معرفت امام کے بارے میں مناظرہ

403

حافظ :-قبلہ صاحب میں ممنون ہوں کہ آپ نے شیعہ فرقوں کے حالات کی تشریح فرمائی لیکن آپ کی کتب اخبار وادعیہ میں ایسے مطالب وارد ہوئے ہیں ،جو بظاہر آپ کی گفتگو کے بر خلاف ہیں خاص طور پر اثنا عشری شیعوں کے کفر و الحاد کو ثابت کرتے ہیں ۔
خیر طلب :- بہتر ہے کہ وہ اخبار وادعیہ اور اشکال کے مواقع بیان فرمائیے تاکہ حق ظاہر ہوجائے ۔
حدیث معرفت پر اعتراضحافظ :- میں نے بہت سی حدیثیں دیکھی ہیں لیکن جو اس وقت پیش نظر ہے کہ وہ یہ ہے کہ تفسیر صافی میں جو آپ کے ایک جلیل القدر عالم اور مفسر فیض کاشانی کی لکھی ہوئی ہے ۔ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ ایک روز حضرت حسین شہید کربلا اپنے اصحاب کے سامنے کھڑے ہوئے اور فرمایا ۔”ایھا الناس ان اللہ تعالی جل ذکرہ ما خلق العباد الا لیعرفوہ فاذا عرفوہ عبدوہ واذا عبدوہ استغنو بعبا دتہ عن عبادۃ من سواہ قال رجل من اصحابہ بابی انت واخی یابن رسول اللہ فما معرفۃ اللہ ؟قال معرفۃ اھل کل زمان امامھم الذی تجب علیھم طاعتہ “۔(یعنی اے لوگو خداوند عالم جلّ ذکرہ نے خلق نہیں کیا ہے بندوں کو لیکن اپنی معرفت کے لئے اور جب بندوں نے اس کو پہچان لیا تو اس کی عبادت کی اور جب اس کی عبادت کی تو اس کی عبادت کی وجہ سے اس کے ما سوا کی عبادت سے مستغنی ہوگئے آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ میرے باپ بھائی آپ پر فدا ہوں اے فرزند رسول (ص) ،معرفت الہی کی حقیقت کیا ہے ؟ فرمایا ہر زمانے والوں کا اپنے اس امام کو پہچاننا جس کی اطاعت ان پر فرض ہے ۔
اعترض کا جوابخیر طلب:- سب سے پہلے تو حدیث کے سلسلہ اسناد کی طرف توجہ کرنا چائیے کہ آیا یہ حدیث صحیح ہے یا موثق ومعتبر ،حسن ہے یا ضعیف ،قابل توجہ ہے یا مردود ؟ اگر فرض کر لیا جائے کہ صحیح ہے تو توحید کے بارے میں آیات قرآن مجید اورآل اطہار وائمہ ہدی علیھم السلام کے سلسلے میں احادیث متواترہ کے نصوص صریحہ کو خبر واحد کی وجہ سے اپنے کھلے ہوئے مطلب سے پھیرا تو نہیں جاسکتا ۔آپ توحید کے بارے ان سارے اخباروآحادیث ،ائمہ دین کے ارشادات اور ان کے مناظروں جو ہمارے بزرگان دین اور ائمہ اثناعشر نے مناسب موقعوں پر مادّیین اور دہریین سے فرمائے ہیں اور خالص توحید کو ثابت فرمایا ہے کیونکہ نہیں دیکھتے اور ان پر پرتوجہ کیوں نہیں دیکھتے؟ اور ان پر توجہ کیوں نہیں فرماتے ؟ درآنحالیکہ شیعوں کی تمام خاص خاص تفسریں اور کتب اخبار جیسے توحید مفضل وتو حید صدوق اوربحار الانوار علامہ مجلسی علیہ الرحمۃ کی کتاب توحید اور دیگر بڑے بڑے علمائے شیعہ امامیہ کی کتب توحید یہ اہل بیت طاہرین(ص)کی متواتر حدیثوں سے چھلک رہی ہیں ۔آپ چوتھی صدی کے مفاخر علمائے شیعہ میں سے ابو عبد اللہ محمد بن نعمان معروف بہ”مفید” متوفی سنہ 413ھ کا رسالہ”النّکت الاعتقادیۃ”اور انہیں بزرگوار کی تالیف “اوائل المقالات فی المذاھب والمختاران”کا مطالعہ کیوں نہیں فرماتے نیز ہمارے شیخ اجل ابو منصور احمد بن علی ابن ابی طالب الطبرسی کی کتاب “احتجاج”کی طرف کیوں رجوع نہیں کرتے تاکہ آپ کو پتہ چلے کہ امام برحق حضرت امام رضا علیہ السلام نےمخالفین ومنکرین توحید کے مقابلے میں کس طرح خالص توحید کو ثابت فرمایا ہے نہ کہ آپ اسی فکر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کچھ واحدو متشابہ خبریں ڈھونڈ نکالیں اور انہیں کا سہارا لے کر شیعوں پر لعن طعن کریں ۔کیا خوب کہتا ہے شاعر عرب :
اتبصر فی العین منی القذی ۔۔۔وفی عینک الجذع لاتبصر(یعنی آیا میری آنکھ کاتنکا ڈھونڈھتے ہو اور اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں دیکھتے ؟کنایہ یہ ہے کہ میرا چھوٹا عیب دیکھتے ہو اور اپنا بڑا عیب نظر نہیں آتا یہ مثل اس لئے پیش کر رہا ہوں کہ آپ اپنی کتابوں پر غور نہیں فرماتے تاکہ ان کے اندر ایسے خرافات ومو ہومات بلکہ کفریات نظر آئیں ۔”یضحک بہ الثکلی” (یعنی جس پر پسر مردہ عورت بھی ہنس دے :مترجم) اورپھر شرم کی وجہ سے سر نہ اٹھائیں یہاں تک کہ آپ کی معتبر صحاح کے اندر بھی اس قدر مضحکہ خیز روایتیں منقول ہیں کہ عقل مبہوت اور حیران ہوجاتی ہے ۔
حافظ:- مضحکہ خیز در اصل آپ کے الفاظ ہیں کہ ایسی کتابوں پر عیب لگارہے ہیں جو عظمت وبزرگی میں اپنا جواب نہیں رکھتی ہیں خصوصیت کیساتھ صحیح بخاری اور صحیح مسلم جن کے بارے میں عام طور سے ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ ان کے اندر جتنی حدیثیں ہیں وہ سب قطعی طور پر صحیح ہیں ۔ اوراگر کوئی شخص ان دونوں کتابوں کا اوران کے اندر مندرجہ اخبار کا انکار کرے اور ان کو غلط بتائے تو درحقیقت اس نے اصل مذھب سنت وجماعت کا انکار کیا ،کیونکہ قرآن مجید کے بعد اہل سنت کےاعتبار کا دارومدار انہیں دونوں بزرگ کتابوں پر ہے جیسا کہ اگر آپ کی نظرسے گزرا ہو تو ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ کے شروع میں لکھاہے ۔”الفصل فی بیان کیفیتھا رای کیفیۃ خلافۃ ابی بکر روی الشیخان البخاری ومسلم فی صحیحھا الذین ھما اصح الکتب بعد القرآن اجماع من یعتد بہ “(فصل اس کیفیت کے بیان میں (یعنی کیفیت خلافت ابی بکر)شیخین یعنی بخاری ومسلم نے اپنی صحیحین میں جو با اجماع امت قرآن کے بعد تمام کتابوں میں سے سب سے زیادہ صحیح ہیں کیونکہ امت نے ان کی قبولیت پر اجماع کیا ہے اور جس چیز پر امت کا اجماع ہو وہ قطعی ہے لہذا بخاری اور صحیح مسلم میں جتنی حدیثیں درج ہیں وہ قطعی طور پر صادر ہوئی ہیں ۔ لہذا کوئی شخص یہ کہنے کی جرات کیونکر کر سکتا ہے کہ ان دونوں کتابوں میں کفریات اور خرافات وموہومات موجود ہیں ؟
صحیحین بخاری ومسلم میں خلاف عقل روایتیںخیرطلب :- اول تو آپ کے بیان میں اس جملے پر کہ دونوں کتابیں ساری امت کی نظر میں قابل قبول ہیں ،علمی اعتراضات قائم ہیں اور ابن حجر کے حوالے سے آپ کا یہ دعوی دس کروڑ صاحبان علم وعمل مسلمانوں کے نزدیک علمی عملی ،منطقی طور سے بلکل بے وقعت ہے لہذا اس موقع پر امت کا اجماع ویسا ہی ہے اجماع ہے جس کے آپ صدر اسلام مین امر خلافت کے لئے قائل ہیں ۔دوسرے جو کچھ میں کہہ رہا ہوں دلیل اور برہان کے ساتھ ہے ۔‏آپ حضرات بھی اگر خوش عقیدگی کی آنکھ سے نہیں بلکہ حقیقت ہیں نگاہ سے ان کتابوں کو ملاحضہ فرمائیں تو جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں وہی آپ کو بھی نظر آئے گا ۔اور ہمارے اور سارے اہل عقل کی طرح ان کے مندرجات سے متحیر ومتبسم ہوں گے ۔جیسا کہ آپ کے بہت سے اکابر علماء جیسے دار قطنی و ابن حزم اور شہاب الدین احمد بن محمد قسطلانی” ارشاد الساری”میں، علامہ ابو الفضل جعفر بن ثعلب شافعی “کتاب الامتاع فی احکام السماع ” میں، شیخ عبد القادر بن محمد قریشی حنفی” جواہر المضیۃ فی طبقات الخفیہ ” میں ،شیخ الاسلام ابو زکریا ئے نووی” شرح صحیح” میں شمس الدین علقمی” کوکب منیر شرح جامع الصغیر” میں اور ابن القیم “زاد المعاد فی ہدی خیر العباد ” میں بلکہ سارے حنفی علماء اور دوسرے سنی اکابر صحیحین کی بعض احادیث پر تنقید اور نکتہ چینی کر چکے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ صحیحین کے اندر بہت سی ضعیف اور غیر صحیح حدیثیں موجود ہیں چونکہ بخاری اور مسلم کا مطمع نظر حدیثوں کو جمع کرنا تھا نہ کہ ان کی صحت پر غور وخوص کرنا ۔ آپ کے بعض محقق علماء جیسے کما ل الدین جعفری ثعلب نے صحیحین کی روائتوں کے فضائح و قبائح بیان کرنے اور ان کے مثالب ومعائب ظاہر کرنے میں سعی بلیغ کی ہے اور اس بارے میں روشن اور آشکار دلائل وبراہین قائم کئے ہیں ۔لہذا تنہا ہم ہی مطالب کی تحقیق نہیں کرتے ہیں بلکہ آپ کے نشانہ ملامت نہیں بلکہ آپ کے اکابر علماء نے بھی جو حقیقتوں کی جانچ کرتے ہیں اسی طرح کے بیانات دیئے ہیں۔
حافظ :- بہتر ہے اپنے دلائل وبراہین حاضرین جلسہ کے سامنے بیان کیجیئے تاکہ صحیح فیصلہ کر سکیں ۔
خیر طلب :- اگر چہ اس وقت ہماری بحث کا موضوع یہ نہیں تھا اور اگرمیں اس بحث میں پڑنا چاہوں تو آپ کے سوال کا سلسلہ چھوڑنا پڑے گا لیکن مقصد ثابت کرنے کے لئے مختصر طور پر چند نمونوں کی طرف اشارہ کئے دیتا ہوں ۔
رویت باری تعالی کے بارے میں اہل سنت کی چند روایتیںاگر آپ حلول واتحاد کے کفر آمیز روایات اور خدائے تعالی کی جسمانیت اور رویت کا عقیدہ کہ وہ باختلاف عقائد دنیا میں دیکھا جاتا ہے یا آخرت میں دیکھا جائے گا ۔(جیسا کہ جنبلی اور اشعری سنیوں کا ایک گروہ اس کا قائل ہے )مطالعہ کرنا چاہیں تو اپنی معتبر کتابوں کی طرف رجوع کیجیئے خصوصا صحیح بخاری جلد اول “باب فضل السجود من کتاب الاذان “صفحہ 175 پر آپ کو کافی ذخیرہ ملے گا ۔میں نمونے کے طور پر انہیں ابواب میں سے دو روایتیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں “ان النّار تذف وتتقظ تقیظا شدیدا فلا تسکن حتی یضع الرب قدمہ فیھا فتقول قظ قظ حسبی حسبی” ۔(یعنی جہنم کے شعلوں کی آواز اور جوش وخروش بڑھتا جاتا ہے اور اس میں سکون نہ ہوگا یہاں تک کہ خدا اس میں اپنا پاؤں ڈال دے گا تو جہنم کہے گا بس بس میرے لئے کافی ہے میرے لئے کافی ہے ۔نیز ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت نے رسو ل اللہ سے سوال کیا “ھل تری ربنا یوم القیمۃ قال نعم ھل تضارون فی رو یۃ الشمس بالظہھیرۃ صحوا لیس معھا سحاب قالوا لا یا رسو ل اللہ وھل تضارون فی رویۃ القلم لیلۃ البدر صحوا لیس فیھا سحاب قالوا لا یا رسول اللہ قال ما تضارون فی رویۃ اللہ یو م القیامۃ الا کما تضاروں فی رویۃ احدھما اذا کان یو م القیامۃ اذن مؤذن لتبع کل امۃ ما کانت تعبد فلا یبقی احد کان یعبد غیر اللہ من الاصنام الانصاب الا یتسا فظون فی النار حتی اذا لم یبق الا من کان یعبد اللہ من برونا جر اتاھم رب العالمین فی ادنی صورۃ من التی را‎‎ ؤہ فیھا فیقول انا ربّکم فیقولون نعوذ باللہ منک لا نشرک با اللہ شیئا بینکم وبینہ ایۃ فتعرفون فیھا فیقول انا ربکم فیقولون نعم فیکشف اللہ عن ساق ثم یرفعون روؤسھم وقد تحول فی صورۃ التی راؤہ فیھا اول مرّۃ فقال انا ربکم فیقولون انت ربنا ۔”(یعنی کیا ہم لوگ قیامت کے روز اپنے پرور دگار کو دیکھیں گے ؟ فرمایا ہاں ،کیا ظہر کے وقت جس روزآسمان پر ابر نہ ہو آفتاب کو دیکھنے سے تم کو کوئی نقصان پہنچتا ہے ؟لوگوں نے عرض کیا نہیں ، فرمایا جن راتوں میں آسمان پر بادل نہ ہو کیا ماہ کامل دیکھنے سے تمہارا کوئی ضرر ہوتا ہے ۔ عرض کیا نہیں ،فرمایا تو قیامت کے دن اللہ کو دیکھنے سے بھی تم کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا جیسا کہ ان دونوں کے دیکھنے سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔جب قیامت کا دن ہوگا تو خدا کی طرف سے اعلان ہوگا کہ ہر گروہ اپنے معبود کی پیروی کرے ،پس اللہ کے سوا بتوں کی پرستش کرنے والا کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا جو جہنم میں نہ جھونک دیا جائے ۔ یہاں تک کہ نیک و بد لوگوں میں سے سوا ان افراد کے جنہوں نے اللہ کی پرستش کی ہوگی اور کوئی جہنم سے باہر نہیں رہے گا ، اس وقت پروردگار عالمین ایک خاص صورت میں ان کے پاس آئے گا کہ وہ سب اس کو دیکھیں پھر فرمائے گا کہ میں تمہارا خدا ہوں مومنین عرض کریں گے کہ ہم تیری خدائی سے خدا کی طرف پناہ مانگتے ہیں ۔ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو خدا کے سوا کسی اور کی عبادت کریں خدا کہے گا کہ آیا تمہارے اور خدا کے درمیان کوئی ایسی نشانی ہے جس کو دیکھ کر تم اسے پہچان لو ؟ وہ کہیں گے ہاں اس وقت اللہ اپنے پاؤں کی پنڈلی کھول دے گا(یعنی اپنے پاؤں کو عریان کرکے نشان دہی کے گا)اور مومنین اپنے سر اٹھائیں گے تو اللہ کو اسی صورت میں دکھیں گے جس میں پہلی بار دیکھا تھا پھر وہ کہے گا کہ میں تمہارا پروردگار ہوں اور وہ سب بھی اقرارکریں گے کہ تو ہمارا خدا ہو۔آپ کو خدا کا واسطہ انصاف کیجئے کیا اس طرح کی باتیں کفر انگیز نہیں ہیں ۔کہ خدا اپنے کو مجسم اور عنصری صورت میں انسان کے سامنے پیش کرے اور اپنی پنڈلی کھولے؟ ہماری گفتگو کے ثبوت میں سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مسلم ابن حجاج نے اپنی صحیح میں رویت باری تعالی کے اثبات میں ایسے با ب کا افتتاح کیا ہے ۔ اور ابوہریرہ ،زید ابن اسلم، سوید ابن سعید وغیرہ سے ایسی گھڑی ہوئی روائتیں نقل کی ہیں کہ آپ کے بڑے بڑے علماء جیسے ذہبی نے” میڑان الاعتدال “میں ،سیوطی نے کتاب” اللئالی المصنوعۃ فی احادیث الموضوعۃّ “میں ، سبط ابن جوزی نے “الموضوعات ” میں ان کے وضعی ہونے کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے ۔اگر ان لوگوں کے روایات کو باطل ثابت کرنے والی دلیلیں نہ بھی ہوتیں ،تو قرآن مجید کی بکثرت آئتیں صریحی طور پر رویت کی نفی کر چکی ہیں مثلا سورہ 6 (انعام) آیت 103 میں ارشاد ہے “لا تدرکوا الابصار وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر”(یعنی اس کو کوئی آنکھ درک نہیں کرتی ہے اور وہ سب آنکھوں کا مشاہدہ فرماتا ہے اور وہ لطیف وغیرمرئی اور ہرچیز سے آگاہ ہے ) نیز سورہ 7(اعراف)آیت 139 میں قصّہ موسی علیہ السلام و بنی اسرائیل کے سلسلے میں نقل فرماتا ہے کہ جس وقت بنی اسرائیل کے دباؤ سے مجبور ہوکر حضرت موسی علیہ السلام نے مقام مناجات میں عرض کیا “ربّ ارنی انظر الیک قال لن ترانی ” (یعنی خداوندا اپنے کو میرے سامنے تاکہ ظاہر فرما دے تاکہ میں تجھ کو مشاہدہ کروں ، تو خدا نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ تم مجھ کو ہر گز ابد تک نہیں دیکھو گے ۔سید عبد الحی :- (امام جماعت اہل تسنن)کیا مولا علی کرم اللہ وجہ سے منقول نہیں ہے کہ آپ نے فرمایا “لم اعبد ربا لم ارہ”(یعنی میں ایسے خدا کی عبادت نہیں کرتا ہوں جس کو دیکھا نہ ہو، لہذا معلوم ہوتا ہے کہ خدا دیکھنے کے قابل ہے کہ علی ایسا فرما رہے ہیں ۔
اللہ تعالی کے عدم رویت پر دلائل اخبارخیر طلب:- جناب نے حدیث کے صرف ایک جملے کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، میں آپ حضرات کی اجازت سے پوری حدیث پڑھ رہا ہوں ۔ جس سے آپ کو خود ہی اپنا جواب معلوی ہوجائے گا ۔ اس حدیث کو شیخ بزرگ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی نے “اصول کافی” کتاب توحید “باب ابطال الروئۃ ا للہ “میں امام بحق ناطق حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ۔ “جاء حبر الی امیر المومنین فقال یا امیر المومنین ھل رایت ربک حین عبدتہ ؟ فقال ماکنت اعبد ربا لم ارہ ،قال وکیف ریتہ؟ قال لا تدرکہ العیور فی مشاہدۃ الابصار ولکن راتہ القلوب بحقائق الایمان “(یعنی ایک(یہودی)عالم نے امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ یا امیر المومنین آیا عبادت کے وقت آپ نے خدا کو دیکھا ہے ؟ حضرت نے فرمایا میں ایسے خدا کی عبادت نہیں کرتا جس کو دیکھا نہ ہو۔ اس نے عرض کیا آپ نے اس کو کیون کر دیکھا ؟ فرمایا اس کو ظاہری اور مادی آنکھیں نہیں دیکھتی ہیں دل اس کو حقائق ایمان کے نور سے دیکھتے ہیں ) چنانچہ امیر المومنین کے اس جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ عنصری اور جسمانی آنکھ سے نہیں بلکہ ایما ن قلبی کے نور سے دیکھنا مراد ہے اور یہی مطلب خود کلمہ”لن” سے ظاہر ہے کیونکہ جیسا آپ کو معلوم ہے “لن” نفی ابدی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس آیہ شریفہ میں تاکید ہے کہ “لا تدرکہ الابصار “کے ساتھ یعنی خدا ہرگز دنیا و آخرت میں کسی صورت سے دیکھا نہیں جاتا ۔اس مقصد پر اتنے عقلی اور نقلی دلائل وبراہین قائم ہیں کہ علاوہ علمائے محققین اور مفسرین شیعہ کے خود آپ کے اکابر علماء جیسے قاضی بیضاوی اور جار اللہ زمخشری نے اپنی تفسیر میں ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالی کو دیکھنا محال عقلی ہے ۔اور جو شخص کیا وہ دنیا اور کیا آخرت میں خدا کی رویت کا معتقد ہو اس نے قطعا خدا کو اپنی نظر میں محدود قرار دیا اور اس کی ذات بابرکات کے لئے جسمانیت کا قائل ہوا کیونکہ جب تک جسم عنصری نہ ہو ظاہری اور عنصری آنکھوں سے دیکھا نہیں جا سکتا اور اس طرح کا عقیدہ قطعی کفر ہے جیسا کہ ہمارے اور آپ کے بڑے بڑے علماء نے اپنی تفسیروں اور علمی کتابوں میں ذکر کیا ہے ، لیکن چونکہ اس وقت یہ ہماری بحث کا موضوع نہیں لہذا بطور ثبوت چند جملے عرض کر دئے گئے ہیں ۔البتہ ان ڈھیروں خرافات وموہومات کے سلسلے میں جو آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہیں میں نے نمونے کے طور پر دو روایتوں کا خلاصہ نقل کرتا ہوں تاکہ آپ حضرات بعض واحد خبروں کے ذریعے جو تشریح وتاویل کے قابل ہیں شیعوں کی کتابوں سے ایراد نہ فرمائیں ۔آپ کا خیال ہے کہ صحاح ستہ اور بالخصوص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کتاب وحی کے مانند ہیں لیکن میں التماس کرتا ہوں کہ آپ حضرات تھوڑی دیر کے لئے تعصب سے ہٹ کر نگاہ انصاف سے ان کی احادیث وروایات پر غور فرمائیں تاکہ اس قدر غلو کی نوبت نہ آئے ۔
