حقیقت امام کیاہے

1,826

قرآن
قرآن میں حقیقت امام ایک مفصل اورعمیق موضوع ہے اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں ( وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ) حضرت ابراہیم کا امامت تک پہنچنے کا قصہ ہے کہ عبدیت ، ولایت ، نبوت ، رسالت کے منازل کو طے کرنے کے بعد منزلتِ امامت تک پہنچے ، پس قطعا مقامِ امامت دیگر تمام مقامات سے افضل اور برتر ہے لوگوں میں سے بعض کو مقام عبدیت پر انتخاب فرمایا اور پھر انہیں ولایت پر لایا پھر ان میں سے بعض کو نبی بنایا معصوم نبیوں میں سے بعض رسول بنے پھر معصوم رسولوں میں سے بعض کوامام بنایا ۔
پوری مخلوق سے انسان کو لیا گیا ہے پھر انسان سے اللہ نے اپنے بندے کو چنا پھر ان میں اولیاء اللہ کا انتخاب کیا ان میں سے بعض کو مقام نبوت پر مصطفیٰ کیا پھر ان نبیوں میں سے بعض کو رسول انتخاب کیا پھر ان معصوموں میں سے امام کو برگزدیدہ کیا اور اللہ کے نزدیک امام سے بڑھ کر کوئی نام نہیں ہے اورامامت سے بڑھ کر کوئی الھی عہدہ نہیں ہے خود اللہ تبارک و تعالیٰ امام کو اپنی مخلوق میں سے چن چن کر بناتا آیا ہے کہ جس کے بعد چنا نہیں جا سکتا بلکہ ایک خاتم الانبیاء والمرسلین قرار دیا اور ایک خاتم الائمہ بنا دیا۔اللہ کی طرف سے امامت کے انتخاب کے لیے ، دائرہ عصمت کا ہونا ضروری ہے جب ہر معصوم بھی امام نہیں بن سکتا تو غیر معصوم کو اپنا امام بنانا ظلم عظیم ہو گا اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر امام معصوم ہے لیکن ہر معصوم اما م نہیں ہے پس امامت کے لیے بھی عصمت کا خاص اعلیٰ درجہ ہو نا چاہیے ۔امام تمام کمالات نبی کو رکھتا ہے اگرچہ بعض آئمہ کو نبی نہ کہا جائے جیسے بارہ امام معصوم ہیں ، بلکہ مسلمات ِ مذھب میں سے ہے کہ بارہ امام معصوم ،نبی خاتم کے علاوہ باقی تما م انبیاء سے افضل ہیں ، جس طرح کتب احادیث میں پورا باب اس مطلب پر قائم ہے ۔ لیکن ان اماموں کو نبی نہیں کہا جاسکتا۔
مقام نبی کا جلوہ بحث عدل النبی ، میں گزر چکا ہے اور وہاں پر نبوت کی بحث میں معلوم ہو چکا کہ شخص نبی مخلوق سے رفیع و بلند ہے تو امام تو اس سے بھی بلند یہاں سے حقیقت امامت کی عظمت کو درک کیا جا سکتا ہے کہ فوق ادراک بشر ہے۔
پس امامت عطائی امر ہے اللہ عزوجل کی طرف سے عطاء ہوتا ہے امامت تحصیلی اور کسبی نہیں جسے اجتہاد اور فقہات تقویٰ عدالت جیسے امور سے تحصیل کیا جا ئے بلکہ یہ معمولی اور غیر معمولی راستوں سے حاصل ہو نے والی شی نہیں ہے ۔ یہاں سے روشن ہوا کہ اس آیت میں امام سے مراد نبوت اور رسالت نہیں ہے نہ معنیٰ کے لحاظ سے نہ مکان کے لحاط سے،پس حقیقت امامت ان تمام حقیقتوں سے بلند اور ماوراء ہے۔
لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
آیت کے اس جملہ میں عظیم معارف پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ امامت عہد اور مقام الھی ہے اصلا کسی کے ہاتھ میں نہیں تو کوئی کسی کو امام بنا ہی نہیں سکتا جب ہے ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں، اسکی ملکیت حقیقی ہے تو غیر کیا کر سکتا ہے پس اگر کوئی دعویٰ کرئے کہ میرے پاس عہدہ امامت ہے خداوند متعال کی طرف سے ہونا ثابت نہ ہو تو وہ کذاب ، جھوٹا اور باطل ہے ۔
۲۔ امامت جو اللہ کا مقام ہے ظالموں کو نصیب نہیں ہوگا ظالم کون ہے ؟ ظالم کا معنی بھی قرآن سے معلوم ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جس سے امامت کی نفی کر رہا ہے ۔تعریف ظالم: وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ،جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا پس وہی تو ظالم ہیں ، وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ، جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا پس اس نے اپنے اوپر ظلم کیا ۔کوئی گناہ بھی سرزد ہو وہ اللہ کی حدود سے تجاوز ہے چھوٹا گناہ ہو یا بڑا ظاہری اسلام سے خارج کرنے والا ہو جیسے کفر و شرک اور بت پرستی یا ظاہری اسلام سے خارج نہ کرے جیسے جھوٹ ، غیبت و غیرہ حتیٰ کہ اگر ایک مرتبہ زندگی میں گناہ ہوا ہے اور پھر تو بہ بھی کر لی ہے تو امامت کے لائق نہیں ہے ، لوگ اگرچہ کہ اسے امام کہتے رہیں ۔
علامہ طبا طبا ئی ؒ کا بیان
مر حوم علامہ طبا طبا ئیؒ فرماتے ہیں :
و بهذا البيان يظهر: أن المراد بالظالمين في قوله تعالى، «قالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» مطلق من صدر عنه ظلم ما، من شرك أو معصية، و إن كان منه في برهة من عمره، ثم تاب و صلح. ۔
ہر وہ جس سے کوئی ایک گناہ سرزد ہوا ہے شرک ہو یا معصیت، زندگی کے کسی ایک زمانہ میں واقع ہوا ہو پھر توبہ کر کے نیک بن گیا ہو پھر اپنے استاد سے ایک استدلال نقل فرماتے ہیں کہ کسی نے ہمارے ایک استاد سے پو چھا کہ یہ آیت آئمہ کی عصمت پر کیسے دلالت کرتی ہے ؟ جواب میں استاد نے فرمایا : عقلی طور پر چار قسم کے لوگ ہیں :
۱ ۔ پوری عمر میں ظالم ہو ۲۔ پوری عمر میں ظالم نہ ہو ۳۔ اول عمر میں ظالم ہو آخر عمر میں نہ ہو،۴ ۔ آخر عمر میں ظالم ہو اول میں نہ ہو ۔
اب حضرت ابراہیم اجل و اعظم ہیں کہ امامت کو پہلی قسم کے لیے مانگا ہو اور اسی طرح چوتھی قسم کے لیے باقی بچی دو قسمیں:تو اب دیکھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے کس قسم سے امامت کی نفی کی ہے ؟ اور وہ نہیں ہے مگرتیسری قسم ، جس نے اول زندگی میں ظلم کیا ہے پس جس سے گناہ کا واقع ہو نا ممکن ہو یعنی جائز الخطا ہو وہ امام نہیں ہو سکتا ۔
۳۔ امام کا معصوم ہو نا قطعی اور یقینی ہے کہ عصمت کی وجہ سے گناہ کا واقع ہو نا اصلا ممکن ہی نہیں ہے ۔
۴۔ امامت کا درجہ عصمت: نبوت اور رسالت کے درجہ عصمت سے بلند ہو گا یعنی امام صاحب عصمت کبریٰ ہو ۔
۵۔ الظالمین : پر الف لام بتا رہا ہے کہ کسی ظالم کو بھی یہ عہد نہیں ملے گا وہ ابراہیم کے بعد سے لیکر قیامت تک ظالم سے یہ عہدہ دور ہے اورظالم اسکے نزدیک بھی نہیں ہو سکتا حتیٰ مملکت اور با دشاہت جو ظاہری د نیوی ہو تو بھی اس امام کا حق ہے غیر معصوم کے لیے جعل نہیں ہوتی ، بس جو بھی اس حکومت پر پہنچ جائے تو اس نے دست درازی کی ہے امام واقعی کا حق غضب کیا ہے پس اس حکومت کو غیر معصوم کے لیے قائم کرنا اور حاصل کرنا اللہ کی طرف سے حکم آیاہو آیا ممکن ہے ؟
۲۔ وَ جَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا لَمَّا صَبَرُوا وَ كانُوا بِآياتِنا يُوقِنُونَ ، ہم نے انبیاء میں سے بعض کو امام بنایا جو ہمارے امر کے ذریعہ سے ھدایت کرنے والے ہیں جب مقام صبر پر فائز ہو جائیں اور ہماری آیات پر یقین رکھنے والے ہیں ۔اس آیت کریمہ کو امامت اور امام کی تعریف کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے جسے اصطلاح میں حد اور تحدید کہا جاتا ہے حقیقت امامت میں تین عنصر بیان ہوئے ہیں ۔
۱۔ اللہ کے امر سے ہدایت کرنا ۲۔ مقام صبر پر فا ئز ہونا ۳۔ اللہ کی آیات پر یقین رکھنا ۔
ا نکی وضاحت کے لیے آخر سے شروع کرتے ہیں اس لیے کہ وہ رتبہ کے لحاظ سے پہلے ہیں جسطرح کہ روشن ہو جائے گا ۔
آیات اللہ پر یقین
اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات سے مراد موجودات کی حقیقتیں ہیں اس مراد کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے قرآن کی خدمت میں جانا چاہیے کیونکہ قرآن کا واقعی مفسر قرآن ہے وہ ناطق ہو یا صامت کیونکہ مقام امامت حضرت ابراہیم کو عطا کیا گیا ہے تو پہلے اسے آیات اللہ دکھائی گئیں کیونکہ عبودیت ، نبوت رسالت اور خلت کے مراتب طے کرنے کے بعد مقام امامت عطا کیا گیا تو حضرت ابراہیم کو پہلے آیات کی سیر کرائی گئی تاکہ وہ مقام یقین پر فائز ہو جائے اور یہ آیات وہی ہیں جو زمین و آسمان میں ہیں کیونکہ آسمان سے مراد جہت علو اور بلندی ہے اور یہ اوپر والے وجود کے تمام مراتب کو شامل ہے لذا آسمان ظاہری اور باطنی دونوں کو شامل ہے ان آیات کے مضمون سے حضرت مو قنین میں سے ہو جائیں گے کیونکہ یقین حقیقی آیات کے باطن کے علم سے حاصل ہوتا ہے۔وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ، اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا ملکوت اور باطن دکھایا تاکہ وہ اہل یقین میں سے ہو جائے ۔پس معلوم ہو ا کہ یقین ملکوت کو دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے ۔
معنی ملکوت
(م۔ل۔ک) کے مادہ سے ہیں جو مُلک کامعنیٰ ہے وہی ملکوت کا معنی ہے ملک وہی سلطنت ہے جسطرح انسان کو اپنی اعضاء اور قوتوں پر ملکیت اور سلطنت ہے کہ یہ ملکیت، حقیقی ہے یا انسان کو اپنے گھر اور مال پر سلطنت ہے کہ یہ اعتباری ہے ملکوت یہ سلطنت اور ملکیت حقیقی ہے لیکن یہ سلطنت ملک سے زیادہ ہے کیونکہ عربی میں جب ایک مادہ میں زیادتی آئے تو معنیٰ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے کسی شی پر ملک اور ملکوت کا ہو نا اس شی پر سلطنت رکھنا ہے لیکن ملکوت میں یہ سلطنت شد ید ہے اس کے مشابہ کلمات میں یہی ہے ، جبر ، جبروت ، عظمت سے عظموت ، رحمت سے رحموت معنی اور مفہوم میں وسعت آجاتی ہے شی پر شدت ملکیت تب حاصل ہو گی جب شی کی حقیقت پر تسلط حاصل ہو جائے اور یہ فقط ملکیت حقیقیہ میں ہو گا کہ مالک کے حر کت کرنے سےمملوک بھی حرکت کرے گا جس طرح انسان حرکت کرے تو اس کا بدن بھی اسکے ساتھ جاتا ہے اللہ تبارک وتعا لیٰ جب ارادہ کریں تو شی فورا ویسے ہو جاتی ہے ، برخلاف ملکیت اعتباریہ کے ۔ کہ مالک کے حرکت کرنے سے مملوک حرکت نہیں کرتی جسےب ہم گھر سے نکل جاتے ہیں لیکن ہماری مملوک کہ گھر ہے وہ اپنے مقام پر باقی رہتا ہے ۔
ملکوت ملکیت حقیقہ ہے اور ملکیت حققیہ کسی کی حقیقت پر مسلط ہونے سے حاصل ہو گی بس شی پر ملکوت ۔ شی کی حقیقت پر تسلط سے حاصل ہو گا ۔ معلوم ہوا کہ ہر شی کے دو مرتبہ ہیں ، ۱۔ شی کا ظاہر ی مرتبہ ، ۲۔ شی کا باطنی مرتبہ ، شی کے ظاہر پر سلطنت سے ملک حاصل ہوتا ہے اور شی کے باطن پر سلطنت سے ملکوت حاصل ہوتا ہے اسی طرح شی کا دنیاوی چہرہ اور اخروی چہرہ سے مراد شی کا ظاہر اور باطن ہے، لذا کہتے ہیں شی کا ملکی چہرہ اور شی کا ملکوتی چہرہ ،پس ہر شی کا ایک ملک ہے اور ایک ملکوت ، یعنی ایک ظاہر اور ایک باطن ہے ، ظاہر دنیا میں اور باطن آخرت میں ہر شی کی حقیقت اسکا باطن ہے اور جسکو باطن پر سلطنت ہے یقینا اسکے ظاہر پر بھی سلطنت ہے جو باطن کا علم رکھتا ہے وہ ظاہر کا بھی علم رکھتا ہے ، لیکن برعکس نہیں ہے علمی اصطلاح میں (وجہ یلی الرب اور وجہ یلی الخلق) شی کا چہرہ جورب کی طرف ہے اور وہ چہرہ جو خلق کی طرف ہے بھی کہا جاتا ہے ( ملکوت السماوات و الارض ) مراد آسمانوں اور زمین کے باطن اور حقیقت ہے ۔
۱۔ شی کا ملک اور ملکوت اسکا ظاہر اور باطن ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے (تَبارَكَ الَّذي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَ هُوَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ) بابرکت ہے وہ ذات جسکے قبضہ قدرت میں ہے کائنات یہ شی کا ملک اور ظاہر ہے ، ملک اور شی کا ظاہر (فَسُبْحانَ الَّذي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ) منزہ ہے ہر نقص سے وہ ذات جسکے ہاتھ میں ہر شی کا ملکوت اور باطن ہے پس ہر شی کا ملکوت اور باطن ہے تو ہر شی کا ملک اور ظاہر بھی ہے ۔(ارائہ )دکھانا ؛اللہ نے جو یہ د کھایا ہے تو یہ فقط ظاہری د کھانا نہیں ہے اس لیے کہ شی کے باطن اور حقیقت کو ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے بلکہ اسے و جودی اور قلبی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے جس سے رؤیت اللہ اور معرفت اللہ ممکن ہے۔( وَ لِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنينَ) ،زمین اور آسمانوں کے باطن اور ملکوت کو دکھانے کاہدف یقین پر پہنچانا ہے یقین علم کا وہ مقام ہے جس مین ذرہ برا بر شک تردید نہ ہو اور علم لازوال کو یقین کہتے ہیں جو علم زائل نہ ہو ، باطل نہ ہو اسے یقین کہتے ہیں۔
قرآن نے یقین کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔
۱۔ علمُ الیقن: جو علم فکری براہین سے حاصل ہوتا ہے ۔
۲۔ عینُ الیقین :جو قلب اور وجود کے دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہ شی کی ملکوت کا علم عین الیقین ہے ۔
۳۔ حقُ الیقین :کہ صاحب علم خود وہی حقیقت عینیہ خارجیہ بن جائے، ان میں سے ہر ایک کے مراتب ہیں ( كَلا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ) اگر علم الیقین حاصل ہو جائے تو عین الیقین ہو گا کہ دنیا میں جہنم دیکھ لے جسطرح بعض اصحاب کو آئمہ ^نے د کھایا( ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ) ( إِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ) (وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ)
خدا وند متعال بحق خاتم الائمہ علیہ السلام یہ مراتب یقین ہمیں عطا فرمائے تو معلوم ہوا موجودات کے ملکوت دیکھنے سے انسان منزل یقین پر فائز ہوتا ہے ۔شی کے باطن کو دیکھنا معرفت تو حید عطا کرتا ہے ۔شی کے ملکوت کو دیکھنے سے علم التوحید حاصل ہوتا ہے۔اَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ۔ وہ زمین اور آسمانوں کے ملکوت میں نظر اور فکر کیوں نہیں کر تے اور جس شی کو اللہ نے پیدا فرمایا ہے عنقریب ہے کہ انکی موت آچکی ہو ۔ اس کے بعد کس شی پر ایمان لائیں گے ۔یعنی اگر باطن اور ملکوت کو دیکھیں تو تو حید کی معرفت حاصل ہو جائے گی اور ایمان عظیم حاصل ہو گا ۔ یہ خطاب اور دعوت عام ہے پس ہر ایک کے لیے ممکن ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح حضرت خاتم علیہ السلام کو بھی ملکوت کی سیر کرائی گئی۔ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّه هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۔معراج پر لے جا نے کا ہدف یہ تھا کہ ہم انہیں اپنی آیات دکھائیں ۔ قالّ وہ بھی بڑی آیات ہوں گی لذا فرمایا :لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ، تحقیق اس نے دیکھا اپنے رب کی بڑی آیات کو ۔ خود خاتم جانتے ہیں کہ کیا دیکھا تو یقینا جو حضرت خاتم کو حاصل ہوا ۔ ابراہیم × کے پاس اس یقین کی خیرات ہے ، اور وہ اسماء صفات حق تبارک و تعالیٰ ہیں ۔ جنہیں اللہ امام قرار دیتا ہے وہ ہماری آیات پر یقین رکھنے والے ہیں جسطرح ابراہیم بلکہ خاتم النبین کو یہ یقین ہمیشہ کے لیے حاصل تھا( یو قنون) کا صیغہ استمرار پر دلالت کرتا ہے خاتم کے جانشین وہ ہوں گے جو ہمیشہ مقام یقین پر فائز ہوں لذا فرماتے ہیں((ما رأيت شيئا الّا و رأيت اللَّه قبله و معه و بعده)میں کسی شی کو نہیں دیکھتا مگر اس سے پہلے اور اس کے بعد اورا س کے ساتھے خدا کو دیکھتا ہوں۔(مولا علی×) عہدہ امامت پا نے کے لیے یہ مقام یقین ہوناضروری ہے ۔
صبر
لما صبروا: مقام صبر پر فائز ہونا ضروری ہے اور وہ بھی مطلق صبر اور صبر مطلق ہو ۔
صبر حبس النفس ہے جان کو محبوس کرنا ہے،اپنے آپ کو ہر نا ملائم اور ناسازگار کے مقابلہ میں روکنا جسکا لازمہ تحمل اور برداشت کرنا ہے کسی شی پر صبر کرنا اور اپنے آپ کو ہرنا ملائم سے حبس کریں ،اب یہ نا ملائم یا فرض کو انجام دینے میں ہے جب انسان اپنی ذمہ داری اور و ظیفہ انجام دے تو جونا ملائم پیش آئے اس کو تحمل کرتے ہوئے اپنے وظیفہ اور فریضہ کو انجام دینا ہے یا گناہ کے ترک کرنے پر جو نا ملائم پیش آئے تو اپنے آپ کو زندانی کرے اور گناہ کو ترک کردے اور مصائب و دکھ درد کے وارد ہونے پر اپنے آپ کو محبوس کر لے اور حدود الھی سے خارج نہ ہو اور تو کل علی اللہ سے پیچھے نہ ہٹے اور آئندہ کے لیے امید وار رہے خلاصہ ہر وہ شی جو طبع اور مزاج اور ذوق کے خلاف ہو اسکو تحمل کریں تاکہ اپنے عظیم ہدف تک پہنچ جائیں ۔
لذا شخص کے طبع اور ذات کے عظیم ہونے کے ساتھ مصائب اورنا ساز گاری زیادہ ہو گی تو انکے مقابل میں صبر عظیم اور جمیل کی ضرورت ہو گی۔صبر کا ثمر اور نتیجہ استقامت اور ثابت قدمی ہے جو بڑی مصیبت کو چھوٹا اور حقیر کر دیتا ہے یہاں تک حقیقت صبر کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اپنے آپ کو حبس کرنا اور روکنا جو عقل اور شرع کا مقتضیٰ بن جائے کہ یہ معنیٰ راغب اصفہانی نے ذکر کیا ہے : عقل و شریعت کے حکم کے مطابق اپنے آپ کو ہر خلاف طبعیت کو تحمل کرتے ہوئے باقی رہنا ہے۔
منشا صبر
تو حید کی معر فت اور ا پنی عبودیت کے ادارک سے صبر پیدا ہو جائے گا جتنا انسان اپنے فقر اور حضرت حق کے غنا او رقدرت کو درک کرے گا اتنا بڑا صابر ہو گا یعنی آیات اللہ پر یقین ، سبب صبر ہے ۔
کیفیت تحقق صبر
کیونکہ صبر استقامت قلبی ہے تو اسکے کے لیے چند جہتیں ہیں ۔
1۔ اپنے انفسانی نظام کو برقرار کھے ۲۔ مصائب اور ناسازگار یوں کے سامنے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ،۳۔ نظریہ عقیدہ کو باقی رکھے ۴۔ فکر کو ہاتھ سے نہ دے۵۔ تد بیر کو نہ بھولے، تب صبر محقق ہوگا یہ ممکن نہیں مگر جب حقیقت عبودیت کو درک اور پا لیا جائے ، پس صبر معرفت تو حید کی دلیل اور علامت ہے اور صبر بندگی اور عبودیت کا ترازو ہے ۔ وہی عبد مطلق ہو گا جو صبر مطلق پر فائز ہو گا صبر محض عبدِ یت محضہ کا نتیجہ ہے۔
صبر مطلق
صبر کا آغاز صمت و سکوت اور خاموشی سے ہے کہ سوائے ضرورت کے ہر درست اورصحیح کلام بھی نہ کرے یعنی مباح بھی انجام نہ دے حرام جیسے جھوٹ غیبت و غیرہ اور مکروہ جیسے کسی سے تند زبان سے کلام کرنا تو بالکل سرزد نہ ہو اس لیے حضرت مریم کو پہلے چپ کے روزہ کا حکم دیا تو اس میں لوگوں کی تہمت پر صبر کی قوت پیدا ہوئی۔ زبان کے بعد آ نکھ سے شروع کرے ہر شی کو نہ د یکھے حرام تو اپنے مقام پر غیر ضروری شی پر بھی نگاہ نہ کرے نظریں جھکی ہوئی ہوں اپنے اندر نگاہ کرنے میں مشغول رہے۔
اسی طرح کان، با لاخر تمام حواس پر تسلط پا کر انہیں ہر غیر ضروری سے محبوس کر ے، پھر تمام مصائب پر صبر کرے پھر تمام وہ چیزیں جنہیں طبیعت اور مزاج جسمانی چاہیتا ہے ان پر صبر کرے ہر مباح شی نہ کھائے پیئے ،ہر لباس نہ پہنے ، ہرسواری پر سوار نہ ہو ہر مقام ومنزلت کو قبول نہ کرے ۔بہرحال ہر آسائش اور عیاشی سے اپنے آپ کو روکے اور ضرورت زندگی پر اکتفا کرے ۔
اسی طرح ہر مخالف اور مزاج طبیعت کو خدا کے لیے تحمل اور برادشت کرے اور ہدف زندگی کو ہاتھ سے نہ جانے دے استاد بزرگوار کے بقول! یہ ابھی صبر کی (الف، با) پر ہے یہاں تک کہ دنیا پر صبر کرے ، اپنے آپ کو مال ، اولاد ، جاہ مقام شہرت مطلق عالم طبیعت اور مادہ سے روکے۔ دنیا کی عظیم ترین شی کی طرف تھوڑی سے للچائی ہوئی نگاہ نہ کرے ، دنیا کی عظیم ترین شی ، اسکے نزدیک حقیر ترین شی ہو جائے بالاخر اس دنیا کا تمام زرق و برق اسکے نزدیک ذرہ برابر بھی رنگ نہ رکھتا ہو ۔
اس کے بعد برزخ اور عالم مثال پر صبر یعنی اپنے خیال کو محبوس کرے ، خیالی صورتوں سے اپنے آپ کو محبوس کرے ہر خیال کو قوت متخیلہ میں نہ آنے دے قوت مفکرہ کو ہر ضروری فکر پر محبوس کرے اور فکر فقط الھی ہو۔اسکے بعد آخرت پر صبر کرے ، حتیٰ کہ جنت کی نعمتیں اسے نہ للچائیں، عبادت ، حور و قصور کے لیے نہ ہو بلکہ عبادت اللہ کے لیے ہو۔
پس دنیا پر قدم ، آخرت پر قدم ، عالم طبعیت پر قدم عالم برزخ پر قدم حتیٰ کہ عالم آخرت پر قدم ، سب کو قدموں تلے لگا دے فقط جمال و جلال حق کی طرف نگاہ ہو اس کے لیے اسکے علاوہ ہر شی سے اپنے آپ کو محبوس کرے اور ہر شی پر صبر کرے ۔ جب اس کے علاوہ ہر شی سے چشم پوشی ہو گی اور فقط نگاہ میں کسی شی کو شریک نہیں کرے گاحتیٰ کہ نعمات ِ بہشتی بھی شریک نہ ہو ں حتیٰ کہ لوح و قلم ، عرش و کرسی بھی اس دیدار میں شریک نہ ہوں پس ما سواء اللہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے تمام پر قدم رکھتے ہوئے بارگاہ حق میں ہو گا تو اب صبر مطلق پر فائز ہو گا جس سے پہلے عبد مطلق بن چکا ہے جب حق کے علاوہ ہر شی پر صبر ہو گا تو ہر شی حقیر ہو جائے گی تو اب ہر شی اس عبد کی بارگاہ میں ذلیل ہو جائے گا تو زیارت جامعہ میں سلام کریں گے (و ذلّ کُل شَی لکم) ہر شی تمھارے لیے ذلیل ہے۔ دنیا ذلیل ہے عقبی ذلیل ہے ملک و فرشتہ ذلیل ہے ، لوح و قلم ، عرش و کرسی ذلیل ہوں گے تو یہ امامت کا آغاز اور شروع ہو گا اور جو ( صَبَر نَفسہ فی جنب اللہِ ) جو جنب اللہ میں اپنے آپ کو صبر دے گا تو یہ بارگاہ حق میں ذلیل ہو گا تو ہر شی اسکے سامنے ذلیل ہو جائے گی تو اللہ کی طرف سے ہر شی کا امام قرار دے دیا جائے گا کہ اسے مطلق امام کہا جاتا ہے ۔
خاتم الائمہ علیہ السلالم
اگرچہ کہ بحث امامت عامہ میں ہے لیکن مجبور ہوں یہاں امامت خاصہ امام خاتم الائمہ × کے بارے میں اشارہ کروں کہ اُس کا صبر سب سے عظیم ہے۔ شیخنا الاستاد مدظلہ العالیٰ کے بقول! جو مصائب حضرت خاتم الائمہ تحمل فرما رہے ہیں اصلاکو ئی بشر اسکا تصور نہیں کر سکتا۔ فرماتے ہیں ان مصائب کے علاوہ کربلا ہے جسکا درد ،اب بھی تازہ ہے اگر کوئی خاص ر یاضت انجام دے تو حجاب زمانی ہٹ سکتے ہیں اور زمان کے پردے چاک کرکے کر بلا مشاہدہ کر سکتا ہے لیکن ایک مقام نہیں دیکھا جا سکتا اور وہ زین سے زمین پر آنا ۔ زمین پر آنے سے لیکر شہادت کے وقت تک یہ تین گھنٹے ہیں جو نہیں دیکھے جا سکتے اسی وقت حضرت خاتم النبین آ ئے اور سینہ مبارک سے خون لے گئے جسے اللہ کے عرش کے ایک ستون پر رکھا جو قیامت تک لرزتا رہے گا اب میرے مولا حضرت خاتم االائمہ کا صبر دیکھیں کہ انہیں تین گھنٹوں کو صبح اور شام دیکھتے ہیں اور حضرت جہاں پربھی ہوں تو سر کے اوپر مولا حسین× کا خون آ لو د کُرتا ہوتا ہے چونکہ وہ صاحب الزمان ہے تو زمانہ اسکے لیے حجاب نہیں بنتا تو وہ کربلا ، بقیع ، نجف وسامرا سب اسکے سامنے مجسم ہیں ،لذا صبح و شام خون گریہ فرماتے ہیں ۔
زیارت ناحیہ کا جملہ
مولا حسین میں آپ ہر صبح شام روتا ہوں ، پانی کے بدلے خون روتا ہوں یہ مولا کی زندگی ہے ۔اے میرے پروردگار،کب تک میرے مولا اس صبر پر رہیں؟ حضرت کے ظہور میں تعجیل فرما تواس صبر ِ مطلق سے امام مطلق بنتے ہیں کہ سب جسکے ظہور کے منتظر ہیں ۔{اللھم عجل لو لیک الفرج وا لعا فیۃ وا لنصر وا جعلنا من انصارہ و المستشہدین بین یدیہ} عبد مطلق اور صبر مطلق پر جب فائز ہو ئے تو علم مطلق ،قدرت مطلقہ اور ارادۃ مطلقہ بن جائے گا ۔
یھدون با مرنا
اللہ کی آیات پر یقین صبر کا سبب ہے اور یہ صبر اللہ کے امر کے ساتھ خلق کی ہدایت کرنے کا سبب ہے تو اب ملاحظہ کریں ہدایت کیا ہے ؟ اور امر کیا ہے ؟
ہدایت
لغت میں را ہنمائی کرنے کا معنیٰ میں ہے اب سوال ہو گا کہ کد ھر راہنمائی کرنا؟ جواب یہ ہے کہ شی کو اسکے ہدف کی طرف راہنمائی کرنا ہے ۔
وضاحت
ہر شی ایک ہدف اور مقصد رکھتی ہے ہر فعل اور حرکت کا ایک ہدف اور غایت ہے کوئی حرکت بلا ہدف نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ وہ غایت اور ہدف عظیم ہو یا نہ، عقلائی ہو یا نہ، کوئی کسی نکتہ کو ہدف قرار دینے میں درست عمل کر رہا ہویا نہ؟ اب اس ہدف اور غایت تک پہنچنے کے لیے اسے راہنمائی کی ضرورت ہے اس ہدف کی طرف راہنمائی، ہدایت ہے یہ راہنمائی کرنے والا ہادی ہے جسکی ہدایت کی جارہی ہے وہ مھتدی یا مھدی ہے جسکی طرف ہدایت کی جار ہی ہے وہ غایت اور ہدف ہے ، یہاں تک ایک و سیلہ ہو گا جسکے ذریعہ سے ہادی ہدایت کرے گا اور وہ مھدی ہدایت پائے گا ۔
سوال: یہ ہادی ہدایت کرتا ہے تو کیا کرتا ہے ؟
جواب:یہ ہادی اس شخص مھتدی کے لیے کچھ کام انجام دیتا ہے مثلا مقصد تک پہنچنے کی کیفیت بیان کرنا جیسے آپ کسی کو مسجد کا پتا بتائیں کہ وہ کہاں پر ہے آپ کس راستہ اور گلی سے جائیں؟ درمیان میں کیا ہو گا تفصیل اور اختصار سے بیان کریں تو آپ اس شخص کی ہدایت کر رہے ہیں ۔ مقصد تک پہنچنے کا فقط راستہ د کھانا بھی ہدایت ہے یا آپ کا ہاتھ پکڑیں اور مسجد پر لا کے دروازے پر چھوڑ آئیں تو یہ بھی ہدایت ہے ، تو یہاں چند نتیجے نکلتے ہیں۔
۱۔ ہدایت فعل کی صفت ہے اور فعل سے معنیٰ ہدایت لیا جائے گا ، پتہ بتانا ، راستہ دکھانا ، ساتھ چلنا ، یہ افعال کا انجام دینا ہے جنہیں ایک ہادی ، مھتدی کے لیے انجام دے رہا ہے ، لذا اگر اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسم ہادی کو معنیٰ کرنا ہے تو اسے خلق و رزق کی طرح مقام فعل سے لیا جائے گا صفاتِ فعل میں سے ہے نہ صفات ذات میں سے ہے۔
۲۔ یہ ہدایت کامل ہو گی یا ناقص ، کم اور زیادہ ہو گی مثلا فقط ایڈریس بتانا یا اس سے آگے راستہ د کھانا ، یا راستہ کی تفصیل دینا تو پس یہ ہدایت کہیں زیادہ ہے کہیں تھوڑی کہیں یہ ہدایت اجمالی اور کہیں تفصیلی۔
مھم ترین نکتہ یہاں پر یہ ہے کہ بنیادی طورپر یہاں دو قسم کی ہدایت ہے ۔
۱۔ غایت اور ہدف تک پہنچنے کا راستہ دکھانا مھتدی خود آگے چلے ہادی ساتھ نہیں ہے اسے کہتے ہیں ہدایت(ارائۃ الطریق) ہدف تک پہنچےو کا راستہ دکھانا ۔
۲۔ ہدف اور غایت تک پہنچانا نہ فقط دکھانا اور پتابتانا، بلکہ ہاتھ پکڑ کر پہنچانا اس کے لیے ہدایت (ایصال الی المطلوب ) یہ ہدایت کی بنیادی اور پہلی تقسیم ہے جو تھوڑی تو جہ سے معلوم ہو جاتی ہے ۔
دو قسموں میں فرق
ان دو قسموں کے آ ثار اور فوائد میں فرق ہے ، مقصد کا راستہ د کھانے والی ہدایت میں خطا ممکن ہے ہدا یت حاصل کر نے والا مھتدی خطا کر سکتا ہے راستہ بھول کر بھٹک سکتا ہے لیکن دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ہدف تک پہنچانے والی ہدایت میں خطا ممکن ہی نہیں ہے مھتدی یقینا ہدف تک پہنچ جائے گا اور ہدایت یا فتہ ہو جائے گا بھٹکنے کا چانس نہیں ہے ۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ ہادی کی صفت کے لحاظ سے ہے کہ دوسری قسم میں ہادی خود اس ہدف تک پہنچا ہوا ہو ۔ ورنہ ہاتھ پکڑ کر نہیں پہنچا سکتا ہے لیکن پہلی قسم میں خود ہادی کا پہنچا ہواہو نا ضروری نہیں بلکہ فقط پتہ اور علم ہو تو کافی ہے اس پر غور کریں گے تو کوئی سوال ابھرے تو جواب مل جائے گامعلوم ہوا کہ سب ہادی بھی ایک جیسے نہیں ہیں تو حتماً سب مھتدی بھی ایک جیسے نہیں ہیں جیسا ہادی ہو گا ویسی ہدایت نصیب ہو گی ۔خداوند متعال نے فرمایا (و لکل قوم ھاد) ہر قوم کے لیے ہم نے ہادی قرار دیا ہے ۔ اب جسے اللہ نے ہادی بنایا ہے جو اس سے ہدایت لے گا وہ ہدایت صحیح ہو گی اور اس میں خطا نہیں ہو گی لیکن جس نے اللہ کے ہادی سے ہدایت نہ لی یقینا گمراہ ہو جائے گا جو ہادی جہاں سے آیا ہے اسی مقام کی طرف ہدایت کرے گا جو اعلیٰ مقام سے آیا ہے اسکی ہدایت بھی ادھر ہو گی او جو کسی ادنیٰ مقام سے آیا ہے اس کی ہدایت کرنے کی حد بھی وہیں تک ہو گی لذا ہادی بنانے میں پوری احتیاط کرنی چاہیے۔
دوسری تقسیم
ہدایت ایک اور تقسیم میں دو قسموں کی طرف منقسم ہو تی ہے ۔
۱۔ ہدایت تشریعی، ۲۔ ہدایت تکوینی
جہان واقع میں دو نظام ہیں ، نظام تکوین اور نظام تشریع ، دونوں نظام اللہ تبارک و تعا لیٰ نے بنا ئے ہیں اور خود چلا رہا ہے ، تما م جہانوں کو پیدا کیا پھر ایک خاص نظام کے تحت چلا رہا ہے جس سے یہ جہاں باقی ہے ؛ لذا فرمایا (قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى ) فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہا تمھارا رب کون ہے ؟ تو حضرت موسی ٰ نے فرمایا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شی کو خلقت عطا فرمائی اسے پیدا کیا پھر خود اسکی ہدایت فرمائی ہے یہ ہدایت قطعا تکوینی ہے تو یہ کوئی مولیٰ کا امر و نہی نہیں ہے بلکہ ہر شی کی خلقت کے بعد اسکی استعداد اور صلاحیت کے مطابق اسے اس کے ہدف اور مقصد کی طرف لے جانا ہے ہر شی کا ہدف وہی اسکے وجود کی غایت ہے جدھر وہ منتھی ہو کر پہنچے گا ، نطفہ کی مثال لے لیں جو گزر چکی ہے گندم کا دانہ، اسی طرح اور موجودات ۔
اس جہان میں ہر شی کے اول وجود سے لیکر اسکے آخری مرحلہ تک سب مرحلے نظام تکوینی کے مطابق طے ہوں گے ہادی تکوینی ہدایت کر رہا ہے اور مھتدی تکوینی ہدایت حاصل کر رہا ہے آپ اور ہم اب جس مقام اور مرحلہ میں ہیں ہدایت تکوینی سے پہنچے ہیں۔ تین کلو کے پیدا ہو کر اب ستر کلو ہیں !تو یہ سب ہدایت تکوینی کا نتیجہ ہے ۔
اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہدایت تکوینی فرمانا یہ ہے کہ ہر شی کو خلق فرمایا اور اس میں بعد والے مراحل طے کرنے کی صلاحیت رکھ دی اسکے وسائل عطا فرما دیے جو اس نظام تکوینی میں اللہ کے بنائے ہوئے تکوینی نظام کے مطابق ہدایت ہوتا رہے گا۔
ثم ھدیٰ : پھر اس نے ہر شی کی جسے اس نے پیدا فرمایا ہے ہدایت فرمائی ہے یہ جملہ ہماری ر اہنمائی کر رہا ہے کہ اس جہان میں ہدایت تدریجی ہو گی جو آہستہ آہستہ ایک زمانے میں انجام پائے گی جسطرح ہم کائنات میں مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ہر ایک شی کی تکوینی ہدایت کا قانون ایک دوسرے سے جدا ہے ، جمادات کیسے ؟ نباتات کیسے ؟ حیوانات کیسے؟ انسان کا اپنا قانون ہے،پھر ہر ایک کی مختلف انواع کے لیے جدا قانون ہے کونسا پتھر مثلا کیسے مراحل طے کرتا ہے ،صدف اور موتی کو دیکھ لیں، اسکی ذات میں اسکی ہدایت کے لیے خدا وند متعال نے ایک تکوینی قانون رکھا ہے ۔ دریا سمندر کی تہہ میں کئی ٹن پانی کے نیچے ایک ہلکے وزن کے ساتھ ایک صدف پڑا ہے بہار کا موسم آیا تو اس نے اپنے آپ کو تہہ سمندر سے پا نی کی سطح پر لانا شروع کیا ادھر بارانِ نیساں رحمت بن کر بر سنا شروع ہوئی تو اس صدف نے اپنا ظرف کھولا اور اپنی ظرفیت کے مطابق اس رحمت سے فیض یاب ہوا آب نیساں کے اس قطرہ کو لیا پھر اپنا منہ بند کیا کہ نہ ہوا کا ذرہ اس میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہوا کا ذرہ اس سے خارج ہو سکتا ہے اور پھر سمند ر کی تہہ میں چلا گیا تو کچھ دنوں کے بعد وہ پانی کا قطرہ موتی بنتا ہے تو پھر صدف اپنا منہ کھو لتا ہے جس طرح پستہ اپنا منہ کھو لتا ہے تو غواص جا کر موتی لے آتے ہیں ۔
اب غور کریں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی کیسے ہدایت فرما رہا ہے ؟ تہہ سمندر میں پیدا کیا پھر اسے کس نے بتا یا کہ بہار کا موسم آ گیا ہے؟ پانی کے اندر بہار کی خبر دینے والا کون ہے ؟ پھر اس کو کس نے بتایا کہ بارانِ نیساں بر س رہی ہے تو اوپر سطح سمندر پر آجانا؟ پھر اسے اتنی طاقت کس نے دی کہ اتنے وزن سے نکل کر اوپر آئے؟ پھر قطرہ لیکر بند ہو جائے اور اسے سنھبال کر اپنے پا س رکھے رحم مادر کی طرح اسکی پرورش کر کے مو تی بنا کر انسان کو ہدیہ کرے؟
یہ سب جہاں اس قادر مطلق کی قدرت اور حکمت عظیم کا شا ہکار ہے وہاں پرہمیں اللہ کی ہدایت تکوینی کی طرف ہدایت فرما رہا ہے اسی طرح نباتات میں کجھور کے درخت نر ومادہ آ پس میں کیسے لقاح اور جفتی کرتے ہیں ؟ اس طرح حیوانات میں اور انسان میں جس شی میں غور کریں ہدایت تکوینی اللہ کی قدرت کاملہ کو بیان کر رہی ہے ۔ یہ سب کچھ اللہ کے نظام تکوین میں ہو رہا ہے ، تو اس نظام میں یہ سب کچھ ہدایت تکوینی ہے ۔
۲۔ نظام تشریع : یہ نظام ذی شعور اور صاحب اختیار مخلوق کے لیے چلایا کہ انسان عاقل اپنے اختیار سے بعض افعال انجام دے اور بعض کو انجام نہ دے کچھ انجام دے کر اور کچھ ترک کر کے مجھ تک پہنچے اور میرا قرب حاصل کرے ۔
اس کےلیے پہلے انسان کو عقل اور اختیار عطافرمایا پھر افعال انجام دینے کی طاقت ، قدرت عطا کرنے کے ساتھ اسکے وسائل اور اسباب بھی عطا فرمائے پھر حق و باطل ، خیر و شر کی تمیز عطا فرمائی اور اس جہان دنیا میں بھیج دیا ۔ لیکن انسان کو عقل تو دیا لیکن اسکی شکو فائی اور نشوونما کی ضرورت تھی ، انسان میں موجود صلاحیتوں کو اجا گر کرنا تھا ، اس کے لیے انبیاء مر سلین بھیجے پھر ایک قانون آسمانی کتابوں کی شکل میں نازل فرمایا ۔ جو عین فطرت کے مطابق ہے تورات ، زبور ، انجیل ، بالآخر قرآن ، تو پھر یہ قانون تنہا نہیں تھا بلکہ اسکے بیان کرنے والے تر جمان ساتھ بھیجے جو اصول اور عقائد کی طرف ہدایت کرتے ہیں ۔ اخلاق کو بیان کرتے ہیں جسطرح احکام فقہی کو بھی تبینن فرماتے ہیں تو یہ امر و نھی یہ واجب اور حرام یہ طاہر و نجس ، یہ جائز اور ناجا ئزسب نظام تشریع کے قوا نین ہیں ۔ اس نظام میں ، آسمانی کتابوں ، انبیاء و مرسلین ، اور علماء ربانی کے ذریعہ ہماری ہدایت تشریعی فرما رہاہے ۔
دوقسموں میں فرق
ان دو قسم میں فرق یہ ہے کہ ہدایت تکوینی سے شی یقینا ًہدایت یافتہ ہو جائے گی اور کوئی روکنے والا نہیں ہے لیکن ہدایت تشریعی میں چونکہ انسان کے اختیار پر رکھ دیا گیا ہے(إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبيلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُوراً )ہم نے راہ کی طرف ہدایت کر دی ہے اب یا اختیار سے شاکر بنے گا یا اختیار سے” کافر “اس کی مرضی ہماری ہدایت کو قبول کرے یا نہ ، اگر انسان نے اپنے اختیار سے بد طینت ہونے کی وجہ سے ہدایت قبول نہ کی تو نتیجہ جہنم ہے اگر قبول کر لیا تو جنت ہے تو اب عقاب اور جزا و سزابھی نظام تشریعی اور ہدایت تشریعی میں معنی پیدا کرئے گا نظام تکوین میں ایسا نہیں ہے تیسرا فرق یہ ہے کہ ہد ایت تشریعی فقط دنیا میں ہے آخرت میں نہیں ہے چونکہ وہاں تکلیف نہیں، دنیا دار تکلیف ہے اور آخرت دار جزا ہے لیکن ہدایت تکوینی دونوں جہانوں میں ہے ۔
تیسری تقسیم
ہدایت کی ایک اور تقسیم یہ ہے کہ ہدایت یا عام ہے یا خاص ہے ۔
1۔ہدایت عام: وہ ہدایت جو کسی ایک نوع یا فرد کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام مخلوق کے لیے ہے ۔
۲۔ ہدایت خاص : وہ ہدایت جو کسی ایک نوع یا فرد کے ساتھ مختص ہے مثلا انسان کی ہدایت فلاں شخص مومن کی ہدایت اسی طرح فلان خاص امر میں ہدایت علم میں قدرت میں ، مال و دنیا میں یا ثواب آخرت میں ہدایت ۔
ہدایت تکوینی عام ہے اگر چہ کہ ہدایت کی کیفیت خاص ہو گی اسی طرح ہدایت تشریعی بھی عام ہے سب کے لیے انبیاء بھیجے گئے کتاب نازل کی گئی ۔ اگرچہ انسانِ مختار کے ساتھ مختص ہے ایمان کی طرف ہدایت خاص ہدایت ہے مراتب ایمان کی ہدایت اسی طرح خاص ہے ۔ اب جب ہدایت کامعنیٰ اور اقسام روشن ہو گئیں تو دیکھیں جسے اللہ امام بنا رہا ہے وہ کس شی کے ساتھ ہدایت انجام دیتا ہے؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہر نبی اور رسول خدا کی طرف سے لوگوں کے لیے ہادی ہے اب امام بھی ہادی ہے تو اس میں کو ئی خصوصیت ہے ؟ جب کسی کو نبوت و رسالت کے بعد امامت عطا کی جا رہی ہے تو وہ کونسا بڑا کام انجام دیتا ہے جو نبی و رسول انجام نہیں دیتے ؟
فرمایا: ارائۃ الطریق والی ہدایت جسے انبیاء اور مرسلین انجام دیتے تھے جسطرح ذات واجب نے ارشاد فرمایا ہے۔(وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ )ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسکی قوم کی زبان میں تاکہ ان کے لیے بیان کرے ، تو یہ لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے ۔مومن آل فرعون نےکہا: يَا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ ، اے قوم! تم میری اتباع کرو میں ترقی کے راستہ کی تمھیں ہدایت کرتاہوں ۔
بالاخر علماء کے بارے میں فرمایا:فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ،تم میں سے ایک گروہ کوچ کرے اور دین کی بصیرت پیدا کرنے کے بعد واپس لوگوں کو انذار کرے تا کہ لوگ خدا کی نافرمانی سے ڈر جائیں تو یہ سب ہدایت کرنا ہے لیکن ارائۃ الطریق ہے انبیاء علماء یہی ہدایت کرتے ہیں تو اب امام بالاتر ہدایت فرمائے( ایصال الی المطلوب) والی ہدایت ہو گی اور وہ بھی تنہا ہدایت تشریعی نہیں بلکہ ہدایت تکوینی بھی انجام دیتے ہیں ۔ خلاصہ اللہ کے اسم مبارک ہادی کے مظہر تام و کامل بن کر ہدایت فرماتے ہیں ۔جو شی نظام تکوین میں جس مرحلہ پر پہنچتی ہے اور جس مرحلہ سے گزرتی ہے اللہ کے بنائے ہوئے امام کی ہدایت ہے ۔ اللہ اپنی ہدایت کو اپنے خلیفہ امام کے ذریعہ سے عالمین میں انجام دے رہا ہے ۔ تو وہ(قالَ رَبُّنَا الَّذي أَعْطى‏ كُلَّ شَيْ‏ءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى‏ ) اللہ تبارک و تعالیٰ ہر شی کو خلقت عطا فرمانے کے بعد جو اسکی ہدایت فرما رہا ہے اسکا وسیلہ امام ہے جس سے اللہ ہدایت فرما رہا ہے اب اگر اللہ تعالیٰ نے امام کو ہادی بنایا ہے تو خود نعوذ باللہ معطل نہیں ہوا بلکہ یہ ہدایت واقعااورحقیقتا اللہ انجام دے رہا ہے اپنے نظام میں وسیلہ امام کو قرار دیا ہے تو امام مظہر اسم ہادی ہے مبداء ہدایت خود ذات واجب تبارک و تعالیٰ ہے اب اللہ تبارک و تعالیٰ پوری مخلوق کا ہادی ہے تو امام خدا کی طرف سے پوری مخلوق کی ہدایت فرما رہا ہے لذا ہر گیاہی کہ از زمین روید ۔ وحدہ لا شریک لہ گوید جو کو نپل نکلتی ہے تو لا الہ الا اللہ کہتی آتی ہے چونکہ اسکی ہدایت امام سے ہو رہی ہے تو محمد رسول اللہ اور علی ولی اللہ کہ رہی ہے ۔
امر اللہ
اللہ کا امر کیا ہے ؟ اسے بھی اللہ کے کلام سے پہچانیں، اللہ تبارک و تعالیٰ نے انپے امر کی یوں تعریف فرمائی ہے (إِنَّما أَمْرُهُ إِذا أَرادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ )سوائے اسکے نہیں کہ تحقیق اللہ کا امر یہ ہے کہ جب وہ شی کے وجود کا ارداہ فرماتا ہے تو اس کے لیے کن فرماتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے ۔یہ کن کیا ہے ؟ فقط لفظ قول مراد نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جو عالم طبعیت سے ماوراء ہے لذا آیت کے ذیل میں فرمایا (فَسُبْحانَ الَّذي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ )قدوس اورپاک ہے وہ ذات جسکی قدرت میں ہر شی کا ملکوت ہے ۔ ہر شی کا ملکوت غیر مادی و غیر طبیعی ہے تو یہ ید قدرت وہی کن ہے جس” كُنْ ” میں ہر شی کاملکوت ہے کہ وہاں سے ” فَيَكُونُ “ہو کر محقق ہوتا ہے جو ہر قید زمانی اور مکانی سے پاک ہے اوراس میں تغیر و تبدیل نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ وہاں سے نشأت لیتے ہیں۔
آیت دیگر میں اللہ تعالیٰ تبارک اللہ کے امر کو زمان سے ماوراء ہونا بیان فرما رہاہے(وَمَا أَمْرُنَا إِلا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ )ہمارا امر نہیں مگر ایک پلک جھپکنے کے ،اس تمثیل میں غور کیاجائے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک معقول کو محسوس سے تمثیل دیا اور محسوس ایسا جو ہر ایک بشر میں موجود ہے ،ا ور وہ درک کر سکتا ہے دوسرا یہ کہ انسان میں سر یعترین عمل جسے احساس کیا جاسکتا ہے وہ پلک کا جھپکنا ہے گویا کہ جس میں وقت کی تعیین مشکل ہے ، وقت سے پہلے پلک جھپک جاتی ہے اسی طرح اللہ کا امر واقع ہو جا تا ہے تو یہ معقول کو محسوس سے مثال دینا ہے ورنہ امر اللہ کا واقع ہونا کسی وقت ٹائم میں نہیں آتا اور لفظ سریع اور سریعتر نہیں بولا جا سکتا۔ وہ وقت اور زمان سے اوپر ہے ۔ جس طرح آصف بن برخیا حضرت سیلمان نبی کے وصی نے کہا (قالَ الَّذي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتابِ أَنَا آتيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُك) پلک جھپکنے سے بھی پہلے اللہ کے امر سے تخت بلقیس لے آؤں گا بس یہ تمثیل اس لیے ہے کہ امر اللہ مؤثر ہونے میں تھوڑے سے وقت گزرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ تمثیل کنائی ہے اللہ کا امر، اللہ کا ایجاد کرنا اور شی کے وجود کا ارداہ کرنا ہے بس یہ کن وہی اللہ کا ایجاد کرنا، شی کے وجود کا ارداہ کرنا ہے تو یہ حرکت زمان ومکان کا محتاج نہیں خود زمان و مکان اور حرکت بھی ایک شی ہے جو اللہ کے امر سے موجود ہوتیں ہیں ، امر اللہ کہ” کُن” ہے تو یہ”کُن” کہ ایجاد اللہ ہے ایک حقیقت ماؤرأ از مادہ او ر طبیعت ہے جس سے مادہ اور طبعیت بھی موجود ہوتے ہیں ۔
تو یہاں پر علامہ طباطبائی کے بیان بدیع کے مطابق آیت کو بیان کرتے ہیں ۔ جس کا نچوڑ یہ ہے کہ” کُن” کلمہ ایجاد ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کسی شی کے ایجاد کرنے میں اپنی ذات کے علاوہ کسی سبب کا محتاج نہیں ہے ۔ذات واجب شی کی ایجاد میں تنہا کافی ہے کسی سبب مددگار کی احتیاج نہیں ہے اور مانع کو بر طرف کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ فرماتے ہیں: اس حقیقت کن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز میں تعبیر فرمایا ہے:(إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ )(بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ )تو قول کو امر پر حمل کرتے ہیں اور امر اللہ سے مراد اللہ کی نہی کے مقابلہ میں نہیں ہے بلکہ امر اللہ سے مراد شأن اللہ ہے جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی شی کے ایجاد کا ارداہ فرماتا ہے تو اللہ کی شان کیا ہے؟ جب شی اللہ کی طرف سے موجود ہو نا چاہتی ہے اورمورد ارادہ خدا واقع ہوتی ہے تو اللہ کا امر یعنی اللہ کی شان کیا ہے ؟ فرمایا 🙁 فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ) اللہ کی شان یہ ہے کہ اس شی کو کہتا ہے ہو جا ، دقت کریں آیا کوئی شی سامنے مخاطب ہے جسے خطاب کیاجاتا ہے ؟ معلوم ہے کہ ایسا نہیں کیونکہ وہ شی ابھی موجود ہونا چاہتی ہے لذا خدا کے مقابل میں اور سامنے کوئی شی بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ اسی طرح کوئی لفظ بھی نہیں کیونکہ اگر لفظ ہو تو وہ ایک شی ہے جسکے ایجاد کے لیے ایک اور لفظ کی ضرورت ہے جو اس لفظ کو ایجاد کرے تو یہ اس طرح تسلسل واقع ہو گا جو محال ہے جب نہ سامنے شی مخاطب ہے نہ لفظ ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے افاضہ کرنے اور ایجاد کرنے کی شان بیان کرنا ہے وہ امرہے اور وہی ، کوئی اور شی وہاں نہیں ، بلکہ مورد ارادہ شی بغیر سر پیچی اور مہلت کے موجود ہو جاتی ہے اللہ اور وہ موجود ہونے والی شی ہے اور بس۔
کوئی تیسری شی وہاں پر نہیں ہے وہاں پر زائدبر ذات نہیں ہے ۔ تو یہ” کُن “شی کو علم سے عین میں لے آتا ہے حقیقت علمیہ کو حقیقت خارجیہ بنا دیتا ہے ۔ تو پس یہ امر اللہ ارادہ تکوینی کے ساتھ کن وجودی ہے جس پر شی کا وجود متفرع ہے یہ کن لفظ نہیں بلکہ ایک شان الھی ہے جو ہر زمان و مکان سے اوپر ہے بلکہ زمان و مکان بھی ایک شی ہیں جو اس شان سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ حقیقت ملکوتی ہے ملکی نہیں ہے اس” کُن” شان ملکوتی سے شی بغیر مہلت کے موجود ہو جاتی ہے اگر اسے چھ دن یا نو ماہ لگتے ہیں تو ہ اس شی کی ذات کا اقتضا ہے ورنہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے کوئی مانع نہیں شی کی طبعیت اور ذات یہ ہے کہ چھ دن یا نو ماہ میں مثلا پیدا ہو۔دوسرے لفظوں میں خطاب” کُن” مخاطب آفرین ہے ۔ یہ امر تشریعی نہیں جسے اللہ تبارک نے یوں بیان فرمایا (إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ ) تحقیق اللہ عدل و احسان کا امر کرتا ہے یہ تشریعی ہے ۔
توضیح مطلب
کلمہ” کُن “خطاب ہے ، خطاب کی حقیقت یہ ہے کہ حضور اور توجہ کے ساتھ کلام کرنا تو ہر خطاب، ایک مخاطِب جو حضوراور توجہ کے ساتھ کلام کرنے والا ہے دوسرا مخاطَب جسے حاضر کر کے اس سے کلام کیاجائے تیسرا وہ کلام جسے تکلم کیا جاتا ہے ۔پس خطاب میں مخاطب کا موجود ہونا ضروری ہے اور معدوم کو خطاب نہیں کیا جا سکتا، البتہ مخاطب کادنیوی اور جسمانی وجود کے ساتھ موجود ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ جس وجود میں موجود ہو ، اسکا وجود ضروری ہے ۔
لذا ممکن ہے مخاطب جسمانی وجود کے ساتھ موجود ہو، جیسے اس دنیا میں سب ایک دوسرے کے حضور میں ایک دسرے کو خطاب کرتے ہیں ممکن ہے روحانی وجود کےساتھ موجود ہے جیسے ملائکہ اورتمام روحانی اور ملکوتی موجودات ، جیسے موجودِ علمی یعنی ایک حقیقت علمیہ اپنے علمی وجود کے ساتھ مو جود ہو اور مخاطب واقع ہو ۔
خطاب یا لفظی ہے یا غیر لفظی
مخاطِب جب خطاب کرتا ہے تو اسکا و سیلہ لفظ ہے جیسے روزمرہ کی زندگی میں رائج ہے اس کا اثر یہ ہے کہ آواز مخاطب کی سماعت سے ٹکرائی تو ذہن میں اسکا مفہوم آیا تو وہ صورت ِذھنی بن جاتی ہے ، یا وہ تصور ہے یا تصدیق ، پھر یا خبر ہے یا انشاء ، انشاء بھی یا امر ہے یا نہی یا کوئی اور قسم۔ یہاں پر مخاطَب ممکن ہے خبر کی تصدیق کرے ممکن ہے نہ کرئے، امر کو انجام دئے، یا نہ دئے،نہی سے رک جائے یا نہ رکے ،کھبی مخاطِب ، لفظ سے خطاب نہیں کرتا بلکہ ارادہ سے خطاب کرتا ہے ، تو اب مخاطب کی سماعت ِ ظاہری کی احتیاج نہیں بلکہ مخاطب کے وجود میں مراد واقع ہو جائے گی ، یہاں پر خطاب و مخاطب ایک حقیقت ہیں جسطرح ذہن میں ارادہ سے صورتیں واقع ہو جاتی ہیں اسی طرح ارادہ سے خطاب واقع ہو جائے گا اسے خطاب وجودی اور تکوینی کہتے ہیں اس خطاب سے شی موجود ہو جاتی ہے بالفاظ دیگر ، خطاب لفظی سے ذہن انسان میں مفہوم ایجاد ہوتاہے اور خطاب وجودی اور تکوینی سے خارج میں شی ایجاد ہو جاتی ہے ۔خطاب “کُن ” اسی قسم سے ہے اللہ کا ارادہ ایجاد اس کا خطاب ہے اور شی فیکون ہونا مخاطب کا خارج میں موجود ہونا ہے البتہ یہ مخاطب علم سے خارج میں محقق ہو گا اور یہ معنیٰ ہے کہ خطاب کن ، مخاطب آفرین ہے ۔
دلائل
اللہ تبارک و تعالیٰ کاخطاب کُن ، لفظی نہیں ، بلکہ وجودی ہے اور وہی اللہ کا ارادہ ایجاد ہے عقل اور نقل اس پر دلالت کرتی ہیں ، دلیل عقلی روشن ہے اس لیے فقط نور ِ روایات پر اکتفاء کرتے ہیں ۔۱۔ امیر المو منین علی × ارشاد فرماتے ہیں : يَقُولُ وَ لَا يَلْفِظُ وَ يَحْفَظُ وَ لَا يَتَحَفَّظُ وَ يُرِيدُ وَ لَا يُضْمِرُ يُحِبُّ وَ يَرْضَى مِنْ غَيْرِ رِقَّةٍ وَ يُبْغِضُ وَ يَغْضَبُ مِنْ غَيْرِ مَشَقَّةٍ يَقُولُ لِمَا أَرَادَ كَوْنَهُ كُنْ فَيَكُونُ لَا بِصَوْت ٍ يَقْرَعُ وَ لَا نِدَاءٍ يُسْمَعُ وَ إِنَّمَا كَلَامُهُ سُبْحَانَهُ فِعْلٌ مِنْهُ أَنْشَأَه‏ ، امیر کا کلام ، کلاموں کا امیر ہے، فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے تلفظ کے بغیر ہرشی کا حافظ ہے بغیر اسکے کہ کسی عضو سے حفاظت کرے ارادہ فرماتا ہے بغیر ضمیر و ذہن کے محبت کرتا ہے راضی ہوتا ہے بغیر احساسات جذبات اور انفعالات کے عداوت رکھتا ہے غضبناک ہوتا ہے بغیر مشقت کے ۔ جب کسی معنی کے وجود کا ارادہ کرتا ہے تو کن کہتا ہے فیکون ہو جا تا ہے لیکن یہ کن آواز کے ساتھ نہیں کہ سماعت سے ٹکڑا ئے نداء کے ساتھ نہیں کہ جسے سنا جائے سوا ئے اسکے نہیں کہ اسکاکلام اسکا فعل ہے جو اُسی سے ہے جسے وہ ایجاد فرماتا ہے ۔
آیا مولا علی × جیسے معصوم کے بغیر اتنا دقیق بیان ممکن ہے ؟ یہ سب قول ِ کلام ، حفاظت ، ارادہ محبت ، رضا ، ایجاد اگر کمال ہیں کہ حتما ہیں تو حضرت حق کے لیے ثابت ہیں لیکن ممکنات کی خصوصیات سے پاک اور منزہ ہے اگر ان حقائق کی نفی کریں تو معنیٰ یہ ہو گا کہ وہ ان کمالات کو فاقد ہے تو محتاج اور ممکن ہو جائے گا جبکہ وہ ہر کمال ہے اور کُلِّ کمال ہے محال ہے کہ کوئی کمال اس میں مفقود ہو ۔اگر یہ حقائق اس میں ویسے ہوں جیسے ممکنات میں ہیں تو یہ تشبیہ ہے اور باطل ہے کیونکہ وہ(لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ‏ءٌ ) ہے ، لذا مولا نے ان کمالات کے حقائق کو اثبات فرمایا، اور خصوصیات ِ ممکنات اور بشر کو نفی فرمایا یہ حقیقی تو حید ہے ۔ بالخصوص ، اللہ کے خطابِ کن کی تفسیر فرمائی کہ قول اور کلام ، کن کا خطاب ہے لیکن اسکا کلام لفظ نہیں ، بلکہ اسکا فعل ہے اور اسکا فعل یہی موجوداتِ خارجیہ ہیں اگر فعل اور وجود اشیاء کو اسکی طرف نسبت دیں تو ایجاد اللہ اور انشاء اللہ ہے ۔اگر اسے بغیر نسبت کے دیکھیں تو وجود ہے اور فعل ، لذا فیکون وہی شی کا وجود ہے فاء تفریعہ بیان کر رہی ہے کہ ادھر کن ِ وجودی آیا ارادہ ایجاد ہوا تو اُدھر وجود محقق ہو گیا پس روشن ہوا کہ خطاب ِ وجودی اور تکوینی ، خارج میں وجود ،ایجاد کرتا ہے ۔
۲۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى قَالَ قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ ع أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِرَادَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ مِنَ الْخَلْقِ فَقَالَ الْإِرَادَةُ مِنَ الْمَخْلُوقِ الضَّمِيرُ وَ مَا يَبْدُو لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفِعْلِ وَ أَمَّا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَإِرَادَتُهُ إِحْدَاثُهُ لَا غَيْرُ ذَلِكَ لِأَنَّهُ لَا يُرَوِّي وَ لَا يَهُمُّ وَ لَا يَتَفَكَّرُ وَ هَذِهِ الصِّفَاتُ مَنْفِيَّةٌ عَنْهُ وَ هِيَ مِنْ صِفَاتِ الْخَلْقِ فَإِرَادَةُ اللَّهِ هِيَ الْفِعْلُ لَا غَيْرُ ذَلِكَ يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ بِلَا لَفْظٍ وَ لَا نُطْقٍ بِلِسَانٍ وَ لَا هِمَّةٍ وَ لَا تَفَكُّرٍ وَ لَا كَيْفَ لِذَلِكَ كَمَا أَنَّهُ بِلَا كَيْفٍ ۔
صفوان بن یحیٰ نے حضرت ابو الحسن علی ابن موسی رضا × سے پو چھا کہ اللہ کا ارادہ کیا ہے اور مخلوق کا ارداہ کیا ہے ؟ تو حضرت نے ارشاد فرمایا : مخلوق کا ارادہ اسکا ضمیر ہے جسکے بعد اس سے فعل صادر ہوتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ اسکا ایجاد کرنا ہے اور اسکے علاوہ نہیں ہے کیونکہ یہ مخلوق کی صفات ہیں پس اللہ کا ارداہ اسکا فعل ہے اور اسکے علاوہ کچھ نہیں وہ کہتا ہے شی موجود ہو جاتی ہے بغیر لفظ کے بغیر زبان کے بولنے کے بغیر فکر و ذکر کے بغیر کیفیت کے کیونکہ وہ حقیقت اور وجود ہے بغیر کیفیت کے موجود ہے ۔
پس اللہ کا ارداہ اسکا ایجاد کرنا ہے اور اسکا فعل ہے اور خطاب کن بھی ارادہ ایجاد ہے تو پس کن ایجاد کرنا ہے اور فیکون ، موجود ہو جانا ہے لفظ و غیرہ نہیں اسی طرح اللہ کا قول کلام ، فعل ، خطاب وجودی ، ارادہ فعلی ایک حقیقت ہے جس سے یہ مفہوم اخذ کیے جاتے ہیں ۔
۳۔ امام موسی ٰ کاظم × نےارشاد فرمایا: وَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ سِوَاهُ مَخْلُوقٌ إِنَّمَا تُكَوَّنُ الْأَشْيَاءُ بِإِرَادَتِهِ وَ مَشِيئَتِهِ مِنْ غَيْرِ كَلَامٍ وَ لَا تَرَدُّدٍ فِي نَفَسٍ وَ لَا نُطْقٍ بِلِسَانٍ ،جہان واقع میں ،ہر شی اللہ کے علاوہ مخلوق ہے اور سواے اسکے نہیں کہ چیزوں کا موجود اور محقق ہونا اسکے ارادہ اور مشیت سے ہے بغیر کلام لفظی کے بغیر فکر اور زبانی بول کے ۔
