ارشاد و راهنمائ (راسته دکھلانا)۳: عمل میں رهبری (مقصود تک پهنچانا) (تمهید الاصول ص۷۶۷)
علامه حلی اس حوالے سے فرماتے هیں:امامت دین و دنیا کے امور میں ایک کلی الهی رهبری و حاکمیت هے یعنی بعنوان ناﺋب پیغمبر بعض افراد کےلیے یه واجب عقلی هے کیونکه امامت لطف هے -همیں یقین هے که اگر لوگوں کےلیے ایسا کوئ شخص هو جو انکی رهبری کا ذمه داری اپنے کاندھوں پر لے اور انکی راهنمائ کرے دوسرے لوگ اس کی اطاعت کریں اور وه مظلوم کے حق کو ظالم سے لے اور ظالم کو ظلم سے منع کرے تو لوگ صلاح وخیر کے نزدیک اور فساد سے دور هوجاﺋیں گے (شرح باب حادی عشر ص ۸۳)لطف کی تعریف:یه الله تعالی کی صفات فعلی میں سے هے ایسا الهی فعل هے که جن کی بنا پر لوگ اطاعت کے قریب اور معصیت سےدور هوجاتے هیں-
لطف کی اقساماس کی دو قسمیں بیان هوئ هیں
۱ : لطف محصل۲: لطف مقربلطف محصل :الله تعالی کی طرف سے ایسے اسباب فراهم هونا که جن پر انسان کی خلقت کا هدف موقوف هے اگر الله تعالی یه اسباب و احکام فراهم نه کرے تو انسانی خلقت لغو هوجاۓ گی مثلا احکام شرعیه بھیجنا ٬دینکی تبلیغ اور حفاظت کےلیے انبیا کا بھیجنا –
لطف مقرب :وه امور الهی که جن کے ذریعے احکام تکلیفه کا هدف پورا هو کیونکه اگر الله تعالی یه لطف نه کرے تو بهت سے بندگان اطاعت و امتثال کےلیے تیار نهیں هوتے مثلا نیک لوگوں کو جنت کا وعده برے لوگوں کو جهنم کے عذاب سے ڈراوا -امتحان لینے کےلیے لوگوں کو نعمات اور مصاﺋب دینا۔ ۔ ۔ اس قسم کا لطف انسان کو الهی احکام بجا لانے کے نزدیک کرتا هے اور سرکشی سے دور کرتا هے –
نتیجه :اگر لطف محصل نه هو تو تکالیف شرعیه کے بھیجنے کےلیے انبیا کی بعثت هی نه هوگی اگر لطف مقرب نه هو تو اگرچه انبیاء و آﺋمه کی صورت میں راهنما هونگے احکام شرعیه هونگے لیکن عموما لوگ امتثال و اطاعت نهیں بجا لاﺋیں گے -قانون لطف کی امامت پر دلالت:اکثر علماء علم کلام امامت کے مسأله کو لطف مقرب کے مصادیق میں سے شمار کرتے هیں اس طرح که الله تعالی نے بندوں پر کچھ تکالیف واجب کیں تاکه وه ان تکالیف کی پیروی و اطاعت میں کمال و سعادت تک پهنچ جاﺋیں یه غرض الهی بغیر امام معصوم کو منصوب کرنے اور لوگوں کو جنت کا وعده اور جهنم کے ڈراوے کے پوری نهیں هوسکتی پس خداۓ حکیم یقینا ان امور کو انجام دے گا تاکه تکالیف شرعیه کے حوالے سے نقض غرض لازم نه آۓاکثر بزرگ علماء اهل کلام یهاں ایک مثال دیتے هیں که جب بھی کوئ غذا تیار کرے اور اس کا مقصد یه هو که لوگوں کو دعوت دے اور وه انهیں پیغام دعوت بھیجے اب وه جانتا هے که لوگوں کے پاس اس کے ایڈریس کےلیے نشانی اور راهنمائ موجود نهیں هے نه کوئ انکے پاس ایسا راهنما