خرافات صحیحین کی طرف اشارہبخاری نے اپنی صحیح کتاب غسل “باب من اغتسل عریانا “میں ،مسلم نے اپنی صحیح جزء دوم “باب فضائل موسی “میں،امام احمد بن حنبل نے اپنی مستند جزء دوم صفحہ 315 میں اور آپ کے دوسرے علماء نے ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل کے درمیان یہ رسم تھی کہ سب لوگ مل کر برہنہ پانی میں جاتے تھے اور اس حالت سے نہاتے تھے کہ آپس میں ایک دوسرے کی شرمگا ہ کی طرف بھی نظر کر تے تھے یہ عمل ان کے یہاں معیوب نہ تھا البتہ ان میں صرف حضرت موسی علیہ السلام تن تنہا پانی میں اترتے تھے تا کہ کوئی شخص ان کی شرمگاہ کو نہ دیکھے ۔بنی اسرائیل کہتے تھے کہ موسی اس وجہ سے اکیلے نہانے کے لئے جاتے ہیں اور ہم لوگوں سے علیحدہ رہتے ہیں عکہ ان کے اندر نقص ہے اور قطعی طور پر وہ فتق(فتق ،خصیہ بڑا ہونے کی بیماری ۔ہرنیا )کے عارضے میں مبتلا ہیں ،لہذا یہ نہیں چاہتے کہ ہم لوگ ان کو دیکھیں ایک روز حضرت موسی غسل کرنے کے لئے دریا کے کنارے گئے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیئے اور پانی میں اتر گئے “ففرّ الحجر بثوبہ فجمع موسی باثرہ یقول ثوبی حجر ،ثوبی حجر حتی نظر بنو اسرائیل الی سواۃ موسی فقالوا واللہ ما بمو سی من باس فقام الحجر بعد حتی نظر فاخذ موسی ثوبہ فطفق بالحجر ضربا فواللہ ان بالحجر ندبا ستۃ او سبعۃ “(یعنی پتھر موسی کے کپڑے لے بھاگ کھڑا ہوا ،موسی اس کے پیچھے جھپٹے اور یہ کہتے جارہے تھے اے پتھر میرے کپڑے ،اے پتھر میرے کپڑے (یعنی میرا لباس کہاں لئے بھاگا جاتا ہے ؟) وہ پتھر اتنا بھاگا اور موسی اس قدر برہنہ دوڑے کہ بنی اسرائیل نے ان کی شرمگاہ دیکھ لی اور کہا خدا کا کی قسم موسی کے اندر کوئی عیب نہیں ہے یعنی فتق نہیں ہے اس کے بعد پتھر کھڑا ہوگیا ، اور جناب موسی نے اپنے کپڑے لے لئے پھر کوڑے سے اس کو انتا مارا کہ خدا کی قسم وہ چھے یا سات مرتبہ چیخ چیخ کے رویا ۔آپ کو خدا کی قسم ذرا انصاف کیجئے کہ اگر اسی طرح کا کوئی عمل آپ حضرات میں سے کسی کے ساتھ پیش آئے تو کس قدر ذلت کی بات ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان اس طرح سے برہنہ اپنے لباس کے پیچھے دوڑیں کہ سب آپ کی شرمگاہ دیکھ لیں۔ فرض کیجئے کہ اگر ایسا اتفاق پیش آجائے تو آدمی کہیں کنارے بیٹھ جاتا ہے تاکہ لوگ جا کر اس کا لباس لے آئیں نہ یہ کہ بغیر کسی ستر پوش کے آدمیوں کے بیچ میں گھس پڑے تاکہ سب اس کی شرمگاہ دیکھیں ۔آیا عقل باور کرتی ہے کہ موسی کلیم اللہ ایسے انسان سے ایسی حرکت سرزد ہوئی ہو ۔ کیا یہ یقین آتا ہے کہ کہ بے زبان پتھر حرکت کرے اور موسی کے کپڑے لے بھاگے ؟
سید عبد الحی :- آیا پتھر کی حرکت زیادہ اہم ہے یا عصا کا اژدہا ہو جانا ؟ پتھر کی حرکت بڑی چیز ہے یا وہ نو معجزے جن کی خدا خبر دے رہا ہے ؟
خیر طلب :-مثل مشہو ر ہے “خوب وردی آموختہ اید، لیک سوراخ دعا گم کردہ اید”(یعنی آپ نے ورد خوب سیکھا ہے لیکن دعا کا سوراخ کھو دیا ہے ) جناب محترم ! میں معجزات انبیاء علیھم السلام کا منکر نہیں ہوں بلکہ قرآن مجید کےحکم سے معجزات او ر خرق عادت پر ایمان رکھتا ہوں لیکن آپ تصدیق کریں گے ۔ کہ معجزات او رخرق عادات کا ظہور مقام تحدی پر ہوتا ہے تاکہ اس مظاہرہ عمل کے مقابلے میں فریق مخالف کو عاجز اور حق کو ظاہر کردیا جائے تو اس عمل میں کون سی تحدی کا یاحق کا ظہور تھا ؟ سوا اس کے کہ رسوائی کا سامنا ہوا اور خدا کے رسول کی شرمگاہ خلقت کے درمیان عریان ہوئی ۔
سید عبد الحی :- اس سے بڑھ کر کون سا حق تھا کہ حضرت موسی کی صفائی پیش کی جائے تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ آپ فتق نہیں ہے ۔
خیرطلب :-فرض کر لیا جائے کہ جناب موسی علیہ السلام کو فتق ہی تھا اس سے آپ کے منصب نبوت کو کیا نقصان پہنچ رہا تھا پیغمبروں کے لئے جو چیز عیب ہے وہ ذاتی نقائص ہیں جیسے اندھا ،بہرہ ،چھ انگلیوں والا،چار انگلیوں والا ‏، فحش گو ،مفلوج یا مادر زاد مثل ہونا وغیرہ ورنہ جسمانی نقائص جو عوارض کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جیسے کثرت گریہ کے نتیجے میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کا نابینا ہوجانا ،حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم پر زخم ، جنگ احد میں حضرت خاتم الانبیاء (ص) کے سر ودندان کی شکستگی اور اس طرح کی دو سری چیزیں منصب نبوت کو کوئی ضرر نہیں پہنچا تی ہیں ۔فتق بھی ایک جسمانی مرض ہے جو بعد کو عارض ہوتا ہے لھذا اس میں کون سی اہمیت تھی کہ کسی ایسےمعجزے اور خرق عادات کے ذریعہ اس سے برات ثابت کی جائے جو پیغمبر کی ہتک حرمت اور کشف عورت تک منجر ہو،تا کہ بنی اسرائیل ان کی شرمگاہ پر نظر کریں۔ آیا ایسی روایات خرافات و موہومات میں سے نہیں کہ جناب موسی علیہ السلام بغیر ساتر عورتین کے لباس کے پیچھے دوڑیں ، اس قدر غصّہ میں بھر جائیں اور پتھر کو اس طرح سے ماریں کہ وہ چھ یا سات مرتبہ فریاد کرے ؟ کتنے تعجب کی بات ہے کہ پیغمبر خدا (ص) کو اتنا بھی نہ معلوم ہو کہ پتھر آنکھ ، کان اور تاثر کی حس نہیں رکھتا ہے کہ اس کو زد وکوب کریں اور جما د سے نالہ بلند کرآئیں۔ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات
ملک الموت کے چہرے پر موسی علیہ السلام کا تھپڑ مارنااس خیال سے کہ جناب مولوی سید عبد الحی ابو ہریرہ یا بخاری اور مسلم کی طرف سے جنہوں نے اس طرح کی گھڑی ہوئی مہمل روایتیں نقل کی ہیں ، دفاع اور صفائی کی کوشش نہ فرمائیں ،ایک اس سے زیادہ مضحکہ خیز روایت کی طرف اشارہ کرتا ہوں تاکہ آپ حضرات یقین کر لیں کہ صحاح کے بارے میں جس طرح غلو کیا گیا ہے وہ ایسی میں نہیں ۔بخاری نے اپنی صحیح جلد اول صفحہ 158 اور جلد دوم صفحہ 163 پرایک تو “باب من احب الدفن فی الارض المقدسۃ من ابواب الجنائز” میں دوسرے “باب وفات موسی “جلد دوم میں اپنے عقیدے کیمطابق صحیح اسناد کے ساتھ ابو ہریرہ سے نیز مسلم نے اپنی صحیح جلد دوم صفحہ 309 ابو ہریرہ سے ایک عجیب مہمل خبر نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا “جاء ملک الموت الی مو سی علیہ السلام فقال لہ اجب ربک ،قال ابو ہریرہ فلطم موسی عین ملک الموت فقفاھا ،فرجع الملک الی اللہ تعالی فقال انک ارسلتنی الی عبد لک لا یرید الموت فقفا عینی ، قال فردّ اللہ عینہ و قال ارجع الی عبدی فقل الحیاۃ ترید فان کنت ترید الحیواۃ فضع یدک علی متن ثور فما توارت بیدک من شعرہ فانک تعیش بھا سنۃ”۔(یعنی ملک اللموت موسی علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا کہ اپنے پروردگار کی دعوت قبول کیجئیے ! اس پر حضرت موسی نے ان کی آنکھ پر ایسا تھپڑ لگایا کہ ان کی آنکھ پھوٹ ہی گئی اور وہ کا نے ہوگئے ۔ چنانچہ ملک اللموت خدا کے پاس واپس گئے اور کہا کہ تو نے مجھ کو اپنے ایسے بندے کے پا س بھیجا جو مرنا ہی نہیں چاہتا اور میری آنکھ الگ پھوڑدی ۔ خدا نے ان کی آنکھ پھر پلٹا دی اور فرمایا کہ میرے بندے کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ اگر زندگی چاہتے ہو تو بیل کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھو جتنے بال تمہارے باتھ میں آجائیں گے ہر با ل کے عوض ایک سال زندہ رہوگے ۔)اور امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند جلد دوم صفحہ 315 میں اور محمد ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ کی جلد اول “تذکرہ وفات موسی ” کے ضمن میں ابو ہریرہ سے یہی روایت اتنی زیادتی کے ساتھی نقل کی ہے کہ زمانہ حضرت موسی تک ملک الموت بندوں کی روح قبض کرنے کے لئے ظاہر بظاہر اور کھلم کھلا آتے تھے لیکن جب سے موسی نے ان کے چہرے پر تھپڑ مارا اور ان کی ایک آنکھ پھوٹ گئی اس کے بعد سے پوشیدہ اور چھپ کر کے آنے لگے (غالبا اس خوف سے کہ جاہل لوگ کہیں ان کی دو آنکھیں نہ پھوڑدیں ) اس پر مجمع کے اندر بہت سے لوگ قہقہ لگا کر ہنس پڑے ۔اب آپ حضرات سے انصاف چاہتا ہوں کہ کیا یہ روایت خرافات اور موہومات میں سے نہیں ہے ؟جس کو سن کر آپ ہنس رہے ہیں مجھ کو تو ایسی خبر کے لکھنے والوں اور نقل کرنے والوں پر تعجب ہوتا ہے جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے ان بیہودہ اور موہوم مطالب کو سپرد قلم کیا ہے ۔
انصاف موجب معرفت اور سبب سعادت ہےآیا کسی صاحب عقل یہ قبول کر تی ہے کہ موسی کلیم اللہ جیسا کوئی اولو العزم پیغمبر معاذا اللہ اس قدر بے معرفت او ر بد مزاج ہو کہ حکم خدا کی اطا عت کے بد لے اس کے قاصد کو اتنا زور دار تھپڑ لگائے کہ اس کی آنکھ ہی جاتی رہے ؟خدا کے لئے بتائیے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جناب حافظ صاحب کو ایک بزرگ شخص نے مہمانی کی دعوت دی ہے اور انہوں نے بجائے دعوت قبول کرنے کے پیغام لا نے والے کو تھپڑ مار کے اس کی آنکھ پھوڑ ڈالی تو کیا آپ کو ہنسی نہیں آئیگی اور حافظ صاحب یہ نہیں فرمائیگے کہ ایسا کہنا میری تو ہین ہے کیونکہ تحصیل علم اور تزکیہ نفس میں ایک عمر صر کردینے کے بعد کیا میرے اندر اتنا سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا نہیں ہوئی کہ پیغام لا نے والے کی کوئی خطاء نہیں ہوتی ! بلکہ اس نے تو میرا احترام کرتے ہوے ایک بزرگ شخصیت کی طرف سے دعوت نامہ پیش کیا ۔ جب کسی کمینے جاہل اور سنگدل انسان سے بھی ایسی حرکت سرزد نہیں ہوتی تو اولوالعزم پیغمبر کلیم اللہ نے جو معرفت الہی میں کہیں اولی اور اعلی تھے کیونکر ممکن ہے کہ خدا کے طلب کو ناقابل توجہ سمجھیں بلکہ پیغام لا نے والے فرشتے کو جس کی سوا اپنا فرض ادا کرنے کے اور کوئی خطا نہ تھی ،تھپڑ ماریں اور کانا بنائیں ۔پیغمبر وں کو مبعوث کرنے کا مقصد تو یہ ہے کہ وہ لوگوں کی ہدایت کریں اور ان کو حیوانی حرکتوں سے باز رکھیں تاکہ وہ نفس بہیمی کے قابو میں نہ آجائیں اور ان سے درندگی کے آثار ظاہر نہ ہوں ظلم وتعدی تو جانوروں پر بھی ایک جاہل اور بیوقوف آدمی کی طرف سے بھی بری چیز ہے ۔ نہ کہ اولو العزم پیغمبر کی طرف سے ایک ملک مقرب پر جو خدا کا فرستادہ اور پیام لانے والا ہو ۔ہر سننے والا سمجھ لے گا کہ ایسی روایت سراسر جھوٹ اور بہتان ہے اور علا وہ منصب نبوت کے عدم معرفت اور اہانت کے یا انبیاء عظام کو سارے انسانوں کی نظروں میں حقیر وذلیل بنانے کے قطعا اس کے گھڑنے والوں کی اور کوئی غرض نہ تھی ۔میں ابو ہریرہ کے ایسے لوگوں سے تعجب نہیں کرتا ہوں کیونکہ یہ وہ آدمی تھے جن کے متعلق خود آپ کے علماء نے لکھا ہے کہ معاویۃ کے روغنی اور لذیذ دسترخوان سے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے حدیثیں وضع کرتا تھا اور خلیفہ عمر نے اسی طرز عمل پر ان کو ایسا تازیانہ لگایا کہ پیٹھ لہو لہان ہوگئی لیکن مجھ کو حیرت تو ان اشخاص پر ہے جو علم ودانش کی بلند منزل پر فائز تھے کہ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے کیونکر اس طرح کی بے تکی رویتیں اپنی کتا بوں میں درج کردیں ۔اور پھر جناب حافظ صاحب کے ایسے دوسرے علماء نس ان کتابوں کوکلام خدا کے قدم بہ قدم قراردیدیا اور بغیر غور و مطالعہ کے کہتے ہیں “ھما اصح الکتب بعد القرآن ” یہ دونوں یعنی صحیح بخاری و صحیح مسلم قرآن کے بعد ساری کتابوں سے زیادہ صحیح ہیں (مترجم)) لہذا جب آپ کی سب سے اونچی کتابوں میں ایسی مہمل روایتیں درج ہیں تو آپ کو شیعوں کی کتابوں اور ان اخبار کے متعلق جو ان میں درج ہیں ،اور زیادہ تر توجہیہ و تاویل کے قابل ہیں زبان اعتراض کھولنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔میں معذرت کرتا ہوں کہ ضمنی باتو ں میں کافی وقت لگ گیا کیونکہ “الکلام یجر الکلام” بات میں بات نکلتی ہے (مترجم)۔اب پھر اصل مقصد کی طرف رجوع کرتا ہوں جو حدیث آپ نے نقل کی ہے اس کے بارے میں بحث کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ آیا یہ خبر قابل حل ہے یا نہیں ۔ بدیہی بات یہ ہے کہ اگر کوئی نیک اور منصف مزاج عالم اس طرح کی واحد اور مبھم حدیثوں کو دیکھتا ہے(جو ہماری،آپ کی کتابوں میں بکثرت ہیں) تو ہزاروں صحیح السند اور صریح خبروں کے پیش نظر اگر یہ قابل اصلاح ہیں ،تو اصلاح کردیتا ہے ورنہ رد کردیتا ہے یا کم ازکم خاموشی ہی اختیار کر لیتا ہے نہ یا کہ ان کو تکفیر کاحربہ بنا کر اپنے دینی بھائیوں پر حملہ کرے۔اب اس حدیث کے بارے میں چونکہ یہاں تفسیر صافی موجود نہیں ہے ہم اس کے سلسلہ اسناد سے بھی واقف نہیں ہیں ،نہ یہ معلوم ہے کہ کس مقام پر اور کس صورت سے نقل کیا ہے ، اور آیا خود اس کے اوپر کوئی نوٹ دیا ہے یا نہیں ہم کو غور کرنا چائیے کہ قابل اصلاح ہے یا نہیں؟ میں تو اپنی کمزور عقل کے مطابق اس حدیث کے لئے یہی سمجھ رہا ہوں کہ ان حضرات کا ارشاد یا تو متکلمین کے درمیان اس مشہور قائدے پر محمول ہے کہ معلول کا پورا علم کویا علّت کا پورا علم ہے ۔یعنی جب امام کو بحیثیت امام پہچان لیا گیا ۔ تو یقینا خدا کو بھی پہچہان لیا ۔یا مبالغے پر محمول ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ جو شخص وزیر اعظم کو پہچان لے گو یا اس نے بادشاہ کو پہچان لیا ۔اور اس مبالغے کے لئے ایک قرینہ سورہ توحید ،ودیگر قرآنی آیات اور وہ اخبار کثیرہ میں جو خود حضرت امام حسین علیہ السلام اور دوسرے ائمہ معصومین علیھم السلام سے خالص توحید کے اثبات میں مروی ہیں لہذا کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ امام کی معرفت ان جلیل القدر عبادتوں میں سے ہے جو جن و انس کی غرض خلقت ہیں اور ائمہ معصومین علیھم السلام تے ماثور زیارات جامعہ میں “محال معرفۃ اللہ” کے یہی معنی ہیں ۔ہم ایک دوسرے طریقے سے بھی اس کے معنی کو بیان کرسکتے ہیں ،جیسا کہ محققین نے اسی طرح کے امور میں مطلب بیان کیا ہے کہ ہر فعل کا فاعل اور ہر بنا کے استحکام سے پہچانا جا سکتا ہے چنانچہ اس کی ہر بنا اور ہر اثر اسکے حالات کے کسی پہلو کے لئے کامل دلیل ہے چونکہ رسو ل خدا(ص) اور آپ کی آل پاک صلوات اللہ علیھم اجمعین امکان کے سارے بلند منازل پر فائز تھے ،لہذا ان سے زیادہ محکم اثر اور ان سے زیادہ جامع مخلوق کوئی اور نہیں تھا ۔ نتیجہ یہ کہ معرفت الہی کے لئے ان سے زیادہ واضح اور جامع راستہ کوئی اور موجود نہ تھا ۔لہذا محل معرفت خدا یعنی جن بندوں کے لئے معرفت ممکن ہے ،ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے ۔ اب جس شخص نس ان کو پہچانا گویا خدا کو پہچانا ۔چنانچہ ان حضرات نے خود فرمایا ۔ “بنا عرف اللہ بنا عبد اللہ ” یعنی ہمارے ذریعے سے خدا کو پہچانا گیا اور ہمارے ہی ذریعے سے اس کی عبادت کی گئی ہے )یعنی حق تعالی کی معرفت وعبادت کا راستہ ہمارے قبضہ میں ہے خلاصہ یہ ہے کہ خدا ئے تعالی کی معرفت کے لئے واحد اور آخری ذریعہ یہی جلیل القدر خاندان ہے اگر بغیر اس خانوادے کی رہبری کے انسان کوئی راہ پیدا کرے تو وادی ضلالت میں حیران و سرگرداں ہوگا ۔اور بہت دشوار ہے یہ بات کہ وادی ضلالت و حیرت میں بھٹکا ہو شحص بغیر ہدایت کے منزل سعادت تک پہنچ جائے یہی وجہ ہے کہ فریقین کی متفق علیہ حدیث میں وارد ہے کہ رسول اکرم(ص)نے فرمایا “یا ایھا النّاس انی تارک فیکم الثقلین ما ان اخذتم بھما لن تضلوا کتاب اللہ عزو جل و عترتی اھل بیتی” (یعنی اے لوگو میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑتا ہوں اگر ان دو نوں سے حاصل کروگے (یعنی ضرورت کی باتیں) تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے ،ایک عزوجل کی کتاب اور ایک میری عترت اور اہل بیت علھیم السلام ہیں)۔حافظ :-کچھ اسی حدیث پر انحصار نہیں ہے کہ آپ اس کی اصلاح کی کوشش کریں بلکہ آپ کی کتابوں وارد تمام دعاؤں کے اندر کفر وشرک کے نمونے ملتے ہیں جیسے بغیر ذات پرور دگار عالم یک طرف توجہ کئے ہوئے اماموں سے حاجتیں طلب کرنا اور یہ غیرخدا ہے حاجت طلب کرنا خود ہی شرک کی ایک مکمل دلیل ہے ۔خیرطلب :-آپ کی ذات سے یہ بات بہت بعید تھی کہ اپنے اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے ایسی فضول اور بے جا بات منہ سے نکالیں ،واقعی آپ بہت بے انصافی کرتے ہیں یا پھر اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں کہ کیا فرما رہے ہیں یا بغیر شرک کے معنی پر غور کئے ہوئے بیان کرتے ہیں میں متمنی ہوں پہلے شرک اور مشرک کے معنی بیان فرما یئے تا کہ حقیقت ظاہر ہو۔