۴۔ امام صادق × ارشاد فر ماتے ہیں :حضرت موسی ×نے کوہ طور پر ایک دن مناجات میں عرض کیا : عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ لَمَّا صَعِدَ مُوسَى عَلَى نَبِيِّنَا وَ آلِهِ وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الطُّورِ فَنَاجَى رَبَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ يَا رَبِّ أَرِنِي خَزَائِنَكَ ، پروردگار مجھے اپنے خزائن دکھا؟ قَالَ يَا مُوسَى إِنَّمَا خَزَائِنِي إِذَا أَرَدْتُ شَيْئاً أَنْ أَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ، اللہ تبارک نے ارشاد فرمایا : سوائے اسکے نہیں کہ میرے خزائن جب کسی شی کا ارادہ کرتا ہوں تو اسے کن کہتا ہو ں پس وہ شی ہو جاتی ہے ۔اللہ کے خزائن ارادہ ایجاد ہے خطاب کن وجودی ہے اور ہر شی خزائن سے نازل ہو رہی ہے ۔ وَ إِنْ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلاَّ عِنْدَنا خَزائِنُهُ وَ ما نُنَزِّلُهُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ ، ہر شی خزائن سے مقدار معین کے ساتھ نازل ہوتی ہے ۔کُن خزائن ہیں خزائن حقائق الھیہ ہیں ، پس روشن ہوا کہ کُن لفظ نہیں بلکہ حقیقت وجودی ہے خطاب وجودی ہے اور وہ ایجاد کا ارادہ ہے جو اللہ کے خزائن ہیں ۔
اللہ کے خطاب” کُن” میں مخاطب اور خطاب ایک حقیقت ہیں
جس طرح ایجاد اور وجود ایک حقیقت ہے کیونکہ کان ، تامہ ہے امرتکوینی اور مامور ایک واقعیت ہوں گے اگرچہ کہ تحلیل ذہنی میں دو ہیں اور ایک دوسرے پر مترتب ہیں ، اسی کان تامہ کی بنیاد پر فرمایا:وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالأرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِنَ الأرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ ،خداواند متعال کی آیات میں سے ہے کہ زمین و آسمان اسی کے امر سے قائم ہیں پھر جب تمہیں زمین سے نکلنے کی دعوت دے گا پس تم نکلے آؤ گے ۔ امر تکوینی سے زمین و آسمان کا قیام ہے کہ کان تامہ کا نتیجہ ہے اور اسکی دعوت تکوینی بھی وہی تمہارا زمین سے نکلنا ہے یہ بھی کان تامہ کا نتیجہ کہ دعوت تکوینی بھی کن فیکون ہے ۔
البتہ مخاطب وجود علمی اور عدم خارجی رکھتا ہے
مخاطب اس” کُن “سے مقام خارج اور عین میں آّئے گا خطاب میں مخاطب کا وجود ضروری ہے اگرچہ کہ وہ وجود علمی ہی کیوں نہ ہو تمام موجودات اس جہان میں آنے سے پہلے علم ازلی خدا میں ہیں تو یہ خطاب ان موجودات کو اس کا علم سے اس عین اور خارج میں لے آتا ہے البتہ یہ خروج اور اس جہان میں آنا بالتجلی ہے علم الھی اور خزانہ الھی ان سے خالی نہیں ہوتا ۔
لذا امام صادق × ارشاد فرماتے ہیں : وَ قَالَ فَكُلُّ أَمْرٍ يُرِيدُهُ اللَّهُ فَهُوَ فِي عِلْمِهِ قَبْلَ أَنْ يَصْنَعَهُ لَيْسَ شَيْ‏ءٌ يَبْدُو لَهُ إِلَّا وَ قَدْ كَانَ فِي عِلْمِهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَبْدُو لَهُ مِنْ جَهْلٍ ، ہر امر شی جس کے ایجاد کا اللہ ارادہ فر مائے وہ اسکی خلقت سے پہلے اس کے علم میں ہے کوئی شی دنیا میں ظاہر نہیں ہوتی مگر پہلے وہ اللہ کے علم میں ہے تحقیق اللہ کے لیے کوئی شی جہل سے ظاہر نہیں ہوتی پس ہر شی اللہ کے علم سے اس دنیا اور خارج میں واقع ہوتی ہے ، خطاب کن ، امر کن شی کو اللہ کے علم سے اس دنیا میں لے آتا ہے ۔
کن کا افاضہ دفعی ہے تدریجی نہیں ہے لیکن استفاضہ تدریجی ہے
خدا واند متعال کا امر کن اور خطاب تکوینی، دفعی ہے اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فاعلِ تام ہے فاعل ناقص کا فعل تدریجی ہوتا ہے کیونکہ اسکا فعل زمان اور مکان سے ماوارء ہے۔لیس عند ربک صباح و لامساء ،مولا علی × فرماتے ہیں :تیر ے پرو ر دگار کے پاس صبح و شام معنیٰ نہیں رکھتی ، مولا علی # فر ماتے ہیں (فاعل لا بمعنیٰ الحرکات )خدا وند متعال فاعل ہیں لیکن نہ کہ حرکات انجام دینے والا ہے بلکہ وہ(بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ )آسمانوں اور زمین کو ابداع فرمانے والا ہے جب بھی کسی شی کا ارادہ فرماتا ہے کن کہتا ہے پس وہ ہوجاتی ہے ، کن فیکون میں (فا) بتا رہا ہے کہ اس کے فعل میں تدریج نہیں لیس کمثلہ شی ہے اسکی ذات کی طرح اسکا فعل بھی لا شریک ہے ۔
البتہ فیض کو قبول کرنا، استفاضہ تدریجی ہے اس لیے جو موجودات زمان و مکان میں موجود ہیں ان میں تدریج ہے ہر شی اپنی طبعیت اور ذات کے مطابق فیض کو حاصل کر کے موجود ہو گی مثلا زمین و آسمان کا چھ دن میں موجود ہو نا ان کے قُوت اور رزق کا چار دن میں مقدر ہو نا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ ، بچے کا نو ماہ میں آنا اور اسکی مانند دیگر موجودات ، اسکا فیض اور امر واحد ہے یہ مستفیض ہے جو اپنی ذات کے مطابق محقق ہو گا (وَ ما أَمْرُنا إِلاَّ واحِدَةٌ ) ہمارا امر نہیں مگر واحد اور وہ بھی( كَلَمْحِ الْبَصَرِ) عرض ہو چکا ہے کہ یہ کنایہ ہے فعل کے دفعۃ واقع ہونے کے لیے جسطرح بعض مخلوق کہ ملکوتی ہے اور زمان و مکان سے ماوراء ہے جیسے ملکوتی فرشتے وہ بھی یکدم موجود ہوتے ہیں انہیں مخلوق امری کہتے ہیں ( لہ الخلق و لا مر ) مخلوق خلقی اور امری اس آیت سے استفادہ ہوتی ہے خلق اور امر اسی کے لیے ہے ادھر امر کن یکدم ہوا ہے تو فعل محقق ہو گیا ادھر مخلوق امری بھی دفعتاً موجود ہو جائے گی لیکن مخلوق زمانی تدریجاً اپنی ذات کے مطابق محقق ہو گی ۔پس مستفیض تدریجی کو اللہ کے فعل اور فیض سے خلط نہیں کرنا چاہیے(یھدون بامرنا) اس سے امر تکوینی مراد ہے جو کن ہے نہ تشریعی۔جب امام نبوت اور رسالت سے بلند مقام پر ہوتا ہے اور ہدایت جو امام کی شان ہے قطعا فقط تشریعی نہیں بلکہ تکوینی اور ایصال الی المطلوب والی ہے تو جس کے وسیلہ سے وہ ہدایت ہوتی ہے۔وہ وسیلہ بھی نبی رسول کی ہدایت کے وسیلہ سے عظیم ہوگا تو وہ وسیلہ امر اللہ ہے تو امر اللہ تنہا تشریعی نہیں ہو گا بلکہ تکوینی ہو گا اور ملکوتی ہو گا جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ انبیاء و مر سلین میں سے مصطفی کر کےا مام بناتا ہے وہ اللہ کے امر تکوینی اور ملکوتی کے ذریعہ مخلوق کی ہدایت تشریعی کے ساتھ ہدایت تکوینی فرماتے ہیں ۔
بامرنا
اب یہاں چند نکات ہیں :
۱۔ باء کس معنیٰ میں ہے ؟
۲۔ دو معنیٰ بیان ہوتے ہیں ۔
۱۔ مصاحبت ، ۲۔ ملا بست
۱۔ مصاحبت : اگر باء مصاحبت کی ہو تو امام کی ہدایت اللہ کے امر کے ساتھ ہے امام کی ہدایت اور اللہ کے ا مر میں معیت ہے جبکہ ایک دوسرے کا سبب ہے یعنی امر اللہ سبب ہے ہدایت کا چونکہ واقع میں ہدایت ، اللہ کی ہدایت ہے تو سبب بھی اللہ کا امر ہے اور جب دو نوں ہدایت اور امر اللہ امر ملکوتی ہیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ امام کی ہدایت امر اللہ بن کے ظاہر ہو گی تو حتما ًمحقق ہوتی چلی جائے گی ۔
۲۔ اگر ملا بست کی ہو تو امام کی ہدایت اللہ کے امر کے لباس میں ہو گی تب بھی نتیجہ یہی ہے کہ امام کی ہدایت امر اللہ کے انداز میں ظاہر ہو گی
۲۔ دوسرا نکتہ امر کا اضافہ “نا” جمع متکلم کی طرف ہے جو تمام قدرت کے ظہور کو بیان کر رہا ہے ۔
۳۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جس طرح بیان ہو چکا ہے کہ ہر شی کا ایک چہرہ ملکی ہے ایک ملکوتی ہر شی کی ملکوت ہر شی کی حقیقت ہے جب امر سے مراد ملکوتی ہے تو ہر شی کی ہدایت جب امر ملکوتی سے ہے تو ہدایت ،شی کے ملکوت پر وارد ہو گی پھر ملک میں ظاہر ہو گی ۔
بر سر مطلب
جب حقیقت ہدایت اورا مر اللہ روشن ہوا تو اللہ تبارک تعالیٰ امام کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ وہ ہماری آیات پر یقین رکھنے والے ہیں جو تما م مخلوق کا مشاھدہ کر چکے ہیں لذا فرماتے ہیں تمام جہان میرے سامنے ایسے ہیں جیسے ہاتھ کی ہتھیلی ، جو ملکوت کو دیکھ رہا ہو تو اس سے شی کا ملک اور ظاہر مخفی نہیں ہو تا جس سے وہ یقین حاصل ہوتا ہے جو انبیاء کو بھی حاصل نہیں ہوتا ۔ اس یقین کے نتیجہ میں صبر مطلق پر فائز ہوتے ہیں مملکت صبر کے تنہا سلطان ہیں اللہ کے سواء ہر شی کو پشت کرتے ہیں اور رخ وجودی فقط اللہ کی طرف ہے تو پورے عالمین اور ممکنات پاؤں تلے ہیں تو اسکے نتیجہ میں خلق کی ہدایت اللہ کے امر سے ہوتی ہیں تو امام کی ہدایت امر اللہ کے انداز میں مخلوق کے ملکوت سے ہو گی جب ہر شی کا ملکوت اسکے سامنے ظاہر ہے امر اللہ بھی ملکوتی ہے تو یقینا ہدایت ملکوتی ہو گی تو مخلوق کی ملکوت کہ قلوب ہیں اس میں تصرف فرمائیں گے لذا امام کی ہدایت لوگوں کے لیے ولایت ہے ۔
یھدون بامرنا
دلالت کرتا ہے امام جسکی امر اللہ سے ہدایت فرمائیں گے وہ چیزوں کا با طن اور حقیقت ہے تمام موجودات اور ہدایت پانے والوں کا وجہ ِ امر امام کے پاس حاضر ہے لذا امام ہر شی کے دونوں چہروں پر مھیمن اور مسیطر اور محیط ہے اور سعادت و شقاوت دونوں راستوں پر تسلط رکھتا ہے لذ ا دنیا کا امام ہے آخرت کا بھی امام ہے جسطرح دنیا میں لوگوں کی ہدایت فرما رہا ہے قیامت والے دن بھی لوگوں کی اللہ کی طرف ہدایت فرمائے گا روز قیامت لے آئے گا، یہ ہدایت عظمیٰ اما م کو انبیاء اور مرسلین سے ممتاز کرتی ہے ۔
پس ملک و ملکوت کا ہادی ہے اس لیے تو روز قیامت جنت کو حکم دے کہ اس کا استقبال کر یہ میرا محب ہے جہنم کو امر دےگا اسے پکڑ لے یہ میرا دشمن ہے اور یہ دونوں اطاعت گزار غلام کی طرح اپنے امام اور ہادی کے فرمان پر عمل کریں گے۔لوح و قلم عرش و کرسی سب کا ہادی و راہنما اور انہیں امر اللہ سے اپنے مقصد اور ہدف تک پہنچانے والا ہے ۔
ہادی بامر اللہ کا مھدی اور مھتدی ہو نا ضروری ہے
امام جو اللہ کے امر سے ہدایت کر رہا ہے خود ہدایت یافتہ مھدی اور مھتدی ہے دنیا میں کسی امر میں بھی کسی سے ہدایت لینے والا نہ ہو لذا سعید الذات ہے اسکی ذات عین ہدایت ہے لذا ہر خطاء عیب نقص اور گناہ سےمنزہ اور پاک و پاکیزہ ہو اس لیے کہ جس میں ذرہ برا بر ظلم و شقاوت ہو تو اسکی ہدایت غیر سے ہو گی اس حقیقت کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمْ مَنْ لا يَهِدِّي إِلا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ،آیا وہ جو حق کی طرف ہادی ہے وہی حقدار ہے کہ اسکی اتباع کی جائے یا وہ جو ہدایت یافتہ نہیں مگر یہ کہ اسکی ہدایت کی جائے ۔
تو مقابلہ ھادی الی الحق اور وہ جو ہدایت پر نہیں ہے مگریہ کہ دوسرا اسکی ہدایت کرئے یعنی ایک وہ جسکی ذات ہادی ہے اور دنیا میں کسی سے ہدایت نہیں لیتا دوسرا وہ جو دوسرے کی ہدایت پر چل رہا ہے ان میں کون ہدایت کرنے اور ہادی ہونے کاحقدار ہے ؟تو جواب یہ ہے کہ جسکی ذات ہدایت پر نہیں بلکہ دوسرے سے ہدایت لے کر زندگی گزار رہا ہے وہ حق کی طرف ہدایت کرنے کا حق نہیں رکھتا دونوں حق کی طرف ہدایت کرنے والے ہیں لیکن ایک کسی دوسرے سے ہدایت یافتہ نہیں بلکہ بنفسہ من اللہ ہدایت پر ہے دوسرا غیر سے ہدایت لے کر حق کی طرف ہدایت کرتا ہے جیسے علماء ، فقہاء ہیں جو کئی سال درس پڑھ کر اب لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ہادی قرار دے رہا ہے جو دنیا میں کسی سے ہدایت نہیں لتیے بلکہ اللہ کے امر سے انکی ہدایت کرتے ہیں خود بلاواسطہ اللہ سے ہدایت لینے والے ہیں لوگوں کی بھی بلا واسطہ ہدایت فرما سکتے ہیں یہی ہدایت ملکوتی اور ہدایت امری ہے ۔ اور یہ آئمہ علیہم السلام کی عصمت پر ایک اور دلیل ہے ۔امام ہر قسم کی گمراہی اور معصیت سے معصوم ہے ورنہ غیر سے ہدایت یافتہ ہوتا ، پس جو غیر سے ہدایت لینے والا ہے وہ معصوم نہیں لذا اما م نہیں ہو سکتا پس(لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمينَ) یہاں ظالم سے مراد جس سے ذرہ برابر ظلم چھوٹا گناہ یا بڑا ، چھوٹی غلطی یابڑی غلطی،زندگی کے کسی حصہ میں بھی سرزد ہوئی چاہے بعد میں توبہ کرکے صالح ہو جائے وہ ظالم ہے اور اللہ کا عہدا مامت بالکل اسے عطا نہ ہو اہے نہ ہوگا۔ مرحوم علامہ طبا طبائی فرماتے ہیں یہاں چند امر روشن ہو جاتے ہیں ۔
۱۔ اما مت اللہ تبار ک و تعالیٰ سے جعل شدہ ہے ۔
۲۔ امام کا عصمت الٰھیہ سے معصوم ہوناواجب ہے
۳۔زمین کھبی بھی حق کے امام سے خالی نہیں ہو گی ۔
۴۔ امام کا اللہ کی طرف سے تائید شدہ ہونا واجب ہے ۔
۵۔ بندوں کے اعمال امام سے مخفی نہیں ہوتے بلکہ امام بندوں کے اعمال کا علم رکھتا ہے ۔
۶۔ امام عالم ہو ہراس شی کا کہ لوگ جس شی کے دنیا و آخرت میں محتاج ہیں ۔
۷۔ محال ہے کہ کوئی شخص موجود ہو جو کمالات اور فضائل میں امام سے بالاتر ہو ، یہ امامت کے بنیادی مسائل ہیں جو گذشتہ بیان سے واضح ہو جاتے ہیں ،
۳۔(وکلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ) ہر شی کا ہم نے احصاء کر دیا ہے امام مبین میں(وکلَّ شَيْءٍ) لفظ کُل کو عموم کے لیے بنایا گیا ہے جس کلمہ پر داخل ہو تو اسکی ہر فرد کو شامل ہو تا ہے ،مثلا:کُل انسانِِ: ہر انسان ، کہہ کر کوئی ایک فرد بھی خارج نہیں ہو سکتا۔ لفظ (شَيْءٍ)وہ ہے جس کے مفہوم سے عام تر شاید کوئی مفہوم نہ ہو ، اور وہ بھی بطور نکرہ اور عام ذکر ہوئی ہے ، جو ایک ذرہ سے لیکر آخری مرتبہ ممکن کو شامل ہے ، بشر کی نگاہ جدہر بھی جائے تو شی کے علاوہ کچھ نہیں پائے گا جس پر نگاہ پڑے تو وہ شی ہے حتیٰ کہ جو عقل میں آئے وہ بھی شی کے علاوہ کچھ نہیں !پس کُل شی عالمین کی ہر شی کو شامل ہے “أحْصَيْنَاهُ” کلمہ( أحْصَيْنَاهُ ) فقط گننے کے معنیٰ میں نہیں ہیں جسطرح عام ذہنوں میں ہے مصباح اللغات میں ہے ( أحصیت الشی علمتہ) میں نے شی کا احصاء کیا یعنی اس شی کا عالم ہوا موارد استعمال کو مالاحظہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد علمی احاطہ کے ساتھ شی کا محفوظ کرنا ہے ۔ لذا قرآن میں ہے:لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا
اللہ تبارک و تعالیٰ محیط ہے اس پر جو مرسلین کے پاس اور ہر نبی کو احصاء فرمایا ہے عدد کے لحاظ سے یعنی اللہ کے احاطہ علمی میں ہے اور اسے ایک دوسرے سے ممتاز کرکے رکھا ہے۔پس معنیٰ (أحْصَيْنَاهُ) یہ ہے کہ ہم نے ہر شی کو احصاء کیا ہے علمی احاطہ میں ضبط و ثبت کیا ہے ۔ احاطہ علمی میں محفوظ کیا ہے ۔
امام مبین
مراد از امام مبین ، مختلف ذکر ہوئے ہیں روایات میں اسکا مصداق ، امام معصوم ہیں جسطرح کہ معانی الاخبار میں ابی الجارود سے روایت ہے کہ امام باقر× اپنے آباء طاہرین سے نقل کرتے ہوئے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں : فی علی× انہ الامام الذی احصیٰ اللہ تبارک و تعالیٰ فیہ کل شی ،علی × ہیں حضرت وہ امام ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس میں ہر شی کا علم احصاء کر دیا ہے اب جب لفظیں روشن ہو گئیں تو معنیٰ یہ بنے گا کہ ہم نے ہر شی کا علم امام مبین میں احصاء کردیا ہے ۔ پس امام وہ ہے جو ہر شی کے علم پر احاطہ رکھتا ہے ، اور یہ احاطہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے ۔ جس میں کسی شی کا جہل ہو وہ امام نہیں ہے ۔ پس امام اپنے وجود میں پورے جہان کو رکھتا ہے لہذا کسی شی کا کوئی ذرہ بھی امام سے مخفی نہیں ہے ۔
سنت
امامت اور امام لسان عصمت اور عترت پر کثرت سے بیان ہوئی ہے اس بحر معرفت کی تھوڑی سے ٹھنڈک کی نمی قارئین کرام کےلیے مرقوم ہوتی ہے جس طرح حضرت جبرائیل × نے امیر المو منین علی × کے ایمان کی ٹھنڈک کو احساس کیا تو اس مقام پر پہنچے کہ خدا کی طرف سے امین وحی بن گئے جب حضرت علی ابن موسیٰ رضا × کو معلوم ہوا کہ بعض لوگ امر امامت میں غور و حوض کر رہے ہیں تو ارشاد فرمایا: هَلْ يَعْرِفُونَ قَدْرَ الْإِمَامَةِ وَ مَحَلَّهَا مِنَ الْأُمَّةِ فَيَجُوزَ فِيهَا اخْتِيَارُهُمْ إِنَّ الْإِمَامَةَ أَجَلُّ قَدْراً وَ أَعْظَمُ شَأْناً وَ أَعْلَى مَكَاناً وَ أَمْنَعُ جَانِباً وَ أَبْعَدُ غَوْراً مِنْ أَنْ يَبْلُغَهَا النَّاسُ بِعُقُولِهِمْ أَوْ يَنَالُوهَا بِآرَائِهِمْ أَوْ يُقِيمُوا إِمَاماً بِاخْتِيَارِهِم‏ ، وہ ا مامت کی قدر ومنزلت کی معرفت رکھتے ہیں امت میں امامت کے مقام کو جانتےہیں یہ استفہام استنکاری ہے یعنی معرفت نہیں رکھتے تحقیق امامت قدر و منزلت میں اس قدر جلیل ہے کہ خدا کی طرف سے اس سے اوپر کسی کو جلالت نصیب نہیں ہوئی اس قدر عظیم ہے کہ عالم امکان میں اس سے بڑھ کر کوئی شان قابل تصور نہیں ہے ، مقام میں اس قدر بلند ہے کہ عالمین میں اس سے او پر کوئی بلندی نہیں ہے کنارہ کے لحاظ سے ممنوع الوصول ہے یعنی دریا امامت کے کنارے تک کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا امامت وہ سمندر ہے جس کی تہ تک بھی کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔لوگ اپنی عقلوں کےذریعہ نہ دریا امامت کے کنارہ کو چھو سکتے ہیں نہ اسکی تہ تک غوطہ لگا سکتے ہیں اور نہ اپنے نظریات اور افکار سے اس تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ اپنے اختیار سے امام قائم کر سکتے ہیں ۔
جب عقول امامت کے نہ اول کو درک کر سکیں نہ آخر کو !تو کیسے انتخاب کر سکتے ہیں؟ پس لوگوں کاانتخاب شدہ سوائے امام کے سب کچھ ہو سکتا ہے۔
چند فراز کے بعد فرماتے ہیں : ‏ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْلُغُ مَعْرِفَةَ الْإِمَامِ أَوْ يُمْكِنُهُ اخْتِيَارُهُ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ ضَلَّتِ الْعُقُولُ وَ تَاهَتِ الْحُلُومُ وَ حَارَتِ الْأَلْبَابُ وَ خَسَأَتِ الْعُيُونُ وَ تَصَاغَرَتِ الْعُظَمَاءُ وَ تَحَيَّرَتِ الْحُكَمَاءُ وَ تَقَاصَرَتِ الْحُلَمَاءُ وَ حَصِرَتِ الْخُطَبَاءُ وَ جَهِلَتِ الْأَلِبَّاءُ وَ كَلَّتِ الشُّعَرَاءُ وَ عَجَزَتِ الْأُدَبَاءُ وَ عَيِيَتِ الْبُلَغَاءُ عَنْ وَصْفِ شَأْنٍ مِنْ شَأْنِهِ أَوْ فَضِيلَةٍ مِنْ فَضَائِلِهِ وَ أَقَرَّتْ بِالْعَجْزِ وَ التَّقْصِيرِ
پس کون ہے جو امام کی معرفت کو پہنچ سکے یا اسکےلیے امام کا اختیار کرنا ممکن ہو ، یہ معرفت بہت دور ہے یہ اختیار بہت بعید ہے پھر اس دوری کو بیان فرمایا : عقلیں راہ معرفت میں گم ہیں دقیق جھان بین اور تفتیش کرنے والے( بال کی کھال اتارنے والے) مدقق عقلمند پر یشان ہیں لب و مغز، رکھنے والے حیران و سرگردان ہیں ، آنکھیں امامت کے ادارک سے عاجز ہیں ، بڑے بڑے عظیم اس مقام پر بہت چھوٹے ہیں حکماء حیران ہیں ، بڑے بڑے خطباء وصف امام سے عاجز ہیں اولو الالباب یہاں جاہل ہیں شعراء کی زبانیں رک گئی ہیں بڑے بڑے ادیب عاجز اور ناتوان ہیں ، بڑے بڑے فصیح و بلیغ امام کی شان میں سے ایک شان بیان کرنے سے ناتوان ہیں ۔ یا امام کے دریا فضائل میں سے ایک فضلیت کوذکر نہیں کر سکتے سب عجز و ناتوانی و تقصیر کا اقرار کرتے ہیں ۔
پس معرفت امام کی وادی میں ہر ایک داخل نہیں ہو سکتا مگر وہ خود کرم فرماتے ہوئے کسی کا ہاتھ پکڑ کر لے جائیں اب یاخاتم الائمہ × ادرکنی کہ کر ایک باب معرفت کی طرف تھوڑا سا اشارہ کرنا چاہتا ہوں ۔اسم مبارک امام آئمہ ^ کے لیے انکے دیگر صفات ، کمالات ، اور اسماء کی طرف نسبت کرتے ہوئے وہی ہے جو اسم مبارک اللہ کی خدا کے دیگر اسماء و صفات کی طرف ہے ، اسم جلالہ تمام صفات جلال و جمال کو جامع ہے اسی طرح اسم امام تمام فضائل اور کمالات وجودی امام کو جامع ہے ۔
امام حجۃ اللہ علی الخلق
ان میں سے ایک یہ ہے کہ امام اللہ کی ساری مخلوق پر اللہ کی حجت ہے ، اسم کلمہ امام کی بحث گزر چکی ہے ۔
معنی حجت
حجت علم لغت میں بمعنی برھان اور دلیل کے ذکر ہوا ہے جسطرح کہ عرف عام میں بھی ایسا ہے لیکن اگر اسکے مادہ اصلی کو ملاحظہ کرتے ہوئے معنیٰ کیا جائے تو یہ ہے کہ حجت وہ شی جو مدعیٰ کے اثبات کرنے کے مقام پر مقصود ہو اور مقابل پر غلبہ کے لیے جسے لایا جائے ۔ لذا حجت صناعتِ برھان اور مناظرہ میں استعمال ہوتی ہے۔
وضاحت
انسان جتنی بحثیں کرتا ہے اور جو فکر کرتا ہے بلکہ جس حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسکے دو مقصد ہیں :
۱۔ مقصود یہ ہے کہ ایک حقیقت روشن ہو جائے اور واقعیت تک پہنچا جائے ۲۔ ایک اختلافی مسئلہ میں اپنے مقابل پر غلبہ حاصل ہو جائے ۔
پہلے مقصد کے لیے صناعتِ برھان میں تحقیق ہوئی اور دوسرے مقصد کے لیے صناعت مجادلہ اور مناطرہ میں بحث ہوتی ہے اس مقصد تک پہنچنے کے لیے قطعا ایک وسیلہ کی ضرورت ہے کہ اس وسیلہ کا نام ہے حجت ۔
حجت کے مصادیق اور افراد
افراد حجت مختلف ہیں بعض وہ ہیں جو ذاتی طور پر حق ہیں اور مقصود بھی انکی حقا نیت اور اس کے ذریعہ حقیقت تک پہنچنا ہے۔ چاہے سامنے کوئی مخالف ہو یا موافق اصلا یہاں موافق مخالف کو نہیں دیکھا جاتا۔
بعض وہ ہیں کہ جنکے ذریعہ سے فقط اپنے مد مقابل کو مغلوب کرنا ہے چاہے وہ ذاتی طور پر حق ہو یا نہ ؟ ممکن ہے خود حق ہویا خود حق نہ ہو ۔ مثلا قرآن ، ذاتی طور پر حجت ہے کوئی مانے یا نہ کوئی موافق ہو یا مخالف ، مسلمانوں کے درمیان ایک مسلم حقیقت ہے جو عین حق ہے ، لذا اہل قرآن اس کے ذریعہ حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں اسی طرح اگر کوئی کسی دینی مسئلہ میں مخالف ہے۔تو اس پر غلبہ پانے کے لیے بھی قرآن بہترین وسیلہ ہے اور اعلیٰ ترین حجت ہے ، مثلا اگر کوئی امام کو اللہ کی طرف سے نہ مانے بلکہ لوگوں کے انتخاب کو میزان قرار دے تو اسے مغلوب کرنے کے لیے آیات قرآنی سے احتجاج کریں گے اور حجت قائم کریں گے کہ اصلا بشر اما م کو انتخاب کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، اسی طرح سنت معصوم × اور صحاح ستہ اہل سنت کے نزدیک حجت ہیں اب اگر کسی مسئلہ میں شیعہ سنی کا اختلاف ہو جائے تو شیعہ ، سنی کو مغلوب کرنے کے لیے صحاح ستہ سے احتجاج کرئے گا ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ حجت جو برھان ہے وہ ہر صاحب عقل و خرد جو حقائق کو کشف کرنے کے درپے ہیں اسکی ہمیشہ کی ضرورت ہے برھان کے بغیر وہ معرفت کا ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا لیکن حجت جو مجادلہ اور مناظرہ میں ہوتی ہے یہ ہر صاحب مکتب کی ضرورت ہے البتہ اسے وسعت دی جاتی ہے ہر مسئلہ میں دو مخالف چاہے ایک بڑے مکتب فکر کے ہیں یا کسی جزئی مسئلہ میں اختلاف نظر رکھتے ہوں ۔ یہاں پر بھی بہترین طریقہ برھان ہے اپنے مقابل کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ اس کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے لیکن اھداف مختلف ہیں جیسے استاد شاگرد کے درمیان مطلب روشن کرنے کے لیے ۔ نبی اور امت کے درمیان ، امام اور رعایا کے درمیان ،خالق اور مخلوق کے درمیان ، عبد اور معبود کے درمیان احکام شرعیہ کے لحاظ سے ۔
خود برھان
خود برھان بھی مراتب کے لحاظ سے قسمیں رکھتا ہے ۔ برھان فکری : کہ عام طور پر رائج ہے تمام علوم نظری میں استعمال ہو تا ہے ۔
برھان وجودی
جو کہ فکر سے ماورا ہے اسے دل اور وجود سے پایا جاتا ہے ، جسے برھان عینی اور شھودی کہتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی اس رزق کی روزی عطا فرماتا ہے۔یہ برھان ،یقین کی تین اقسام کے لحاظ سے تین قسموں میں تقسیم ہو سکتا ہے 1۔وہ برھان جو علم الیقین میں استعمال ہو 2۔ وہ برھان جو عین الیقین میں واقع ہو 3۔ جوبرھان حق الیقین میں محقق ہو ۔
خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے فکر کے علاوہ جہان کی موجودات کو بشر کے لیے حجت قرار دیا ہے ، زمین و آسمان اللہ کی خالقیت پر حجت ہیں اس جہان میں جو باریکیاں اور نزاکتیں ہیں وہ اللہ کےعلم و قدرت اور حکمت پر حجت اور دلیل ہیں ۔
دریا ،پہاڑ اور حیوانات کو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ پر حجت قرار دیا ہے اونٹ ، شہد کی مکھی ، چیونٹی ، قرآن مجید میں حجت وجودی کے نمونے ہیں ۔شمس و قمر ، چاند و ستارے خدا کی طرف سے بشر کے لئے حجت ہیں کہ وہ فقط اسی کو خالق مانیں ۔ انسان کے کروڑوں اربوں افراد ہیں جن سب کے اعضاء ایک جیسے ہیں لیکن صورتیں مختلف ہیں ، حتیٰ کہ انگلیوں کے نشان بھی آپس میں نہیں ملتے یہ اسکی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ جس چیز میں دقت کرو وہ قدرتِ خدا پر روشن حجت ہے ۔سب سے بڑی حجت خود واجب تبارک و تعالیٰ ہے حقیقت میں تو حجت و ہی ہے باقی سب اس حجت کے ظہور سے ہمیں حجت نظر آتے ہیں ، اسماء خداوند متعال میں سے ایک اسم برھان ہے کہ یا برھان، ( دعا جوشن کبیر میں مذکور ہے ) ایک معنیٰ ذاتِ واجب کے برھان ہونے کا یہ ہے کہ وہ مخلوق کے لیے دم بدم الھی حجت قائم کرنے والا ہے یہ مطلب حضرت امام صادق× نے ابن ابی العوجا ء کے ساتھ بحث کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: فَقَالَ لِي وَيْلَكَ وَ كَيْفَ احْتَجَبَ عَنْكَ مَنْ أَرَاكَ قُدْرَتَهُ فِي نَفْسِكَ نُشُوءَكَ وَ لَمْ تَكُنْ وَ كِبَرَكَ بَعْدَ صِغَرِكَ وَ قُوَّتَكَ بَعْدَ ضَعْفِكَ وَ ضَعْفَكَ بَعْدَ قُوَّتِكَ وَ سُقْمَكَ بَعْدَ صِحَّتِكَ وَ صِحَّتَكَ بَعْدَ سُقْمِكَ وَ رِضَاكَ بَعْدَ غَضَبِكَ وَ غَضَبَكَ بَعْدَ رِضَاكَ وَ حُزْنَكَ بَعْدَ فَرَحِكَ وَ فَرَحَكَ بَعْدَ حُزْنِكَ وَ حُبَّكَ بَعْدَ بُغْضِكَ وَ بُغْضَكَ بَعْدَ حُبِّكَ وَ عَزْمَكَ بَعْدَ إِبَائِكَ وَ إِبَاءَكَ بَعْدَ عَزْمِكَ وَ شَهْوَتَكَ بَعْدَ كَرَاهَتِكَ وَ كَرَاهَتَكَ بَعْدَ شَهْوَتِكَ وَ رَغْبَتَكَ بَعْدَ رَهْبَتِكَ وَ رَهْبَتَكَ بَعْدَ رَغْبَتِكَ وَ رَجَاءَكَ بَعْدَ يَأْسِكَ وَ يَأْسَكَ بَعْدَ رَجَائِكَ وَ خَاطِرَكَ بِمَا لَمْ يَكُنْ فِي وَهْمِكَ وَ عُزُوبَ مَا أَنْتَ مُعْتَقِدُهُ مِنْ ذِهْنِكَ وَ مَا زَالَ يَعُدُّ عَلَيَّ قُدْرَتَهُ الَّتِي فِي نَفْسِي الَّتِي لَا أَدْفَعُهَا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ فِيمَا بَيْنِي وَ بَيْنَه‏
وہ اللہ تجھ سے کیسے مخفی ہے جو تجھے تیری ذات اور نفس میں اپنی قدرت دکھا رہا ہے حضرت معرفت انفسی سے معرفت اللہ کی سیر کرانا چاہتے ہیں ۔پھر تفصیل میں ارشاد فرماتے ہیں : تیرے نہ ہونے کے بعد تیری پیدائش تیرے بچپنے کے بعد بڑا ہونا ، تیرا ضعف و ناتوانی کے بعد قوی ہونا پھر تیرا ضعیف ہونا ،تیرے قوی ہونے کے بعد ( یعنی بچپنے سے جوانی ، پھر جوانی سے بڑھاپا) بیماری کے بعد صحت اور صحت کے بعد بیماری ، تیری رضایت ناراضی کے بعد اورتیری ناراضی رضایت کے بعد ، تیرا غم تیری خوشی کے بعد اور تیری خوشی تیرے غم کے بعد ، تیری محبت تیری عداوت کے بعد اور تیری عدوات تیرے غضب کے بعد، تیرا چا ہنا اور جلب کرنا، تیرے نا پسند کرنے ، کراہت کے بعد اور تیرا نفرت کرنا اسے چاہنے اور نا پسند کرنے بعد ، تیرا رغبت اور میلان کرنا تیرے منہ موڑنے کے بعد اور تیرا منہ موڑنا تیری رغبت کے بعد تیری امید تیری نا امیدی کے بعد اور تیری ناامیدی تیرے امید وار ہونے کے بعد تیرا ذہن میں آنا ، تیرے ذہن کے خالی ہونے کے بعد ، تیری یاد کا چلا جانا اس سے جو تیرا اعتقاد تھا ۔
ابن ابی العوجاء کہتا ہے کہ حضرت اسی طرح میرے اوپر وہ جو میری ذات میں اللہ کی قدرت کے شاہکار تھے گنواتے گئے ، کہ جن سے میں انکار نہیں کر سکتا تھا یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ عنقریب اللہ تبارک و تعالیٰ میرے اورحضرت کے درمیان ظاہر ہو جائے گا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ ایسا برھان ہے جو دم بدم ہر شے کے لیے حجت بن کر ظاہر ہو رہا ہے اس لیے سورۃ بقرہ میں ارشاد فرمایا(قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ)
اے میرے نبی انہیں کہو کہ تم ہمارے ساتھ اللہ کی بحث کو جاری رکھو گے اور مقام احتجاج پر اسی طرح آگے بڑھتے رہو گے ، درحالانکہ وہ ہمارا پروردگار ہے وہ ہماری پر ورش کرنے والا ہے ، اس حجت سے بڑی حجت کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ہماری پرورش فرمارہا ہے نطفہ سے لیکر زندگی کے تمام مراحل میں اسکی تدبیر سے ہم پرورش پا رہے ہیں ۔
پھر سورۃ(الأنعام )149 میں ارشاد فرمایا(قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ فَلَوْ شاءَ لَهَداكُمْ أَجْمَعينَ) کہو کہ اللہ تبارک تعالیٰ کے لیے تم پر حجت بالغہ ہے اور حجت بالغہ وہ ہوتی ہے جو عالم و جاہل ہر ایک تک پہنچ جائے ، پس ہر ذی شعور ،ادنی عقل رکھنے والااگر سوچے تو اس پر اللہ کی حجت تمام ہے کہ کس نے خلق کیا کس نے ماں باپ کے دل میں محبت ڈالی ، کس نے لامحدود نعمتیں عطا کر کے ہماری ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے کتابیں نازل کیں ؟کس نے ہمیں عقل عطا فرما یا؟ یہ ہے کہ جتنی بھی اپنے اندر فکر اور ملاحظہ کرے گا تو اپنے اوپر اللہ کی حجت کو تمام سمجھے گا ۔
معنی دوم
اللہ تبارک و تعالیٰ کے برھان ہونے کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے ، ہر مجہول کو ظاہر کرنے والا ہے ہر مجہول کو ، ہر ایک کے لیے، معلوم بنانے والا ہے وہ جو کسی کے لیے علم بنتا ہے ۔ا سے علم واقع کرنے والا اللہ ہے پس اس کے لیے اسم برھان ہے۔پس ذات واجب اپنے غیر پر برھان ہے جسطرح وہ اپنے اوپر برھان ہے ، اپنے غیر کو علم دے اوراسے ظاہر فرمائے تو ذات حق اور اپنا عرفان عطاء فرمائے اور اپنے آپ کو ظاہر کرئے تو بھی ذاتِ واجب عزوجل ، پس وہی ہر شے کا علم دینے والا اور ہر مجہول کو معلوم بنانے والا پس اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی حجت ہے ۔ جو ہر ایک پر واضح اور روشن ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے غیر پر برھان ہونا
سورۃ نو ر میں ارشاد فرمایا ” اللَّهُ نُورُ السَّماواتِ وَ الْأَرْض ” اللہ آسمانوں ور زمین کا نور ہے اللہ کے نور اور ظہور سے زمین آسمان موجود منور اور عالم ہوتےہیں چونکہ ہر موجود ، فطرتاً معر فت حق تبارک و تعالیٰ رکھتی ہے (ان من شی الاّ یسبح اللہ بحمدہ) اسم برھان کے ظہور کے نور سے ہر شے اللہ کی معرفت حاصل کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا اپنے غیر کے لیے برھان ہونے کا یہی معنی ہے ۔
ذات واجب تبارک و تعالیٰ کا اپنے اوپر برھان ہونا
قرآن مجید میں ارشادفرمایا : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ ۔خو د اللہ تبارک و تعالیٰ شاھد ہے اس پر کہ کوئی الہٰ نہیں مگر وہی ۔ذات واجب تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر برھان و حجت اور دلیل ہے ، دعا صباح میں حضرت امیر المومنین علی × ارشاد فرماتے ہیں۔یا من دل علیٰ ذاتہِ لذاتہ، اے وہ ذات جو اپنی ذات پر خود (بذاتہ) دلیل ہے ۔ دعا ابو حمزہ ثمالی میں امام زین العابدین × ارشاد فرماتے ہیں( بِكَ عَرَفْتُكَ وَ أَنْتَ دَلَلْتَنِي عَلَيْكَ وَ دَعَوْتَنِي إِلَيْكَ وَ لَوْ لَا أَنْتَ لَمْ أَدْرِ مَا أَنْت‏) تیرے ذریعہ سے میں نے آپ (اللہ ) کی معرفت حاصل کی میرے لیے اپنے اوپر توخود دلیل و برھان اور حجت ہے ۔
دعا عرفہ میں حضرت امام حسین × فرماتے ہیں (أَ يَكُونُ لِغَيْرِكَ مِنَ الظُّهُورِ مَا لَيْسَ لَكَ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَكَ مَتَى غِبْتَ حَتَّى تَحْتَاجَ إِلَى دَلِيلٍ يَدُلُّ عَلَيْك‏)آیا تیرے غیر کے لیے کوئی ذرہ ظہور کا ہے جو تیرے لیے نہ ہو؟( یعنی ہر ظہور ، تیرا ظہور ہے ) تو کب غائب ہوا ہے ؟ تاکہ ہم تیرے بغیر کسی دلیل کے محتاج ہوں جو آپ پر دلالت کرے ؟ یعنی تو ہمیشہ ظاہر ہے ، تو ہمیشہ حجت اور برھان ہے جو اپنے آپ کو ظاہر فرما رہا ہے ( وَ مَتَى بَعُدْتَ حَتَّى تَكُونَ الْآثَارُ هِيَ الَّتِي تُوصِلُ إِلَيْكَ عَمِيَتْ عَيْنٌ لَا تَرَاك‏) اس فراز میں امام حسین × غیر کے اللہ پر دلیل ہونے کی نفی فرما رہے ہیں اور کب تو دور ہوا ہے تاکہ آثار اور افعال وہ ہوں جو تجھ تک پہنچائیں۔ بلکہ تو خود اپنے تک پہنچانے والا ہے ۔ اس لئے ارشاد فرماتے ہیں :اندھی ہے وہ آنکھ (چشم قلب) جو تجھے نہیں دیکھتی ، چشم بینا قلب کے لیے تو ہر طرف ہمیشہ ظاہر ہے ( اینما تو لو فثم وجہ اللہ)جدھر رخ کرو ادھر وجہ اللہ ہے ادھر اللہ کا نور اور برھان ہے جو حجت بن کر ظاہر ہے ۔ اس لیے مولیٰ الموحدین علی × ارشاد فرماتے ہیں (ما رایت شئیا الا و رایت اللہ قبلہ و بعدہ و معہ) میں کسی کو نہیں دیکھتا مگر اس شے سے پہلے اس کے بعد او ر اس کے ساتھ اللہ کو دیکھتا ہوں یہی معنی ہے اس فرمائش کا کہ (اعرفو اللہ بااللہ ) اللہ کی معرفت حاصل کرو اللہ کے ذریعہ سے ، جب اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر دلیل و حجت ہو گا تو معرفت اللہ باللہ ہو گی ، لذا فرمایا: اللہ کی معرفت اسی نے ہی تو حاصل کی ہے جس نے اللہ کو خود اسی سے پہچانا ہے، جس نے اللہ کو اس کے غیر سے پہچانا ہے اس نے اللہ کو نہیں پہچانا اس نے اللہ کے غیر کو پہچانا ہے ۔یہ اس وقت ہو گا جب ذات واجب خو د اپنے اوپر حجت اور دلیل ہو گی پس ذاتِ واجب کا حجت ہونا روشن ہو گیا۔
مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَعْرِفُ اللَّهَ بِحِجَابٍ أَوْ بِصُورَةٍ أَوْ بِمِثَالٍ فَهُوَ مُشْرِكٌ لِأَنَّ حِجَابَهُ وَ مِثَالَهُ وَ صُورَتَهُ غَيْرُهُ وَ إِنَّمَا هُوَ وَاحِدٌ مُتَوَحِّدٌ فَكَيْفَ يُوَحِّدُهُ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ عَرَفَهُ بِغَيْرِهِ وَ إِنَّمَا عَرَفَ اللَّهَ مَنْ عَرَفَهُ بِاللَّهِ فَمَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ بِهِ فَلَيْسَ يَعْرِفُهُ إِنَّمَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ
اب کوئی اور حجت نہیں ہو گا مگر وہ جسے خود خدا حجت قرار دے ، اور جسے ذاتِ واجب اپنے اوپر حجت قرار دے گی یقیناً اس سے اللہ کا نور ظاہر ہو گا اور نور خدا وند متعال ہو گا ۔وہ انبیاء اور آئمہ معصومین ^ ہیں جو مخلوق کے لیے اللہ پر اللہ کی حجت ہیں اور اما م نبی اور رسول سے بھی بڑی حجت ہے اور آئمہ معصومین^ اللہ کی حجت بالغہ ہیں جو عالم و جاہل ہر ایک تک پہنچی ہوئی ہیں ، لذا جو منکر امام زمان × ہے وہ اپنی فطرت اولیہ ( فطرت اسلام ) کا انکار کر رہا ہے ، اور فطرت اسلام کا انکار کرے وہی تو کفر و جہالت پر ہے اور جہالت پر موت ہے لذ ا بروز قیامت جتنا بڑا عالم ہو جو ڈگری رکھتا ہو جاہل محشور ہو گا کیونکہ اللہ اور اسکی حجت کی معرفت نہیں رکھتا۔
حجۃ اللہ کا اللہ اور مخلوق کے درمیان ہونا ضرورت ہے
مسلمات امامیہ میں سے ہے کہ حجۃ اللہ کا ہونا واجب ہے احادیث کی کتابوں میں باب الا ضطرار الیٰ الحجۃ منعقد ہے ، جس میں اثبات ہو اہے کہ حجۃ اللہ کا وجود مضطرّ الوجود ہے یعنیٰ ضروری اور لازم الوجود ہے اصول کافی کتب الحجۃ کا پہلا باب اسی طرح وافی میں اور بحارالانوار کتاب الامامۃ کا پہلا باب یہی ہے ، حجۃ اللہ جہان اور عالمین کی ضرورت ہے نظام تکوین ہو یا تشریع، اللہ کی حجت ہر مقام پر ہمیشہ ضروری ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دو نظام ہے ۱۔نظام تکوین ۲۔نظام تشریع،۱۔نظام تکوین: پورا جہان ایک نظام کے تحت خلق ہوا ہے (وَ ما خَلَقْنَا السَّماءَ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَيْنَهُما باطِلاً )ہم نے زمین اور آسمان اور وہ جو انکے درمیان ہے باطل خلق نہیں کیا ۔ بلکہ ہر شی کی خلقت ایک حکمت اور ہدف کے لیے ہے!لذا ایک خاص نظام کے تحت خلق کیا گیا ہے اگر نظام خلقت میں نظم نہ ہو تو خلقت با طل ہو گی جو خالق حکیم سے محال ہے (أَلا إِلَى اللَّهِ تَصيرُ الْأُمُورُ ) تمام اشیاء ایک نظام کے تحت خدا کی طرف ہوتی چلی جا رہی ہیں خصوصا ً انسان کے بارے میں فرمایا (أَ فَحَسِبْتُمْ أَنَّما خَلَقْناكُمْ عَبَثاً وَ أَنَّكُمْ إِلَيْنا لا تُرْجَعُونَ ) ۔آیا تم نے گما ن کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کیا ہے ؟ تمھارا کوئی ہدف نہیں ہے! نہ نہ، ایسا نہیں ہے بلکہ تمھیں ایک نظام کے تحت ایک مقصد کے لیے خلق کیا گیا ہے جسکی بنیاد پر تمہارا حساب کتاب ہو گا لذا اس آیت کے بعد فرمایا(وَ أَنَّكُمْ إِلَيْنا لا تُرْجَعُونَ ) تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تمہیں ہماری طرف پلٹایا نہیں جائے گا ؟ ایسا نہیں ہے بلکہ تم ضرور ہماری طرف پلٹائے جاؤ گے ۔ (إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ ) ہر شے اللہ سے ہے اور اللہ کی طرف پلٹنے والی ہے ۔
ا س نظام ہدایت کو خود خداوند متعال بیان فرمارہے ہیں ۔قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى ۔ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اسکی ہدایت کی ہے ، ہر شے کی ہدایت وہی نظام تکوینی ہے مثلا نطفہ کا بننا رحم میں آنا ، جما ہو اخون بن کر لوتھڑا بننا پھر ہڈیوں کا پیدا ہو نا اور اس پر گوشت کا چڑھنا اور بالآ خر روح کا پھو نکنا اور پھر شکم کی دنیا سے نکلنا پھر مراحل طے کرنا ، بچپنا، لڑکپن ، جوانی ، بڑھاپا ، بالآخر موت اور برزخ اور اس کے مراحل، قیامت اور اسکے مواقف ، یہ سب کچھ ایک بہترین نظام کے تحت واقع ہو رہاہے ، لذا فرمایا : الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الإنْسَانِ مِنْ طِينٍ
اللہ وہ ہے جس نے ہر شے کو احسن اور بہترین خلق فرمایا ہے ، حُسن کے آخری درجہ پر اس نے نظام خلقت کو ختم فرمایا ہے۔اس طرح ہر شی دوسری سے مربوط ہے کہ اگر پردہ اٹھا دیا جائے تو ایک امر نظر آئے گا ،و ما امرنا الا واحد ، ہمارا کوئی امر نہیں مگر ایک ، لذ اتحقیق سے روشن ہوا ہے کہ اگر کائنات کی تمام آوازیں جمع کریں تو منظم ہو کر ایک آواز اور موسیقی ہو گی ، لذا ہر شے اپنے مقام پر بہترین ہے کوئی شے حسن سے خالی نہیں اسی وجہ سے بعض معتقد ہیں اس جہان کا نام قوسموس یعنی حسِین رکھا جائے۔خلقت جہان کو ایک نظام تکوینی کے تحت ماننا مومنوں کی علامت ہے لذ اقرآن مجید میں ارشاد فرمایا ، وہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے اللہ کی یاد میں ہیں آسمانوں اور زمین کی خلقت میں فکر کرنے والے ہیں تو وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے اس جہان کو باطل اور بلانظم خلق نہیں فرمایا ، تیری ذات اس سے پاک و منزہ ہے پس ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا(الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ )
پس مومنین زمین اور آسمان میں فکر کر کے اس نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں کہ خلقت ایک نظام کے تحت ہے لذا جَو کاشت کریں تو گندم پیدا نہیں ہو گی برا کام انجام دیں تو ثواب نہیں ملے گا۔اور دوسری طرف جو اس نظام تکوینی کا قائل نہیں اسے کافر کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔ذالک ظن الذین کفروا! کافروں کا نظریہ ہے اور یہ نظریہ باطل ہے اس لیے اللہ نے انکے نظریے کو گمان سے تعبیر فرمایا۔پس ذرہ سے لیکر فلک تک ،پہلے جہان سے لیکر آخری جہان تک دنیا سے لیکر آخرت تک ، لوح ، قلم ، عرش و کرسی ، جنت و جہنم سب ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں جسے نظام تکوینی کہا جاتا ہے ۔
نظام تشریعی
نظام قوانین شریعت ایک نظام تشریعی ہے اصول و فروع اخلاق و احکام ، امر و نہی سب ایک نظام کے تحت ہیں جنہیں اللہ کا تشریعی نظام کہا جاتا ہے ۔حجۃاللہ ہر دو نظام الھیٰ کی ضرورت ہے حجۃ اللہ کے بغیر کوئی نظام الھیٰ نہیں چل سکتا لہذا حضرت امام رضا × امامت کی تعریف میں ارشاد فرماتے ہیں ۔
(إِنَّ الْإِمَامَةَ زِمَامُ الدِّينِ وَ نِظَامُ الْمُسْلِمِينَ وَ صَلَاحُ الدُّنْيَا وَ عِزُّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْإِمَامَةَ أُسُّ الْإِسْلَامِ النَّامِي وَ فَرْعُهُ السَّامِي‏ )تحقیق امامت دین کی باگ ڈور ہے مسلمانوں کا نظام ہے دنیا کی مصلحت ہے مومنوں کی عزت ہے ،تحقیق امامت نشوونما پانے والے اسلام کی جڑ اور بنیاد ہے اور اسلام کی بلند چوٹی بھی ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے جو شی صادر ہو وہ ایک نظام اور قانون کے تحت ہے پورے نظام کی اصل اور اساس امام حجۃ اللہ ہے ، جس پر وہ شے واقع ہوتی ہے ۔ پھر کائنات میں اپنے مقام پر قرار پائی ہے اس الھیٰ نظام میں حجۃ اللہ تمام عالمین سے بلند اور ذات ِ واجب کے تحت واقع ہے اگر مخلوق اور اللہ کے درمیان نظام میں امامت نہ ہو اور امام حجۃ اللہ بن کر موجود نہ ہو تو اصلا جہان پیدا ہی نہیں ہو گا جسطرح کہ جہان کے پیدا ہونے کے بعد حجۃ اللہ کو اٹھا دیا جائے تو جہان باقی نہیں رہے گا ، پس حجۃ اللہ کا مقام روشن ہو گیا کہ حجۃ اللہ مقامِ و ساطۃ الھیّہٰ ہے۔ ہر نزول اور صعود میں حجۃ اللہ واسطہ فیض ہے ۔
دلائل
حجۃ اللہ کے اس مقام پر استدلال کرنے کے لیے اور اس حقیقت کو کشف کرنے کے لیے مذکورہ بالا ابواب میں آئمہ ^ سے صادر ہونے والی نورانی احادیث میں براہین کشف ہوتے ہیں ، جنکی طرف اجمال کے ساتھ اشارہ ہوا چاہتا ہے ۔
دلیل اوّل
امام صادق × نے ایک زندیق کے لیے حجۃ اللہ کی ضرورت پر اس طرح استدلال فرما یا : جب ثابت ہو اکہ ہمارا یک خالق اور صانع ہے جو تما م مخلوق سے ارفع اور بلند ہے کہ اسکی بلندی کو تصور نہیں کیا جا سکتا اور مخلوق پستی کی انتہا پر واقع ہے دوسری طرف یہ کہ اس نے خلقت عبث و فضول نہیں کی بلکہ اس حکیم مطلق نےایک حکمت اور نظام پر خلق فرمایا ہے ۔
تیسری طرف یہ ہے کہ اس حکمت کے تحت نظام ہو جو مخلوق کو خالق سے مربوط کرے اور اس خالق کے قوانین احکام ہوں جن پر مخلوق عمل کر کے اپنے ہدف خلقت کو حاصل کرے تو یہاں پر ضرورت ہے کہ وہ مخلوق اپنے خالق کا مشاھدہ کر سکے اور مخلوق اپنے خالق کے روبرور ہو کر اپنے مسا ئل کا حل حاصل کرے مخلوق اپنے عمل و کردار کے لحاظ سے اپنے احکام اور نظام کے نافذ کرنے کے لیے مخلوق پر احتجاج کرے اور حجت قائم کرے ۔ جبکہ یہ سب کچھ ذاتِ خالق کے لیے جائز نہیں نہ اسکا سر کی آ نکھ سے مشاھدہ کیا جا سکتا ہے نہ مخلوق اسکے روبرو ہو کر اسے چھو سکتی ہے کیونکہ اسکا لازمہ یہ ہے کہ خالق جسم میں محدود ہو جائے جو خالق حقیقی کے لیے ممتنع اور محال ہے اللہ خالق جسم ہے لیکن جسم نہیں ۔
تو یہاں پر ایک موجود کی ضرورت ہے جو اس مخلوق سے مافوق اور بلند ہو ۔جو اس جسم کے رکھتے ہو ئے ایک جو ہر کو رکھتاہو جسکے ذریعہ وہ اسکا مشاہدہ کرے اور رابطہ قائم کرے اس سے اس کے احکام لے کر اس کی مخلوق تک پہنچائے اور مخلوق کو خالق سے مربوط کر دے اب یہ موجود وہی ہے کہ جسے اللہ نے حجۃ اللہ قرار دیا ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ نے اپنی مخلوق پر احتجاج اور استدلال قائم فرمائے گا چاہے نظام تکوین ہو چاہے نظام تشریع ہو اب یہ حجۃ اللہ نبی ہو یا رسول ہو یا امام ہو ۔ البتہ اللہ کی بڑی حجت امام معصوم علیہ السلا م ہیں ۔
دلیل دوّم
امام × حجۃ اللہ کو عالمین اور تمام جہانوں میں قلب اور دل قرار دے رہے ہیں جسطرح جسم انسان میں قلب اور دل ہے اور باقی اعضاء اس سے قائم اور باقی ہیں اسی طرح تمام جہانوں کی ہر شے امام سے قائم اور باقی ہے ۔
اس باب کی تیسری حدیث یہی مطلب بیان کر رہی ہے ۔ ھشام ابن حکم نے عمرو ابن عبید سے مسجد بصرہ میں مناظرہ کر کے اس حقیقت کو ثابت کیا اور یہ استدلال کچھ اس قدر عظیم اور محکم تھا کہ امام صادق × نے ہشام کو فرمایا : کہ ایک مرتبہ بتا کہ تم نے عمرو ابن عبید کو کیسے خاموش کیا ؟
اور کس انداز میں تو نے استدلال قائم کیا؟ تو ہشام نے عرض کی ۔مولیٰ مجھے شرم آتاہے کہ آپ حجۃ اللہ کے سامنے اما م پر حجت قائم کروں؟حضرت نے فرمایا : جب کسی شے کاا مر کروں تو پھر انجام دینا لازم اور واجب ہے تو اب ہشام سمجھا کہ اس میں حکمت اور راز ہے گویا کہ اس استدلال کو امام بطور حجت قیا مت تک باقی رکھنا چاہتے ہیں اب جبکہ امر ِ امام ہے تو واجب سمجھ کر ادا کروں۔اور حضرت کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ ایک مناظرہ تاریخی بن کر نہ رہے بلکہ ایک برھا ن عظیم بن کر حجۃ اللہ کے ایک مقام کو روشن کرئے ۔ تو اب ہشام ابن حکم نے عرض کیا کہ میں مسجد بصرہ میں پہنچا تو مسجد کھچا کھچ بھری تھی درمیان میں عمرو ابن عبید بیٹھا لوگوں کے سوالوں کا جواب دے رہا تھا میں نزدیک ہو اور زانو پر بلند ہو کر کہا اے عالم میں مسا فر ہوں مجھے سوال کرنے کی اجازت ہے ؟ اس نے مجھے اجازات دی تو میں نے کہا :آیا تیری آ نکھ ہے ؟ تو اس نے کہا یہ کوئی سوال ہے ؟ جسے تو دیکھ رہا ہے پھر اس کا سوال کر رہا ہے ؟
ہشام نے کہا میرا سوال اسی طرح کا ہے تو اس نے کہا اچھا پوچھ! اگر چہ تیرا سوال بےوقوفوں والا ہے تو میں نے کہا تیری آ نکھ ہے ؟ اس نے کہا ہاں ہے ۔میں نے کہا تو آ نکھ سے کیا کرتا ہے ؟ تو اس نے کہا اس کے ذریعہ ر نگ اور اشخاص دیکھتا ہوں پھر میں نے پو چھا تیرا ناک ہے ؟ اس نے کہا ہاں ہے ، میں نے کہا تو اس ناک سے کیا کر تا ہے ؟ اس نے کہا میں اس سے بو سونگھتا ہوں میں نے کہا تیرا منہ ہے اس نے کہا ہاں ہے میں نے اس سے کہا تو اس سے کیا کرتا ہے ؟ اس نے کہا میں اس سے ذائقہ اور مزہ چکھتا ہوں ۔ میں نے کہا تیرا کان ہے ؟ اس نے کہا ہاں ؛ میں نے کہا اس سے تو کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا اس کے ذریعہ آواز سنتا ہوں میں نے کہا کیا تیرا دل ہے ؟ اس نے کہا ،ہاں ہے میں نے کہا اس سے کیا کرتا ہے ؟ اس نے کہا میں دل کے ذریعہ ہر وہ شے جو ان اعضاء اور جوارح پر وارد ہوتی ہے تمیز دیتاہوں ( مثال کے طور پر رنگ ہے کو ن شخص ہے کیسی بو ہے کس کی بو ہے کو ن سا مزہ ہے کس شی کا مزہ ہے ؟) تو میں نے کہا کیا اعضاء دل سے بے نیاز نہیں ہو سکتے؟ اس نے کہا نہ نہیں ہو سکتے میں نے کہا کیوں جب کہ یہ اعضاء صحیح و سالم ہیں تو اس نے کہا اے میرے بیٹے ( کیونکہ ہشام بن حکم جوان تھے اور وہ ایک پکی عمر کا مرد تھا) جب اعضاء کسی شے میں شک کریں بو ہو یا ذائقہ مشہود ہو یا مسموع تو وہ اعضاء اس دل کی طرف پلٹتے ہیں ا ور دل یقین عطا کرتا ہے اور شک کو باطل کرتاہے تو میں نے کہا کہ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے دل کواعضاء جوارح کے شک کو زائل کرنے کے لیے قائم کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں! میں نے کہا؛ پس دل کا ہونا ضروری ہے ورنہ اعضاء و جوراح یقین حاصل نہیں کرپائیں گے ( دوسرے لفظوں میں ہشام نے کہا بس دل ، اعضاء کی ضرورت ہے ؟) تو اس نے کہا ہاں ایسا ہی ہے ۔
تو اس وقت میں نے کہا اے ابو مروان !اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیرے اعضاء و جوراح کو ایسا نہیں چھوڑا یہاں تک کہ انکے لیے امام قرار دیا جو انکے لیے صحیح کو صحیح قرار دے جس میں وہ شک کریں انہیں یقین عطا کرے ۔کیااسی خدا نے پوری مخلوق کو شک و حیرانی میں چھوڑ دیا ہے کہ یہ اسی طرح اختلافات میں باقی رہیں اور اس پوری مخلوق کے لیے امام اقرر نہیں دیا ، جس کی طرف یہ اپنے شک اور حیرانی کو لے جائیں؟ جبکہ اس اللہ نے تیرے لیے امام قرار دیا ہے کہ تیرے اعضاء اپنی حیرت اور شک کو اسکی طرف لے جاکر یقین حاصل کریں ؟ ہشام کہتے ہیں وہ چپ ہو گیا اس کے بعد اس نے کچھ نہیں کہا اور فکر کرنے کے بعد کہا تو ہشام بن حکم ہے آخر پر امام صادق× نے ہشام کو ارشاد فرمایا:یہ برھان تجھے کس نے تعلیم فرمایا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا ایک مطلب آپ سے لیا اور اسے ترتیب دے کر بیان کیا تو امام نے ارشاد فرمایا (ھذا واللہ مکتوب فی صحف ابراھیم و موسیٰ )یہ برھان اللہ کی قسم! حضرت ابراہیم اور موسیٰ ‘ کے صحیفوں میں مکتوب ہے،جس طرح دل، اعضا کی ضرورت ہے اسی طرح امام جہان کی ضرورت ہے جسطرح اعضاء دل سے مربوط ہیں اسی طرح پورا جہان امام سے مربوط ہے ۔ جسطرح اعضاء دل سے قائم اور باقی ہیں اسی طرح پورا جہان امام حجۃ اللہ سے قائم اور باقی ہے جس طرح دل کاحکم اور فیصلہ اصل واقعیت اور حقیقت ہے اسی طرح امام کا حکم اور فیصلہ واقعیت اور حقیقت ہے پس امام مخلوق میں قلب اور دل کی طرح ہے امام حجۃ اللہ کا جہان میں ہونا واجب اور ضروری ہے جسطرح قلب اور دل اعضاء اور جوارح پر حجت ہیں اسی طرح امام پوری مخلوق پر حجت ہے ۔
دلیل سوّم
جب ثابت ہو ا کہ ہمارا ایک خالق اور رب ہے اسی طرح اس خالق نے مخلوق کےلیے احکام اور قوانین بنائے ہیں کہ مخلوق جن پر عمل کر کے اپنے مقصد تک جا پہنچے ان احکام کے انجام دینے کے ساتھ خالق کی رضا ضروری ہے کہ خالق مخلوق پر راضی ہو ورنہ عمل فضول اور باطل ہے ، رضایت اور ناراضی ایک نفسانی عمل ہے اور ایک کیفیت نفسانی ہے اور ہمارا خالق اور ربّ اس سے منزہ ہے کیونکہ کیفیت کا لازمہ تغییر ہے رضا سے ، غضب کی طرف اورغضب سے رضا کی طرف ، یہ تبدیلی اس میں ہوتی ہے جو محل حواداث نہیں ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ محل حوادث بنےاور یہ رضااور غضب حادث ہیں جبکہ ہمارا خالق قدیم ہے جسطرح امام صادق × نے جواب دیا جس نے اللہ کی رضا اور غضب کے بارے میں سوال کیا ہے( عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَهُ رِضًى وَ سَخَطٌ قَالَ نَعَمْ وَ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى مَا يُوجَدُ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ وَ ذَلِكَ لِأَنَّ الرِّضَا وَ الْغَضَبَ دَخَّالٌ يَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَنْقُلُهُ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ مُعْتَمِلٌ مُرَكَّبٌ لِلْأَشْيَاءِ فِيهِ مَدْخَلٌ وَ خَالِقُنَا لَا مَدْخَلَ لِلْأَشْيَاءِ فِيهِ وَاحِدٌ أَحَدِيُّ الذَّاتِ وَ أَحَدِيُّ الْمَعْنَى فَرِضَاهُ ثَوَابُهُ وَ سَخَطُهُ عِقَابُهُ مِنْ غَيْرِ شَيْ‏ءٍ يَتَدَاخَلُهُ فَيُهَيِّجُهُ وَ يَنْقُلُهُ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ فَإِنَّ ذَلِكَ صِفَةُ الْمَخْلُوقِينَ الْعَاجِزِينَ الْمُحْتَاجِينَ وَ هُوَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ لَا حَاجَةَ بِهِ إِلَى شَيْ‏ءٍ مِمَّا خَلَقَ وَ خَلْقُهُ جَمِيعاً مُحْتَاجُونَ إِلَيْهِ إِنَّمَا خَلَقَ الْأَشْيَاءَ لَا مِنْ حَاجَةٍ وَ لَا سَبَبٍ اخْتِرَاعاً وَ ابْتِدَاعاً ۔
امام فرماتے ہیں : رضا اور غضب اور غصہ اللہ میں اس طرح نہیں ہے جس طرح مخلوق میں پایا جا تا ہے اور وہ یہ ہے کہ رضا اور غصہ مخلوق پر داخل ہو تا ہے اور اسے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور یہ عاجز اور محتاج مخلوق کی صفت ہے در حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ جو عزیز اور رحیم ہے وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کا بھی ذرہ برابر محتاج نہیں ہے اور اس نے سب کو اپنی طرف محتاج خلق فرمایا ہے اور تحقیق اللہ نے اشیاء کو بغیر احتیاج اور سبب کے خلق فرمایا ہے ۔ پس یہاں مخلوق اور خالق کے درمیان ایک موجود ہونا ضروری ہے جنکی رضا اللہ کی رضا اور انکی ناراضی اللہ کی ناراضی ہو اور وہ موجود حجۃ اللہ ہے لذا مخلوق کو اپنے خالق کی رضا معلوم کرنے کے لیے حجۃ اللہ کی ضرورت ہے کہ اللہ مخلوق پر حجۃ تمام فرمائے کہ ان کی رضا یت میں میری رضا یت ہے اور انکی ناراضی میں میری ناراضی ہے ۔