هے که جو اس کی نشانی بتاۓ اور وه بھی نشانی بتانے کےلیے کوئ راهنما نه بھیجے تو یقینا دعوت والا کام عبث اور فضول هوگا-پس عهده امامت لطف مقرب کے مصادیق میں سے هے اور امام کا مرتبه پیغمبر کے مرتب کے قریب هے لیکن اس فرق کے ساتھ که پیغمبر تکالیف شرعی کو لانے اوربیان کرنے کےلیے هوتے هیں جبکه امام بعنوان ناﺋب پیغمبر ان تکالیف شرعیه کے محافظ اور پاسدار هوتے هیں(انیس الموحدین ٬محمد مهدی نراقی باب امامت)بلاشبه قوانین الھی کی حفاظت اور امام کے دیگر وظاﺋف سے انسان الهی اوامر کی پیروی کے قریب هوجاتے هیں اور سرکشی سے دور هوجاتے هیں اور جب بھی کسی معاشره کا ایسا رهبر هو جو انکو ظلم سے روکے اور صلح وعدالت کے راسته پر لیجاۓ تو ایسا معاشره صلاح وخیر کے نزدیک اور فساد سے دور هوگا-(کشف المراد ص۳۶۲)اب ایسا رهبر اگر الله تعالی کی طرف سے هو اور معصوم بھی هو تو پھر اس کے لطف هونے میں کوئ شک نهیں رهے گا کیونکه الھی اور معصوم امام یا رهبر کے منصوب هونے سے نه کوئ مفسده اور نه کوئ مشکل پیش آتی هے که الله اس مشکل کی بنا پر امام کو منصوب نه کرے-۲: دین کے متخصص و ماهر کی ضرورت:همارا عقیده هے که پیغمبر اسلام ۖ آخری پیغمبر هیں اور دین اسلام ایک جامع اور کامل دین هے تو اس وقت یه مشکل سامنے آتی هے که پیغمبر اسلامۖ کو ﺗﻴﺋس ساله زمانه تبلیغ میں اتنی فرصت نهیں ملی که امت کی راهنمائ کےلیے تمام جذﺋیات اور تفصیلات بیان کریں اس کے علاوه لوگ بھی اس زمانه میں بهت سے معارف کو درک کرنے کی صلاحیت نهیں رکھتے تھے اور بعض مساﺋل اس دور کے لوگوں کےلیے ضروری بھی نه تھے که انهیں یار کریں اور اور دوسروں تک پهنچاﺋیں -یهیں سے پیغمبر اسلامۖ کے بعد دین کے ماهر و متخصص کی بعنوان امام ضرورت پیش آتی هے ایسا ماهر و متخصص کو جو تبلیغ میں پیغمبر کی مانند کبھی خطا و اشتباه نه کرے-یه ایسا مسأله هے که جسے تمام عقلا عالم قبول کرتے هیں که هر کام میں ماهر و متخصص کی ضرورت هے اسی طرح هر مکتب و مذهب کی پیچیدگیوں اور مساﺋل کے حل کےلیے اس مذهب کے ماهر کی طرف رجوع هو-اگر ماهرین و متخصص نه هوں یا هوں لیکن امام نه هوں بلکه مساﺋل میں خطا کرنے والے هوں تو یه مذهب لوگوں کےلیے ناکافی هوگا اور بالآخر یه مذهب ختم هو جاۓ گا یا مسخ هوجاﺋیگا ٬آیت الله سبحانی امامت پر ادله کی بحث میں ایک برهان یوں پیش کرتے هیں:۱: الھی آیات کی شرح و تفسیر اور انکے اسرار و رموز کو کشف کرنا۲: جدید پیش آنے والے مساﺋل میں احکام شرعیه بیان کرنا۳: شبھات کا جواب اور اهل کتاب کے سوالات کا جواب۴: دین کو تحریف سے محفوظ رکھنایه چار اهم وظاﺋف هے که جو پیغمبر اکرم ۖ اپنی پربرکت حیات میں انجام