شیعوں کی طرف شرک کی نسبت دیناحافظ:- مطلب اتنا واضح ہے کہ میرے خیال میں تشریح کی ضرورت ہی نہیں ، بدیہی چیز ہے کہ خدائے بزرگ کا اقرار کرتے ہوئے غیر خدا کی طرف توجہ کرنا شرک ہے اور مشرک وہ شخص ہے جو غیر خدا کی طرف رخ کرے اور اس سے حاجت طلب کرے ۔جماعت شیعہ جیسا کہ مشاہدہ ہے کبھی خدا کی طرف توجہ نہیں رکھتی ہے اور بغیر خدا کا نام لئے ہوئے اپنے سارے مقاصد اپنے اماموں سے عرض کرتی ہے یہاں تک کہ میں دیکھتاہوں کہ شیعہ فقراء گزرگاہوں اور دروازوں اور دکانوں پر آتے ہیں ، تو کہتے ہیں ۔ یا علی ، یا امام حسین یا امام رضائے غریب یا حضرت عباس اور ایک مرتبہ بھی نہیں سنا گیا کہ یا اللہ کہیں ۔یہ باتیں خود شرک کی دلیل ہیں کیونکہ جماعت شیعہ کبھی خدا کی طرف توجہ نہیں کرتی بلکہ اپنی تمام تر توجہ غیر خدا سے وابستہ رکھتی ہے ۔خیر طلب:- میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کی اس طرح باتوں کا کیا مقصد سمجھوں ،آیا ان کو ہٹ دھرمی کی دلیل سمجھوں کہ قصدا تجاہل عارفانہ کر رہے ہیں یا حقائق کی طرف توجہ نہ کرنے کا نتیجہ ہے ؟ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہٹ دھرمی کرنے والوں میں سے نہ ہوں گے ۔چونکہ ایک عالم باعمل کے شرائط میں سے انصاف بھی ہے لہذا جو شخص حق سے واقف ہو اور اپنی مطلب برآوری کے لئے حق کشی کرے وہ انصاف سے دور ہے اور جس کے پاس انصاف نہیں وہ عالم بلا عمل ہے ، حدیث رسول میں ارشاد ہے “العالم بلا عمل کا الشجر بلا ثمر”(یعنی عالم بے عمل بغیر میوے کے درخت کی مثل ہے )آپ جو بار بار اپنے جملوں میں شرک اور مشرک کے الفاظ زبان پر جاری کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے لغو اور بے مغز دلائل سے موحد شیعوں کو مشرک ثابت کریں تو ممکن ہے کہ آپ کے بیانات بے خبر سنی عوام پر اثر انداز ہو جائیں اور وہ شیعوں کو مشرک سمجھ لیں (جیسا کہ اب تک ان پر غلط اثر پڑتا رہا ہے ۔) لیکن یہ محترم حاضرین جلسہ شیعہ حضرات آپ کی تقریر سے سخت ناراض اور ناخوش ہیں اور آپ کو ایک مطلب پرست اور افترا پرداز عالم سمجھ رہے ہیں کیونکہ یہ اپنے عقائد سے واقف ہیں اورسمجھتے ہیں کہ آپ نے ان الزامات میں سے ایک بھی ان کے اندر موجود نہیں ہے ۔ لہذا اپنے الفاظ اور بیانات میں ایسے جملے ادا نہ کرنے کی کوشش فرمائیے کہ ان پر سچی بات واضح ہو اور ان کے دل آپ کی طرف کشش محسوس کریں۔میں مجبو ر ہوں کہ آپ اجازت دیں تو حاضر و غائب بردران اہل سنت کے سادہ ذہنوں کو روشن کرنے کے لئے وقت کے لحاظ سے مختصر طور پر شرک اور مشرک کےبارے میں اسلام کے بزرگ محققین حکماء وفقہاء اور علماء جیسے علامہ حلی ، محقق طوسی ،علامہ مجلسی علیھم الرحمۃ جو اکابر و مفاخر علمائے شیعہ میں سے ہیں ،اور دوسرے حکماء اورصاحبان تحقیق جیسے صدر المتالہین شیرازی ،ملا نوروز علی طالقانی ،ملا ہادی سبزواری اور جناب صدر کے دونو با عظمت خوش مرحوم فیض کاشانی و فیاض لاہیجانی رحھم اللہ کا آیات قرآنی اور ارشادات ائمہ طاہرین علیھم السلام کی روشنی میں جو کچھ عقیدہ ہے وہ آپ کے سامنے پیش کروں تاکہ حاضرین جلسہ یہ نہ سمجھ لیں کہ شرک کے معنی وہی ہیں جو آپ مغالطہ دے کر بیان کررہے ہیں ۔
حافظ:- غصے کے ساتھ فرمائیے ۔
نواب :-قبلہ اس جلسہ کی بنا چونکہ بے سواد لوگوں کے سمجھنے کے لئے ہے لہذا پہلے بھی عرض کر چکا ہوں ، متمنی ہوں کہ اپنے ارشادات میں انتہائی سادگی کا لحاظ رکھئے آپ کی نظر صرف حضرات علماء اور ان کی عقل کے مطابق جواب دینے پر نہ رہنا چائیے بلکہ اہل مجلس کی اکثیریت با الخصوص ہند اور پیشاور کےباشندوں کی رعایت ضروری ہے جو اہل زبان نہیں ہے گزارش ہے کہ پیچیدہ اور مشکل مطالب بیان نہ فرمائیے گا ۔
خیر طلب :- جناب نواب صاحب آپ کی یاد دھانیاں میرے پیش نظر ہیں ،اور کچھ اسی صحبت پر منحصر نہیں ہے بلکہ جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں میری عادت ہی یہ ہے کہ جس مجمع میں کچھ عوام اور بے خبر افراد موجود ہوتے ہیں وہاں قطعا اپنا روئے سخن خواص پر موقوف نہیں رکھتا ہوں ،اس لئے کہ پیغمبروں کی بعثت اور کتابوں کے نزول کی غرض بے خبر لوگوں کو متنبہ کرنا تھا اور یہ نظریہ ہر گز عملی جامہ نہیں پہن سکتا جب تک حقائق جس طرح سے آپ نے فرمایا سادہ طور پر اور قوم کی زبان میں بیان نہ ہوں چنانچہ حدیث میں رسول اللہ (ص) کا ارشاد ہے کہ “نحن معاشر الا نبیاء نکلم النّاس علی قدر عقولھم”(یعنی ہم پیغمبروں کی جماعت لوگوں سے ان کے عقلوں کے مطابق گفتگو کرتی ہے ) یقینا آپ کی خواہش اصولی اور برابر میرے پیش نظر ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ آپ کی منشاء کے مطابق پہلے سے زیادہ عمل کرسکوں گا اور متمنی ہوں کہ جس مقام پر سہوا غفلت ہوجائے وہاں آپ حضرات توجہ فرمادیجئے گا ۔
شرک کے اقسامخیر طلب :- جہاں تک آیات قرآنی کے خلاصے ، اخبار کثیرہ اور محققین علماء کی تحقیقات کا ملہ سے اور بالخصوص ان اہم تشریحات سے جو صدر المتالہین اور فاضل طالقانی نے فرمائی ہیں معلوم ہوتا ہے شرک کی دو قسمیں ہیں اور دوسرے اقسام شرک نہیں دونوں قسموں میں پوشیدہ ہیں ۔ اول جلی اور آشکار ،دوسرے شرک خفی و پو شیدہ ۔
شرک جلی
شرک در ذاتشرک جلی کا مطلب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذات یا صفات یا افعال یا عبادت میں خدائے تعالی کا کوئی شریک قراردے۔شرک در ذات یہ ہے کہ حق تعالی کے مرتبہ الوہیت اور ذات میں شریک قرار دے اور زبان سے اس کا اعتراف کرے جیسے (بت پرست)اور مجوس جو اصل ومبداء،نوروظلمت ،یزداں اوراہرمن کے قائل ہیں اور نصاری جو اقانیم ثلاثہ کے قائل ہوئے اور ذات خداوندی کو تین اجزا یعنی باپ بیٹا اور روح القدس میں تقسیم کیا ،ان میں سے بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ روح القدس کے عوض مریم ہیں۔ ان تینوں میں سے ہر ایک کے لئے ایک خاصیت کے معتقد ہوئے جو باقی دو میں موجود نہیں ہے ۔ اور جب تک یہ تینوں اکھٹا نہ ہوں ذات خداوندی کی حقیقت مکمل نہیں ہوتی جیسا کہ سورہ نمبر 5(مائدہ)آیت نمبر77 میں خدا نے ان کے قول کی تردید اور اپنی وحدانیت کا اثبات فرمایا ہے “لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثۃ وما من الہ الا الہ واحد”(یعنی یقینا وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے خدا کو تین میں سے ایک جانا (یعنی تین خدا کے قائل ہوئے باپ بیٹا ،روح القدس) حالانکہ سوائے خدا ئے واحد کے اور کوئی خدا نہیں)۔
عقائد نصاریاس آیہ مبارکہ میں نصاری کے فرقوں میں نسطوریہ ،ملکائیہ اور یعقوبیہ کا بیان کیا گیا ہے جنہوں نے ثنویہ اور بت پرستوں سے یہ عقیدہ حاصل کیا (کتاب الوثنیہ فی الدیانیۃ النصرانیۃ ۔ مؤلف تنیر بیرونی کی طرف رجوع کیا جائے) خلاصہ یہ کہ نصاری ثنویہ اور مجوس کی طرح مشرک ہیں کیونکہ اقانیم ثلاثہ کے قائل ہیں اس میں سے زیادہ واضح الفاظ میں وہ لوگ کہتے ہیں کہ الوہیت خدا،مریم اور عیسی کے درمیان مشترک ہے ان میں سے بعض کا عقیدہ ہے کہ خدا ،عیسی اور روح میں سے ہر ایک خدا ہے ۔اور اللہ جل جلا لہ ان تین میں سے ایک ہے ،وہ کہتے ہیں کہ پہلے سے خدا تین تھے ۔ اقنوم الاب ، اقنوم الابن ،روح القدس(سریانی زبان میں اقنوم کے معنی وجود ہستی ہیں) اس کے بعد یہ تینوں اقنوم ایک ہوگئے اور وہ مسیح ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عقلی ،نقلی دلائل سے دلائل اتحاد کا باطل ہونا ثابت ہے ۔ اور اس معنی سے اتحاد حقیقی محال ہے حتی کہ غیر ذات واجب الوجود میں بھی اسی وجہ سے آخرت میں فرماتا ہے ۔”وما من الہ الا الہ واحد” (یعنی کوئی ایسی ذات واجب جو عبادت کی مستحق ہو سواخدا ئےیکتا کے موجود نہیں ہے جو وحدانیت محض سے موصوف ہے ۔ شرکت کے وہم سے بالاتر ہے اور سارے ممکن موجودات کا مبداء وہی ذات وحدہ لا شریک ہے ۔
شرک درصفاتشرک درصفات یہ ہے کہ خدائے تعالی کے صفات جیسے حکمت ،قدرت اورحیات وغیرہ کو قدیم لیکن زائد ذات سمجھیں جیسے اشعری جو ابو الحسن علی ابن اسماعیل اشعری بصری کے اصحاب میں جیسا کہ آپ کے اکابر علماء مثلا علی ابن احمد بن حزم الظاہری نے کتاب فصل جزء چہارم صفحہ نمبر 207 میں اور مشہور فلسفی ابن رشد محمد بن احمد اندلسی نے کتاب “الکشف من منا ہج الادقۃ فی عقائد الملۃ”صفحہ نمبر 58 میں نقل کیا ہےکہ یہ لوگ معتقد ہیں کہ اللہ کے صفات زائد بر ذات اور قدیم ہیں ۔ چنانچہ جو شخص صفات خداوندی کو حقیقتا اس کی ذات اجل پرزائد سمجھے یعنی اس کو صفت عالمیت ،وہ مشترک ہے اس لئے کہ اس نےقدم میں اس کے لئے کفو وقرین اور ہمسر ثابت کیا حالانکہ سوا حق تعالی کی ذات ازلی کے کائنات میں کسی قدیم کا وجود نہیں ہے اور صفات خداوندی اس کی عین ذات ہیں جیسے شیرینی اور چکنا ہٹ الگ کی کی چیزیں نہیں ہیں جو شکر اور روغن کی ذات پر وارد ہوئی ہوں بلکہ جس وقت خدا نے شکر اور روغن کو پید کیا ، تو پھر وہ شکر اور روغن ہی نہ رہیں گے ۔ “تلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون” یہ مثالیں ذہنوں کو ملتفت کرنے کے لئے ہیں تاکہ ہم جس وقت بو لیں خدا یعنی عالم ،حی ،قادر، حکیم، وغیرہ تو یہ سمجھ لیں کہ صفات خداوند ی اس کی ذات پر زائد نہیں ہیں۔
شرک در افعالافعال میں شرک یہ ہے کہ خدا کو حقیقی طو رپر متوحد اور متفرد با لذات نہ سمجھے ،اس صورت سے کہ مخلوقات میں سے کسی ایک فرد یا افراد کو خدا کے افعال اور تدبیروں میں مؤثر یا مؤثر کا جزء سجھے یا یہ کہ خلقت کے بعد امور کو مخلوق کے سپرد جانے جس کے یہودی قائل تھے کہ خدانے مخلوقات کو خلق کیا اس کے بعد امور کی تدبیر سے بازرہا ۔ سارا کام خلق کے ذمہ چھوڑ دیا اور خود علیحدگی اختیار کر لی ۔چنانچہ ان لوگوں کی مذمت میں سورہ نمبر 5 (مائدہ)آیت نمبر26 میں ارشاد ہے “وقالت الیھود یداللہ مغلولۃ غلت ایدیھم ولعنوا بما قالوا بل یداہ مبسوطتان ینفق کیف یشاء”(یعنی یہودیوں نے کہا کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں( اب وہ خلقت میں کوئی تغیر نہیں کرے گا اور نہ کوئی چیز پید کرے گا اس جھوٹی بات کی وجہ سے)ان کے ہاتھ بندھ گئے اور وہ خدا کی لعنت میں گرفتار ہوئے ۔بلکہ خدا کے دونوں ہاتھ (یعنی اس کی قدرت اوررحمت)کھلے ہوئے ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے نفقہ دیتا ہے )اور مشرکین غلات جن کو مفوضہ بھی کہتے ہیں قائل ہیں کہ خدا نے اماموں کو امور تفویض کردیئے ۔ وہی پیدا کرتے ہیں اور روزی دیتے ہیں ۔یہ بدیہی چیزیں ہیں کہ جو شخص افعال خداوندی میں کسی طریقے سے کسی کودخیل سمجھے ،جز مؤثر کی صورت سے یا انبیاء یا امتوں یا اماموں کو تفویض امور کی حیثیت سے قطعا شرک ہے ۔
شرک در عبادتاور شرک در عبادت یہ ہے کہ عبادت کے موقع پر ظاہری توجہ یا دل کی نیت غیر حق کی طرف رکھے مثلا نماز میں خلق کی طرف توجہ کرے یا اگر نذر کرتا ہے تو خلق کے لئے کرے اور اس طرح عبادتوں میں نیت کی ضرورت ہے اگر عمل کے وقت نیت غیر خدا کے لئے ہو تو وہ مشرک ہے کیونکہ سورہ نمبر81(کہف)آیت نمبر110 میں صریحی طور پر اس طرح کے عمل (شرک )سے منع کیا گیا ہے ۔قولہ”فمن کان یرجو لقاآربہ فلیعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا “(یعنی جو شخص لقائے رحمت پروردگار کا امید وار ہے اس کو چائیے کہ وہ نیکو کار بنے (یعنی پاک اور پسندیدہ عمل کرے)اور اپنے خدا کی عبادت میں ہرگز کسی کو اس کا شریک نہ بنائے ۔عمل اور عبادت کے وقت چائیےکہ غیر خدا کی طرف توجہ نہ کرے ،پیغمبر یا امام یا مرشد کی صورت نظر کے سامنے نہ رکھے اس طریقے سے کہ نماز ،روزہ، حج، خمس، زکاۃ اور نذر وغیرہ ہر قسم کی واجب یامستحب عبادت کا ظاہر عمل خدا کے لئے ہو لیکن دل اور باطن میں توجہ غیر خدا کی طرف رہ ے یعنی شہرت اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے یا کسی اور مقصد سے ۔اس لئے کہ عمل میں ریا حدیث کی زبان میں شرک اصغر کہا گیا ہے جو ہر عامل کو برباد کرنے والا ہے چنانچہ حضرت رسول(ص) اللہ خدا سے منقول ہے کہ “اتقوا الشرک الاصغر”یعنی پرہیز کرو چھوٹے شرک سے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ چھوٹا شرک کون ہے؟فرمایا “الریاء والسمعۃ”ریا اور سمعہ (یعنی دکھانے اور سنانے کے لئے عبادت کرنا (مترجم) )شرک اصغر ہے ۔نیزآنحضرت (ص)سے مروی ہے کہ فرمایا ” ان اخوف ما اخاف علیکم الشرک الخفی ایا کم والشرک السر فان الشرک اخفی فی امتی من دبیب النمل علی الصفا فی اللیلۃ الظلماء”(یعنی بد ترین چیز جس سے میں تمھارے لئے ڈرتا ہوں وہ پوشیدہ شرک ہے ۔لہذا مخفی شرک سے دور رہو کیونکہ میری امت میں شرک اندھیری رات میں سخت پتھر پر چونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ پو شیدہ ہے پھر فرمایا جو شخص ریا کے ساتھ نمازپڑھے وہ مشرک ہے ۔جو شخص ریا سے روزہ رکھے یا ریا سے صدقہ دے یا ریا سے حج کرے یا ریا سے غلام آزاد کے وہ بھی شرک ہوگا ۔ اور یہ آخری قسم چونکہ قلبی امور سے متعلق ہے لہذا شرک خفی میں شامل کی گئی ہے ۔حافظ:- ہم آپ ہی کے بیان سے سند لے رہے ہیں کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص خلق کے لئے نذر کرے تو وہ مشرک ہے لہذا شیعہ بھی مشرک ہیں ،اس لئے کہ ہمیشہ امام اور امام زادے کے لئے نذر کرتے ہیں اور چونکہ یہ نذر غیر خدا کے لئے ہے لہذا یقینا شرک ہے ۔