پس حجۃ اللہ ،اللہ کی رضا اور ناراضی کا میزان ہے ؛لذا اس کا وجود ضروری ہے اصول کافی کے اسی باب کی تیسری حدیث میں امام صادق× ارشاد فرماتے ہیں۔ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع إِنَّ اللَّهَ أَجَلُّ وَ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُعْرَفَ بِخَلْقِهِ بَلِ الْخَلْقُ يُعْرَفُونَ بِاللَّهِ قَالَ صَدَقْتَ قُلْتُ إِنَّ مَنْ عَرَفَ أَنَّ لَهُ رَبّاً فَيَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَعْرِفَ أَنَّ لِذَلِكَ الرَّبِّ رِضًا وَ سَخَطاً وَ أَنَّهُ لَا يُعْرَفُ رِضَاهُ وَ سَخَطُهُ إِلَّا بِوَحْيٍ أَوْ رَسُولٍ فَمَنْ لَمْ يَأْتِهِ الْوَحْيُ فَقَدْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَطْلُبَ الرُّسُلَ فَإِذَا لَقِيَهُمْ عَرَفَ أَنَّهُمُ الْحُجَّةُ وَ أَنَّ لَهُمُ الطَّاعَةَ الْمُفْتَرَضَة ۔
جس نے یہ معرفت حاصل کر لی ہے کہ اس کا رب ہے بس اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ معرفت بھی حاصل کرے کہ اس رب کی رضا اور ناراضی کیا ہے؟ اس رب کی رضا اور غصب کی معرفت حا صل نہیں ہو سکتی مگر وحی کے ذریعہ یا رسول کے ذریعہ پس جس پر وحی نازل نہیں ہوتی اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوؤں کی تلاش کرے پس جب ان سے ملاقات ہو گی تو معرفت آ جائے گی کہ وہی حجت ہےاور تحقیق ا نہی کے لیے اطاعت فرض اور واجب ہے۔حجۃ اللہ کی اطاعت سے اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور حجۃ اللہ کی نافرمانی میں اللہ کاغضب ٹوٹ پڑے گا، لذا حجۃ اللہ واجب الاطاعت ہے پس حتما ًاور یقیناً حجۃ اللہ معصوم ہے ۔
توحید صدوق اور معانی الاخبار اور بحار ج،۴۔ح،۶۔ص،۶۵ پرحدیث ہے کہ اما م صادق × نے (فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: يد، [التوحيد] مع، [معاني الأخبار] بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَلَمَّا آسَفُونا انْتَقَمْنا مِنْهُمْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَا يَأْسَفُ كَأَسَفِنَا وَ لَكِنَّهُ خَلَقَ أَوْلِيَاءَ لِنَفْسِهِ يَأْسَفُونَ وَ يَرْضَوْنَ وَ هُمْ مَخْلُوقُونَ مُدَبَّرُونَ فَجَعَلَ رِضَاهُمْ لِنَفْسِهِ رِضًى وَ سَخَطَهُمْ لِنَفْسِهِ سَخَطاً وَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ جَعَلَهُمُ الدُّعَاةَ إِلَيْهِ وَ الْأَدِلَّاءَ عَلَيْهِ وَ لِذَلِكَ صَارُوا كَذَلِكَ وَ لَيْسَ أَنَّ ذَلِكَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كَمَا يَصِلُ إِلَى خَلْقِه۔
تحقیق ا للہ تبارک و تعالیٰ اس طرح متاسف نہیں ہو تا جس طرح ہم افسوس کرتے ہیں لیکن اس نے اپنے لیے او لیاء خلق فرمائے ہیں جو متاسف ہوتے ہیں اور راضی ہوتے ہیں وہ مخلوق ہیں جن کی تد بیر کی گئی ہے پس اللہ نے انکی رضا کو اپنی لیے رضا قرار دیا ان کی ناراضی کو اپنے لیے ناراضی قرار دیا اس لیے انہیں اپنی طرف داعی قرار دیا اور اپنے اوپر دلیل اور حجت قرار دیا اور وہ اولیاء اس طرح ہوگئے۔ اللہ تک ویسے رضا و غضب نہیں پہنچتا جس طرح مخلوق کی طرف پہنچتا ہے ۔
چوتھی دلیل
چوتھی دلیل امام × کی ضرورت پر یہ ہے کہ امام قیّمُ القرآن ہے اور قیّم القرآن کا ہونا ضروری ہے پس امام × کا وجود ضروری ہے امام قیّم قرآن ہے اس پر دلیل حضرت ا مام صادق× کی فرمائش ہے جسےمرحوم کلینی نے کتاب الحجۃ کے پہلے باب کی دوسری حدیث میں نقل فرمایا ہے ۔
منصور ابن حازم نے امام صادق× کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپکی خدمت میں امامت اور امام کے وجود پر اس طرح استدلال پیش کرتا ہوں کہ میں نے لوگوں سے کہا ! آیا جانتے ہو کہ رسول خداﷺ اللہ کی طرف سے پوری مخلوق پر حجت ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں جانتے ہیں پس جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے چلے گئے پھر مخلوق پر اللہ کی حجت کون ہے ؟ پس انھوں نے کہا قرآن ، اب جب قرآن میں غور فکر کیا کہ سنی ہے جو مولا علی × کو چوتھی جگہ پر مانتے ہیں قدری کہ خدا کو فاعل مختار نہیں مانتے یا انسان کو خدا سے مستقل مانتے ہیں یہ سب لوگ اور حتیٰ کہ زندیق جو اس قرآن پر ایمان نہیں رکھتا ہر ایک قرآن سے استدلال کر رہا ہے ۔فعرفت انّ القرآن لایکون حجۃ الا بِقیّم ؛ پس میں نے عرفان پایا کہ تحقیق قرآن حجت نہیں ہو سکتا مگر قیم کے ساتھ (فما قال فیہ من شی کا ن حقاً)پس وہ قیم اس قرآن جو فرمائے گا وہی حق ہو گا۔اب میں نے کہا وہ قیم قرآن کون ہے ؟ تو اس وقت معلوم ہوا کہ حضرت علی× کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ جس سے بھی قرآن کے بارے میں پوچھا گیا کسی نہ کسی مقام پر اس نے کہا”لااَدری ” میں نہیں جانتا ؛ سوائے مولا علی ×کے ، کہ انھوں نے ہمیشہ فرمایا :”انااَدری” میں جانتاہوں اور کھبی “لااَدری”نہیں فرمایا:
فَاشھد ان علیاََ × کان قیّم القرآن و کانت طاعتہ مفتر ضۃ و کان الحجۃ علی النّاس بعد رسول ﷺ و ان ما قال فی القرآن فھو حقّ
پس میں نے شھادت دی کہ تحقیق علی ×قرآن کے قیم ہیں اور انکی اطاعت فرض ہے اور وہ لوگوں پر رسول اللہ کے بعد حجت ہیں پس جو علی × قرآن میں فرما ئیں گے وہی حق ہے ۔جب امام صادق × نے یہ استد لال سماعت فرمایا تو ارشاد فرمایا: (رحمک اللہ) اللہ تیرے اوپر رحمت نازل فرمائے اور جس کے بارے امام رحمت کی دعا کریں وہ خود دربار رحمت خدا میں کتنا غرق ہو گا، پس اس حدیث سے امام کا قرآن کے لیے قیم ہونا ثابت ہو گیا ۔اب اہم یہ ہے کہ اس قیّم کے معنی کو سمجھنا ہو گا ۔
معنی قیّم
یہ مادہ” ق،و،م” سے ہے واو علم صرف کے قواعد کے مطابق واو یا میں بدل جاتی ہے یہ اصل میں” قَیوِم یا قَوِیم “بروزن فیعل یا فعیل “ہے کہ اسے قیام سے لیا گیا ہے اس لفظ کے اصلی معنیٰ میں عمل کا بالفعل ہونا ضروری ہے وہ عمل جیسا ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے عمل مادّی ہو یا معنویٰ، عمل پر قائم ہونا یعنی عمل بالفعل محقق اور باقی ہے لہذا نماز قائم کرنا اور ہے اور نماز پڑھنا اور ہے بہرحال فعلیت عملی کا معنی ہر شے میں اس کے مطابق ہو گا اسی طرح یہ لفظ جس صیغہ میں جائے گا اس کے مطابق معنیٰ کیا جائے گا جبکہ یہ معنیٰ اصلی اس میں باقی رہے ۔اب قیم” صفت مشبّہ “ہے لذا مراد یہ ہوگی فعلیّت ہمیشہ اس میں محقق ہے؛لذا” قائم لنفسہ مقوم لغیرہ” ہے قیّم وہ ہے جسکی ذات قائم ہو اسکی ذات بالفعل ہو اور اس میں قوت و استعداد نہ ہو بلکہ وہ جہت خاص میں بالفعل ہو ، اور اپنے غیر کو قیام دینے والا اور اسے با لفعل فعلیت پر باقی رکھنے و الا ہو، قیم محتاج اور ناقص نہیں ہوتا بلکہ بے نیاز اورتام و تمام اور کامل ہوتا ہے ۔اب یہ قیم یا مطلق ہے جیسے ذات حق واجب تبارک و تعالیٰ کہ جس میں کسی قسم کا نقص نہیں کیونکہ ہر جہت سے واجب الوجود ہے ہر کمال اس میں بالفعل بطور اتمّ موجود ہے، یا قیم خاص ہے جو اسی خاص جہت کے لحاظ سے بالفعل اس امر پر قائم ؛کامل اور تام ہو اور غیر کو بھی یہ فعلیت خاصہ عطا کرے ۔
اسے باقی رکھے گا اسے منحرف نہ ہونے دے مثال کے طور پرقیم القوم:وہ ہے جو قوم کے امور کی تد بیر کر کے ان کے امور کو قائم رکھے یعنی قوم کے مصالح اور مفاسد کو دیکھ کر ہمیشہ قوم کے لیے منافع تیار رکھے، ہر ایک کی ضرورت فردی اور اجتماعی کو بالفعل محقق کیے ہوئے ہو ۔
قیّم القران
اب جب قیّم کا معنیٰ روشن ہوا تو قیّم القرآن کون ہو گا ؟ جو قرآن کو قائم رکھے معلوم ہے کہ قرآن کو قائم رکھنے والا خود قائم ہو گا اور کم از کم قرآن کی طرح قائم ہو اور وہ ہو سکتاہے جو حقیقت قرآن رکھتا ہو اب حقیقت قرآن کیا ہے ؟ حق یہ ہے کہ ہم فقط لفظ کی حد تک درک کرسکتے ہیں ورنہ قرآن کی حقیقت کو خود نازل کرنے کرنے والا اللہ حکیم جانتا ہے یاو ہ جس پر نازل فرمایا کہ خاتم النبین ﷺ ہیں یا وہ حقیقت قرآن کو سمجھے گا جو خلیفۃ اللہ ہے اور نفس الر سول ہے ۔بہر حال قرآن کا قیم وہ ہو گا جو حقیقت قرآن کو واجد ہو اسکی ذات بالفعل حقیقت قرآنیہ ہو وہ قطعا قرآن کی ہر شے کا عالم ہو لفظ معنیٰ ،ظاہر ، باطن تفسیر تاویل ، محکم متشابہ ، عام خاص مطلق مقیّد، نا سخ و منسوخ ، خلاصہ قرآن کی ہر شان ہر مقام ، ہر مرتبہ کا عالم ہو وہ علم بھی اس علم کی طرح معمولی نہیں ہو گا بلکہ حقیقت علم جو اللہ علیم و عالم سے ان کے وجود میں نازل ہو اور وہ علم بالفعل ہو گا ہمیشہ ۔
لذا قیّم قرآن جو قرآن میں فرمائے گا وہی حق ہے حقیقت قرآن کو بیان کرنے والا ہے لذا اس کا بیان فصل الخطاب ہو گا اسکے علاوہ ہر قول باطل ہو گا تو اب ان لوگوں نے جو معنیٰ قرآن میں اختلاف کیا وہ ختم ہو جائے گا ،قیم قرآن نے جو فرمایا ہے اسکی اطاعت واجب ہو گی اور یہ قیم قرآن مخلوق پر حجت بن جائے گا۔
یہ قیّم قرآن وہی ہے جسے رسول اللہ نے قرآن کے مقابل میں دوسرا ثقلِ قرار دیا ہے اور یہ عِدل قرآن ہے، امام ×نے اسے قرآن ناطق کہاہے اور ہمیشہ ناطق صامت کے لیے قیّم ہوتا ہے کیونکہ حقیقت قرآن کو بیان کرنے والا ہے۔ لذا قرآن ناطق قرآن کا قیّم ہو سکتا ہے پس امام × قرآن کا قیم ہے ۔اور قرآن کے قیّم کا وجود ضروری ہے ۔اس لیے کہ قرآن ہمیشہ ہے اور ہمیشہ کے لیے ہدایت ہے لذاقیّم قرآن کی ہمیشہ ضرورت ہے قرآن اس سے کبھی بھی بے نیاز نہیں ہو سکتا ، اس لیے کہ یہ قرآن صامت ہے لذا اسے اپنے قیّم کی ضرورت ہے پس قیّم کا وجود ضروری ہے جس کے نتیجہ میں امام کا وجود قرآن کے قیم ہو نے کے لحاظ سے ضروری اور واجب ہے ۔
پانچویں دلیل
اما م حجۃ اللہ ہے جو اللہ کی دیگر حجتوں پر بھی حجت ہے اور جو اللہ کی حجتوں کی حجت ہو اس کا وجود ضروری ہے پس اما م جو حجۃ اللہ ہے اس کا وجود ضروری ہے ۔ الامام حجۃ اللہ علیٰ الحُجج: امام حجتوں پر اللہ کی حجت ہے ۔ شک و شبھہ ہی نہیں کہ خدا کیلئے حجتیں موجود ہیں ، جس طرح کہ ابتدا بحث حجت میں اشارہ ہو چکا ہے ۔ان حجتوں کی مختلف اقسام ہیں ۔ حجت فکری اور عی ض،دیگر حجت وجودی۔
حجت فکری اور عیس
یہ وہی استد لال ہے جو ہر اہل فکر کسی شی کے اثبات کے لیے قائم کرتا ہے اس حجت کا منشا کبھی فقط مقدمات ِ عقلی ہیں اور کبھی بعض عقلی ہیں اور بعض دیگر امور ہوتے ہیں اب وہ مقدمات یا یقینیات میں سے ہیں یاا سکے علاوہ کہ جو تفصیل کے ساتھ علم منطق میں بیان ہوا ہے ، اب کبھی آیات قرآ نیہ سے استد لال کیا جاتا ہے اور کبھی روایات اور احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے ، اسی طرح جن موضوعات پر استدلال اور حجت قائم کی جاتی ہے وہ بھی مختلف ہیں کھبی عقائد اسلامی پر کبھی احکام دین اور کبھی ان کے علاوہ دیگر موضوعات ہیں کہ جس پر حجتیں قائم کی جاتی ہیں ۔
حجت وجودی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات اپنے علم و قدرت اور اپنی حکمت اور عدالت پر موجودات کو حجۃ قرار دیا ہے ۔ہر مخلوق اور موجود میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفات کی نشانی و علامت موجود ہے کہ اہل انہیں درک کرنے کے بعد قدرت الھٰیہ کا اعتراف کرتا ہے تو وہ امور ان موجودات میں اہل افراد پر حجت بن جاتے ہیں بعض چیزوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بطور نمونہ قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے۔اجسام : جسموں میں ، زمین و آسمان ، پہاڑ ، چاند کہ یہ آیات الھیٰ ہیں جنکی خلقت میں قدرت اور علم اور حکمت د خیل ہے لہذا پس ان کے خالق کے عالم قادر اور حکیم ہونے پر یہ حجت ہے قرآن مجید اسے “آیت” کے نام سے یاد کرتا ہے اعراض: اعراض میں شب و روز کا آنا اور جانا ، یہ زمانہ ایک حجت ہے ۔
انسان: خلقت انسان اور انسان کی تمام قو تیں اور صلاحیتں اللہ کی قدرت اور حکمت کی نشانیاں ہیں ، پس یہ امور انسان پر حجت ہو جائیں گی کہ اس یکتا پرایمان لے آئے ۔حیوانات: شہد کی مکھی ، چونٹی ، اونٹ اور دیگر امور۔انبیاء اور مرسیلین: وجود نبی و رسول مخلوق پر حجت ہیں ۔ معجزات: انبیاء کے معجزے اللہ کی طرف سے مخلوق پر حجت ہیں اسی طرح حجت مراتب کے لحاظ سے تقسیم ہو گی۔
ایک وہ حجت جو مر تبہ علم الیقین میں قائم کی جاتی ہے دوسرا مرتبہ وہ حجت جو مقام عین القین مین قائم کی جاتی ہے تیسرا مر تبہ وہ حجت جو مقام حق الیقین پر قائم کی جاتی ہے اسی طرح وجود کے مراتب کے لحاظ سے حجت مرا تب پیدا کرے گی وہ حجت جو عالم طبعیت میں حجت دوسرا وہ جو عالم ملکوت میں بھی حجت ہے پس جو موجود رتبہ وجودی میں سب سے اعلیٰ ہو گا وہ سب سے اعلیٰ حجۃ ہو گی اور وجود امام ممکنات میں اعلیٰ ہے جس طرح کہ ثابت ہو چکا ہے پس امام تمام موجودات ممکنہ سے اعلیٰ ہے اس لئے کہ مخلوق اور خالق کےدرمیان امام واسطہ وجودی ہے اللہ کی وہ حجت ہے جو دیگر تما م حجتوں پر حجت ہو گی جسطرح ذاتِ اللہ بتارک وتعالیٰ تمام موجودات حتیٰ کہ امام پر حجت ہے اور امام تمام جہاں کے موجودات کے لیے قلب اور دل کا مقام رکھتا ہے پس وجود کے لحاظ سے اعلیٰ ہے ۔علمی زبان میں اس اعلیٰ وجود کو صادر اول ،خلق اول ، وجود منبسط کہتے ہیں فیض اقدس اور مقدس ، رق منشور کہ حقیقت وجود کو تشکیل دیتے ہیں جنہیں اپنے مقام پر تفصیل سے ثابت کیا گیا ہے ۔اور جو اعلیٰ ہو وجود کے لحاظ سے تو وہ دیگر موجودات پر حجت ہیں جسطرح اللہ تبارک وتعالیٰ تما م پر حجت ہیں حتیٰ امام× پر بھی حجت ہے وہ حجت ہونے کے لحاظ سے بھی حجت ہو گا تو امام ہو گا حجۃ اللہ العظمیٰ اللہ کی سب سے عظیم حجت، قرآن میں اسے حجۃ بالغہ کہا گیا ہے جو ہر ایک تک پہنچی ہوئی حجت ہے ادنیٰ سے لیکر اعلیٰ وجود تک امام پر پہنچی ہے پس یہاں اللہ کی حجت عظمیٰ اور حجت بالغہ ،باقی تمام حجتوں پر حجت ہو گی جسطرح اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوق حتیٰ کہ امام پر بھی حجت ہے ۔
چودہ معصومین ^ تمام پر حجت ہیں تمام انبیاء اور مرسلین پر حجت ہیں یہ مطلب کہیں کسی کے لیے بھاری نہ ہو تو عرض یہ ہے شیعہ اثنا عشریہ کے نزدیک یہ مسلمات میں سے ہے اور شیعہ محّدثین نے پورا باب قائم کیا ہے جسطرح علامہ مجلسی ؒ نے بحار الانوار کتاب الامامۃ میں ایک باب قائم کیا ہے ۔
تفضيلهم ع على الأنبياء و على جميع الخلق و أخذ ميثاقهم عنهم و عن الملائكة و عن سائر الخلق و أن أولي العزم إنما صاروا أولي العزم بحبهم صلوات الله عليهم ،آئمہ ^ تفضیل یعنی انکو فضیلت دینا انبیاء اور پوری مخلوق پر آئمہ ^ کا عہد و میثاق ، انبیاء ^ سے تمام ملائکہ اور باقی پوری مخلوق سے لینا اور تحقیق اولوالعزم نبی ،آئمہ ^ کی محبت اور مودت سے اولو العزم بنے ہیں ۔ اس باب میں( ۸۸ ) اٹھا سی احادیث نقل ہوئی ہیں ۔
اسی طرح آئمہ ^ اہل بیت نبوت ہیں ۔ جنکی ولایت کے اقرار کے بعد نبوت کے گھر آئمہ ^ سے نبوت حاصل کرتے ہیں آئمہ ^ کی معرفت اور محبت اور ولایت پر ایمان کے درجہ کے مطابق انبیاء کو نبوت کے درجے عطا کیے گئے ہیں ، تو یہ ذہن کو دور نہ لگے کہ معصومین^ تمام انبیاء پر بھی حجت ہیں؟ حضرت ابراہیم × اور موسیٰ × تو آئمہ ھدیٰ ^ کے شیعہ ہونے پر فخرکرتےہیں اور تمام انبیاء ، خاتم المرسلین کے امتیوں میں شمار ہوں گے تو اب کھلے دل سے یہ اعتقاد ہو کہ آئمہ ^ انبیاء ^ پر حجت ہیں ۔حجۃ اللہ علی الحجج! کا وجود ضروری ہے ۔
اس لیے کہ اگر اس حجۃ اللہ العظمیٰ کا وجود نہ ہو تو دیگر حجتیں باقی نہیں رہیں گی کیونکہ حجت وہ ہوتی ہے جو قیم ہواس کے لیے جس پر وہ حجت ہے جسطرح زمین و آسمان حجۃ اللہ کے بغیر باقی نہیں رہ سکتیں۔ کیونکہ یہ ارتباط وجودی ہے ،حجۃ اللہ کا مخلوق سے جدا ہونا ممکن نہیں اسی طرح حجۃ اللہ العظمیٰ کا دیگر تمام حجتوں ہے وجودی ارتباط ہے لذا سب حجتیں اس حجت کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی پس حجۃا للہ علیٰ الحجج !کا وجود ضروری ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ امام کا وجود اللہ کی حجتوں کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے ۔اس حقیقت کو درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے ۔ أَنَّهُ سَمِعَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ع يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ حُجَّةٍ لَكَ عَلَى خَلْقِكَ ظَاهِرٍ أَوْ خَافِي [خَافٍ‏] مَغْمُورٍ لِئَلَّا تَبْطُلَ حُجَجُكَ وَ بَيِّنَاتُكَ ۔
علل الشرائع میں د عا کے انداز میں ہے :قول أمير المؤمنين ع اللهم إنك لا تخلي الأرض من حجة على خلقك إما ظاهرا مشهورا أو خائفا مغمورا لئلا تبطل حججك و بيناتك ، کہ کمیل ابن زیاد کو امیرالمو منین نے ار شاد فرمایا : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ كُمَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيّاً ع يَقُولُ فِي كَلَامٍ طَوِيلٍ اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَا تُخَلِّي الْأَرْضَ مِنْ قَائِمٍ بِحُجَّة ،آ گے تمام حدیث جسطرح گزر چکی ہے ۔ یہ حدیث مختلف راستوں سے صادر ہوئی ہیں جس میں امیر المومنین علی × ار شاد فرماتے ہیں : بارگاہ حق میں دعا کے انداز میں کہ میرے اللہ تو نے زمین کو ایک قائم سے جو اللہ کی حجت ہے خالی نہیں رکھا اب وہ حجۃ اللہ ظاہر اور عیان ہو یا غیب کے پردوں میں مخفی ہو اس لیے حجۃ اللہ کا ہونا ضروری ہے تا کہ اللہ کی حجتیں اور بینات باطل نہ ہو جائیں ۔امام اللہ کی حجتوں کو باطل نہیں ہونے دیتا بلکہ انہیں باقی رکھتا ہے جسطرح شعاع، سورج سے اور اثر مؤثر سے قائم ہے اسی طرح تمام اللہ کی حجتیں حجۃ اللہ العظمیٰ سے قائم ہیں لذ ا اللہ کی حجت ِعظمیٰ کا وجود ضروری ہے ۔
چھٹی دلیل : اللہ کی حجت تمام جہانوں پر حجت ہے
حجۃ اللہ تمام جہانوں پر حجت ہے ، جو تمام جہانوں پر حجت ہو ان جہانوں میں اس کے وجود کا ہو نا ضروری ہے پس حجۃ اللہ کا وجودان جہانوں میں ضروری ہے ۔
حجۃ اللہ تمام جہانوں پر حجت ہے
یہ مطلب روایات میں یقنیات میں سے ہیں ۔
۱۔ زمین پر حجت: امام صادق× نے فرمایا ! قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ لَوْ لَمْ يَبْقَ فِي الْأَرْضِ إِلَّا رَجُلَانِ لَكَانَ أَحَدُهُمَا الْحُجَّةَ ،اگر زمین پر کوئی بھی باقی نہ رہے مگر دو شخص تو ان میں ایک قطعا حجت ہو گا۔امام باقر × نے فرما تے ہیں: عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ وَ اللَّهِ مَا تَرَكَ اللَّهُ أَرْضاً مُنْذُ قَبَضَ آدَمَ ع إِلَّا وَ فِيهَا إِمَامٌ يُهْتَدَى بِهِ إِلَى اللَّهِ وَ هُوَ حُجَّتُهُ عَلَى عِبَادِهِ وَ لَا تَبْقَى الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ حُجَّةٍ لِلَّهِ عَلَى عِبَادِهِ ۔ زمین اللہ کی حجت جو اس کے بندوں پر ہے اس کے بغیر باقی نہیں رہے گی۔نیز امام باقر × نے فرمایا: لا تبقیٰ الارض بغیر ِِ امام ظاھر او باطن ِِ ۔امام ظاہر یا باطن (غائب) کے بغیر زمین باقی نہیں رہے گی ۔ اس مفہوم میں روایات تو اتر معنوی تک پہنچی ہوئی ہیں جس سے یہ معنیٰ واضح ہے کہ امام زمین پر اللہ کی حجت ہے ۔
۲۔ دنیا و آخرت پر حجت: زیارت جامعہ کبیرہ میں ہے : حجج اللہ علی اھل الدنیا و الآخرۃ و لاولیٰ۔آئمہ ^ اہل دنیا اور اہل آخرت اول و آخرین پر اللہ کی حجتیں ہیں ۔
امام صادق × فرماتے ہیں : عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ عَالَمٍ كُلُّ عَالَمٍ مِنْهُمْ أَكْبَرُ مِنْ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ وَ سَبْعِ أَرَضِينَ مَا يَرَى عَالَمٌ مِنْهُمْ أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَالَماً غَيْرَهُمْ وَ إِنِّي الْحُجَّةُ عَلَيْهِم‏،
تحقیق اللہ تبارک و تعالیٰ کےلیے 12 ہزار جہان ہیں ہر جہان سات زمین و آسمان سے بڑا ہے ان جہانوں میں سے جسے دیکھا جاتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ان کے علاوہ جہان ہے اور تحقیق میں ان سب پر حجت ہوں ۔نیز امام صادق × فرماتے ہیں : قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ مَا مِنْ شَيْ‏ءٍ وَ لَا مِنْ آدَمِيٍّ وَ لَا إِنْسِيٍّ وَ لَا جِنِّيٍّ وَ لَا مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ إِلَّا وَ نَحْنُ الْحُجَجُ عَلَيْهِمْ وَ مَا خَلَقَ اللَّهُ خَلْقاً إِلَّا وَ قَدْ عُرِضَ وَلَايَتُنَا عَلَيْهِ وَ احْتُجَّ بِنَا عَلَيْهِ فَمُؤْمِنٌ بِنَا وَ كَافِرٌ وَ جَاحِدٌ حَتَّى السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ الْجِبَالِ الْآيَةَ ۔
کوئی چیز نہیں نہ آدمی نہ جن و انس نہ آسمانوں میں کوئی فرشتہ مگر ہم ان پر حجت ہیں اللہ نے مخلوق خلق نہیں فرمائی مگر ہماری ولایت اس پر پیش کی اور ہمارے ذریعہ سے اس پر حجت تمام کی پس مومن ہمارے سبب سے اور کافر و منکر بھی ہمارے سبب سے حتیٰ کہ تمام آسمان زمین اور پہاڑ،زیارت جامعہ کبیرہ میں ہے :و حججاََ علیٰ بریتہ، آئمہ ہدیٰ ^ اللہ کی مخلوق پر حجت ہیں ہر شی اللہ کی حجت ہے تو قطعا حجت عالمین اور خلق سے اوپر ہے تب ان پر حجت ہے جسطرح کہ خلق میں بھی موجود ہے ۔
۳۔ تمام جہانوں پر حجت: امام زین العابدین × ارشاد فرماتے ہیں : نحن حجج اللہ علیٰ العالمینہم تمام جہانوں پر اللہ کی حجتیں ہیں ، اسی طرح امام صادق × سے منقول ہے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ رب العالمین ہیں اسی طرح امام حجۃ اللہ علیٰ العالمین ہے ۔
۴۔ خلق پر حجت:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ص انّ علیّاً× حجۃ اللہ علیٰ خلقہ يَقُولُ لَمْ يَزَلِ اللَّهُ يَحْتَجُّ بِعَلِيٍّ فِي كُلِّ أُمَّةٍ فِيهَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَ أَشْهَدُهُمْ مَعْرِفَةً لِعَلِيٍّ أَعْظَمُهُمْ دَرَجَةً عِنْدَ اللہ ، تحقیق علی اللہ کی حجت ہے اسکی پوری خلق پر اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ علی × کے ذریعہ امت میں احتجاج فرمایا جس امت میں نبی کو بھیجا گیا تھا اور انبیاء کو علی × کی معرفت پر گواہ بنایا ۔
جن پر امام حجۃ اللہ ہے انکے لیے امام کا وجود ضروری ہے
کیو نکہ امام اور خلق اللہ کا ارتباط وجودی ہے نہ اعتباری عالمین اور حجہ اللہ آپس میں سببی اور مسببی رابطہ ر کھتے ہیں ، جس طرح بیان ہو چکا ہے کہ امام × اس جہان کے لیے روح اور قلب ہے جس طرح انسان کے تمام اعضاء و جوراح روح سے مربوط ہیں۔اسی طرح پورا جہان امام سے وجوداً مربوط ہے ، مزید وہ روایات کہ جن کا ظاہر نص ہے اس پر کہ زمین امام کے بغیر فناء ہوجائے گی اور باقی نہیں رہے گی اور یہ روایات بھی یقینات میں سے ہیں :
۱۔ امام زین العابدین × ارشاد فرماتے ہیں۔ وَ قَادَةُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ وَ مَوَالِي الْمُؤْمِنِينَ وَ نَحْنُ أَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ كَمَا أَنَّ النُّجُومَ أَمَانٌ لِأَهْلِ السَّمَاءِ وَ نَحْنُ الَّذِينَ بِنَا يُمْسِكُ اللَّهُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنہ
۔اگر ہم آئمہ میں سے زمین میں کوئی نہ ہو تو زمین اہل زمین سمیت فنا ء ہوجائے گی
۲۔امام صادق× نے فرمایا: عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَ تَبْقَى الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ قَالَ لَوْ بَقِيَتِ الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ لَسَاخَت‏:ا گر زمین امام کے بغیر ایک لمحہ باقی رہے تو نابود ہو جائے گی ۔
۳۔ حضرت امام رضا × فرماتے ہیں : عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْجَعْفَرِيِّ قَالَ سَأَلْتُ الرِّضَا ع فَقُلْتُ تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ حُجَّةٍ فَقَالَ لَوْ خَلَتِ الْأَرْضُ طَرْفَةَ عَيْنٍ مِنْ حُجَّةٍ لَسَاخَتْ بِأَهْلِهَا ۔ اگر زمین پلک جھپکنے کی مقدار حجت سے خالی ہو جائے تو وہ اپنے اہل سمیت نابود ہو جائے گی۔
۴۔ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: وَ لَوْ خَلَتْ يَوْماً بِغَيْرِ حُجَّةٍ لَمَاجَتْ بِأَهْلِهَا كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ بِأَهْلِه‏ ۔ا یسے موج کھائے گی جسطرح دریا میں موجیں ہوتی ہیں یہ زمین کی بربادی سے کنایہ ہے ۔اس انداز میں روایات تواتر معنوی کی حد تک ہیں اس بنا پر کہ اصلا امام کے نہ ہونے سے جہان نابود ہو جائے گا تو یہ ارتباط اعتباری نہیں ہے بلکہ حقیقی اور وجودی ارتباط ہے ۔
تمثیل ارتباط
ا س ارتباط کو ذہن کے نزدیک کر نے کے لیے مختلف مثالیں دی گئی ہیں ۔
۱۔ امام عالمین کے لیے ایسے ہیں جیسے خیمہ کے لیے ستون ہے اگر ستون نہ ہو تو خیمہ نہیں ستون ہو تو خیمہ ہے اسی طرح حجۃ اللہ نہ ہو تو جہان نہیں اگر حجۃ اللہ موجود ہو تو جہان موجود ہے ۔
۲۔ امام پوری خلق کے لیے ایسے ہے جسطرح چکی کا قطب اور کیل چکی کے لیے ہے ۔ قطب اور چکی کا مدار ہے اسی طرح حجۃ اللہ پوری مخلوق کا مدار ہے ۔
۳۔ امام عالمین میں ایسے ہے جسطرح روح اور قلب بدن میں ہو آیات اور روایات کو ملاحظہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہترین مثال یہی ہے کیونکہ امام باطن عالم ہے اور حجۃ اللہ اس جہان کی حقیقت ہے پس امام عالم امکان کی روح ہے لذا جسطرح بدن کے لیے روح کا وجود ضروری ہے اسی طرح عالمین کے لیے امام کا وجود ضروری ہے پس نتیجہ قطعی ہے ۔پورا جہان حجت کے وجود کے دائر مدار ہے عالمین کا بود و نابود حجۃ اللہ کے وجود سے مربوط ہے سانسوں کے سلسلہ کی بقاء حجۃ اللہ کی سانس سے مر بوط ہے۔
ساتویں آٹھویں نویں دلیل :
حجۃا للہ وجوداََ اول الخلق ہے اور جو اس طرح ہو اسکا وجود خلق کے لیے ضروری ہے پس حجۃ اللہ کا وجود ضروری ہے حجۃ اللہ عالمین کی غایت ہے اور جو اس طرح ہو اسکا وجود عالمین کے لیے ضروری ہے پس حجۃ اللہ کا وجود عالمین کے لیے ضروری ہے حجۃ اللہ مخلوق کے لیے معیت قیو میہ رکھتا ہے جو اس طرح ہو اس کا وجود مخلوق کے لیے ضروری ہے پس حجۃ اللہ کا وجود مخلوق کےے لیے ضروری ہے۔ یہ تین برھا ن اکٹھے بیان کیے جا رہے ہیں کیونکہ ایک حدیث شریف میں بیان ہوئے ہیں۔
حجۃ اللہ وجودََ اول الخلق ہے
اللہ کی حجت خلق سے پہلے ہے حجت کا وجود پہلے اور خلق کا وجود بعد میں ہے اولیّت وجودی رکھتا ہے اگر چہ عالم زمان میں ،مخلوق کے بعد ہی کیوں نہ آیا ہو ،وجود کےلحاظ سے پہلے ، زمان کے لحاظ سے بعد میں ہو آپس میں منافات نہیں رکھتا ۔
وجود خاتم اول الخلق ہے : لذا فرمایا! اول ماخلق اللہ نوری!پہلا وجودوہ ہے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے وہ میرا نور ہے ، اور باقی انبیاء حضرت کاکلمہ پڑھ کر نبی بنتے رہے اسکے باوجود خاتم الانبیاء ہے اور زمان کے لحاظ سے تمام نبیوں کے آخر میں تشریف لائے ہے ۔ چونکہ وجود مراتب رکھتا ہے اور ہر مرتبہ دوسرے سے مربوط ہے کیفیت ربط یہ ہے کہ ہر مرتبہ عالیہ ، مرتبہ دانیہ کے لیے حقیقت ہے اور ہر مرتبہ دانیہ ، مرتبہ عالیہ کے لیے رقیقت ہے اور سببیّت اور مسببّیت ہے مرتبہ دانیہ میں ہے اول الخلق وجوداََ مخلوق کے لیے سببیّت رکھتا ہے اور مخلوق اسکی مسبب ہے جسطرح متاخر اور بعد میں ہوتا ہے وجودََا اسی طرح سبب مقدم اور پہلے ہوتا ہے وجوداََ۔
لذا حجۃ اللہ مخلوق سے وجوداً پہلے ہے تو مخلوق وجوداََ بعد میں ہے اگرچہ کہ بعض مخلوق کسی حجت سے پہلے ہو یا بعد میں کوئی فرق نہیں ہے اس لیے کہ خود زمان ایک مخلوق ہے تو وہ بھی وجوداََ حجۃ اللہ کے بعد ہو گا حجۃ اللہ اس سے بھی پہلے ہے تو یہ پہلے ہونا ممکن نہیں مگر وجود کے لحاظ سے ،عن ابان ابن ثغلب قال: قل ابو عبداللہ × : الحجۃ قبل الخلق ،ابان ابن ثغلب کہتا ہے کہ حضرت صادق × نے فرمایا : حجت خلق سے پہلے ہے ۔
اصول کافی کے شارحین نے اس حدیث کی شرح میں مختلف لکھا ہے سب سے پہلے شارح جناب صدر الدین محمد ، ابن ابراہیم شیرازی متوفیٰ ۔۱۰۵،ھ،ق، ہیں جو مفسر قرآن بھی ہیں اسی طرح محدّث اور راویوں کے سلسلہ میں بھی بحث کرتے ہیں جسطرح کہ وہ علوم عقلی اور حکمت میں بھی صاحب مکتب عظیم ہیں بنام حکمۃ متعالیہ ، اور قائل ہیں کہ حکمت ہوتی ہی وہی ہے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو محال ہے کہ حکمت قرآن اور سنت کے مخالف ہو کیونکہ قرآن اور سنت سراپا حکمت ہے اور حکمۃ متعالیہ قرآن اور سنت سے اخذ کیا گیا ہے لذا یہ بزرگوار عقل اور نقل دونوں میں صاحب نظر ہیں ۔دیگر کافی کی شروحات مانند وافی فیض علیہ الرحمہ مراۃ العقول علامہ مجلسی علیہ الرحمہ شرح ملا صالح مازندرانی ان سے متاخر ہیں اور ہمارے استاد حضرت آیۃ اللہ انصاری مدظلہ العالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ بزرگان جب بھی شرح میں مشکل پیدا کرتے تھے تو شرح صدر الدین شیرازی کی طرف مراجعہ کرتے تھے۔تو یہ بزرگوار اس حدیث کی شرح میں مطلب ذکر فرمایا ہے جو واقع کے نزدیک احساس ہوتا ہے چونکہ تمام بیان مفید ہے ہم پورا بیان ذکر کرتے ہیں ۔
فرماتے ہیں : یہ حدیث ایک و ہم اور نادرست تصور کو درست کرنا چاہتی ہے اور وہ یہ کہ عام طور پر ذہن میں آتاہے ذواتِ کاملہ اور نفوس عالیہ اور انوار شامخہ کی خلقت کا مقصد اور ہدف اور غایت مخلوق کو ہدایت کرنا ہے تاکہ موجود عالی کی غایت اور ہدف، دانی کو فائدہ پہچانا ہو اعلی ، ادنی کو فائدہ پہنچائے درحالانکہ حقیقت اس طرح نہیں ہے ۔اس لیے کہ غایت اور ہدف ہمیشہ صاحب غایت اور ہدف سے بلند ہوتا ہے جس شی کے لیے دوسری شی کو پیدا کیا گیا ہے تو یہ دوسری شی اس سے اعلیٰ ہو گی جس طرح پوری مخلوق معرفت و علم اور عبادت کے لیے خلق ہوئی ہے تو علم و معرفت اور عبادت مخلوق سے افضل ہے اور عالی دانی کے لیے ، اعلیٰ ادنی کو حاصل کرنے کے لیے فعل انجام نہیں دیتا اس لیے کہ ادنی ، اعلیٰ کے پا س موجود ہے اور اگر ادنیٰ اعلیٰ کے پاس موجود نہ ہو تو وہ اعلیٰ اعلیٰ نہیں ہو سکتاہے پس محال ہے اعلیٰ ، ادنی کو حاصل کرنے کے لیے زندگی صرف کرے اسی طرح محال ہے کہ انوار حجج الہیہ کی غرض ادنی مخلوقات کو فائدہ پہچانا ہو ۔
پھر فرماتے ہیں : یہ غلط توہم کیا جاتا ہے کہ افلاک کی حرکت شمس و قمر کی گردش ستاوں کی چمک ود مک اور شب روز کا آنا جانا ، زمینی موجودات کو فائدہ پہنچانا ہے جیسے جمادات ،نباتات ، حیوانات کیونکہ ان کا نور اور روشنی جب ان موجودات پر پڑ تی ہے تو چار موسم بنتے ہیں ، زمانوں کا مختلف ہونا زمین کے مختلف حصوں کی آبادی اور اصلاح کے لیے ہے درحالانکہ یہ درست نہیں ہے ، بلکہ یہ افلاک سورج چاند ستارتے سب اللہ کے کنٹرول میں مسخر ہیں اور تقدیر کی رسی ،میں پا بند ہیں اور یہ اپنی حرکات اور چمک دمک میں اللہ کی عبادت کرکے اس کا قرب حاصل کرنا چا ہتے ہیں تا کہ اللہ کے مقربین میں سے ہو جائیں بس انکی غایت اور ہدف اللہ کا قرب ہے اور قرب خدا ہی ہدف خلقت ہے۔ السابقون السابقون اولئک المقربون،جو وجود پہلے ہیں وہی مقرب ِ حق ہیں۔
البتہ اس غایت اور ہدف کو پانے کے لیے جو حرکت کرتے ہیں تو زمینی موجودات کو بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے لیکن یہ ہاتھوں لگے فائدہ ہے غایت اور ہدف نہیں ہے افلاک کے وجود اور انکی حرکات کا مقصود بالذات نہیں ہے اصلی مقصود نہیں ہے فرعی فائدہ ہے جو زمین والوں کوحاصل ہوتا ہے ۔اسی طرح انبیاء اور الھٰی حجتیں انکی غرض غایت اور انکے وجوداتِ مقدسہ میں اصلی مقصود امت کی اصلاح نہیں ہے بلکہ اصلی غرض وہ ہے جو انکے وجود سے اعلیٰ ہو اور وہ اللہ کا قرب اور اللہ سے ملاقات ہے لیکن اس اصلی غایت کےلیے جو فعل انجام دیتے ہیں تو اس سے ایک اور فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ انکی عبادت سے امت کی اصلاح اور ہدایت بھی ہوتی چلی جاتی ہے کہ امت نجات کے راستے پر گامزن رہے اور وہ اپنی سعادت تک پہنچ جائیں ۔
تنویر مزید
مطلب کو مزید روشن کر نے کے لیے یہ ہے کہ غایت غرض اور ہدف و مقصود اصلی ، اور فائدہ میں فرق ہے ۔ غرض و غایت کہ شی کا اصلی مقصود ہوتا ہے ۔ وہ حقیقت ہے جسکے لیے شی کو وجود دیا جاتا ہے ۔ تاکہ یہ شی وہاں تک فائز ہو اور اسے پالے ۔
پس وہ غرض و غایت اس شی کے وجود میں موجودنہیں ہوتی بلکہ مقصود ہوتی ہے اسکے پانے کی استعداد اورصلاحیت اس میں رکھ دی جاتی ہے ، اس لیے کہ اگر وہ حقیقت جو غرض قرار دی گئی ہے اور غایت ہے ، پہلے سے ہی اس شی میں موجود ہو تو پھر اسے ہدف قرار دینا لغو ،فضول اور تحصیل حاصل ہو گا، پس وہ حقیقت جوغایت اور اصلی ہدف ہے وہ اس شی کا مقصود ہونا ضروری ہے دوسرا یہ کہ مقصود بالذات کا وجود کےلحاظ سے اعلیٰ ہونا ضروری ہے اس لیے کہ اگر ادنیٰ ہو تو وہ اس شی میں پہلے سے ہی اسکا کمال موجود ہو گا لذا پھر اس تک پہنچنے کیلئے اس شی کو خلق نہیں کیا جائے گا ۔فائدہ وہ ہوتا ہے کہ جو مقصود بالذات نہیں بلکہ بالعرض و بالتبع حاصل ہوتا ہے لذافا ئدہ وجود کے لحاظ سے ادنی ٰ بھی ہو سکتا ہے ۔ تننظیر ، نجار ، میز ، کرسی تخت ، بنانے کے لیے لکڑی چیرتا ہے اس کا ہدف مقصود بالذات میز کرسی بنانا ہے مثلاً! لیکن اس سے چھوٹی لکڑیاں گرتی ہیں اسی طرح اس کے پوُرے سے تو وہ ایندھن کا فائدہ حاصل کرتا ہے اصلی مقصود میز کرسی کا وجود ہے ۔
فرعی فائدہ: ایند ھن کے کام آنا ہے ، درزی کپڑا پھاڑتا ہے لباس بنانے کے لیے اس کے چھوٹے ٹکڑوں سے کوئی آکر فائدہ اٹھا لے باورچی غذا پکاتا ہے کھانے کے لیے اس کی بھاپ سے کوئی فائدہ اٹھا لے اس طرح کی بہت مثالیں موجود ہیں ۔
تو اللہ کی حجت کا اصلی مقصد دیدار حق ، مقام اَو ادنی ہے مثلا حجۃ اللہ کی غرض و غایت اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اب اسکی عبادت اور اسکے سجدہ سے امت کو فائدہ حاصل ہو کہ انہیں صراط مستقیم مل جائے۔ سبیل اللہ کا پتا چل جائے۔ خدا کی شریعت ہاتھ لگ جائے اور انکے صدقہ میں مخلوق بھی ہدایت پا جائے تو یہ انکی بندگی اور عبادت کی زکات اور خیرات ہو گی انکا اپنا اصلی مقصود یہ نہیں ہے ، اگرچہ کہ کھبی کھبی نظر لطف کرتے ہوئے ہمارے لیے فائدہ کو اپنے آنے کا مقصد ذکر فرماتے ہیں کہ میں امت کی اصلاح کے لیے جا رہا ہوں ۔ یہیں سے معلوم ہوا کہ کتنا فاسد اور باطل ہے یہ نظریہ کہ امام حسین × کربلا میں حکومت بنانے نکلے تھے ۔اگر عہد اختصار سے خارج ہونے کا خوف نہ ہوتا تو اس اصل پر بہت سے فرعات متفرع کی جاتیں ۔
پھر فرماتےہیں : شی کا وجود دو قسم کا ہے ۔
۱۔ شی کا وجود فی نفسہ لنفسہ : جیسے جواھر مجردہ فرشتے ۔
۲۔ شی کا وجود فی نفسہ لغیرہ: جیسے اعراض مثلا ًمقدار رنگ کیفیت و غیرہ صور مادیہ ۔ انکا ذاتی وجود لنفسہ اپنے موضوع کے لیے ہے اور اپنے مادہ کےلیے ہے ۔
پہلی قسم: کہ موجودات مجردہ ہیں کھبی کھبی انہیں اور ایک نسبی وجود لاحق ہو جاتا ہے جیسے نفس ناطقہ جو انسان میں ہے اسکے دو وجود ہیں ۔
۱۔ وجود حقیقی کہ وجود لِنفسہ کہتے ہیں ۔
۲۔ وجود نسبی کہ وجود لِغیرہ کہتے ہیں کہ نفس ناطقہ بدن کےلیے ہے یہ اسکا وجود نسبی ہے جسکا ہدف بدن کی تدبیر کرنا ہے اب جب روح کا تعلق بدن سے منقطع ہو گا تو اسکا وجود نسبی نفسانیت ہے وہ زائل ہو جائے گا لیکن وجود حقیقی کہ وجود لِنفسہ ہے وہ باقی رہے گا نفس ناطقہ کی حقیقت اورذات باقی رہے گی کیونکہ اسکا وجود نسبی غیر از وجود حقیقی کے تھا لذا جب ایک ہدف پورا ہو تو وہ باقی نہیں رہے گا لیکن دوسرا وجوداپنے مقام پر باقی ہے لیکن اعراض کا وجود حقیقی بعنہر وجود نسبی ہے لذا جونہی موضوع ایک محل سے زائل ہوتو اعراض باطل ہو جائیں گی ۔ پس یہ معلوم ہوا کہ حجت کا وجود ایک حقیقی ہے ایک نسبی ہے خلق کے لیے حجت ہونا لذا انکی ہدایت کرنا وجود نسبی ہے جس طرح روح بدن کی تدبیر کرتا ہے اپنے نسبی وجودکے لحاظ سے، اسی طرح امام حجۃ اللہ للخلق بن کر مخلوق کی ہدایت کریں گے اور جسطرح روح ، بدن کے ساتھ رہتا ہے امام خلق کے ساتھ رہیں گے اور جب مخلوق نہیں تو ان کے لیے حجت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ لیکن امام کا وجود حقیقی باقی ہے جسطرح کہ خلق کے وجود سے پہلے بھی موجود تھا کیونکہ حجۃ اللہ کی ذات اور وجود جسم و جسمانیت سے بلند و بالا ہے اپنی حد ذات میں بقا ء اللہ سے باقی ہے ۔
پس حجت ،خلق سے پہلے اس حیثیت سےہے کہ خلق کےایجاد کا واسطہ ہیں امام مخلوق کےلیے واسطہ فیض ہیں ، لذا مخلوق سے پہلے ہیں اور معلوم ہوچکا ہے کہ اس پہلے سے مراد زمانی نہیں ہو سکتا ۔
واسطہ فیض
اللہ تبارک و تعالیٰ ہر شی کے خالق ہیں اور کسی مخلوق تک خلقت کافیض واسطہ سے اور کسی تک بلا واسطہ پہنچاتے ہیں کیونکہ وہ مخلوق بلا واسطہ فیض کسب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ،تو وہ مخلوق جو دیگر کے لیے واسطہ بن رہی ہے اس مخلوق کو واسطہ فیض کہتے ہیں، چاہے وہ فیض وجود ہو یا کمالِ وجودی ،اللہ تعالی سے فیض حاصل کرنے کا واسطہ ، مخلوق کی ضرورت ہے خالق کی احتیاج نہیں ہے خالق نے تو اپنی جوادیت کی بنیاد پر اسے اپنا خلیفہ بنا کر خلق فرمایا ہے یہ اللہ کا مظہر اور جانشین ہے تو باقی مخلوق اس کے واسطہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے فیض سے مستفیض ہو گی ۔ پس واسطہ فیض کا وجود بھی اس نظام تکوینی میں ایک وجودی قانون الھیٰ کے مطابق پیدا ہو تے ہیں تو خلق بھی اس سے فائدہ اٹھاتی ہے ۔
مفسر کبیر حضرت علامہ سید محمد حسین طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں قرآن مجید میں پانچ سو سے زائد آیات واسطہ فیض کو اثبات کر رہی ہیں جیسے ۔ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا ۔ملکوتِ آسمان ، ملائکہ ، لوح ، قلم ، کرسی حُجب ، عرش یہ سب واسطہ فیض ہیں ،لیکن ان سب کا واسطہ امام حجۃ اللہ ہے جسے انسان کامل کہتےہیں احادیث عترت اور خصوصاً، دعائیں اور زیارات میں حقیقت روشن ہے ایک باب یہ ہے کہ آئمہ ھدیٰ ^ اسماء اللہ ہیں اور تمام عالمین اسماء کے تحت چل رہے ہیں ۔
اسی طرح وہ احادیث کا باب جس میں آئمہ ^ کو اوّلِ وجود اثبات کیا گیا ہے جیسے :اُوَّلُ مَا خَلَقَ اللہُ نُوری ، اسی پر دلالت کرتی ہیں کہ آئمہ خلق سے اوپر ہو کر انکے لیے واسطہ فیض ہیں ۔ تبرکاً چند روایات ذکر ہو اچاہتی ہیں ۔
۱۔ امام علی زین العابدین ارشاد فرماتے ہیں: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ع يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً وَ أَحَدَ عَشَرَ مِنْ وُلْدِهِ مِنْ نُورِ عَظَمَتِهِ فَأَقَامَهُمْ أَشْبَاحاً فِي ضِيَاءِ نُورِهِ يَعْبُدُونَهُ قَبْلَ خَلْقِ الْخَلْقِ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ وَ يُقَدِّسُونَهُ وَ هُمُ الْأَئِمَّةُ مِنْ وُلْدِ رَسُولِ اللَّهِ ص ۔
تحقیق اللہ عزیز و جلیل نے محمد(|) علیؑ اور گیارہ اماموں کو اپنی عظمت کے نور سے ارواح خلق فرمایا جو اللہ کے نور کی ضیاء میں تھے اور وہاں خلق کی خلقت سے پہلے اللہ کی عبادت کرتے رہے جو اللہ کی تسبیح اور تقدیس اناوم دیتے رہے اور وہ آئمہ جو ( اللہ کے امر سے ) ہدایت کرنے والے، آل محمد ^ میں سے ہیں یہ حدیث معارف کا سمندر ہے۔
۲۔ حبابہ و البیہ نے امام باقر × سے عرض کیا آپ اَظِلّہ میں کیا تھے ؟ امام نے ارشاد فرمایا:وَ عَنِ الثُّمَالِيِّ قَالَ دَخَلَتْ حَبَابَةُ الْوَالِبِيَّةُ عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ ع فَقَالَتْ أَخْبِرْنِي يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَيَّ شَيْ‏ءٍ كُنْتُمْ فِي الْأَظِلَّةِ فَقَالَ ع كُنَّا نُوراً بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ قَبْلَ خَلْقِ خَلْقِهِ فَلَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ سَبَّحْنَا فَسَبَّحُوا وَ هَلَّلْنَا فَهَلَّلُوا وَ كَبَّرْنَا فَكَب۔
ہم اللہ کی بارگاہ میں اس کی خلق سے پہلے نور تھے پس جب اللہ نے مخلوق خلق فرمائی تو ہم اللہ کی تسبیح انجام دی تو مخلوق اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم سے تسبیح سیکھ کر اللہ کی تسبیح کی اسی طرح تھلیل اور تکبیر ۔
۳ ۔امیر المو منین علی × ارشاد فرماتے ہیں:عن أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ نُورَ مُحَمَّدٍ ص قَبْلَ الْمَخْلُوقَاتِ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ سَنَةٍ وَ خَلَقَ مَعَهُ اثْنَيْ عَشَرَ حِجَاباً وَ الْمُرَادُ بِالْحُجُبِ الْأَئِمَّة^
تحقیق اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی خلقت سے چار لاکھ چوبیس ہزار سال پہلے حضرت محمد ﷺ کے نور کو خلق فرمایا اس سے بارہ حجاب خلق فرمائے اور حجاب سے مراد آئمہ ^ ہیں اسکی بعد والی روایت میں امام فرماتے ہیں یہ عین دین ہے جو اس کا قائل نہ ہو وہ گمراہی میں غرق ہے اور یہ اللہ کا مخزون علم ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں بحار ر الانوار ، ج۲۵،ص ۱تا ۳۶ ، اور کثیر روایت دیگر مقامت پر ہیں واسطہ فیض کے موضوع پر غوّاصِ بحار انوار آلِ اطہار ^ علامہ مجلسی علیہ الرحمۃ کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں ۔
و قد ثبت فی الاخبار ان جمیع العلوم و الحقائق فی المعارف بتوسطھم یفیضُ علیٰ سائر الخلق حتیٰ الملائکہ و الانبیاء ، والحاصل ، انہ قد ثبت با خبار المستفیضہ انھم ^ الو سائل بین الخلق و الحق فی افاضۃ جمیع الرحمات و العلوم و الکمالا ت علیٰ جمیع الخلق و کلما یکون التوسل بھم والاذعان بفضلھم اکثر کان فیضان الکمالات من اللہ تعالیٰ اکثر ، اور روایات کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ تمام علوم اور تمام حقائق معارف کے جہان میں آئمہ کے واسطہ سے پوری مخلوق پر فیضان ہوتے ہیں حتیٰ کہ ملائکہ اور انبیاء ^ پر بھی ۔خلاصہ یہ ہے کہ بہت زیادہ روایات سے ثابت ہے کہ آئمہ ^ خلق اور حق تعالیٰ کے درمیان کہ تمام رحمتیں ، تمام علوم و کمالات کے فیضان میں وسیلہ اور واسطہ ہیں اسکے بعد ارشاد فرماتے ہیں :
جتنا آئمہ کے ذریعہ توسل زیادہ ہو گا اور انکی فضیلت اور فضائل کا یقین زیادہ ہو گا اللہ تعالیٰ سے اتنے کمالات زیادہ نازل ہوں گے اس قانون کے مطابق انبیاء اولیاء اور صالحین و شہداء کو آئمہ کی فضیلت کا یقین زیادہ تھا تو وہ ہمیشہ ان سے توسل کرتے تھے تو ان پر اللہ کی رحمت زیادہ ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے حضرت امام حسن عسکری × ارشاد فرماتے ہیں ۔
وَ الْأَنْبِيَاءُ كَانُوا يَقْتَبِسُونَ مِنْ أَنْوَارِنَا وَ يَقْتَفُونَ آثَارَنَا وَ سَيَظْهَرُ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى الْخَلْقِ بِالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ لِإِظْهَارِ الْحَقِّ وَ هَذَا خَطُّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنَ عَلِيٍّ أَمِيرِالْمُؤْمِنِين‏ ، تمام نبی ہم سے اقتباس کرنے والے ہیں اور ہمارے نقش قدم پر چلنے والے ہیں ۔
جب آئمہ ^ انبیاء کے لیے واسطہ فیض ہیں تو ہمارے لیے تو یقیناََ ہوں گے لذا صدر الدین شیرازی فرماتے ہیں چونکہ حجۃ اللہ مخلوق کی خلقت اور ایجاد کا واسطہ فیض ہیں تو خلق سے وجوداََ پہلے ہیں ۔
حجۃ اللہ مخلوق کی غایت ہے
جب حجۃ اللہ اول الخلق ہیں تو قطعا خلق کی غایت بھی ہیں اس لیے کہ جب مخلوق انکے بعد ہے تو ان کا مقصود یہ ہے کہ اول الخلق کا قرب حاصل کریں لذا انکی اطاعت کا حکم دیا اور انکی معصیت سے روکا اور ان سے محبت کو واجب قرار دیا اور انکی معرفت کا لازم قرار دیا اس لیے کہ انکی معرفت اللہ کی معرفت ہے اور انکی محبت اللہ سے محبت ہے جسطرح انکی ا طاعت اللہ کی اطاعت اور انکی معصیت و نافرمانی اللہ کی معصیت اور نافرمانی ہے ۔ باالفاظ دیگر آئمہ ^ جسطرح سلسلہ قوسِ نزول میں خلقت اور ایجاد کا واسطہ ہیں اسی طرح سلسلہ قوس ِ صو د میں قرب خدا کا واسطہ ہیں اور پس خلق کی غایت ہیں جہاں پوری مخلوق وجود کے لحاظ سے جا پہنچے گی ۔
لذا اما م صادق × نے فرمایا : والحجۃ بعد الخلق : حجت پوری خلق کے بعد ہے ۔ اس حیثیت سے کہ آئمہ ھدیٰ وہ غایات ہیں جدھر پوراجہان وجود کے لحاظ سے منتھیٰ ہوتا ہےاور جا پہنچتا ہے، یہ حقیقت بھی کلمات عصمت و طہارت میں روز روشن کی طرح واضح ہے فقط ایک کلمہ پر اکتفاء کرتے ہیں :إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ،ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ۔
تحقیق ہماری طرف ان سب کی باز گشت ہے پھر تحقیق ہم پر ان سب کا حساب ہے ۔یہ کنایہ ہے اس سے کہ خلق کا سرو کار بالاخر خدا کے ساتھ ہے اسکی بارگاہ میں پہنچنا ہے اسے حساب دینا ہے اپنے عقائد ، اخلاق اور اعمال کو قبول کروانا ہے اورحضرت حق کی حکومت اور عدالت سے فرار ممکن نہیں ہے خصوصاَََ یہ دو آیات سورۃ غاشیہ کی آخری آیات ہیں اور ان سے پہلے آیات میں قیامت کے مناظر کا ذکر جہنم اور جہنمیوں کا تذکرہ ، بہشت اور بہشتوں کا تذکرہ پھر دنیامیں اللہ کی آیات کی طرف توجہ دلائی گئی پھر نبی خاتم کو خطاب ہے ۔ کہ آپ ان پر چوکی دار نہیں بلکہ تذکر دینے والے ہیں لذا جس نے تیرے تذکر دینے کے بعد انکار کیا اور روگرادنی کی اللہ انکو سب سے بڑا عذاب دے گا پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی باز گشت اور حساب ہمارے ساتھ ہے تو معلوم ہوتا ہے ایک تھدید دھمکی اور چیلنج ہے کہ بالآخر تمھارا سروکار ہمارے ساتھ ہے روگردانی نہ کرو، انکار نہ کرو اس میں تمہارا نقصان ہے ،مطلب دیگر جو اس آیت میں ہے و ہ الینا اور علینا میں نا، جمع متکلم کی ہے ۔
جبکہ دیگر مقامات پر فرمایا:
۱۔ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ: سب اسی کی طرف سےہیں اور اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں ۔
۲۔ الیہ ترجعون ،۳۔ وَ إِلَيْهِ تُقْلَبُونَ ، ۴۔ الیہ الر ُجعیٰ ، ۵۔ الیہ المنتھیٰ ۶۔ وَ ما فِي الْأَرْضِ أَلا إِلَى اللَّهِ تَصيرُ الْأُمُورُ ، ان سب میں واحد کی ضمیر اور واحدکا صیغہ ہے کہ خدا کی طرف ہی باز گشت ہے اسی طرح ،۷۔الیٰ للہ ترجع الامور، ۸۔ الیہ ترجع الامر کلہ ۔
کہیں واحد اور کہیں جمع راز کیا ہے ؟البتہ یہ مطلب دیگر مقامات پر بھی ہے ۔ نزول قرآن ! اِنزال اور تنزیل میں جمع ہے جیسے ۹۔انا انزلنا ہ ،۱۰۔انا نحن نزلنا الذکر،۱۱۔ انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا ۔
ہم نے قرآن کو اِنزال کیا دفعتاً اور ہم نے قرآن کو تنزیل کیا تدریجاً واحد میں بھی ذکر ہوا ،۱۲۔ هُوَ الَّذي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتابَ ۱۳۔ وَ آمِنُوا بِما أَنْزَلْتُ مُصَدِّقاً لِما مَعَكُمْ ۔ خدا واند متعال وہ ہے جو قرآن مجید کو نازل کرنے والا ہے ۔شک و شھبہ ہی نہیں کہ ہر شی کا خالق حق تبارک و تعالیٰ ہے لیکن جہان دنیا کی مخلوق چند مراتب سے گزر کر محقق ہو تی ہے پس یہ قضا ء الھی اور قدر الھی سے اسی طرح عالم ملکوت سے گزر کرا س عالم ملک دنیا میں واقع ہو اسی طرح وسائط فیض اور اسباب اللہ ہیں کہ سب جند اللہ ، اللہ کا لشکر ہیں جو اسکی بندگی اور عبادت میں مشغول ہیں ،وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ۔ دوسرے مقام پر فرمایا: عزیزاََ حکیماََ ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے اور وہ عزیز اور صاحب حکمت ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت اپنے لشکر کے ذریعہ دشمن پر غالب ہو کر عزیز ہے اور اللہ اپنے لشکر کا عالم ہے جسطرح اپنے دشمن سے آگاہ ہے اللہ کے لشکر کو فقط خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہی جانتاہے فرمایا: وَ ما يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلاَّ هُوَ تیرے رب کے لشکر کوئی نہیں جانتا سوائے اسی کے ۔
اور یہ لشکر وہ اسباب اللہ ہیں جہنیں امام صادق × نے جہان کی تشکیل میں اللہ کی مصلحت اور تکوینی قانون قرار دیا : ابی اللہ ان یجری الامور الا با سبابھا ، یہ مخلوق اور مملوک ،اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے دیگر مخلوق کی خدمت میں ہیں قوس نزول اور ایجاد میں جسطرح کہ قوس صعود اور سلسلہ غایات میں ہے حق تبارک و تعالیٰ جب اپنے مبداء ہونے کو بیان کرنا چاہتاہے تو واحد متکلم کا صیغہ ذکر فرماتاہے اور چاہیے حق تبارک و تعالیٰ جب اپنے فضل اور کرم کی بنیاد پر اپنی مملوک اور بندوں کی خدمت کو بیان فرمانا چاہتا ہے تو جمع متکلم کے ساتھ بیان فرماتاہے اسی طرح جمع متکلم میں اپنی قدرت کی شدت اور زیادتی کو بھی بیان فرماتا ہے۔ پس اللہ قرآن کو نازل کرنے والا ہے مبدا نزول ِ قرآن وہی ہے لیکن لشکر اورا سکے فرمانبردار بندے کہ فرشتے ہیں اور جبرائیل × ہیں وہ اس قرآن کے نزول میں اللہ کی عبادت کرتے ہوئے خدمت کو انجام دیتے ہیں ۔ تو جمع کے صیغہ میں انکی خدمت کو بیان فرما رہا ہے ۔لذا انہیں اپنا سفیر کہا ہے ۔ كِرَامِ بَرَرَة،بِأَيْدي سَفَرَةٍ ،یہ قرآن سفیروں کے ہاتھوں کے ذریعہ نازل ہوتا ہے جو مکرم اور نیک ہیں یہی نکتہ موجود ہے : إِنَّ إِلَيْنا إِيابَهُمْ ثمُ‏َّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابهَم ،میں خلق کا سروکار ہمارے ساتھ ہے لیکن حشر و نشر میں اسکے فرشتے اور اسکے خلیفہ خدمت کرتے ہیں جو اسکا جانشین ہے اسکا میزان بھی ہے اور اس دنیا میں مخلوق کی ہدایت کرنے والے بھی تو یہ مخلوق پہلے اپنے ہادی کے روبرو اور اسکو حساب دی گی اور یہ خدا کی طرف سے مخلوق کے لیے حساب لینے والے ہیں تو ارشاد فرمایا ہماری طرف بازگشت اور ہمارے اوپر حساب ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے امر کو اپنے بندوں کی طرف نسبت دینا
۱۔ فعل ، کہ توفی ہے ۔
اللہ نے اپنی طرف نسبت دی پھر اسی کو ملائکہ کی طرف نسبت دی ہے ۔
وَ اللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ
تمہیں خلق فرمایا پھر تمہیں وفات دے گا ۔
اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا
اللہ جانوں کی موت کے وقت انہیں وفات دینے والا ہے ۔
وَ لكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذي يَتَوَفَّاكُمْ
لیکن تم اللہ کی عبادت کرو جو تمہیں وفات دینے والا ہے ۔
پھر دیگر مقامات پر اللہ تبارک و تعالیٰ تو فیٰ کی نسبت ملائکہ کی طرف دے رہا ہے ۔
