غدیر سے اسلامی انقلاب تک
۱۔ اعلان سے قبل خدا نے حضور(ص)سے کہا کہ اگر یہ اعلان نہ ہو اتو تبلیغ دین کا مقصد فوت ہوجائےگا۔۲۔ اعلان سے قبل حضور(ص)نے اپنی موت کی خبر دی۔ لوگوں کو دین کی پابندی کی تلقین کی۔ حق تبلیغ ادا کرنے کا مجمع سے اقرار لیا۔ لوگوں سے سوال کیا کہ اپنی زندگی کے تم مالک ہو یا میں تمھاری زندگی کا مالک ہوں۔ مجمع نے حضور(ص)کے مالک ہونے کا اقرار کیا۔ اس اقرار کے بعد لازم تھا کہ حضور(ص)اپنی ملکیت (امت کی زندگی) کو مقصان سے محفوظ رکھنے کا انتظام کریں۔ چناچہ آپ نے فرمایا کہ اللہ میرا مولیٰ ہے۔ میں تمہارا مولیٰ ہوں اور جس کا میں مولیٰ ہوں یہ علی(ع)بھی اس کے مولیٰ ہیں۔۳۔ اعلان کے بعد خدا نے کہا۔ آج کافر مسلمانوں کے دین سے مایوس ہو گیا۔ آج سے کسی غیر اسلامی خوف سے کوئی مسلمان نہ ڈرے کیونکہ آج دین کامل ہو گیا۔ نعمتیں پوری گئیں اور مسلمانوں کا اسلام اللہ نے قبول کیا۔ ۴۔ اعلان کے بعد حضور(ص)نے حکم دیا کہ فرداً ہر مسلمان سربراہ اسلام ہونے کی مبارکباد حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرے۔۵۔ اعلان سربراہی کی تقریر کے احتمام کے بعد بھی حضور(ص)نے ہر حاضر مسلمان کا فریضہ قرار دیا کہ وہ ہر غیر حاضر مسلمان تک آج کا پیغام۔ آج کی روئداد۔ آج کا حکم پہنچائے۔ چنانچہ ہم ہر سال عید غدیر مناکر اپنے ہادی(ع)کی ہدایت پر سالانہ عمل کرتے ہیں۔ غدیر کے دن امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لئے خدا اور نبی(ص)نے جو اہتمام کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام کی ابدیت کو تاقیامت باقی رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ وہ زندگیوں میں نافذ رہے معاشرہ اور حکومت اس کی تابع رہے۔ قانون الہی کو مکمل برتری اور بالاتری حاصل رہے۔ اور ان مقاصد کے حصول کے لئے لازم تھا کہ معصوم سربراہ مقرر کیا جاے اور اس کی سربراہی سب سے منوائی جاے۔ غدیری اعلان سے منہ موڑ لیا تھا مگر سربراہ نے بلکہ پورے سلسلہ سربراہ نے اسلام کا ایسا تحفظ کیا۔ کہ صدیوں کے نشیب و فراز بھی اسلام کو ذرہ برابر نقصان نہ پہنچا سکے۔ یہ بات اس وقت اپنی پوری سچائی کے ساتھ سامنے آئی۔ جب غدیر کے معصوم سلسلہ کے زیر اثر ایران میں اسلامی انقلاب آیا۔ اور دنیا نے دیکھا کہ اسلام اپنے تمام کلیات و جزئیات سمیت زندہ و تابندہ ہے۔ اسلامی انقلاب نے غدیری اعلان کی اہمیت بھی ثابت کر دی اور ائمہ نے اسلام کا جو تحفظ کیا تھا اس کا زندہ ثبوت بھی پیش کر دیا۔ ایران کے اسلامی انقلاب سے پہلے جن مسلمان ملکوں سے اسلام اور اسلامی حکومت کی آوازیں بلند ہوتی تھیں۔ ان میں سے کسی ملک نے آج تک اپنے یہاں اسلامی حکومت نہیں قائم کی۔ سورہ والناس گواہ ہے کہ انسانوں کا بادشاہ (ملک الناس) صرف خدا ہے کیونکہ اس سورہ کے آغاز میں خدا نے اپنے کو رب الناس۔ ملک الناس الہ الناس بتلایا ہے۔ اللہ کے علاوہ کوئی انسانوں کا بادشاہ ہے۔ لہذا جہاں حکومت انسانوں کی ہے چاہے وہ ملک کہلاتا ہو یا شیخ۔ صدر کہلاتا ہو یا ڈکٹیٹر وہاں حکومت الہیہ نہیں ہے۔ ایران میں جو دستور رائج ہے اس کی پہلی دفعہ یہ ہے کہ ملک کا ہر قانون اور ہر عہدہدار قرآن مجید اور ارشاد رسول(ص)و ارشاد ائمہ(ع)طاہرین کا پابند ہوگا۔ کوئی کام خلاف کتاب و سنّت معصومین(ع)نہ ہوگا۔ ایران کا اسلامی انقلاب جہاں کتاب و سنت کی حکومت کو نافذ کرتا ہے وہاں سنت کی تشریح صرف سنت رسول(ص)سے نہیں کرتا ہے بلکہ سنت معصومین(ع)کو سنت قرار دیتا ہے۔ سنت کو سنت رسول(ص)و ائمہ معصومین(ع)قرار دینا اس بات کاثبوت ہے کہ اسلامی انقلاب تابع واقعہ غدیر ہے۔ ایران کے اسلامی انقلاب کا دوسرا کارنامہ ہے کہ اس نے لڑنے والے مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ وحدت مسلمین اس انقلاب کا ایک خصوصی ہدف ہے۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ لبنان کی مدد کے لئے کوئی نہ آیا۔لیکن ایران نے اپنے فوجی دستے بھیج دیئے۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے کسی مسلمان ملک کی طرف توجہ نہ کی لیکن ایران سے کہا کہ وہ اپنی دھمکیوں پر عمل نہ کرے ورنہ خطرناک نتائج پیدا ہوں گے یعنی دشمن کی نظر میں بھی حامی اسلام فقط ایران ہے۔ تیسرا کارنامہ اسلامی انقلاب کا یہ ہے کہ یہاں افراد کی حکومت نہیں ہے۔ آقائے خمینی سب سے زیادہ بااثر ہیں مگر حکومت سے الگ ہیں۔ صدر وزیر اعظم۔ چیف جسٹس ممبران پارلمینٹ۔ وزرائ ۔ جزل۔ علمائ شہید ہو گئے بلکہ ہر گھر تک شہادت پہنچ گئی مگر اسلامی انقلاب کسی گھر سے باہر نہیں ہوا۔