نذر کے بارے میںخیرطلب :- عقل اور علم منطق کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر کسی قوم وملت کے عقائد میں فیصلہ کرنا چائیں تو جاہل اور بے خبر لوگوں کے اقوال یا افعال پر فیصلہ نہیں کیا کرتے بلکہ اس قوم کے قوانین اور ان کی معتبر کتابوں پر پورا تبصرہ کرتے ہیں ۔حضرات محترم اگر آپ شیعوں کے عقائد کی تہ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو بے خبر شیعہ عوام کے اقوال وافعال پر توجہ نہ کرنا چاہئیے کہ اگر بے پڑھے لکھے فقیروں نے راستوں میں یا علی یا امام رضا کی صدا لگادی تو آپ ان الفاظ کو ان کے یا تمام شیعوں کے شرک کی دلیل قرار دیں یا اگر ایک جاہل محض نا واقفیت میں امام یا امام زادے کے لئے نذر کرے تو آپ اس کو اپنے مقابل کو زیر کرنے کے لئے حربہ بنا لیں ۔اس لئے کہ جاہل اور لا ابالی افراد تو ہر قوم کے عوام میں پیدا ہوتے ہیں ۔البتہ آپ کی نیت خالص ہے ،بہانہ سازی اور عیب جوئی کے درپے نہیں ہیں اور عقلمندی کے ساتھ سمجھنا چاہتے ہیں تو شیعوں کی فقہی کتابوں کی طرف رجوع کیجئیے جو عام طور پر دستیاب ہوتی ہیں اور ہر کتب خانے میں ان کی کوئی نہ کوئی جلد او رنسخہ موجود ہے ۔چنانچہ اگر فقہ کی استدلالی کتابوں اور عملیہ رسائل کامطالعہ کیجئے تو آپ دیکھیں گے کہ علاوہ اس کے کہ کوئی شرک کاطریقہ موجود نہیں ہے ،احکام بھی مہمل اور بے قاعدہ نہیں ہیں بلکہ فقہ جعفری کےباطن سے توحید کا لب لباب ظاہر و آشکار ہے ۔شرح لمعہ اور شرائع الاسلام سارے کتب خانوں میں موجود ہیں ان کامطالعہ کیجیے تو اسی باب نذر میں نیز جملہ فقہائے شیعہ کے عملیہ رسالوں میں ملے گا ۔نذر چونکہ خدا کے لئے کسی عمل کو اپنے اوپر لازم کرنے کی وجہ سے ابواب عبادت میں سے ایک باب ہے لہذا اس کے لئے حتمی طور پر دو شرطوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ۔کیونکہ اگر ان دونوں میں سے کوئی مفقود ہوگی تو نذر منعقد نہ ہوگی ،اول:- نیت متصل بہ عمل ، اور دوسری :- صیغہ چاہےوہ جس زبان میں ہو۔جب مسلمان یہ سمجھ لے گا کہ اس کی نذر بغیر ان دو شرطوں کے صحیح نہ ہوگی تو کوشش کرے گا کہ پہلے ان دونوں کامطلب اور نوعیت سمجھ لے اس کے بعد نذر کرے جس وقت کسی فقیہ سے سوال کرے گا یا کوئی رسالہ پڑھے گا تو اس کو معلوم ہوگا کہ اولا ساری عبادتوں میں بالخصوص نذر میں نیت اللہ کے بارے میں اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئیے لہذا غیر خدا کے لئے نیت کا سوال یہ ختم ہو جاتا ہے ۔دوسری شرط جو پہلی شرط کا تتمہ ہے اور اس کو مضبوط کرنے والی ہے ، یہ ہے کہ نذر کنے والے کو نذر کے وقت صیغہ پڑھنا لازمی ہے اور صیغہ میں جب تک خدا کا نا م نہ ہو صیغہ جاری نہیں ہوتا ،مثلا روزے کی نذر کرنا چاہتا ہے ۔ تو کہے “للہ علیّ ان اصوم”یا شراب ترک کرنا چاہتا ہے تو کہے “للہ علیّ ان اترک شرب الخمر” اور اسی طریقے سے دوسری نذریں ہیں۔اگر فارسی یا اردو وغیرہ بولنے والے کے لئے عربی صیغہ جاری کرنا آسان نہ ہو تو ہر قوم والا اپنی زبان میں صیغہ جاری کر سکتا ہے اس شرط سے کہ ا س کے معنی مذکورہ صیغہ سے مطابق ہوں ، اور اگر نیت میں غیر خدا ہو یا کسی اور زندہ یا مردہ کو خدا کے نا م کے ساتھ شامل کر لے ۔چہلہے پیغمبر یا امام یا امام زادے ہی کا نام ہو تو قطعا وہ نذر باطل ہے اور اگر عمدا جان بوجھ کر ایسا کرے تو مشرک ہے کیونکہ مذکورہ آیت میں کھلا ہو ا ارشاد ہے “ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا” البتہ اہل علم پر لازم ہے کہ نا واقف لوگوں کو سمجھا ئیں کہ نذر قطعا خدا کے نام پر اور خدا ہی کے لئے ہونا چاہیئے ،چنانچہ واعظین اور مبلغین برابر اپنا فرض انجام دیتے رہتے ہیں ۔اور شیعہ فقہا عموما بیان کیا کرتے ہیں کہ نذر ہر زندہ یا مردہ کے لئے چاہے وہ پیغمبر یا امام ہی ہو باطل ہے اور اگر سمجھ کے عمدا ایسا کرے تو مشرک ہے ۔نذر صرف خدا کے لئے کریں اس کے مصرف کے تعین میں اختیار ہے ۔مثلا نذر کرے کہ خدا کے لئے کوئی گوسفند فلاں مکان یا عبادت خانے یا بقعہ امام وغیرہ میں لے جا کر قربانی کرے گا۔یا کوئی رقم یا لباس خدا کے لئے فلاں سیّد یا عالم یا یتیم یا فقیر کو دے گا تو کوئی حرج نہيں ہے ،لیکن اگر پیغمبر یا امام یا امام زادہ یا عالم یا یتیم یا محتاج وغیرہ کے لئے نذر کرے تو حتما باطل ہے اور علم وقصد کے ساتھ قطعا شرک ہے ۔ ہر رسول ،فقیہ ،عالم، واعظ اور مبلغ کا فرض لکھنا اور بیان کرنا ہے ۔ “وما علی الرسول الا البلاغ”یعنی پیامبر پر سوا مکمل طریقے سے پہنچا دینے کے اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔سورہ نور آیت 54۔اور لوگوں کا فرض سننا اور عمل کرنا ہے اگر کوئی شخص یا اشخاص احکام دین کے سیکھنے اور سکھانے کی کوشش نہ کریں اور ہدایات کے مطابق اپنے مذہبی فرائض پر عمل نہ کریں تو ان کے اصل عقیدے اور اصول وقواعد میں کوئی نقص نہیں پیدا ہوتا۔میرا خیال ہے کہ اسی قدر جواب سے حقیقت ظاہر ہوگئی ہوگی اور اس کے بعد آپ حضرات شیعوں کو مشرک کہہ کر عوام کو غلط فہمی میں مبتلا نہ کریں گے ۔
شرک خفیبہتر ہے کہ ہم لوگ پہلی گفتگو کی طرف رجوع کریں اور مطلب پورا کریں ۔ دوسری قسم شرک خفی و پوشیدہ ہے اور وہ شرک در اعمال اور طاعات وعبادات میں رہا ہے اس قسم کے شرک اور شرک در عبادت کے درمیان جس کو ہم نے شرک جلی میں شمار کیا ہے فرق یہ ہے کہ بندہ سرک عبادت میں خدا کے لئے شریک قرار دیتا ہے اور مقام عبادت میں اس کی پر ستش کرتا ہے ،مثلا اگر نماز یمں غیر خدا کو مد نظر رکھے جیسے شیاطین کے بہکانے سے مقام ولایت کی صورت نگاہ میں لائے یا کسی مرشد کو مر کز توجہ بنائے تو قطعا وہ عمل باطل اور شرک خفی ہے ، عبادت میں سوا ذات وحدہ لاشریک کے انسان کے ذہن وفکر میں اور کسی کو دخل نہ ہونا چا ہیئے ورنہ شرک جلی میں داخل ہوجاتا ہے ۔حضرت رسول خدا(ص) سے مروی ہے کہ فرمایا “یقول اللہ تعالی من عمل عملا صالحا اشرک فیہ غیری فھو لہ کلہ وانا منہ برئ وانا اغنی الاعنیاء عن الشرک” یعنی خدائے تعالی فرماتا ہے کہ جو شخص کوئی نیک عمل کرے اور اس میں میرے غیر کو شریک کرلے تو سارا عمل اسی کے لئے ہے اور میں اس (عمل یا عامل) سے بیزار ہوں اور میں تمام اغنیا سے زیادہ شک سے غنی ہوں۔نیز روایت میں ہے کہ ارشاد فرمایا جو شخص نماز پڑھے یا روزہ رکھے یا حج کرے اور اس کا نظریہ یہ ہو کہ لوگ اس عمل پر اس کی مدح کریں “فقد اشرک فی عملہ “تو یقینا اس نے اس عمل میں خدا کے لئے شریک قرار دیا۔نیز کاشف اسرار حقائق حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ “لو ان عبدا عمل عملا یطلب بہ رحمۃ اللہ والدار الآخرۃ ثم ادخل فیہ رضا احد من الناس کان مشرکا”(یعنی اگر کوئی بندہ رحمت خدا اور جزائے آخرت کی طلب میں کوئی عمل کرے اور اس میں کسی انسان کی رضامندی کو شامل کرے تو وہ عامل مشرک ہو جائے گا)۔شرک خفی کا دامن بہت وسیع ہے کیونکہ کسی عمل میں غیر خدا کی طرف ایک مختصر سی توجہ بھی مشرک بنا دیتی ہے ۔
شرک در اسباباس شرک کی قسموں میں سے ایک شرک در اسباب ہے جیسا کہ اکثر لوگ صرف اسباب اور خلق پر امید وخوف کی نظر رکھتے ہیں ، یہ بھی شرک ہے لیکن شرک در اسباب سے مراد یہ ہے کہ اسباب ہی میں اثر سمجھے مثلا آفتاب اشیا کی تربیت میں اثر انداز ہوتا ہے اگر اس اثر کو بغیر مؤثر حقیقی کی طرف توجہ کئے ہوئے خود آفتاب کی جانب سے سمجھیں تو شرک ہے اور اگر اس کا مؤثر حکیم مطلق کو اور آفتاب کو فیض رسانی کا ذریعہ جانیں تو ہرگز شرک نہیں ہے ،بلکہ یہ تو ایک طرح کی عبادت ہے کیونکہ حق کی نشانیوں پر توجہ کرنا خود حق کی طرف توجہ کرنے کا پیش خیمہ ہے ؛جیسا کہ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں اس امر کی جانب اشارہ موجود ہے کہ آیات الہی پر غور کرو اس لئے کہ فکر ونظر خود خدائے تعالی کی طرف توجہ کا مقدمہ ہے ۔اسی طرح اسباب میں سے ہر سبب کی طرف جیسے تاجر کی تجارت کی طرف ،کاشتکار کی زراعت کی طرف ،باغبان کی باغبانی کی طرف ،پیشہ ور کی پیشہ ور کی طرف اور منتظم کی اپنے انتظام کی طرف یہاں تک کہ کسی قسم کا کام کرنے والے کی اپنے شغل اور عمل کی طرف مستقل اور خاص توجہ مشرک بنادیتی ہے اور اگر سبب و اسباب پر اس کی نظر اس نیت سے ہو کہ “لا مؤثر فی الوجود الا اللہ”یعنی اثر دینے والا سوا خدا کے کوئی اور نہیں ہے تو کوئی قباحت نہیں ہے اور شرک نہ ہوگا ۔
شیعہ کسی پہلو سے مشرک نہیںاس مختص تمھید کے بعد جس سےمطلب واضح ہوگیا ہے اور ہم اصول شرک اور اس کے معانی وآثار بیان کرچکے ہیں ، اب اجازت دیجئے کہ اپنے بیانات سے نتیجہ نکالیں اور دیکھیں کہ ہم نے شرک جلی و خفی کے جو طریقے بیان کئے ہیں ان میں سے کس کے ماتحت آپ شیعوں کو مشرک کہتے ہیں ۔آیا کہاں اور کس پڑھے لکھے یا جاہل شیعہ سے آپ نے سنا ہے کہ وہ خدائے تعالی کی ذات وصفات اور افعال میں کسی شریک کا قائل ہو؟ یا پروردگار کی عبادت میں کسی دوسرے معبود کو پیش نظر رکھتا ہو ؟ یا شیعوں کی کونسی کتب اور اخبار واحادیث میں دیکھا ہے کہ اصول وفروع اور عقائد کے بارے میں ان بزرگان دین اور ائمہ طاہرین سے کوئی ایسی بات یا حکم منقول ہو جو شرک کے ان طریقوں سے ملتا ہو جو میں نے عرض کیئے ؟۔اب رہا شرک خفی اور اس کے اقسام جیسے لوگوں کو دکھانے اور ان کو متاثر کرنے کے لئے کوئی عمل کریں یا اسباب سے ربط او ر امید قائم کریں تو یہ بات تنہا شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ شیعہ اور سنی سبھی عالم اجسام میں گرفتار ہیں اور بہت سے عقل ومعرفت ،تزکیہ نفس اور کامل توجہ نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی شیطان کے وسوسوں میں مبتلا ہو کر ریائی عمل کرتے ہیں ،یا سرتا پا اسباب میں محو ہوجاتے ہیں اور حق کی اطاعت سے ہٹ کر اطاعت شیطان کرنے لگتے ہیں اور جیسا عرض کیا جاچکا ہے اگر چہ یہ طرز عمل شرک کے مفہوم میں آجاتا ہے لیکن شرک مغفور ہے اور یقینا معانی اور چشم پوشی کے قابل ہے کیونکہ تھوڑی روحانی توجہ سے اس کی تلافی ہوجاتی ہے ۔ پھر آپ کس پہلو سے شیعوں کو مشرک سمجھتے ہیں؟ اور عوام کو دھوکے میں ڈالتے ہیں ،جیسا کہ فی الحال آپ نے اشارہ کیا ہے ۔حافظ:- آپ کی ساری باتیں صحیح ہیں لیکن میں نے عرض کیا کہ اگر آپ غور فرمائیے تو خود تصدیق کیجئے گا کہ اماموں سے حاجت طلب کرنا اور ان کا وسیلہ اختیار کرنا شرک ہے چونکہ ہم کو انسانی واسطے کی ضرورت نہیں ہے لہذا جب بھی خدا کی طرف توجہ کریں گے نتیجہ حاصل ہوجائے گا ۔خیرطلب :- بڑے تعجب کا مقام ہے کہ آپ کا ایسا منصف اور ہوشیار عالم کیونکر بغیر تحقیق کے اپنے اسلاف کی عادتوں کے زیر اثر رہ کر ایسے بیان دیتا ہے ،غالبا آپ سورہے تھے یا میری گزارشوں کی طرف کوئی توجہ نہیں تھی کہ ان مقدمات کو ذکر کرنے کا اور مطالب کی تشریح کردینے کے بعد بھی آپ یہ بات دہرا رہے ہیں کہ اماموں سے حاجت چاہنا شرک ہے ۔جناب محترم! کیا مطلقا مخلوقات سے حاجت طلب کرنا شرک ہے ؟ اگر ایسا ہے تو سارا عالم مشرک ہے اور کبھی کوئی موحد مل نہیں سکتا ۔اگر خلق سے حاجت چاہنا اور ان سے مدد کی خواہش کرنا شرک ہے تو انبیاء کس لئے خلائق سے امداد مانگتے تھے ؟ بہتر ہو گا کہ آپ حضرات کسی قدر قرآن مجید کی آیتوں پر بھی غورفرمائیں تاکہ حقیقت واضح ہوجائے ۔
آصف بن برخیا کا سلیمان کے پاس تخت بلقیس لاناضرورت ہے کہ سورہ نمبر27(نمل)کی آیات نمبر 38 تا 40 پر توجہ فرمائیے جن میں ارشاد ہے “قَالَ يَا أَيُّهَا المَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ٭ قَالَ عِفْريتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ٭ قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرّاً عِندَهُ قَالَ هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ٭”(یعنی جناب سلیمان نے حاضرین مجلس سے کہا کہ تم میں سے کون شخص بلقیس کا تخت میرے پاس لائے گا ، قبل اس کے کہ وہ لوگ میرے سامنے اطاعت گزار بن کے آئیں ؟ جنا ت میں سے ایک دیو بولا کہ میں اس کا تخت لے آنے پر ایسا قادر اور امین ہوں کہ آپ کے دربار سے اٹھنے سے پہلے ہی لا کر حاضر کردوں گا ، اس شخص نے جس کو تھوڑا سا علم کتاب معلوم تھا (یعنی آصف بن برخیا جو اسم اعظم جانتے تھے) کہا کہ میں آپ کی پلک جھپکنے سے قبل اس کو یہاں لے آؤں گا ۔جب سلیمان نے وہ تخت اپنے پاس دیکھا تو کہا ۔ یہ طاقت میرے پروردگار کے فضل سے ہے ۔۔الی آخر) بدیہی چیز ہے کہ بلقیس کا اتنا بڑا تخت اتنی طویل مسافت سے پلک جھپکنے سے قبل سلیمان کے پاس لے آنا عاجز مخلوق کا کام نہیں ہے اور مسلّم ہے کہ ایک خلاف عادت امر ہے لیکن حضرت سلیمان نے یہ سمجھتے ہوئے بھی کہ یہ کام خدائی قدرت چاہتا ہے تخت منگوانے کی درخواست خدا سے نہیں کی بلکہ ایک عاجز مخلوق سے حاجت روائی اور امداد کی خواہش کی اور اہل دربار سے فرمائش کی کہ وہ عظیم الشان تخت میرے لئے منگوادو، لہذا خود جناب سلیمان کا عاجز بندوں سے یہ تقاضا کرنا کہ تم میں سے کون اپنی خدا داد قوت سے یہ کام انجام دے سکتا ہے اور تخت بلقیس کو اس کے آنے سے پہلے میرے سامنے حاضر کرسکتا ہے ؟ اس بات کا ثبوت ہے کہ مخلوق سے مطلق حاجت چاہنا شرک نہیں ہے ۔خدا نے دنیا کو عالم اسباب قرار دیا ہے ۔شرک بھی ایک قلبی امر ہے اگر اس شخص کو جس سے حاجت طلب کر رہا ہے خدا یا خدا کا شریک نہ سمجھے تو اس سے مدد لینے میں کبھی کوئی حرج نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگوں میں رواج ہے کہ ہمیشہ زید ،عمر وبکر کے دروازے پر جاکر بغیر خدا کا نام زبان پر جاری کئے ہوئے امداد کا تقاضا کرتے ہیں ۔چنانچہ اگر کوئی مریض طبیب اورڈاکٹر کے دروازے پر جاکر کہے کہ ڈاکٹر صاحب میری فریاد کو پہنچئے ،بیماری مجھ کو مارے ڈالتی ہے تو کیا یہ مریض مشرک ہے؟۔اگر کوئی دریا میں ڈوبنے والا ہو فریاد کرے کہ لوگو میری مدد کو پہنچو اور مجھ کو بچاؤ اور خدا کا نام نہ لے تو کیا وہ مشرک ہے ؟۔اگر کسی ظالم نے کسی بے گناہ مظلوم کا پیچھا کیا اور اس نے وزیر اعظم کے در پر جا کے کہا جناب وزیر صاحب میری فریاد رسی کیجئے ۔میں آپ کا دامن نہ چھوڑوں گا کیونکہ مجھ کو سوا آپ کے اور کسی سے امید نہیں جو مجھ کو اس ظالم کے پنجے سے چھٹکارا دلائے تو کیا وہ مشرک ہے ؟۔اگر کسی کے گھر کوئی چور جان یا مان یا عزت کے قصد سے داخل ہوا اور وہ کوٹھے پر چڑھ کے اپنے پڑوسیوں کو مدد کے لئے پکارے اور رسما کہے کہ لوگو میری مدد کو دوڑو اور اس چور سے بچاؤ لیکن اس وقت خدا کا نا بالکل نہ لے تو کیا وہ مشرک ہے ؟قطعا جواب نفی میں ہوگا اور کوئی عقلمند آدمی ایسے کو مشرک نہیں کہے گا بلکہ جو لوگ مشرک کہیں وہ یا تو بیوقوف ہیں یا پھر ان کی کوئی غرض ہے ۔محترم حضرات ! انصاف کیجئے اور غلط فہمی نہ پھیلائے ، بالعموم سارے شیعہ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص آل محمد کو خدا سمجھے یا ان کو خدائی ذات وصفات او رافعال میں شریک جانے تو وہ قطعی مشرک ہے ۔ اور ہم لوگ اس سے بے بیزاری اختیار کرتے ہیں ۔ اگر آپ نے مصیبتوں میں شیعوں کو” یا علی ادرکنی ” یا حسین ادرکنی” کہتے ہوئے سنا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ”یا علی اللہ ادرکنی” یا حسین اللہ ادرکنی” بلکہ دنیا چونکہ دار اسباب ہے کیونکہ “ابی اللہ ان یجری الامور الا باسبابھا” یعنی اللہ نے امور کو بغیر ان کے اسباب نافذ کرنے سے انکار کیا ہے (مترجم)۔ لہذا شیعہ اس خاندان جلیل کو وسیلہ اور اسباب نجات سمجھتے ہیں اور انہیں حضرات کے ذریعے سے خدا تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں ۔
حافظ:- مستقل طور پر خدا ہی سے کیوں حاجت طلب نہیں کرتے کہ وسیلہ اور واسطہ کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ؟
خیر طلب :-طلب حاجات اور رنج وغم کے دفیعہ میں ہماری مستقل توجہ پروردگار ہی کی یکتاذات سے مخصوص ہے لیکن قرآن مجید جو ایک محکم آسمانی کتاب ہے ہم کو ہدایت کررہا ہے کہ خدا کی جلیل بارگاہ میں وسیلے کے ساتھ حاضر ہونا چاہئیے چنا نچہ سورہ نمبر 5 (مائدہ)آیت نمبر36 میں ارشاد ہوتا ہے “یا ایھاالذین آمنوا اتقواللہ وابتغوہ الیہ الوسیلۃ” (یعنی اے ایمان والو خدا سےڈرو اور اس کی بارگاہ میں پہنچنے کے لئے (اولیائے حق کا) وسیلہ اختیار کرو (تاکہ مطلب برآئے)۔
آل محمد (ع)فیض الہی کے ذریعے ہیںہم شیعہ اہل بیت طاہرین علیھم السلام کو امور کے حل وعقد میں قادر مطلق نہیں سمجھتے بلکہ ان حضرات کو خط کے صالح بندے اور فیض خداوندی کاواسطہ جانتے ہیں اور اس جلیل القدر خاندان کے ساتھ ہمارا توسل رسول اللہ کے حکم سے ہے ۔
حافظ:- کس مقام پر رسول اکرم (ص) نے ان سے توسل اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور کہاں سے معلوم ہو ا کہ واسطے سے مراد آل محمد (ص) ہیں؟۔
خیرطلب :-بکثرت حدیثوں میں حکم دیا ہے کہ خطرات اور مہلکوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے میری عزت اور اہل بیت سے متوسل ہو۔
حافظ:- یا یہ ممکن ہے ؟ اگر ایسی حدیثیں آپ کی نظر میں ہیں تو ہمارے سامنے بھی بیان فرما دیجیئے۔