إِنَّ الَّذينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ
وہ لوگ جہنیں فرشتے وفات دیتے ہیں۔
تَوَفَّتْهُ رُسُلُنا
اسے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتوں نے وفات دی اس طرح کی دیگر آیات ۔
اپنے مقام کو نسبت دینا
عزت:
فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا
پس پوری کی پوری عزت فقط و فقط اللہ تبارک کے ساتھ مختص ہے ۔
فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا
تحقیق حقیقت ِعزت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔
اسی اختصاصی امر کو رسول اور مو منین کے لیے قرار دے رہا ہے ۔
لِلَّهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِلْمُؤْمِنينَ وَ لكِنَّ الْمُنافِقينَ لا يَعْلَمُونَ
اللہ کے لیے عزت ہے اور اسکے رسول اور مومنین کے لیے ہے لیکن منافقین اسے نہیں جانتے ۔
ولایت:
هُنالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ
ولایت اللہ حق کے ساتھ مختص ہے ۔
وَ ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَ لا نَصيرٍ
تمہارے لیے اللہ کے علاوہ کوئی ولی اور مد دگار نہیں ہت ۔
وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ
اللہ مو منوں کا ولی ہے
قُلْ أَ غَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا
کہو کہ اللہ کے علاوہ کسی کو ولی مان لیا ہے ۔
اس اختصاص کے باوجود پھر فرمایا ہے ۔
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ
سوائے اس کے نہیں کہ تمہارا ولی ،اللہ اور اسکا رسول اور وہ ہے جس نے ایمان لانے کے بعدنماز قائم کی اور رکوع کی حالت میں زکات دی ۔ کہ یہ شخص شخیص مو الا علی × ہیں اسی طرح علم ، قدرت اور دیگر کمالات و جودی میں یہی حال ہے ۔
تو یہ ،نہ تناقص ہے اور نہ باطل بلکہ حقیقت توحید کو بیان کیا جا رہا ہے اور اللہ اپنے فیض کے و اسطوں کی معرفی فرما رہا ہے ، یہ سب اسکا لشکر ہیں اسکے بندے اور مملوک ہیں اور اسکے فیض کا واسطہ ہیں اور حیات کا واسطہ جسطرح ممات کا واسطہ ہیں ، علم اور حکمت اور عزت کے فیض کا واسطہ ، اسی طرح اللہ کی ولایت کے فیض کا واسطہ جمع کے صیغہ میں واسطہ فیض بھی آجاتے ہیں اور جسطرح فعل کی نسبت اپنی طرف (جو اصل مبداء ہے) دے رہا ہے اسی طرح اپنے فیض کے واسطہ کی طرف بھی دیتا ہے جو خود اللہ کے ارادہ میں مسخر ہے ۔اسی طرح سورۃ غاشیہ کی ان دو آیات کی تفسیر میں آئمہ معصومین ^ نے باز گشت اور حساب کی نسبت اپنی طرف دی ہے ۔
امام موسی کاظم × نے ارشاد فرمایا : قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ ع أُحَدِّثُهُمْ بِتَفْسِيرِ جَابِرٍ قَالَ لَا تُحَدِّثْ بِهِ السِّفْلَةَ فَيُذِيعُوهُ أَ مَا تَقْرَأُ إِنَّ إِلَيْنا إِيابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا حِسابَهُمْ قُلْتُ بَلَى قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَ جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَلَّانَا حِسَابَ شِيعَتِنَا ،جب قیامت کے دن اللہ اولین و آخرین کو جمع فرمائے گا تو ہمارے شیعوں کا حساب ہماری تولیت میں دے گا ۔ امام صادق × نے ارشاد فرمایا: عن أبي عبد الله (عليه السلام)، قال إذا كان يوم القيامة وكلنا الله بحساب شيعتنا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے شیعوں کے حساب کی و کالت ہمیں دے گا تو پس شیعوں کا سروکار ہمارے ساتھ ہو گا امام باقر × نے جابر کو فرمایا روز قیامت جب اولین و آخرین اٹھادیے جائیں گے رسول اللہ ﷺ کو بلایا جائے گا اور امیر المو منین کو، پس رسول اللہ کو سبز لباس پہنا یا جائے گا حضرت علی × کو بھی اس جیسا ، پھر رسول اللہ ﷺ کو پھولوں کا لباس اور علی کو اس جیسا پہنایا جائے گا تو مشرق و مغرب روشن ہو جائیں گے پھر ہمیں بلایا جائے گا ۔فَيُدْفَعُ إِلَيْنَا حِسَابُ النَّاسِ فَنَحْنُ وَ اللَّهِ نُدْخِلُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَ أَهْلَ النَّارِ النَّار ۔
پس لوگوں کا حساب ہمیں دے دیا جائے گا پس ہم اللہ کی قسم! جنتیوں کو جنت اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کریں گے پہلی دو حدیثوں میں شیعوں کا سروکار بیان ہوا کہ اسکی شفاعت کی جائے گی اس حدیث میں تمام لوگوں کا سروکار بیان ہو ا جو جس کے اہل ہو گا ہم اللہ کی طرف سے اسے وہاں پہنچائیں گے ،سمُا عۃ کہتے ہیں کہ نصف شب کو میں مولا علی × کے ساتھ بیٹھا تھا لوگ کعبہ کا طواف کر رہے تھے تو حضرت نے مجھے فرمایا : أَبِي الْحَسَنِ الْأَوَّلِ ع وَ النَّاسُ فِي الطَّوَافِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ يَا سَمَاعَةُ إِلَيْنَا إِيَابُ هَذَا الْخَلْقِ وَ عَلَيْنَا حِسَابُهُم‏ ، اے سُماعۃ اس خلق کی باز گشت ہماری طرف اور انکا حساب ہم پر ہے اور حضرت امام علی نقی × نے زیارت جامعہ میں ارشاد فر مایا: وَ إِيَابُ الْخَلْقِ إِلَيْكُمْ وَ حِسَابُهُمْ عَلَيْكُم‏۔خلق کی باز گشت ہم آئمہ کی طرف اور انکا حساب بھی تمہارے اوپر ہے تو آئمہ قوس صعود میں غایات کے سلسلہ میں واسطہ فیض ہیں لذا سب لوگوں کا سر وکار ان سے ہو گا ،اور یہ ایسے ہے جیسے توفی اور ولایت و عزت کا آئمہ کی طرف اسناد دیا گیا ہے اس لیے صدر الدین شیرازی فرماتےہیں کہ جہان طبعیت کی موجودا ت جن غایات کی طرف پہنچیں گی وہ آئمہ ہیں تو امام نے فرمایا:والحجۃ بعد الخلق ۔
حجت خلق کے بعد ہے جسطرح ہر شی کی غایت زمان کے لحاظ سے بعد میں محقق ہوتی ہے اس طرح آخر تک ایک حجت اللہ باقی رہے گی اور وہ خاتم الائمہ # ہیں ۔ مخلوق کی غایت کا باقی رہنا ضروری ہے ورنہ انکی خلقت لغو ہو جائے گی تو پس حجۃ اللہ کا وجودخلق کے لیے ضروری ہے ۔
حجۃ اللہ مخلوق کے لیے معیّت قیومیہ رکھتا ہے :
جب روشن ہو چکا ہے حجۃ اللہ کائنات اور عالمین میں ایسے ہیں جیسے روح بدن میں ہو اور اگر حجۃ اللہ نہ ہو تو زمین نابود ہو جائے گی تو حجۃ اللہ کا وجود مخلوق کے ساتھ ہونا ضروری ہے معیّت قیومیہ سے مراد بھی یہی ہے کہ حجۃ اللہ خلق کے ساتھ ہے اور امر اللہ سے اسکی ہدایت فرما رہے ہیں جن سے جہان باقی ہے پس حجۃاللہ عالمین کے لیے قیم ہیں لذا صدر الدین شرازی کی شرح اصول کافی میں فرماتے ہیں:والحجۃ مع الخلق
حجت خلق کے ساتھ ہے اس لحاظ سے کہ حجۃ اللہ خلق کے لیے نور ہے اور مخلوق ظلمت اور اندھیرے میں ہے ، صراط مستقیم حجت اللہ کے بغیر نا ممکن تو خدا تک پہنچنے کےلئے اللہ کی حجت کا مخلوق کے ساتھ رہنا ضروری ہے ۔باالفاظ دیگر ، اللہ کی حجت ، ھو معکم اینما کنتم، کامظہر بن کر مخلوق کے لیے ضرورت رکھتا ہے۔ مرحوم صدرالدین محمد شیرازی آخر پر فرماتے ہیں یہ عوامانہ تقلید کا مقام نہیں عالمانہ تحقیق کا مقام ہے لذا اس مطلب کو درک کرنے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں ۔ پس ہم کہ خاتم الائمہ ادرکنی کہہ کر جب اس وادی میں داخل ہوں گے تو یقیناً حجۃ اللہ کا عرفان حاصل ہو جائے گا ۔
ٍحجۃ اللہ کے وجود کے دیگر آثار
۱۔ اللہ کی عبادت حجۃ اللہ کے وجود سے ممکن ہے
جب نظام تکوین اور تشریع اللہ کی حجت سے قائم ہے تو اللہ کی عبادت بھی اسی کے وجود سے ممکن ہو گی یعقوب سراج کہتا ہے میں نے حضرت صادق × کی خدمت میں عرض کیا : زمین ایک عالم زندہ ظاہر جس کی طرف لوگ حلال و حرام میں رجوع کریں کے بغیر باقی رہے گی ؟ تو اما م نے فرمایا : قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع تَبْقَى الْأَرْضُ بِلَا عَالِمٍ حَيٍّ ظَاهِرٍ يَفْرُغُ [يَفْزَعُ‏] إِلَيْهِ النَّاسُ فِي حَلَالِهِمْ وَ حَرَامِهِمْ فَقَالَ لِي إِذاً لَا يُعْبَدُ اللَّهُ يَا أَبَا يُوسُف‏ ، اس وقت اللہ کی عبادت نہیں کی جائ گی ۔عمومی بیان معلوم ہے جو گزر چکا ہے: بِنَا عُرِفَ اللَّهُ وَ بِنَا عُبِدَ اللَّهُ نَحْنُ الْأَدِلَّاءُ عَلَى اللَّهِ وَ لَوْلَانَا مَا عُبِدَ اللَّهُ ،عبادت اور معرفت ہمارے ذریعہ سے ہے ہم نہ ہوتے تونہ عبادت ہو تی نہ معرفت ، لذا اللہ کی عبادت کے باقی رہنے کےلیے بھی حجۃا للہ کا وجود ضروری ہے۔
2۔ حجۃ اللہ محافظ دین ہے
اللہ کی حجت اللہ کے دین کی محافظ ہے ، بدعتوں اور شیطانی و سوسوں سے بچاتی ہے دین کو خطا اور غلطی سے محفوظ رکھتی ہے ۔ جب امام اُسُّ الاسلام، اسلام کی اساس ہے تو اسکا محافظ بھی ہے ؛ لذا مام صادق × ارشاد فرماتے ہیں :عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو إِلَّا وَ فِيهَا إِمَامٌ كَيْمَا إِنْ زَادَ الْمُؤْمِنُونَ شَيْئاً رَدَّهُمْ وَ إِنْ نَقَصُوا شَيْئاً أَتَمَّهُ لَهُمْ ۔تحقیق زمین خالی نہیں ہو گی مگر اس میں امام ہو گا کہ جب مومنین دین میں کوئی اضافہ کریں تو امام انہیں روکے گا اور جب کوئی شی کم کریں تو امام اسے لوگوں کیلئے تمام کریں ۔پس لوگوں کے عقائد ، اخلاق اور احکام میں ز یادتی اور کمی کرنے والوں کو سیدھی راہ کی ہدایت فرماتے ہیں دین میں اضافہ جو دین میں نہیں ہے تو یہ بدعت ہے حجۃ اللہ اسکی طرف ہدایت کرےگی جو دین کو افراط و تفریط سے نجات دے گا ۔ گمراہوں کی غلطیوں اور مغالطات سے محفوظ فرما ئے گا اور انکے شبھات کو رد کر کے ہماری ہدایت فرمائے گا ۔اس طرح دین کے بعض اسرار حقائق اور معارف عقل اور فکر سے سمجھ نہیں آتے تو حجۃ اللہ بیان فرما کر ہدایت فرماتا ہے ۔
3۔ حجۃ اللہ خدا کے حلال و حرام کو بتانے والا ہے
جب نظام شریعت اسی سے ہے اور امام دین کا نظام ہے تو حجۃ اللہ ہی اللہ کے حلال و حرام بنانے والے ہیں ۔
امام صادق × فرماتے ہیں : عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ مَا زَالَتِ الْأَرْضُ إِلَّا وَ لِلَّهِ فِيهَا الْحُجَّةُ يُعَرِّفُ الْحَلَالَ وَ الْحَرَامَ وَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى سَبِيلِ اللَّهِ ، زمین میں ہمیشہ اللہ کی حجت ہے جو حلال و حرام کی معرفت دینے والا ہے اور لوگوں کو اللہ کی راہ کی طرف دعوت دینے والا ہے۔پس حلال و حرام الھی کی معرفت کے لیے حجۃ اللہ کے وجود کی ضرورت ہے ۔
۴۔ اللہ کی حجت سے حق و باطل کی پہچان ہو گی
جب امام امر اللہ سے ہدایت فرما تا ہے تو حق کی طرف ہدایت اور باطل کی پہچان بھی امام عطا فرمائے گا ۔لذا امام معصوم ارشاد فرماتے ہیں : عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَحَدِهِمَا ع قَالَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَدَعِ الْأَرْضَ بِغَيْرِ عَالِمٍ وَ لَوْ لَا ذَلِكَ لَمْ يُعْرَفِ الْحَقُّ مِنَ الْبَاطِل‏ ، اللہ تبارک و تعالیٰ زمین کو عالم کے بغیر نہیں چھوڑیں گے اور اگر یہ عالم نہ ہو تو حق کو باطل سے نہیں پہچانا جا سکتا ۔عالم سے مراد ، علم لدنی کا عالم ہے اور وہ امام معصوم ہے جس نے آیات و روایات سے علم کسب کیا ہے وہ جائز الخطا ہے ۔ چونکہ حجۃ اللہ حق و باطل کا میزان ہیں لذا امام کا وجود ضروری ہے ۔
۵۔ حجۃ اللہ کائنات کی مصلحت ہے ۔
اس جہان کی اچھائی اور مصلحت امام کے بغیر حاصل نہیں ہوتی جب اس جہان کا وجود اور بقاء حجۃ اللہ سے ہے تو اسکی مصلحت بھی اسی سے پوری ہو گی ۔
امام صادق × فرماتے ہیں: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ لَا يَصْلُحُ النَّاسُ إِلَّا بِإِمَامٍ وَ لَا تَصْلُحُ الْأَرْضُ إِلَّا بِذَلِكَ ۔ لوگ صالح نہیں ہوں گے مگر امام سے زمین میں مصلحت ہے اور وہ مصلح کل سے پوری ہو گی اولین وآخرین جس صلح مطلق اور عدالت عامہ کے مننظر ہیں وہ فقط اللہ کی حجت سے پوری ہو گی اسکے علاوہ نا ممکن ہے لذا حجۃ اللہ کا جود کائنات کے لیے ضروری ہے۔
جابر نے امام باقر× سے پو چھا لوگ نبی یا امام کے کس شی میں محتاج ہیں ؟تو امام نے فرمایا : عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قُلْتُ لِأَيِّ شَيْ‏ءٍ يُحْتَاجُ إِلَى النَّبِيِّ وَ الْإِمَامِ فَقَالَ لِبَقَاءِ الْعَالَمِ عَلَى صَلَاحِهِ وَ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَرْفَعُ الْعَذَابَ عَنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِذَا كَانَ فِيهَا نَبِيٌّ أَوْ إِمَام‏ ،جہان کا اپنی صلاح اور مصلحت پر باقی رہنے میں لوگ امام یا نبی کے محتاج ہیں اس لیے کہ اللہ اہل زمین سے عذاب اٹھا لیتا ہے جب اس میں نبی یا امام ہو ۔
6۔حجۃ اللہ خدا کی طرف سے مخلوق پر اتمام حجۃ ہے:
امام ہر ایک کاہادی ہے اور شیطان کے مقابل میں اللہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے لذا امام سے کائنات پر اللہ کی طرف سے حجت پوری ہو جائے گی؛لذا امام صادق × فرماتے ہیں : وَ قَالَ إِنَّ آخِرَ مَنْ يَمُوتُ الْإِمَامُ ع لِئَلَّا يَحْتَجَّ أَحَدٌ عَلَى اللَّهِ أَنَّهُ تَرَكَهُ بِغَيْرِ حُجَّةٍ لِلَّهِ عَلَيْه‏ ،امام کا ہونا ضروری ہے تاکہ کوئی ایک اللہ پر احتجاج نہ کر سکے کہ اللہ نےاسے بغیر امام کے چھوڑ دیا ۔
۷۔ تمام برکات حجۃ اللہ سے ہیں:
ہر خیر و برکت حجۃاللہ کے وجود سے حاصل ہوتی ہیں ۔
۱۔ امام زین العابدین × ارشاد فرماتے ہیں :عن الصادق جعفر بن محمد عن أبيه محمد بن علي عن أبيه علي بن الحسين ع قال نحن أئمة المسلمين و حجج الله على العالمين و سادة المؤمنين و قادة الغر المحجلين و موالي المؤمنين و نحن أمان لأهل الأرض كما أن النجوم أمان لأهل السماء و نحن الذين بنا يمسك الله السماء أن تقع على الأرض إلا بإذنه و بنا يمسك الأرض أن تميد بأهلها و بنا ينزل الغيث و تنشر الرحمة و تخرج بركات الأرض‏ ،ہمارے سبب اللہ بارش نازل فرماتاہے ہمارے ذریعہ رحمت کو منتشر اور تقسیم کرتا ہے اور زمین کی برکات کو خارج کرتا ہے پس زمین سے جو لقمہ پیدا ہو، اور آسمان سے جو رحمت نازل ہو ہم آئمہ ^ کے ذریعہ سے ہوتی ہے ۔
امام باقر × نے ارشاد فرمایا: بِهِمْ يَرْزُقُ اللَّهُ عِبَادَهُ وَ بِهِمْ يَعْمَرُ بِلَادَهُ وَ بِهِمْ يُنْزِلُ الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ وَ بِهِمْ تُخْرَجُ بَرَكَاتُ الْأَرْضِ وَ بِهِمْ يُمْهِلُ أَهْلَ الْمَعَاصِي وَ لَا يُعَجِّلُ عَلَيْهِمْ بِالْعُقُوبَةِ وَ الْعَذَابِ لَا يُفَارِقُهُمْ رُوحُ الْقُدُسِ وَ لَا يُفَارِقُونَهُ وَ لَا يُفَارِقُونَ الْقُرْآنَ وَ لَا يُفَارِقُهُمْ صَلَوَاتُ‏اَللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِين‏ ، اللہ تبار ک و تعا لیٰ آئمہ کے ذریعہ اپنے بندوں کو رزق عطا فرما تاہے ا نہیں کے سبب اپنے شہروں کو آباد فرماتاہے انہیں کے وجود سے آسمان سے بارش برساتا ہے اس کی وجہ سے زمین کی برکتیں خارج کرتا ہے انہیں کے وجود کی وجہ سے اللہ گناہگاروں کو مہلت دیتا ہے اور ان پر عذاب میں جلدی نہیں فرماتا روحُ القدس ان سے جدا نہیں اور وہ اس سے جدا نہیں وہ قرآن سے جدا نہیں ہوئے اور قرآن ان سے جدا نہیں ہے ۔
امام رضا × نے فرمایا:قَالَ قَالَ الرِّضَا ع نَحْنُ حُجَجُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَ خُلَفَاؤُهُ فِي عِبَادِهِ وَ أُمَنَاؤُهُ عَلَى سِرِّهِ وَ نَحْنُ كَلِمَةُ التَّقْوَى وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ نَحْنُ شُهَدَاءُ اللَّهِ وَ أَعْلَامُهُ فِي بَرِيَّتِهِ بِنَا يُمْسِكُ اللَّهُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ أَنْ تَزُولا وَ بِنَا يُنْزِلُ الْغَيْثَ وَ يَنْشُرُ الرَّحْمَةَ لَا تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ قَائِمٍ مِنَّا ظَاهِرٍ أَوْ خَافٍ وَ لَوْ خَلَتْ يَوْماً بِغَيْرِ حُجَّةٍ لَمَاجَتْ بِأَهْلِهَا كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ بِأَهْلِهِ ۔
ہم اللہ کی حجتیں ہیں اسکے بندوں میں اسکے جانشین ہیں اس کے راز پر اسکے امین ہیں ہم تقویٰ کا کلمہ ہیں ہم عروۃ الوثقیٰ ہیں ہم اللہ کی طرف سے شاہد ہیں اسکی مخلوق میں اسکے پر چم ہیں ہمارے سبب سے اللہ زمیں و آسمان کو باقی رکھتا ہے ہمارے سبب سے باران رحمت نازل فرماتا ہے رحمت کو پھیلاتا ہے ۔پس تمام برکات ِ اور رحمات امام کے وجود سے ہیں جو بشر کی بقاء اور ارتقاء کے لیے ضروری ہیں لذا اس کے لیے حجۃ اللہ کا وجود ضروری ہے ۔
پس حجۃ اللہ کی حقیقت خلق اول ہونا ہے جو وجود منبسط ہے، اور واسطہ فیضِ حق ہے عالمین کی روح ،قرآن ، دین اسلام کا قیّم اور محافظ ہے حجۃ اللہ خلق سے پہلے اسکے بعد اور اس کے ساتھ ہے حجۃ اللہ سے ہر شی کا وجود قائم ہے ۔ اور تمام برکات اور رحمات ا سکے وجود کی برکت سے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں حجۃ اللہ کی معرفت عطا فرمائے۔ جب حجۃ اللہ کی حقیقت روشن ہوگئی تو اب حقیقت امامت اور امام واضح ہوگی امام اللہ کی حجتِ عظمیٰ ہیں۔
امامت خاصہ
معرفت امام خاتم لا ئمہ × # معرفت امام مطلق
میر ا مو لا صاحب الزّمان × نبی خاتم ﷺ کا عِدل ہے جو کمالات اور فضائل ، حضرت نبی خاتم| میں ہے میرے امام خاتم الائمہ × میں موجود ہیں نبی خاتم کے خُلق عظیم کے وارث میرے امام خاتم ،ا ے سراج منیر مو لا کہ تیرے نور وجود سے ہر موجود نور وجود لے رہا ہے ، اے ہر موجود پر شاھد مولا اے ہر محروم و ضعیف اور مستضف کو امید کے نور کی بشارت دینے والے امام اے ہر ظالم اور گناہ گار کو اسکی درد ناک سزا سے ڈارنے والے اما م ،ہمارا خاتم الائمہ امام وہ ہے کہ سدرۃ جس کے قدموں کا بوسہ لے کر اللہ کی عبادت کر رہا ہے اور وہ اسی دنیا میں اللہ کے امر کے ذریعہ جہان کی ہدایت فرما رہا ہے اور جسکا ظہور امر اللہ کا ظہور ہے جسطرح کہ اسکی غیبت ، الھٰی غیبت ہے وہ جو صبر مطلق کی سلطنت کا یکتا بادشاہ ہے عالمین کا غم جسکے قلبِ مبارک میں ہے ۔
ہر نبی پر ہونے والے مظالم کا دکھ اسکے دریا دل میں ہے خاتم سے لیکر عسکریٰ تک کے مصائب کے طوفان کو تحمل فرمانے والا ، بنتِ زہراء مرضیہ ÷ کے شکستہ پہلو ، ورم شدہ ہاتھوں پرخون رونے والا ، اب اس کا ئنات میں اپنے محبّوں اور منتظرین پر ہونے والے مظالم کو سہنے والا، تمام انبیاء کا وارث علی × سے لیکر عسکریٰ تک تمام آئمہ کا وارث کہ جس نے کائنات کو امرِ کن سے چلانا ہے ۔ تو اسکی معرفت تو ناممکن ہے لیکن اگر ہم وظائف المنتظرین پر عمل کریں تو نظر لطف فرما کر ہمیں اپنے انصار میں شمار فرما لے گا۔جو اس وقت صاحب امامت ہے جو امامت حضرت ابر ہیم کو نبوت و رسالت کے بعد ملی جو عالمین کی پیشوائی فرما رہا ہے۔
محقق اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول من منہ الوجود خداو ند متعال ہے من بہ الوجود امام ہے ہر شی کا مبداء حق تبارک و تعالیٰ ہیں لیکن اُس شی کے وجود کا واسطہ ِ تحقق امام × ہیں ، جو اللہ کے امر سے ہر شی کی ملکوتی ہدایت فر ما رہا ہے جسطرح کہ ملکی ہدایت بھی فر ما رہا ہے ، اس وقت ہر شی خاتم الائمہ × کی ہدایت سے حرکت کر رہی ہے اگر شجر با ثمر ہو راہے ۔نطفہ حیوان بن رہا ہے شمش و قمر اپنے مدار پر صحیح حرکت کر رہے ہیں ، ہوا کی چلن ، پانی کی موج ، بادل کی سیر ، بجلی کی چمک، بادلوں کا بارش بر سانا ، افلا ک کا حرکت انجام دینا فر شتوں کا عبادت کر نا ، دوزخ کا بھڑکنا ، بہشت کا مزین ہو نا یہ سب امام خاتم × کی ہدایت سے واقع ہو رہی ہیں۔
( ثم ھدیٰ )کو اللہ تبارک و تعالیٰ خاتم الا ئمہ # کے ہاتھ سے محقق فر ما رہا ہے ، جس کا سینہ ، ہر شی کے احصاء کا خزینہ ہے ، جو اللہ کی وجودی کتاب مبین ہے اور امام مبین ہے ، اللہ کی وہ حجت جس کے قیام سے پورا عالمین قائم ہے جس کی سانسوں کے تسلسل سے عالمین سانس لے رہے ہیں اگر وہ سانس نہ لے تو پورے جہان کی سانس رک جائے گی ، جسکے پاک خون کی گردش سے اس جہان کی نبض چل رہی ہے ، جو عالمین کی نبضوں کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے جسکے وجود سے عالمین کو رزق بقاء یعنی روز ی مل رہی ہے ، وہ جو عالمین کا ہدف ہے ہر شی اپنے وجود میں اسے چاہتی ہے اور اسکی تلاش میں ہے جسکے وجود کے نور سے حق کو باطل سے پہچانا جا سکتا ہے خیر کو شر سے تمیز دی جا سکتی ہے اللہ کا حلال و حرام باقی ہے ، جو اسلام کے کلمہ توحید کی بقاء ہے اور قرآن کا قیّم بن کر اسے اپنے ہدف تک پہچانے والا ہے ۔ خاتم الا ئمہ# کی معرفت کے لیے ایک آیت از قرآن مجید اور ایک فرمائش از عترت اھل بیت ^ پر اکتفا کرتے ہیں ۔
قرآن : خاتم الائمہ امر اللہ ہیں
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ، اللہ کا امر آ پہنچا ہے پس تم اسکے بارے میں جلدی نہ کرو اللہ منزہ اور بلند ہے اس سے کہ اس کا شریک قرار دیا جائے۔
آیت کا مضمون
خطاب مشرکین کو ہے کہ جو امر اللہ کے آنے میں مذاقِ کرتے ہوئے جلدی چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم جو کہتے ہو کہ اللہ کا امر آ ئے گا تو سب فساد ختم ہو جائے گا مجرموں کو سزا دے گا تو وہ امر جلدی کیوں نہیں آتا ،تاکہ مشرکین کو سزا دے اور مو منین کو جزاء عطا کرے ، فساد ختم ہو جا ئے فلاح اور بہبود مادّی اور معنوی قائم ہو جا ئے ۔
اللہ تبا رک و تعالیٰ نے فرمایا : جلدی نہ کرو اللہ کا امر آ پہنچا ہے کہ جسکا ظہور عنقریب ہے یہ ایسے ہے جیسے کسی بادشاہ کے آنے کی انتظار میں ہوں اور وہ قریب آجائے تو کہتے ہیں بادشاہ یہ آگیا ۔ در حالانکہ ابھی بادشاہ آیا نہیں ہوتا لیکن اسکا آنا قریب ہے ۔
امر اللہ کی خصو صیات
امر اللہ کی خصو صیات جنہیں اسی آیت کریمہ سے سمجھا جا سکتا ہے اما دیگر خصوصیات بعد میں ذکر کریں گے ۔
۱۔ امر یطھر ساحۃ الر بو بیۃ من شرک المشرکین بحسم مادّتہ
مفسر کبیر علامہ طبا طبائی رحمۃ اللہ علیہ ،اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آیت کےسیا ق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ امر اللہ وہ ہے ذات ِ مقدس اللہ کو مشرکوں کے شرک سے تطھیر فرما ئے اس انداز میں کہ شرک کی جڑ اُ کھیڑ پھینکے اور پھر کوئی اللہ تبارک کےساتھ شرک کا سوچے بھی نہ ۔
۲۔ امر اللہ وہ ہے کہ اللہ تبا رک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں مو منین کو جس کے آنے کی کئی بار نوید سنائی ہے وہ مو منین کی مدد کرے گا اور مشرکین کو و عید سنائی ہے کہ جوکا فروں اور مشرکوں کی اصل ختم کر دے گا ۔
۳۔ امر اللہ ، اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب فرمائے گا ، جسطرح سورۃ بقرہ میں ارشاد فرمایا : فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ، معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے امر کو بھیجے ، پس امرُاللہ کے آنے کی انتطار میں رہو ، جو آ کر شرک کو ختم کرے گا اور اسلام کو عالمین میں غالب کر کے نافذ فرمائے گا ۔
یہ اس آیت کا اجمالی مضمون ہے تو یہ امر اللہ کی تفسیر ہے کہ جسکا مصداق امام خاتم الائمہ × ہیں۔
1۔ عن أبان بن تغلب عن أبي عبد الله ع أن أول من يبايع القائم جبرئيل ع ينزل عليه في صورة طير أبيض فيبايعه، ثم يضع رجلا على البيت الحرام و رجلا على البيت المقدس، ثم ينادي بصوت رفيع يسمع الخلائق « أَتى‏ أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ»
امام صادق × نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا امر اللہ سے مراد ہم اہلیبت ^ کا امر ہے اللہ عزیز و جلیل نے امر فرمایا ہے کہ اسکے بارے میں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ اللہ اسکی تین لشکر سے تائید فرمائے گا فرشتے ، مو منین اور رعب ، اور امر اللہ کا خروج ، رسول اللہ کے خروج کی طرح ہے اور وہ اللہ کا قول ہے جسطرح تجھے تیرے ربّ تیرے گھر سے حق کے ساتھ قیام کے لیے نکالا ۔ اس حدیث میں امر اللہ وہی اہل بیت ^ کا امر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے تین لشکروں سے مو ید ہو گا۔ اور وہ خاتم النبین ﷺ کے خروج کی طرح ہے ۔
۲۔ عن الصادق × : ان اول من یبایع القائم جبرائیل × ینزل علیہ فی صورۃ طیرا ایبض قیبا بعہ ثم یضع رجلا علی البیت الحرام و رجلا علی البیت المقدس ثم ینادی بصوت رفیع یسمع الخلائق اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ۔
امام صادق× نیز اس آیۃ کا مصداق بیان فرماتے ہیں کہ ۔ سب سے پہلے جو حضرت قائم × کی بیعت کرے گا جبرائیل× جو سفید پرندہ کی شکل میں آئے گا پھر ایک قدم کعبہ پر اور ایک قدم بیت المقدس پر رکھ کر بلند آواز سے ندا دے گا اور پوری مخلوق کو سنائے گا اللہ کا امر آ گیا ہے تو اس کے بارے میں جلدی نہ کرو ۔ اس مفہوم میں معتدد احادیث ہیں جو تفسیروں میں مذکور ہیں ، جو اس نکتہ کو بیان کر رہی ہیں کہ امر اللہ حضرت خاتم الا ئمہ × ہیں ۔ آیت کے مضمون میں امر اللہ کی تین خصوصیات بیان ہوئی ہیں جو کسی میں نہیں ملتی سوائے خاتم الا ئمہ × کے حضرت سے پہلے شرک اصل اور جڑ سے ختم نہیں ہوا ، دین اسلام تما م ادیان پر غالب نہیں ہوا جس کی تمام مو منین کو نوید سنائی گئی حتی کہ تمام گذشتہ انبیاء کو اور مشرکین اور کفار کو وعید سنا ئی گی حتیٰ کہ اولین و آخرین کو بتایا گیا یہ خصوصیات فقط حضرت خاتم الا ئمہ میں محقق ہیں اسی طرح وہ خصوصیات جو ان دو آیات میں ذکر ہوئی ہیں وہ بھی فقط حضرت خاتم الائمہ× میں ہیں ۔ تو پس امر اللہ وجود مقدس امام خاتم الائمہ # میں ہے ۔ کہ سب اسکے آنے کے منتظر ہیں دعا ہے کہ اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے ۔
یہاں سے معلوم ہو اکہ یہاں پر امر اللہ سے مراد، اللہ کا اعتباری امر مراد نہیں جو احکام شرعیہ کے بارے میں ہوتا ہے بندوں میں سے بعض اس امر خدا کو انجام دیتے ہیں اور بعض انجام نہیں دیتے اور جوخصو صیات امر اللہ کی بیان ہوئی ہیں محال ہے کہ وہ اللہ کے اعتباری اور تشریعی امر میں محقق ہوں۔ پس امر اللہ سے مراد امر وجودی تکوینی ہے جو ایک حقیقت خارجیہ ہے اور یہ امر اللہ اللہ کی طرف سے ایک حقیقت ملکوتیہ ہے جو مُلکی لباس میں ظاہر ہو گا اور یہ امر اللہ وہی ہے جسکی تعریف اللہ تعالیٰ نے سورۃ یسٰ میں بیان فرمائی ہے ،إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ،ا مر اللہ کن ہے ، اور یہ کلمہ ایجاد ہے لفظ اور قول نہیں ۔ جسطرح پہلے آیات کی روشنی میں بیان ہو چکا ہے اب روایات کے نور میں بیان ہو اچاہتا ہے ۔
۱۔ امیر لمو منین علی × نے ارشاد فرمایا: ٍ يَقُولُ لِمَا أَرَادَ كَوْنَهُ كُنْ فَيَكُونُ لَا بِصَوْتٍ يَقْرَعُ وَ لَا نِدَاءٍ يُسْمَعُ وَ إِنَّمَا كَلَامُهُ سُبْحَانَهُ فِعْلٌ مِنْهُ أَنْشَأَهُ ، اللہ تبار ک وتعا لیٰ شی کے وجود کا جب ارادہ فر ماتے ہیں تو کن کہتے ہیں تو شی ہو جاتی ہے لیکن نہ کسی آواز سے جو کانوں سے ٹکرائے نہ ندا سے جسے سنا جائے سوائے اس کے نہیں کہ اس کا کلام اسکا فعل ہے جسے اللہ ایجاد فرماتا ہے ۔تو روشن ہوا کہ ا مرا للہ ، کن ہے اور کن لفظ نہیں بلکہ فعل خدا ہے جوحقیقت وجودیہ ہے اور وہ بھی ملکوتیہ کہ مزید روشن ہوجائے گا ۔
۲۔ امام صادق × نے ارشاد فرمایا: الْأَشْيَاءِ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ إِرَادَتِهِ قُلْتُ إِنَّ الْإِرَادَةَ مِنَ الْعِبَادِ الضَّمِيرُ وَ مَا يَبْدُو بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفِعْلِ وَ أَمَّا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَالْإِرَادَةُ لِلْفِعْلِ إِحْدَاثُهُ إِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ بِلَا تَعَبٍ وَ لَا كَيْف‏ ۔ فعل کا رادہ کرنا اسے ایجاد کرنا ہے جو کن سے فیکون ہو جا تا ہے مشکل اور کفیت کےبغیر ۔ یعنی اللہ کے امر کے لیے زمان و مکان کی کفیت نہیں بلکہ وہ زمان و مکان کی قید سے بلند و بالا ہے ۔
۳۔ امام موسیٰ کاظم × فرماتے ہیں : ِ إِبْرَاهِيمَ ع أَنَّهُ قَالَ لَا أَقُولُ إِنَّهُ قَائِمٌ فَأُزِيلَهُ عَنْ مَكَانٍ وَ لَا أَحُدُّهُ بِمَكَانٍ يَكُونُ فِيهِ وَ لَا أَحُدُّهُ أَنْ يَتَحَرَّكَ فِي شَيْ‏ءٍ مِنَ الْأَرْكَانِ وَ الْجَوَارِحِ وَ لَا أَحُدُّهُ بِلَفْظِ شَقِّ فَمٍ وَ لَكِنْ كَمَا قَالَ عَزَّ وَ جَلَّ إِنَّما أَمْرُهُ إِذا أَرادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ بِمَشِيئَتِهِ مِنْ غَيْرِ تَرَدُّدٍ فِي نَفس ، میں امر اللہ کو منہ کے کھلنے سے لفظ کے ساتھ تعریف نہیں کرتا بلکہ وہ اسکی حقیقت جسطرح اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ کن ہے جو اسکی مشیت سے بغیر شک کے محقق ہو جاتا ہے ۔تو یہاں پر بھی امر اللہ کو کن کہاگیا ہے اور لفظ کی نفی کی گئی ہے ۔
4۔ حضرت رضا × نے ارشاد فرما تے ہیں: وکن منہ صنع و ما یکون،بہ المصنوع ۔ اللہ سے کن ، اسکی صنع وخلقت اور ایجاد ہے اور یکون وہی مصنوع و مخلوق ہے ، پس لفظ نہیں ہے ۔
۵۔ علی ابن ابراہیم قمی کی تفسیر میں امام معصوم× سے نقل کرتے ہیں کہ :خزائنہ فی کاف و نون ۔اللہ کے خزائن ، کاف اور نون کہ ( کن ) ہے ، میں ہیں فرمایا : وَ إِنْ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ وَ ما نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُوم‏ ۔ کو ئی شی نہیں ہے مگر ا سکے خزائن ہمارے پاس ہیں اور ہم اسے نازل نہیں کرتے مگر مقدار معین کے ساتھ ۔
تمام اشیاء اللہ کے خزائن میں سے ہیں اور تمام خزائن ،کاف نون میں ہیں تو پس تمام عالمین کن سے صادر ہوتی ہیں اور یہ کن امر اللہ اور امر اللہ امام خاتم الائمہ کی حقیقت اورو جود ہے ۔ اور جسطرح بیان ہو چکا ہے کہ خطاب کن مخاطب آفرین ہے کہ ہر شی اللہ کے علم سے عین اور خارج میں آجاتی ہے یہ آنا بالتجلی ہے نہ بالتجافی ۔ جسطرح لفظ ، کلمہ اور کلام انسان کے علم سے خارج میں آجاتا ہے تو انسان کے علم سے کوئی شی کم بھی نہیں ہوتی اور لفظ بھی بن جاتا ہے ۔اور یہی مراد ہے یھدون با مرہ ، اللہ کے امر سے ہدایت کرنا۔امام ، اللہ کا امر بن کر اسکے امر کے ساتھ ہدایت کرتا ہے چاہے بمعنی ملابست ہو یا بمعنی مصاحبت ، امام امر اللہ کا لباس پہن کر ہدایت فرما رہا ہے یا امر اللہ کے ساتھ ہدایت فرما رہا ہے یہ مصداق پیدا نہیں کرے گا مگر یہ کہ وجود امر اللہ ہو ۔
اور جو امام امر اللہ ہے وہی اولو الامر ہو سکتا ہے جوپہلے امر اللہ ہو وہی اولو الامر ہو سکتا ہے جو پہلے امر اللہ ہو تب جہان اور مسلمین کا امر ،اللہ تعالی کی طرف سے اسکے ہاتھ میں دیا جاتا ہے ، اگر کوئی تکویناً امر اللہ ہے تو تشریع میں وہ اولو الامر ہو گا ، پہلے اللہ کا امر وجودی بنے پھر مخلوق کے امر کامالک بنے گا پہلے اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کو وجودی امر بنے پھر مخلوق کے امر کا مالک بنے گا ،لذا غیر معصوم کا اولو الامر ہو نا محال ہے اگر چہ کہ بہت بڑا عالم مجتہد اور عادل ہی کیوں نہ ہو چہ برسد کہ کسی ظالم ، فاسق اور فاجر کو اولامر کہا جائے ، حضرت خاتم الائمہ × ، امر اللہ ہیں جس کا تمام خلائق کو وعدہ دیا گیا ہے ، وہ جو حضرت ِ حق کی مشیّت اور انبیاء و مرسلین مو منین کی آروز ہے اُسے محقق فرمائے گا اور حضرت کی ہدایت اسی جہان میں امر اللہ سے ہوگی کہ ذرّہ برابر بھی ظلم کہیں دکھائی نہیں دے گا ، صلح مطلق قائم ہو گی ۔
اُسکی حکومت بھی امر اللہ سے ہوگی کہ دشمن مذاق اڑاتے ہوئے اسکے آنے میں جلدی کرتا ہے اور دوست و منتظرین اللہ کے وعدہ کے محقق ہونے کے منتظر ہیں تاکہ ہر شی اپنے کمال تک پہنچ جائے اور ہر مخلوق کو اپنا مقصد مل جائے اس لیے کہ وہ اللہ کا امر ہے کہ پورے جہان کا امر جس کے ہاتھ میں ہے ، لذا وہ اولولا امر اور ولی امر ہے اب روشن ہوا کہ جب ظہور فرمائےگا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی کہ اللہ کا امر آن پہنچا ہے جلدی نہ کرو امر اللہ کے ظہور سے دنیا و آخرت سارے جہان خوش و مسرور ہوں گے کیو نکہ اپنے کمال اور ہدف کو پہنچ جائیں گے ، زمین و آسمان مادہ و معنی ، جمادات ، نباتات ، حیوان اور انسان تمام اپنی صلاح و کمال پر پہنچ جائیں گے حتیٰ کہ قبروں میں سوئے ہوئے خوشی منائیں گے پانی ہوا چاند ستارے شمس و قمر شاداب ہوں گے مسجد ، کعبہ ، قرآن اور اسلام سب اپنی آروز و مقصد پر جاپہنچیں گے اولین و آخرین ، انبیاء ، اوصیاء و دیگر آئمہ ھدیٰ^ سب کے سب جس ا مر اللہ کی انتظار میں تھے جب وہ اللہ کی طرف سے ظاہر ہو گا تو انکی انتظار ختم ہوجائے گی کیو نکہ ہر ایک اپنے مقصد پر پہنچ گیا ہے
احادیث کے نور میں چند نمونے
عقل و علم
ہمارے امر ُاللہ امام کے ظہور سے عقل و علم اپنے کمال پر جا پہنچے گا۔ عقل انسان کی انسانیت ہے کیونکہ امام صادق × فرماتے ہیں )دِعَامَةُ الْإِنْسَانِ الْعَقْل ) انسان کاستون عقل ہے ، شی کی دعامت وہ شی کا اس انداز میں سہارا اور ٹیک ہو کہ اس کی بقاء کا سبب ہو اس طرح کہ شی کی بقاءہو ، پس عقل انسان کی حقیقت ہے اگر عقل نہ ہو تو انسان انسانیت سے گر جائے گا اور انسان عقل سے صراط مستقیم اور عبادت الھی پر باقی رہتا ہے اگر عقل نہ ہو تو گناہ کرتا ہے اور اسی طرح تمام مراتب انسانیت عقل سے طے ہوتے ہیں ۔ اور انسانی کمال ، عقل کا ،کامل ہونا ہے اور عقل کاکامل ہونا انسان میں موجود استعدادوں کا کھل کر بالفعل ہونا ہے ۔ اور انبیاء کی بعثت کا مقصد بھی انسان کو کمال تک پہنچا نا ہے اور انسانی کمال ، کمال عقل ہے لذا امیر المو منین × ارشاد فرماتے ہیں۔ ِ وَ يُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُول‏ ، کہ انبیاء لوگوں کے لیے عقلوں کےخزانے کو ابھارتے ہیں نبی استعداد کو فعلیت تک پہنچانے کے لیے آتے ہیں ۔ جب عقل کامل ہو گا تو معاشرہ صالح اور سالم ہوگا اور صلحِ قائم ہوگی ۔ علم : علم بھی حقیقت انسان ہے پوری انسانیت کا امام حضرت امیر المو منین × ارشاد فرماتے ہیں : قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ ۔ہر شخص کی قیمت اس کا علم ہے جتنا جس میں علم ہے اتنا بڑا انسان ہے اسی علم سے انسان ملائکہ کا مسجود واقع ہوا ، علم سے انسان کائنات پر حکومت کرتا ہے علم سے انسان تمام مخلوقات پر اشرف ہوا ہے ۔اللہ نے ،قلیل علم انسان کو دیا :و ما او تیتم من العلم الا قلیلاً۔ تمہیں علم میں سےنہیں دیا گیا مگر تھوڑا سا ، اس تھوڑے سے علم سے انسان نےترقی کی کتنی منازل کو طے کیا ہے؟ امام خاتم الائمہ × ، امر اللہ بن کر انسان کے عقل کو کمال تک پہنچائیں گے اور علم میں بھی معراج عطافرمائیں گے حضرت کے ظہور سے پہلے بشریت نہ اس مقام کو پاسکی نہ علم کی اس منزل کو چھو سکی ۔
امام باقر × فرماتے ہیں: عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ إِذَا قَامَ قَائِمُنَا وَضَعَ اللَّهُ يَدَهُ عَلَى رُءُوسِ الْعِبَادِ فَجَمَعَ بِهَا عُقُولَهُمْ وَ كَمَلَتْ بِهِ أَحْلَامُهُمْ ، جب ہمارا قائم قیام فرمائے گا تو اللہ اپنا ہاتھ بندوں کے سروں پر رکھے گا تو پس اس ہاتھ سے انکی عقلیں جامع اور کامل ہوجائیں گی ۔ تو معنی یہ ہو گا کہ خود حضرت خاتم الائمہ × ہاتھ رکھیں گے تو عقلیں کامل ہو جائیں گی ،دوسری روایت میں لفظ مبارک اللہ نہیں ہے۔ تو معنی یہ ہوگا کہ خود حضرت خاتم الائمہ × ہاتھ رکھیں گے تو عقلیں کامل ہو جائیں گی۔ لفظ جلا لۃ ہو یا نہ ہو حقیقت میں اللہ تبارک و تعالی کا ہاتھ ہے جو رحمت اور قدرت کے ساتھ مو منین پر پھیلا ہے دونوں صورتوں میں امام خاتم × کا وجودِمقدس ید اللہ بن کر مو منین کے سروں پراپنا ہاتھ رکھیں گے تو وہ کامل عقل بن جائیں گے ۔ بالفاظ دیگر :ا یک روایت میں اصل توحید کو بیان کیا گیا دوسری حدیث میں اصل امامت کو بیان کیا گیا ہے ایک میں من منہ الوجود کہ مبداء ہے اسے بیان کیا گیا دوسری میں من بہ الوجود کہ اللہ کی ایجاد کا واسطہ ہے بیان کیاگیا ہے ایک میں اللہ اور دوسری میں خلیفۃ اللہ کو بیان کیا گیا ہے ۔
کمال عقل :
عقل کی دو قسمیں ہیں : ۱۔ عقل نظری ، ۲۔ عقل عملی
انسان کی خصو صیت ادراک کا اعلی درجہ ہے جو اسے حیوانات سے جدا کرتا ہے اور وہ ادراک عقلی ہے اسی ادراک سے درک ہونے والی چیزیں دوقسم کی ہیں۔
۱۔ وہ امور جنہیں جاننا چاہیے۔ اللہ حق ہے ، اللہ ایک ہے امام موجود ہے اور وجود اور عدم جمع نہیں ہو سکتے یہ امور انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ اعتقادات اور نظریات سے مربوط ہیں ۔
۲۔ وہ امور جنہیں انجام دینا چاہیے مثلا ً: عدل محبوب ہے ، صبر لازم ہے ، توکل پسندیدہ ہے و امثال ذلک ، ان امور کو انجام دینا چاہیے کیونکہ انسان کے اختیار میں ہیں ۔
1۔ عقل نظری: عقل انسان ، کامل نہیں ہے بلکہ ناقص ہے یعنی استعداد اور صلاحیت فعلیت میں تبدیل ہوگی تب عقل کامل ہو گی، اس فعلیت تک پہنچنے کے لیے عقل نظری کے چار مرتبے ہیں ۔
۱۔ عقل جس میں حصول ِعلم کی صلاحیت ہے محض قوت اور استعداد ہے جو استعداد حیوانات میں بھی نہیں ہے ۔
۲۔ صلاحیت اکتساب ، یعنی معلومات کو ترکیب کر کے نظریات کسب کرنے کی صلاحیت ، یہاں پر بدہیات اور واضحات موجود ہیں ۔
۳۔ صلاحیت استحضار ، کلیات کو ذہن میں حاضر کرنے کی صلاحیت یعنی حاصل شدہ نتائج کو ذہن میں لے آنا علوم نظری اس مرحلہ میں موجود ہیں ۔
۴۔ کمال عقل اور فعلیت عقل میں بالفعل ہیں تمام معلومات انسان کے پاس حاضر ہیں تمام انسان پہلا اور دوسرا مرتبہ خو د بخود گردش ِزمان سے حاصل کر لیتے ہیں تیسرے مرتبہ کے لیے تمام علوم نظری ایجاد ہوئے ہیں اور بشر اس مرتبہ کو حاصل کر نے کے لیے مدارس ، کالج اور یونیورسٹیاں بنا رہا ہے ۔
تما م نظری علوم اس مرتبہ میں پرواز کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں ، علم منطق ، ریاضی ، طبعیات ، فیزکس ، بیالوجی ، سوشیالوجی ، کیمسٹری ، وغیرہ اسی طرح علم اصول ، علم فقہ ، حکمت و فلسفہ اور عرفان نظری ۔خلاصہ یہ کہ حکمت الہیہ اعم اوراخص سب اسی لیے ہیں سائنس میں جو ترقی ہو رہی ہے اسی مرتبہ میں ہیں آجکل جو آئی ٹی کا زمانہ ہے یہ سب تیسرے مرتبہ عقل میں پرواز کر کے یہاں تک پہنچنا ہے ، یہ سب علوم انسان کے عقل فطری کی پرواز کے لیے ہیں تو انسان ان علوم کے ذریعہ تیسرے مرتبہ عقل میں پرواز کرسکتا ہے جو ابھی اپنی معلومات بدیہّہ اور نظریہّ سے نظریات کوحاضر کر نے کی قوت ہے اور ان نظریات کو ذہن میں حاضر کر لیتا ہے ۔ چوتھے مرتبہ عقل فطری پر اکثر نہیں پہنچ پاتے اور بعض پہنچ جاتے ہیں اور جو پہنچتے ہیں وہ ایسے افراد ہیں جو نور ولایت الٰھیہ سے متصل ہے ، شمسِ امامت سے فیض الھیٰ لینے والے ہیں یہ مرتبہ علمی اور عملی ریاضت سے حاصل ہوسکتا ہے عبادت ، سجدہ ، دعا ، توسل ، گریہ اور پرہیز گاری سے حاصل ہوتا ہے خود اس مرتبہ کے بھی درجات ہیں ۔اور یہ کتاب حاضر اس مرتبہ کوحاصل کرنے کے لیے بہترین وسیلہ ہے اگر ہم واقعاً ان وظائف پر کاملا عمل کریں اور حضرت خاتم الائمہ × نظرکرم فرمائیں تو یہ مقام حاصل ہو سکتا ہے ۔
عقل عملی :
جو عقل انسان کی معاش اور معاد و قیامت سے مربوط ہے جو احکام ذمہ داریاں اعمال اور تعھّدات ، انسان سے مربوط ہیں اسکے بھی چار مرتبے ہیں ۔
۱۔ تجلیہ : اپنے ظاہر کو پاک و صاف کرنا اپنےظاہر کی تہذہیب کرنا ہے اور یہ احکام شرعیہ پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے واجبات شرعیہ کو انجام دیں محرمات شرعیہ سے پرہیز کریں اس مرتبہ کے حصول کے لیے علم فقہ تدوین ہوا ہے کہ ایک عبد و مومن اجتہاد کے ذریعہ یا احتیاط یا تقلید کے ذریعہ احکام شرعیہ کی اطاعت کرے ۔ پس عارف ہونے کے لیے یہ مرتبہ ضروری ہے واجب کو ترک کرکے اور حرام کا مرتکب ہو کر قطعا معرفت و عرفان حاصل نہیں ہوتا ۔
۲۔ تخلیہ : انسان اپنے باطن اور دل کو بری صفات اور گناہ کی نجاست سے پاک اور صاف کرے ، بُخل ، حسد ، اور تکبر کو دل سے نکال دے تاکہ الھٰی انوار کے لیے تیار ہوجائے ، اخلاقِ رذیلہ سے اپنے آپ کو پاک کرے تاکہ اخلاقِ حمیدہ کے لیے تیار ہوجائے ، تین چیزیں برے اخلاق کی اصل ہیں ، محبت الہیہ کے راستہ پر چلنے والا اپنے آپ کو ان تینوں سے پاک کرے ، ۱۔ زبان ۔۲۔شکم ،۳۔ دامن
۱۔ زبان :کو جھوٹ ، غیبت ، تہمت اور ہر ٖفضول گفتگو سے پاک کرے ، زبان کنٹرول میں ہو فقط ضرورت کے وقت کھلے ۔ کثرت کلام و لغویات سے محفوظ رہے۔
۲۔ شکم : کوحرام لقمہ سے خالی کرے جوغذائیں قساوت قلبی کی موجب ہیں ان سے پرہیز کرے ۔
3۔دامن : کو ہر گناہ سے پاک رکھے عفت اور پاکدامنی حاصل کرے جس کے لیے آنکھ کو بھی کنٹرول میں رکھنا پڑے گا اتنا حیاء ہو کہ اپنی شرمگاہ کو دیکھنے سے بھی شرم کرے جسطرح سلمان فارسی سے نقل ہے کہ فرماتے ہیں میں نے تین سو سال کی زندگی میں اپنی شرمگاہ کی طرف بھی نگاہ نہیں کی ۔جس بندے کو اللہ تبارک و تعالیٰ توفیق عطافرمائے کہ ان تین شرور سے بچ جائے تو وہ تمام برائیوں سے بچ سکتا ہے حضرت خاتم ﷺ فرماتے ہیں: وَ قَالَ ص مَنْ وُقِيَ شَرَّ ثَلَاثٍ فَقَدْ وُقِيَ الشَّرَّ كُلَّهُ لَقْلَقِهِ وَ قَبْقَبِهِ وَ ذَبْذَبِهِ فَلَقْلَقُهُ لِسَانُهُ وَ قَبْقَبُهُ بَطْنُهُ وَ ذَبْذَبُهُ فَرْجُه‏ ،جو بھی زبان ، شکم ، اور دامن کے شر سے محفوظ رہا وہ تمام شرور اور برائی سے محفوظ رہے گا کیونکہ انہیں تینوں سے باقی گناہ پیدا ہوتے ہیں اور اے کاش یہ تین نہ ہوتے تو اسلام کی بنیاد ہمیشہ تروتازہ رہتی ، اگر گناہ اور برائیوں کی جڑ نہ کاٹی گئی تو انجام واجبات اور ترک محرمات بھی تجلیہ سے مانع ہوجائیں گے اور انسان واجبات کے انجام دینے پر موفق نہیں ہو گا ۔
۳۔ تحلیہ :
اپنے آپ کو اخلاق فاضلہ اور حمیدہ یعنی اچھے اخلاق سے مز ّین کرنا جب انسان تکبر سے تخلیہ کرے گا تو تواضع حاصل ہو گی بزدلی نہیں ہو گی توشجاعت حاصل ہو گی ۔شہوت رانی اور بے حیائی سے خالی ہو گا تو عفت ، حیاء اور پاکدامنی سے مز ّین ہو گا رذائل جائیں گے تو فضائل اور کمالات پیدا ہوں گے ۔
۴۔ فناء:
اپنے آپ کو تمام موجودات سمیت نور حق میں فنا دیکھے کہ یہ وہی مقام شہود ہے ۔
نکتہ : یہاں پر ایک لطیف نکتہ سمجھ آ سکتا ہے کہ اول و آخر علم و معرفت ہے ۔ جو عقل عملی وعقل نظری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ عقل عملی کا چوتھا مرتبہ عمل نہیں علم و معرفت و عرفان اور شہود حق ہے پہلے تین مرتبے اس چوتھے مرتبہ کے لیے زمین ہموار کرنے کے لیے ہیں اور معد شمار ہوتے ہیں ایک علم ، عمل کے لیے ہے اور پھر وہ عمل ایک مرتبہ علم کو حاصل کرنے کے لیے ہے اور مرتبہ علم پھر عمل کے لیے نہیں بلکہ وہاں عمل یہی شہود حق ہےیہاں پر بندہ شہود کےمراتب طے کرے گا، پس علم و عمل ، علم شہودی کے لیے ہیں اور یہ ہدف الاا ہدف ہے مثلا علم فقہ اپنے مقدمات سمیت عمل کے لیے ہے جب عمل انجام دیں گے تو اس عمل کا نتیجہ علم شہودی ہے اور یہ مقصد ِتخلیق ہے۔ لذا فرمایا :فخلقت الخلق لکی اعرف ۔مخلوق خلق ہوئی کہ حضرت حق کا عرفان پایا جائے ۔ من عمل بما علم رزقہ اللہ علم مالم یعلم ۔ جس نے اپنے علم پر عمل کیا اللہ ا سے وہ علم رزق بنا کر عطا فرمائے گا جسے پہلے نہیں رکھتا تھا ۔ جب فنا شہود حق ہے تو بندہ یہاں جا پہنچے کہ ذات حق کے مقابل میں کسی حقیقت اور ذات وجود کو نہ دیکھے جب وہ حقیقت لا محدود ہے تو کسی کے لیے کوئی ذات نہیں ہے اسے توحید ذاتی کہتے ہیں ۔
کہ اس حدیث شریف کا نتیجہ ہے مولا امیرا لمو منین× سورۃ توحید کی تلاوت کے بعد ارشادفرما تے تھے ۔ یا ھو یا من لا ھو الا ھو یہ” ھو” کنایہ ہے ذات حق تبارک وتعالی کے لیے اس سے بہتر اور کوئی کلمہ نہیں جو اس مقام کی طرف توجہ دلائیں ۔ اے ذات وہ کہ کوئی ذات نہیں مگر وہی ذات، اسی طرح تمام صفات اور کمالات جہان کوصفات حق میں فناء دیکھے ، علم علماء ، قدرۃ قادر ، سب علم اللہ میں فناء ہیں ، لا الہ الا اللہ اسے بیا ن کر رہا ہے کیونکہ اسم اللہ ، تمام صفاتِ جمال اور جلال کو جامع ہے تو ان صفات حق کے مقابل میں کوئی صفت نہیں مگر اسکے ظہور ات ہیں ۔واللہ یعلم و انتم لا تعلمون
تم جس طرح حدِ ذات میں وجود نہیں رکھتے ہو اسی طرح علم اور کوئی کمال وجود بھی نہیں رکھتے ہو علم جہاں بھی ہے اس کا فیض ہے ،لہذا اللہ عالم ہے اور علم نہیں رکھتے ہو ، وَ لا يُحيطُونَ بِشَيْ‏ءٍ مِنْ عِلْمِهِ اللہ کا علم لا محدود ہے تو کسی علم کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا اسے توحید صفاتی کہتے ہیں ۔اسی طرح ، بندہ ، علم اور عمل کے ذریعہ ، ریاضت ، عبادت اور تقوی سے یہاں پر جاپہنچے کہ تمام افعال کوا للہ میں فنا دیکھے ، اس کے لیے یوں تمثیل بیان ہوتی ہے جب خورشید طلوع کرتا ہے تو ستاروں کا نور اس میں محو ہوجاتا ہے جیسےجگنو کا نور دن کو فنا اور نابود ہوجاتا ہے اسے توحید افعالی کہتے ہیں اور یہ لاحول ولا قوۃ الاباللہ کا نتیجہ ہے کوئی قوت و طاقت نہیں مگر اللہ کی نیز قرآن میں ارشاد فرمایا: ٰ۔ فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَنًا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ،تم مسلمانوں نے کافروں کو قتل ف نہیں کیا لیکن اللہ نے انھیں قتل کیا تو ( رسول اللہ ﷺ) نے نہیں پھینکا کہ جب تو نے پھینکا ہے لیکن اللہ نےپھینکا ہے ، مسلمانوں سے فعل کی نفی ،حضرت حق کے لیے اسی فعل کا اثبات توحید افعالی کو بیان کر رہا ہے لوگوں کے افعال کو اللہ کا فعل نہیں سمجھنا بلکہ تمام افعال کوحق کے فعل میں فانی سمجھنا ہے ۔ یہ ہے کمالِ عقل ، انسان جب کامل ہو تو یہ دید معرفت اور شھود پیدا کر لیتا ہے ، اس کے لیے ایک پوری زندگی عہد ریاضت ، عبادت اور زھد اختیار کرے اور تزکیہ نفس انجام دے اور سیر وسلوک کے مشکل مراحل کو طے کرے حرام کے علاوہ بعض حلال سے بھی گزر جائے اس کے لیے علم اخلاق اور عرفان عملی ہے ۔
اب حضرت خاتم الا ئمہ × جب کسی کے سر پر ہاتھ رکھیں گے تو اسکی عقل کامل ہوجائے گی ، چشم دلِ سے شھود کرنے لگ جائے گا جس کے پاس یہ عقل کا مرتبہ ہے اس کے پاس تمام پہلے مراتب بھی حاصل ہوجائیں گے اس لیے کہ جسکے پاس سو ہے اس کے پاس نوّے (90)بھی ہیں اسکے ہاتھ میں ہر تاثیر ہے کہ تمام علوم نظری بالفعل حاصل ہیں اور مقام شھود بھی حاصل ہے جس طرح کربلا والوں نے شب عاشورکو شب شھود بنا لیا تھا اور زمین پر بیٹھ کر جنت کا ملاحظہ کر رہے تھے ۔میرا عظیم مولا، حضرت امام خاتم × کیسا مسیحا ہے جسکے ہاتھ میں ملکوتی تاثیر ہے جس کے بدن ِ منور کا ہاتھ ، مومن کے سر پر آجائے تو عقل ِ ناقص ، عقل کامل بن جاتا ہے ،لحظہ میں کائنات کاعلم آجاتا ہے ، جس کے ہاتھ رکھنے سے دید توحیدی پیدا ہوجائے عیسی ٰ مسیح وہ ہیں جو بیمار پر ہاتھ مسلتے ہیں توزخم ٹھیک ہوجاتا ہے ہمارا مسیح وہ ہے جو ہاتھ رکھتا ہے مسلتا نہیں ، اثر فقط بدن میں نہیں بلکہ روح اور عقل میں ہوتا ہے تصرف کی حد یہ ہے کہ غرض بعثت ِ انبیاء کہ عقلوں کا کامل کرنا ہے ،لحظہ میں محقق ہوجاتی ہے یہ تصرف ملکوتی ممکن نہیں مگر امراللہ سے پس حضرت امام خاتم امر اللہ بن کر ظہور فرمائیں گے ہرمنتظر کا وظیفہ اور ذمہ داری ہے کہ اپنے موالا کا اس انداز میں عرفان رکھتا ہو۔
علم ، کمال علمی
جب عقل میں کمال آئے گا اور علم کثیر حاصل ہو گا بدن بھی متحول ہوجائے گا ہرمومن منتظر او ر مولا کا سپاہی جس سن میں ہوگا ، عین شباب اور جوانی میں آجائے گا ، ایک شخص میں چالیس قوی افراد کی قدرت اور طاقت آجائے گی ، حتیٰ کہ ہاتھ کی ہتیھلی سے پہاڑ کو ہٹا دے گا ۔ نگاہ میں اتنی وسعت آجائے گی کہ ایک فرد مشرق میں ہے تو ، دوسرا مغرب میں ہر ایک ، دوسرے کو دیکھ سکیں گے ، جمادات حضرت کے صحابی سے کلام کریں گے اور تمام موجودات اسکے تابع ہوں گی اور یہ صحابی جو ارادہ کرے گا وہی ہوتا چلاجائے گا یہ سب کچھ عقل کے کامل ہونے کا نتیجہ ہے۔
اور کمالِ عقل ،مولا کے ہاتھ کی تاثیر ہے بس یہ سب کچھ حضرت کے ید اللّھٰی ہاتھ کی خیرات ہے اما م خاتم کے اصحاب جوان ہوں گے ۔جب عقل کامل ہو گا تو یقیناََ علم کثیر اور عظیم ہو گا پوری کائنات میں علم کو ٹھوڑا سا دیا گیا ہے جب وہ ظہور فرمائے گا علم کثیر عطا ہو گا ۔حضرت صادق × ارشاد فرماتے ہیں: بحارالأنوار 52 336 باب 27- سيره و أخلاقه و عدد أصحابه
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ الْعِلْمُ سَبْعَةٌ وَ عِشْرُونَ حَرْفاً فَجَمِيعُ مَا جَاءَتْ بِهِ الرُّسُلُ حَرْفَانِ فَلَمْ يَعْرِفِ النَّاسُ حَتَّى الْيَوْمِ غَيْرَ الْحَرْفَيْنِ فَإِذَا قَامَ قَائِمُنَا أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ وَ الْعِشْرِينَ حَرْفاً فَبَثَّهَا فِي النَّاسِ وَ ضَمَّ إِلَيْهَا الْحَرْفَيْنِ حَتَّى يَبُثَّهَا سَبْعَةً وَ عِشْرِينَ حَرْفا ، علم ۲۷ حرف ہیں پس تمام وہ جسے مرسلین لائے ہیں دو حرف ہیں ، اور آج تک لوگوں کو دو حرفوں کے علاوہ کا علم نہیں دیا گیا پس جب ہمارا قائم قیام فرمائے گا تو ۲۵ حرف کوظاہر فرمائے گا پس لوگوں میں پھیلا دے گا پھر انکے ساتھ دو دیگر حرفوں کو منضم فرمائے گا یہاں تک کہ ۲۷ حرف کو پھیلا دے گا۔
حضرت آدم سے لیکر حضرت امام خاتم تک دو حرف تقسیم ہوئے ہیں تو دنیا میں ترقی کے یہ آثار ہیں ۔ جنکے تصور سے عقلیں حیران ہیں ، جب پورے ستائیس حرف ظاہر کر کے تقسیم ہوں گے توکیا نور اور روشنائی ہوگی ؟ بیان کرنا ممکن ہی نہیں فقط دل سے دعا کریں کہ وہ آجائے ۔ اسکے ظہور سے علم بھی ظاہر ہوگا ۔ دیکھیں گے تو پائیں گے ، قلم بیان سے قاصر ہے مہم یہ ہے کہ میرا مولا جو علم اللہ ہے تو اسکے علم کا مقام کیا ہوگا؟
نمونہ
اس علم کی تقسیم کا ادنیٰ سا نمونہ یہ ہے کہ خانہ دار عورت کامل فقیہ اور مجتہد ہو گی ۔امام باقر × ار شاد فرماتے ہیں : وَ تُؤْتَوْنَ الْحِكْمَةَ فِي زَمَانِهِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَقْضِي فِي بَيْتِهَا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِﷺ ،حضرت اما م خاتم × کے ظہور کے زمانہ مین حکمت عطا کی جائے گی یہاں تک کہ ایک عورت اپنی گھر میں اللہ کی کتاب اور سنت رسول سے قضاوت کرے گی۔ قرآن کہتا ہے: وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثيراً َ،جسے حکمت عطاء کی گئی اسے خیر کثیر دی گئی ہے ، توحضرت کے ظہور سے یہ خیرات زن و مرد کو کم از کم اتنی عطا ہو گی کہ عورت فقیہ بن جائے گی ، تیرا ظہور ہے مولا یا تکامل انسانیت ؟ معلوم ہے کہ علم تابع عقل ہے لذا جتنا عقل کامل ہو گا اتنا علم کثیر ہوگا ابھی عقلیں کامل نہیں ہوئیں کہ انہیں اتنا زیادہ علم دیا جائے ، ابھی دو حرفوں کی ظرفیت عقل میں ہے جب عقل میں ظرفیت آئے گی تو علم بھی عظیم عطا ہوگا اللہ کرے کہ وہ آئے اور ہمیں اپنے انصار و اعوان اور اصحاب مخلصین میں قرار دے وظائف المتظرین پر عمل کرنے سے یہ ممکن ہے ۔