دیتے تھے تو پیغمبر اکرم ۜ کے بعد کون ان وظاﺋف کو انجام دے گا تین احتمال موجود هیں:۱: شارع اس مسأله کی طرف توجه نه کرے اسے ایسے هی چھوڑ دے یه بات نا ممکن هےب) شارع اس مسأله کو امت کے سپرد کردے که وه خود انجام دیں تو یهاں هم دیکھتے هیں که رحلت پیغمبر اکرم ۖ کے بعد امت اسلامی کیسے کیسے حوادث اور مساﺋل میں گرفتار هوئ جس کے نتیجے میں لوگوں میں تفرقه پیدا هوا لهذا یه احتمال بھی قابل قبول نهیں هے-ج) الله تعالی یه ذمه داری پیغمبر اکرم کی مانند کسی شخص کے سپرد کرے -جو انکی مانند معصوم هو اور دین کی درست تشریح و تفسیر کرے-۔ ۔ ۔پهلے دو احتمال باطل هیں تیسرا احتمال عقلا عالم کے نزدیک درست هے اور یه وهی بات هے که الله تعالی پیغمبر اکرم کے بعد بعنوان امام انکا جانشین منتخب کرے-۳ : سیرت مسلمین:اسلامی متکلمین نے اپنی کلامی کتب میں یه دلیل ذکر کی مثلا خواجه نصیر الدین طوسی نے تلخیص المحصل میں ٬عضد الدین ایجی نے مواقف میں ٬سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصداور شرح عقاﺋد نفیه میں اور شهرستانی نے نهایه الاقدام میں ذکر کیا هے که سیرت مسلمین بالخصوص صدر اسلام کے مسلمانوں کی سیرت میں مطالعه کے بعد یه بات واضح هوجاتی هے که یه سب لوگ وجوب امامت کو ایک مسلم امر شمار کرتے تھے -حتی که وه لوگ جو سقیفه میں بھی حاضر نه تھے مثلا حضرت علیۜ بھی اسلامی معاشرے کی ایک امام کی طرف احتیاج کے منکر نه تھے-۴:شرعی حدود کا اجراء اور اسلامی نظام کی حفاظتبلاشبه شارع مقدس نے مسلمانوں سے چاها هے که اسلامی حدود کو اجراء کریں اور اسلامی مملت کی سرحدوں کی دشمنان دین سے محافظت کریں یه چیز بغیر با صلاحیت اور مدبر رهبر و امام کے بغیر ممکن نهیں هے یه که واجب کا مقدمه واجب هوتا هے اس امام کا منصوب کرنا بھی واجب هے عالم اهلسنت سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصد میں اس دلیل کی طرف اشاره کیا هے (شرح مقاصد ج۵ ص۲۳۶- ۲۳۷)۵: بڑے خطرات سے بچنا واجب هےایک اور دلیل کے جسے اسلامی متکلمین مثلا علماء اهلسنت ٬فخر رازی ٬(تلخیص المحصل ص۴۰۷ )اور سعد الدین تفتازانی (شرح مقاصد ج۵ ص۲۳۷- ۲۳۸) نے امامت کے وجوب پر پیش کیا هے یه هے که امامت کی شکل میں امت اسلامی کو بهت بڑے اور عظیم سماجی فواﺋد حاصل هیں که اگر ان فواﺋد کو نظر انداز کردیا جاۓ تو شخص اور معاشره بڑے خطرات اور نقصانات سے دوچار هوجاﺋیگا که ایسے خطرات سے بچنا شرعا و عقلا واجب هے -ان پانچ عقلی ادله کے پیش نظر کها جاسکتا هے که شیعه و سنی تمام اسلامی متکلمین کے نزدیک امامت کا وجود اور وجوب مورد اتفاق هے-
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.