خیرطلب :-آپ نے جو یہ فرمایا کہ کہاں سے معلوم ہو ا کہ وسیلے سے مراد عترت اور اہل بیت پیغمبر (ع) ہیں ؟ تو آپ کے اکابر علماء جیسے حافظ ابو نعیم اصفہانی “نزول القرآن فی علی ” میں حافظ ابو بکر شیرازی “ما نزل من القرآن فی علی “میں اور امام احمد ثعلبی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ آیہ شریفہ میں وسیلہ سے مراد عترت و اہل بیت رسول(ع)ہیں ۔چنانچہ علماء میں سے شرح نہج البلاغہ جلد چہارم صفحہ 79 میں حضرت صدیقہ کبری فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کا وہ خطبہ نقل کیا ہے جو جناب معصومہ نے قضیہ فدک کے سلسلے میں مہاجرین انصار کے سامنے ارشاد فرمایا تھا چنانچہ خطبے کے شروع ہی میں ان مظلومہ نے مندرجہ ذیل عبارت کے ساتھ اس آیت کے معنی کی طرف اشارہ فرمایا ہے “واحمداللہ الذی بعظمتہ ونورہ یبتغی من فی السموات والارض الیہ الوسیلۃ ونحن وسیلتہ فی خلقہ “(یعنی میں حمد کرتی ہوں اس خدا کی جس کی عظمت اور نور کی وجہ سے آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والے اس کی طرف وسیلہ تلاش کر تے ہیں ، اور ہم ہیں اس کا وسیلہ مخلوقات کے اندر۔
حدیث ثقلینعترت رسول اور اہلبیت طاہرین علیھم السلام سے تمسک و توسل اور ان کی پیروی کے جواز پر مضبوط دلیلوں میں سے ایک حدیث ثقلین بھی ہے جو فریقین کے نزدیک صحیح اسناد کے ساتھ توا تر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے کہ رسول اللہ (ص) سے ارشاد فرمایا “ان تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی” (یعنی اگر ان کے ساتھ تمسک رکھو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے)۔
حافظ:- میرا خیا ل ہے کہ آپ نے دھوکا کھایا ہے جو اس حدیث کو صحیح الاسناد اور متواتر کہہ دیا ہے ۔ اس لئے کہ یہ مقصد ہمارے اکابر علماء کے نزدیک غیر معلوم ہے اور اس بات پر دلیل یہ ہے کہ ہمارے شیخ بزرگ اور مذہب سنت وجماعت کے قبلہ وکعبہ محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی معتبر صحیح میں جو قرآن کریم کے بعد تمام کتابوں سے زیادہ صحیح ہے اس کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
خیر طلب :-اول تو یہ کہ میں نے دھوکا نہیں کھایا ہے بلکہ اس حدیث مبارک کا صحیح اور معتبر ہو نا آپ کے علماء کے نزدیک مسلم ہے یہاں تک کہ ابن حجر مکی نے اتنے سخت تعصب کے بعد اس کی صحت کا اعتراف کیا ہے ۔ضرورت ہے کہ اپنے ذہن کو روشن کرنے کے لئے صواعق محرقہ فصل دوم با ب 11 ذیل آیہ چہارم صفحہ 89-90 کی طرف رجوع کیجئے جہاں وہ ترمذی ،امام احمد بن جنبل ،طبرانی ،اور مسلم سے روایتیں نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں “اعلم ان لحدیث التمسک با الثقلین طرقا کثیرۃ و وردت من نیف و عشرین صحابیا “(یعنی جان لو کہ ثقلین (عترت رسول اور قرآن مجید)سے تمسک کرنے کی حدیث بہت طریقوں سے مروی ہے یہ بیس سے زیادہ اصحاب رسول (ص)سے نقل ہوئی ہے )۔پھر کہتے ہیں کہ حدیث کے طرق میں تھوڑا سا اختلاف ہے کسی میں کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع میں عرفات کے اندر ، کسی میں مرض الموت کے عالم میں مدینے کے اندر جب حجرہ صحابہ سے بھرا ہوا تھا کسی ،میں ملتا ہے غدیر خم کے اندر اور کسی میں درج ہے کہ طائف سے واپسی کے بعد کا ذکر ہے اس کے بعد خود ہی تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان اختلافات میں کوئی منافات نہیں ہے اور بلکل ممکن ہے کہ رسول اکرم (ص)نے قرآن کریم اور عترت طاہرہ کی عظمت وشان ثابت کرنے کے لئے ان سارے مقامات پر بار بار اس حدیث کو ارشاد فرمایا ہو۔
بغیر تعصّب کے باریک بینی سعادت کا سبب ہےدوسرے آپ نے یہ فرمایا ہے کہ بخاری کا اپنی صحیح میں نقل نہ کرنا اس حدیث کے صحیح نہ ہونے کی دلیل ہے تو آپ کا یہ بیان بہت سی وجہوں سے قابل رد اور علماء کے نزدیک لائق نفرت ہے کیونکہ یہ حدیث مبارک اگرچہ بخاری نے اپنی صحیح میں درج نہیں کی ہے ،لیکن آپ کے اکابر علماءنے بالعموم اس کو نقل کیا ہے یہاں تک کہ بخاری کے ہمسر مسلم بن حجاج اور سارے ارباب صحاح ستہ نس اپنی معتبر کتابوں میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔یا تو آپ حضرات کوچاہیئے کہ تمام صحاح اور اپنے علماء کی معتبر کتابوں کو دھو کر دور پھینک دیجیئے اور اپنے سارے عقائد کو صرف بخاری تک محدود رکھیئے یا اگر دوسرے علماء کی عدالت اور علم ودانش کے معترف میں جواپنے دور اہل سنت کے درمیان علم وفہم او ر تقوی میں ممتاز تھے خصوصا صحاح ستہ کے مؤلفین تو آپ کا فرض ہوگا کہ اگر کسی خبر کو اپنی مصلحتوں کی بنا پر بخاری نے نہیں لکھا ہے اور دوسروں نے نقل کیا ہے تو اس کو قبول فرمائیے ۔
حافظ:- مصلحت کوئی بھی نہیں تھی صرف امام بخاری محتاط بہت زیادہ تھے اور نقل اخبار میں بہت جانچ پڑتال کرتے تھے چنانچہ جس روایت کو سند یا عبارت کے لحاظ سے مشکوک اور عقل کیخلاف پایا اس کو نقل نہیں کیا ۔
خیر طلب :- قاعدہ”حب الشیء یعمی ویصم”(یعنی کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھا اور بہرا بنادیتی ہے )کے مطابق اس مقام پر حضرات اہل سنت کو غلط فہمی ہوئی ہے کیوں کہ آپ ان کے بارے میں غلو رکھتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ امام بخاری بہت باریک بین تھے او ر جو روایت انہوں نے اپنی صحیح میں درج کی ہے وہ انتہائی معتبر اور وحی کی منزل کے مانند ہے حالانکہ ایسا ہے نہیں ، بخاری کے سلسلہ اسناد میں بکثرت مردود ،منفور کذاب اور جعال اشخاص موجو د ہیں۔
حافظ:- آپ کایہ بیان مردود ومنفور ہے اس لئے کہ آپ نے بخاری کے مرتبہ علم ودانش کی توہین کی ہے (یعنی سارے اہل سنت وجماعت کی اہانت کی ہے )-
خیرطلب :-اگر علمی تنقید اہانت ہے تو آپ کے تمام بڑے بڑے علماء جنہوں نے روایات کی گہری تحقیق کی ہے اور آپ کی معتبر صحاح کی بلکہ مخصوص طور پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی بہت سی روایتوں کو ان کے سلسلہ اسناد میں مردود ،کذاب اور جعال شخص کے موجو د ہونے کی وجہ سے رد کردیا ہے ، سب سے مرتبہ علم ودانش کی تو ہین کرنے والے اور مردود تھے۔بہتر ہوگا آپ حضرات کتب اخبار میں ذرا دقت نظر سے کام لیں اور مطالعے کے وقت غلو کی نگاہ سے نہ دیکھیں کہ چونکہ یہ بخاری یا مسلم ہیں لہذا جو کچھ نقل کردیا ہے ہر حیثیت سے صحیح اور یقینی ہے ۔ضروری ہے کہ آپ کے وہ علماء جو صحاح ستہ اور بالخصوص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بارے میں غلو کا عقیدہ رکھتے ہیں پہلےان کتابوں کی طرف رجوع فرما ئیں جو اخبار کی جرح وتعدیل میں لکھی گئی ہیں تا کہ امام بخاری کی قدر منزلت اور نقل احادیث میں ان کی گہری تحقیق کی حقیقت معلوم ہوجائے ۔ اگر آپ “اللئا لی المصنوعۃ فی احادیث الموضوعۃ” ،سیوطی “میزان الاعتدال” تلخیص المستدرک ذہبی” تذکرۃ الموضوعات ابن جوزی ” تاریخ بغدادمؤلفہ ابو بکر احمد ابن علی خطیب بغداد اور علم رجال میں اپنے دوسرے بزرگ علماء کی ساری کتابیں پڑھیں تو پھر مجھ پر اعتراض نہ کریں اور یہ فرمائیں کہ تم نے حضرت بخاری کی اہانت کی ہے –
بخاری اور مسلم نے مردود اور جعل سازرجال سے روایتیں نقل کی ہیںآخر میں نے کون سی بات عرض کی کہ آپ اس قدر غھہ میں بھر گئے ؟میری گذارش تو صرف یہی تھی کہ آپ کی صحاح یہاں تک کہ صحیحین ،بخاری ومسلم میں بھی مردود اور کذاب رجال سے بھی روایات اور احادیث مروی ہیں۔ اگر آپ کتب رجال کو پیش نظر رکھتے ہوئے صحیح بخاری کی روایتوں کا غور سے مطالعہ فرمائیں تو نظر آجائے گا کہ انہوں نے بکثرت جعّال ،وضّاع اور مردود رجال سے خبریں نقل کی ہیں جیسے ابو ہریرہ کذّاب ،عکرمہ خارجی،محمد بن عبد سمر قندی محمد بن بیان ، ابراہیم بن مہدی ابلی بنوس بن احمد واسطی ،محمد بن خالد حنبلی،محمد بن محمد یمانی،عبد اللہ بن واقد حرّانی ابوداؤد سلیمان بن عمر کذّاب ،عمران بن حطّان اور ان کے علاوہ دوسرے مردود راوی جن کی پوری فہرست پیش کرنے کا نہ وقت ہے نہ سب میرے حافظہ میں محفوظ ہے اگر آپ رجال کی کتابیں ملاحظہ فرمائیں تو حقیقت امر ظاہر ہوجائے گی کہ حضرت بخاری ویسے نہیں ہیں جیسے آپ کی نگاہوں میں پھر رہے ہیں ،یعنی غیر معمولی طور پر تحقیق اور احتیاط سے کام نہیں لیتے تھے بلکہ نقل اخبار میں اشخاص کے صرف ظاہری حالات پر توجہ رکھتے تھے ۔ہماری اصطلاح میں اپنی جگہ پر بہت خوش فہم اور خوش عقیدہ تھے اور جس شخص سے بھی کوئی ایسی روایت سن لی جو بظاہر ٹھیک ہو اس کی درج کر لیا۔اس مطلب پر خود آپ کے علماء کی کتب رجالیہ گواہ ہیں جن میں سے بعض کی طرف میں اشارہ کرچکا ہوں کہ انہوں نے موضوع اور مردود روایات کی چھانٹ کے الگ کردیا ہے اور بخاری و مسلم کے سلسلہ روایات میں محققانہ وقت نظر سے کام لیتے ہوئے ان میں سے بہتوں کا پردہ فاش کردیا ہے تاکہ ہماری اور آپ کی توجہ مبذول ہو اور ان کتابوں پر نظر رکھتے ہوئے آج رات کو یہ نہ فرمائیے کہ حدیث ثقلین اور عترت طاہرہ ہے تمسک کو بخاری نے اپنی احتیاط کی وجہ سے نقل نہیں کیا ۔آیا عقل باور کرتی ہے کہ ایک محقق اور محتاط عالم غیرمؤثق ،کذّاب او ر وضّاع روایوں سے ایسی فرضی روایتیں نقل کرے جو اہل علم اور ارباب عقل ودانش کے نزدیک مضحکہ بن کے رہ جائیں کیاکلیم اللہ کا ملک الموت کے منہ پر طمانچہ مارکے ان کو اندھا بنا دینا یا آپ کا پا برہنہ بغیر ساتر عورتین کے بنی اسرائیل کے درمیان دوڑ نا جس کا تذکرہ میں نے پہلے کرچکا ہوں ،خرافات اور موہومات میں سے نہیں ہے؟کیا قیامت کے روز خدا کی رویت یا اس کے زخمی پاؤں یا اپنی پنڈلی کھولنے کی حدیثیں جو انہوں نے صحیح کے اندر نقل کی ہیں اور ان میں سے بعض کی طرف میں اشارہ بھی کر چکا ہوں کفریات میں سے نہیں ہیں۔؟
صحیحین بخاری ومسلم میں مضحک روایت اور رسو ل(ص)کی اہانتکیا یہ بخاری کی سخت علمی اور عملی احتیاط ہی کا نتیجہ ہے کہ اپنی صحیح جلد دوم “باب اللہو با الحراب “صفحہ 120 میں اسی طرح مسلم جلد اول “باب الرخصۃ فی اللعب الذی ما معصیۃ فیہ فی ایام السعید” میں ابو ہریرہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ عید کے روز کچھ حبشی سیّاح مسجد رسول (ص) میں جمع ہوئے تھے اور ناچ کود کے فن سے لوگوں کو خوش کر رہے تھے رسو ل اللہ(ص) نے عائشہ سے فرمایا کیا تم بھی دیکھنا چاہتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ(ص) ۔حضرت نے ان کو اپنی پیٹھ پر اس طریقہ سے سوال کیا کہ انہوں نے اپنا سر آنحضرت (ص)کے کاندھے کے اوپر سے نکالا اور چہرہ آپ کے چہرہ مبارک پر رکھ لیا۔ آنحضرت(ص) عائشہ کو محفوظ کرنے کے لئے ان لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے کہ اس سے بہتر نا چ دکھائیں ،یہاں تک عائشہ تھک گئیں تو ان کو زمین پر اتار دیا ۔خدا کے لئے انصاف کیجئے کہ اگر آپ حضرات میں سے کسی کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے تو کیا آپ ناراض نہ ہوں گے اور اس کو اپنی توہین نہ سمجھیں گے ؟ اگر کوئی جناب حافظ صاحب سے کہے کہ مجھ سے ایک راوی نے بیان کیا ہے کہ کل شب میں جب حافظ صاحب کے مکان کی پشت پر بازی گروں کا ایک دستہ سازندگی او ربازیگری میں مشغول تھا تو میں نے دیکھا جلیل القدر عالم جناب حافظ صاحب اپنی بیوی کو پیٹھ پر اٹھائے تماشہ دیکھارہے تھے بلکہ بازیگروں سے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ خوب ناچے جاؤ تاکہ میری بیوی اور لطف اندوز ہو ۔ تو لللہ سچ کہئیے گا کہ یہ بات سن کر حافظ صاحب متاثر اور شرمندہ تو نہ ہوں گے؟ اور اس کو ایک مخلص خادم ہونے کے بعد اگر کسی شخص سے ایسی خبر سنوں چاہے وہ بظاہر معتبر ہی ہو تو کیا میرے لئے اس کونقل کرنا مناسب ہے ؟ اور اگر میں بیان کردوں تو عقلمند لوگ یہ نہ سمجھیں گے کہ فلاں جاہل نے ایک بات کہدی تو آپ نے ہوشیار ہوکر کیوں اس کو نقل کیا؟۔اب ذرا بخاری کی روایتوں پر فیصلہ دیجئے کہ اگر وہ واقعی محقق اور اخبار کی چھان بین کرنے والے تھے تو فرض کیجئے ایسی روایت انہوں سنی تھی تو کیا مناسب تھا کہ اس کو اپنی کتاب میں نقل بھی کریں اور پھر مولوی صاحبان اس کتاب کو “اصح الکتب بعد القرآن “بتائیں؟لیکن حدیث ثقلین کو جس میں رسول اللہ(ص) اپنی امت کو حکم دے رہے ہیں کہ میرے بعد قرآن مجید اور میرے اہل بیت طاہرین علیھم السلام سے تمسک کرو، نقل نہ کریں (کیونکہ عترت کا نام بیچ میں ہے) البتہ فرضی گھڑی ہوئی روایتیں جن کی پو ری تفصیل کا وقت نہیں اپنی کتابوں کے ابواب میں درج کریں۔ہاں ایک پہلو سے میں ضرور آپ کی تصدیق کرتا ہوں کہ علماء اہل سنت کے درمیان بخاری صاحب یقینا اس حیثیت سے بہت محتاط تھے کہ جس روایت میں یہ نظر آیا کہ عنوان امامت و ولایت کے لحاظ سے ولایت علی ابن ابی طالب علیھما السلام او ر حرمت اہلبیت طاہرین علیھم السلام کے ثبوت میں کوئی راہ نکل رہی ہے تو احتیاطا اس کو نقل نہیں کیا کہ ایسا نہ ہو کسی روز عقلمندوں کے ہاتھ کا حربہ بن جائے اور وہ حق و حقیقت کو ظاہر کردیں ۔چنانچہ جب ہم صحاح کی جلدوں کا صحیح بخاری سے مقابلہ کرتے ہیں تو اس نتیجے تک پہنچتے ہیں ۔ کہ اس روشن موضوع پر کوئی روایت چاہے وہ متواتر ،ضروری اور قرآن وآیات الہی کی تائید سے مضبوط ہی ہو انہوں نے نقل نہیں کی ہے جیسے آیات مبارکہ “یا ایھا الرّسول بلغ ما انزل الیک من ربّک ۔۔۔۔” ، “انما ولیکم اللہ و رسو لہ و الذین آمنو الذین یقیمون الصلواۃ و یوتون الزکا ۃ و ھم راکعون”،”و انذر عشیرتک الاقربین۔۔۔” وغیرہ کی شان میں بکثرت حدیثیں ،حدیث ولایت یوم الغدیر ، حدیث انذار ، حدیث مواخات ، حدیث، حدیث سفینہ ،حدیث با ب الحطہ اور دوسری حدیثیں جو اہلبیت طہارت علیھم السلام کی حرمت وولایت کے اثبات سے نسبت رکھتی تھیں انہوں نے احتیاطا نقل نہیں کیں ۔ لیکن ہر وہ حدیث جو انبیاء کرام او ر با لخصوص حضرت خاتم الا نبیاء (ص) کے وجود اقدس اور آنحضرت (ص) کی عترت طاہرہ کے مقامات ومدارج عالیہ کی اہانت کا کوئی پہلو رکھتی تھی وہ (چاہے کسی جعّال ،کذّاب اور وضّاع ہی سے منقول ہو)بغیر احتیاط کے نقل کردی جن میں بعض کی طرف اشارہ ہو چکا ہے ۔