جب عقل میں کمال آئے گا اور علم کیثر حاصل ہوگا تو بدن متحول ہوجائے گا ہر مومن منتظر اور مولا کا سپاہی جس سن میں ہوگا ، عین شباب اور جوانی میں ہوگا ، ایک شخص میں چالیس قوی افراد کی قدرت اور طاقت آجائے گی ، حتیٰ کہ ایک فرد مشرق میں ہے تو ، دوسرا مغرب میں ہر ایک ، دوسرے کو دیکھ سکے گا جمادات حضرت کے صحابی سے کلام کریں گے اور تمام موجودات اسکے تابع ہوں گی اور یہ صحابی جو ارادہ کرئے گا وہی ہوتا چلا جائے گا یہ سب کچھ عقل کے کامل ہونے کا نتیجہ ہے اور کمال عقل ، مولا کے ہاتھ کی تاثیر ہے بس یہ کچھ حضرت کے ید اللہھی ہاتھ کی خیرات ہے ۔
ٍ حضرت امیر ا لمو منین علی × ارشاد فرماتے ہیں :عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع قَالَ أَصْحَابُ الْمَهْدِيِّ شَبَابٌ لَا كُهُولٌ فِيهِمْ إِلَّا مِثْلَ كُحْلِ الْعَيْنِ وَ الْمِلْحِ فِي الزَّادِ وَ أَقَلُّ الزَّادِ الْمِلْحُ ، حضرت مھدی کے اصحاب جوان ہوں گے بوڑھے نہیں ہوں گے مگر آٹے میں نمک کی مقدار ، چالیس افراد جتنی طاقت ہو گی ۔امام صادق × فرماتے ہیں : قال أبو عبد الله ع يكون من شيعتنا في دولة القائم سنام الأرض و حكامها يعطى كل رجل منهم قوة أربعين رجلا ۔ہر شخص کو چالیس افراد جتنی قوت عطا کی جائے گی ، ہاتھ کی ہتھلی سے پہاڑ ہٹا دے گا امام باقر× ارشاد فرماتے ہیں : ِ لَوْ قَذَفْتُمْ بِهَا الْجِبَالَ فَلَقَتْهَا وَ أَنْتُمْ قُوَّامُ الْأَرْضِ وَ خُزَّانُهَا، اگر تم اس قوت کو پہاڑ پر ڈالو تو وہ پہاڑ کو پھاڑ دے گی ، امام صادق × فرماتے ہیں :ولو مروابجبال الحدید لقطعوہ ۔ اگر حضرت کے اصحاب لوہے کے پہاڑ سے گزریں تو اسے بھی کاٹ دیں گے ۔
حدت نظر : یہ نگاہ اتنی تیز اور وسیع ہوگی کہ مشرق و مغرب ملا دے گا امام صادق × ارشاد فرمااتے ہیں : وَ بِإِسْنَادِهِ يَرْفَعُهُ إِلَى ابْنِ مُسْكَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ فِي زَمَانِ الْقَائِمِ وَ هُوَ بِالْمَشْرِقِ لَيَرَى أَخَاهُ الَّذِي فِي الْمَغْرِبِ وَ كَذَا الَّذِي فِي الْمَغْرِبِ يَرَى أَخَاهُ الَّذِي فِي الْمَشْرِق‏ ۔ تحقیق مومن قائم کے زمانہ میں ایسا ہوگا کہ در حالانکہ مشرق میں ہے اپنے مومن بھائی کو دیکھے گا جو مغرب میں ہے ۔
اسی طرح بر عکس اسی طرح تکلم اور سماعت امام صادق × فرماتے ہیں : يَقُولُ إِنَّ قَائِمَنَا إِذَا قَامَ مَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِشِيعَتِنَا فِي أَسْمَاعِهِمْ وَ أَبْصَارِهِمْ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ الْقَائِمِ بَرِيدٌ يُكَلِّمُهُمُ فَيَسْمَعُونَ وَ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَ هُوَ فِي مَكَانِهِ
جب ہمارا قائم قیام فرمائے گا اللہ ہمارے شیعوں کے لیے سماعت و بصارت کو وسیع کر دے گا یہاں تک کہ اسکے اور حضرت قائم کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہو گا ایک دوسرے کی سنیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں کے درحالانکہ حضرت اپنے جگہ پر رہیں گے ، اشتباہ نہ ہو کہ حتیٰ کہ انٹرنیٹ کے بھی بغیر ہو گا ۔
پوری کائنات مومن منتظر کی تابعدار :
امام باقر ×ارشاد فرماتے ہیں : عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ كَأَنِّي بِأَصْحَابِ الْقَائِمِ وَ قَدْ أَحَاطُوا بِمَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ لَيْسَ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلَّا وَ هُوَ مُطِيعٌ لَهُمْ حَتَّى سِبَاعُ الْأَرْضِ وَ سِبَاعُ الطَّيْرِ تَطْلُبُ رِضَاهُمْ فِي كُلِّ شَيْ‏ءٍ حَتَّى تَفْخَرَ الْأَرْضُ عَلَى الْأَرْضِ وَ تَقُولَ مَرَّ بِي الْيَوْمَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ ، گویا کہ میں دیکھ رہاہوں کہ حضرت قائم کے اصحاب نے تمام آفاق کا احاطہ کیا ہوا ہے کوئی شی نہیں ہے مگر وہ اصحاب کی مطیع اوور تابعدار ہے حتیٰ کہ زمین کے درندے اور وحشی پرندے یہ سب ہر شی میں اصحاب ِ مولا کی رضایت چاہتے ہیں یہا ں تک کہ ایک زمین دوسری پر فخر کرتے ہوئے کہے گی آج میرے اوپر قائم کا صحا بی گزرا ہے کیوں نہ فخر کریں کہ انسان کامل کا گزر ہوا ہے ۔
حجر و شجر ، مومن منتظر سے کلام کریں گے
امام باقر ×ارشاد فرماتے ہیں : إِنَّ الرَّجُلَ يَخْتَفِي فِي الشَّجَرَةِ وَ الْحَجَرَةِ فَتَقُولُ الشَّجَرَةُ وَ الْحَجَرَةُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا رَجُلٌ كَافِرٌ فَاقْتُلْهُ فَيَقْتُلُهُ قَالَ فَتَشْبَعُ السِّبَاعُ وَ الطُّيُورُ مِنْ لُحُومِهِمْ ،تحقیق مرد ، درخت یا پتھر میں مخفی ہو گا تو درخت اور پتھر بول کر کہے گا اے مومن یہ مرد کافر ہے پس اسے قتل کریں وہ مومن اس کافر کو قتل کر دے گا درندے اور پرندے اسکے گوشت سے سیر ہو جائیں گے ۔ امام صادق × ارشاد فرماتے ہیں: لَوْ كَانَ كَافِرٌ أَوْ مُشْرِكٌ فِي بَطْنِ صَخْرَةٍ لَقَالَتْ يَا مُؤْمِنُ فِي بَطْنِي كَافِرٌ فَاكْسِرْنِي وَ اقْتُلْهُ ۔ اگر کافر یا مشرک کسی پتھر کے پیٹ میں ہو تو وہ بول کر کہے گا اے مومن میرے پیٹ میں کافر ہے مجھے توڑ اور اسے قتل کر ، مراد یہ ہے کہ دشمن خدا اور امام ،کہیں بھی مخفی نہیں ہو سکتا ، پس پتھر اور درخت مومن منتظر کے غلام بن کر اپنی ذمہ داری ادا کریں گے ۔
سنت : ایک مقام جو دیگر آئمہ سے ممتاز کرتا ہے ، وہ خاتم الائمہ#ہے:
حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ نے خطبہ غدیر میں حضرت خاتم الائمہ# کی تقریباََ بیس (۲۰) مقامات منزلیں بیان فرمائی ہیں جن میں پہلا اور اہم اور عظیم مقام کہ جو اصل ِ اصیل ہے اور باقی کمالات اسکی فرع ہیں یون بیان فرمایا : أَلَا إِنَّ خَاتَمَ الْأَئِمَّةِ مِنَّا الْقَائِمُ الْمَهْدِي‏ ۔ خبرادر اور توجہ !تحقیق خاتم الائمہ# ہم میں سے ہیں جو قائم مھدیٰ ہے ۔ یہ خطبہ جس محدث نے جہاں بھی نقل کیا ہے تو یہ فقرہ موجود ہے جیسے الغدیر ، احقائق الحق و غیرہ ۔اسی طرح ہمارا پہلا امام حضرت امیر المومنین علی × نے اپنی ایک طویل و عظیم خطبہ میں توحید ، نبوت اور امامت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ِ وَ بِنَا تَقْطَعُ الْحُجَجُ وَ مِنَّا خَاتَمُ الْأَئِمَّة ۔ہم اہل بیت کے ذریعہ اللہ کی حجتوں کا سلسلہ منقطع ہو گا اور ہم سے ہی پس وہ خاتم الائمہ# ہے ۔ دیگر مقام پر ارشاد فرمایا : و بمھدینا تنقطع الحجج فھو خاتم الآ ئمہ ، اور ہمارے مھدی کے ذریعہ اللہ کی حجتوں کاسلسلہ منقطع ہو گا وہ خاتم الائمہ# ہے ۔حضرت امام حسن عسکری ٰ × نے مولا امام خاتم# کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :انت خاتم الآ ئمۃ الطاھرین ۔آپ آئمہ طاھرین کے خاتم ہیں ۔
علامہ مجلسی ؒ نے اس مقام کو دومقام پر عنوان فرمایا ہے ایک تو حضرت کی تاریخ کے ابواب میں خاتم الائمہ الاعلام ، دوسرا مقام نصوص الرسول ﷺ علی الائمہ کے ابواب میں ذکر فرمایا : خاتم الا ئمہ الاثنیٰ عشر ^ ، دعا ئم الاسلام میں خاتم الامامت ذکر ہوا ہے ۔ افسوس ! یہ اہم اور اساسی ترین اسم حضرت امام خاتم# عصر حاضر میں متروک ہو چکاہے جو حضرت کو اسماء اور کمالات و فضائل میں اصل کی حیثیت رکھتا ہے اور باقی تمام اسماء اور فضائل اس سے نشات لیتے ہیں اور اسی پر متفرّع ہیں جسطرح خاتم النبین ﷺ نے خطبہ غدیر میں اسے اصل کے طور پر بیان فرمایا۔(الا انّ خاتم الآ ئمہ#) ذکر کرنے کے بعد تمام اسماء اور حضرت کے مقامات کو (انّہ) سے بیان کیا کہ یہ ضمیر خاتم الآ ئمہ #کی طرف پلٹ رہی ہے جسطرح ہم کہتے ہیں اللہ واحد ہے وہی عالم ہے وہی قادر ہے و ہی رحمن اور رحیم ہے تو یہ ایسے ہے کہ کوئی اسم جلالہ (جوتمام صفات جلال و جمال کو جامع ہے )کو ترک کردے اور دیگر اسماء کو یاد رکھے ۔ خاتم الائمہ # تمام کمالات وفضائل اور مناقب کوجامع ہے جسطرح حضرت خاتم الرسل نے باقی فضائل کو اس پر مفترع فرمایا ہے ۔
خاتم الائمہ # پر افتخار :
حضرت خاتم النبین ﷺ نے ( منّا) فرما کر ، کہ ہم میں خاتم ا لائمہ ہے ، افتخار کیا ہے ، کہ مقام ِختم اما مت بھی ہم اہل بیت کو نصیب ہوا ہے اسی طرح حضرت امیر المو منین علی × نے ( منّا) فر ما ، کر اظہار فخر فرمایا ہے ، جسطرح آغاز امامت رسول اللہ ﷺ کے بعد ہم میں سے ہے اختتام امامت بھی ہم پر ہے ۔ جب نبی و علی کوخاتم الائمہ پر افتخار ہےتو ہم رعایہ اور محب کا وظیفہ اور ذمہ داری بنتی ہے کہ اس اسم مبارک پر افتخار کریں اور افتخار سے کہیں ہمارا امام خاتم الائمہ # ہے اور وظیفہ سمجھتے ہوئے اسے اپنی حد تک رائج کریں ۔ یہ مبارک اسم بھی سرزبان ہوجائے تو ضرور نبی و علی اور خود حضرتِ امام خاتم الائمہ #ہم پر نظر کرم فرمائیں گے ۔
معنی خاتم الائمہ#
جو معنی ٰ ذہن میں سب سے پہلے آتا ہے وہ یہ کہ آئمہ کا خاتم یعنی اماموں کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے جسطرح خاتم النبین وہ جس پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے جیسے حضرت محمد ﷺؑ کے بعد کوئی نبی اللہ کی طرف سے نہیں آئے گا اسی طرح حضرت ،م۔ ح۔ م۔د ،× کے بعد کوئی امام نہیں آئے گا ، جسطرح خاتم النبین ﷺ کے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے تو وہ کذَّاب اور جھوٹا ہے اسی طرح حضرت خاتم لائمہ کے بعد کو ئی دعویٰ امامت کرے تو وہ کذّاب اور جھوٹا ہے ۔
اس معنی کو دیگر احادیث کا ظاہر بھی بیان کر رہا ہے ۔
۱۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشا د فرمایا : قال رسول الله ص الأئمة بعدي اثنا عشر أولهم أنت يا علي و آخرهم القائم الذي يفتح الله عز و جل على يديه مشارق الأرض و مغاربها ، میرے بعد بارہ امام ہیں ان میں سے پہلے آپ ہیں اے علی ! اور انکا آخری قائم #ہے اللہ جس کے ہاتھوں پر زمین کے مشارق اور مغارب کو فتح فرمائے گا۔جب اول و آخر سے محدود کر دیا تو اسکے بعد امامم بنانا اجائز نہیں ہے ۔
۲۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قال سمعت أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ص يقول قال لي رسول الله ص يا علي الأئمة الراشدون المهتدون المعصومون من ولدك أحد عشر إماما و أنت أولهم و آخرهم اسمه اسمي‏ ،اے علی اللہ سے ہدایت یافتہ اور معصوم امام تیری نسل سے گیا رہ ہوں گے تو ان میں سے پہلا ہے اور انکا آخری وہ ہے جسکا اسم میرا اسم ہے۔اس حدیث میں صفت عصمت کو بھی ذکر کیا گیا ہے جسکا ظاہر یہ ہے کہ معصوم امام فقط یہی ہیں ۔ انکے علاوہ کوئی امام ہونے کا مدّعِی ہو گا تو معصوم نہیں ہوگا ۔
۳۔ مولا علی × نے رسول ﷺ سے پوچھا مھدی ہم ائمہ ھدی سے ہو گا یاہمارے غیر سے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، بل مناّ ، بلکہ ہم سے ہوگا پھر فرمایا :بنا یختم الدّین کما بنا فتح ، و بنا یستنقدون من ضلالۃ الفتنۃ کما استنفذوا من ضلا لۃ الشرک ، ہمارے ذریعہ دین کا اختتام ہو گا جسطرح اسکاافتتاح ہوا، ہمارے ذریعہ فتنہ کی گمراہی سے نکالا جائے گا ، جسطرح پہلے شرک کی گمراہی سے انہیں نکالا گیا تھا ۔بس انسان گمراہی سے تب بچ سکتا ہے جب آخری امام کے بعد کسی کو امام نہ مانے ۔
لغت میں ختم و اختتام
اختتام مقابل افتتاح ہے اور ختم الشی ، شی کا آخر اور انتہا تک پہنچنا اور یہ تب ہے جب شی کامل ہوجائے ، طبع اور مہر اسکا ایک مصداق ہے مفہوم نہیں کیونکہ شی کے کامل ہونے کے بعد مہر لگائی جاتی ہے تو مہر کو خاتم کہا جاتا ہے ۔خاتم اسم فاعل ہے کھبی ذات پربھی بولا جاتا ہے کیونکہ وہ ذات و صف خاتمیت سے متصف ہے خاتم۔ مانند عالَم کے ہے اس میں مزید مبالغہ ہے جس سے صفت خاتمیہ واقع ہوتی ہے وہ ذات کہ فقط اسی سے صفت حتمیت محقق ہو ۔
پس خاتم النبین کا معنیٰ یہ ہوگا، انبیاء کا سلسلہ جس ذات سے کامل ہو کر ختم ہوتا ہے وہ حضرت محمد ﷺ کی ذات و الا صفات ہے مقام نبوت اس ذات پر کامل ہو گا لذا آگے نبی کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ نبوت کامل ہو گئی ہے ، شی کے کامل ہونے کے بعد وہ شی ختم ہو جاتی ہے اور اس پر مہر لگادی جاتی ہے تو اسکے بعد اگر کوئی اور شی ہوگی تو وہ اسکے علاوہ کوئی اورشی ہوگی پس خاتم النبین کے بعد نبی کاآنا ممکن ہی نہیں ، اسی طرح خاتم الائمہ کے بعد کسی امام کا آنا ممکن نہیں ہے کیونکہ امامت کامل ہوگئی اور اپنی انتہا تک پہنچ گئی ۔ امامت میں مقام خاتمیت کمال امامت کامقام ہے ۔
صاحب شوار ق کا بیان
متکلم عظیم الشان عبد الرازق لاھیجی اپنی کتاب (گوہر مراد) میں فرماتے ہیں کہ انسان کا اعلیٰ کمال مقام نبوت ہے اور نبوت کے درجات ہیں بعض نبیوں کو دیگر نبیوں پر فضیلت دی گئی ہے نبوت کا آخری درجہ مقام خاتمیت ہے خاتم النبین میں مقام نبوت کامل ہوا ہے حضرت محمد ﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء نبوت رکھتے تھے لیکن اس درجہ کی نہیں تھی جوحضرت خاتم کے پاس تھی حضرت پر آ کر نبوت اپنے کمال ِ کامل کو پہنچی پس تمام کمالات انسانی بھی کمال ِ کامل تک پہنچ گئے ۔ اسی طرح خاتم الائمہ# میں کمال امامت ، اپنے کمال کامل کو جاپہنچا ، کہ امرا للہ بن کر امر اللہ کے ذریعہ ہر شی کی ملکوتی ہدایت فرما کر ہر شی کو اپنے ہدف اور کمال تک پہنچائے گا کمال ِ علم و قدرت عصمت ، اور دیگرتمام کمالاتِ امامت اپنے کمال کامل پر پہنچ جائیں تو یہ خاتمیت امامت کا مقام ہے ۔ہر منتظر کاو ظیفہ ہے کہ وہ حضرت کے خاتم الائمہ ہونے کا عرفان رکھتا ہو اور حضرت کو خاتم الائمہ مانتے ہوئے کسی اور کو اپنا امام قرار نہ دے اور اس خاتم الائمہ کے کلمہ کے پر چار میں پوری کو شش کرتا رہے ۔ ہمارے ادرے اور رسالہ کا نام بھی اسی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔
قائم :
میرے کریم مولا حضرت خاتم الائمہ × عدل الھی کو تمام جہانوں میں قائم کرنے والے ہیں خود عدل الھی بن کر اسکی عدالت کو عالمین میں نافذ فرمائیں گے اولین و آخرین اس جہان میں جس عدالت کے نافذ ہونے کے منتظر ہیں اور تمام کو آخرالزّمان کا وعدہ دیا گیا ہے حتیٰ کہ تمام انبیاء اور آئمہ ^ اس الھی عدالت کے قائم ہونے کے منتظر ہیں ۔ کہ ہمارا آخری آئے گا جو کائنات کو عدل و قسط سے پُر کر دے گا ۔ اس معنی ٰ پر روایات تو اتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں بطور نمونہ چند احادیث سے تبرک لیتے ہیں ۔
۱۔ رسول اللہ ﷺ ار شاد فرماتے ہیں جب کسی کو ظلم سے بچنے کی پناہ نہیں ملے گی ، اس وقت عدل الھی آئے گا ۔
فَيَبْعَثُ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ عِتْرَتِي أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَ سَاكِنُ الْأَرْض‏ ، بس اللہ تبارک و تعالیٰ میری عتر ت اور میری اہل بیت سے ایک مرد کو مبعوث فرمائے گاجو زمین کو عدل سے پُر کر دے گا جس طرح وہ ظلم و بربریت سے پُر ہو گی اس مرد سے زمین و آسمان کے باسی راضی ہوں گے ۔عدل ا لھی سے ممکن ہے کہ ارضی و سماوی مخلوق راضی ہو ملک و ملکوت مادہ و معنی خاکی و نوری کلمہ سماء حتیٰ کہ لوح و قلم عرش کو بھی شامل ہے جنت و دوزخ کو بھی شامل ہے کیونکہ مراد اس زمین اور جہان ِ مادہ وطبعیت سے جو ماوارء ہیں راضی ہو ں گے۔ کیسا امام کہ ظاہرا اس دنیا میں ظہور فرمائے گا لیکن عدالت اسکی آسمان تک جائے گا ۔
۳۔ حدیث دیگر میں سے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَ اسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً ، میری امت ( مراد امت وسط کہ اہلیبت ہیں ) سے جسکا نام میرا نام ہو گا اسکا خلق میرا خلق ہو گا بس وہ زمین کو عدل و قسط سے پُر کرے گا جسطرح ظلم و وجور سے پُر ہو گی ۔اس میں مطلب عظیم بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ زمین عدل و قسط سے وہ کیوں پُر کرے گا ؟ سبب پہلے بیان ہو اہے کہ اسکا خُلق ، رسول اللہ ﷺ کا خُلق ہے اور خلق عظیم کہ وضاحت گزر چکی ہے جو پہلے صاحب خلق عظیم نہ ہو محال ہے کہ عدل قائم کرے ۔سب جہان ،و ورلڈ میں عدل قائم کرنے کے دعویٰ دار سب جھوٹے ہیں اس لیے کہ قدرت ہی نہیں رکھتے اور بین المللی عدالت ، خلق عظیم کے بغیر محال ہے جسکا وجود خلق عظیم ہو وہ عادل ، عدالت قائم کر سکتا ہے کیو نکہ اسکا وجود عینِ عدل ہو گا اس لیے کہ اسکے بدن اور روح میں عدالت قائم ہے ۔ اور افراط و تفریط نہیں ہے کہ سینکڑوں سال گزرنے کے بعد جب ظہو ر فرمائے گا تو تیس، چالیس سال کا ایک کامل انسان ہو گا ۔روح میں عدالت ، حواس ، مشاعر ، فکر ، اور وجود میں عدل قائم ہے کہ امر اللہ ہے اب جو افعال اس ذات سےصادر ہوں گے فعل عدل ہو گا کہ ذرہ برابر افراط و تفریط نہیں ہو گی کیونکہ عالمین کا ہر فرد اس سے راضی ہو گا ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے” خُلقُہ خُلقی”کے بعد “فاء” تفریع سے فرمایا” فیملا ھا عدلاً وقسطاً ” رابطہ اثر و موثر ہے جیسا عادل و یسا عدل ، جب وہ اللہ کا اسم عادل ہے تو جہان میں اثر بھی اللہ کا عدل ہو گا۔
۴۔ حدیث دیگر میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: جب دنیا میں ظلم ہو گا بڑا چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا چھوٹا بڑے پر ، قوی ضعیف پر اور ضعیف قوی پر رحم نہیں کرے گا ھرج و مرج ہو گی اس وقت مناد یٰ ندا دے گا: ٍ يُنَادِي هَذَا الْمَهْدِيُّ خَلِيفَةُ اللَّهِ فَاتَّبِعُوهُ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْرا ،منادی ندای دے گا یہ مھدی ہے اللہ کا جانشین ہے پس اسکی اتباع کرو ، زمین کو عدل سے پُر کردے گا جسطرح ظلم سے پُر ہے اس حدیث میں اتباع کے واجب ہونے اور عدل کے قائم ہونے کی دلیل حضرت امام کا خلیفۃ اللہ ہونا بیان ہوا ہے کیونکہ وہ اللہ کا قائم مقام ہے لذا زمین کو عدل سے پُر کر دے گا ، کیونکہ عدالت کاقیام عالمین میں اللہ انجام دے سکتا ہے یا خلیفۃ اللہ ، باقی سب مدّعیٰ ہیں ۔
۵۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ عدالت کے قائم ہونے کا ایک نتیجہ ذکر فرما رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دنیا عدل سے پُر ہو گی تو امام خاتم # کی حکومت میں میری امت کو ایسی نعمت نصیب ہو گی کہ پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوئی ، تنعم امتی فی ولایتہ نعمۃ لم تنعمھا قطّ ۔ ایک ایسی نعمت ملے گی جو ابھی تک کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی ۔
۶۔ ا یک اور کلام نور میں حضور اکرم ﷺارشاد فرمارہے ہیں : اسکی عدالت کے قائم ہونے سے ہر شی راضی ہو گی : یفرح بہ اھل السماء واھل الارض و الطیر و الوحش والحیتان فی البحر ۔ نقل دیگر میں (والطیر فی الھویٰ ) اہل زمین و آسمان راضی ہوں کے پرندے ہوا میں مچھلیاں دریا میں جنگل کے درندے۔ اس عدالت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : تاویٰ الیہ امتہ کما تاویٰ النحلۃ یعسوبھا ۔ اسکی امت اسکی طرف ایسے آئے گی جیسے شہد کی مکھیاں اپنے پادشاہ یعسوب کے پاس آتیں ہیں ۔
۷۔ اسی طرح زمین اپنے خزانے اگل دے گی اور زمین تسبیح خدا سے آباد ہو جائےگی تو میرے رب نے مجھے فرمایا تو میرا عبد میں تیرا رب ہوں پھر آئمہ کے بارے بتایا تو آخر پر فرمایا : وَ بِالْقَائِمِ مِنْكُمْ أَعْمُرُ أَرْضِي بِتَسْبِيحِي وَ تَقْدِيسِي وَ تحليلي [تَهْلِيلِي‏] وَ تَكْبِيرِي وَ تَمْجِيدِي وَ بِهِ أُطَهِّرُ الْأَرْضَ مِنْ أَعْدَائِي وَ أُورِثُهَا أَوْلِيَائِي وَ بِهِ أَجْعَلُ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِيَ السُّفْلَى وَ كَلِمَتِيَ الْعُلْيَا وَ بِهِ أُحْيِي عِبَادِي وَ بِلَادِي بِعِلْمِي وَ لَهُ أُظْهِرُ الْكُنُوزَ وَ الذَّخَائِرَ بِمَشِيَّتِي‏ ، میں تم اہل بیت میں سے قائم کے ذریعہ اپنی زمین کو اپنی تسبیح ، تھلیل ، تقدیس ، تکیبر ، اور اپنی تمجید سے آباد کروں گا اور اسکے ذریعہ اپنے دشمنوں سے زمین پاک کروں گا اور اس زمین کو اپنے اولیاء کی میراث قرار دوں گا اور اسی کے ذریعہ اپنے کافروں کا کلمہ سر نگوں اور اپنے کلمہ کو سر بلند کروں گا اسی کے ذریعہ اپنے بندوں اور اپنے شہروں کو اپنے علم سے زندہ کروں گا اور اسی کے ذریعہ اپنی مشیت کے ساتھ خزانے ظاہر کروں گا۔
۸۔ اسکی عدالت سے صلحِ مطلق قائم ہو گی ، کوئی شی دوسری کو اذیت نہیں دے گی ، جب شیطان نے خدا سے مہلت مانگی تو حضرت حق نے ظہور حضرت تک مہلت دی تو اس زمانہ کی خوصیات بیان فرمائیں : ِ وَ أُلْقِيَ فِي تِلْكَ الزَّمَانِ الْأَمَانَةُ عَلَى الْأَرْضِ فَلَا يَضُرُّ شَيْ‏ءٌ شَيْئاً وَ لَا يَخَافُ شَيْ‏ءٌ مِنْ شَيْ‏ءٍ ثُمَّ تَكُونُ الْهَوَامُّ وَ الْمَوَاشِي بَيْنَ النَّاسِ فَلَا يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضا ۔میں اللہ اس زمانہ میں امانت زمین پر نازل کروں گا پس کوئی شی دوسری کو ضرر نہیں پہچائے گی کوئی شی کسی سے نہیں ڈرے گی درندے اور مویشی لوگوں کے ساتھ رہیں گے کو ئی کسی کو اذیت نہیں دے گا یعنی حتیٰ کہ مخا لف اور متضاد ہو کر بھی ایک دوسرے کو اذیت نہیں کریں گے حتیٰ کہ شیر اور بھڑنیں اکٹھے ریوڑ پرہوں گی ، حتى ترتع الأسود مع الإبل و النمور مع البقر و الذئاب مع الغنم و تلعب الصبيان بالحيات‏ ،حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں : یہاں تک کہ شیر بھیڑ کے ساتھ چرئے گا چیتا گائے کےساتھ ، بھیڑیا گوسفند کے ساتھ اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔
۹۔ حتیٰ کہ یہ زمین کے اسکے علاوہ بغیر اور زمین میں بدل جا ئے گی : و من نسل علي القائم المهدي الذي يبدل الأرض غير الأرض‏ ، حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں : کہ علی × کی نسل سے عدل قائم کر نے والا مھدی ٰ × ہو گا زمین کو اسکے غیر میں بدل دے گا یہی صفت رو ز قیامت کی ہے کہ زمین کو اسکے غیر میں تبد یل کر دیا جائے گا :يَوْمَ تُبَدَّلُ الأرْضُ غَيْرَ الأرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ، تو جو عدل ،اللہ روز قیامت قائم فرمائے گا کہیں ذرہ بر ابر کسی پر ظلم نہیں ہو گا تو خاتم الائمہ # خلیفۃ اللہ بن کر اسی عدل کو اپنی ظہور میں قائم کریں گے کہ ذرہ بر ابر بھی کسی پر ظلم نہیں ہو گا تو یہ زمین ، وہ ظلم والی زمین نہیں رہے گی بلکہ زمین عدل بن جائے گی ۔ امیرا لمومنین علی × ارشاد فرماتے ہیں : وَ لَذَهَبَتِ الشَّحْنَاءُ مِنْ قُلُوبِ الْعِبَادِ وَ اصْطَلَحَتِ السِّبَاعُ وَ الْبَهَائِمُ حَتَّى تَمْشِي الْمَرْأَةُ بَيْنَ الْعِرَاقِ إِلَى الشَّامِ لَا تَضَعُ قَدَمَيْهَا إِلَّا عَلَى النَّبَاتِ وَ عَلَى رَأْسِهَا زِينَتُهَا لَا يُهَيِّجُهَا سَبُعٌ وَ لَا تَخَافُه‏ ،لوگوں کے دلوں سے دشمنی کہَا چلا جائےگا اور درندوں اور چوپاؤں میں صلح ہو گی یہاں تک کہ ایک عورت عراق اور شام کے درمیان چلے گی تو اسکا قدم سبزہ زار پر آئے گا اسکے سر پر زبیل گھٹر ی ہو گی اسے کوئی درندہ بھی نہیں ڈرائے گا بھی ۔
۱۰ ۔ عدل یہاں تک کہ قبر و برزخ میں مردے خوش ہو کر ایک دوسرے کو مبارک دیں کہ امر اللہ اور عدل اللہ کا ظہور ہو گیا ہے۔امام صادق × ارشاد فرماتے ہیں : ً وَ لَا يَبْقَى مُؤْمِنٌ مَيِّتٌ إِلَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ الْفَرْحَةُ فِي قَبْرِهِ وَ ذَلِكَ حَيْثُ يَتَزَاوَرُونَ فِي قُبُورِهِمْ وَ يَتَبَاشَرُونَ بِقِيَامِ الْقَائِم‏ ،کو ئی متوفیٰ مومن نہیں ہو گا مگر اس پر اسکی قبر میں خوشی اور سرور نازل ہو گا تو وہا ں برزخ میں ایک دوسرے کو مل کر حضرت قائم کے عد ل قائم کرنے کی خوشخبری اور بشارت دیں گے ۔کیسا عدل کا قیام ہے کہ عدل دنیا میں قائم ہو رہا ہے اس کے اثر میں برزخ والوں کو بھی سرور آرہا ہے ؟
۱۱۔ اسی عدل کے اثر میں ہر نعمت کی فراوانی ہو گی ہر شی عام تام ہو گی ذرہ برابر فقر و غربت نہیں ہو گا اب پوری دنیا کو فقر و غربت نے ذلیل کیا ہو ا ہے اسکے ظہور اور عدل کے قائم کرنے سے فقر و غربت ذلیل ہو کر بھاگ جائے گا حضرت کی فوج کو اعلان ہو گا۔امام باقر × فرماتے ہیں کہ کوئی بھی کھانے پینے کی کو ئی شی نہ اٹھا ئے ۔ اً وَ يَحْمِلُ حَجَرَ مُوسَى الَّذِي انْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً فَلَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا نَصَبَهُ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ الْعُيُونُ فَمَنْ كَانَ جَائِعاً شَبِعَ وَ مَنْ كَانَ ظَمْآنَ رَوِي ، حضرت موسی کا پتھر اُٹھائیں گے جس سے بارہ چشمے نکلے تھے جس منزل پر نصب کریں گے تو اس سے بارہ چشمے نکلیں گے بس ہر بھوکا سیر ہو گا اور پیا سا سیراب،اما م صادق × فرماتے ہیں : تُظْهِرُ الْأَرْضُ كُنُوزَهَا حَتَّى تَرَاهَا النَّاسُ عَلَى وَجْهِهَا وَ يَطْلُبُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ مَنْ يَصِلُهُ بِمَالِهِ وَ يَأْخُذُ مِنْ زَكَاتِهِ لَا يُوجَدُ أَحَدٌ يَقْبَلُ مِنْهُ ذَلِكَ اسْتَغْنَى النَّاسُ بِمَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۔ زمین اپنے خزانے نکال دے گی لوگ سونے چاندی کے خزانوں کو زمین کے اوپر دیکھیں گے ۔ ایک شخص اس تلاش میں ہوگا کہ مال کے ساتھ صلہ رحمی کرے اسکی زکات لینے والا ہو لیکن کوئی لینے والا نہیں ملے گا تو لوگ بے نیاز ہوں گے ، جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں رزق دیا ہے۔ پس غربت اور فقر ،ذلیل ورسواء ہو جائے گا۔
خاتم الائمہ×# اللہ کے فیض کا واسطہ
ہر امام × واسطہ فیض ہے لیکن ہمارے امام عظیم واسطہ ہیں کیونکہ خاتم الائمہ × انبیاء اور دیگر آئمہ ^ کی رجعت کا بھی واسطہ ہیں ۔ جسطرح اپنے ظہور میں اللہ کے عظیم فیض کا واسطہ ہے اسی طرح غبیت الھیہ میں بھی اسکے فیض کا واسطہ ہیں جسطرح حدوث کا واسطہ اسی طرح بقاء کا بھی واسطہ ، کائنات میں ہر شی کی بقاء اسکے رزق سے ہے اگر وہ شی معنوی ہے تو رزق معنوی کی ضرورت ہے اور وہ علم ہے اگر شی مادّی ہے تو رزق مادّی کی ضرورت ہے اور وہ ہر ایک کے لیے مختلف غذائیں ہیں جو امام عین الحیات ہے اور ہر زندہ کی زندگی کا سر چشمہ ہے تو اسکی بقاء اور رزق کا واسطہ ہونا ضروریات میں سے ہے ۔
جو انبیاء ، ملائکہ اور جن و انس کے علم رزق معنوی کا واسطہ ہیں تو وہ بطریق اولی ٰ رزق مادّی کا بھی واسطہ ہیں ۔جسطرح اللہ تبارک و تعالیٰ ، محیٰ اور ممیت ہے لیکن احیاء و موت اور وفات دینے کا واسطہ قرار دیا ہے اسی لیے توفیٰ کی نسبت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف بھی دی ہے جسطرح ملائکہ کی طرف دی ۔اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا ، اللہ جانوں کو انکی موت کے وقت وفات دینے و الا ہے۔وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۔ اللہ نے تمھیں خلق فرمایا پھر تمھیں وفا ت دے گا ۔پھر یہی اللہ فرما رہا ہے :قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ۔ ملک الموت جو تم پر موکل ہے تمہیں موت دے گا پھر تمہیں اللہ کی طرف پلٹایا جائے گا۔الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ۔ وہ جنہیں ملائکہ وفات دیتے ہیں ، اسی طرح تمام افعال واسطہ اور اسباب کے ذریعہ سے ہیں اور یہ قانون الھیٰ ہے کہ( ابی اللہ ان یجری الاموربغیر الاسباب ! امام صادق × فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشادفرمایا ہے :کہ کائنات کے امور بغیر اسباب کے ہوں بلکہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ امور اور افعال ، اسباب سے واقع ہوں بلکہ واسطہ کائنات کی ضرورت ہے اسکے بغیر کائنات کے لیے اللہ کا کوئی فیض بھی نازل نہیں ہوتا ، جب دین اسلام ، شریعت ، قرآن بغیر واسطہ کے نازل نہیں ہوئے تو دیگر امور کیسے بغیر واسطہ کے واقع ہوں گے پس جہان میں واسطہ کی نفی جہل ہے اور واسطہ کو استقلال دینا شرک ہے ۔مسئلہ بقاءِ جہان اور رزق بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے یہ ایک قرآنی حقیقت ہے اللہ تبارک و تعالیٰ رازق اور رزّاق سے جوخالق ہے وہی رازق ہے :اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں خلق فرمایا پھر تمہیں رزق عطا فرمایا پھر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ فرمائے گا اسی طرح کثرت سے ذکر فرمایا کہ رزقناکم ، رزقناھم ، ہم نے رزق دیا ، اس میں بھی وہی نکتہ ہے جو انزلنا میں گزر چکا ہے ، کہ وسائط کا ذکر ہے ، بالآخر مخلوق کو رزق دینے کا حکم دیا ۔ وارزقواھم ۔ تم یتموں اور فقیروں اور بے عقلوں کو رزق دو۔پس یہ عین ِ توحید ہے شرک نہیں بلکہ جو واسطہ کا منکر ہو ایک لحاظ سے وہ مشرک ہے مکتب اہل بیت ^ میں واسطہ ضروریات میں سے ہے ۔
شیخ حر عاملی & وسائل میں اور علامہ مجلسی & بحار الانوار میں کر اجکی سے ذکر کرتے ہو ئے اس روایت کو نقل کیا ہے ۔ ابو حنیفہ نے حضرت صادق × کے ساتھ کھانا کھایا امام صادق جب کھانا کھا چکے تو فرمایا : كَنْزُ الْفَوَائِدِ لِلْكَرَاجُكِيِّ، ذَكَرُوا أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ أَكَلَ طَعَاماً مَعَ الْإِمَامِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَ السَّلَامُ فَلَمَّا رَفَعَ الصَّادِقُ ع يَدَهُ مِنْ أَكْلِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ هَذَا مِنْكَ وَ مِنْ رَسُولِكَ ص:حمد خدا کو انجام دیا پھر فرمایا پروردگار! یہ ( طعام ) تجھ سے اور تیرے رسول ﷺ سے ہے ، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَ جَعَلْتَ مَعَ اللَّهِ شَرِيكاً ؟ابو حنیفہ نے کہا! آپ × نے اللہ کے ساتھ شریک قرار دیا ہے ؟ فقال × فَقَالَ ع لَهُ وَيْلَكَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ وَ ما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ يَقُولُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ وَ لَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا ما آتاهُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ قالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ رَسُولُهُ فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَ اللَّهِ لَكَأَنِّي مَا قَرَأْتُهُمَا قَطُّ ، امام × نے ارشا فرمایا : وائے ہو تم پر ! اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ! ( منا فقین انتقام نہیں لے رہے مگر اس لیے کہ اللہ اور اسکے رسول نے انہیں اپنے فضل سے ( سیر کر کے ) بے نیاز اور تو نگر کر دیا ہے اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا !( اے کاش) منافقین راضی ہوتے اس پر جو انہیں اللہ اور اسکے رسول نے عطا فرمایا ہے اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے عنقریب اللہ اور اسکا رسول اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائیں گے ۔ ابو حنیفہ نے کہا اللہ کی قسم ! گویا کہ میں نے ان دو آیات کو کھبی بھی نہیں پڑھا ۔
امام × نے اپنے عمل پر قرآن سے استشہاد فرمایا ہے :حضرت کا عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ اور خلیفۃ اللہ سے ہے ابو حنیفہ نے کہا! کہ یہ رزق میں اللہ کو شریک قرار دینا ہے تو امام × نے قرآن سے اثبات فرمایا کہ میرا عقیدہ ہی تو حید ہے ۔ آیات میں منا فقین اور مومنین کا عقیدہ بیان ہو ا ہے منافقین رزق کو اللہ اور اسکے رسول سے نہیں مانتے جبکہ مومنین رزق کو اللہ اور اسکے رسول سے جانتے ہیں ۔ بلکہ دوسری آیت کریمہ جسے امام نے ذکر فرمایا ہے اس میں تو خود خداوندمتعال اس عقیدہ کو بیان فرما رہا ہیں : کہ اے کاش منافقین اس عقیدے پر ہوتے اور اسی عقیدہ پر راضی ہوتے اور کہتے کہ اللہ اور رسول اپنے فضل سےہمیں عطا فرمائیں گے خود حضرت حق رزق کے واسطہ کو بیان فرمارہے ہیں ۔
پس اولا ًجو اس نظریہ کا قائل نہ ہو وہ اس عقیدہ میں اپنے آپ کو منافقین کی صف میں داخل کر رہا ہے ، و ثانیاً رئیس مذہب کا عقیدہ ہے لذا جو اس کا قائل ہے وہی سچاجعفری ہے ۔حضرت امام جعفر صادق × کے نزدیک رزق اللہ ، خلیفۃ اللہ سے ہے جو جعفری ہو ں گے انکا یہی عقیدہ ہوگا جو رزق کو امام کے واسطہ سے نہ مانے وہ جعفری نہیں ہے اسی بنیاد پر غیبت صغریٰ میں شیعوں کے درمیان اختلاف تھا کہ رزق اور دیگر امور کیسے واقع ہوتے ہیں تو حضرت صادق × کی فرمائش سے مسئلہ حل ہوا ۔ یہ حدیث ایک قاعدہ اور قانون بیان کر رہی ہے حضرت فرماتے ہیں : قَالَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَمْراً عَرَضَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص ثُمَّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ سَائِرِ الْأَئِمَّةِ ع وَاحِداً بَعْدَ وَاحِدٍ إِلَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِلَى صَاحِبِ الزَّمَانِ ع ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الدُّنْيَا۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتے ہیں کسی امر کو ایجاد کریں تو اسے رسول ﷺ پر پیش کرتے ہیں پھر امیر المومنین پر پھر با قی آئمہ ^ پر اسکے بعد یہاں تک صاحب ِ الزمان ×# پر منتھی ٰ ہوتا ہے پھر دنیا میں واقع ہوتا ہے ۔یہ قوس نزول کا بیان ہے اللہ سے جو شی پیدا ہو ، نازل ہو اسکا تکوینی راستہ یہی ہے اور یہ اللہ کا تکوینی قانون ہے ہر شی انہیں مراتب سے ہو کر دنیا میں واقع ہوتی ہے ۔اذا ارا داللہ امراً: امر سے مراد شی ہے نکرہ ہے جو ہر چھوٹی اور بڑی شی کو شامل ہے مادّی اور معنوی ہر شی کو شامل ہے جسطرح آیت کریمہ میں ہے :ان من شی الا عند نا خزائنہ و ما تنزلہ الا بقدر معلوم ِِ۔
کوئی شی نہیں مگر ہمارے پاس اسکے خزائن ہیں اور ہم اس شی کو نازل نہیں کرتے مگر ایک مقدار معین کے ساتھ ۔ یہاں پر بھی شی ہے جو اشیاء کو شامل ہے اور یہاں کلمہ نزول ہے خداوند متعال کی خلقت نزول ہے لذا ہر شی وہاں سے نازل ہوتی ہے یہ حدیث گویا کہ ا س آیت کریمہ کی مصداقی تفسیر ہے اللہ کے خزائن آئمہ معصومین ^ کو بیان کیا گیاہے تمام چیزیں انہیں خزائن سے ہو کر آتی ہیں اور یہ خزائن ، واسطہ ہیں اور یہ خزائن عالمین کی ضرورت ہیں پس آئمہ ھدیٰ ^ تمام عالم امکان کی ضرورت ہیں۔ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتی ہے پس حضور اکرم صادر اوّل اور خلق اوّل ہیں جو سب سے پہلے اللہ کے فیض کو اپنے ظرف وجودی میں قبول فرماتے ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کا خزینہ بن کر اس فیض کو محفوٖظ رکھتے ہیں کہ اس خزانہ سے نازل ہونے کے بعد وہ خزانہ خالی نہیں ہوتا بلکہ شی دنیا میں بھی آجاتی ہے اور الھی خزانہ میں اس شی سے خالی نہیں ہوتا۔ یہی فرق ہے دنیا کے خزانے اور اللہ کے خزانے میں ، دنیا کے خزانہ سے جو جتنإ نکل جائے تو خزانہ اتنا خالی ہوجاتا ہے ۔
ثم یخرج الی الدنیا ! یہ ( ثم ) ” پھر “بیان کر رہا ہے کہ ان خزائن سے شی خارج ہونے کے بعد اور دنیا تک پہنچنے میں اور کئی وسائط ہیں جیسے عرش ، کرسی ، ملائکہ پھر دنیا میں واقع ہوتی ہے وہ وسائط اور اسباب بھی آئمہ کے تحت ہیں یہ خدا سے متصل ہیں باقی سب انکے بعد ہیں اور یہ پہلے ہیں :وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ، أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ،پھر حضرت نے قوس صعود بیان فرمایا : قَالَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَمْراً عَرَضَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص ثُمَّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ سَائِرِ الْأَئِمَّةِ ع وَاحِداً بَعْدَ وَاحِدٍ إِلَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِلَى صَاحِبِ الزَّمَانِ ع ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الدُّنْيَا وَ إِذَا أَرَادَ الْمَلَائِكَةُ أَنْ يَرْفَعُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَمَلًا عُرِضَ عَلَى صَاحِبِ الزَّمَانِ ع ثُمَّ عَلَى وَاحِدٍ وَاحِدٍ إِلَى أَنْ يُعْرَضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص ثُمَّ يُعْرَضُ عَلَى اللَّه‏ ، اور جب ملائکہ چاہیں کہ اللہ کی طرف کوئی عمل لے جائیں تو وہ اسے صاحب الزَّمان × پر پیس کرتے ہیں پھر ایک کے بعد دوسرا امام یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ پر پیس ہوتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف پیش کیا جاتا ہے ۔ دنیا سے کوئی اللہ کی طرف صاعد ہو اور اللہ کی طرف بلند ہوتو اس کا راستہ یہی ہے ملائکہ اس عمل کو امام زمان × پر پیش کرتے ہیں ۔امام زمان × ہر وقت کا امام ہے مثلا ََ امام صادق × کے زمان میں وہ امام زمان × ہیں تو سلسلہ وہاں تک ہو گا ملائکہ کیوں پیش کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ ملائکہ مدبرات امر ہے تو بطور غلام اولو الامر کے سامنے اپنی غلامی کا وظیفہ انجام دیتے ہیں ۔
در حالانکہ خود امام بھی قادر ہے جسطرح ذاتِ واجب قادر ہے کہ بغیر نلائکہ کے عمل کو لے لیں ۔اِبی اللہ ان یجریٰ الاشیاء بغیر اسباب ِِ، اللہ نے اساب سے نظام چلایا ہے اسکے بعد امام صادق × قوس کے دونوں سلسلہ کو یوں بیان فرمارہے ہیں : فما نزل َ من اللہ فعلیٰ اید یھم و ما یخرج الیٰ اللہ ِ فعلیٰ اید یھم ،وہ شی جو اللہ سے نازل ہو وہ ان آئمہ ^ کے ہاتھوں پر اور وہ شی جو اللہ کی طرف پرواز کرے وہ انہیں کے ہاتھوں پر ، یہ ایک قانون کلی ہے لذا آئمہ ^ کے علاوہ ہر شی اسی قانون کے تحت دنیا پر آتی ہے اور دنیا سے چلی جاتی ہے ، الَا الیٰ اللہ تصیر الامور ، تما م چیزیں اللہ کی طرف ہوتی چلی جارہی ہیں تو وہ اسی راستہ سے جائیں گی ،الیٰ ربک المنتھیٰ ، تیرے رب کی طرف منتھیٰ ہے اسی صراط مستقیم سے وہاں تک پہنچتی ہیں ۔ آئمہ ^ حقیقی اور تکو ینی واسطہ فیض ہیں نہ اعتباری اور فرضی ۔ لذ امحال ہے کوئی شی انکے وجودی ہاتھوں کو بوسہ دیے بغیر دنیا میں نازل ہو اور اسی طرح محال ہےکوئی شی انکی قدم بوسی کیے بغیر خدا تک پہنچ جائے
لطیف نکتہ :
یہاں پر خاتم الا ئمہ ×# کی رعایا کے لیے ایک عظمت ہے جوپہلے آئمہ کے رعایا کو نصیب نہیں ہوئی مثلا ََ: جو امام زین العابدین × کے ز مانہ میں تھے وہ روٹی کا لقمہ اور پانی کا گھونٹ رسول اللہﷺ سے لیکر حضرت زین العابدین × تک انکے ہاتھوں سے مس ہو کر آتا تھا اور لوگ کھاتے تھے ، جو چھٹے امام کے زمانہ میں تھے وہ ان تک اسی طرح حضرت ِ عسکر ی × تک ۔
لیکن یہ واحد ، منتظرین خاتم الائمہ ×# کو شرف حاصل ہے کہ چودہ کے ہاتھوں سے رزق کھاتے ہیں ۔ اس نعمت عظمیٰ پر کو ئی نوکر اگر بے انتہا خوش ہو اور خوشی سے جان دے دے تو حق رکھتا ہے ۔ زندگی کی سانس دم بدم آرہی ہے تو چودہ سے ہو کر آرہی ہے البتہ یہ اور بات ہے کہ کوئی رعایا کا، فرد کھا کر نمک حلالی کرتا ہے اور کوئی نمک حرامی ۔ یہ اس فرد کی ظرفیت ہے ورنہ شمش امامت سے ہر فیض الھی نازل ہورہا ہے ، اس پر جتنا فکر کرتے چلیں جائیں گے حضرت سے محبت اور عقیدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ آخر پر ارشاد فرماتے ہیں : فَمَا نَزَلَ مِنَ اللَّهِ فَعَلَى أَيْدِيهِمْ وَ مَا عَرَجَ إِلَى اللَّهِ فَعَلَى أَيْدِيهِمْ وَ مَا اسْتَغْنَوْا عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ طَرْفَةَ عَيْنٍ ،آئمہ ھدیٰ ^ اللہ تبارک و تعالیٰ سے پلک جھپکنے کی مقدار بھی بے نیاز اور مستقل نہیں ہیں یہ ایک قانون ہے کہ واسطہ کھبی بھی اللہ سے مستقل اور بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ اگر بے نیازہو جائے تو باقی نہیں رہے گا عبد نہیں رہے گا خدا سے جدا ممکن نہیں ہے ، اگر جد ا ہو جائے تو نابود ہو جائے گا اصلاباقی نہیں رہے گاباطل ہوجائے گا تو کہاں خلق کے لیے واسطہ فیض بن سکتا ہے واسطہ فیض وہی ہوگا جو ہمیشہ نیاز مند عبد ہوگا ۔بلکہ آئمہ ھدیٰ^ سب سےزیادہ اللہ کے نیاز مند اور محتاج ہیں ، جو آئمہ کو خدا سے بے نیاز مانیں یہ باطل تفویض ہے اور شرک ہے اور جو انہیں خدا کا نیاز مند اور محتاج مانیں اور ذرہ برابر بھی بے نیاز نہ جانیں یہ حق تفویض ہے اور اصلی توحید ہے اور جو انکے واسطہ کا منکر ہو وہ جاہل ِ مقصّر ہے ۔
پس منتظرین خاتم الائمہ ×# کا وظیفہ اور ذمہ داری ہے کہ اپنے مولا کا اس طرح عرفان رکھیں تاکہ ا پنے آپ کو اس کا نمک خوار بناکر اسکی خدمت کریں اور اپنے وظائف پر عمل کریں ۔حق رعایا یہ ہے کہ حق رعیّت ادا کریں اور ہمیشہ اسکی فکر میں ہوں کہ آیا ا پنی ذمہ داری اور وظیفہ انجام دے رہاہوں یا نہ ؟ایک منتظر کی پہلی ذمہ داری اور بنیادی وظیفہ اپنے مولا کی معرفت ہے جو عرفان عمل پر و ادار کرے پھر وظائف المنتطرین پر عمل کر کے اسکی معرفت حقیقیہ اور مزید قرب حاصل کریں تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے مقرب اور محبوب بندے بن جا ئیں ۔
باقی تمام وظائف کی پوزیشن اس مرکزی و ظیفہ کی پوزیشن کے مطابق ہے اسی وجہ سے اس ذمہ داری کو دیگر و ظائف کی نسبت ذرا تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔ اگرچہ کہ اس موضوع پر فی نفسہ انتہائی اختصار سے کام لیا گیا ہے ورنہ دسیوں جلدیں درکار ہیں اسی موضوع کا اسکا اختتام دعا معرفت پر کرتے ہیں ۔
{ يَا زُرَارَةُ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَّمَانَ أَيَّ شَيْ‏ءٍ أَعْمَلُ قَالَ يَا زُرَارَةُ إِذَا أَدْرَكْتَ هَذَا الزَّمَانَ فَادْعُ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِيَّكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْحقیقت امام کیاہے
امام اور امامت کو اللہ تعالیٰ اور اسکے خلیفہ کے علاوہ کوئی بیان نہیں کرسکتا اور پھر خاتم الائمہ علیہ السلام کی معرفت کا بیان تو ان سے بھی مشکل ترین امر ہے لذا اختصار کے ساتھ قرآن اور سنت میں بعض اشاروں کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ پہلے اصل امامت اور امام کو بیان کرتے ہیں پھر خاتم الائمہ علیہ السلام پر منطبق کرنے کے بعد آنحضرت کے ساتھ چند مختص خاص حقیقتوں کو بیان کرتے ہیں۔
قرآن
قرآن میں حقیقت امام ایک مفصل اورعمیق موضوع ہے اشارہ پر اکتفا کرتے ہیں ( وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ) حضرت ابراہیم کا امامت تک پہنچنے کا قصہ ہے کہ عبدیت ، ولایت ، نبوت ، رسالت کے منازل کو طے کرنے کے بعد منزلتِ امامت تک پہنچے ، پس قطعا مقامِ امامت دیگر تمام مقامات سے افضل اور برتر ہے لوگوں میں سے بعض کو مقام عبدیت پر انتخاب فرمایا اور پھر انہیں ولایت پر لایا پھر ان میں سے بعض کو نبی بنایا معصوم نبیوں میں سے بعض رسول بنے پھر معصوم رسولوں میں سے بعض کوامام بنایا ۔
پوری مخلوق سے انسان کو لیا گیا ہے پھر انسان سے اللہ نے اپنے بندے کو چنا پھر ان میں اولیاء اللہ کا انتخاب کیا ان میں سے بعض کو مقام نبوت پر مصطفیٰ کیا پھر ان نبیوں میں سے بعض کو رسول انتخاب کیا پھر ان معصوموں میں سے امام کو برگزدیدہ کیا اور اللہ کے نزدیک امام سے بڑھ کر کوئی نام نہیں ہے اورامامت سے بڑھ کر کوئی الھی عہدہ نہیں ہے خود اللہ تبارک و تعالیٰ امام کو اپنی مخلوق میں سے چن چن کر بناتا آیا ہے کہ جس کے بعد چنا نہیں جا سکتا بلکہ ایک خاتم الانبیاء والمرسلین قرار دیا اور ایک خاتم الائمہ بنا دیا۔اللہ کی طرف سے امامت کے انتخاب کے لیے ، دائرہ عصمت کا ہونا ضروری ہے جب ہر معصوم بھی امام نہیں بن سکتا تو غیر معصوم کو اپنا امام بنانا ظلم عظیم ہو گا اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر امام معصوم ہے لیکن ہر معصوم اما م نہیں ہے پس امامت کے لیے بھی عصمت کا خاص اعلیٰ درجہ ہو نا چاہیے ۔امام تمام کمالات نبی کو رکھتا ہے اگرچہ بعض آئمہ کو نبی نہ کہا جائے جیسے بارہ امام معصوم ہیں ، بلکہ مسلمات ِ مذھب میں سے ہے کہ بارہ امام معصوم ،نبی خاتم کے علاوہ باقی تما م انبیاء سے افضل ہیں ، جس طرح کتب احادیث میں پورا باب اس مطلب پر قائم ہے ۔ لیکن ان اماموں کو نبی نہیں کہا جاسکتا۔
مقام نبی کا جلوہ بحث عدل النبی ، میں گزر چکا ہے اور وہاں پر نبوت کی بحث میں معلوم ہو چکا کہ شخص نبی مخلوق سے رفیع و بلند ہے تو امام تو اس سے بھی بلند یہاں سے حقیقت امامت کی عظمت کو درک کیا جا سکتا ہے کہ فوق ادراک بشر ہے۔
پس امامت عطائی امر ہے اللہ عزوجل کی طرف سے عطاء ہوتا ہے امامت تحصیلی اور کسبی نہیں جسے اجتہاد اور فقہات تقویٰ عدالت جیسے امور سے تحصیل کیا جا ئے بلکہ یہ معمولی اور غیر معمولی راستوں سے حاصل ہو نے والی شی نہیں ہے ۔ یہاں سے روشن ہوا کہ اس آیت میں امام سے مراد نبوت اور رسالت نہیں ہے نہ معنیٰ کے لحاظ سے نہ مکان کے لحاط سے،پس حقیقت امامت ان تمام حقیقتوں سے بلند اور ماوراء ہے۔
لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ
آیت کے اس جملہ میں عظیم معارف پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ امامت عہد اور مقام الھی ہے اصلا کسی کے ہاتھ میں نہیں تو کوئی کسی کو امام بنا ہی نہیں سکتا جب ہے ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں، اسکی ملکیت حقیقی ہے تو غیر کیا کر سکتا ہے پس اگر کوئی دعویٰ کرئے کہ میرے پاس عہدہ امامت ہے خداوند متعال کی طرف سے ہونا ثابت نہ ہو تو وہ کذاب ، جھوٹا اور باطل ہے ۔
۲۔ امامت جو اللہ کا مقام ہے ظالموں کو نصیب نہیں ہوگا ظالم کون ہے ؟ ظالم کا معنی بھی قرآن سے معلوم ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جس سے امامت کی نفی کر رہا ہے ۔تعریف ظالم: وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ،جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا پس وہی تو ظالم ہیں ، وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ، جس نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا پس اس نے اپنے اوپر ظلم کیا ۔کوئی گناہ بھی سرزد ہو وہ اللہ کی حدود سے تجاوز ہے چھوٹا گناہ ہو یا بڑا ظاہری اسلام سے خارج کرنے والا ہو جیسے کفر و شرک اور بت پرستی یا ظاہری اسلام سے خارج نہ کرے جیسے جھوٹ ، غیبت و غیرہ حتیٰ کہ اگر ایک مرتبہ زندگی میں گناہ ہوا ہے اور پھر تو بہ بھی کر لی ہے تو امامت کے لائق نہیں ہے ، لوگ اگرچہ کہ اسے امام کہتے رہیں ۔
علامہ طبا طبا ئی ؒ کا بیان
مر حوم علامہ طبا طبا ئیؒ فرماتے ہیں :
و بهذا البيان يظهر: أن المراد بالظالمين في قوله تعالى، «قالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» مطلق من صدر عنه ظلم ما، من شرك أو معصية، و إن كان منه في برهة من عمره، ثم تاب و صلح. ۔
ہر وہ جس سے کوئی ایک گناہ سرزد ہوا ہے شرک ہو یا معصیت، زندگی کے کسی ایک زمانہ میں واقع ہوا ہو پھر توبہ کر کے نیک بن گیا ہو پھر اپنے استاد سے ایک استدلال نقل فرماتے ہیں کہ کسی نے ہمارے ایک استاد سے پو چھا کہ یہ آیت آئمہ کی عصمت پر کیسے دلالت کرتی ہے ؟ جواب میں استاد نے فرمایا : عقلی طور پر چار قسم کے لوگ ہیں :
۱ ۔ پوری عمر میں ظالم ہو ۲۔ پوری عمر میں ظالم نہ ہو ۳۔ اول عمر میں ظالم ہو آخر عمر میں نہ ہو،۴ ۔ آخر عمر میں ظالم ہو اول میں نہ ہو ۔
اب حضرت ابراہیم اجل و اعظم ہیں کہ امامت کو پہلی قسم کے لیے مانگا ہو اور اسی طرح چوتھی قسم کے لیے باقی بچی دو قسمیں:تو اب دیکھیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے کس قسم سے امامت کی نفی کی ہے ؟ اور وہ نہیں ہے مگرتیسری قسم ، جس نے اول زندگی میں ظلم کیا ہے پس جس سے گناہ کا واقع ہو نا ممکن ہو یعنی جائز الخطا ہو وہ امام نہیں ہو سکتا ۔
۳۔ امام کا معصوم ہو نا قطعی اور یقینی ہے کہ عصمت کی وجہ سے گناہ کا واقع ہو نا اصلا ممکن ہی نہیں ہے ۔
۴۔ امامت کا درجہ عصمت: نبوت اور رسالت کے درجہ عصمت سے بلند ہو گا یعنی امام صاحب عصمت کبریٰ ہو ۔
۵۔ الظالمین : پر الف لام بتا رہا ہے کہ کسی ظالم کو بھی یہ عہد نہیں ملے گا وہ ابراہیم کے بعد سے لیکر قیامت تک ظالم سے یہ عہدہ دور ہے اورظالم اسکے نزدیک بھی نہیں ہو سکتا حتیٰ مملکت اور با دشاہت جو ظاہری د نیوی ہو تو بھی اس امام کا حق ہے غیر معصوم کے لیے جعل نہیں ہوتی ، بس جو بھی اس حکومت پر پہنچ جائے تو اس نے دست درازی کی ہے امام واقعی کا حق غضب کیا ہے پس اس حکومت کو غیر معصوم کے لیے قائم کرنا اور حاصل کرنا اللہ کی طرف سے حکم آیاہو آیا ممکن ہے ؟
۲۔ وَ جَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا لَمَّا صَبَرُوا وَ كانُوا بِآياتِنا يُوقِنُونَ ، ہم نے انبیاء میں سے بعض کو امام بنایا جو ہمارے امر کے ذریعہ سے ھدایت کرنے والے ہیں جب مقام صبر پر فائز ہو جائیں اور ہماری آیات پر یقین رکھنے والے ہیں ۔اس آیت کریمہ کو امامت اور امام کی تعریف کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے جسے اصطلاح میں حد اور تحدید کہا جاتا ہے حقیقت امامت میں تین عنصر بیان ہوئے ہیں ۔
۱۔ اللہ کے امر سے ہدایت کرنا ۲۔ مقام صبر پر فا ئز ہونا ۳۔ اللہ کی آیات پر یقین رکھنا ۔
ا نکی وضاحت کے لیے آخر سے شروع کرتے ہیں اس لیے کہ وہ رتبہ کے لحاظ سے پہلے ہیں جسطرح کہ روشن ہو جائے گا ۔
آیات اللہ پر یقین
اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات سے مراد موجودات کی حقیقتیں ہیں اس مراد کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے قرآن کی خدمت میں جانا چاہیے کیونکہ قرآن کا واقعی مفسر قرآن ہے وہ ناطق ہو یا صامت کیونکہ مقام امامت حضرت ابراہیم کو عطا کیا گیا ہے تو پہلے اسے آیات اللہ دکھائی گئیں کیونکہ عبودیت ، نبوت رسالت اور خلت کے مراتب طے کرنے کے بعد مقام امامت عطا کیا گیا تو حضرت ابراہیم کو پہلے آیات کی سیر کرائی گئی تاکہ وہ مقام یقین پر فائز ہو جائے اور یہ آیات وہی ہیں جو زمین و آسمان میں ہیں کیونکہ آسمان سے مراد جہت علو اور بلندی ہے اور یہ اوپر والے وجود کے تمام مراتب کو شامل ہے لذا آسمان ظاہری اور باطنی دونوں کو شامل ہے ان آیات کے مضمون سے حضرت مو قنین میں سے ہو جائیں گے کیونکہ یقین حقیقی آیات کے باطن کے علم سے حاصل ہوتا ہے۔وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ، اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا ملکوت اور باطن دکھایا تاکہ وہ اہل یقین میں سے ہو جائے ۔پس معلوم ہو ا کہ یقین ملکوت کو دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے ۔
معنی ملکوت