حدیث ثقلین کے اسناداب میں مجبور ہوں کہ آپ کی بعض کتابوں کی طرف اشارہ کروں تاکہ آپ بھی جان لیں کہ حدیث مبارکہ ثقلین کو اگر بخاری صاحب نے درج نہیں کیا ہے تو آپ کے دوسرے اکابر وموثقین علماء یہاں تک کہ بخاری کے ہم پلہ (جیسا کہ آپ بھی مانتے ہیں )مسلم بن حجاج نے بھی نقل کیا ہے ۔مسلم بن حجاج نے “صحیح مسلم”جلد ہفتم صفحہ 122 میں ،ترمذی نے” صحیح ” میں ، ابو داؤد نے “سنن “جزء دوم صفحہ 207 میں نسائی نے” خصائص “صفحہ 30 میں ، امام احمد بن جنبل نے “مسند “جلد سوم صفحہ 14-17 وجلد پنجم صفحہ 182-189 میں ،حاکم نے مستدرک”جلد سوم صفحہ 109-148 میں ،حافظ ابو نعیم اصفہانی نے”حلیۃ الاولیا ” جلد اول صفحہ 355 میں،سبط ابن جوزی نے تذکرۃ صفحہ 186 میں ، ابن اثیر جوزی نے اسد الغابہ جلد دوم صفحہ 12 وجلد سوم صفحہ 147 میں حمیدی نے جمع بین الصحیصین میں ، رزین نس “جمع بین الصحاح الستہ “میں ، طبرانی نے “کبیر” میں ،ذہبی نے “تلخیص مستدرک” میں، ابن عبد ربہ نے “عقد الفرید” میں محمد ابن طلحہ شافعی نے “مطالب السئول” میں ، خطیب خوارزمی نے” مناقب” میں سلیمان بلخی حنفی نے”ینابیع المودۃ”باب 4 میں ، میر سید علی ہمدانی نے “مودۃ القربی ” کی مودۃ دوم میں، ابن ابی الحدید نے” شرح نہج البلاغۃ ” میں، شبلنجی نے” نور الابصار” صفحہ 99 میں ،نورالدین بن صباغ مالکی نے” فصول المہمہ “صفحہ 25میں، حموینی نے فرائد السبطین میں ،امام ثعلبی نے “مناقب “میں، محمد بن یوسف کنجی شافعی نے “کفایت الطالب”باب اول بیان صحت خطبہ غدیر خم وضمن باب 62صفحہ 130 میں ، محمد بن سعد کاتب نے” طبقات” جلد چہارم صفحہ 8 میں، فخر الدین رازی نے” تفسیر کبیر “جلد سوم ضمن آیہ اعتصام صفحہ 18 میں ابن کثیر دمشقی نے” تفسیر” جلد چہارم ضمن آیہ مودت صفحہ 113 میں ،ابن عبد ربہ نے “عقد الفرید” جلد دوم صفحہ 158 ،346 میں، ابن ابی الحدید نے” شرح نہج البلا غہ” جزء ششم صفحہ 130 ،سلیمان حنفی نے ینابیع المودۃ صفحات115،95،34،32،31،30،29،25،18، 230،199،126، میں مختلف عبارتوں کے ساتھ ،ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ صفحات 136،99،90،87،75، میں مختلف عبارتوں کے ساتھ اور آپ کے دوسرے اکابر علماء نے جن کے سارے اقوال کرنا اس مختصر جلسہ میں دشوار ہے الفاظ وعبارات کے مختصر اختلاف کے ساتھ اس حدیث مبارک کو جو نقل اقوال خاصہ وعامہ ہے تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے رسول اکرم(ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا “انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اھلبیتی لن یفترقا حتی یردا علی الحوض من توسل(تمسک) بھما فقد نجی ومن تخلف عنھا فقد ھلک ۔ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا ابدا “(یعنی بہ تحقیق میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ رہا ہوں ،اللہ کی کتاب(قرآن مجید) اور میری عترت و اہل بیت یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچ جائیں جو شخص ان دونوں سے توسل وتمسک رکھے گا وہ یقینا نجات یافتہ ہے اور جو شخص ان دونوں سے منہ موڑے گا تو وہ یقینا ہلاک شدہ ہے جب تک ان دونوں سے تمسک کروگے ہرگز کبھی گمراہ نہ ہوں گے )۔یہ ہماری ایک محکم دلیل ہے کہ ہم رسو ل (ص)کے حکم سے قرآن کریم اور اہل بیت طاہرین(ص) سے تمسک وتوسل رکھنے پر مجبور ہیں۔شیخ:- اس حدیث کو صالح بن موسی بن عبداللہ بن اسحق بن طلحہ بن عبداللہ القرشی التیمی،الطلحی نے اپنی سند کے ساتھ ابو ہریرہ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ ۔”انی قد خلفت فیکم ثنتین کتاب اللہ و سنتی ۔الی آخر”خیر طلب :- آپ نے پھر ایک طرفہ ایک بدکار ،متروک ، ضعیف اور ارباب جرح وتعدیل ، جیسے ذہبی ،یحیی ،امام نسائی ،بخاری ،اور ابن عبد ربہ وغیرہ کے نزدیک مردود فرد سے حدیث نقل کرکے وقت ضائع کیا ۔
جناب من!کیا آپ ہی کے اکابر علماء سے اس قدر معتبر روایتوں کا نقل کرنا آپ کے لئے کافی نہیں ہوا جو آپ اپنے نقاد علماء کے نزدیک ایسی ناقابل قبول حدیث کا سہارا ڈھونڈھا ؟ حالانکہ فریقین (سنی ،شیعہ)کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اکرم نے کتاب اللہ و عترتی فرمایا ہے نہ کہ سنتی کیونکہ کتاب وسنت دونوں اپنے لئے شارح چاہتی ہیں۔ اور جب سنت خود شارح کی محتاج ہے تو قرآن کی پوری شارح نہیں بن سکتی لہذا عدیل قرآن ،عترت اور اہل بیت ہیں جو قرآن کی تفسیر کرنے والے بھی ہیں اور سنت رسول(ص)ظاہر کرنے والے بھی ۔
حدیث سفینہاہل بیت رسول (ص) کے توسل پر ہماری دلیلوں میں سے معتبر حدیث سفینہ بھی ہے جس کو آپ کے بہت بڑے بڑے علماء نے تقریبا تواتر کی حد تک نقل کیا ہے ۔ جس قدر میرے پیش نظر ہے آپ کے سو100 نفر سے زیادہ اکابر علماء نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ،مثلا مسلم بن حجاج نے اپنی “صحیح “میں، امام احمد بن حنبل نے “مسند” میں،حافظ ابو نعیم اصفہانی نے “حلیۃ الاولیاء” میں، ابن عبد البر نے” استیعاب” میں ، ابو بکر خطیب بغدادی نے ” تاریخ بغداد” میں ، محمد ابن طلحہ شافعی نے” مطالب السئول” میں، ابن اثیر نے “نہایہ” میں ، سبط ابن جوزی نے” تذکرہ “میں، ابن صباغ مالکی نے “فصول المہمہ” میں ،علامہ نورالدین سمہودی نے “تاریخ المدینہ” میں، سید مومن شبلنجی نے “نور الابصار”میں، امام فخر الدین رازی نے “تفسیر مفا تیح الغیب”میں، جلال الدین سیوطی نے “در المنثور “میں امام ثعلبی نے “تفسیر کشف البیان” میں، طبرانی نے “اوسط”میں ،حاکم نے” مستدرک ” میں جلد سوم صفحہ 151 میں ،سلیمان بلخی حنفی نے “ینابیع المودۃ” باب 4 میں ،میر سید علی ہمدانی نے “مودت القربی ” مودت دوم میں ، ابن حجر مکی نے” صواعق محرقہ” ذیل آیت ہشتم میں ۔طبری نے اپنی “تفسیر اور تاریخ”میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے “کفایت المطالب “باب 233 اور آپ کے دوسرے بڑے بڑے علماء نے نقل کیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء نے فرمایا ” انما مثل اہلبیتی کمثل سفینۃ نوح من رکب نجی ومن تخلف عنھا ھلک”(یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کے مثل ہے کہ جو شخص پر سوار ہو ا اس نے نجات پائی ۔اور جس شخص نے اس سے روگردانی کی ہلاک ہوگیا)۔نیز امام محمد بن ادریس شافعی نے اپنے اشعار میں اس حدیث کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔چنانچہ علامہ فاضل عجیلی نے “ذخیرۃ المال میں ان کو اسطرح سے نقل کیا ہے ۔
ولمّا رایت النّاس قد ذھبت بھم ۔۔۔مذاھب ھم فی ابحر الغیّ والجھلرکبت علی اسم اللہ فی سفن النجاۃ۔۔۔وھم اھل بیت المصطفی خاتم الرّسلوامسکت حبل اللہ وھو ولاؤھم۔۔۔کما قد امرنا بالتمسک بالحبلاذا افترقت فی الدین سبعون فرقۃ۔۔۔وینفا علی ما جاء فی اصح النقلولم یک ناج منھم غیر فرقۃ ۔۔۔فقل لی بھا یا ذا الرجائۃ ولعقلانی الفرقۃ الھلاک آل محمد۔۔۔ام الفرقۃ اللاتی نجت منھم لی قلفان قلت فی النّاجین فالقول واحد۔۔۔وان قلت فی الھلاک حفت عن العدلاذا کان مولی القوم منھم فاننی۔۔۔رضیت بھم لا زال فی ظلّھم ظلّرضیت علیا لی اماما و نسلہ۔۔۔وانت من الباقین فی اوسع الحل
(جب میں نے لوگوں کو جہل گمراہی کے دریا میں غرق دیکھا تو خدا کے نام پر نجات کی کشتیوں میں بیٹھا جو خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفی کے اہل بیت ہیں ۔میں نے جہل خدا سے تمسک کیا جو اسی خاندان کی دوستی ہے جیسا کہ ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ اس حبل سے متمسک رہیں ۔جس وقت دین کے اندر ستر سے زیادہ فرقے پیدا ہوگئے جیسا کہ حدیث میں واضح طور پر آیا ہے اور ان میں سواایک کے کوئی ناجی نہیں ہے تو مجھے سے کہو کہ اے صاحب عقل ودانش ! کہ آیا خاندان رسالت اور آل محمد علیھم السلام کسی فرقہ میں سے ہیں؟یا نجات کی پانے والے حق فرقے کے افراد ہیں؟اگر یہ کہو کہ فرقہ ناجیہ میں ہیں تو ہمارا اور تمہارا قول ایک ہے اور اگر کہو کہ باطل ہونے والے فرقوں کے ساتھ ہیں تو تم صراط مستقیم سے منحرف ہو گئے ۔ اگر قوم کا سردار ان حضرات(ع) میں سے ہو تو میں بخوشی ان کی اطاعت کے لئے آمادہ ہو رہا ہوں ۔ان کا سایہ ہمیشہ سروں پر قائم ہے ۔میں علی اور ان کی اولاد علیھم السلام کی امامت پر راضی ہوں ۔ جو حق پر ہے اور تم باطل فرقوں میں رہو اس رو‌ز تک جب حقیقت ظاہر ہو جائے )اگر آپ ان کھلے ہو ئے اور وہ بھی اہل سنت و جماعت کے پیشوائے بزرگ امام شافعی کے اشعار پر پوری توجہ فرمائیں تو دیکھیں گے کہ وہ کیونک کر اس کا اقرار کر رہے ہیں کہ اس سے سفینے کی سواری اور اس پاک خاندان سے تمسک اور تو سل ذریعہ نجات ہے کیونکہ امت مرحومہ کے بہتر فرقوں میں سے ناجی فرقہ صرف وہی ہے جو آل محمد (ع) کے دامن سے متمسک اور متوسل ہے اور ادربس چنانچہ شیعہ خود رسول اللہ (ص) کے حسب الحکم خدا کی طرف اسی خاندان جلیل کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں ایک بات اور یاد آگئی کہ اگر آپ کے قول کے مطابق انسان واسطے اور وسیلے کا محتاج نہیں ہے اور بارگاہ خداوندی میں اگر وسیلے کے ساتھ فریاد و استغاثہ بلند کرے تو گنہگار اور مشرک ہوگا ۔تو پھر خلیفہ عمر الخطاب کس لئے احتیاج اور اضطرار کے موقع پر واسطے کے ساتھ خدا کی طرف رجوع کرتے تھے اور اس طرح استغاثہ کر کے کامیابی حاصل کرتے تھے ؟حافظ:- ہرگز خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے واسطے کے ساتھ کوئی عمل انجام نہیں دیا اور یہ پہلا موقع ہے جب میں ایسے الفاظ سن رہا ہوں گزارش ہے کہ اس کا مجمل بیان فرمائیے ۔خیرطلب:- خلیفہ احتیاج کے مواقع پر بار بار اہل بیت رسالت (ع) اور آنحضرت کی عترت طاہرہ کا وسیلہ ڈھونڈ ھتے رہتے تھے اور انہیں کے توسل سے خدا کی طرف رجوع کرکے مطلب حاصل کرتے تھے وقت کا لحاظ رکھتے ہوئے صرف دو موقعے نمونے کے طور پر پیش کرتا ہوں ۔(پہلا)ابن حجر مکی ،صواعق محرقہ میں آیۃ نمبر14 کے بعد تاریخ دمشق سے نقل کرتے ہیں کہ سنہ 17 ہجری میں دعائے بارش کے لئے لوگ کئی مرتبہ نکلے لیکن کوئی نتیجہ نہیں ہو ا سب بہت متاثر اور پریشان ہوئے تو عمر ابن الخطاب نے کہا کہ اب میں کل ضرور بالضرور اس شخص کے وسیلے سے طلب باران کروں گا جس کے واسطے سے حتمی طور پر خدا ہم کو پانی دے گا۔ دوسرے دن صبح کو خلیفہ عمر آن حضرت صلعم کےچچا عباس کے پاس گئے اور کہا “اخرج بنا حتی نستسقی اللہ بک ” (ہمارے ساتھ باہر چلو تا کہ ہم بارگاہ الہی میں تمہارے وسیلے سے پانی طلب کریں۔جناب عباس نے فرمایا تھوڑی دیر بیٹھ جاؤ تاکہ میں وسیلہ مہیا کر لوں ،پھر کسی کو بھیج کر بنی ہاشم کو اطلاع دی کہ اور پاک لباس پہن کے خوشبو لگا کے اس صورت سے باہر آئے کہ علی علیہ السلام عباس کے آگے امام حسن علیہ السلام داہنی طرف، امام حسین علیہ السلام بائیں طرف اور دوسرے بنی ہاشم پیچھے پیچھے تھے اس وقت فرمایا کہ اے عمر کسی اور شخص کو ہمارے ساتھ شامل نہ کر ۔چنانچہ اسی حالت سے مصلے تک پہنچے اور جناب عباس نے مناجات کے لئے ہاتھ کو بلند کر کے عرض کیا ۔پروردگار ا ! تو نے ہم کم خلق فرمایا اور جو کچھ ہم عمل کرتے ہیں تو اس سے واقف ہے پھر عرض کیا کہ “اللھم کما تفضلت علینا فی اولہ فتفضل علینا فی آخرہ” (یعنی پر وردگار جس طرح تو نے ابتدا میں ہم پر فضل کیا ہے اسی طرح آخر میں ہمارے اوپر تفضل فرما)جابر کہتے ہیں ان کی دعا تمام نہ ہوئی تھی کہ بادل آنا شروع ہوئے اور پانی برسنے لگا ۔ ابھی ہم لوگ گھروں تک نہیں پہنچے تھے کہ بارش سے بھیگ گئے ۔نیز بخاری سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ قحط کے زمانہ میں عمر ابن خطاب عباس ابن عبد المطلب کے وسیلے سے بارگاہ خداوندی میں پانی کے لئے دعا کر رہے تھے اور کہتے تھے “اللھم انا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا فیسقون” یعنی خداوندا ہم تیری طرف عم رسول (ص) کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں ہم کو سیراب کردے ،چنانچہ ان لوگوں پر نزول باراں ہوا)(دوسرا)ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ (مطبوعہ مصر) جلد دوم صفحہ 256 میں نقل کرتے ہیں کہ خلیفہ عمر جناب عباس عم رسول(ص) کے ہمراہ استسقاء کے لئے گئے اور اس طرح دعا کی “اللھم انا نتقرب الیک بعم نبیک وبقیۃ آبا ئہ وکبر رجالہ فاحفظ اللھم نبیک فی عمہ فقد ولونا بہ الیک مستشفعین ومستغفرین “(یعنی خداندا ! ہم تیری طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں تیرے پیغمبر کے چچا اور ان کے آباء اور بزرگ مردوں میں سے باقی ماندہ کے ذریعے سے ، پس اپنے پیغمبر کی منزل ان کے چچا کے بارے میں محفوظ رکھ کیونکہ ہم نے ان کی وجہ سے تیری طرف ہدایت پائی تاکہ شفاعت طلب کریں اور اسغفار کریں۔حضرات اہل سنت اور پیروان خلیفہ عمر کے حالات تو اس مشہور مثل کے مطابق ہیں کہ “کاسہ گرم تر از آش ” “یعنی شوربے سے زیادہ پیالہ گرم ” کیونکہ خلیفہ عمر دعا اور احتیاج واضطرار کے وقت عترت و اہل بیت رسول(ص) کو اپنا شفیع قرار دیتے ہیں اور ان کے وسیلے سے بارگاہ الہی میں طلب حاجت کرتے تھے تو ان پر کوئی اعتراض نہیں ۔لیکن جس وقت ہم شیعہ اس برگزیدہ خاندان کو شفیع بناتے اور ان کا توسل اختیار کرتے ہیں تو ہم کو سخت اعتراض کے ساتھ کافر ومشرک کہا جاتا ہے ۔اگر آل محمد (ص)اور عترت طاہرہ کو خدا کی طرف شفیع قرار دینا شرک ہے تو آپ ہی کے علماء کی روایتوں کے مطابق خلیفہ عمر ابن خطاب قطعا سب سے پہلے مشرک ٹھہرتے ہیں اور اگر خلیفہ کا وہ عمل شرک نہیں تھا بلکہ بہترین کام تھا ۔(کیونکہ خلیفہ نے اس کاانتخاب کیا تھا)تو یقینا شیعوں کے اعمال اور آل محمد علیھم السلام سے ان کا توسل ہرگز شرک نہیں ہو سکتا ۔لہذا آپ حضرات کو چاہیے کہ قطعی طور پر اپنی یہ باتیں چھوڑیں بلکہ استغفار کریں (کیونکہ بے لوث اور موحد شیعوں کی طرف ایسی غلط نسبت دی ہے )تاکہ غضب الہی کے مستحق نہ بنیں اس لئے کہ جب خلیفہ عمربزرگان صحابہ کی ہمراہی میں بھی چا ہے جس قدر دعا کریں لیکن بغیر اہل بیت رسول کے وسیلے کے کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو آپ کیونکر امید رکھتے ہیں کہ ہم بغیر واسطے اور سہارے کے دعا کرکے کامیاب ہو جائیں گے ۔پس آل محمد سلام اللہ علیھم اجمعین عہد رسول (ص) سے لے کر ہمارے موجودہ زمانے تک ہر دور میں خدا کی طرف بندوں کے وسیلے تھے اور ہیں اور ہم لوگ بھی حاجت روائی میں ان کی خود مختاری کے قائل نہیں ہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کو خدا کے صالح بندے برحق امام اور درگاہ خدا میں مقرب سمجھتے ہیں لہذا اپنے اور خدا کے درمیان واسطہ قرار دیتے ہیں۔اس مقصد پر سب سے بڑی دلیل ہماری دعاوؤں کی کتابیں ہیں کیونکہ ائمہ معصومین علیھم السلام سے تمام ماثورہ اور دعاوؤں میں ہم جو کچھ میں نے عرض کیا ہے اس کے علاوہ کوئی اور ہدایت ہی نہیں دی گئی ہے اور ہم نے بھی اس طریقے کے خلاف نہ کوئی عمل کیا ہے اور نہ کر یں گے ۔
حافظ :- آپ کے یہ بیانات ہماری سنی ہوی باتوں کے خلاف ہیں ۔
خیر طلب :- اپنی سنی ہوئی باتوں کو چھوڑیئے اور مشاہدات کا ذکر کیجیئے ۔کیا آپ نے ہمارے بڑے علماء کی کچھ معتبر کتب ادعیہ کا مطالعہ کیا ہے ؟
حافظ :- نہیں مجھ کو موقع نہیں ملا ۔خیر طلب:-مناسب یہ تھا کہ پہلے آپ اس قسم کی کتابیں ملاحظہ فرما لیتے اس کے بعد اعتراض فرماتے اس وقت دعا وزیارت کی دو کتابیں میرے ہمراہ ہیں ۔ ایک علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی تالیف ، زاد المعاد ،اور دوسری “ہدیۃ الزائرین ” مؤلفہ فاضل محدّث وعالم متبحر آقائی حاج شیخ عباس قمی دامت برکاتہ یہ مطالعے کے لئے حاضر ہیں (میں نے دونوں جلدیں مولوی صاحبان کی خدمت میں پیش کریں ۔اور انہوں نے دیکھنا شروع کیا ،ادعیہ توسل کو پڑھا اور غور کیا لیکن کسی مقام پر خاندان رسالت کے لئے خود مختاری کا ذکر نہیں کیا بلکہ ہر جگہ ان کو واسطہ کہا گیا ہے اس وقت مولوی سید عبد الحیی نے دعائے تو سل کو جو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بسلسلہ محمد ابن بابویہ قمی علیہ الرحمہ ائمہ طاہرین سلام اللہ علیھم اجمعین نے نقل کی ہے نمونے کے طور پر آخر تک پڑھی جس کا شروع یہ ہے ۔
دعائے توسلاللھم انّی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک نبی الرحمۃ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ یا ابا القاسم یا رسول اللہ یا امام الرحمۃ یا سیدنا ومولانا انّا توجھنا و استشفعنا وتوسلنا بک الی اللہ وقد مناک بین یدی حاجاتنا یا وجیھا عند اللہ اشفع لنا عند اللہ ٭ یا ابا الحسن یا امیر المومنین یا علی ابن ابی طالب یا حجۃ اللہ علی خلقہ یا سیدنا و مولانا انّا توجھنا واستشفعنا و توسلنا بک الی اللہ وقدمناک بین یدی حاجاتنا یا وجیھا عنداللہ اشفع لنا عند اللہ ۔جس نوعیت سے امیر المومنین علیہ السلام کو خطاب کیا گیا ہے اس کے بعد اسی طرح سے کل ائمہ معصومین علیھم السلام کے لئے بھی ہے اور خطاب میں ان کو یا حجۃ اللہ علی خلقہ کہا جاتا ہے یعنی اے حجت خدا خلق خدا پر۔۔۔۔ آخر دعا تک ائمہ طاہرین میں سے ایک ایک کا نام لے کر توسل اختیار کیا گیا ہے اور اس طریقے سے مخاطب کیا گیا ہے کہ اے ہمارے سید مولا ہم آپ کے وسیلے سے خدا کی طرف توجہ وتوسل اور طلب شفاعت کرتے ہیں ،اے خدائے تعالی کے نزدیک صاحب عزت بارگاہ الہی میں ہماری سفارش فرمائیے ۔یہاں تک کہ آخر دعامیں سارے خاندان رسالت کو مخاطب کرکے کہا ہے ۔”یا ساداتی وموالی انی توجھت بکم ائمتی وعدتی لیوم فقری وحاجتی الی اللہ وتوسلت بکم الی اللہ واستشفعت بکم الی اللہ فاشفعوا لی عنداللہ و استنقذونی من ذنوبی عند اللہ فانّکم وسیلتی الی اللہ وبحبکم وبقربکم ارجو نجاۃ من اللہ فکونوا عند اللہ رجائی یا ساداتی یا اولیاء اللہ۔”جس وقت وہ حضرات یہ دعائیں پڑھ رہے تھے بعض مہذب اور محترم سنی حضرات ہاتھ مارتے تھے ،اور باربار کہتے تھے “لا الہ الا اللہ سبحان اللہ ” کس طرح سے غلط فہمی پھیلاتے ہیں۔(میں نے کہا)میں آپ حضرات سے انصاف چاہتا ہوں ۔ان دعاو‏ؤں کی عبارتوں میں کس مقام پر شرک کے آثار پائے جاتے ہیں ؟کیاہر جگہ خدائے تعالی کامقدس نام موجود نہیں ہے ؟ ہم نے دعا کی کون سی عبارت میں ان حضرات کو باری تعالی کا شریک قراردیا ہے ؟ آخر کس لئے آپ ہم لوگوں پر تہمت لگاتے ہیں کس وجہ سے موحد مسلمانوں کو غالی اور مشرک کہتے ہیں ؟ کس غرض سے مسلمانوں کے دلوں میں بغض وعداوت کا بیج بوتے ہیں ؟کس مقصد سے ناواقف لوگوں کی نظر میں حقیقت کو مشتبہ بناتے ہیں ؟تاکہ وہ اپنے دینی ایمانی بھایئوں کو کافر سمجھیں ۔آپ کے کتنے ناواقف اور متعصب عوام بیچارے شیعوں کو اسی خیال سے قتل کرتے ہیں کہ ہم ایک کافر کو قتل کیا لہذا جتنی ہوگئے ایسے امور کا مظلمہ آپ ہی جیسے علماء کی گردنوں پر ہے ۔بات یہ ہے کہ شیعہ علماء او رمبلغین زہر نہیں پھیلاتے ۔شیعہ اور سنی کے درمیان عداوت کا بیج نہیں بوتے اور قتل نفس کو گناہ عظیم سمجھتے ہیں ،ہم شیعہ اور سنی کے درمیان ما بہ اختلاف مسائل کو علم ومنطق کی روشنی مین بیان کرکے ان کو حقیقت مذہب سے باخبر کرتے ہیں لیکن گفتگو کے ضمن میں ان کو یہ بھی سمجھا دیتے ہین کہ سنی ہمارے مسلمان بھائی ہیں لہذا شیعہ جماعت کو ان کی طرف کینے اوردشمنی کی نظر سے نہ دیکھنا چاہیئے بلکہ برادرانہ طریقے سے آپس میں متحد رہنا چاہیئے تاکہ ہم سب مل کر لا الہ الا اللہ کاپرچم بلند کریں۔لیکن اس کے برعکس متعصب سنّی علماء کے طرز عمل سے ہم کو افسوس ہوتا ہے کہ ابو حنیفہ ،مالک ابن انس، محمد ابن ادریس شافعی اور احمد ابن حنبل کے پیروؤں کو باوجود یکہ ان کے درمیان کثیر اصولی اور فروعی اختلافات ہیں ہر مقام پر آزادی دیتے ہیں اور مسلمان بھائی کہتے ہیں لیکن علی ابن ابی طالب اور امام صادق آل محمد علیھما السلام جو عترت و اہل بیت رسالت ہیں ،ان کے پیروؤں کو غالی ،مشرک اور کافر نامزد کرتے ہیں اور ان کی آزادی سلب کرتے ہیں تاکہ سنی ممالک کے اندر ان کی جان ومال محفوظ نہ رہے ،کتنے زیادہ ہیں کہ ایسے صاحبان علم وتقوی شیعہ جو سنی علماء کے فتوے سے شہید کئے گئے لیکن اس کے برعکس ایسا عمل شیعہ علماء کی طرف سے کیا بلکہ عوام شیعہ کی جانب سے بھی جن سے اس کا انجام پانا زیادہ سہل ہے کسی جاہل سنی کے لئے بھی صادر نہیں ہوا ہے آپ کے علماء بالعموم شیعوں پر لعنت کرتے ہیں لیکن شیعہ علماء کی کسی کتاب میں یہ نہیں دیکھا گیا ہے کہ انہوں نے اہل تسنن لعنھم اللہ لکھا ہو۔
حافظ:- آپ زیادتی کر رہے ہیں ،کون سا صاحب علم وتقوی شیعہ ہمارے علماء کے فتوے سے قتل ہوا ہے ہے کہ آپ بلا وجہ جو ش دلا رہے ہیں؟اور کس نے ہمارے علماء میں سے شیعوں پر لعنت کی ہے ۔
خیرطلب :- اگر آپ کے علماء اور عوام کے حرکات تفصیل سے بیان کرنا چاہوں تو ایک نشست نہیں بلکہ کئی مہینے درکار ہوں گے لیکن نمونے اور اثبات کے لئے ان کے بعض اعمال اور اطوار کی طرف جو تاریخ کے صفات پر نقش ہیں کئے دیتا ہوں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ جوش نہیں دلاتا ہوں بلکہ حقیقت پیش کرتا ہوں ۔اگر آپ بڑے بڑے متعصب علماء کی کتابیں غور سے مطالعہ کیجئے تو لعنت کے مواقع خود ہی نظر آجائیں گے نمونے کے طور پر تفسیر امام فخر الدین رازی کی جلدیں ملاحظہ فرمائیے کہ جس جگہ ان کو موقع ہاتھ آیا ہے جیسے” آیت ولایت و اکمال الدین” وغیرہ کے ذیل میں مکرر ومکرر لکھتے ہیں۔”و اما الرافضۃ لعنھم اللہ ھؤلاء الرافضۃ لعنھم ۔۔۔۔اما قول الروافض لعنھم اللہ “لیکن کسی شیعہ عالم کے قلم سے عام بردران اہل سنت کے لئے بلکہ خاص صورت میں بھی ان کے لئے ایسی عبارتیں نہیں نکلی ہیں۔
اس جماعت کے فتوے سے شہید اول کی شہادتشیعہ ارباب علم کے ساتھ آپ کے علماء کی دردناک بدسلوکیوں میں سے ایک وہ عجیب وغریب فتوی ہے جو ایک بہت بڑے شیعہ فقیہ کے واسطے شام کے دوبڑے قاضیوں (برہان الدین مالکی و عباد بن الجماعۃ الشافعی) کی طرف سے صادر ہوا تھا وہ بزرگ فقیہ جو زہد وورع ،تقوی اور علم وتفقہ میں سارے اہل زمانہ کے سردار تھے ۔ ابواب فقہ پر احاطہ رکھنے میں اپنے دور کے اندر جواب نہیں رکھتے تھے ان کی فقہی مہارت کا ایک نمونہ کتاب لمعہ ہے جو (بغیر اس کے کہ سوا “مختصر نافع” کے اور کوئی فقہی کتاب آپ کے پاس موجود رہی ہو) صرف سات روز کے اندر تصنیف فرمائی اور حنفی ، مالکی ،شافعی اور جنبلی چاروں مذہب کے علماء ان کے حلقہ تلامذہ میں داخل ہو کر فیض علم سے سیراب ہوتے تھے جناب ابو عبداللہ محمد بن جمال الدین مکو عاملی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔باوجودیکہ سنیوں کی سخت گیری کی وجہ سے آپ زیادہ تر تقیہ میں رہتے تھے ۔اور با الاعلان تشیع کا اظہار نہیں فرماتے تھے لیکن پھر بھی شام کے بڑے قاضی “عباد بن الجماعۃ” نے ایسے عالم ربانی سے حسد کابرتاؤ کرتے ہوئے والی شام (بید مر) کے پاس ان کی چغلی کھائی اور رفض و تشیع کا الزام لگا کر اس فقیہ عالم کوگرفتارکروایا ۔ ایک سال تک قید خانہ میں سخت تکلیفیں دینے کے بعد 9 یا 19 جمادی الاولی سنہ786 میں انہیں دو بڑے سنی قاضیوں (ابن الجماعۃ وبرہان الدین )کے فتوے سے پہلے آپ کو تلوار سے قتل کیا پھر آپ کا جسم سولی پر چڑھا یا گیا اس کے بعد انہیں دونوں کی تحریک سے اس نام پر ایک رافضی مشرک سولی کے اوپر ہے عوام نے آپ کے بدن کوسنگ سار کیا ۔پھر نیچے اتار کر آگ سے جلایا اور خاکستر ہوا میں اڑادی۔
خیر طلب کا اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کاتذکرہ٭٭٭(((ان قابل ذکر واقعات میں سے جنہوں نے مجھ پر ان تاریخی وقائع کو ثابت کردیا ایک دفعہ یہ بھی ہے جسکو میں اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کرتا ہوں ۔19جمادی الثا نیۃ سنہ 1371ھ میں جب میں زیارت بیت المقدس سے واپس ہو کر دمشق جارہا تھا ۔ ابتدائے شب میں شرق اردن کی مسجد جامع عمان میں (جو بہت خوبصورت مسجد ہے) نماز پڑھنے پہنچا ،اہل سنت مسلمانوں کی جماعت نماز ختم کرچکی تھی ۔کچھ لوگ جارہے تھے اور بعض لوگ ابھی نوافل پڑھنے میں مشغول تھے ، میں بھی مسجد کے ایک گوشہ میں جاکر فریضہ مغرب وعشاء اداکرنے میں مصروف ہوا ۔فریضہ اور نوافل سے فارغ ہونے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ ان میں سے بعض لوگ مجھ پر غضبناک ہیں خصوصا وہ عالم جوچند اشخاص کے ساتھ قر‏اءت قرآن میں مشغول تھے اور میری طرف شدید غصہ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے میں تعقیبات ختم کرکے مسجد سے باہر نکل آیا اور گیراج میں جاکر موٹرچھو ٹنے کا انتظار کرنے لگا کھانا کھانے کے بعد جب مسجد میں نماز عشاءکی آذان شروع ہوئی تو مجھ کو خیال ہوا کہ روانہ ہونے کے بعد ممکن ہے موٹر راستہ میں نہ ٹھہرے اور نوافل شب پڑھنے کاموقع نہ ملے لہذا بہتر ہے کہ ابھی فراغت ہے مسجد میں جا کر نافلے ادا کرلوں پھر اطمینان سے سفر کی تیاری کروں ،چنانچہ تجدید وضو کرکے مسجد گیا اور عام بڑے پھاٹک سے داخل نہیں ہوا بلکہ عمارت کے آخری مغربی گوشے کے دروازے سے جاکر ایک بڑے ستون کے پہلو میں جو ایک اندھیری جگہ تھی وہاں جاکر مصروف نماز ہوا میں نے دیکھا کہ وہ عالم جو ایک گھنٹہ پہلے قراءت میں مشغول تھے اور غصے سے مجھ کو گور رہے تھے۔نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو جمع کئے ہوئے اور ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے شرک اور مشرک کے بارے میں تقریر کر رہے ہیں ۔مقدمات کے بعد سلسلہ کلام اس مقام تک پہنچا کہ انتہائی جو ش اور سخن کے ساتھ کہا کہ تم سب مسلمانوں کو قیامت کے روز بازپرس کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اور جواب دینا پڑے گا ۔اس لئے کہ خدا نے فرمایا ہے مشرکین نجس ہیں ان کو مسجد میں نہ آنے دو لیکن ابھی ایک گھنٹہ پہلے ایک مشرک بت پرست نجس مسجد میں گھس آیا ہمارے سامنے بت کا سجدہ کیا اور تم لوگوں نے اس کو سزا نہیں دی میں قراءت میں مشغول تھا مگر تو لوگ کیامرگئے تھے ؟ کیا تمہارا فرض نہیں تھا کہ شرک کی نجاست کو مسجد سے دور کرتے اور بت پرست مشرک رافضی کو دفع کرتے یا اس کو قتل کردیتے کیونکہ اگر مشرک مسلمانوں کی مسجد میں بت پرستی کرے تو اس کو قتل کردینا واجب ہے ،بہر حال اپنی پر جوش تقریر سے ناواقف لوگوں کے جذبات اس طرح سے ابھارے کہ اگر میں اس جگہ موجود ہوتا تو یقینا قتل کردیا جاتا ۔تقری ختم ہونے کے بعد آدھے لوگ باہر جانے کے لئے عمارت کے آخری دروازے کے پاس آئے ، میں نماز وتر پڑھ رہا تھا چنانچہ بیٹھ گیا تاکہ ان لوگوں توجہ نہ ہو ،لیکن دفعتا میرے اوپر ان کی نظر پڑگئی ،فورا حملہ کرکے چاروں طرف سے گھیر لیا، بے شمار لاتیں اور گھونسے مجھ پر پڑرہے تھے اور برابر کہتے جاتے تھے کہ اٹھ اے مشرک !نکل اے مشرک! میں اپنی زندگی سے باکل مایوس ہو چکا تھا یہاں تک تشہد کا موقع آیا اور میں نے کہا” اشھد ان لا الہ الاّ اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ ” اب ان کے درمیان اختلاف پید ا ہوگیا آپس میں کہنے لگے کہ یہ کیسا مشرک ہے جو وحدانیت خدا اور رسالت خاتم الانبیاء کی شہادت دے رہا ہے ؟ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم نہیں جانتے قاضی کہتا تھا کہ یہ رافضی ہے اور مشرک ہے اور قاضی کی بات غلط ہوسکتی ہے وہ لوگ بحث اور اختلاف میں مصروف تھے اتنے میں میں نس سلام پڑھ کر کے نماز ختم کی کچھ جان میں جان آئی ،ہمت کرکے دفاع کے لئے آمادہ ہوا اور عربی زبان میں ایک مفصل تقریر کرکے جس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں ان کو قائل اور لاجواب کیا اور اپنا ہمدرد بنایا اور اس ناخداشناس قاضی کو ایک جاسوس ثابت کیا جو مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر ظالم بیگانوں کو اہل اسلام پر غالب ،حاکم بنانے کے اسباب مہیا کرنا چاہتا ہے ۔خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے مجھ سے معذرت کی یہاں تک مجھ کو مہمان کرنے کیلئے سخت اصرار کیا لیکن میں نے یہ عذر کر کے سفر کے لئے بلکل تیار ہوں ان سے رخصت لی اور روانہ ہوا ۔یہ تھا ایک نمونہ علمائے اہل سنت کے ان سینکڑوں اقدامات میں سے جس میں انہوں نس ہمارے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے معاملہ کو الٹ کے پیش کیا ہے اور مظلوم مسلمانوں کے قتل و اہانت کا بھی باعث ہوتا ہے ۔)))٭٭٭
“قاضی صیدا” کی بد گوئی سے شہید ثانی کی شہادتدسویں صدی ہجری میں بلاد شام کے اندر شیعہ علماء اور مفاخر فقہاء میں سے شیخ اجل فقیہ بے نظیر” زین الدین ابن نور الدین علی ابن احمد بن عاملی قد سّ سرّہ” تھے جو علم و فضل وزہد و روع اور تقوی میں دوست دشمن سبھی کے مرکز توجہ اور کافی شہرت کے مالک تھے ۔باوجودیکہ شب و روز تالیف وتصنیف میں مصروف رہتے تھے ۔ اور ہمیشہ گوشہ نشینی کی زندگی بسر کر تے تھے آپ نے مختلف علوم میں اپنے قلم سے دو سو سے زیادہ کتابیں چھوڑدیں لیکن لوگوں سے اس کنارہ کشی کے بعد بھی علمائے اہل سنت کو عداوت پیدا ہوئی اور آپ کی مقبولیت سے ان کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی خصوصا بڑے قاضی” صیدا “نے بادشاہ آل عثمان “سلطان سلیم” کے پاس ایک شکایت نامہ اس عنوان کے ساتھ لکھا کہ “انہ قد وجد ببلاد الشام رجل مبدء خارج من المذاھب الاربعۃ “(یعنی یقینی طور پر ثابت ہوا ہے کہ بلاد شام کے اندر ایک بدعتی شخص موجود ہے جوچاروں مذہبوں سے خارج ہے )۔”سلطان سلیم” کی طرف سے ان عالم ،فقیہ کے لئے حکم صادر ہوا کہ پیشی کے لئے اسلامبول میں حاضر کئے جائیں ۔چنانچہ مسجد الحرام کے اندر ان جناب کو گرفتار کرکے چالیس روزتک مکہ معظمہ میں قید رکھا اس کے بعد دریائی راستہ سے دار السلطنت “اسلامبول “کی طرف روانہ کیا لیکن دربار تک پہنچنے سے پہلے ہی ساحل دریا پر آپ کا سر مبارک کاٹ کے جسم کو دریا میں پھینک دیا اور سر بادشاہ کے پاس بھیج دیا۔
محترم حضرات !آپ کو خدا کی قسم انصاف کیجئے او رعادلانہ فیصلہ کیجئے ! بھلا کسی تاریخ میں آپ نے پڑھا ہے یا سنا ہے کہ علمائے شیعہ کی جانب سے کھبی کسی سنی عالم بلکہ عام انسان کے لئے بھی ایسی بدنیتی اور بد کرداری کا مظاہرہ ہواہو اور اس جرم میں کہ وہ شیعہ مذہب سے الگ ہے تو اس کو قتل کردیا ہو؟ خدا کے لئے بتائیے یہ بھی جرم وگناہ ہوگیا کہ وہ چاروں مذاہب سے خارج ہے آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص چاروں مذہبوں(حنفی،مالکی، شافعی،حنبلی)سے انحراف کرے تو کافر ہے اور اس کاقتل واجب ہے ؟آیا جو مذاہب صدیوں کے بعد رائج ہوئے ان کی اطاعت واجب ہے لیکن جو مذہب رسول خدا(ص)کے زمانے سے مرکز توجہ تھا وہ باعث کفر اور اس کے پیروؤں کاخون بہانا جائز ہے ؟خدا کے لئے سچ بتائیے کہ ابو حنیفہ یا مالک ابن انس یا شافعی یا امام احمد بن حنبل کیا رسول اللہ (ص)کے زمانے میں تھے ؟اور اپنے مذہب کے اصول وفروع بلاواسطہ آنحضرت (ص) سے اخذ کئے تھے ؟۔
حافظ:- ایسا دعوی تو کسی نے نہیں کیا کہ ائمہ اربعہ نے آں حضرت(ص) کی مصاحبت کا شرف حاصل کیا ہو۔
خیرطلب:- آیا امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیھما السلام صحبت میں بیٹھے اور آں حضرت کے علم کا دروازہ تھے یا نہیں ؟
حافظ:- یہ تو بدیہی بات ہے کہ کبار صحابہ میں سے بلکہ بعض حیثیتوں میں ان سے افضل تھے ۔
خیرطلب:-تو اس قاعدے کی رو سے اگر ہم کہیں کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی پیروی اس لحاظ سے واجب ہے کہ پیعمبر (ص)نے فرمایا علی(ع) کی اطاعت میری اطاعت ہے اور آپ آں حضرت (ص)باب علم تھے ،آن حضرت (ص)نے امت کو حکم دیا ہے کہ جو شخص میرے علم سے بہرہ اندوز ہونا چاہتا ہے اس کو چاہیئے کہ علی (ع) کے دروازے پر چلے جائے۔ تو ہمارہ یہ دعوی سچا ہوگا۔ اور اگر ہم کہیں کہ مذہب شیعہ جو عین محمدی مذہب ہے ،اس لئے کہ خاتم الانبیاء نے اس کے پیشواؤں کو عدیل قرآن فرمایا ہے اور ان سے روگردانی کو موجب ہلاکت قرار دیا جیسا کہ حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ سے جو متفق علیہ فرقین(شیعہ وسنی) ہیں، سے ثابت ہے ۔چنانچہ اس سے قبل ان کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے اس سے انحراف بدبختی کا باعث ہے تو ہم حق پر ہوں گے اور ہم دلیل کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں۔کہ عزت طاہرہ کی نافرمانی گویا حکم رسول(ص) سے سرکشی ،صراط مستقیم سے علیحدگی اور حبل المتین سے جدائی ہے ۔اس کے باوجود علماء شیعہ کی طرف سے کسی جاہل اہل سنت کی نسبت بھی ایسے حرکات سرزد نہیں ہوئے نہ کہ ان کے عالموں کے لئے ہم نے جماعت شیعہ کو ہمیشہ یہی تعلیم دی ہے کہ اہل سنت ہمارے مسلمان بھائی ہیں ۔لہذا ہم سب کو آپس میں متحد او ر متفق رہنا چاہئیے، لیکن اس کے خلاف آپ کے علماء برابر مومن و موحد پاک دامن اور اہل بیت رسالت کے پیروشیعوں کو اہل بدعت،رافض،غالی،یہودبلکہ کافر ومشرک کہتے رہتے ہیں اور اس جرم میں فقہا ئے اربعہ ابو حنیفہ ،مالک ابن انس ،محمد ابن ادریس شافعی ،احمد ابن حنبل میں سے کسی ایک کی تقلید کیوں نہیں کرتے ان کو کافر او ر رافضی بناتے ہیں ۔ اور ان کے پاس کوئی دلیل بھی موجود نہیں ہے کہ مسلمان لازمی طور پر ان چار وں میں سے کسی ایک کی پیرو ی کرنے پر مجبور ہیں ،حالانکہ اس کے برعکس جو لوگ حکم رسول سے اہل بیت رسالت اور عترت طاہرہ کی پیروں کرتے ہیں اور حقیقت میں وہی نجات پانے والے ہیں۔انہی بے جا فتاوی اور بیہودہ قسم کی گفتگو سے انہوں نے اپنے عوام کے ہاتھوں میں ایک بہانہ دے دیا کہ جب بھی موقع ہاتھ آئے وہ ساری حرکتیں جو کفار کے ساتھ ہونا چاہیے بلکہ ان سے بھی بد تر مومن و موحد شیعوں کے ساتھ عمل میں لائی جائیں جیسے قتل وغارت اور ناموس اور ناموس کی ہتک حرمت وغیرہ ۔