(م۔ل۔ک) کے مادہ سے ہیں جو مُلک کامعنیٰ ہے وہی ملکوت کا معنی ہے ملک وہی سلطنت ہے جسطرح انسان کو اپنی اعضاء اور قوتوں پر ملکیت اور سلطنت ہے کہ یہ ملکیت، حقیقی ہے یا انسان کو اپنے گھر اور مال پر سلطنت ہے کہ یہ اعتباری ہے ملکوت یہ سلطنت اور ملکیت حقیقی ہے لیکن یہ سلطنت ملک سے زیادہ ہے کیونکہ عربی میں جب ایک مادہ میں زیادتی آئے تو معنیٰ میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے کسی شی پر ملک اور ملکوت کا ہو نا اس شی پر سلطنت رکھنا ہے لیکن ملکوت میں یہ سلطنت شد ید ہے اس کے مشابہ کلمات میں یہی ہے ، جبر ، جبروت ، عظمت سے عظموت ، رحمت سے رحموت معنی اور مفہوم میں وسعت آجاتی ہے شی پر شدت ملکیت تب حاصل ہو گی جب شی کی حقیقت پر تسلط حاصل ہو جائے اور یہ فقط ملکیت حقیقیہ میں ہو گا کہ مالک کے حر کت کرنے سےمملوک بھی حرکت کرے گا جس طرح انسان حرکت کرے تو اس کا بدن بھی اسکے ساتھ جاتا ہے اللہ تبارک وتعا لیٰ جب ارادہ کریں تو شی فورا ویسے ہو جاتی ہے ، برخلاف ملکیت اعتباریہ کے ۔ کہ مالک کے حرکت کرنے سے مملوک حرکت نہیں کرتی جسےب ہم گھر سے نکل جاتے ہیں لیکن ہماری مملوک کہ گھر ہے وہ اپنے مقام پر باقی رہتا ہے ۔
ملکوت ملکیت حقیقہ ہے اور ملکیت حققیہ کسی کی حقیقت پر مسلط ہونے سے حاصل ہو گی بس شی پر ملکوت ۔ شی کی حقیقت پر تسلط سے حاصل ہو گا ۔ معلوم ہوا کہ ہر شی کے دو مرتبہ ہیں ، ۱۔ شی کا ظاہر ی مرتبہ ، ۲۔ شی کا باطنی مرتبہ ، شی کے ظاہر پر سلطنت سے ملک حاصل ہوتا ہے اور شی کے باطن پر سلطنت سے ملکوت حاصل ہوتا ہے اسی طرح شی کا دنیاوی چہرہ اور اخروی چہرہ سے مراد شی کا ظاہر اور باطن ہے، لذا کہتے ہیں شی کا ملکی چہرہ اور شی کا ملکوتی چہرہ ،پس ہر شی کا ایک ملک ہے اور ایک ملکوت ، یعنی ایک ظاہر اور ایک باطن ہے ، ظاہر دنیا میں اور باطن آخرت میں ہر شی کی حقیقت اسکا باطن ہے اور جسکو باطن پر سلطنت ہے یقینا اسکے ظاہر پر بھی سلطنت ہے جو باطن کا علم رکھتا ہے وہ ظاہر کا بھی علم رکھتا ہے ، لیکن برعکس نہیں ہے علمی اصطلاح میں (وجہ یلی الرب اور وجہ یلی الخلق) شی کا چہرہ جورب کی طرف ہے اور وہ چہرہ جو خلق کی طرف ہے بھی کہا جاتا ہے ( ملکوت السماوات و الارض ) مراد آسمانوں اور زمین کے باطن اور حقیقت ہے ۔
۱۔ شی کا ملک اور ملکوت اسکا ظاہر اور باطن ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے (تَبارَكَ الَّذي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَ هُوَ عَلى‏ كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ) بابرکت ہے وہ ذات جسکے قبضہ قدرت میں ہے کائنات یہ شی کا ملک اور ظاہر ہے ، ملک اور شی کا ظاہر (فَسُبْحانَ الَّذي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ) منزہ ہے ہر نقص سے وہ ذات جسکے ہاتھ میں ہر شی کا ملکوت اور باطن ہے پس ہر شی کا ملکوت اور باطن ہے تو ہر شی کا ملک اور ظاہر بھی ہے ۔(ارائہ )دکھانا ؛اللہ نے جو یہ د کھایا ہے تو یہ فقط ظاہری د کھانا نہیں ہے اس لیے کہ شی کے باطن اور حقیقت کو ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا ہے بلکہ اسے و جودی اور قلبی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے جس سے رؤیت اللہ اور معرفت اللہ ممکن ہے۔( وَ لِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنينَ) ،زمین اور آسمانوں کے باطن اور ملکوت کو دکھانے کاہدف یقین پر پہنچانا ہے یقین علم کا وہ مقام ہے جس مین ذرہ برا بر شک تردید نہ ہو اور علم لازوال کو یقین کہتے ہیں جو علم زائل نہ ہو ، باطل نہ ہو اسے یقین کہتے ہیں۔
قرآن نے یقین کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔
۱۔ علمُ الیقن: جو علم فکری براہین سے حاصل ہوتا ہے ۔
۲۔ عینُ الیقین :جو قلب اور وجود کے دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہ شی کی ملکوت کا علم عین الیقین ہے ۔
۳۔ حقُ الیقین :کہ صاحب علم خود وہی حقیقت عینیہ خارجیہ بن جائے، ان میں سے ہر ایک کے مراتب ہیں ( كَلا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ) اگر علم الیقین حاصل ہو جائے تو عین الیقین ہو گا کہ دنیا میں جہنم دیکھ لے جسطرح بعض اصحاب کو آئمہ ^نے د کھایا( ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ) ( إِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ) (وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ)
خدا وند متعال بحق خاتم الائمہ علیہ السلام یہ مراتب یقین ہمیں عطا فرمائے تو معلوم ہوا موجودات کے ملکوت دیکھنے سے انسان منزل یقین پر فائز ہوتا ہے ۔شی کے باطن کو دیکھنا معرفت تو حید عطا کرتا ہے ۔شی کے ملکوت کو دیکھنے سے علم التوحید حاصل ہوتا ہے۔اَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ وَأَنْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ۔ وہ زمین اور آسمانوں کے ملکوت میں نظر اور فکر کیوں نہیں کر تے اور جس شی کو اللہ نے پیدا فرمایا ہے عنقریب ہے کہ انکی موت آچکی ہو ۔ اس کے بعد کس شی پر ایمان لائیں گے ۔یعنی اگر باطن اور ملکوت کو دیکھیں تو تو حید کی معرفت حاصل ہو جائے گی اور ایمان عظیم حاصل ہو گا ۔ یہ خطاب اور دعوت عام ہے پس ہر ایک کے لیے ممکن ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح حضرت خاتم علیہ السلام کو بھی ملکوت کی سیر کرائی گئی۔ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّه هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۔معراج پر لے جا نے کا ہدف یہ تھا کہ ہم انہیں اپنی آیات دکھائیں ۔ قالّ وہ بھی بڑی آیات ہوں گی لذا فرمایا :لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ، تحقیق اس نے دیکھا اپنے رب کی بڑی آیات کو ۔ خود خاتم جانتے ہیں کہ کیا دیکھا تو یقینا جو حضرت خاتم کو حاصل ہوا ۔ ابراہیم × کے پاس اس یقین کی خیرات ہے ، اور وہ اسماء صفات حق تبارک و تعالیٰ ہیں ۔ جنہیں اللہ امام قرار دیتا ہے وہ ہماری آیات پر یقین رکھنے والے ہیں جسطرح ابراہیم بلکہ خاتم النبین کو یہ یقین ہمیشہ کے لیے حاصل تھا( یو قنون) کا صیغہ استمرار پر دلالت کرتا ہے خاتم کے جانشین وہ ہوں گے جو ہمیشہ مقام یقین پر فائز ہوں لذا فرماتے ہیں((ما رأيت شيئا الّا و رأيت اللَّه قبله و معه و بعده)میں کسی شی کو نہیں دیکھتا مگر اس سے پہلے اور اس کے بعد اورا س کے ساتھے خدا کو دیکھتا ہوں۔(مولا علی×) عہدہ امامت پا نے کے لیے یہ مقام یقین ہوناضروری ہے ۔
صبر
لما صبروا: مقام صبر پر فائز ہونا ضروری ہے اور وہ بھی مطلق صبر اور صبر مطلق ہو ۔
صبر حبس النفس ہے جان کو محبوس کرنا ہے،اپنے آپ کو ہر نا ملائم اور ناسازگار کے مقابلہ میں روکنا جسکا لازمہ تحمل اور برداشت کرنا ہے کسی شی پر صبر کرنا اور اپنے آپ کو ہرنا ملائم سے حبس کریں ،اب یہ نا ملائم یا فرض کو انجام دینے میں ہے جب انسان اپنی ذمہ داری اور و ظیفہ انجام دے تو جونا ملائم پیش آئے اس کو تحمل کرتے ہوئے اپنے وظیفہ اور فریضہ کو انجام دینا ہے یا گناہ کے ترک کرنے پر جو نا ملائم پیش آئے تو اپنے آپ کو زندانی کرے اور گناہ کو ترک کردے اور مصائب و دکھ درد کے وارد ہونے پر اپنے آپ کو محبوس کر لے اور حدود الھی سے خارج نہ ہو اور تو کل علی اللہ سے پیچھے نہ ہٹے اور آئندہ کے لیے امید وار رہے خلاصہ ہر وہ شی جو طبع اور مزاج اور ذوق کے خلاف ہو اسکو تحمل کریں تاکہ اپنے عظیم ہدف تک پہنچ جائیں ۔
لذا شخص کے طبع اور ذات کے عظیم ہونے کے ساتھ مصائب اورنا ساز گاری زیادہ ہو گی تو انکے مقابل میں صبر عظیم اور جمیل کی ضرورت ہو گی۔صبر کا ثمر اور نتیجہ استقامت اور ثابت قدمی ہے جو بڑی مصیبت کو چھوٹا اور حقیر کر دیتا ہے یہاں تک حقیقت صبر کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اپنے آپ کو حبس کرنا اور روکنا جو عقل اور شرع کا مقتضیٰ بن جائے کہ یہ معنیٰ راغب اصفہانی نے ذکر کیا ہے : عقل و شریعت کے حکم کے مطابق اپنے آپ کو ہر خلاف طبعیت کو تحمل کرتے ہوئے باقی رہنا ہے۔
منشا صبر
تو حید کی معر فت اور ا پنی عبودیت کے ادارک سے صبر پیدا ہو جائے گا جتنا انسان اپنے فقر اور حضرت حق کے غنا او رقدرت کو درک کرے گا اتنا بڑا صابر ہو گا یعنی آیات اللہ پر یقین ، سبب صبر ہے ۔
کیفیت تحقق صبر
کیونکہ صبر استقامت قلبی ہے تو اسکے کے لیے چند جہتیں ہیں ۔
1۔ اپنے انفسانی نظام کو برقرار کھے ۲۔ مصائب اور ناسازگار یوں کے سامنے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ،۳۔ نظریہ عقیدہ کو باقی رکھے ۴۔ فکر کو ہاتھ سے نہ دے۵۔ تد بیر کو نہ بھولے، تب صبر محقق ہوگا یہ ممکن نہیں مگر جب حقیقت عبودیت کو درک اور پا لیا جائے ، پس صبر معرفت تو حید کی دلیل اور علامت ہے اور صبر بندگی اور عبودیت کا ترازو ہے ۔ وہی عبد مطلق ہو گا جو صبر مطلق پر فائز ہو گا صبر محض عبدِ یت محضہ کا نتیجہ ہے۔
صبر مطلق
صبر کا آغاز صمت و سکوت اور خاموشی سے ہے کہ سوائے ضرورت کے ہر درست اورصحیح کلام بھی نہ کرے یعنی مباح بھی انجام نہ دے حرام جیسے جھوٹ غیبت و غیرہ اور مکروہ جیسے کسی سے تند زبان سے کلام کرنا تو بالکل سرزد نہ ہو اس لیے حضرت مریم کو پہلے چپ کے روزہ کا حکم دیا تو اس میں لوگوں کی تہمت پر صبر کی قوت پیدا ہوئی۔ زبان کے بعد آ نکھ سے شروع کرے ہر شی کو نہ د یکھے حرام تو اپنے مقام پر غیر ضروری شی پر بھی نگاہ نہ کرے نظریں جھکی ہوئی ہوں اپنے اندر نگاہ کرنے میں مشغول رہے۔
اسی طرح کان، با لاخر تمام حواس پر تسلط پا کر انہیں ہر غیر ضروری سے محبوس کر ے، پھر تمام مصائب پر صبر کرے پھر تمام وہ چیزیں جنہیں طبیعت اور مزاج جسمانی چاہیتا ہے ان پر صبر کرے ہر مباح شی نہ کھائے پیئے ،ہر لباس نہ پہنے ، ہرسواری پر سوار نہ ہو ہر مقام ومنزلت کو قبول نہ کرے ۔بہرحال ہر آسائش اور عیاشی سے اپنے آپ کو روکے اور ضرورت زندگی پر اکتفا کرے ۔
اسی طرح ہر مخالف اور مزاج طبیعت کو خدا کے لیے تحمل اور برادشت کرے اور ہدف زندگی کو ہاتھ سے نہ جانے دے استاد بزرگوار کے بقول! یہ ابھی صبر کی (الف، با) پر ہے یہاں تک کہ دنیا پر صبر کرے ، اپنے آپ کو مال ، اولاد ، جاہ مقام شہرت مطلق عالم طبیعت اور مادہ سے روکے۔ دنیا کی عظیم ترین شی کی طرف تھوڑی سے للچائی ہوئی نگاہ نہ کرے ، دنیا کی عظیم ترین شی ، اسکے نزدیک حقیر ترین شی ہو جائے بالاخر اس دنیا کا تمام زرق و برق اسکے نزدیک ذرہ برابر بھی رنگ نہ رکھتا ہو ۔
اس کے بعد برزخ اور عالم مثال پر صبر یعنی اپنے خیال کو محبوس کرے ، خیالی صورتوں سے اپنے آپ کو محبوس کرے ہر خیال کو قوت متخیلہ میں نہ آنے دے قوت مفکرہ کو ہر ضروری فکر پر محبوس کرے اور فکر فقط الھی ہو۔اسکے بعد آخرت پر صبر کرے ، حتیٰ کہ جنت کی نعمتیں اسے نہ للچائیں، عبادت ، حور و قصور کے لیے نہ ہو بلکہ عبادت اللہ کے لیے ہو۔
پس دنیا پر قدم ، آخرت پر قدم ، عالم طبعیت پر قدم عالم برزخ پر قدم حتیٰ کہ عالم آخرت پر قدم ، سب کو قدموں تلے لگا دے فقط جمال و جلال حق کی طرف نگاہ ہو اس کے لیے اسکے علاوہ ہر شی سے اپنے آپ کو محبوس کرے اور ہر شی پر صبر کرے ۔ جب اس کے علاوہ ہر شی سے چشم پوشی ہو گی اور فقط نگاہ میں کسی شی کو شریک نہیں کرے گاحتیٰ کہ نعمات ِ بہشتی بھی شریک نہ ہو ں حتیٰ کہ لوح و قلم ، عرش و کرسی بھی اس دیدار میں شریک نہ ہوں پس ما سواء اللہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے تمام پر قدم رکھتے ہوئے بارگاہ حق میں ہو گا تو اب صبر مطلق پر فائز ہو گا جس سے پہلے عبد مطلق بن چکا ہے جب حق کے علاوہ ہر شی پر صبر ہو گا تو ہر شی حقیر ہو جائے گی تو اب ہر شی اس عبد کی بارگاہ میں ذلیل ہو جائے گا تو زیارت جامعہ میں سلام کریں گے (و ذلّ کُل شَی لکم) ہر شی تمھارے لیے ذلیل ہے۔ دنیا ذلیل ہے عقبی ذلیل ہے ملک و فرشتہ ذلیل ہے ، لوح و قلم ، عرش و کرسی ذلیل ہوں گے تو یہ امامت کا آغاز اور شروع ہو گا اور جو ( صَبَر نَفسہ فی جنب اللہِ ) جو جنب اللہ میں اپنے آپ کو صبر دے گا تو یہ بارگاہ حق میں ذلیل ہو گا تو ہر شی اسکے سامنے ذلیل ہو جائے گی تو اللہ کی طرف سے ہر شی کا امام قرار دے دیا جائے گا کہ اسے مطلق امام کہا جاتا ہے ۔
خاتم الائمہ علیہ السلالم
اگرچہ کہ بحث امامت عامہ میں ہے لیکن مجبور ہوں یہاں امامت خاصہ امام خاتم الائمہ × کے بارے میں اشارہ کروں کہ اُس کا صبر سب سے عظیم ہے۔ شیخنا الاستاد مدظلہ العالیٰ کے بقول! جو مصائب حضرت خاتم الائمہ تحمل فرما رہے ہیں اصلاکو ئی بشر اسکا تصور نہیں کر سکتا۔ فرماتے ہیں ان مصائب کے علاوہ کربلا ہے جسکا درد ،اب بھی تازہ ہے اگر کوئی خاص ر یاضت انجام دے تو حجاب زمانی ہٹ سکتے ہیں اور زمان کے پردے چاک کرکے کر بلا مشاہدہ کر سکتا ہے لیکن ایک مقام نہیں دیکھا جا سکتا اور وہ زین سے زمین پر آنا ۔ زمین پر آنے سے لیکر شہادت کے وقت تک یہ تین گھنٹے ہیں جو نہیں دیکھے جا سکتے اسی وقت حضرت خاتم النبین آ ئے اور سینہ مبارک سے خون لے گئے جسے اللہ کے عرش کے ایک ستون پر رکھا جو قیامت تک لرزتا رہے گا اب میرے مولا حضرت خاتم االائمہ کا صبر دیکھیں کہ انہیں تین گھنٹوں کو صبح اور شام دیکھتے ہیں اور حضرت جہاں پربھی ہوں تو سر کے اوپر مولا حسین× کا خون آ لو د کُرتا ہوتا ہے چونکہ وہ صاحب الزمان ہے تو زمانہ اسکے لیے حجاب نہیں بنتا تو وہ کربلا ، بقیع ، نجف وسامرا سب اسکے سامنے مجسم ہیں ،لذا صبح و شام خون گریہ فرماتے ہیں ۔
زیارت ناحیہ کا جملہ
مولا حسین میں آپ ہر صبح شام روتا ہوں ، پانی کے بدلے خون روتا ہوں یہ مولا کی زندگی ہے ۔اے میرے پروردگار،کب تک میرے مولا اس صبر پر رہیں؟ حضرت کے ظہور میں تعجیل فرما تواس صبر ِ مطلق سے امام مطلق بنتے ہیں کہ سب جسکے ظہور کے منتظر ہیں ۔{اللھم عجل لو لیک الفرج وا لعا فیۃ وا لنصر وا جعلنا من انصارہ و المستشہدین بین یدیہ} عبد مطلق اور صبر مطلق پر جب فائز ہو ئے تو علم مطلق ،قدرت مطلقہ اور ارادۃ مطلقہ بن جائے گا ۔
یھدون با مرنا
اللہ کی آیات پر یقین صبر کا سبب ہے اور یہ صبر اللہ کے امر کے ساتھ خلق کی ہدایت کرنے کا سبب ہے تو اب ملاحظہ کریں ہدایت کیا ہے ؟ اور امر کیا ہے ؟
ہدایت
لغت میں را ہنمائی کرنے کا معنیٰ میں ہے اب سوال ہو گا کہ کد ھر راہنمائی کرنا؟ جواب یہ ہے کہ شی کو اسکے ہدف کی طرف راہنمائی کرنا ہے ۔
وضاحت
ہر شی ایک ہدف اور مقصد رکھتی ہے ہر فعل اور حرکت کا ایک ہدف اور غایت ہے کوئی حرکت بلا ہدف نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ وہ غایت اور ہدف عظیم ہو یا نہ، عقلائی ہو یا نہ، کوئی کسی نکتہ کو ہدف قرار دینے میں درست عمل کر رہا ہویا نہ؟ اب اس ہدف اور غایت تک پہنچنے کے لیے اسے راہنمائی کی ضرورت ہے اس ہدف کی طرف راہنمائی، ہدایت ہے یہ راہنمائی کرنے والا ہادی ہے جسکی ہدایت کی جارہی ہے وہ مھتدی یا مھدی ہے جسکی طرف ہدایت کی جار ہی ہے وہ غایت اور ہدف ہے ، یہاں تک ایک و سیلہ ہو گا جسکے ذریعہ سے ہادی ہدایت کرے گا اور وہ مھدی ہدایت پائے گا ۔
سوال: یہ ہادی ہدایت کرتا ہے تو کیا کرتا ہے ؟
جواب:یہ ہادی اس شخص مھتدی کے لیے کچھ کام انجام دیتا ہے مثلا مقصد تک پہنچنے کی کیفیت بیان کرنا جیسے آپ کسی کو مسجد کا پتا بتائیں کہ وہ کہاں پر ہے آپ کس راستہ اور گلی سے جائیں؟ درمیان میں کیا ہو گا تفصیل اور اختصار سے بیان کریں تو آپ اس شخص کی ہدایت کر رہے ہیں ۔ مقصد تک پہنچنے کا فقط راستہ د کھانا بھی ہدایت ہے یا آپ کا ہاتھ پکڑیں اور مسجد پر لا کے دروازے پر چھوڑ آئیں تو یہ بھی ہدایت ہے ، تو یہاں چند نتیجے نکلتے ہیں۔
۱۔ ہدایت فعل کی صفت ہے اور فعل سے معنیٰ ہدایت لیا جائے گا ، پتہ بتانا ، راستہ دکھانا ، ساتھ چلنا ، یہ افعال کا انجام دینا ہے جنہیں ایک ہادی ، مھتدی کے لیے انجام دے رہا ہے ، لذا اگر اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسم ہادی کو معنیٰ کرنا ہے تو اسے خلق و رزق کی طرح مقام فعل سے لیا جائے گا صفاتِ فعل میں سے ہے نہ صفات ذات میں سے ہے۔
۲۔ یہ ہدایت کامل ہو گی یا ناقص ، کم اور زیادہ ہو گی مثلا فقط ایڈریس بتانا یا اس سے آگے راستہ د کھانا ، یا راستہ کی تفصیل دینا تو پس یہ ہدایت کہیں زیادہ ہے کہیں تھوڑی کہیں یہ ہدایت اجمالی اور کہیں تفصیلی۔
مھم ترین نکتہ یہاں پر یہ ہے کہ بنیادی طورپر یہاں دو قسم کی ہدایت ہے ۔
۱۔ غایت اور ہدف تک پہنچنے کا راستہ دکھانا مھتدی خود آگے چلے ہادی ساتھ نہیں ہے اسے کہتے ہیں ہدایت(ارائۃ الطریق) ہدف تک پہنچےو کا راستہ دکھانا ۔
۲۔ ہدف اور غایت تک پہنچانا نہ فقط دکھانا اور پتابتانا، بلکہ ہاتھ پکڑ کر پہنچانا اس کے لیے ہدایت (ایصال الی المطلوب ) یہ ہدایت کی بنیادی اور پہلی تقسیم ہے جو تھوڑی تو جہ سے معلوم ہو جاتی ہے ۔
دو قسموں میں فرق
ان دو قسموں کے آ ثار اور فوائد میں فرق ہے ، مقصد کا راستہ د کھانے والی ہدایت میں خطا ممکن ہے ہدا یت حاصل کر نے والا مھتدی خطا کر سکتا ہے راستہ بھول کر بھٹک سکتا ہے لیکن دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ہدف تک پہنچانے والی ہدایت میں خطا ممکن ہی نہیں ہے مھتدی یقینا ہدف تک پہنچ جائے گا اور ہدایت یا فتہ ہو جائے گا بھٹکنے کا چانس نہیں ہے ۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ ہادی کی صفت کے لحاظ سے ہے کہ دوسری قسم میں ہادی خود اس ہدف تک پہنچا ہوا ہو ۔ ورنہ ہاتھ پکڑ کر نہیں پہنچا سکتا ہے لیکن پہلی قسم میں خود ہادی کا پہنچا ہواہو نا ضروری نہیں بلکہ فقط پتہ اور علم ہو تو کافی ہے اس پر غور کریں گے تو کوئی سوال ابھرے تو جواب مل جائے گامعلوم ہوا کہ سب ہادی بھی ایک جیسے نہیں ہیں تو حتماً سب مھتدی بھی ایک جیسے نہیں ہیں جیسا ہادی ہو گا ویسی ہدایت نصیب ہو گی ۔خداوند متعال نے فرمایا (و لکل قوم ھاد) ہر قوم کے لیے ہم نے ہادی قرار دیا ہے ۔ اب جسے اللہ نے ہادی بنایا ہے جو اس سے ہدایت لے گا وہ ہدایت صحیح ہو گی اور اس میں خطا نہیں ہو گی لیکن جس نے اللہ کے ہادی سے ہدایت نہ لی یقینا گمراہ ہو جائے گا جو ہادی جہاں سے آیا ہے اسی مقام کی طرف ہدایت کرے گا جو اعلیٰ مقام سے آیا ہے اسکی ہدایت بھی ادھر ہو گی او جو کسی ادنیٰ مقام سے آیا ہے اس کی ہدایت کرنے کی حد بھی وہیں تک ہو گی لذا ہادی بنانے میں پوری احتیاط کرنی چاہیے۔
دوسری تقسیم
ہدایت ایک اور تقسیم میں دو قسموں کی طرف منقسم ہو تی ہے ۔
۱۔ ہدایت تشریعی، ۲۔ ہدایت تکوینی
جہان واقع میں دو نظام ہیں ، نظام تکوین اور نظام تشریع ، دونوں نظام اللہ تبارک و تعا لیٰ نے بنا ئے ہیں اور خود چلا رہا ہے ، تما م جہانوں کو پیدا کیا پھر ایک خاص نظام کے تحت چلا رہا ہے جس سے یہ جہاں باقی ہے ؛ لذا فرمایا (قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى ) فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہا تمھارا رب کون ہے ؟ تو حضرت موسی ٰ نے فرمایا ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شی کو خلقت عطا فرمائی اسے پیدا کیا پھر خود اسکی ہدایت فرمائی ہے یہ ہدایت قطعا تکوینی ہے تو یہ کوئی مولیٰ کا امر و نہی نہیں ہے بلکہ ہر شی کی خلقت کے بعد اسکی استعداد اور صلاحیت کے مطابق اسے اس کے ہدف اور مقصد کی طرف لے جانا ہے ہر شی کا ہدف وہی اسکے وجود کی غایت ہے جدھر وہ منتھی ہو کر پہنچے گا ، نطفہ کی مثال لے لیں جو گزر چکی ہے گندم کا دانہ، اسی طرح اور موجودات ۔
اس جہان میں ہر شی کے اول وجود سے لیکر اسکے آخری مرحلہ تک سب مرحلے نظام تکوینی کے مطابق طے ہوں گے ہادی تکوینی ہدایت کر رہا ہے اور مھتدی تکوینی ہدایت حاصل کر رہا ہے آپ اور ہم اب جس مقام اور مرحلہ میں ہیں ہدایت تکوینی سے پہنچے ہیں۔ تین کلو کے پیدا ہو کر اب ستر کلو ہیں !تو یہ سب ہدایت تکوینی کا نتیجہ ہے ۔
اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہدایت تکوینی فرمانا یہ ہے کہ ہر شی کو خلق فرمایا اور اس میں بعد والے مراحل طے کرنے کی صلاحیت رکھ دی اسکے وسائل عطا فرما دیے جو اس نظام تکوینی میں اللہ کے بنائے ہوئے تکوینی نظام کے مطابق ہدایت ہوتا رہے گا۔
ثم ھدیٰ : پھر اس نے ہر شی کی جسے اس نے پیدا فرمایا ہے ہدایت فرمائی ہے یہ جملہ ہماری ر اہنمائی کر رہا ہے کہ اس جہان میں ہدایت تدریجی ہو گی جو آہستہ آہستہ ایک زمانے میں انجام پائے گی جسطرح ہم کائنات میں مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ہر ایک شی کی تکوینی ہدایت کا قانون ایک دوسرے سے جدا ہے ، جمادات کیسے ؟ نباتات کیسے ؟ حیوانات کیسے؟ انسان کا اپنا قانون ہے،پھر ہر ایک کی مختلف انواع کے لیے جدا قانون ہے کونسا پتھر مثلا کیسے مراحل طے کرتا ہے ،صدف اور موتی کو دیکھ لیں، اسکی ذات میں اسکی ہدایت کے لیے خدا وند متعال نے ایک تکوینی قانون رکھا ہے ۔ دریا سمندر کی تہہ میں کئی ٹن پانی کے نیچے ایک ہلکے وزن کے ساتھ ایک صدف پڑا ہے بہار کا موسم آیا تو اس نے اپنے آپ کو تہہ سمندر سے پا نی کی سطح پر لانا شروع کیا ادھر بارانِ نیساں رحمت بن کر بر سنا شروع ہوئی تو اس صدف نے اپنا ظرف کھولا اور اپنی ظرفیت کے مطابق اس رحمت سے فیض یاب ہوا آب نیساں کے اس قطرہ کو لیا پھر اپنا منہ بند کیا کہ نہ ہوا کا ذرہ اس میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہوا کا ذرہ اس سے خارج ہو سکتا ہے اور پھر سمند ر کی تہہ میں چلا گیا تو کچھ دنوں کے بعد وہ پانی کا قطرہ موتی بنتا ہے تو پھر صدف اپنا منہ کھو لتا ہے جس طرح پستہ اپنا منہ کھو لتا ہے تو غواص جا کر موتی لے آتے ہیں ۔
اب غور کریں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی کیسے ہدایت فرما رہا ہے ؟ تہہ سمندر میں پیدا کیا پھر اسے کس نے بتا یا کہ بہار کا موسم آ گیا ہے؟ پانی کے اندر بہار کی خبر دینے والا کون ہے ؟ پھر اس کو کس نے بتایا کہ بارانِ نیساں بر س رہی ہے تو اوپر سطح سمندر پر آجانا؟ پھر اسے اتنی طاقت کس نے دی کہ اتنے وزن سے نکل کر اوپر آئے؟ پھر قطرہ لیکر بند ہو جائے اور اسے سنھبال کر اپنے پا س رکھے رحم مادر کی طرح اسکی پرورش کر کے مو تی بنا کر انسان کو ہدیہ کرے؟
یہ سب جہاں اس قادر مطلق کی قدرت اور حکمت عظیم کا شا ہکار ہے وہاں پرہمیں اللہ کی ہدایت تکوینی کی طرف ہدایت فرما رہا ہے اسی طرح نباتات میں کجھور کے درخت نر ومادہ آ پس میں کیسے لقاح اور جفتی کرتے ہیں ؟ اس طرح حیوانات میں اور انسان میں جس شی میں غور کریں ہدایت تکوینی اللہ کی قدرت کاملہ کو بیان کر رہی ہے ۔ یہ سب کچھ اللہ کے نظام تکوین میں ہو رہا ہے ، تو اس نظام میں یہ سب کچھ ہدایت تکوینی ہے ۔
۲۔ نظام تشریع : یہ نظام ذی شعور اور صاحب اختیار مخلوق کے لیے چلایا کہ انسان عاقل اپنے اختیار سے بعض افعال انجام دے اور بعض کو انجام نہ دے کچھ انجام دے کر اور کچھ ترک کر کے مجھ تک پہنچے اور میرا قرب حاصل کرے ۔
اس کےلیے پہلے انسان کو عقل اور اختیار عطافرمایا پھر افعال انجام دینے کی طاقت ، قدرت عطا کرنے کے ساتھ اسکے وسائل اور اسباب بھی عطا فرمائے پھر حق و باطل ، خیر و شر کی تمیز عطا فرمائی اور اس جہان دنیا میں بھیج دیا ۔ لیکن انسان کو عقل تو دیا لیکن اسکی شکو فائی اور نشوونما کی ضرورت تھی ، انسان میں موجود صلاحیتوں کو اجا گر کرنا تھا ، اس کے لیے انبیاء مر سلین بھیجے پھر ایک قانون آسمانی کتابوں کی شکل میں نازل فرمایا ۔ جو عین فطرت کے مطابق ہے تورات ، زبور ، انجیل ، بالآخر قرآن ، تو پھر یہ قانون تنہا نہیں تھا بلکہ اسکے بیان کرنے والے تر جمان ساتھ بھیجے جو اصول اور عقائد کی طرف ہدایت کرتے ہیں ۔ اخلاق کو بیان کرتے ہیں جسطرح احکام فقہی کو بھی تبینن فرماتے ہیں تو یہ امر و نھی یہ واجب اور حرام یہ طاہر و نجس ، یہ جائز اور ناجا ئزسب نظام تشریع کے قوا نین ہیں ۔ اس نظام میں ، آسمانی کتابوں ، انبیاء و مرسلین ، اور علماء ربانی کے ذریعہ ہماری ہدایت تشریعی فرما رہاہے ۔
دوقسموں میں فرق
ان دو قسم میں فرق یہ ہے کہ ہدایت تکوینی سے شی یقینا ًہدایت یافتہ ہو جائے گی اور کوئی روکنے والا نہیں ہے لیکن ہدایت تشریعی میں چونکہ انسان کے اختیار پر رکھ دیا گیا ہے(إِنَّا هَدَيْناهُ السَّبيلَ إِمَّا شاكِراً وَ إِمَّا كَفُوراً )ہم نے راہ کی طرف ہدایت کر دی ہے اب یا اختیار سے شاکر بنے گا یا اختیار سے” کافر “اس کی مرضی ہماری ہدایت کو قبول کرے یا نہ ، اگر انسان نے اپنے اختیار سے بد طینت ہونے کی وجہ سے ہدایت قبول نہ کی تو نتیجہ جہنم ہے اگر قبول کر لیا تو جنت ہے تو اب عقاب اور جزا و سزابھی نظام تشریعی اور ہدایت تشریعی میں معنی پیدا کرئے گا نظام تکوین میں ایسا نہیں ہے تیسرا فرق یہ ہے کہ ہد ایت تشریعی فقط دنیا میں ہے آخرت میں نہیں ہے چونکہ وہاں تکلیف نہیں، دنیا دار تکلیف ہے اور آخرت دار جزا ہے لیکن ہدایت تکوینی دونوں جہانوں میں ہے ۔
تیسری تقسیم
ہدایت کی ایک اور تقسیم یہ ہے کہ ہدایت یا عام ہے یا خاص ہے ۔
1۔ہدایت عام: وہ ہدایت جو کسی ایک نوع یا فرد کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام مخلوق کے لیے ہے ۔
۲۔ ہدایت خاص : وہ ہدایت جو کسی ایک نوع یا فرد کے ساتھ مختص ہے مثلا انسان کی ہدایت فلاں شخص مومن کی ہدایت اسی طرح فلان خاص امر میں ہدایت علم میں قدرت میں ، مال و دنیا میں یا ثواب آخرت میں ہدایت ۔
ہدایت تکوینی عام ہے اگر چہ کہ ہدایت کی کیفیت خاص ہو گی اسی طرح ہدایت تشریعی بھی عام ہے سب کے لیے انبیاء بھیجے گئے کتاب نازل کی گئی ۔ اگرچہ انسانِ مختار کے ساتھ مختص ہے ایمان کی طرف ہدایت خاص ہدایت ہے مراتب ایمان کی ہدایت اسی طرح خاص ہے ۔ اب جب ہدایت کامعنیٰ اور اقسام روشن ہو گئیں تو دیکھیں جسے اللہ امام بنا رہا ہے وہ کس شی کے ساتھ ہدایت انجام دیتا ہے؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہر نبی اور رسول خدا کی طرف سے لوگوں کے لیے ہادی ہے اب امام بھی ہادی ہے تو اس میں کو ئی خصوصیت ہے ؟ جب کسی کو نبوت و رسالت کے بعد امامت عطا کی جا رہی ہے تو وہ کونسا بڑا کام انجام دیتا ہے جو نبی و رسول انجام نہیں دیتے ؟
فرمایا: ارائۃ الطریق والی ہدایت جسے انبیاء اور مرسلین انجام دیتے تھے جسطرح ذات واجب نے ارشاد فرمایا ہے۔(وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ )ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسکی قوم کی زبان میں تاکہ ان کے لیے بیان کرے ، تو یہ لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے ۔مومن آل فرعون نےکہا: يَا قَوْمِ اتَّبِعُونِ أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ ، اے قوم! تم میری اتباع کرو میں ترقی کے راستہ کی تمھیں ہدایت کرتاہوں ۔
بالاخر علماء کے بارے میں فرمایا:فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ،تم میں سے ایک گروہ کوچ کرے اور دین کی بصیرت پیدا کرنے کے بعد واپس لوگوں کو انذار کرے تا کہ لوگ خدا کی نافرمانی سے ڈر جائیں تو یہ سب ہدایت کرنا ہے لیکن ارائۃ الطریق ہے انبیاء علماء یہی ہدایت کرتے ہیں تو اب امام بالاتر ہدایت فرمائے( ایصال الی المطلوب) والی ہدایت ہو گی اور وہ بھی تنہا ہدایت تشریعی نہیں بلکہ ہدایت تکوینی بھی انجام دیتے ہیں ۔ خلاصہ اللہ کے اسم مبارک ہادی کے مظہر تام و کامل بن کر ہدایت فرماتے ہیں ۔جو شی نظام تکوین میں جس مرحلہ پر پہنچتی ہے اور جس مرحلہ سے گزرتی ہے اللہ کے بنائے ہوئے امام کی ہدایت ہے ۔ اللہ اپنی ہدایت کو اپنے خلیفہ امام کے ذریعہ سے عالمین میں انجام دے رہا ہے ۔ تو وہ(قالَ رَبُّنَا الَّذي أَعْطى‏ كُلَّ شَيْ‏ءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى‏ ) اللہ تبارک و تعالیٰ ہر شی کو خلقت عطا فرمانے کے بعد جو اسکی ہدایت فرما رہا ہے اسکا وسیلہ امام ہے جس سے اللہ ہدایت فرما رہا ہے اب اگر اللہ تعالیٰ نے امام کو ہادی بنایا ہے تو خود نعوذ باللہ معطل نہیں ہوا بلکہ یہ ہدایت واقعااورحقیقتا اللہ انجام دے رہا ہے اپنے نظام میں وسیلہ امام کو قرار دیا ہے تو امام مظہر اسم ہادی ہے مبداء ہدایت خود ذات واجب تبارک و تعالیٰ ہے اب اللہ تبارک و تعالیٰ پوری مخلوق کا ہادی ہے تو امام خدا کی طرف سے پوری مخلوق کی ہدایت فرما رہا ہے لذا ہر گیاہی کہ از زمین روید ۔ وحدہ لا شریک لہ گوید جو کو نپل نکلتی ہے تو لا الہ الا اللہ کہتی آتی ہے چونکہ اسکی ہدایت امام سے ہو رہی ہے تو محمد رسول اللہ اور علی ولی اللہ کہ رہی ہے ۔
امر اللہ
اللہ کا امر کیا ہے ؟ اسے بھی اللہ کے کلام سے پہچانیں، اللہ تبارک و تعالیٰ نے انپے امر کی یوں تعریف فرمائی ہے (إِنَّما أَمْرُهُ إِذا أَرادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ )سوائے اسکے نہیں کہ تحقیق اللہ کا امر یہ ہے کہ جب وہ شی کے وجود کا ارداہ فرماتا ہے تو اس کے لیے کن فرماتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے ۔یہ کن کیا ہے ؟ فقط لفظ قول مراد نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جو عالم طبعیت سے ماوراء ہے لذا آیت کے ذیل میں فرمایا (فَسُبْحانَ الَّذي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ )قدوس اورپاک ہے وہ ذات جسکی قدرت میں ہر شی کا ملکوت ہے ۔ ہر شی کا ملکوت غیر مادی و غیر طبیعی ہے تو یہ ید قدرت وہی کن ہے جس” كُنْ ” میں ہر شی کاملکوت ہے کہ وہاں سے ” فَيَكُونُ “ہو کر محقق ہوتا ہے جو ہر قید زمانی اور مکانی سے پاک ہے اوراس میں تغیر و تبدیل نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ وہاں سے نشأت لیتے ہیں۔
آیت دیگر میں اللہ تعالیٰ تبارک اللہ کے امر کو زمان سے ماوراء ہونا بیان فرما رہاہے(وَمَا أَمْرُنَا إِلا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ )ہمارا امر نہیں مگر ایک پلک جھپکنے کے ،اس تمثیل میں غور کیاجائے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک معقول کو محسوس سے تمثیل دیا اور محسوس ایسا جو ہر ایک بشر میں موجود ہے ،ا ور وہ درک کر سکتا ہے دوسرا یہ کہ انسان میں سر یعترین عمل جسے احساس کیا جاسکتا ہے وہ پلک کا جھپکنا ہے گویا کہ جس میں وقت کی تعیین مشکل ہے ، وقت سے پہلے پلک جھپک جاتی ہے اسی طرح اللہ کا امر واقع ہو جا تا ہے تو یہ معقول کو محسوس سے مثال دینا ہے ورنہ امر اللہ کا واقع ہونا کسی وقت ٹائم میں نہیں آتا اور لفظ سریع اور سریعتر نہیں بولا جا سکتا۔ وہ وقت اور زمان سے اوپر ہے ۔ جس طرح آصف بن برخیا حضرت سیلمان نبی کے وصی نے کہا (قالَ الَّذي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتابِ أَنَا آتيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُك) پلک جھپکنے سے بھی پہلے اللہ کے امر سے تخت بلقیس لے آؤں گا بس یہ تمثیل اس لیے ہے کہ امر اللہ مؤثر ہونے میں تھوڑے سے وقت گزرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ تمثیل کنائی ہے اللہ کا امر، اللہ کا ایجاد کرنا اور شی کے وجود کا ارداہ کرنا ہے بس یہ کن وہی اللہ کا ایجاد کرنا، شی کے وجود کا ارداہ کرنا ہے تو یہ حرکت زمان ومکان کا محتاج نہیں خود زمان و مکان اور حرکت بھی ایک شی ہے جو اللہ کے امر سے موجود ہوتیں ہیں ، امر اللہ کہ” کُن” ہے تو یہ”کُن” کہ ایجاد اللہ ہے ایک حقیقت ماؤرأ از مادہ او ر طبیعت ہے جس سے مادہ اور طبعیت بھی موجود ہوتے ہیں ۔
تو یہاں پر علامہ طباطبائی کے بیان بدیع کے مطابق آیت کو بیان کرتے ہیں ۔ جس کا نچوڑ یہ ہے کہ” کُن” کلمہ ایجاد ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کسی شی کے ایجاد کرنے میں اپنی ذات کے علاوہ کسی سبب کا محتاج نہیں ہے ۔ذات واجب شی کی ایجاد میں تنہا کافی ہے کسی سبب مددگار کی احتیاج نہیں ہے اور مانع کو بر طرف کر نے کی ضرورت نہیں ہے ۔ فرماتے ہیں: اس حقیقت کن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز میں تعبیر فرمایا ہے:(إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ )(بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ )تو قول کو امر پر حمل کرتے ہیں اور امر اللہ سے مراد اللہ کی نہی کے مقابلہ میں نہیں ہے بلکہ امر اللہ سے مراد شأن اللہ ہے جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی شی کے ایجاد کا ارداہ فرماتا ہے تو اللہ کی شان کیا ہے؟ جب شی اللہ کی طرف سے موجود ہو نا چاہتی ہے اورمورد ارادہ خدا واقع ہوتی ہے تو اللہ کا امر یعنی اللہ کی شان کیا ہے ؟ فرمایا 🙁 فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ) اللہ کی شان یہ ہے کہ اس شی کو کہتا ہے ہو جا ، دقت کریں آیا کوئی شی سامنے مخاطب ہے جسے خطاب کیاجاتا ہے ؟ معلوم ہے کہ ایسا نہیں کیونکہ وہ شی ابھی موجود ہونا چاہتی ہے لذا خدا کے مقابل میں اور سامنے کوئی شی بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ اسی طرح کوئی لفظ بھی نہیں کیونکہ اگر لفظ ہو تو وہ ایک شی ہے جسکے ایجاد کے لیے ایک اور لفظ کی ضرورت ہے جو اس لفظ کو ایجاد کرے تو یہ اس طرح تسلسل واقع ہو گا جو محال ہے جب نہ سامنے شی مخاطب ہے نہ لفظ ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے افاضہ کرنے اور ایجاد کرنے کی شان بیان کرنا ہے وہ امرہے اور وہی ، کوئی اور شی وہاں نہیں ، بلکہ مورد ارادہ شی بغیر سر پیچی اور مہلت کے موجود ہو جاتی ہے اللہ اور وہ موجود ہونے والی شی ہے اور بس۔
کوئی تیسری شی وہاں پر نہیں ہے وہاں پر زائدبر ذات نہیں ہے ۔ تو یہ” کُن “شی کو علم سے عین میں لے آتا ہے حقیقت علمیہ کو حقیقت خارجیہ بنا دیتا ہے ۔ تو پس یہ امر اللہ ارادہ تکوینی کے ساتھ کن وجودی ہے جس پر شی کا وجود متفرع ہے یہ کن لفظ نہیں بلکہ ایک شان الھی ہے جو ہر زمان و مکان سے اوپر ہے بلکہ زمان و مکان بھی ایک شی ہیں جو اس شان سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ حقیقت ملکوتی ہے ملکی نہیں ہے اس” کُن” شان ملکوتی سے شی بغیر مہلت کے موجود ہو جاتی ہے اگر اسے چھ دن یا نو ماہ لگتے ہیں تو ہ اس شی کی ذات کا اقتضا ہے ورنہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے کوئی مانع نہیں شی کی طبعیت اور ذات یہ ہے کہ چھ دن یا نو ماہ میں مثلا پیدا ہو۔دوسرے لفظوں میں خطاب” کُن” مخاطب آفرین ہے ۔ یہ امر تشریعی نہیں جسے اللہ تبارک نے یوں بیان فرمایا (إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسانِ ) تحقیق اللہ عدل و احسان کا امر کرتا ہے یہ تشریعی ہے ۔
توضیح مطلب
کلمہ” کُن “خطاب ہے ، خطاب کی حقیقت یہ ہے کہ حضور اور توجہ کے ساتھ کلام کرنا تو ہر خطاب، ایک مخاطِب جو حضوراور توجہ کے ساتھ کلام کرنے والا ہے دوسرا مخاطَب جسے حاضر کر کے اس سے کلام کیاجائے تیسرا وہ کلام جسے تکلم کیا جاتا ہے ۔پس خطاب میں مخاطب کا موجود ہونا ضروری ہے اور معدوم کو خطاب نہیں کیا جا سکتا، البتہ مخاطب کادنیوی اور جسمانی وجود کے ساتھ موجود ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ جس وجود میں موجود ہو ، اسکا وجود ضروری ہے ۔
لذا ممکن ہے مخاطب جسمانی وجود کے ساتھ موجود ہو، جیسے اس دنیا میں سب ایک دوسرے کے حضور میں ایک دسرے کو خطاب کرتے ہیں ممکن ہے روحانی وجود کےساتھ موجود ہے جیسے ملائکہ اورتمام روحانی اور ملکوتی موجودات ، جیسے موجودِ علمی یعنی ایک حقیقت علمیہ اپنے علمی وجود کے ساتھ مو جود ہو اور مخاطب واقع ہو ۔
خطاب یا لفظی ہے یا غیر لفظی
مخاطِب جب خطاب کرتا ہے تو اسکا و سیلہ لفظ ہے جیسے روزمرہ کی زندگی میں رائج ہے اس کا اثر یہ ہے کہ آواز مخاطب کی سماعت سے ٹکرائی تو ذہن میں اسکا مفہوم آیا تو وہ صورت ِذھنی بن جاتی ہے ، یا وہ تصور ہے یا تصدیق ، پھر یا خبر ہے یا انشاء ، انشاء بھی یا امر ہے یا نہی یا کوئی اور قسم۔ یہاں پر مخاطَب ممکن ہے خبر کی تصدیق کرے ممکن ہے نہ کرئے، امر کو انجام دئے، یا نہ دئے،نہی سے رک جائے یا نہ رکے ،کھبی مخاطِب ، لفظ سے خطاب نہیں کرتا بلکہ ارادہ سے خطاب کرتا ہے ، تو اب مخاطب کی سماعت ِ ظاہری کی احتیاج نہیں بلکہ مخاطب کے وجود میں مراد واقع ہو جائے گی ، یہاں پر خطاب و مخاطب ایک حقیقت ہیں جسطرح ذہن میں ارادہ سے صورتیں واقع ہو جاتی ہیں اسی طرح ارادہ سے خطاب واقع ہو جائے گا اسے خطاب وجودی اور تکوینی کہتے ہیں اس خطاب سے شی موجود ہو جاتی ہے بالفاظ دیگر ، خطاب لفظی سے ذہن انسان میں مفہوم ایجاد ہوتاہے اور خطاب وجودی اور تکوینی سے خارج میں شی ایجاد ہو جاتی ہے ۔خطاب “کُن ” اسی قسم سے ہے اللہ کا ارادہ ایجاد اس کا خطاب ہے اور شی فیکون ہونا مخاطب کا خارج میں موجود ہونا ہے البتہ یہ مخاطب علم سے خارج میں محقق ہو گا اور یہ معنیٰ ہے کہ خطاب کن ، مخاطب آفرین ہے ۔
دلائل
اللہ تبارک و تعالیٰ کاخطاب کُن ، لفظی نہیں ، بلکہ وجودی ہے اور وہی اللہ کا ارادہ ایجاد ہے عقل اور نقل اس پر دلالت کرتی ہیں ، دلیل عقلی روشن ہے اس لیے فقط نور ِ روایات پر اکتفاء کرتے ہیں ۔۱۔ امیر المو منین علی × ارشاد فرماتے ہیں : يَقُولُ وَ لَا يَلْفِظُ وَ يَحْفَظُ وَ لَا يَتَحَفَّظُ وَ يُرِيدُ وَ لَا يُضْمِرُ يُحِبُّ وَ يَرْضَى مِنْ غَيْرِ رِقَّةٍ وَ يُبْغِضُ وَ يَغْضَبُ مِنْ غَيْرِ مَشَقَّةٍ يَقُولُ لِمَا أَرَادَ كَوْنَهُ كُنْ فَيَكُونُ لَا بِصَوْت ٍ يَقْرَعُ وَ لَا نِدَاءٍ يُسْمَعُ وَ إِنَّمَا كَلَامُهُ سُبْحَانَهُ فِعْلٌ مِنْهُ أَنْشَأَه‏ ، امیر کا کلام ، کلاموں کا امیر ہے، فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے تلفظ کے بغیر ہرشی کا حافظ ہے بغیر اسکے کہ کسی عضو سے حفاظت کرے ارادہ فرماتا ہے بغیر ضمیر و ذہن کے محبت کرتا ہے راضی ہوتا ہے بغیر احساسات جذبات اور انفعالات کے عداوت رکھتا ہے غضبناک ہوتا ہے بغیر مشقت کے ۔ جب کسی معنی کے وجود کا ارادہ کرتا ہے تو کن کہتا ہے فیکون ہو جا تا ہے لیکن یہ کن آواز کے ساتھ نہیں کہ سماعت سے ٹکڑا ئے نداء کے ساتھ نہیں کہ جسے سنا جائے سوا ئے اسکے نہیں کہ اسکاکلام اسکا فعل ہے جو اُسی سے ہے جسے وہ ایجاد فرماتا ہے ۔
آیا مولا علی × جیسے معصوم کے بغیر اتنا دقیق بیان ممکن ہے ؟ یہ سب قول ِ کلام ، حفاظت ، ارادہ محبت ، رضا ، ایجاد اگر کمال ہیں کہ حتما ہیں تو حضرت حق کے لیے ثابت ہیں لیکن ممکنات کی خصوصیات سے پاک اور منزہ ہے اگر ان حقائق کی نفی کریں تو معنیٰ یہ ہو گا کہ وہ ان کمالات کو فاقد ہے تو محتاج اور ممکن ہو جائے گا جبکہ وہ ہر کمال ہے اور کُلِّ کمال ہے محال ہے کہ کوئی کمال اس میں مفقود ہو ۔اگر یہ حقائق اس میں ویسے ہوں جیسے ممکنات میں ہیں تو یہ تشبیہ ہے اور باطل ہے کیونکہ وہ(لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ‏ءٌ ) ہے ، لذا مولا نے ان کمالات کے حقائق کو اثبات فرمایا، اور خصوصیات ِ ممکنات اور بشر کو نفی فرمایا یہ حقیقی تو حید ہے ۔ بالخصوص ، اللہ کے خطابِ کن کی تفسیر فرمائی کہ قول اور کلام ، کن کا خطاب ہے لیکن اسکا کلام لفظ نہیں ، بلکہ اسکا فعل ہے اور اسکا فعل یہی موجوداتِ خارجیہ ہیں اگر فعل اور وجود اشیاء کو اسکی طرف نسبت دیں تو ایجاد اللہ اور انشاء اللہ ہے ۔اگر اسے بغیر نسبت کے دیکھیں تو وجود ہے اور فعل ، لذا فیکون وہی شی کا وجود ہے فاء تفریعہ بیان کر رہی ہے کہ ادھر کن ِ وجودی آیا ارادہ ایجاد ہوا تو اُدھر وجود محقق ہو گیا پس روشن ہوا کہ خطاب ِ وجودی اور تکوینی ، خارج میں وجود ،ایجاد کرتا ہے ۔
۲۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى قَالَ قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ ع أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِرَادَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ مِنَ الْخَلْقِ فَقَالَ الْإِرَادَةُ مِنَ الْمَخْلُوقِ الضَّمِيرُ وَ مَا يَبْدُو لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفِعْلِ وَ أَمَّا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَإِرَادَتُهُ إِحْدَاثُهُ لَا غَيْرُ ذَلِكَ لِأَنَّهُ لَا يُرَوِّي وَ لَا يَهُمُّ وَ لَا يَتَفَكَّرُ وَ هَذِهِ الصِّفَاتُ مَنْفِيَّةٌ عَنْهُ وَ هِيَ مِنْ صِفَاتِ الْخَلْقِ فَإِرَادَةُ اللَّهِ هِيَ الْفِعْلُ لَا غَيْرُ ذَلِكَ يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ بِلَا لَفْظٍ وَ لَا نُطْقٍ بِلِسَانٍ وَ لَا هِمَّةٍ وَ لَا تَفَكُّرٍ وَ لَا كَيْفَ لِذَلِكَ كَمَا أَنَّهُ بِلَا كَيْفٍ ۔
صفوان بن یحیٰ نے حضرت ابو الحسن علی ابن موسی رضا × سے پو چھا کہ اللہ کا ارادہ کیا ہے اور مخلوق کا ارداہ کیا ہے ؟ تو حضرت نے ارشاد فرمایا : مخلوق کا ارادہ اسکا ضمیر ہے جسکے بعد اس سے فعل صادر ہوتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ اسکا ایجاد کرنا ہے اور اسکے علاوہ نہیں ہے کیونکہ یہ مخلوق کی صفات ہیں پس اللہ کا ارداہ اسکا فعل ہے اور اسکے علاوہ کچھ نہیں وہ کہتا ہے شی موجود ہو جاتی ہے بغیر لفظ کے بغیر زبان کے بولنے کے بغیر فکر و ذکر کے بغیر کیفیت کے کیونکہ وہ حقیقت اور وجود ہے بغیر کیفیت کے موجود ہے ۔
پس اللہ کا ارداہ اسکا ایجاد کرنا ہے اور اسکا فعل ہے اور خطاب کن بھی ارادہ ایجاد ہے تو پس کن ایجاد کرنا ہے اور فیکون ، موجود ہو جانا ہے لفظ و غیرہ نہیں اسی طرح اللہ کا قول کلام ، فعل ، خطاب وجودی ، ارادہ فعلی ایک حقیقت ہے جس سے یہ مفہوم اخذ کیے جاتے ہیں ۔
۳۔ امام موسی ٰ کاظم × نےارشاد فرمایا: وَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ سِوَاهُ مَخْلُوقٌ إِنَّمَا تُكَوَّنُ الْأَشْيَاءُ بِإِرَادَتِهِ وَ مَشِيئَتِهِ مِنْ غَيْرِ كَلَامٍ وَ لَا تَرَدُّدٍ فِي نَفَسٍ وَ لَا نُطْقٍ بِلِسَانٍ ،جہان واقع میں ،ہر شی اللہ کے علاوہ مخلوق ہے اور سواے اسکے نہیں کہ چیزوں کا موجود اور محقق ہونا اسکے ارادہ اور مشیت سے ہے بغیر کلام لفظی کے بغیر فکر اور زبانی بول کے ۔
۴۔ امام صادق × ارشاد فر ماتے ہیں :حضرت موسی ×نے کوہ طور پر ایک دن مناجات میں عرض کیا : عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ لَمَّا صَعِدَ مُوسَى عَلَى نَبِيِّنَا وَ آلِهِ وَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الطُّورِ فَنَاجَى رَبَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ يَا رَبِّ أَرِنِي خَزَائِنَكَ ، پروردگار مجھے اپنے خزائن دکھا؟ قَالَ يَا مُوسَى إِنَّمَا خَزَائِنِي إِذَا أَرَدْتُ شَيْئاً أَنْ أَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ، اللہ تبارک نے ارشاد فرمایا : سوائے اسکے نہیں کہ میرے خزائن جب کسی شی کا ارادہ کرتا ہوں تو اسے کن کہتا ہو ں پس وہ شی ہو جاتی ہے ۔اللہ کے خزائن ارادہ ایجاد ہے خطاب کن وجودی ہے اور ہر شی خزائن سے نازل ہو رہی ہے ۔ وَ إِنْ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلاَّ عِنْدَنا خَزائِنُهُ وَ ما نُنَزِّلُهُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ ، ہر شی خزائن سے مقدار معین کے ساتھ نازل ہوتی ہے ۔کُن خزائن ہیں خزائن حقائق الھیہ ہیں ، پس روشن ہوا کہ کُن لفظ نہیں بلکہ حقیقت وجودی ہے خطاب وجودی ہے اور وہ ایجاد کا ارادہ ہے جو اللہ کے خزائن ہیں ۔
اللہ کے خطاب” کُن” میں مخاطب اور خطاب ایک حقیقت ہیں
جس طرح ایجاد اور وجود ایک حقیقت ہے کیونکہ کان ، تامہ ہے امرتکوینی اور مامور ایک واقعیت ہوں گے اگرچہ کہ تحلیل ذہنی میں دو ہیں اور ایک دوسرے پر مترتب ہیں ، اسی کان تامہ کی بنیاد پر فرمایا:وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالأرْضُ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِنَ الأرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ ،خداواند متعال کی آیات میں سے ہے کہ زمین و آسمان اسی کے امر سے قائم ہیں پھر جب تمہیں زمین سے نکلنے کی دعوت دے گا پس تم نکلے آؤ گے ۔ امر تکوینی سے زمین و آسمان کا قیام ہے کہ کان تامہ کا نتیجہ ہے اور اسکی دعوت تکوینی بھی وہی تمہارا زمین سے نکلنا ہے یہ بھی کان تامہ کا نتیجہ کہ دعوت تکوینی بھی کن فیکون ہے ۔
البتہ مخاطب وجود علمی اور عدم خارجی رکھتا ہے
مخاطب اس” کُن “سے مقام خارج اور عین میں آّئے گا خطاب میں مخاطب کا وجود ضروری ہے اگرچہ کہ وہ وجود علمی ہی کیوں نہ ہو تمام موجودات اس جہان میں آنے سے پہلے علم ازلی خدا میں ہیں تو یہ خطاب ان موجودات کو اس کا علم سے اس عین اور خارج میں لے آتا ہے البتہ یہ خروج اور اس جہان میں آنا بالتجلی ہے علم الھی اور خزانہ الھی ان سے خالی نہیں ہوتا ۔
لذا امام صادق × ارشاد فرماتے ہیں : وَ قَالَ فَكُلُّ أَمْرٍ يُرِيدُهُ اللَّهُ فَهُوَ فِي عِلْمِهِ قَبْلَ أَنْ يَصْنَعَهُ لَيْسَ شَيْ‏ءٌ يَبْدُو لَهُ إِلَّا وَ قَدْ كَانَ فِي عِلْمِهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَبْدُو لَهُ مِنْ جَهْلٍ ، ہر امر شی جس کے ایجاد کا اللہ ارادہ فر مائے وہ اسکی خلقت سے پہلے اس کے علم میں ہے کوئی شی دنیا میں ظاہر نہیں ہوتی مگر پہلے وہ اللہ کے علم میں ہے تحقیق اللہ کے لیے کوئی شی جہل سے ظاہر نہیں ہوتی پس ہر شی اللہ کے علم سے اس دنیا اور خارج میں واقع ہوتی ہے ، خطاب کن ، امر کن شی کو اللہ کے علم سے اس دنیا میں لے آتا ہے ۔
کن کا افاضہ دفعی ہے تدریجی نہیں ہے لیکن استفاضہ تدریجی ہے
خدا واند متعال کا امر کن اور خطاب تکوینی، دفعی ہے اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فاعلِ تام ہے فاعل ناقص کا فعل تدریجی ہوتا ہے کیونکہ اسکا فعل زمان اور مکان سے ماوارء ہے۔لیس عند ربک صباح و لامساء ،مولا علی × فرماتے ہیں :تیر ے پرو ر دگار کے پاس صبح و شام معنیٰ نہیں رکھتی ، مولا علی # فر ماتے ہیں (فاعل لا بمعنیٰ الحرکات )خدا وند متعال فاعل ہیں لیکن نہ کہ حرکات انجام دینے والا ہے بلکہ وہ(بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ )آسمانوں اور زمین کو ابداع فرمانے والا ہے جب بھی کسی شی کا ارادہ فرماتا ہے کن کہتا ہے پس وہ ہوجاتی ہے ، کن فیکون میں (فا) بتا رہا ہے کہ اس کے فعل میں تدریج نہیں لیس کمثلہ شی ہے اسکی ذات کی طرح اسکا فعل بھی لا شریک ہے ۔
البتہ فیض کو قبول کرنا، استفاضہ تدریجی ہے اس لیے جو موجودات زمان و مکان میں موجود ہیں ان میں تدریج ہے ہر شی اپنی طبعیت اور ذات کے مطابق فیض کو حاصل کر کے موجود ہو گی مثلا زمین و آسمان کا چھ دن میں موجود ہو نا ان کے قُوت اور رزق کا چار دن میں مقدر ہو نا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ ، بچے کا نو ماہ میں آنا اور اسکی مانند دیگر موجودات ، اسکا فیض اور امر واحد ہے یہ مستفیض ہے جو اپنی ذات کے مطابق محقق ہو گا (وَ ما أَمْرُنا إِلاَّ واحِدَةٌ ) ہمارا امر نہیں مگر واحد اور وہ بھی( كَلَمْحِ الْبَصَرِ) عرض ہو چکا ہے کہ یہ کنایہ ہے فعل کے دفعۃ واقع ہونے کے لیے جسطرح بعض مخلوق کہ ملکوتی ہے اور زمان و مکان سے ماوراء ہے جیسے ملکوتی فرشتے وہ بھی یکدم موجود ہوتے ہیں انہیں مخلوق امری کہتے ہیں ( لہ الخلق و لا مر ) مخلوق خلقی اور امری اس آیت سے استفادہ ہوتی ہے خلق اور امر اسی کے لیے ہے ادھر امر کن یکدم ہوا ہے تو فعل محقق ہو گیا ادھر مخلوق امری بھی دفعتاً موجود ہو جائے گی لیکن مخلوق زمانی تدریجاً اپنی ذات کے مطابق محقق ہو گی ۔پس مستفیض تدریجی کو اللہ کے فعل اور فیض سے خلط نہیں کرنا چاہیے(یھدون بامرنا) اس سے امر تکوینی مراد ہے جو کن ہے نہ تشریعی۔جب امام نبوت اور رسالت سے بلند مقام پر ہوتا ہے اور ہدایت جو امام کی شان ہے قطعا فقط تشریعی نہیں بلکہ تکوینی اور ایصال الی المطلوب والی ہے تو جس کے وسیلہ سے وہ ہدایت ہوتی ہے۔وہ وسیلہ بھی نبی رسول کی ہدایت کے وسیلہ سے عظیم ہوگا تو وہ وسیلہ امر اللہ ہے تو امر اللہ تنہا تشریعی نہیں ہو گا بلکہ تکوینی ہو گا اور ملکوتی ہو گا جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ انبیاء و مر سلین میں سے مصطفی کر کےا مام بناتا ہے وہ اللہ کے امر تکوینی اور ملکوتی کے ذریعہ مخلوق کی ہدایت تشریعی کے ساتھ ہدایت تکوینی فرماتے ہیں ۔
بامرنا
اب یہاں چند نکات ہیں :
۱۔ باء کس معنیٰ میں ہے ؟
۲۔ دو معنیٰ بیان ہوتے ہیں ۔
۱۔ مصاحبت ، ۲۔ ملا بست
۱۔ مصاحبت : اگر باء مصاحبت کی ہو تو امام کی ہدایت اللہ کے امر کے ساتھ ہے امام کی ہدایت اور اللہ کے ا مر میں معیت ہے جبکہ ایک دوسرے کا سبب ہے یعنی امر اللہ سبب ہے ہدایت کا چونکہ واقع میں ہدایت ، اللہ کی ہدایت ہے تو سبب بھی اللہ کا امر ہے اور جب دو نوں ہدایت اور امر اللہ امر ملکوتی ہیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ امام کی ہدایت امر اللہ بن کے ظاہر ہو گی تو حتما ًمحقق ہوتی چلی جائے گی ۔
۲۔ اگر ملا بست کی ہو تو امام کی ہدایت اللہ کے امر کے لباس میں ہو گی تب بھی نتیجہ یہی ہے کہ امام کی ہدایت امر اللہ کے انداز میں ظاہر ہو گی
۲۔ دوسرا نکتہ امر کا اضافہ “نا” جمع متکلم کی طرف ہے جو تمام قدرت کے ظہور کو بیان کر رہا ہے ۔
۳۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جس طرح بیان ہو چکا ہے کہ ہر شی کا ایک چہرہ ملکی ہے ایک ملکوتی ہر شی کی ملکوت ہر شی کی حقیقت ہے جب امر سے مراد ملکوتی ہے تو ہر شی کی ہدایت جب امر ملکوتی سے ہے تو ہدایت ،شی کے ملکوت پر وارد ہو گی پھر ملک میں ظاہر ہو گی ۔
بر سر مطلب
جب حقیقت ہدایت اورا مر اللہ روشن ہوا تو اللہ تبارک تعالیٰ امام کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ وہ ہماری آیات پر یقین رکھنے والے ہیں جو تما م مخلوق کا مشاھدہ کر چکے ہیں لذا فرماتے ہیں تمام جہان میرے سامنے ایسے ہیں جیسے ہاتھ کی ہتھیلی ، جو ملکوت کو دیکھ رہا ہو تو اس سے شی کا ملک اور ظاہر مخفی نہیں ہو تا جس سے وہ یقین حاصل ہوتا ہے جو انبیاء کو بھی حاصل نہیں ہوتا ۔ اس یقین کے نتیجہ میں صبر مطلق پر فائز ہوتے ہیں مملکت صبر کے تنہا سلطان ہیں اللہ کے سواء ہر شی کو پشت کرتے ہیں اور رخ وجودی فقط اللہ کی طرف ہے تو پورے عالمین اور ممکنات پاؤں تلے ہیں تو اسکے نتیجہ میں خلق کی ہدایت اللہ کے امر سے ہوتی ہیں تو امام کی ہدایت امر اللہ کے انداز میں مخلوق کے ملکوت سے ہو گی جب ہر شی کا ملکوت اسکے سامنے ظاہر ہے امر اللہ بھی ملکوتی ہے تو یقینا ہدایت ملکوتی ہو گی تو مخلوق کی ملکوت کہ قلوب ہیں اس میں تصرف فرمائیں گے لذا امام کی ہدایت لوگوں کے لیے ولایت ہے ۔
یھدون بامرنا
دلالت کرتا ہے امام جسکی امر اللہ سے ہدایت فرمائیں گے وہ چیزوں کا با طن اور حقیقت ہے تمام موجودات اور ہدایت پانے والوں کا وجہ ِ امر امام کے پاس حاضر ہے لذا امام ہر شی کے دونوں چہروں پر مھیمن اور مسیطر اور محیط ہے اور سعادت و شقاوت دونوں راستوں پر تسلط رکھتا ہے لذ ا دنیا کا امام ہے آخرت کا بھی امام ہے جسطرح دنیا میں لوگوں کی ہدایت فرما رہا ہے قیامت والے دن بھی لوگوں کی اللہ کی طرف ہدایت فرمائے گا روز قیامت لے آئے گا، یہ ہدایت عظمیٰ اما م کو انبیاء اور مرسلین سے ممتاز کرتی ہے ۔
پس ملک و ملکوت کا ہادی ہے اس لیے تو روز قیامت جنت کو حکم دے کہ اس کا استقبال کر یہ میرا محب ہے جہنم کو امر دےگا اسے پکڑ لے یہ میرا دشمن ہے اور یہ دونوں اطاعت گزار غلام کی طرح اپنے امام اور ہادی کے فرمان پر عمل کریں گے۔لوح و قلم عرش و کرسی سب کا ہادی و راہنما اور انہیں امر اللہ سے اپنے مقصد اور ہدف تک پہنچانے والا ہے ۔
ہادی بامر اللہ کا مھدی اور مھتدی ہو نا ضروری ہے
امام جو اللہ کے امر سے ہدایت کر رہا ہے خود ہدایت یافتہ مھدی اور مھتدی ہے دنیا میں کسی امر میں بھی کسی سے ہدایت لینے والا نہ ہو لذا سعید الذات ہے اسکی ذات عین ہدایت ہے لذا ہر خطاء عیب نقص اور گناہ سےمنزہ اور پاک و پاکیزہ ہو اس لیے کہ جس میں ذرہ برا بر ظلم و شقاوت ہو تو اسکی ہدایت غیر سے ہو گی اس حقیقت کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :أَفَمَنْ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ أَمْ مَنْ لا يَهِدِّي إِلا أَنْ يُهْدَى فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ،آیا وہ جو حق کی طرف ہادی ہے وہی حقدار ہے کہ اسکی اتباع کی جائے یا وہ جو ہدایت یافتہ نہیں مگر یہ کہ اسکی ہدایت کی جائے ۔
تو مقابلہ ھادی الی الحق اور وہ جو ہدایت پر نہیں ہے مگریہ کہ دوسرا اسکی ہدایت کرئے یعنی ایک وہ جسکی ذات ہادی ہے اور دنیا میں کسی سے ہدایت نہیں لیتا دوسرا وہ جو دوسرے کی ہدایت پر چل رہا ہے ان میں کون ہدایت کرنے اور ہادی ہونے کاحقدار ہے ؟تو جواب یہ ہے کہ جسکی ذات ہدایت پر نہیں بلکہ دوسرے سے ہدایت لے کر زندگی گزار رہا ہے وہ حق کی طرف ہدایت کرنے کا حق نہیں رکھتا دونوں حق کی طرف ہدایت کرنے والے ہیں لیکن ایک کسی دوسرے سے ہدایت یافتہ نہیں بلکہ بنفسہ من اللہ ہدایت پر ہے دوسرا غیر سے ہدایت لے کر حق کی طرف ہدایت کرتا ہے جیسے علماء ، فقہاء ہیں جو کئی سال درس پڑھ کر اب لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ہادی قرار دے رہا ہے جو دنیا میں کسی سے ہدایت نہیں لتیے بلکہ اللہ کے امر سے انکی ہدایت کرتے ہیں خود بلاواسطہ اللہ سے ہدایت لینے والے ہیں لوگوں کی بھی بلا واسطہ ہدایت فرما سکتے ہیں یہی ہدایت ملکوتی اور ہدایت امری ہے ۔ اور یہ آئمہ علیہم السلام کی عصمت پر ایک اور دلیل ہے ۔امام ہر قسم کی گمراہی اور معصیت سے معصوم ہے ورنہ غیر سے ہدایت یافتہ ہوتا ، پس جو غیر سے ہدایت لینے والا ہے وہ معصوم نہیں لذا اما م نہیں ہو سکتا پس(لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمينَ) یہاں ظالم سے مراد جس سے ذرہ برابر ظلم چھوٹا گناہ یا بڑا ، چھوٹی غلطی یابڑی غلطی،زندگی کے کسی حصہ میں بھی سرزد ہوئی چاہے بعد میں توبہ کرکے صالح ہو جائے وہ ظالم ہے اور اللہ کا عہدا مامت بالکل اسے عطا نہ ہو اہے نہ ہوگا۔ مرحوم علامہ طبا طبائی فرماتے ہیں یہاں چند امر روشن ہو جاتے ہیں ۔
۱۔ اما مت اللہ تبار ک و تعالیٰ سے جعل شدہ ہے ۔
۲۔ امام کا عصمت الٰھیہ سے معصوم ہوناواجب ہے
۳۔زمین کھبی بھی حق کے امام سے خالی نہیں ہو گی ۔
۴۔ امام کا اللہ کی طرف سے تائید شدہ ہونا واجب ہے ۔
۵۔ بندوں کے اعمال امام سے مخفی نہیں ہوتے بلکہ امام بندوں کے اعمال کا علم رکھتا ہے ۔
۶۔ امام عالم ہو ہراس شی کا کہ لوگ جس شی کے دنیا و آخرت میں محتاج ہیں ۔
۷۔ محال ہے کہ کوئی شخص موجود ہو جو کمالات اور فضائل میں امام سے بالاتر ہو ، یہ امامت کے بنیادی مسائل ہیں جو گذشتہ بیان سے واضح ہو جاتے ہیں ،
۳۔(وکلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ) ہر شی کا ہم نے احصاء کر دیا ہے امام مبین میں(وکلَّ شَيْءٍ) لفظ کُل کو عموم کے لیے بنایا گیا ہے جس کلمہ پر داخل ہو تو اسکی ہر فرد کو شامل ہو تا ہے ،مثلا:کُل انسانِِ: ہر انسان ، کہہ کر کوئی ایک فرد بھی خارج نہیں ہو سکتا۔ لفظ (شَيْءٍ)وہ ہے جس کے مفہوم سے عام تر شاید کوئی مفہوم نہ ہو ، اور وہ بھی بطور نکرہ اور عام ذکر ہوئی ہے ، جو ایک ذرہ سے لیکر آخری مرتبہ ممکن کو شامل ہے ، بشر کی نگاہ جدہر بھی جائے تو شی کے علاوہ کچھ نہیں پائے گا جس پر نگاہ پڑے تو وہ شی ہے حتیٰ کہ جو عقل میں آئے وہ بھی شی کے علاوہ کچھ نہیں !پس کُل شی عالمین کی ہر شی کو شامل ہے “أحْصَيْنَاهُ” کلمہ( أحْصَيْنَاهُ ) فقط گننے کے معنیٰ میں نہیں ہیں جسطرح عام ذہنوں میں ہے مصباح اللغات میں ہے ( أحصیت الشی علمتہ) میں نے شی کا احصاء کیا یعنی اس شی کا عالم ہوا موارد استعمال کو مالاحظہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد علمی احاطہ کے ساتھ شی کا محفوظ کرنا ہے ۔ لذا قرآن میں ہے:لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا
اللہ تبارک و تعالیٰ محیط ہے اس پر جو مرسلین کے پاس اور ہر نبی کو احصاء فرمایا ہے عدد کے لحاظ سے یعنی اللہ کے احاطہ علمی میں ہے اور اسے ایک دوسرے سے ممتاز کرکے رکھا ہے۔پس معنیٰ (أحْصَيْنَاهُ) یہ ہے کہ ہم نے ہر شی کو احصاء کیا ہے علمی احاطہ میں ضبط و ثبت کیا ہے ۔ احاطہ علمی میں محفوظ کیا ہے ۔
امام مبین
مراد از امام مبین ، مختلف ذکر ہوئے ہیں روایات میں اسکا مصداق ، امام معصوم ہیں جسطرح کہ معانی الاخبار میں ابی الجارود سے روایت ہے کہ امام باقر× اپنے آباء طاہرین سے نقل کرتے ہوئے رسول اللہﷺ فرماتے ہیں : فی علی× انہ الامام الذی احصیٰ اللہ تبارک و تعالیٰ فیہ کل شی ،علی × ہیں حضرت وہ امام ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس میں ہر شی کا علم احصاء کر دیا ہے اب جب لفظیں روشن ہو گئیں تو معنیٰ یہ بنے گا کہ ہم نے ہر شی کا علم امام مبین میں احصاء کردیا ہے ۔ پس امام وہ ہے جو ہر شی کے علم پر احاطہ رکھتا ہے ، اور یہ احاطہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے ۔ جس میں کسی شی کا جہل ہو وہ امام نہیں ہے ۔ پس امام اپنے وجود میں پورے جہان کو رکھتا ہے لہذا کسی شی کا کوئی ذرہ بھی امام سے مخفی نہیں ہے ۔
سنت
امامت اور امام لسان عصمت اور عترت پر کثرت سے بیان ہوئی ہے اس بحر معرفت کی تھوڑی سے ٹھنڈک کی نمی قارئین کرام کےلیے مرقوم ہوتی ہے جس طرح حضرت جبرائیل × نے امیر المو منین علی × کے ایمان کی ٹھنڈک کو احساس کیا تو اس مقام پر پہنچے کہ خدا کی طرف سے امین وحی بن گئے جب حضرت علی ابن موسیٰ رضا × کو معلوم ہوا کہ بعض لوگ امر امامت میں غور و حوض کر رہے ہیں تو ارشاد فرمایا: هَلْ يَعْرِفُونَ قَدْرَ الْإِمَامَةِ وَ مَحَلَّهَا مِنَ الْأُمَّةِ فَيَجُوزَ فِيهَا اخْتِيَارُهُمْ إِنَّ الْإِمَامَةَ أَجَلُّ قَدْراً وَ أَعْظَمُ شَأْناً وَ أَعْلَى مَكَاناً وَ أَمْنَعُ جَانِباً وَ أَبْعَدُ غَوْراً مِنْ أَنْ يَبْلُغَهَا النَّاسُ بِعُقُولِهِمْ أَوْ يَنَالُوهَا بِآرَائِهِمْ أَوْ يُقِيمُوا إِمَاماً بِاخْتِيَارِهِم‏ ، وہ ا مامت کی قدر ومنزلت کی معرفت رکھتے ہیں امت میں امامت کے مقام کو جانتےہیں یہ استفہام استنکاری ہے یعنی معرفت نہیں رکھتے تحقیق امامت قدر و منزلت میں اس قدر جلیل ہے کہ خدا کی طرف سے اس سے اوپر کسی کو جلالت نصیب نہیں ہوئی اس قدر عظیم ہے کہ عالم امکان میں اس سے بڑھ کر کوئی شان قابل تصور نہیں ہے ، مقام میں اس قدر بلند ہے کہ عالمین میں اس سے او پر کوئی بلندی نہیں ہے کنارہ کے لحاظ سے ممنوع الوصول ہے یعنی دریا امامت کے کنارے تک کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا امامت وہ سمندر ہے جس کی تہ تک بھی کوئی نہیں پہنچ سکتا ۔لوگ اپنی عقلوں کےذریعہ نہ دریا امامت کے کنارہ کو چھو سکتے ہیں نہ اسکی تہ تک غوطہ لگا سکتے ہیں اور نہ اپنے نظریات اور افکار سے اس تک پہنچ سکتے ہیں اور نہ اپنے اختیار سے امام قائم کر سکتے ہیں ۔
جب عقول امامت کے نہ اول کو درک کر سکیں نہ آخر کو !تو کیسے انتخاب کر سکتے ہیں؟ پس لوگوں کاانتخاب شدہ سوائے امام کے سب کچھ ہو سکتا ہے۔
چند فراز کے بعد فرماتے ہیں : ‏ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْلُغُ مَعْرِفَةَ الْإِمَامِ أَوْ يُمْكِنُهُ اخْتِيَارُهُ هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ ضَلَّتِ الْعُقُولُ وَ تَاهَتِ الْحُلُومُ وَ حَارَتِ الْأَلْبَابُ وَ خَسَأَتِ الْعُيُونُ وَ تَصَاغَرَتِ الْعُظَمَاءُ وَ تَحَيَّرَتِ الْحُكَمَاءُ وَ تَقَاصَرَتِ الْحُلَمَاءُ وَ حَصِرَتِ الْخُطَبَاءُ وَ جَهِلَتِ الْأَلِبَّاءُ وَ كَلَّتِ الشُّعَرَاءُ وَ عَجَزَتِ الْأُدَبَاءُ وَ عَيِيَتِ الْبُلَغَاءُ عَنْ وَصْفِ شَأْنٍ مِنْ شَأْنِهِ أَوْ فَضِيلَةٍ مِنْ فَضَائِلِهِ وَ أَقَرَّتْ بِالْعَجْزِ وَ التَّقْصِيرِ
پس کون ہے جو امام کی معرفت کو پہنچ سکے یا اسکےلیے امام کا اختیار کرنا ممکن ہو ، یہ معرفت بہت دور ہے یہ اختیار بہت بعید ہے پھر اس دوری کو بیان فرمایا : عقلیں راہ معرفت میں گم ہیں دقیق جھان بین اور تفتیش کرنے والے( بال کی کھال اتارنے والے) مدقق عقلمند پر یشان ہیں لب و مغز، رکھنے والے حیران و سرگردان ہیں ، آنکھیں امامت کے ادارک سے عاجز ہیں ، بڑے بڑے عظیم اس مقام پر بہت چھوٹے ہیں حکماء حیران ہیں ، بڑے بڑے خطباء وصف امام سے عاجز ہیں اولو الالباب یہاں جاہل ہیں شعراء کی زبانیں رک گئی ہیں بڑے بڑے ادیب عاجز اور ناتوان ہیں ، بڑے بڑے فصیح و بلیغ امام کی شان میں سے ایک شان بیان کرنے سے ناتوان ہیں ۔ یا امام کے دریا فضائل میں سے ایک فضلیت کوذکر نہیں کر سکتے سب عجز و ناتوانی و تقصیر کا اقرار کرتے ہیں ۔
پس معرفت امام کی وادی میں ہر ایک داخل نہیں ہو سکتا مگر وہ خود کرم فرماتے ہوئے کسی کا ہاتھ پکڑ کر لے جائیں اب یاخاتم الائمہ × ادرکنی کہ کر ایک باب معرفت کی طرف تھوڑا سا اشارہ کرنا چاہتا ہوں ۔اسم مبارک امام آئمہ ^ کے لیے انکے دیگر صفات ، کمالات ، اور اسماء کی طرف نسبت کرتے ہوئے وہی ہے جو اسم مبارک اللہ کی خدا کے دیگر اسماء و صفات کی طرف ہے ، اسم جلالہ تمام صفات جلال و جمال کو جامع ہے اسی طرح اسم امام تمام فضائل اور کمالات وجودی امام کو جامع ہے ۔
امام حجۃ اللہ علی الخلق
ان میں سے ایک یہ ہے کہ امام اللہ کی ساری مخلوق پر اللہ کی حجت ہے ، اسم کلمہ امام کی بحث گزر چکی ہے ۔
معنی حجت
حجت علم لغت میں بمعنی برھان اور دلیل کے ذکر ہوا ہے جسطرح کہ عرف عام میں بھی ایسا ہے لیکن اگر اسکے مادہ اصلی کو ملاحظہ کرتے ہوئے معنیٰ کیا جائے تو یہ ہے کہ حجت وہ شی جو مدعیٰ کے اثبات کرنے کے مقام پر مقصود ہو اور مقابل پر غلبہ کے لیے جسے لایا جائے ۔ لذا حجت صناعتِ برھان اور مناظرہ میں استعمال ہوتی ہے۔
وضاحت
انسان جتنی بحثیں کرتا ہے اور جو فکر کرتا ہے بلکہ جس حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے تو اسکے دو مقصد ہیں :
۱۔ مقصود یہ ہے کہ ایک حقیقت روشن ہو جائے اور واقعیت تک پہنچا جائے ۲۔ ایک اختلافی مسئلہ میں اپنے مقابل پر غلبہ حاصل ہو جائے ۔
پہلے مقصد کے لیے صناعتِ برھان میں تحقیق ہوئی اور دوسرے مقصد کے لیے صناعت مجادلہ اور مناطرہ میں بحث ہوتی ہے اس مقصد تک پہنچنے کے لیے قطعا ایک وسیلہ کی ضرورت ہے کہ اس وسیلہ کا نام ہے حجت ۔
حجت کے مصادیق اور افراد
افراد حجت مختلف ہیں بعض وہ ہیں جو ذاتی طور پر حق ہیں اور مقصود بھی انکی حقا نیت اور اس کے ذریعہ حقیقت تک پہنچنا ہے۔ چاہے سامنے کوئی مخالف ہو یا موافق اصلا یہاں موافق مخالف کو نہیں دیکھا جاتا۔
بعض وہ ہیں کہ جنکے ذریعہ سے فقط اپنے مد مقابل کو مغلوب کرنا ہے چاہے وہ ذاتی طور پر حق ہو یا نہ ؟ ممکن ہے خود حق ہویا خود حق نہ ہو ۔ مثلا قرآن ، ذاتی طور پر حجت ہے کوئی مانے یا نہ کوئی موافق ہو یا مخالف ، مسلمانوں کے درمیان ایک مسلم حقیقت ہے جو عین حق ہے ، لذا اہل قرآن اس کے ذریعہ حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں اسی طرح اگر کوئی کسی دینی مسئلہ میں مخالف ہے۔تو اس پر غلبہ پانے کے لیے بھی قرآن بہترین وسیلہ ہے اور اعلیٰ ترین حجت ہے ، مثلا اگر کوئی امام کو اللہ کی طرف سے نہ مانے بلکہ لوگوں کے انتخاب کو میزان قرار دے تو اسے مغلوب کرنے کے لیے آیات قرآنی سے احتجاج کریں گے اور حجت قائم کریں گے کہ اصلا بشر اما م کو انتخاب کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، اسی طرح سنت معصوم × اور صحاح ستہ اہل سنت کے نزدیک حجت ہیں اب اگر کسی مسئلہ میں شیعہ سنی کا اختلاف ہو جائے تو شیعہ ، سنی کو مغلوب کرنے کے لیے صحاح ستہ سے احتجاج کرئے گا ۔
نتیجہ یہ نکلا کہ حجت جو برھان ہے وہ ہر صاحب عقل و خرد جو حقائق کو کشف کرنے کے درپے ہیں اسکی ہمیشہ کی ضرورت ہے برھان کے بغیر وہ معرفت کا ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا لیکن حجت جو مجادلہ اور مناظرہ میں ہوتی ہے یہ ہر صاحب مکتب کی ضرورت ہے البتہ اسے وسعت دی جاتی ہے ہر مسئلہ میں دو مخالف چاہے ایک بڑے مکتب فکر کے ہیں یا کسی جزئی مسئلہ میں اختلاف نظر رکھتے ہوں ۔ یہاں پر بھی بہترین طریقہ برھان ہے اپنے مقابل کو مد نظر رکھتے ہوئے۔ اس کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے لیکن اھداف مختلف ہیں جیسے استاد شاگرد کے درمیان مطلب روشن کرنے کے لیے ۔ نبی اور امت کے درمیان ، امام اور رعایا کے درمیان ،خالق اور مخلوق کے درمیان ، عبد اور معبود کے درمیان احکام شرعیہ کے لحاظ سے ۔
خود برھان
خود برھان بھی مراتب کے لحاظ سے قسمیں رکھتا ہے ۔ برھان فکری : کہ عام طور پر رائج ہے تمام علوم نظری میں استعمال ہو تا ہے ۔
برھان وجودی
جو کہ فکر سے ماورا ہے اسے دل اور وجود سے پایا جاتا ہے ، جسے برھان عینی اور شھودی کہتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ہی اس رزق کی روزی عطا فرماتا ہے۔یہ برھان ،یقین کی تین اقسام کے لحاظ سے تین قسموں میں تقسیم ہو سکتا ہے 1۔وہ برھان جو علم الیقین میں استعمال ہو 2۔ وہ برھان جو عین الیقین میں واقع ہو 3۔ جوبرھان حق الیقین میں محقق ہو ۔
خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے فکر کے علاوہ جہان کی موجودات کو بشر کے لیے حجت قرار دیا ہے ، زمین و آسمان اللہ کی خالقیت پر حجت ہیں اس جہان میں جو باریکیاں اور نزاکتیں ہیں وہ اللہ کےعلم و قدرت اور حکمت پر حجت اور دلیل ہیں ۔
دریا ،پہاڑ اور حیوانات کو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ پر حجت قرار دیا ہے اونٹ ، شہد کی مکھی ، چیونٹی ، قرآن مجید میں حجت وجودی کے نمونے ہیں ۔شمس و قمر ، چاند و ستارے خدا کی طرف سے بشر کے لئے حجت ہیں کہ وہ فقط اسی کو خالق مانیں ۔ انسان کے کروڑوں اربوں افراد ہیں جن سب کے اعضاء ایک جیسے ہیں لیکن صورتیں مختلف ہیں ، حتیٰ کہ انگلیوں کے نشان بھی آپس میں نہیں ملتے یہ اسکی قدرت کے شاہکار ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ جس چیز میں دقت کرو وہ قدرتِ خدا پر روشن حجت ہے ۔سب سے بڑی حجت خود واجب تبارک و تعالیٰ ہے حقیقت میں تو حجت و ہی ہے باقی سب اس حجت کے ظہور سے ہمیں حجت نظر آتے ہیں ، اسماء خداوند متعال میں سے ایک اسم برھان ہے کہ یا برھان، ( دعا جوشن کبیر میں مذکور ہے ) ایک معنیٰ ذاتِ واجب کے برھان ہونے کا یہ ہے کہ وہ مخلوق کے لیے دم بدم الھی حجت قائم کرنے والا ہے یہ مطلب حضرت امام صادق× نے ابن ابی العوجا ء کے ساتھ بحث کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: فَقَالَ لِي وَيْلَكَ وَ كَيْفَ احْتَجَبَ عَنْكَ مَنْ أَرَاكَ قُدْرَتَهُ فِي نَفْسِكَ نُشُوءَكَ وَ لَمْ تَكُنْ وَ كِبَرَكَ بَعْدَ صِغَرِكَ وَ قُوَّتَكَ بَعْدَ ضَعْفِكَ وَ ضَعْفَكَ بَعْدَ قُوَّتِكَ وَ سُقْمَكَ بَعْدَ صِحَّتِكَ وَ صِحَّتَكَ بَعْدَ سُقْمِكَ وَ رِضَاكَ بَعْدَ غَضَبِكَ وَ غَضَبَكَ بَعْدَ رِضَاكَ وَ حُزْنَكَ بَعْدَ فَرَحِكَ وَ فَرَحَكَ بَعْدَ حُزْنِكَ وَ حُبَّكَ بَعْدَ بُغْضِكَ وَ بُغْضَكَ بَعْدَ حُبِّكَ وَ عَزْمَكَ بَعْدَ إِبَائِكَ وَ إِبَاءَكَ بَعْدَ عَزْمِكَ وَ شَهْوَتَكَ بَعْدَ كَرَاهَتِكَ وَ كَرَاهَتَكَ بَعْدَ شَهْوَتِكَ وَ رَغْبَتَكَ بَعْدَ رَهْبَتِكَ وَ رَهْبَتَكَ بَعْدَ رَغْبَتِكَ وَ رَجَاءَكَ بَعْدَ يَأْسِكَ وَ يَأْسَكَ بَعْدَ رَجَائِكَ وَ خَاطِرَكَ بِمَا لَمْ يَكُنْ فِي وَهْمِكَ وَ عُزُوبَ مَا أَنْتَ مُعْتَقِدُهُ مِنْ ذِهْنِكَ وَ مَا زَالَ يَعُدُّ عَلَيَّ قُدْرَتَهُ الَّتِي فِي نَفْسِي الَّتِي لَا أَدْفَعُهَا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ فِيمَا بَيْنِي وَ بَيْنَه‏
وہ اللہ تجھ سے کیسے مخفی ہے جو تجھے تیری ذات اور نفس میں اپنی قدرت دکھا رہا ہے حضرت معرفت انفسی سے معرفت اللہ کی سیر کرانا چاہتے ہیں ۔پھر تفصیل میں ارشاد فرماتے ہیں : تیرے نہ ہونے کے بعد تیری پیدائش تیرے بچپنے کے بعد بڑا ہونا ، تیرا ضعف و ناتوانی کے بعد قوی ہونا پھر تیرا ضعیف ہونا ،تیرے قوی ہونے کے بعد ( یعنی بچپنے سے جوانی ، پھر جوانی سے بڑھاپا) بیماری کے بعد صحت اور صحت کے بعد بیماری ، تیری رضایت ناراضی کے بعد اورتیری ناراضی رضایت کے بعد ، تیرا غم تیری خوشی کے بعد اور تیری خوشی تیرے غم کے بعد ، تیری محبت تیری عداوت کے بعد اور تیری عدوات تیرے غضب کے بعد، تیرا چا ہنا اور جلب کرنا، تیرے نا پسند کرنے ، کراہت کے بعد اور تیرا نفرت کرنا اسے چاہنے اور نا پسند کرنے بعد ، تیرا رغبت اور میلان کرنا تیرے منہ موڑنے کے بعد اور تیرا منہ موڑنا تیری رغبت کے بعد تیری امید تیری نا امیدی کے بعد اور تیری ناامیدی تیرے امید وار ہونے کے بعد تیرا ذہن میں آنا ، تیرے ذہن کے خالی ہونے کے بعد ، تیری یاد کا چلا جانا اس سے جو تیرا اعتقاد تھا ۔
ابن ابی العوجاء کہتا ہے کہ حضرت اسی طرح میرے اوپر وہ جو میری ذات میں اللہ کی قدرت کے شاہکار تھے گنواتے گئے ، کہ جن سے میں انکار نہیں کر سکتا تھا یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ عنقریب اللہ تبارک و تعالیٰ میرے اورحضرت کے درمیان ظاہر ہو جائے گا۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ ایسا برھان ہے جو دم بدم ہر شے کے لیے حجت بن کر ظاہر ہو رہا ہے اس لیے سورۃ بقرہ میں ارشاد فرمایا(قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ)
اے میرے نبی انہیں کہو کہ تم ہمارے ساتھ اللہ کی بحث کو جاری رکھو گے اور مقام احتجاج پر اسی طرح آگے بڑھتے رہو گے ، درحالانکہ وہ ہمارا پروردگار ہے وہ ہماری پر ورش کرنے والا ہے ، اس حجت سے بڑی حجت کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ہماری پرورش فرمارہا ہے نطفہ سے لیکر زندگی کے تمام مراحل میں اسکی تدبیر سے ہم پرورش پا رہے ہیں ۔
پھر سورۃ(الأنعام )149 میں ارشاد فرمایا(قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ فَلَوْ شاءَ لَهَداكُمْ أَجْمَعينَ) کہو کہ اللہ تبارک تعالیٰ کے لیے تم پر حجت بالغہ ہے اور حجت بالغہ وہ ہوتی ہے جو عالم و جاہل ہر ایک تک پہنچ جائے ، پس ہر ذی شعور ،ادنی عقل رکھنے والااگر سوچے تو اس پر اللہ کی حجت تمام ہے کہ کس نے خلق کیا کس نے ماں باپ کے دل میں محبت ڈالی ، کس نے لامحدود نعمتیں عطا کر کے ہماری ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے کتابیں نازل کیں ؟کس نے ہمیں عقل عطا فرما یا؟ یہ ہے کہ جتنی بھی اپنے اندر فکر اور ملاحظہ کرے گا تو اپنے اوپر اللہ کی حجت کو تمام سمجھے گا ۔
معنی دوم
اللہ تبارک و تعالیٰ کے برھان ہونے کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے ، ہر مجہول کو ظاہر کرنے والا ہے ہر مجہول کو ، ہر ایک کے لیے، معلوم بنانے والا ہے وہ جو کسی کے لیے علم بنتا ہے ۔ا سے علم واقع کرنے والا اللہ ہے پس اس کے لیے اسم برھان ہے۔پس ذات واجب اپنے غیر پر برھان ہے جسطرح وہ اپنے اوپر برھان ہے ، اپنے غیر کو علم دے اوراسے ظاہر فرمائے تو ذات حق اور اپنا عرفان عطاء فرمائے اور اپنے آپ کو ظاہر کرئے تو بھی ذاتِ واجب عزوجل ، پس وہی ہر شے کا علم دینے والا اور ہر مجہول کو معلوم بنانے والا پس اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی حجت ہے ۔ جو ہر ایک پر واضح اور روشن ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے غیر پر برھان ہونا
سورۃ نو ر میں ارشاد فرمایا ” اللَّهُ نُورُ السَّماواتِ وَ الْأَرْض ” اللہ آسمانوں ور زمین کا نور ہے اللہ کے نور اور ظہور سے زمین آسمان موجود منور اور عالم ہوتےہیں چونکہ ہر موجود ، فطرتاً معر فت حق تبارک و تعالیٰ رکھتی ہے (ان من شی الاّ یسبح اللہ بحمدہ) اسم برھان کے ظہور کے نور سے ہر شے اللہ کی معرفت حاصل کر رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کا اپنے غیر کے لیے برھان ہونے کا یہی معنی ہے ۔
ذات واجب تبارک و تعالیٰ کا اپنے اوپر برھان ہونا
قرآن مجید میں ارشادفرمایا : شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ ۔خو د اللہ تبارک و تعالیٰ شاھد ہے اس پر کہ کوئی الہٰ نہیں مگر وہی ۔ذات واجب تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر برھان و حجت اور دلیل ہے ، دعا صباح میں حضرت امیر المومنین علی × ارشاد فرماتے ہیں۔یا من دل علیٰ ذاتہِ لذاتہ، اے وہ ذات جو اپنی ذات پر خود (بذاتہ) دلیل ہے ۔ دعا ابو حمزہ ثمالی میں امام زین العابدین × ارشاد فرماتے ہیں( بِكَ عَرَفْتُكَ وَ أَنْتَ دَلَلْتَنِي عَلَيْكَ وَ دَعَوْتَنِي إِلَيْكَ وَ لَوْ لَا أَنْتَ لَمْ أَدْرِ مَا أَنْت‏) تیرے ذریعہ سے میں نے آپ (اللہ ) کی معرفت حاصل کی میرے لیے اپنے اوپر توخود دلیل و برھان اور حجت ہے ۔
دعا عرفہ میں حضرت امام حسین × فرماتے ہیں (أَ يَكُونُ لِغَيْرِكَ مِنَ الظُّهُورِ مَا لَيْسَ لَكَ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الْمُظْهِرَ لَكَ مَتَى غِبْتَ حَتَّى تَحْتَاجَ إِلَى دَلِيلٍ يَدُلُّ عَلَيْك‏)آیا تیرے غیر کے لیے کوئی ذرہ ظہور کا ہے جو تیرے لیے نہ ہو؟( یعنی ہر ظہور ، تیرا ظہور ہے ) تو کب غائب ہوا ہے ؟ تاکہ ہم تیرے بغیر کسی دلیل کے محتاج ہوں جو آپ پر دلالت کرے ؟ یعنی تو ہمیشہ ظاہر ہے ، تو ہمیشہ حجت اور برھان ہے جو اپنے آپ کو ظاہر فرما رہا ہے ( وَ مَتَى بَعُدْتَ حَتَّى تَكُونَ الْآثَارُ هِيَ الَّتِي تُوصِلُ إِلَيْكَ عَمِيَتْ عَيْنٌ لَا تَرَاك‏) اس فراز میں امام حسین × غیر کے اللہ پر دلیل ہونے کی نفی فرما رہے ہیں اور کب تو دور ہوا ہے تاکہ آثار اور افعال وہ ہوں جو تجھ تک پہنچائیں۔ بلکہ تو خود اپنے تک پہنچانے والا ہے ۔ اس لئے ارشاد فرماتے ہیں :اندھی ہے وہ آنکھ (چشم قلب) جو تجھے نہیں دیکھتی ، چشم بینا قلب کے لیے تو ہر طرف ہمیشہ ظاہر ہے ( اینما تو لو فثم وجہ اللہ)جدھر رخ کرو ادھر وجہ اللہ ہے ادھر اللہ کا نور اور برھان ہے جو حجت بن کر ظاہر ہے ۔ اس لیے مولیٰ الموحدین علی × ارشاد فرماتے ہیں (ما رایت شئیا الا و رایت اللہ قبلہ و بعدہ و معہ) میں کسی کو نہیں دیکھتا مگر اس شے سے پہلے اس کے بعد او ر اس کے ساتھ اللہ کو دیکھتا ہوں یہی معنی ہے اس فرمائش کا کہ (اعرفو اللہ بااللہ ) اللہ کی معرفت حاصل کرو اللہ کے ذریعہ سے ، جب اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر دلیل و حجت ہو گا تو معرفت اللہ باللہ ہو گی ، لذا فرمایا: اللہ کی معرفت اسی نے ہی تو حاصل کی ہے جس نے اللہ کو خود اسی سے پہچانا ہے، جس نے اللہ کو اس کے غیر سے پہچانا ہے اس نے اللہ کو نہیں پہچانا اس نے اللہ کے غیر کو پہچانا ہے ۔یہ اس وقت ہو گا جب ذات واجب خو د اپنے اوپر حجت اور دلیل ہو گی پس ذاتِ واجب کا حجت ہونا روشن ہو گیا۔
مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يَعْرِفُ اللَّهَ بِحِجَابٍ أَوْ بِصُورَةٍ أَوْ بِمِثَالٍ فَهُوَ مُشْرِكٌ لِأَنَّ حِجَابَهُ وَ مِثَالَهُ وَ صُورَتَهُ غَيْرُهُ وَ إِنَّمَا هُوَ وَاحِدٌ مُتَوَحِّدٌ فَكَيْفَ يُوَحِّدُهُ مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ عَرَفَهُ بِغَيْرِهِ وَ إِنَّمَا عَرَفَ اللَّهَ مَنْ عَرَفَهُ بِاللَّهِ فَمَنْ لَمْ يَعْرِفْهُ بِهِ فَلَيْسَ يَعْرِفُهُ إِنَّمَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ
اب کوئی اور حجت نہیں ہو گا مگر وہ جسے خود خدا حجت قرار دے ، اور جسے ذاتِ واجب اپنے اوپر حجت قرار دے گی یقیناً اس سے اللہ کا نور ظاہر ہو گا اور نور خدا وند متعال ہو گا ۔وہ انبیاء اور آئمہ معصومین ^ ہیں جو مخلوق کے لیے اللہ پر اللہ کی حجت ہیں اور اما م نبی اور رسول سے بھی بڑی حجت ہے اور آئمہ معصومین^ اللہ کی حجت بالغہ ہیں جو عالم و جاہل ہر ایک تک پہنچی ہوئی ہیں ، لذا جو منکر امام زمان × ہے وہ اپنی فطرت اولیہ ( فطرت اسلام ) کا انکار کر رہا ہے ، اور فطرت اسلام کا انکار کرے وہی تو کفر و جہالت پر ہے اور جہالت پر موت ہے لذ ا بروز قیامت جتنا بڑا عالم ہو جو ڈگری رکھتا ہو جاہل محشور ہو گا کیونکہ اللہ اور اسکی حجت کی معرفت نہیں رکھتا۔
حجۃ اللہ کا اللہ اور مخلوق کے درمیان ہونا ضرورت ہے
مسلمات امامیہ میں سے ہے کہ حجۃ اللہ کا ہونا واجب ہے احادیث کی کتابوں میں باب الا ضطرار الیٰ الحجۃ منعقد ہے ، جس میں اثبات ہو اہے کہ حجۃ اللہ کا وجود مضطرّ الوجود ہے یعنیٰ ضروری اور لازم الوجود ہے اصول کافی کتب الحجۃ کا پہلا باب اسی طرح وافی میں اور بحارالانوار کتاب الامامۃ کا پہلا باب یہی ہے ، حجۃ اللہ جہان اور عالمین کی ضرورت ہے نظام تکوین ہو یا تشریع، اللہ کی حجت ہر مقام پر ہمیشہ ضروری ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دو نظام ہے ۱۔نظام تکوین ۲۔نظام تشریع،۱۔نظام تکوین: پورا جہان ایک نظام کے تحت خلق ہوا ہے (وَ ما خَلَقْنَا السَّماءَ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَيْنَهُما باطِلاً )ہم نے زمین اور آسمان اور وہ جو انکے درمیان ہے باطل خلق نہیں کیا ۔ بلکہ ہر شی کی خلقت ایک حکمت اور ہدف کے لیے ہے!لذا ایک خاص نظام کے تحت خلق کیا گیا ہے اگر نظام خلقت میں نظم نہ ہو تو خلقت با طل ہو گی جو خالق حکیم سے محال ہے (أَلا إِلَى اللَّهِ تَصيرُ الْأُمُورُ ) تمام اشیاء ایک نظام کے تحت خدا کی طرف ہوتی چلی جا رہی ہیں خصوصا ً انسان کے بارے میں فرمایا (أَ فَحَسِبْتُمْ أَنَّما خَلَقْناكُمْ عَبَثاً وَ أَنَّكُمْ إِلَيْنا لا تُرْجَعُونَ ) ۔آیا تم نے گما ن کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کیا ہے ؟ تمھارا کوئی ہدف نہیں ہے! نہ نہ، ایسا نہیں ہے بلکہ تمھیں ایک نظام کے تحت ایک مقصد کے لیے خلق کیا گیا ہے جسکی بنیاد پر تمہارا حساب کتاب ہو گا لذا اس آیت کے بعد فرمایا(وَ أَنَّكُمْ إِلَيْنا لا تُرْجَعُونَ ) تم نے گمان کر رکھا ہے کہ تمہیں ہماری طرف پلٹایا نہیں جائے گا ؟ ایسا نہیں ہے بلکہ تم ضرور ہماری طرف پلٹائے جاؤ گے ۔ (إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ ) ہر شے اللہ سے ہے اور اللہ کی طرف پلٹنے والی ہے ۔
ا س نظام ہدایت کو خود خداوند متعال بیان فرمارہے ہیں ۔قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى ۔ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اسکی ہدایت کی ہے ، ہر شے کی ہدایت وہی نظام تکوینی ہے مثلا نطفہ کا بننا رحم میں آنا ، جما ہو اخون بن کر لوتھڑا بننا پھر ہڈیوں کا پیدا ہو نا اور اس پر گوشت کا چڑھنا اور بالآ خر روح کا پھو نکنا اور پھر شکم کی دنیا سے نکلنا پھر مراحل طے کرنا ، بچپنا، لڑکپن ، جوانی ، بڑھاپا ، بالآخر موت اور برزخ اور اس کے مراحل، قیامت اور اسکے مواقف ، یہ سب کچھ ایک بہترین نظام کے تحت واقع ہو رہاہے ، لذا فرمایا : الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الإنْسَانِ مِنْ طِينٍ
اللہ وہ ہے جس نے ہر شے کو احسن اور بہترین خلق فرمایا ہے ، حُسن کے آخری درجہ پر اس نے نظام خلقت کو ختم فرمایا ہے۔اس طرح ہر شی دوسری سے مربوط ہے کہ اگر پردہ اٹھا دیا جائے تو ایک امر نظر آئے گا ،و ما امرنا الا واحد ، ہمارا کوئی امر نہیں مگر ایک ، لذ اتحقیق سے روشن ہوا ہے کہ اگر کائنات کی تمام آوازیں جمع کریں تو منظم ہو کر ایک آواز اور موسیقی ہو گی ، لذا ہر شے اپنے مقام پر بہترین ہے کوئی شے حسن سے خالی نہیں اسی وجہ سے بعض معتقد ہیں اس جہان کا نام قوسموس یعنی حسِین رکھا جائے۔خلقت جہان کو ایک نظام تکوینی کے تحت ماننا مومنوں کی علامت ہے لذ اقرآن مجید میں ارشاد فرمایا ، وہ لوگ جو اٹھتے بیٹھتے اللہ کی یاد میں ہیں آسمانوں اور زمین کی خلقت میں فکر کرنے والے ہیں تو وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے اس جہان کو باطل اور بلانظم خلق نہیں فرمایا ، تیری ذات اس سے پاک و منزہ ہے پس ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا(الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ )
پس مومنین زمین اور آسمان میں فکر کر کے اس نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں کہ خلقت ایک نظام کے تحت ہے لذا جَو کاشت کریں تو گندم پیدا نہیں ہو گی برا کام انجام دیں تو ثواب نہیں ملے گا۔اور دوسری طرف جو اس نظام تکوینی کا قائل نہیں اسے کافر کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔ذالک ظن الذین کفروا! کافروں کا نظریہ ہے اور یہ نظریہ باطل ہے اس لیے اللہ نے انکے نظریے کو گمان سے تعبیر فرمایا۔پس ذرہ سے لیکر فلک تک ،پہلے جہان سے لیکر آخری جہان تک دنیا سے لیکر آخرت تک ، لوح ، قلم ، عرش و کرسی ، جنت و جہنم سب ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں جسے نظام تکوینی کہا جاتا ہے ۔
نظام تشریعی
نظام قوانین شریعت ایک نظام تشریعی ہے اصول و فروع اخلاق و احکام ، امر و نہی سب ایک نظام کے تحت ہیں جنہیں اللہ کا تشریعی نظام کہا جاتا ہے ۔حجۃاللہ ہر دو نظام الھیٰ کی ضرورت ہے حجۃ اللہ کے بغیر کوئی نظام الھیٰ نہیں چل سکتا لہذا حضرت امام رضا × امامت کی تعریف میں ارشاد فرماتے ہیں ۔
(إِنَّ الْإِمَامَةَ زِمَامُ الدِّينِ وَ نِظَامُ الْمُسْلِمِينَ وَ صَلَاحُ الدُّنْيَا وَ عِزُّ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ الْإِمَامَةَ أُسُّ الْإِسْلَامِ النَّامِي وَ فَرْعُهُ السَّامِي‏ )تحقیق امامت دین کی باگ ڈور ہے مسلمانوں کا نظام ہے دنیا کی مصلحت ہے مومنوں کی عزت ہے ،تحقیق امامت نشوونما پانے والے اسلام کی جڑ اور بنیاد ہے اور اسلام کی بلند چوٹی بھی ہے ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے جو شی صادر ہو وہ ایک نظام اور قانون کے تحت ہے پورے نظام کی اصل اور اساس امام حجۃ اللہ ہے ، جس پر وہ شے واقع ہوتی ہے ۔ پھر کائنات میں اپنے مقام پر قرار پائی ہے اس الھیٰ نظام میں حجۃ اللہ تمام عالمین سے بلند اور ذات ِ واجب کے تحت واقع ہے اگر مخلوق اور اللہ کے درمیان نظام میں امامت نہ ہو اور امام حجۃ اللہ بن کر موجود نہ ہو تو اصلا جہان پیدا ہی نہیں ہو گا جسطرح کہ جہان کے پیدا ہونے کے بعد حجۃ اللہ کو اٹھا دیا جائے تو جہان باقی نہیں رہے گا ، پس حجۃ اللہ کا مقام روشن ہو گیا کہ حجۃ اللہ مقامِ و ساطۃ الھیّہٰ ہے۔ ہر نزول اور صعود میں حجۃ اللہ واسطہ فیض ہے ۔
دلائل
حجۃ اللہ کے اس مقام پر استدلال کرنے کے لیے اور اس حقیقت کو کشف کرنے کے لیے مذکورہ بالا ابواب میں آئمہ ^ سے صادر ہونے والی نورانی احادیث میں براہین کشف ہوتے ہیں ، جنکی طرف اجمال کے ساتھ اشارہ ہوا چاہتا ہے ۔
دلیل اوّل
امام صادق × نے ایک زندیق کے لیے حجۃ اللہ کی ضرورت پر اس طرح استدلال فرما یا : جب ثابت ہو اکہ ہمارا یک خالق اور صانع ہے جو تما م مخلوق سے ارفع اور بلند ہے کہ اسکی بلندی کو تصور نہیں کیا جا سکتا اور مخلوق پستی کی انتہا پر واقع ہے دوسری طرف یہ کہ اس نے خلقت عبث و فضول نہیں کی بلکہ اس حکیم مطلق نےایک حکمت اور نظام پر خلق فرمایا ہے ۔
تیسری طرف یہ ہے کہ اس حکمت کے تحت نظام ہو جو مخلوق کو خالق سے مربوط کرے اور اس خالق کے قوانین احکام ہوں جن پر مخلوق عمل کر کے اپنے ہدف خلقت کو حاصل کرے تو یہاں پر ضرورت ہے کہ وہ مخلوق اپنے خالق کا مشاھدہ کر سکے اور مخلوق اپنے خالق کے روبرور ہو کر اپنے مسا ئل کا حل حاصل کرے مخلوق اپنے عمل و کردار کے لحاظ سے اپنے احکام اور نظام کے نافذ کرنے کے لیے مخلوق پر احتجاج کرے اور حجت قائم کرے ۔ جبکہ یہ سب کچھ ذاتِ خالق کے لیے جائز نہیں نہ اسکا سر کی آ نکھ سے مشاھدہ کیا جا سکتا ہے نہ مخلوق اسکے روبرو ہو کر اسے چھو سکتی ہے کیونکہ اسکا لازمہ یہ ہے کہ خالق جسم میں محدود ہو جائے جو خالق حقیقی کے لیے ممتنع اور محال ہے اللہ خالق جسم ہے لیکن جسم نہیں ۔
تو یہاں پر ایک موجود کی ضرورت ہے جو اس مخلوق سے مافوق اور بلند ہو ۔جو اس جسم کے رکھتے ہو ئے ایک جو ہر کو رکھتاہو جسکے ذریعہ وہ اسکا مشاہدہ کرے اور رابطہ قائم کرے اس سے اس کے احکام لے کر اس کی مخلوق تک پہنچائے اور مخلوق کو خالق سے مربوط کر دے اب یہ موجود وہی ہے کہ جسے اللہ نے حجۃ اللہ قرار دیا ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ نے اپنی مخلوق پر احتجاج اور استدلال قائم فرمائے گا چاہے نظام تکوین ہو چاہے نظام تشریع ہو اب یہ حجۃ اللہ نبی ہو یا رسول ہو یا امام ہو ۔ البتہ اللہ کی بڑی حجت امام معصوم علیہ السلا م ہیں ۔
دلیل دوّم
امام × حجۃ اللہ کو عالمین اور تمام جہانوں میں قلب اور دل قرار دے رہے ہیں جسطرح جسم انسان میں قلب اور دل ہے اور باقی اعضاء اس سے قائم اور باقی ہیں اسی طرح تمام جہانوں کی ہر شے امام سے قائم اور باقی ہے ۔
اس باب کی تیسری حدیث یہی مطلب بیان کر رہی ہے ۔ ھشام ابن حکم نے عمرو ابن عبید سے مسجد بصرہ میں مناظرہ کر کے اس حقیقت کو ثابت کیا اور یہ استدلال کچھ اس قدر عظیم اور محکم تھا کہ امام صادق × نے ہشام کو فرمایا : کہ ایک مرتبہ بتا کہ تم نے عمرو ابن عبید کو کیسے خاموش کیا ؟
اور کس انداز میں تو نے استدلال قائم کیا؟ تو ہشام نے عرض کی ۔مولیٰ مجھے شرم آتاہے کہ آپ حجۃ اللہ کے سامنے اما م پر حجت قائم کروں؟حضرت نے فرمایا : جب کسی شے کاا مر کروں تو پھر انجام دینا لازم اور واجب ہے تو اب ہشام سمجھا کہ اس میں حکمت اور راز ہے گویا کہ اس استدلال کو امام بطور حجت قیا مت تک باقی رکھنا چاہتے ہیں اب جبکہ امر ِ امام ہے تو واجب سمجھ کر ادا کروں۔اور حضرت کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ ایک مناظرہ تاریخی بن کر نہ رہے بلکہ ایک برھا ن عظیم بن کر حجۃ اللہ کے ایک مقام کو روشن کرئے ۔ تو اب ہشام ابن حکم نے عرض کیا کہ میں مسجد بصرہ میں پہنچا تو مسجد کھچا کھچ بھری تھی درمیان میں عمرو ابن عبید بیٹھا لوگوں کے سوالوں کا جواب دے رہا تھا میں نزدیک ہو اور زانو پر بلند ہو کر کہا اے عالم میں مسا فر ہوں مجھے سوال کرنے کی اجازت ہے ؟ اس نے مجھے اجازات دی تو میں نے کہا :آیا تیری آ نکھ ہے ؟ تو اس نے کہا یہ کوئی سوال ہے ؟ جسے تو دیکھ رہا ہے پھر اس کا سوال کر رہا ہے ؟
ہشام نے کہا میرا سوال اسی طرح کا ہے تو اس نے کہا اچھا پوچھ! اگر چہ تیرا سوال بےوقوفوں والا ہے تو میں نے کہا تیری آ نکھ ہے ؟ اس نے کہا ہاں ہے ۔میں نے کہا تو آ نکھ سے کیا کرتا ہے ؟ تو اس نے کہا اس کے ذریعہ ر نگ اور اشخاص دیکھتا ہوں پھر میں نے پو چھا تیرا ناک ہے ؟ اس نے کہا ہاں ہے ، میں نے کہا تو اس ناک سے کیا کر تا ہے ؟ اس نے کہا میں اس سے بو سونگھتا ہوں میں نے کہا تیرا منہ ہے اس نے کہا ہاں ہے میں نے اس سے کہا تو اس سے کیا کرتا ہے ؟ اس نے کہا میں اس سے ذائقہ اور مزہ چکھتا ہوں ۔ میں نے کہا تیرا کان ہے ؟ اس نے کہا ہاں ؛ میں نے کہا اس سے تو کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا اس کے ذریعہ آواز سنتا ہوں میں نے کہا کیا تیرا دل ہے ؟ اس نے کہا ،ہاں ہے میں نے کہا اس سے کیا کرتا ہے ؟ اس نے کہا میں دل کے ذریعہ ہر وہ شے جو ان اعضاء اور جوارح پر وارد ہوتی ہے تمیز دیتاہوں ( مثال کے طور پر رنگ ہے کو ن شخص ہے کیسی بو ہے کس کی بو ہے کو ن سا مزہ ہے کس شی کا مزہ ہے ؟) تو میں نے کہا کیا اعضاء دل سے بے نیاز نہیں ہو سکتے؟ اس نے کہا نہ نہیں ہو سکتے میں نے کہا کیوں جب کہ یہ اعضاء صحیح و سالم ہیں تو اس نے کہا اے میرے بیٹے ( کیونکہ ہشام بن حکم جوان تھے اور وہ ایک پکی عمر کا مرد تھا) جب اعضاء کسی شے میں شک کریں بو ہو یا ذائقہ مشہود ہو یا مسموع تو وہ اعضاء اس دل کی طرف پلٹتے ہیں ا ور دل یقین عطا کرتا ہے اور شک کو باطل کرتاہے تو میں نے کہا کہ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے دل کواعضاء جوارح کے شک کو زائل کرنے کے لیے قائم کیا ہے ؟ اس نے کہا ہاں! میں نے کہا؛ پس دل کا ہونا ضروری ہے ورنہ اعضاء و جوراح یقین حاصل نہیں کرپائیں گے ( دوسرے لفظوں میں ہشام نے کہا بس دل ، اعضاء کی ضرورت ہے ؟) تو اس نے کہا ہاں ایسا ہی ہے ۔
تو اس وقت میں نے کہا اے ابو مروان !اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیرے اعضاء و جوراح کو ایسا نہیں چھوڑا یہاں تک کہ انکے لیے امام قرار دیا جو انکے لیے صحیح کو صحیح قرار دے جس میں وہ شک کریں انہیں یقین عطا کرے ۔کیااسی خدا نے پوری مخلوق کو شک و حیرانی میں چھوڑ دیا ہے کہ یہ اسی طرح اختلافات میں باقی رہیں اور اس پوری مخلوق کے لیے امام اقرر نہیں دیا ، جس کی طرف یہ اپنے شک اور حیرانی کو لے جائیں؟ جبکہ اس اللہ نے تیرے لیے امام قرار دیا ہے کہ تیرے اعضاء اپنی حیرت اور شک کو اسکی طرف لے جاکر یقین حاصل کریں ؟ ہشام کہتے ہیں وہ چپ ہو گیا اس کے بعد اس نے کچھ نہیں کہا اور فکر کرنے کے بعد کہا تو ہشام بن حکم ہے آخر پر امام صادق× نے ہشام کو ارشاد فرمایا:یہ برھان تجھے کس نے تعلیم فرمایا ہے ؟ تو اس نے عرض کیا ایک مطلب آپ سے لیا اور اسے ترتیب دے کر بیان کیا تو امام نے ارشاد فرمایا (ھذا واللہ مکتوب فی صحف ابراھیم و موسیٰ )یہ برھان اللہ کی قسم! حضرت ابراہیم اور موسیٰ ‘ کے صحیفوں میں مکتوب ہے،جس طرح دل، اعضا کی ضرورت ہے اسی طرح امام جہان کی ضرورت ہے جسطرح اعضاء دل سے مربوط ہیں اسی طرح پورا جہان امام سے مربوط ہے ۔ جسطرح اعضاء دل سے قائم اور باقی ہیں اسی طرح پورا جہان امام حجۃ اللہ سے قائم اور باقی ہے جس طرح دل کاحکم اور فیصلہ اصل واقعیت اور حقیقت ہے اسی طرح امام کا حکم اور فیصلہ واقعیت اور حقیقت ہے پس امام مخلوق میں قلب اور دل کی طرح ہے امام حجۃ اللہ کا جہان میں ہونا واجب اور ضروری ہے جسطرح قلب اور دل اعضاء اور جوارح پر حجت ہیں اسی طرح امام پوری مخلوق پر حجت ہے ۔
دلیل سوّم
جب ثابت ہو ا کہ ہمارا ایک خالق اور رب ہے اسی طرح اس خالق نے مخلوق کےلیے احکام اور قوانین بنائے ہیں کہ مخلوق جن پر عمل کر کے اپنے مقصد تک جا پہنچے ان احکام کے انجام دینے کے ساتھ خالق کی رضا ضروری ہے کہ خالق مخلوق پر راضی ہو ورنہ عمل فضول اور باطل ہے ، رضایت اور ناراضی ایک نفسانی عمل ہے اور ایک کیفیت نفسانی ہے اور ہمارا خالق اور ربّ اس سے منزہ ہے کیونکہ کیفیت کا لازمہ تغییر ہے رضا سے ، غضب کی طرف اورغضب سے رضا کی طرف ، یہ تبدیلی اس میں ہوتی ہے جو محل حواداث نہیں ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ محل حوادث بنےاور یہ رضااور غضب حادث ہیں جبکہ ہمارا خالق قدیم ہے جسطرح امام صادق × نے جواب دیا جس نے اللہ کی رضا اور غضب کے بارے میں سوال کیا ہے( عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ عَنْ هِشَامِ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع عَنِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَهُ رِضًى وَ سَخَطٌ قَالَ نَعَمْ وَ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى مَا يُوجَدُ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ وَ ذَلِكَ لِأَنَّ الرِّضَا وَ الْغَضَبَ دَخَّالٌ يَدْخُلُ عَلَيْهِ فَيَنْقُلُهُ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ مُعْتَمِلٌ مُرَكَّبٌ لِلْأَشْيَاءِ فِيهِ مَدْخَلٌ وَ خَالِقُنَا لَا مَدْخَلَ لِلْأَشْيَاءِ فِيهِ وَاحِدٌ أَحَدِيُّ الذَّاتِ وَ أَحَدِيُّ الْمَعْنَى فَرِضَاهُ ثَوَابُهُ وَ سَخَطُهُ عِقَابُهُ مِنْ غَيْرِ شَيْ‏ءٍ يَتَدَاخَلُهُ فَيُهَيِّجُهُ وَ يَنْقُلُهُ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ فَإِنَّ ذَلِكَ صِفَةُ الْمَخْلُوقِينَ الْعَاجِزِينَ الْمُحْتَاجِينَ وَ هُوَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ لَا حَاجَةَ بِهِ إِلَى شَيْ‏ءٍ مِمَّا خَلَقَ وَ خَلْقُهُ جَمِيعاً مُحْتَاجُونَ إِلَيْهِ إِنَّمَا خَلَقَ الْأَشْيَاءَ لَا مِنْ حَاجَةٍ وَ لَا سَبَبٍ اخْتِرَاعاً وَ ابْتِدَاعاً ۔
امام فرماتے ہیں : رضا اور غضب اور غصہ اللہ میں اس طرح نہیں ہے جس طرح مخلوق میں پایا جا تا ہے اور وہ یہ ہے کہ رضا اور غصہ مخلوق پر داخل ہو تا ہے اور اسے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کر دیتا ہے اور یہ عاجز اور محتاج مخلوق کی صفت ہے در حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ جو عزیز اور رحیم ہے وہ اپنی مخلوق میں سے کسی کا بھی ذرہ برابر محتاج نہیں ہے اور اس نے سب کو اپنی طرف محتاج خلق فرمایا ہے اور تحقیق اللہ نے اشیاء کو بغیر احتیاج اور سبب کے خلق فرمایا ہے ۔ پس یہاں مخلوق اور خالق کے درمیان ایک موجود ہونا ضروری ہے جنکی رضا اللہ کی رضا اور انکی ناراضی اللہ کی ناراضی ہو اور وہ موجود حجۃ اللہ ہے لذا مخلوق کو اپنے خالق کی رضا معلوم کرنے کے لیے حجۃ اللہ کی ضرورت ہے کہ اللہ مخلوق پر حجۃ تمام فرمائے کہ ان کی رضا یت میں میری رضا یت ہے اور انکی ناراضی میں میری ناراضی ہے ۔
پس حجۃ اللہ ،اللہ کی رضا اور ناراضی کا میزان ہے ؛لذا اس کا وجود ضروری ہے اصول کافی کے اسی باب کی تیسری حدیث میں امام صادق× ارشاد فرماتے ہیں۔ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَحْيَى عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع إِنَّ اللَّهَ أَجَلُّ وَ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يُعْرَفَ بِخَلْقِهِ بَلِ الْخَلْقُ يُعْرَفُونَ بِاللَّهِ قَالَ صَدَقْتَ قُلْتُ إِنَّ مَنْ عَرَفَ أَنَّ لَهُ رَبّاً فَيَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَعْرِفَ أَنَّ لِذَلِكَ الرَّبِّ رِضًا وَ سَخَطاً وَ أَنَّهُ لَا يُعْرَفُ رِضَاهُ وَ سَخَطُهُ إِلَّا بِوَحْيٍ أَوْ رَسُولٍ فَمَنْ لَمْ يَأْتِهِ الْوَحْيُ فَقَدْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَطْلُبَ الرُّسُلَ فَإِذَا لَقِيَهُمْ عَرَفَ أَنَّهُمُ الْحُجَّةُ وَ أَنَّ لَهُمُ الطَّاعَةَ الْمُفْتَرَضَة ۔
جس نے یہ معرفت حاصل کر لی ہے کہ اس کا رب ہے بس اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ معرفت بھی حاصل کرے کہ اس رب کی رضا اور ناراضی کیا ہے؟ اس رب کی رضا اور غصب کی معرفت حا صل نہیں ہو سکتی مگر وحی کے ذریعہ یا رسول کے ذریعہ پس جس پر وحی نازل نہیں ہوتی اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوؤں کی تلاش کرے پس جب ان سے ملاقات ہو گی تو معرفت آ جائے گی کہ وہی حجت ہےاور تحقیق ا نہی کے لیے اطاعت فرض اور واجب ہے۔حجۃ اللہ کی اطاعت سے اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور حجۃ اللہ کی نافرمانی میں اللہ کاغضب ٹوٹ پڑے گا، لذا حجۃ اللہ واجب الاطاعت ہے پس حتما ًاور یقیناً حجۃ اللہ معصوم ہے ۔
توحید صدوق اور معانی الاخبار اور بحار ج،۴۔ح،۶۔ص،۶۵ پرحدیث ہے کہ اما م صادق × نے (فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرمایا: يد، [التوحيد] مع، [معاني الأخبار] بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الْبَرْقِيِّ عَنْ أَبِيهِ يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَلَمَّا آسَفُونا انْتَقَمْنا مِنْهُمْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَا يَأْسَفُ كَأَسَفِنَا وَ لَكِنَّهُ خَلَقَ أَوْلِيَاءَ لِنَفْسِهِ يَأْسَفُونَ وَ يَرْضَوْنَ وَ هُمْ مَخْلُوقُونَ مُدَبَّرُونَ فَجَعَلَ رِضَاهُمْ لِنَفْسِهِ رِضًى وَ سَخَطَهُمْ لِنَفْسِهِ سَخَطاً وَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ جَعَلَهُمُ الدُّعَاةَ إِلَيْهِ وَ الْأَدِلَّاءَ عَلَيْهِ وَ لِذَلِكَ صَارُوا كَذَلِكَ وَ لَيْسَ أَنَّ ذَلِكَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كَمَا يَصِلُ إِلَى خَلْقِه۔
تحقیق ا للہ تبارک و تعالیٰ اس طرح متاسف نہیں ہو تا جس طرح ہم افسوس کرتے ہیں لیکن اس نے اپنے لیے او لیاء خلق فرمائے ہیں جو متاسف ہوتے ہیں اور راضی ہوتے ہیں وہ مخلوق ہیں جن کی تد بیر کی گئی ہے پس اللہ نے انکی رضا کو اپنی لیے رضا قرار دیا ان کی ناراضی کو اپنے لیے ناراضی قرار دیا اس لیے انہیں اپنی طرف داعی قرار دیا اور اپنے اوپر دلیل اور حجت قرار دیا اور وہ اولیاء اس طرح ہوگئے۔ اللہ تک ویسے رضا و غضب نہیں پہنچتا جس طرح مخلوق کی طرف پہنچتا ہے ۔
چوتھی دلیل
چوتھی دلیل امام × کی ضرورت پر یہ ہے کہ امام قیّمُ القرآن ہے اور قیّم القرآن کا ہونا ضروری ہے پس امام × کا وجود ضروری ہے امام قیّم قرآن ہے اس پر دلیل حضرت ا مام صادق× کی فرمائش ہے جسےمرحوم کلینی نے کتاب الحجۃ کے پہلے باب کی دوسری حدیث میں نقل فرمایا ہے ۔
منصور ابن حازم نے امام صادق× کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپکی خدمت میں امامت اور امام کے وجود پر اس طرح استدلال پیش کرتا ہوں کہ میں نے لوگوں سے کہا ! آیا جانتے ہو کہ رسول خداﷺ اللہ کی طرف سے پوری مخلوق پر حجت ہیں ؟ انھوں نے کہا ہاں جانتے ہیں پس جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے چلے گئے پھر مخلوق پر اللہ کی حجت کون ہے ؟ پس انھوں نے کہا قرآن ، اب جب قرآن میں غور فکر کیا کہ سنی ہے جو مولا علی × کو چوتھی جگہ پر مانتے ہیں قدری کہ خدا کو فاعل مختار نہیں مانتے یا انسان کو خدا سے مستقل مانتے ہیں یہ سب لوگ اور حتیٰ کہ زندیق جو اس قرآن پر ایمان نہیں رکھتا ہر ایک قرآن سے استدلال کر رہا ہے ۔فعرفت انّ القرآن لایکون حجۃ الا بِقیّم ؛ پس میں نے عرفان پایا کہ تحقیق قرآن حجت نہیں ہو سکتا مگر قیم کے ساتھ (فما قال فیہ من شی کا ن حقاً)پس وہ قیم اس قرآن جو فرمائے گا وہی حق ہو گا۔اب میں نے کہا وہ قیم قرآن کون ہے ؟ تو اس وقت معلوم ہوا کہ حضرت علی× کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ جس سے بھی قرآن کے بارے میں پوچھا گیا کسی نہ کسی مقام پر اس نے کہا”لااَدری ” میں نہیں جانتا ؛ سوائے مولا علی ×کے ، کہ انھوں نے ہمیشہ فرمایا :”انااَدری” میں جانتاہوں اور کھبی “لااَدری”نہیں فرمایا:
فَاشھد ان علیاََ × کان قیّم القرآن و کانت طاعتہ مفتر ضۃ و کان الحجۃ علی النّاس بعد رسول ﷺ و ان ما قال فی القرآن فھو حقّ
پس میں نے شھادت دی کہ تحقیق علی ×قرآن کے قیم ہیں اور انکی اطاعت فرض ہے اور وہ لوگوں پر رسول اللہ کے بعد حجت ہیں پس جو علی × قرآن میں فرما ئیں گے وہی حق ہے ۔جب امام صادق × نے یہ استد لال سماعت فرمایا تو ارشاد فرمایا: (رحمک اللہ) اللہ تیرے اوپر رحمت نازل فرمائے اور جس کے بارے امام رحمت کی دعا کریں وہ خود دربار رحمت خدا میں کتنا غرق ہو گا، پس اس حدیث سے امام کا قرآن کے لیے قیم ہونا ثابت ہو گیا ۔اب اہم یہ ہے کہ اس قیّم کے معنی کو سمجھنا ہو گا ۔
معنی قیّم
یہ مادہ” ق،و،م” سے ہے واو علم صرف کے قواعد کے مطابق واو یا میں بدل جاتی ہے یہ اصل میں” قَیوِم یا قَوِیم “بروزن فیعل یا فعیل “ہے کہ اسے قیام سے لیا گیا ہے اس لفظ کے اصلی معنیٰ میں عمل کا بالفعل ہونا ضروری ہے وہ عمل جیسا ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے عمل مادّی ہو یا معنویٰ، عمل پر قائم ہونا یعنی عمل بالفعل محقق اور باقی ہے لہذا نماز قائم کرنا اور ہے اور نماز پڑھنا اور ہے بہرحال فعلیت عملی کا معنی ہر شے میں اس کے مطابق ہو گا اسی طرح یہ لفظ جس صیغہ میں جائے گا اس کے مطابق معنیٰ کیا جائے گا جبکہ یہ معنیٰ اصلی اس میں باقی رہے ۔اب قیم” صفت مشبّہ “ہے لذا مراد یہ ہوگی فعلیّت ہمیشہ اس میں محقق ہے؛لذا” قائم لنفسہ مقوم لغیرہ” ہے قیّم وہ ہے جسکی ذات قائم ہو اسکی ذات بالفعل ہو اور اس میں قوت و استعداد نہ ہو بلکہ وہ جہت خاص میں بالفعل ہو ، اور اپنے غیر کو قیام دینے والا اور اسے با لفعل فعلیت پر باقی رکھنے و الا ہو، قیم محتاج اور ناقص نہیں ہوتا بلکہ بے نیاز اورتام و تمام اور کامل ہوتا ہے ۔اب یہ قیم یا مطلق ہے جیسے ذات حق واجب تبارک و تعالیٰ کہ جس میں کسی قسم کا نقص نہیں کیونکہ ہر جہت سے واجب الوجود ہے ہر کمال اس میں بالفعل بطور اتمّ موجود ہے، یا قیم خاص ہے جو اسی خاص جہت کے لحاظ سے بالفعل اس امر پر قائم ؛کامل اور تام ہو اور غیر کو بھی یہ فعلیت خاصہ عطا کرے ۔
اسے باقی رکھے گا اسے منحرف نہ ہونے دے مثال کے طور پرقیم القوم:وہ ہے جو قوم کے امور کی تد بیر کر کے ان کے امور کو قائم رکھے یعنی قوم کے مصالح اور مفاسد کو دیکھ کر ہمیشہ قوم کے لیے منافع تیار رکھے، ہر ایک کی ضرورت فردی اور اجتماعی کو بالفعل محقق کیے ہوئے ہو ۔
قیّم القران
اب جب قیّم کا معنیٰ روشن ہوا تو قیّم القرآن کون ہو گا ؟ جو قرآن کو قائم رکھے معلوم ہے کہ قرآن کو قائم رکھنے والا خود قائم ہو گا اور کم از کم قرآن کی طرح قائم ہو اور وہ ہو سکتاہے جو حقیقت قرآن رکھتا ہو اب حقیقت قرآن کیا ہے ؟ حق یہ ہے کہ ہم فقط لفظ کی حد تک درک کرسکتے ہیں ورنہ قرآن کی حقیقت کو خود نازل کرنے کرنے والا اللہ حکیم جانتا ہے یاو ہ جس پر نازل فرمایا کہ خاتم النبین ﷺ ہیں یا وہ حقیقت قرآن کو سمجھے گا جو خلیفۃ اللہ ہے اور نفس الر سول ہے ۔بہر حال قرآن کا قیم وہ ہو گا جو حقیقت قرآن کو واجد ہو اسکی ذات بالفعل حقیقت قرآنیہ ہو وہ قطعا قرآن کی ہر شے کا عالم ہو لفظ معنیٰ ،ظاہر ، باطن تفسیر تاویل ، محکم متشابہ ، عام خاص مطلق مقیّد، نا سخ و منسوخ ، خلاصہ قرآن کی ہر شان ہر مقام ، ہر مرتبہ کا عالم ہو وہ علم بھی اس علم کی طرح معمولی نہیں ہو گا بلکہ حقیقت علم جو اللہ علیم و عالم سے ان کے وجود میں نازل ہو اور وہ علم بالفعل ہو گا ہمیشہ ۔