شہید ثالث کی شہادتان منحوس واقعات کے غم انگیز خطوں میں سے آگرے کا قبرستان بھی ہے اسی سفر کے سلسلہ میں جس وقت میں وہاں پہنچا تو خدا ہی جانتا ہے کہ متعصب لوگوں کی حماقتوں اور جہالتوں سے کس قدر متاثر ہو ا خصوصا جس وقت صاحب علم وتقوی بے نظیر فقیہ وعالم اور رسول اللہ(ص)کے پارہ تن “قاضی سید نوراللہ شوستری قدس سرّہ” کی زیارت سے مشرف ہو ا کیونکہ آپ بھی ملت اسلامی کے تعصب وعناد کی قربانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے سنہ 1019 ھ میں اس زمانے کے بڑے بڑے عالموں کی مخالفانہ کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان کے جاہل ومتعصب مغل باشاہ “جہانگیر”کے حکم سے رفض اور تشیع کے الزام پر خود سنی علماء کے ہاتھوں 70 سال کے سن میں شربت شہادت نوش فرمایا ۔آپ کو خود معلوم ہے کہ آگرے میں ان بزرگوار سید جلیل القدر عالم کی قبر پر آج تک شیعہ مسلمانوں کی زیارت گاہ ہے ۔ان کے سنگ قبر پر “جومرمر سے بنا ہوا ہے ” میں نے دیکھا کہ سنگ سیاہ سے نقش کیا ہوا ہے ۔
ظالمی جفائے نوراللہ کرد——-قرۃ العین نبی را سر بریدسال قتلش حضرت ضامن علی——-گفت نوراللہ شد شہید
حافظ:- آپ بلاوجہ ہم کو مورد الزام قراردیتے ہیں کیوں کہ جہال اور عوام کی زیادتیوں اور جفاکاریوں اور ان لوگوں کے افعال سے جن کا آپ نے ذکر کیا درحقیقت میں خود بہت متاثر ہوں لیکن شیعوں کے اعمال بھی تو اس کے لئے معاون ہوتے ہیں ۔اور ان کو ایسی حرکتوں پر ابھارتے ہیں۔
خیرطلب :- شیعوں کے کون سے ایسے اعمال سرزد ہوتے ہیں جو ان کے قتل وغارت اور ہتک عزت کے باعث ہو سکیں ؟
حافظ:- ایک ایک دن میں ہزاروں افراد مردوں کی قبروں کے سامنے کھڑے ہوکر ان سے حاجتیں طلب کرتے ہیں، کیا شیعوں کا طریقہ مردہ پرستی نہیں ہے ؟ علما ، آخر کس لئے ان کو منع نہیں کرتے کہ مردوں کی زیارت لے نام پر کروڑوں اشخاص ان کی قبروں کے سامنے چہرہ خاک پر رکھ کے اور سجدہ کرکے مردہ پرستی کرتے ہیں ۔اور پاک نفس لوگوں کے ہاتھوں میں ایک بہانہ دے دیتے ہیں تاکہ وہ زیادتیاں کریں اور تعجب تو یہ ہے کہ آپ ان اعمال کا نام توحید کہتے ہیں اور اس قسم کے اشخاص کو موحد کہتے ہیں ۔
جب ہم لوگ مشغول اور سرگرم گفتگو تھے تو حنفی فقیہ مولوی شیخ عبدا لسلام کتاب ہدیۃ الزائرین کے جو ان کے سامنے رکھی ہوئی تھی اس طرح ورق الٹ رہے تھے اور مطالعہ کر رہے تھے جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کوئی اعتراض کا پہلو پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں ،جب حافظ صاحب کا کلام یہاں تک پہنچا تو انہوں نے سر اٹھایا اور ایک بھر پور وار کرتے ہوئے جیسے کوئی بڑا سہارا ڈھونڈ لیا ہو مجھ سے فرمایا :-
شیخ کا اقدام، شبہہ کی ایجاد حملے کے لئے وسیلے کی تیاری—–اور—- اس کا دفاعشیخ :- بسم اللہ دیکھئے اسی جگہ (کتاب کی طرف اشارہ )آپ کے علماء اور پیشوا ہدایت دے رہے ہیں کہ اماموں کے حرم میں زیارت ختم ہونے کے بعد زائرین دو رکعت نماز زیارت پڑھیں تو کیا نماز میں قصد قربت شرط نہیں ہے ؟ ورنہ نماز زیارت چہ معنی دارد؟ آیا امام کے لئے نماز پڑھنا شرک نہیں ہے ؟ زائرین کے یہی اعمال کہ امام کی قبر کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوتے ہیں ۔اور نماز پڑھتے ہیں ان کے شرک پر سب سے بڑی دلیل ہیں اب اس موقع پر آپ کے پاس کیاجواب ہے ؟ یہ سند صحیح ثابت اور خود آپ ہی کی معتبر کتاب ہے ۔خیرطلب :- چونکہ وقت کافی گزر چکا ہے حضرات کسل مند اور پریشان ہورہے ہیں ۔لہذا مناسب سمجھئے تو آپ کے اور جناب حافظ صاحب کے بیانات کاجواب کل پر رکھا جائے۔۔ (تمام شیعہ ،سنی حاضرین جلسہ نے آوازیں دینا شروع کیں کہ جب تک جناب شیخ صاحب کاجواب نہ دے دیا جائے اور مردہ پرستی کے معنی نہ واضح ہوجائیں ہم لوگ یہاں سے نہ جائیں گے ہم کو بالکل تکان اور پریشانی نہیں ہے )۔۔(میں ہنستے ہوئے حافظ صاحب کی طرف رخ کیا اور کہا کہ جناب شیخ کا جوش چونکہ بہت زور پر ہے اور انہوں نے ایک بہت بڑا حربہ تیار کیا ہے ۔لہذا اجازت دیجئیے کہ پہلے ان کاجواب دے دوں پھر آپ کا جواب عرض کروں)۔
حافظ :- فرمائیے ہم سننے کے لئے حاضر ہیں ۔
خیر طلب :- جناب شیخ صاحب ! واقعی آپ بچوں کی طرح بہانے ڈھونڈرہے ہیں ۔کیا آپ زیارت کے لئے گئے ہیں اور زائرین کے عملیات کو قریب سے دیکھا ہے ؟
شیخ :- نہیں ،نہ میں گیا ہوں اور نہ میں نے دیکھا ہے ۔
خیرطلب :- پھر آپ کہاں سے فرمارہے ہیں کہ زائرین قبر امام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں جس سے اس نماز وزیارت کو آپ نے مومن وموحد شیعوں کے لئے شرک کی علامت قرار دیا ہے ۔
شیخ:- آپ کی اسی کتاب کی رو سے ،جس میں لکھتے ہیں کہ امام کے لئے نماز زیارت پڑھو۔
خیرطلب :- مرحمت فرمائیے دیکھوں کس طرح سے لکھا ہوا ہے ۔(جب کتاب لیکے دیکھی تو اتفاق سے حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی زیارت کا طریقہ تھا)-
خیرطلب :- عجب حسن اتفاق ہے کہ آپ نے خود ہی اپنے خلاف ایک تیز دھار کا حربہ مہیا فرمالیا چونکہ خدا ہمیشہ ہمارا مدد گار ہے ۔لہذا ہر مقام پر ہماری کمک اور حمایت کے اسباب ووسائل اکٹھا کردیتا ہے ۔اولا بہتر ہے کہ اس کتاب میں جو طریقہ زیارت درج ہے اس کے شروع ہے اس کے شروع سے بلا امتیاز ہر حصے کے چند جملے وقت کے لحاظ سے پڑھ جاؤں یہاں تک کہ نماز کی منزل تک پہنچ جاؤں جو آپ کا موضوع بحث ہے تاکہ حضرات حاضرین جلسہ خود ہی فیصلہ فرمالیں اور جس مقام پر شرک کی علامت ملاحظہ فرمائیں فورا ٹوک دیں اور اگر اول سے آخر تک زیارت نامے میں صرف توحید ہی کی علامت نظر آئے تو آپ شرمندہ نہ ہوں بلکہ یہ سمجھ لیں کہ غلط فہمی ہوگئی ۔کتاب دیکھ آپ کے سامنے ہے پھر آپ بغیر دیکھ بال کے اور جانچ پڑتال کیے ہوئے حملے کر رہے ہیں چنانچہ اسی جگہ سے حضرات اہل جلسہ سمجھ لیں کہ آپ حضرات کے باقی اعتراضات بھی اسی پھس پھسے اعتراض کے مانند صرف دھوکا ہی دھوکا ہے ۔
زیارت کے آدابملاحظہ فرمائیے ،قاعدہ یہ ہے کہ مولا امیر المومنین علیہ السلام کا زائر جب کوفہ کی خندق پر پہنچے تو کھڑا ہوکر کہے “اللہ اکبر اللہ اکبر اھل الکبریاء والحمد والعظمۃ اللہ اکبر اھل التکبیر والتقدیس والتسبیح ووالا لا الہ الا اللہ اکبر مما اخاف و احذر اللہ اکبر عمادی علیہ اتوکل اللہ اکبر رجائی و الیہ انیب ۔۔الی آخر”۔جب دروازہ نجف پر پہنچے تو کہے ” الحمد للہ الذی ھدانا لھذا و ما کنا لنھتدی لولا ان ھدانا اللہ ۔۔الی آخر “۔جب صحن کے دوازے پر پہنچے تو حمد باری تعالی کے بعد کہے “اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمد ا عبدہ ورسولہ جاء بالحق من عند اللہ و اشھد ان علیا عبداللہ واخو رسول اللہ ،اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر والحمد للہ علی ھدایتہ و تو فیقہ لما دعاا لیہ من سبیلہ ۔۔الی آخر”۔ جب در حرم و بقعہ مبارکہ پر پہنچے تو کہے “اشھد ال لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ۔۔ الی آخر”۔ پھر خدا اور رسول اور ائمہ طاہرین سے اذن و اجازت حاصل کرنے کے بعد جب زائر حرم مطہر کے اندر داخل ہو تو مختلف زیارتیں جو پیعمبر اور امیر المومنین علیھما الصلواۃ و السلام کے لئے سلام پر مشتمل ہیں پڑھے ۔ اور زیارت سے فارغ ہونے کے بعد حکم ہے کہ چھ رکعت نماز پڑھے دو رکعت ہدیہ امیر المومنین علیہ السلام کے لئے اور چار رکعت ہدیہ آدم ابو البشر اور نوح شیخ الانبیاء علیھما السلام کے لئے جو آن حضرت کے پاس مد فون ہیں ۔
نماز زیارت اور دعائے بعد از نمازآیا نماز ہدیہ شرک ہے ؟ آیا ہمارے یہاں والدین اور ارواح مومنین کے لئے نماز ہدیہ کا دستو ر نہیں ہے ؟ تو کیا یہ تمام قاعدے شرک ہیں ؟ اوراگر زائر امیر المو منین علیہ السلام کے لئے دہ رکعت نماز ہدیہ قربتا الی اللہ بجالائے تو کیا یہ شرک ہے ؟یہ ہر انسان کی انسانیت کا جز ہے کہ جب کوئی دوست کی ملاقات کو جاتا ہے ہے تو اس کے لئے کوئی تحفہ لے جاتا ہے ہے جیسا کہ فریقین کی ساری کتب احادیث میں مومن کو ہدیہ کے ثواب میں رسول اللہ (ص) سے پورا ایک باب موجود ہے جب زائرین اپنے محبوب آقا کی قبر کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ بہترین چیز جو حضرت اپنی ساری زندگی میں زیادہ پسند فرماتے تھے ۔نماز تھی ، لہذا ہدایت کی گئی ہے کہ زائر قربۃ الی اللہ دو رکعت نماز پڑھے اس کے بعد اس کا ثواب آن حضرت کی روح پر فتوح کو ہدیہ کرے تو کیا یہ عمل آپ کی نظر میں شرک ہے ؟ آپ نے نماز کا طریقہ پڑھا ہے ؟ تو دعائے بعد از نماز کو بھی دیکھ لینا چاہیئے تا کہ آپ کو آپ کے شبہے کا جواب مل جائے ۔اگر آپ نے پڑھ لیا ہوتا تو قطعا ایراد نہ کرتے ؟۔ اب میں آپ کی اجازت سے حاضرین جلسہ کی توجہ کے لئے وہ دعا پڑھتا ہوں تا کہ شیعوں کے اعمال کو انصاف کی نگاہ سے دیکھئے اور جان لیجئے ۔کہ ہم موحد ہیں مشرک نہیں ہیں اور کسی حالت میں خدا کو فراموش نہیں کرتے علی علیہ السلام کو بھی ہم اسی سبب سے دوست رکھتے ہیں کہ آپ خدا کے بندہ صالح اور رسول اللہ (ص) کے وصی وخلیفہ ہیں ۔دعا کادستور یہ ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان حضرات کے سرہانے (برخلاف اس کے کہ جو شیخ صاحب نے فرمایا کہ قبر کی طرف رخ کرکے پڑھتے ہیں) رو بہ قبلہ اس صورت میں کہ قبر مبارک بائیں بازو کی طرف ہو یہ دعا پڑھے ۔” اللھم انی صلیت ھا تین الرکعتین ھدیۃ منی الی سیدی ومولای ولیک واخی رسولک امیر المومنین وسید الوصیین علی ابن ابی طالب صلوات اللہ علیہ وعلی الہ اللھم فصلی علی محمد و آل محمد وتقبلھا منی و اجزنی علی ذالک جزاء المحسنین اللھم لک صلیت ولک ورکعت ولک سجدت وحدک لا شریک لک الا انت تجوز الصلواۃ الرکوع و السجود الا لک لانک انت اللہ لا الہ الا انت “ما حصل مطلب یہ ہے کہ پروردگار ! اس دو رکعت نماز کو میں نے ہدیہ کیا اپنے سید و مولا تیرے ولی اور تیرے رسول کے بھائی امیر المومنین و سید الوصیین علی ابن ابی طالب علیھما السلام کی طرف ،خدا وند محمد و آل محمد پر اپنی رحمت بھیج ۔ اس دو رکعت نماز کو میری طرف سے قبول فرما اور اس عمل پر مجھ کو نیکو کاروں کی جزا مرحمت فرما ۔ پروردگارا! میں نے تیرے لئے نماز پڑھی ،تیرے لئے رکوع و سجود کیا ،تو ہی خدائے واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ نماز اور رکوع وسجود ،سواتیرے کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے اور تو ہی وہ خدا ایسے بزرگ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ۔حضرات محترم ! خدا کے لئے انصاف سے کام لیجئیے ۔ایسا زائر جو خاک نجف پہلا قدم رکھتے کے بعد نماز زیارت سے فارغ ہونے کی آخری ساعت تک برابر یاد حق میں مشغول رہے ۔نام خدا زبان پر جاری رکھے عظمت و وحدانیت کے ساتھ اس کا ذکر کرے علی کو بندہ صالح اور رسول اللہ کا بھائی اور وصی کہے اور زبان حال وقال سے ان مطالب کا اعتراف کرے کیاوہ مشرک ہے ؟ پس اگر نماز پڑھنا اور واحدانیت خدا کی گواہی دینا شرک ہے تو براہ کرم توحید کا طریقہ بتا دیجئیے تاکہ کہ ہم لوگ خدااور رسول خدا(ص) کا مذہب چھوڑکر آپ کے راستہ پر آجائیں ۔
شیخ :- تعجب ہے آپ دیکھتے نہیں کہ اس جگہ لکھا ہوا ہے آستانہ کو بو سہ دے کر حرم کے اندر داخل ہو اسی وجہ سے ہم نے سنا ہے کہ زائرین جب اپنے اماموں کے حرم کے دروازوں پر پہنچتے ہیں تو سجدہ کرتے ہیں ۔ آیا یہ سجدہ علی کے لئے نہیں ہے ؟آیا خدا کے کے بارے میں شرک نہیں ہے ؟ کہ اس کے غیر کا سجدہ کریں ؟۔
خیرطلب :- میں اگر جناب عالی کہ جگہ پر ہوتا تو صحیح او ر معقول جواب سن لینے کے بعد ساری رات بلکہ اس مناظرے کا سلسلہ ختم ہونے تک دوبارہ بحث نہ کرتا اور خاموش رہتا لیکن تعجب تو آپ سے ہے کہ پھر بھی گفتگو کر رہے ہیں لیکن ایسی گفتگو کہ ہر سننے والے کو ہنسی آجائے (حاضرین کا زوردار قہقہہ)
ائمہ علیھم السلام کے روضوں پر آستانہ بوسی شرک نہیں ہےمیں مجبور ہوں کہ پھر ایک مختصر جواب پیش کروں تاکہ معلوم ہوجائے کہ ائمہ معصومین کے مقدس آستانوں کا چومنا شرک نہیں ہوا کرتا اور آپ نے بھی مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ چومنے کو سجدہ قراردے دیا ۔جب آپ خود ہمارے سامنے اس طرح سے کتاب کی عبارت پڑھنے کے بعد تحریف کرسکتے ہیں تو معلو م نہیں جس وقت بے پڑھے لکھے عوام کے پاس تشریف لے جاتے ہوں گے تو ہم پر کیا کیا تمہمتیں لگاتے ہوں گے ۔اس کتاب اور دوسری کتب ادعیہ و زیارات میں ہم کو جو ہدایت دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جیسا آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ۔زائر اظہار ادب کے لئے آستانہ پر بو سہ دے نہ یہ کہ سجدہ کرے ۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ آپ نے کس قاعدے کی رو سے چومنے کو سجدہ کرنا سمجھ لیا؟ دوسرے آپ نے قرآن مجید اور اخبار واحادیث میں کہاں دیکھا کہ پیغمبر یا کسی امام علیہم السلام کی درگاہ کی چوکھٹ کو چومنے سے منع کیا گیا ہو یا بو سہ دینے کو شرک کی علامت قرار دیا گیا ہو؟ تو حاضرین کا وقت ضائع نہ فرمائیے ۔لیکن جو آپ نے فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ زائرین سجدہ کرتے ہیں تو یہ بلکل جھوٹ ہے
بسے فرق است ودیدن تاشنیدن ۔۔۔۔۔۔۔شنیدن کے بود مانند دیدن
کیا خدا ئے تعالی سورہ نمبر 94 (حجرات)آیہ 6 میں ارشاد نہیں فرماتا؟ “ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین”(یعنی جس وقت کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو (تصدیق کرنے سے پہلے )اس کی تحقیق کر لو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں تم کسی قوم کم اس فاسق کی بات پر کوئی تکلیف پہنچادو پھر اپنے کئے پر پشیمان ہونا پڑے )۔قرآن مجید کے اس فرمان کے مطابق کلام فاسق پر عمل کرنا مناسب نہیں ہے تاکہ ندامت ،خجالت کا باعث نہ ہو ۔ بلکہ تحقیق اور کشف حقیقت کی کوشش کرنا چاہیئے ۔زحمت سفر برداشت کرکے جائیے اور دیکھئے اس کے بعد ایراد و اشکال فرمایئے چنانچہ میں جس وقت بغداد میں” ابو حنیفہ اور شیخ عبد القادر جیلانی ” کی قبروں پر گیا اور ان قبروں کے لئے عوام کر طرز عمل دیکھا (جو بدرجہا اس سے زیادہ سخت ہے جس کی آپ نے شیعوں پر تہمت لگائی ہے ) تو کھبی اس کو کسی مجلس یامحفل میں دہرایا بھی نہیں ۔خدائے بزرگ شاہد ہے چوکھٹ کے بار بار زمین کوچوم چوم رہے تھے اور خاک پر لوٹتے تھے لیکن چونکہ میں کینے اور عداوت کی نظر نہیں رکھنا تھا ۔ اور اس عمل کی حرمت پر کوئی دلیل بھی نہیں دیکھی ہے لہذا اب تک اس کو بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ازروئے محبت ایسا عمل کررہے تھے نہ کہ ازروئے بندگی ۔جناب محترم ! آپ یقین کیجیئے کہ کسی (عارف یا جاہل )شیعہ زائر نے ہرگز سجدہ نہیں کیا ہے اور نہ کرتا ہے لیکن صرف خدا کے لئے اور آپ کا یہ فرمانا بالکل تہمت و افترا اور کھلا جھوٹ ہے ۔ایسی صورت میں اگر سجدے کے ہی طرز پر ہو جس کامطلب خاک پر گرنا اور چہرہ و پیشانی کو زمین پر ملنا ہے (بغیر قصد بندگی کے) تو کوئی حرج نہیں ہے اس لئے کہ کسی بزرگ ذات کے سامنے تعظیم و تکریم کے خیال سے (نہ کہ اس کی خدائی کی نیت سے خدا کے لئے شریک قراردینے کے لئے جھکنا ،)زمین پر گرنا اور خاک پر منہ رکھنا کھبی شرک نہیں ہوتا بلکہ محبوب سے شدید رابطہ تعظیم خاک پر چہرہ رکھے اور بو سہ دینے کا سبب ہے ۔
شیخ:- یہ کیونکر ممکن ہے کہ خاک پر گریں اور پیشانی زمین پر رکھیں پھر بھی سجدہ نہ ہو؟۔
خیرطلب :-آپ سمجھتے ہیں کہ سجدے کا تعلق نیت سے ہے ۔اور نیت ایک قلبی چیز ہے اور دلوں اور دل کی نیتوں کا جاننے والا صرف خدا ہے ۔بظاہر ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص یا اشخاص سجدے کی نوعیت سے زمین پر پڑے ہوئے ہیں ۔(اور یہ ٹھیک ہے کہ ایسے انداز میں جو خدا ئے تعالی سے مخصوص ہے اس کے غیر کے سامنے حاضر ہونا مناسب نہیں ہے چاہے بغیر نیت ہی کے ہوں ،لیکن چونکہ ہم اس کی دلی نیت سے آگاہ نہیں ہیں لہذا اس کو سجدے پر محمول نہیں کرسکتے سوا مخصوص سجدے کے اوقات کے جب کہ ظاہری صورت کوبھی ہم سجدہ کہتے ہیں ۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.