لذا قیّم قرآن جو قرآن میں فرمائے گا وہی حق ہے حقیقت قرآن کو بیان کرنے والا ہے لذا اس کا بیان فصل الخطاب ہو گا اسکے علاوہ ہر قول باطل ہو گا تو اب ان لوگوں نے جو معنیٰ قرآن میں اختلاف کیا وہ ختم ہو جائے گا ،قیم قرآن نے جو فرمایا ہے اسکی اطاعت واجب ہو گی اور یہ قیم قرآن مخلوق پر حجت بن جائے گا۔
یہ قیّم قرآن وہی ہے جسے رسول اللہ نے قرآن کے مقابل میں دوسرا ثقلِ قرار دیا ہے اور یہ عِدل قرآن ہے، امام ×نے اسے قرآن ناطق کہاہے اور ہمیشہ ناطق صامت کے لیے قیّم ہوتا ہے کیونکہ حقیقت قرآن کو بیان کرنے والا ہے۔ لذا قرآن ناطق قرآن کا قیّم ہو سکتا ہے پس امام × قرآن کا قیم ہے ۔اور قرآن کے قیّم کا وجود ضروری ہے ۔اس لیے کہ قرآن ہمیشہ ہے اور ہمیشہ کے لیے ہدایت ہے لذاقیّم قرآن کی ہمیشہ ضرورت ہے قرآن اس سے کبھی بھی بے نیاز نہیں ہو سکتا ، اس لیے کہ یہ قرآن صامت ہے لذا اسے اپنے قیّم کی ضرورت ہے پس قیّم کا وجود ضروری ہے جس کے نتیجہ میں امام کا وجود قرآن کے قیم ہو نے کے لحاظ سے ضروری اور واجب ہے ۔
پانچویں دلیل
اما م حجۃ اللہ ہے جو اللہ کی دیگر حجتوں پر بھی حجت ہے اور جو اللہ کی حجتوں کی حجت ہو اس کا وجود ضروری ہے پس اما م جو حجۃ اللہ ہے اس کا وجود ضروری ہے ۔ الامام حجۃ اللہ علیٰ الحُجج: امام حجتوں پر اللہ کی حجت ہے ۔ شک و شبھہ ہی نہیں کہ خدا کیلئے حجتیں موجود ہیں ، جس طرح کہ ابتدا بحث حجت میں اشارہ ہو چکا ہے ۔ان حجتوں کی مختلف اقسام ہیں ۔ حجت فکری اور عی ض،دیگر حجت وجودی۔
حجت فکری اور عیس
یہ وہی استد لال ہے جو ہر اہل فکر کسی شی کے اثبات کے لیے قائم کرتا ہے اس حجت کا منشا کبھی فقط مقدمات ِ عقلی ہیں اور کبھی بعض عقلی ہیں اور بعض دیگر امور ہوتے ہیں اب وہ مقدمات یا یقینیات میں سے ہیں یاا سکے علاوہ کہ جو تفصیل کے ساتھ علم منطق میں بیان ہوا ہے ، اب کبھی آیات قرآ نیہ سے استد لال کیا جاتا ہے اور کبھی روایات اور احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے ، اسی طرح جن موضوعات پر استدلال اور حجت قائم کی جاتی ہے وہ بھی مختلف ہیں کھبی عقائد اسلامی پر کبھی احکام دین اور کبھی ان کے علاوہ دیگر موضوعات ہیں کہ جس پر حجتیں قائم کی جاتی ہیں ۔
حجت وجودی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات اپنے علم و قدرت اور اپنی حکمت اور عدالت پر موجودات کو حجۃ قرار دیا ہے ۔ہر مخلوق اور موجود میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفات کی نشانی و علامت موجود ہے کہ اہل انہیں درک کرنے کے بعد قدرت الھٰیہ کا اعتراف کرتا ہے تو وہ امور ان موجودات میں اہل افراد پر حجت بن جاتے ہیں بعض چیزوں کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بطور نمونہ قرآن مجید میں ذکر فرمایا ہے۔اجسام : جسموں میں ، زمین و آسمان ، پہاڑ ، چاند کہ یہ آیات الھیٰ ہیں جنکی خلقت میں قدرت اور علم اور حکمت د خیل ہے لہذا پس ان کے خالق کے عالم قادر اور حکیم ہونے پر یہ حجت ہے قرآن مجید اسے “آیت” کے نام سے یاد کرتا ہے اعراض: اعراض میں شب و روز کا آنا اور جانا ، یہ زمانہ ایک حجت ہے ۔
انسان: خلقت انسان اور انسان کی تمام قو تیں اور صلاحیتں اللہ کی قدرت اور حکمت کی نشانیاں ہیں ، پس یہ امور انسان پر حجت ہو جائیں گی کہ اس یکتا پرایمان لے آئے ۔حیوانات: شہد کی مکھی ، چونٹی ، اونٹ اور دیگر امور۔انبیاء اور مرسیلین: وجود نبی و رسول مخلوق پر حجت ہیں ۔ معجزات: انبیاء کے معجزے اللہ کی طرف سے مخلوق پر حجت ہیں اسی طرح حجت مراتب کے لحاظ سے تقسیم ہو گی۔
ایک وہ حجت جو مر تبہ علم الیقین میں قائم کی جاتی ہے دوسرا مرتبہ وہ حجت جو مقام عین القین مین قائم کی جاتی ہے تیسرا مر تبہ وہ حجت جو مقام حق الیقین پر قائم کی جاتی ہے اسی طرح وجود کے مراتب کے لحاظ سے حجت مرا تب پیدا کرے گی وہ حجت جو عالم طبعیت میں حجت دوسرا وہ جو عالم ملکوت میں بھی حجت ہے پس جو موجود رتبہ وجودی میں سب سے اعلیٰ ہو گا وہ سب سے اعلیٰ حجۃ ہو گی اور وجود امام ممکنات میں اعلیٰ ہے جس طرح کہ ثابت ہو چکا ہے پس امام تمام موجودات ممکنہ سے اعلیٰ ہے اس لئے کہ مخلوق اور خالق کےدرمیان امام واسطہ وجودی ہے اللہ کی وہ حجت ہے جو دیگر تما م حجتوں پر حجت ہو گی جسطرح ذاتِ اللہ بتارک وتعالیٰ تمام موجودات حتیٰ کہ امام پر حجت ہے اور امام تمام جہاں کے موجودات کے لیے قلب اور دل کا مقام رکھتا ہے پس وجود کے لحاظ سے اعلیٰ ہے ۔علمی زبان میں اس اعلیٰ وجود کو صادر اول ،خلق اول ، وجود منبسط کہتے ہیں فیض اقدس اور مقدس ، رق منشور کہ حقیقت وجود کو تشکیل دیتے ہیں جنہیں اپنے مقام پر تفصیل سے ثابت کیا گیا ہے ۔اور جو اعلیٰ ہو وجود کے لحاظ سے تو وہ دیگر موجودات پر حجت ہیں جسطرح اللہ تبارک وتعالیٰ تما م پر حجت ہیں حتیٰ امام× پر بھی حجت ہے وہ حجت ہونے کے لحاظ سے بھی حجت ہو گا تو امام ہو گا حجۃ اللہ العظمیٰ اللہ کی سب سے عظیم حجت، قرآن میں اسے حجۃ بالغہ کہا گیا ہے جو ہر ایک تک پہنچی ہوئی حجت ہے ادنیٰ سے لیکر اعلیٰ وجود تک امام پر پہنچی ہے پس یہاں اللہ کی حجت عظمیٰ اور حجت بالغہ ،باقی تمام حجتوں پر حجت ہو گی جسطرح اللہ تبارک و تعالیٰ تمام مخلوق حتیٰ کہ امام پر بھی حجت ہے ۔
چودہ معصومین ^ تمام پر حجت ہیں تمام انبیاء اور مرسلین پر حجت ہیں یہ مطلب کہیں کسی کے لیے بھاری نہ ہو تو عرض یہ ہے شیعہ اثنا عشریہ کے نزدیک یہ مسلمات میں سے ہے اور شیعہ محّدثین نے پورا باب قائم کیا ہے جسطرح علامہ مجلسی ؒ نے بحار الانوار کتاب الامامۃ میں ایک باب قائم کیا ہے ۔
تفضيلهم ع على الأنبياء و على جميع الخلق و أخذ ميثاقهم عنهم و عن الملائكة و عن سائر الخلق و أن أولي العزم إنما صاروا أولي العزم بحبهم صلوات الله عليهم ،آئمہ ^ تفضیل یعنی انکو فضیلت دینا انبیاء اور پوری مخلوق پر آئمہ ^ کا عہد و میثاق ، انبیاء ^ سے تمام ملائکہ اور باقی پوری مخلوق سے لینا اور تحقیق اولوالعزم نبی ،آئمہ ^ کی محبت اور مودت سے اولو العزم بنے ہیں ۔ اس باب میں( ۸۸ ) اٹھا سی احادیث نقل ہوئی ہیں ۔
اسی طرح آئمہ ^ اہل بیت نبوت ہیں ۔ جنکی ولایت کے اقرار کے بعد نبوت کے گھر آئمہ ^ سے نبوت حاصل کرتے ہیں آئمہ ^ کی معرفت اور محبت اور ولایت پر ایمان کے درجہ کے مطابق انبیاء کو نبوت کے درجے عطا کیے گئے ہیں ، تو یہ ذہن کو دور نہ لگے کہ معصومین^ تمام انبیاء پر بھی حجت ہیں؟ حضرت ابراہیم × اور موسیٰ × تو آئمہ ھدیٰ ^ کے شیعہ ہونے پر فخرکرتےہیں اور تمام انبیاء ، خاتم المرسلین کے امتیوں میں شمار ہوں گے تو اب کھلے دل سے یہ اعتقاد ہو کہ آئمہ ^ انبیاء ^ پر حجت ہیں ۔حجۃ اللہ علی الحجج! کا وجود ضروری ہے ۔
اس لیے کہ اگر اس حجۃ اللہ العظمیٰ کا وجود نہ ہو تو دیگر حجتیں باقی نہیں رہیں گی کیونکہ حجت وہ ہوتی ہے جو قیم ہواس کے لیے جس پر وہ حجت ہے جسطرح زمین و آسمان حجۃ اللہ کے بغیر باقی نہیں رہ سکتیں۔ کیونکہ یہ ارتباط وجودی ہے ،حجۃ اللہ کا مخلوق سے جدا ہونا ممکن نہیں اسی طرح حجۃ اللہ العظمیٰ کا دیگر تمام حجتوں ہے وجودی ارتباط ہے لذا سب حجتیں اس حجت کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی پس حجۃا للہ علیٰ الحجج !کا وجود ضروری ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ امام کا وجود اللہ کی حجتوں کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے ۔اس حقیقت کو درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے ۔ أَنَّهُ سَمِعَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ع يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ حُجَّةٍ لَكَ عَلَى خَلْقِكَ ظَاهِرٍ أَوْ خَافِي [خَافٍ‏] مَغْمُورٍ لِئَلَّا تَبْطُلَ حُجَجُكَ وَ بَيِّنَاتُكَ ۔
علل الشرائع میں د عا کے انداز میں ہے :قول أمير المؤمنين ع اللهم إنك لا تخلي الأرض من حجة على خلقك إما ظاهرا مشهورا أو خائفا مغمورا لئلا تبطل حججك و بيناتك ، کہ کمیل ابن زیاد کو امیرالمو منین نے ار شاد فرمایا : عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ كُمَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيّاً ع يَقُولُ فِي كَلَامٍ طَوِيلٍ اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَا تُخَلِّي الْأَرْضَ مِنْ قَائِمٍ بِحُجَّة ،آ گے تمام حدیث جسطرح گزر چکی ہے ۔ یہ حدیث مختلف راستوں سے صادر ہوئی ہیں جس میں امیر المومنین علی × ار شاد فرماتے ہیں : بارگاہ حق میں دعا کے انداز میں کہ میرے اللہ تو نے زمین کو ایک قائم سے جو اللہ کی حجت ہے خالی نہیں رکھا اب وہ حجۃ اللہ ظاہر اور عیان ہو یا غیب کے پردوں میں مخفی ہو اس لیے حجۃ اللہ کا ہونا ضروری ہے تا کہ اللہ کی حجتیں اور بینات باطل نہ ہو جائیں ۔امام اللہ کی حجتوں کو باطل نہیں ہونے دیتا بلکہ انہیں باقی رکھتا ہے جسطرح شعاع، سورج سے اور اثر مؤثر سے قائم ہے اسی طرح تمام اللہ کی حجتیں حجۃ اللہ العظمیٰ سے قائم ہیں لذ ا اللہ کی حجت ِعظمیٰ کا وجود ضروری ہے ۔
چھٹی دلیل : اللہ کی حجت تمام جہانوں پر حجت ہے
حجۃ اللہ تمام جہانوں پر حجت ہے ، جو تمام جہانوں پر حجت ہو ان جہانوں میں اس کے وجود کا ہو نا ضروری ہے پس حجۃ اللہ کا وجودان جہانوں میں ضروری ہے ۔
حجۃ اللہ تمام جہانوں پر حجت ہے
یہ مطلب روایات میں یقنیات میں سے ہیں ۔
۱۔ زمین پر حجت: امام صادق× نے فرمایا ! قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ لَوْ لَمْ يَبْقَ فِي الْأَرْضِ إِلَّا رَجُلَانِ لَكَانَ أَحَدُهُمَا الْحُجَّةَ ،اگر زمین پر کوئی بھی باقی نہ رہے مگر دو شخص تو ان میں ایک قطعا حجت ہو گا۔امام باقر × نے فرما تے ہیں: عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قَالَ وَ اللَّهِ مَا تَرَكَ اللَّهُ أَرْضاً مُنْذُ قَبَضَ آدَمَ ع إِلَّا وَ فِيهَا إِمَامٌ يُهْتَدَى بِهِ إِلَى اللَّهِ وَ هُوَ حُجَّتُهُ عَلَى عِبَادِهِ وَ لَا تَبْقَى الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ حُجَّةٍ لِلَّهِ عَلَى عِبَادِهِ ۔ زمین اللہ کی حجت جو اس کے بندوں پر ہے اس کے بغیر باقی نہیں رہے گی۔نیز امام باقر × نے فرمایا: لا تبقیٰ الارض بغیر ِِ امام ظاھر او باطن ِِ ۔امام ظاہر یا باطن (غائب) کے بغیر زمین باقی نہیں رہے گی ۔ اس مفہوم میں روایات تو اتر معنوی تک پہنچی ہوئی ہیں جس سے یہ معنیٰ واضح ہے کہ امام زمین پر اللہ کی حجت ہے ۔
۲۔ دنیا و آخرت پر حجت: زیارت جامعہ کبیرہ میں ہے : حجج اللہ علی اھل الدنیا و الآخرۃ و لاولیٰ۔آئمہ ^ اہل دنیا اور اہل آخرت اول و آخرین پر اللہ کی حجتیں ہیں ۔
امام صادق × فرماتے ہیں : عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ عَالَمٍ كُلُّ عَالَمٍ مِنْهُمْ أَكْبَرُ مِنْ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ وَ سَبْعِ أَرَضِينَ مَا يَرَى عَالَمٌ مِنْهُمْ أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَالَماً غَيْرَهُمْ وَ إِنِّي الْحُجَّةُ عَلَيْهِم‏،
تحقیق اللہ تبارک و تعالیٰ کےلیے 12 ہزار جہان ہیں ہر جہان سات زمین و آسمان سے بڑا ہے ان جہانوں میں سے جسے دیکھا جاتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے ان کے علاوہ جہان ہے اور تحقیق میں ان سب پر حجت ہوں ۔نیز امام صادق × فرماتے ہیں : قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ مَا مِنْ شَيْ‏ءٍ وَ لَا مِنْ آدَمِيٍّ وَ لَا إِنْسِيٍّ وَ لَا جِنِّيٍّ وَ لَا مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ إِلَّا وَ نَحْنُ الْحُجَجُ عَلَيْهِمْ وَ مَا خَلَقَ اللَّهُ خَلْقاً إِلَّا وَ قَدْ عُرِضَ وَلَايَتُنَا عَلَيْهِ وَ احْتُجَّ بِنَا عَلَيْهِ فَمُؤْمِنٌ بِنَا وَ كَافِرٌ وَ جَاحِدٌ حَتَّى السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ الْجِبَالِ الْآيَةَ ۔
کوئی چیز نہیں نہ آدمی نہ جن و انس نہ آسمانوں میں کوئی فرشتہ مگر ہم ان پر حجت ہیں اللہ نے مخلوق خلق نہیں فرمائی مگر ہماری ولایت اس پر پیش کی اور ہمارے ذریعہ سے اس پر حجت تمام کی پس مومن ہمارے سبب سے اور کافر و منکر بھی ہمارے سبب سے حتیٰ کہ تمام آسمان زمین اور پہاڑ،زیارت جامعہ کبیرہ میں ہے :و حججاََ علیٰ بریتہ، آئمہ ہدیٰ ^ اللہ کی مخلوق پر حجت ہیں ہر شی اللہ کی حجت ہے تو قطعا حجت عالمین اور خلق سے اوپر ہے تب ان پر حجت ہے جسطرح کہ خلق میں بھی موجود ہے ۔
۳۔ تمام جہانوں پر حجت: امام زین العابدین × ارشاد فرماتے ہیں : نحن حجج اللہ علیٰ العالمینہم تمام جہانوں پر اللہ کی حجتیں ہیں ، اسی طرح امام صادق × سے منقول ہے جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ رب العالمین ہیں اسی طرح امام حجۃ اللہ علیٰ العالمین ہے ۔
۴۔ خلق پر حجت:رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ص انّ علیّاً× حجۃ اللہ علیٰ خلقہ يَقُولُ لَمْ يَزَلِ اللَّهُ يَحْتَجُّ بِعَلِيٍّ فِي كُلِّ أُمَّةٍ فِيهَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَ أَشْهَدُهُمْ مَعْرِفَةً لِعَلِيٍّ أَعْظَمُهُمْ دَرَجَةً عِنْدَ اللہ ، تحقیق علی اللہ کی حجت ہے اسکی پوری خلق پر اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ علی × کے ذریعہ امت میں احتجاج فرمایا جس امت میں نبی کو بھیجا گیا تھا اور انبیاء کو علی × کی معرفت پر گواہ بنایا ۔
جن پر امام حجۃ اللہ ہے انکے لیے امام کا وجود ضروری ہے
کیو نکہ امام اور خلق اللہ کا ارتباط وجودی ہے نہ اعتباری عالمین اور حجہ اللہ آپس میں سببی اور مسببی رابطہ ر کھتے ہیں ، جس طرح بیان ہو چکا ہے کہ امام × اس جہان کے لیے روح اور قلب ہے جس طرح انسان کے تمام اعضاء و جوراح روح سے مربوط ہیں۔اسی طرح پورا جہان امام سے وجوداً مربوط ہے ، مزید وہ روایات کہ جن کا ظاہر نص ہے اس پر کہ زمین امام کے بغیر فناء ہوجائے گی اور باقی نہیں رہے گی اور یہ روایات بھی یقینات میں سے ہیں :
۱۔ امام زین العابدین × ارشاد فرماتے ہیں۔ وَ قَادَةُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ وَ مَوَالِي الْمُؤْمِنِينَ وَ نَحْنُ أَمَانُ أَهْلِ الْأَرْضِ كَمَا أَنَّ النُّجُومَ أَمَانٌ لِأَهْلِ السَّمَاءِ وَ نَحْنُ الَّذِينَ بِنَا يُمْسِكُ اللَّهُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنہ
۔اگر ہم آئمہ میں سے زمین میں کوئی نہ ہو تو زمین اہل زمین سمیت فنا ء ہوجائے گی
۲۔امام صادق× نے فرمایا: عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع أَ تَبْقَى الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ قَالَ لَوْ بَقِيَتِ الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ لَسَاخَت‏:ا گر زمین امام کے بغیر ایک لمحہ باقی رہے تو نابود ہو جائے گی ۔
۳۔ حضرت امام رضا × فرماتے ہیں : عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْجَعْفَرِيِّ قَالَ سَأَلْتُ الرِّضَا ع فَقُلْتُ تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ حُجَّةٍ فَقَالَ لَوْ خَلَتِ الْأَرْضُ طَرْفَةَ عَيْنٍ مِنْ حُجَّةٍ لَسَاخَتْ بِأَهْلِهَا ۔ اگر زمین پلک جھپکنے کی مقدار حجت سے خالی ہو جائے تو وہ اپنے اہل سمیت نابود ہو جائے گی۔
۴۔ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: وَ لَوْ خَلَتْ يَوْماً بِغَيْرِ حُجَّةٍ لَمَاجَتْ بِأَهْلِهَا كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ بِأَهْلِه‏ ۔ا یسے موج کھائے گی جسطرح دریا میں موجیں ہوتی ہیں یہ زمین کی بربادی سے کنایہ ہے ۔اس انداز میں روایات تواتر معنوی کی حد تک ہیں اس بنا پر کہ اصلا امام کے نہ ہونے سے جہان نابود ہو جائے گا تو یہ ارتباط اعتباری نہیں ہے بلکہ حقیقی اور وجودی ارتباط ہے ۔
تمثیل ارتباط
ا س ارتباط کو ذہن کے نزدیک کر نے کے لیے مختلف مثالیں دی گئی ہیں ۔
۱۔ امام عالمین کے لیے ایسے ہیں جیسے خیمہ کے لیے ستون ہے اگر ستون نہ ہو تو خیمہ نہیں ستون ہو تو خیمہ ہے اسی طرح حجۃ اللہ نہ ہو تو جہان نہیں اگر حجۃ اللہ موجود ہو تو جہان موجود ہے ۔
۲۔ امام پوری خلق کے لیے ایسے ہے جسطرح چکی کا قطب اور کیل چکی کے لیے ہے ۔ قطب اور چکی کا مدار ہے اسی طرح حجۃ اللہ پوری مخلوق کا مدار ہے ۔
۳۔ امام عالمین میں ایسے ہے جسطرح روح اور قلب بدن میں ہو آیات اور روایات کو ملاحظہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہترین مثال یہی ہے کیونکہ امام باطن عالم ہے اور حجۃ اللہ اس جہان کی حقیقت ہے پس امام عالم امکان کی روح ہے لذا جسطرح بدن کے لیے روح کا وجود ضروری ہے اسی طرح عالمین کے لیے امام کا وجود ضروری ہے پس نتیجہ قطعی ہے ۔پورا جہان حجت کے وجود کے دائر مدار ہے عالمین کا بود و نابود حجۃ اللہ کے وجود سے مربوط ہے سانسوں کے سلسلہ کی بقاء حجۃ اللہ کی سانس سے مر بوط ہے۔
ساتویں آٹھویں نویں دلیل :
حجۃا للہ وجوداََ اول الخلق ہے اور جو اس طرح ہو اسکا وجود خلق کے لیے ضروری ہے پس حجۃ اللہ کا وجود ضروری ہے حجۃ اللہ عالمین کی غایت ہے اور جو اس طرح ہو اسکا وجود عالمین کے لیے ضروری ہے پس حجۃ اللہ کا وجود عالمین کے لیے ضروری ہے حجۃ اللہ مخلوق کے لیے معیت قیو میہ رکھتا ہے جو اس طرح ہو اس کا وجود مخلوق کے لیے ضروری ہے پس حجۃ اللہ کا وجود مخلوق کےے لیے ضروری ہے۔ یہ تین برھا ن اکٹھے بیان کیے جا رہے ہیں کیونکہ ایک حدیث شریف میں بیان ہوئے ہیں۔
حجۃ اللہ وجودََ اول الخلق ہے
اللہ کی حجت خلق سے پہلے ہے حجت کا وجود پہلے اور خلق کا وجود بعد میں ہے اولیّت وجودی رکھتا ہے اگر چہ عالم زمان میں ،مخلوق کے بعد ہی کیوں نہ آیا ہو ،وجود کےلحاظ سے پہلے ، زمان کے لحاظ سے بعد میں ہو آپس میں منافات نہیں رکھتا ۔
وجود خاتم اول الخلق ہے : لذا فرمایا! اول ماخلق اللہ نوری!پہلا وجودوہ ہے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے وہ میرا نور ہے ، اور باقی انبیاء حضرت کاکلمہ پڑھ کر نبی بنتے رہے اسکے باوجود خاتم الانبیاء ہے اور زمان کے لحاظ سے تمام نبیوں کے آخر میں تشریف لائے ہے ۔ چونکہ وجود مراتب رکھتا ہے اور ہر مرتبہ دوسرے سے مربوط ہے کیفیت ربط یہ ہے کہ ہر مرتبہ عالیہ ، مرتبہ دانیہ کے لیے حقیقت ہے اور ہر مرتبہ دانیہ ، مرتبہ عالیہ کے لیے رقیقت ہے اور سببیّت اور مسببّیت ہے مرتبہ دانیہ میں ہے اول الخلق وجوداََ مخلوق کے لیے سببیّت رکھتا ہے اور مخلوق اسکی مسبب ہے جسطرح متاخر اور بعد میں ہوتا ہے وجودََا اسی طرح سبب مقدم اور پہلے ہوتا ہے وجوداََ۔
لذا حجۃ اللہ مخلوق سے وجوداً پہلے ہے تو مخلوق وجوداََ بعد میں ہے اگرچہ کہ بعض مخلوق کسی حجت سے پہلے ہو یا بعد میں کوئی فرق نہیں ہے اس لیے کہ خود زمان ایک مخلوق ہے تو وہ بھی وجوداََ حجۃ اللہ کے بعد ہو گا حجۃ اللہ اس سے بھی پہلے ہے تو یہ پہلے ہونا ممکن نہیں مگر وجود کے لحاظ سے ،عن ابان ابن ثغلب قال: قل ابو عبداللہ × : الحجۃ قبل الخلق ،ابان ابن ثغلب کہتا ہے کہ حضرت صادق × نے فرمایا : حجت خلق سے پہلے ہے ۔
اصول کافی کے شارحین نے اس حدیث کی شرح میں مختلف لکھا ہے سب سے پہلے شارح جناب صدر الدین محمد ، ابن ابراہیم شیرازی متوفیٰ ۔۱۰۵،ھ،ق، ہیں جو مفسر قرآن بھی ہیں اسی طرح محدّث اور راویوں کے سلسلہ میں بھی بحث کرتے ہیں جسطرح کہ وہ علوم عقلی اور حکمت میں بھی صاحب مکتب عظیم ہیں بنام حکمۃ متعالیہ ، اور قائل ہیں کہ حکمت ہوتی ہی وہی ہے جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو محال ہے کہ حکمت قرآن اور سنت کے مخالف ہو کیونکہ قرآن اور سنت سراپا حکمت ہے اور حکمۃ متعالیہ قرآن اور سنت سے اخذ کیا گیا ہے لذا یہ بزرگوار عقل اور نقل دونوں میں صاحب نظر ہیں ۔دیگر کافی کی شروحات مانند وافی فیض علیہ الرحمہ مراۃ العقول علامہ مجلسی علیہ الرحمہ شرح ملا صالح مازندرانی ان سے متاخر ہیں اور ہمارے استاد حضرت آیۃ اللہ انصاری مدظلہ العالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ بزرگان جب بھی شرح میں مشکل پیدا کرتے تھے تو شرح صدر الدین شیرازی کی طرف مراجعہ کرتے تھے۔تو یہ بزرگوار اس حدیث کی شرح میں مطلب ذکر فرمایا ہے جو واقع کے نزدیک احساس ہوتا ہے چونکہ تمام بیان مفید ہے ہم پورا بیان ذکر کرتے ہیں ۔
فرماتے ہیں : یہ حدیث ایک و ہم اور نادرست تصور کو درست کرنا چاہتی ہے اور وہ یہ کہ عام طور پر ذہن میں آتاہے ذواتِ کاملہ اور نفوس عالیہ اور انوار شامخہ کی خلقت کا مقصد اور ہدف اور غایت مخلوق کو ہدایت کرنا ہے تاکہ موجود عالی کی غایت اور ہدف، دانی کو فائدہ پہچانا ہو اعلی ، ادنی کو فائدہ پہنچائے درحالانکہ حقیقت اس طرح نہیں ہے ۔اس لیے کہ غایت اور ہدف ہمیشہ صاحب غایت اور ہدف سے بلند ہوتا ہے جس شی کے لیے دوسری شی کو پیدا کیا گیا ہے تو یہ دوسری شی اس سے اعلیٰ ہو گی جس طرح پوری مخلوق معرفت و علم اور عبادت کے لیے خلق ہوئی ہے تو علم و معرفت اور عبادت مخلوق سے افضل ہے اور عالی دانی کے لیے ، اعلیٰ ادنی کو حاصل کرنے کے لیے فعل انجام نہیں دیتا اس لیے کہ ادنی ، اعلیٰ کے پا س موجود ہے اور اگر ادنیٰ اعلیٰ کے پاس موجود نہ ہو تو وہ اعلیٰ اعلیٰ نہیں ہو سکتاہے پس محال ہے اعلیٰ ، ادنی کو حاصل کرنے کے لیے زندگی صرف کرے اسی طرح محال ہے کہ انوار حجج الہیہ کی غرض ادنی مخلوقات کو فائدہ پہچانا ہو ۔
پھر فرماتے ہیں : یہ غلط توہم کیا جاتا ہے کہ افلاک کی حرکت شمس و قمر کی گردش ستاوں کی چمک ود مک اور شب روز کا آنا جانا ، زمینی موجودات کو فائدہ پہنچانا ہے جیسے جمادات ،نباتات ، حیوانات کیونکہ ان کا نور اور روشنی جب ان موجودات پر پڑ تی ہے تو چار موسم بنتے ہیں ، زمانوں کا مختلف ہونا زمین کے مختلف حصوں کی آبادی اور اصلاح کے لیے ہے درحالانکہ یہ درست نہیں ہے ، بلکہ یہ افلاک سورج چاند ستارتے سب اللہ کے کنٹرول میں مسخر ہیں اور تقدیر کی رسی ،میں پا بند ہیں اور یہ اپنی حرکات اور چمک دمک میں اللہ کی عبادت کرکے اس کا قرب حاصل کرنا چا ہتے ہیں تا کہ اللہ کے مقربین میں سے ہو جائیں بس انکی غایت اور ہدف اللہ کا قرب ہے اور قرب خدا ہی ہدف خلقت ہے۔ السابقون السابقون اولئک المقربون،جو وجود پہلے ہیں وہی مقرب ِ حق ہیں۔
البتہ اس غایت اور ہدف کو پانے کے لیے جو حرکت کرتے ہیں تو زمینی موجودات کو بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے لیکن یہ ہاتھوں لگے فائدہ ہے غایت اور ہدف نہیں ہے افلاک کے وجود اور انکی حرکات کا مقصود بالذات نہیں ہے اصلی مقصود نہیں ہے فرعی فائدہ ہے جو زمین والوں کوحاصل ہوتا ہے ۔اسی طرح انبیاء اور الھٰی حجتیں انکی غرض غایت اور انکے وجوداتِ مقدسہ میں اصلی مقصود امت کی اصلاح نہیں ہے بلکہ اصلی غرض وہ ہے جو انکے وجود سے اعلیٰ ہو اور وہ اللہ کا قرب اور اللہ سے ملاقات ہے لیکن اس اصلی غایت کےلیے جو فعل انجام دیتے ہیں تو اس سے ایک اور فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ انکی عبادت سے امت کی اصلاح اور ہدایت بھی ہوتی چلی جاتی ہے کہ امت نجات کے راستے پر گامزن رہے اور وہ اپنی سعادت تک پہنچ جائیں ۔
تنویر مزید
مطلب کو مزید روشن کر نے کے لیے یہ ہے کہ غایت غرض اور ہدف و مقصود اصلی ، اور فائدہ میں فرق ہے ۔ غرض و غایت کہ شی کا اصلی مقصود ہوتا ہے ۔ وہ حقیقت ہے جسکے لیے شی کو وجود دیا جاتا ہے ۔ تاکہ یہ شی وہاں تک فائز ہو اور اسے پالے ۔
پس وہ غرض و غایت اس شی کے وجود میں موجودنہیں ہوتی بلکہ مقصود ہوتی ہے اسکے پانے کی استعداد اورصلاحیت اس میں رکھ دی جاتی ہے ، اس لیے کہ اگر وہ حقیقت جو غرض قرار دی گئی ہے اور غایت ہے ، پہلے سے ہی اس شی میں موجود ہو تو پھر اسے ہدف قرار دینا لغو ،فضول اور تحصیل حاصل ہو گا، پس وہ حقیقت جوغایت اور اصلی ہدف ہے وہ اس شی کا مقصود ہونا ضروری ہے دوسرا یہ کہ مقصود بالذات کا وجود کےلحاظ سے اعلیٰ ہونا ضروری ہے اس لیے کہ اگر ادنیٰ ہو تو وہ اس شی میں پہلے سے ہی اسکا کمال موجود ہو گا لذا پھر اس تک پہنچنے کیلئے اس شی کو خلق نہیں کیا جائے گا ۔فائدہ وہ ہوتا ہے کہ جو مقصود بالذات نہیں بلکہ بالعرض و بالتبع حاصل ہوتا ہے لذافا ئدہ وجود کے لحاظ سے ادنی ٰ بھی ہو سکتا ہے ۔ تننظیر ، نجار ، میز ، کرسی تخت ، بنانے کے لیے لکڑی چیرتا ہے اس کا ہدف مقصود بالذات میز کرسی بنانا ہے مثلاً! لیکن اس سے چھوٹی لکڑیاں گرتی ہیں اسی طرح اس کے پوُرے سے تو وہ ایندھن کا فائدہ حاصل کرتا ہے اصلی مقصود میز کرسی کا وجود ہے ۔
فرعی فائدہ: ایند ھن کے کام آنا ہے ، درزی کپڑا پھاڑتا ہے لباس بنانے کے لیے اس کے چھوٹے ٹکڑوں سے کوئی آکر فائدہ اٹھا لے باورچی غذا پکاتا ہے کھانے کے لیے اس کی بھاپ سے کوئی فائدہ اٹھا لے اس طرح کی بہت مثالیں موجود ہیں ۔
تو اللہ کی حجت کا اصلی مقصد دیدار حق ، مقام اَو ادنی ہے مثلا حجۃ اللہ کی غرض و غایت اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اب اسکی عبادت اور اسکے سجدہ سے امت کو فائدہ حاصل ہو کہ انہیں صراط مستقیم مل جائے۔ سبیل اللہ کا پتا چل جائے۔ خدا کی شریعت ہاتھ لگ جائے اور انکے صدقہ میں مخلوق بھی ہدایت پا جائے تو یہ انکی بندگی اور عبادت کی زکات اور خیرات ہو گی انکا اپنا اصلی مقصود یہ نہیں ہے ، اگرچہ کہ کھبی کھبی نظر لطف کرتے ہوئے ہمارے لیے فائدہ کو اپنے آنے کا مقصد ذکر فرماتے ہیں کہ میں امت کی اصلاح کے لیے جا رہا ہوں ۔ یہیں سے معلوم ہوا کہ کتنا فاسد اور باطل ہے یہ نظریہ کہ امام حسین × کربلا میں حکومت بنانے نکلے تھے ۔اگر عہد اختصار سے خارج ہونے کا خوف نہ ہوتا تو اس اصل پر بہت سے فرعات متفرع کی جاتیں ۔
پھر فرماتےہیں : شی کا وجود دو قسم کا ہے ۔
۱۔ شی کا وجود فی نفسہ لنفسہ : جیسے جواھر مجردہ فرشتے ۔
۲۔ شی کا وجود فی نفسہ لغیرہ: جیسے اعراض مثلا ًمقدار رنگ کیفیت و غیرہ صور مادیہ ۔ انکا ذاتی وجود لنفسہ اپنے موضوع کے لیے ہے اور اپنے مادہ کےلیے ہے ۔
پہلی قسم: کہ موجودات مجردہ ہیں کھبی کھبی انہیں اور ایک نسبی وجود لاحق ہو جاتا ہے جیسے نفس ناطقہ جو انسان میں ہے اسکے دو وجود ہیں ۔
۱۔ وجود حقیقی کہ وجود لِنفسہ کہتے ہیں ۔
۲۔ وجود نسبی کہ وجود لِغیرہ کہتے ہیں کہ نفس ناطقہ بدن کےلیے ہے یہ اسکا وجود نسبی ہے جسکا ہدف بدن کی تدبیر کرنا ہے اب جب روح کا تعلق بدن سے منقطع ہو گا تو اسکا وجود نسبی نفسانیت ہے وہ زائل ہو جائے گا لیکن وجود حقیقی کہ وجود لِنفسہ ہے وہ باقی رہے گا نفس ناطقہ کی حقیقت اورذات باقی رہے گی کیونکہ اسکا وجود نسبی غیر از وجود حقیقی کے تھا لذا جب ایک ہدف پورا ہو تو وہ باقی نہیں رہے گا لیکن دوسرا وجوداپنے مقام پر باقی ہے لیکن اعراض کا وجود حقیقی بعنہر وجود نسبی ہے لذا جونہی موضوع ایک محل سے زائل ہوتو اعراض باطل ہو جائیں گی ۔ پس یہ معلوم ہوا کہ حجت کا وجود ایک حقیقی ہے ایک نسبی ہے خلق کے لیے حجت ہونا لذا انکی ہدایت کرنا وجود نسبی ہے جس طرح روح بدن کی تدبیر کرتا ہے اپنے نسبی وجودکے لحاظ سے، اسی طرح امام حجۃ اللہ للخلق بن کر مخلوق کی ہدایت کریں گے اور جسطرح روح ، بدن کے ساتھ رہتا ہے امام خلق کے ساتھ رہیں گے اور جب مخلوق نہیں تو ان کے لیے حجت بھی کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ لیکن امام کا وجود حقیقی باقی ہے جسطرح کہ خلق کے وجود سے پہلے بھی موجود تھا کیونکہ حجۃ اللہ کی ذات اور وجود جسم و جسمانیت سے بلند و بالا ہے اپنی حد ذات میں بقا ء اللہ سے باقی ہے ۔
پس حجت ،خلق سے پہلے اس حیثیت سےہے کہ خلق کےایجاد کا واسطہ ہیں امام مخلوق کےلیے واسطہ فیض ہیں ، لذا مخلوق سے پہلے ہیں اور معلوم ہوچکا ہے کہ اس پہلے سے مراد زمانی نہیں ہو سکتا ۔
واسطہ فیض
اللہ تبارک و تعالیٰ ہر شی کے خالق ہیں اور کسی مخلوق تک خلقت کافیض واسطہ سے اور کسی تک بلا واسطہ پہنچاتے ہیں کیونکہ وہ مخلوق بلا واسطہ فیض کسب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ،تو وہ مخلوق جو دیگر کے لیے واسطہ بن رہی ہے اس مخلوق کو واسطہ فیض کہتے ہیں، چاہے وہ فیض وجود ہو یا کمالِ وجودی ،اللہ تعالی سے فیض حاصل کرنے کا واسطہ ، مخلوق کی ضرورت ہے خالق کی احتیاج نہیں ہے خالق نے تو اپنی جوادیت کی بنیاد پر اسے اپنا خلیفہ بنا کر خلق فرمایا ہے یہ اللہ کا مظہر اور جانشین ہے تو باقی مخلوق اس کے واسطہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے فیض سے مستفیض ہو گی ۔ پس واسطہ فیض کا وجود بھی اس نظام تکوینی میں ایک وجودی قانون الھیٰ کے مطابق پیدا ہو تے ہیں تو خلق بھی اس سے فائدہ اٹھاتی ہے ۔
مفسر کبیر حضرت علامہ سید محمد حسین طباطبائی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں قرآن مجید میں پانچ سو سے زائد آیات واسطہ فیض کو اثبات کر رہی ہیں جیسے ۔ فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا ۔ملکوتِ آسمان ، ملائکہ ، لوح ، قلم ، کرسی حُجب ، عرش یہ سب واسطہ فیض ہیں ،لیکن ان سب کا واسطہ امام حجۃ اللہ ہے جسے انسان کامل کہتےہیں احادیث عترت اور خصوصاً، دعائیں اور زیارات میں حقیقت روشن ہے ایک باب یہ ہے کہ آئمہ ھدیٰ ^ اسماء اللہ ہیں اور تمام عالمین اسماء کے تحت چل رہے ہیں ۔
اسی طرح وہ احادیث کا باب جس میں آئمہ ^ کو اوّلِ وجود اثبات کیا گیا ہے جیسے :اُوَّلُ مَا خَلَقَ اللہُ نُوری ، اسی پر دلالت کرتی ہیں کہ آئمہ خلق سے اوپر ہو کر انکے لیے واسطہ فیض ہیں ۔ تبرکاً چند روایات ذکر ہو اچاہتی ہیں ۔
۱۔ امام علی زین العابدین ارشاد فرماتے ہیں: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ع يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ مُحَمَّداً وَ عَلِيّاً وَ أَحَدَ عَشَرَ مِنْ وُلْدِهِ مِنْ نُورِ عَظَمَتِهِ فَأَقَامَهُمْ أَشْبَاحاً فِي ضِيَاءِ نُورِهِ يَعْبُدُونَهُ قَبْلَ خَلْقِ الْخَلْقِ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ وَ يُقَدِّسُونَهُ وَ هُمُ الْأَئِمَّةُ مِنْ وُلْدِ رَسُولِ اللَّهِ ص ۔
تحقیق اللہ عزیز و جلیل نے محمد(|) علیؑ اور گیارہ اماموں کو اپنی عظمت کے نور سے ارواح خلق فرمایا جو اللہ کے نور کی ضیاء میں تھے اور وہاں خلق کی خلقت سے پہلے اللہ کی عبادت کرتے رہے جو اللہ کی تسبیح اور تقدیس اناوم دیتے رہے اور وہ آئمہ جو ( اللہ کے امر سے ) ہدایت کرنے والے، آل محمد ^ میں سے ہیں یہ حدیث معارف کا سمندر ہے۔
۲۔ حبابہ و البیہ نے امام باقر × سے عرض کیا آپ اَظِلّہ میں کیا تھے ؟ امام نے ارشاد فرمایا:وَ عَنِ الثُّمَالِيِّ قَالَ دَخَلَتْ حَبَابَةُ الْوَالِبِيَّةُ عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ ع فَقَالَتْ أَخْبِرْنِي يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ أَيَّ شَيْ‏ءٍ كُنْتُمْ فِي الْأَظِلَّةِ فَقَالَ ع كُنَّا نُوراً بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ قَبْلَ خَلْقِ خَلْقِهِ فَلَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ سَبَّحْنَا فَسَبَّحُوا وَ هَلَّلْنَا فَهَلَّلُوا وَ كَبَّرْنَا فَكَب۔
ہم اللہ کی بارگاہ میں اس کی خلق سے پہلے نور تھے پس جب اللہ نے مخلوق خلق فرمائی تو ہم اللہ کی تسبیح انجام دی تو مخلوق اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم سے تسبیح سیکھ کر اللہ کی تسبیح کی اسی طرح تھلیل اور تکبیر ۔
۳ ۔امیر المو منین علی × ارشاد فرماتے ہیں:عن أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ نُورَ مُحَمَّدٍ ص قَبْلَ الْمَخْلُوقَاتِ بِأَرْبَعَةَ عَشَرَ أَلْفَ سَنَةٍ وَ خَلَقَ مَعَهُ اثْنَيْ عَشَرَ حِجَاباً وَ الْمُرَادُ بِالْحُجُبِ الْأَئِمَّة^
تحقیق اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی خلقت سے چار لاکھ چوبیس ہزار سال پہلے حضرت محمد ﷺ کے نور کو خلق فرمایا اس سے بارہ حجاب خلق فرمائے اور حجاب سے مراد آئمہ ^ ہیں اسکی بعد والی روایت میں امام فرماتے ہیں یہ عین دین ہے جو اس کا قائل نہ ہو وہ گمراہی میں غرق ہے اور یہ اللہ کا مخزون علم ہے ۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں بحار ر الانوار ، ج۲۵،ص ۱تا ۳۶ ، اور کثیر روایت دیگر مقامت پر ہیں واسطہ فیض کے موضوع پر غوّاصِ بحار انوار آلِ اطہار ^ علامہ مجلسی علیہ الرحمۃ کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں ۔
و قد ثبت فی الاخبار ان جمیع العلوم و الحقائق فی المعارف بتوسطھم یفیضُ علیٰ سائر الخلق حتیٰ الملائکہ و الانبیاء ، والحاصل ، انہ قد ثبت با خبار المستفیضہ انھم ^ الو سائل بین الخلق و الحق فی افاضۃ جمیع الرحمات و العلوم و الکمالا ت علیٰ جمیع الخلق و کلما یکون التوسل بھم والاذعان بفضلھم اکثر کان فیضان الکمالات من اللہ تعالیٰ اکثر ، اور روایات کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ تمام علوم اور تمام حقائق معارف کے جہان میں آئمہ کے واسطہ سے پوری مخلوق پر فیضان ہوتے ہیں حتیٰ کہ ملائکہ اور انبیاء ^ پر بھی ۔خلاصہ یہ ہے کہ بہت زیادہ روایات سے ثابت ہے کہ آئمہ ^ خلق اور حق تعالیٰ کے درمیان کہ تمام رحمتیں ، تمام علوم و کمالات کے فیضان میں وسیلہ اور واسطہ ہیں اسکے بعد ارشاد فرماتے ہیں :
جتنا آئمہ کے ذریعہ توسل زیادہ ہو گا اور انکی فضیلت اور فضائل کا یقین زیادہ ہو گا اللہ تعالیٰ سے اتنے کمالات زیادہ نازل ہوں گے اس قانون کے مطابق انبیاء اولیاء اور صالحین و شہداء کو آئمہ کی فضیلت کا یقین زیادہ تھا تو وہ ہمیشہ ان سے توسل کرتے تھے تو ان پر اللہ کی رحمت زیادہ ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے حضرت امام حسن عسکری × ارشاد فرماتے ہیں ۔
وَ الْأَنْبِيَاءُ كَانُوا يَقْتَبِسُونَ مِنْ أَنْوَارِنَا وَ يَقْتَفُونَ آثَارَنَا وَ سَيَظْهَرُ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى الْخَلْقِ بِالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ لِإِظْهَارِ الْحَقِّ وَ هَذَا خَطُّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنَ عَلِيٍّ أَمِيرِالْمُؤْمِنِين‏ ، تمام نبی ہم سے اقتباس کرنے والے ہیں اور ہمارے نقش قدم پر چلنے والے ہیں ۔
جب آئمہ ^ انبیاء کے لیے واسطہ فیض ہیں تو ہمارے لیے تو یقیناََ ہوں گے لذا صدر الدین شیرازی فرماتے ہیں چونکہ حجۃ اللہ مخلوق کی خلقت اور ایجاد کا واسطہ فیض ہیں تو خلق سے وجوداََ پہلے ہیں ۔
حجۃ اللہ مخلوق کی غایت ہے
جب حجۃ اللہ اول الخلق ہیں تو قطعا خلق کی غایت بھی ہیں اس لیے کہ جب مخلوق انکے بعد ہے تو ان کا مقصود یہ ہے کہ اول الخلق کا قرب حاصل کریں لذا انکی اطاعت کا حکم دیا اور انکی معصیت سے روکا اور ان سے محبت کو واجب قرار دیا اور انکی معرفت کا لازم قرار دیا اس لیے کہ انکی معرفت اللہ کی معرفت ہے اور انکی محبت اللہ سے محبت ہے جسطرح انکی ا طاعت اللہ کی اطاعت اور انکی معصیت و نافرمانی اللہ کی معصیت اور نافرمانی ہے ۔ باالفاظ دیگر آئمہ ^ جسطرح سلسلہ قوسِ نزول میں خلقت اور ایجاد کا واسطہ ہیں اسی طرح سلسلہ قوس ِ صو د میں قرب خدا کا واسطہ ہیں اور پس خلق کی غایت ہیں جہاں پوری مخلوق وجود کے لحاظ سے جا پہنچے گی ۔
لذا اما م صادق × نے فرمایا : والحجۃ بعد الخلق : حجت پوری خلق کے بعد ہے ۔ اس حیثیت سے کہ آئمہ ھدیٰ وہ غایات ہیں جدھر پوراجہان وجود کے لحاظ سے منتھیٰ ہوتا ہےاور جا پہنچتا ہے، یہ حقیقت بھی کلمات عصمت و طہارت میں روز روشن کی طرح واضح ہے فقط ایک کلمہ پر اکتفاء کرتے ہیں :إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ،ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ۔
تحقیق ہماری طرف ان سب کی باز گشت ہے پھر تحقیق ہم پر ان سب کا حساب ہے ۔یہ کنایہ ہے اس سے کہ خلق کا سرو کار بالاخر خدا کے ساتھ ہے اسکی بارگاہ میں پہنچنا ہے اسے حساب دینا ہے اپنے عقائد ، اخلاق اور اعمال کو قبول کروانا ہے اورحضرت حق کی حکومت اور عدالت سے فرار ممکن نہیں ہے خصوصاَََ یہ دو آیات سورۃ غاشیہ کی آخری آیات ہیں اور ان سے پہلے آیات میں قیامت کے مناظر کا ذکر جہنم اور جہنمیوں کا تذکرہ ، بہشت اور بہشتوں کا تذکرہ پھر دنیامیں اللہ کی آیات کی طرف توجہ دلائی گئی پھر نبی خاتم کو خطاب ہے ۔ کہ آپ ان پر چوکی دار نہیں بلکہ تذکر دینے والے ہیں لذا جس نے تیرے تذکر دینے کے بعد انکار کیا اور روگرادنی کی اللہ انکو سب سے بڑا عذاب دے گا پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی باز گشت اور حساب ہمارے ساتھ ہے تو معلوم ہوتا ہے ایک تھدید دھمکی اور چیلنج ہے کہ بالآخر تمھارا سروکار ہمارے ساتھ ہے روگردانی نہ کرو، انکار نہ کرو اس میں تمہارا نقصان ہے ،مطلب دیگر جو اس آیت میں ہے و ہ الینا اور علینا میں نا، جمع متکلم کی ہے ۔
جبکہ دیگر مقامات پر فرمایا:
۱۔ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ: سب اسی کی طرف سےہیں اور اسی کی طرف پلٹنے والے ہیں ۔
۲۔ الیہ ترجعون ،۳۔ وَ إِلَيْهِ تُقْلَبُونَ ، ۴۔ الیہ الر ُجعیٰ ، ۵۔ الیہ المنتھیٰ ۶۔ وَ ما فِي الْأَرْضِ أَلا إِلَى اللَّهِ تَصيرُ الْأُمُورُ ، ان سب میں واحد کی ضمیر اور واحدکا صیغہ ہے کہ خدا کی طرف ہی باز گشت ہے اسی طرح ،۷۔الیٰ للہ ترجع الامور، ۸۔ الیہ ترجع الامر کلہ ۔
کہیں واحد اور کہیں جمع راز کیا ہے ؟البتہ یہ مطلب دیگر مقامات پر بھی ہے ۔ نزول قرآن ! اِنزال اور تنزیل میں جمع ہے جیسے ۹۔انا انزلنا ہ ،۱۰۔انا نحن نزلنا الذکر،۱۱۔ انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا ۔
ہم نے قرآن کو اِنزال کیا دفعتاً اور ہم نے قرآن کو تنزیل کیا تدریجاً واحد میں بھی ذکر ہوا ،۱۲۔ هُوَ الَّذي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتابَ ۱۳۔ وَ آمِنُوا بِما أَنْزَلْتُ مُصَدِّقاً لِما مَعَكُمْ ۔ خدا واند متعال وہ ہے جو قرآن مجید کو نازل کرنے والا ہے ۔شک و شھبہ ہی نہیں کہ ہر شی کا خالق حق تبارک و تعالیٰ ہے لیکن جہان دنیا کی مخلوق چند مراتب سے گزر کر محقق ہو تی ہے پس یہ قضا ء الھی اور قدر الھی سے اسی طرح عالم ملکوت سے گزر کرا س عالم ملک دنیا میں واقع ہو اسی طرح وسائط فیض اور اسباب اللہ ہیں کہ سب جند اللہ ، اللہ کا لشکر ہیں جو اسکی بندگی اور عبادت میں مشغول ہیں ،وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ۔ دوسرے مقام پر فرمایا: عزیزاََ حکیماََ ، اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے اور وہ عزیز اور صاحب حکمت ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت اپنے لشکر کے ذریعہ دشمن پر غالب ہو کر عزیز ہے اور اللہ اپنے لشکر کا عالم ہے جسطرح اپنے دشمن سے آگاہ ہے اللہ کے لشکر کو فقط خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہی جانتاہے فرمایا: وَ ما يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلاَّ هُوَ تیرے رب کے لشکر کوئی نہیں جانتا سوائے اسی کے ۔
اور یہ لشکر وہ اسباب اللہ ہیں جہنیں امام صادق × نے جہان کی تشکیل میں اللہ کی مصلحت اور تکوینی قانون قرار دیا : ابی اللہ ان یجری الامور الا با سبابھا ، یہ مخلوق اور مملوک ،اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے دیگر مخلوق کی خدمت میں ہیں قوس نزول اور ایجاد میں جسطرح کہ قوس صعود اور سلسلہ غایات میں ہے حق تبارک و تعالیٰ جب اپنے مبداء ہونے کو بیان کرنا چاہتاہے تو واحد متکلم کا صیغہ ذکر فرماتاہے اور چاہیے حق تبارک و تعالیٰ جب اپنے فضل اور کرم کی بنیاد پر اپنی مملوک اور بندوں کی خدمت کو بیان فرمانا چاہتا ہے تو جمع متکلم کے ساتھ بیان فرماتاہے اسی طرح جمع متکلم میں اپنی قدرت کی شدت اور زیادتی کو بھی بیان فرماتا ہے۔ پس اللہ قرآن کو نازل کرنے والا ہے مبدا نزول ِ قرآن وہی ہے لیکن لشکر اورا سکے فرمانبردار بندے کہ فرشتے ہیں اور جبرائیل × ہیں وہ اس قرآن کے نزول میں اللہ کی عبادت کرتے ہوئے خدمت کو انجام دیتے ہیں ۔ تو جمع کے صیغہ میں انکی خدمت کو بیان فرما رہا ہے ۔لذا انہیں اپنا سفیر کہا ہے ۔ كِرَامِ بَرَرَة،بِأَيْدي سَفَرَةٍ ،یہ قرآن سفیروں کے ہاتھوں کے ذریعہ نازل ہوتا ہے جو مکرم اور نیک ہیں یہی نکتہ موجود ہے : إِنَّ إِلَيْنا إِيابَهُمْ ثمُ‏َّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابهَم ،میں خلق کا سروکار ہمارے ساتھ ہے لیکن حشر و نشر میں اسکے فرشتے اور اسکے خلیفہ خدمت کرتے ہیں جو اسکا جانشین ہے اسکا میزان بھی ہے اور اس دنیا میں مخلوق کی ہدایت کرنے والے بھی تو یہ مخلوق پہلے اپنے ہادی کے روبرو اور اسکو حساب دی گی اور یہ خدا کی طرف سے مخلوق کے لیے حساب لینے والے ہیں تو ارشاد فرمایا ہماری طرف بازگشت اور ہمارے اوپر حساب ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے امر کو اپنے بندوں کی طرف نسبت دینا
۱۔ فعل ، کہ توفی ہے ۔
اللہ نے اپنی طرف نسبت دی پھر اسی کو ملائکہ کی طرف نسبت دی ہے ۔
وَ اللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ
تمہیں خلق فرمایا پھر تمہیں وفات دے گا ۔
اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا
اللہ جانوں کی موت کے وقت انہیں وفات دینے والا ہے ۔
وَ لكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذي يَتَوَفَّاكُمْ
لیکن تم اللہ کی عبادت کرو جو تمہیں وفات دینے والا ہے ۔
پھر دیگر مقامات پر اللہ تبارک و تعالیٰ تو فیٰ کی نسبت ملائکہ کی طرف دے رہا ہے ۔
إِنَّ الَّذينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ
وہ لوگ جہنیں فرشتے وفات دیتے ہیں۔
تَوَفَّتْهُ رُسُلُنا
اسے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتوں نے وفات دی اس طرح کی دیگر آیات ۔
اپنے مقام کو نسبت دینا
عزت:
فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا
پس پوری کی پوری عزت فقط و فقط اللہ تبارک کے ساتھ مختص ہے ۔
فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا
تحقیق حقیقت ِعزت اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔
اسی اختصاصی امر کو رسول اور مو منین کے لیے قرار دے رہا ہے ۔
لِلَّهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِلْمُؤْمِنينَ وَ لكِنَّ الْمُنافِقينَ لا يَعْلَمُونَ
اللہ کے لیے عزت ہے اور اسکے رسول اور مومنین کے لیے ہے لیکن منافقین اسے نہیں جانتے ۔
ولایت:
هُنالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ
ولایت اللہ حق کے ساتھ مختص ہے ۔
وَ ما لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَ لا نَصيرٍ
تمہارے لیے اللہ کے علاوہ کوئی ولی اور مد دگار نہیں ہت ۔
وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ
اللہ مو منوں کا ولی ہے
قُلْ أَ غَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا
کہو کہ اللہ کے علاوہ کسی کو ولی مان لیا ہے ۔
اس اختصاص کے باوجود پھر فرمایا ہے ۔
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ
سوائے اس کے نہیں کہ تمہارا ولی ،اللہ اور اسکا رسول اور وہ ہے جس نے ایمان لانے کے بعدنماز قائم کی اور رکوع کی حالت میں زکات دی ۔ کہ یہ شخص شخیص مو الا علی × ہیں اسی طرح علم ، قدرت اور دیگر کمالات و جودی میں یہی حال ہے ۔
تو یہ ،نہ تناقص ہے اور نہ باطل بلکہ حقیقت توحید کو بیان کیا جا رہا ہے اور اللہ اپنے فیض کے و اسطوں کی معرفی فرما رہا ہے ، یہ سب اسکا لشکر ہیں اسکے بندے اور مملوک ہیں اور اسکے فیض کا واسطہ ہیں اور حیات کا واسطہ جسطرح ممات کا واسطہ ہیں ، علم اور حکمت اور عزت کے فیض کا واسطہ ، اسی طرح اللہ کی ولایت کے فیض کا واسطہ جمع کے صیغہ میں واسطہ فیض بھی آجاتے ہیں اور جسطرح فعل کی نسبت اپنی طرف (جو اصل مبداء ہے) دے رہا ہے اسی طرح اپنے فیض کے واسطہ کی طرف بھی دیتا ہے جو خود اللہ کے ارادہ میں مسخر ہے ۔اسی طرح سورۃ غاشیہ کی ان دو آیات کی تفسیر میں آئمہ معصومین ^ نے باز گشت اور حساب کی نسبت اپنی طرف دی ہے ۔
امام موسی کاظم × نے ارشاد فرمایا : قُلْتُ لِأَبِي الْحَسَنِ ع أُحَدِّثُهُمْ بِتَفْسِيرِ جَابِرٍ قَالَ لَا تُحَدِّثْ بِهِ السِّفْلَةَ فَيُذِيعُوهُ أَ مَا تَقْرَأُ إِنَّ إِلَيْنا إِيابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا حِسابَهُمْ قُلْتُ بَلَى قَالَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَ جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَلَّانَا حِسَابَ شِيعَتِنَا ،جب قیامت کے دن اللہ اولین و آخرین کو جمع فرمائے گا تو ہمارے شیعوں کا حساب ہماری تولیت میں دے گا ۔ امام صادق × نے ارشاد فرمایا: عن أبي عبد الله (عليه السلام)، قال إذا كان يوم القيامة وكلنا الله بحساب شيعتنا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے شیعوں کے حساب کی و کالت ہمیں دے گا تو پس شیعوں کا سروکار ہمارے ساتھ ہو گا امام باقر × نے جابر کو فرمایا روز قیامت جب اولین و آخرین اٹھادیے جائیں گے رسول اللہ ﷺ کو بلایا جائے گا اور امیر المو منین کو، پس رسول اللہ کو سبز لباس پہنا یا جائے گا حضرت علی × کو بھی اس جیسا ، پھر رسول اللہ ﷺ کو پھولوں کا لباس اور علی کو اس جیسا پہنایا جائے گا تو مشرق و مغرب روشن ہو جائیں گے پھر ہمیں بلایا جائے گا ۔فَيُدْفَعُ إِلَيْنَا حِسَابُ النَّاسِ فَنَحْنُ وَ اللَّهِ نُدْخِلُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَ أَهْلَ النَّارِ النَّار ۔
پس لوگوں کا حساب ہمیں دے دیا جائے گا پس ہم اللہ کی قسم! جنتیوں کو جنت اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کریں گے پہلی دو حدیثوں میں شیعوں کا سروکار بیان ہوا کہ اسکی شفاعت کی جائے گی اس حدیث میں تمام لوگوں کا سروکار بیان ہو ا جو جس کے اہل ہو گا ہم اللہ کی طرف سے اسے وہاں پہنچائیں گے ،سمُا عۃ کہتے ہیں کہ نصف شب کو میں مولا علی × کے ساتھ بیٹھا تھا لوگ کعبہ کا طواف کر رہے تھے تو حضرت نے مجھے فرمایا : أَبِي الْحَسَنِ الْأَوَّلِ ع وَ النَّاسُ فِي الطَّوَافِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ يَا سَمَاعَةُ إِلَيْنَا إِيَابُ هَذَا الْخَلْقِ وَ عَلَيْنَا حِسَابُهُم‏ ، اے سُماعۃ اس خلق کی باز گشت ہماری طرف اور انکا حساب ہم پر ہے اور حضرت امام علی نقی × نے زیارت جامعہ میں ارشاد فر مایا: وَ إِيَابُ الْخَلْقِ إِلَيْكُمْ وَ حِسَابُهُمْ عَلَيْكُم‏۔خلق کی باز گشت ہم آئمہ کی طرف اور انکا حساب بھی تمہارے اوپر ہے تو آئمہ قوس صعود میں غایات کے سلسلہ میں واسطہ فیض ہیں لذا سب لوگوں کا سر وکار ان سے ہو گا ،اور یہ ایسے ہے جیسے توفی اور ولایت و عزت کا آئمہ کی طرف اسناد دیا گیا ہے اس لیے صدر الدین شیرازی فرماتےہیں کہ جہان طبعیت کی موجودا ت جن غایات کی طرف پہنچیں گی وہ آئمہ ہیں تو امام نے فرمایا:والحجۃ بعد الخلق ۔
حجت خلق کے بعد ہے جسطرح ہر شی کی غایت زمان کے لحاظ سے بعد میں محقق ہوتی ہے اس طرح آخر تک ایک حجت اللہ باقی رہے گی اور وہ خاتم الائمہ # ہیں ۔ مخلوق کی غایت کا باقی رہنا ضروری ہے ورنہ انکی خلقت لغو ہو جائے گی تو پس حجۃ اللہ کا وجودخلق کے لیے ضروری ہے ۔
حجۃ اللہ مخلوق کے لیے معیّت قیومیہ رکھتا ہے :
جب روشن ہو چکا ہے حجۃ اللہ کائنات اور عالمین میں ایسے ہیں جیسے روح بدن میں ہو اور اگر حجۃ اللہ نہ ہو تو زمین نابود ہو جائے گی تو حجۃ اللہ کا وجود مخلوق کے ساتھ ہونا ضروری ہے معیّت قیومیہ سے مراد بھی یہی ہے کہ حجۃ اللہ خلق کے ساتھ ہے اور امر اللہ سے اسکی ہدایت فرما رہے ہیں جن سے جہان باقی ہے پس حجۃاللہ عالمین کے لیے قیم ہیں لذا صدر الدین شرازی کی شرح اصول کافی میں فرماتے ہیں:والحجۃ مع الخلق
حجت خلق کے ساتھ ہے اس لحاظ سے کہ حجۃ اللہ خلق کے لیے نور ہے اور مخلوق ظلمت اور اندھیرے میں ہے ، صراط مستقیم حجت اللہ کے بغیر نا ممکن تو خدا تک پہنچنے کےلئے اللہ کی حجت کا مخلوق کے ساتھ رہنا ضروری ہے ۔باالفاظ دیگر ، اللہ کی حجت ، ھو معکم اینما کنتم، کامظہر بن کر مخلوق کے لیے ضرورت رکھتا ہے۔ مرحوم صدرالدین محمد شیرازی آخر پر فرماتے ہیں یہ عوامانہ تقلید کا مقام نہیں عالمانہ تحقیق کا مقام ہے لذا اس مطلب کو درک کرنے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں ۔ پس ہم کہ خاتم الائمہ ادرکنی کہہ کر جب اس وادی میں داخل ہوں گے تو یقیناً حجۃ اللہ کا عرفان حاصل ہو جائے گا ۔
ٍحجۃ اللہ کے وجود کے دیگر آثار
۱۔ اللہ کی عبادت حجۃ اللہ کے وجود سے ممکن ہے
جب نظام تکوین اور تشریع اللہ کی حجت سے قائم ہے تو اللہ کی عبادت بھی اسی کے وجود سے ممکن ہو گی یعقوب سراج کہتا ہے میں نے حضرت صادق × کی خدمت میں عرض کیا : زمین ایک عالم زندہ ظاہر جس کی طرف لوگ حلال و حرام میں رجوع کریں کے بغیر باقی رہے گی ؟ تو اما م نے فرمایا : قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع تَبْقَى الْأَرْضُ بِلَا عَالِمٍ حَيٍّ ظَاهِرٍ يَفْرُغُ [يَفْزَعُ‏] إِلَيْهِ النَّاسُ فِي حَلَالِهِمْ وَ حَرَامِهِمْ فَقَالَ لِي إِذاً لَا يُعْبَدُ اللَّهُ يَا أَبَا يُوسُف‏ ، اس وقت اللہ کی عبادت نہیں کی جائ گی ۔عمومی بیان معلوم ہے جو گزر چکا ہے: بِنَا عُرِفَ اللَّهُ وَ بِنَا عُبِدَ اللَّهُ نَحْنُ الْأَدِلَّاءُ عَلَى اللَّهِ وَ لَوْلَانَا مَا عُبِدَ اللَّهُ ،عبادت اور معرفت ہمارے ذریعہ سے ہے ہم نہ ہوتے تونہ عبادت ہو تی نہ معرفت ، لذا اللہ کی عبادت کے باقی رہنے کےلیے بھی حجۃا للہ کا وجود ضروری ہے۔
2۔ حجۃ اللہ محافظ دین ہے
اللہ کی حجت اللہ کے دین کی محافظ ہے ، بدعتوں اور شیطانی و سوسوں سے بچاتی ہے دین کو خطا اور غلطی سے محفوظ رکھتی ہے ۔ جب امام اُسُّ الاسلام، اسلام کی اساس ہے تو اسکا محافظ بھی ہے ؛ لذا مام صادق × ارشاد فرماتے ہیں :عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو إِلَّا وَ فِيهَا إِمَامٌ كَيْمَا إِنْ زَادَ الْمُؤْمِنُونَ شَيْئاً رَدَّهُمْ وَ إِنْ نَقَصُوا شَيْئاً أَتَمَّهُ لَهُمْ ۔تحقیق زمین خالی نہیں ہو گی مگر اس میں امام ہو گا کہ جب مومنین دین میں کوئی اضافہ کریں تو امام انہیں روکے گا اور جب کوئی شی کم کریں تو امام اسے لوگوں کیلئے تمام کریں ۔پس لوگوں کے عقائد ، اخلاق اور احکام میں ز یادتی اور کمی کرنے والوں کو سیدھی راہ کی ہدایت فرماتے ہیں دین میں اضافہ جو دین میں نہیں ہے تو یہ بدعت ہے حجۃ اللہ اسکی طرف ہدایت کرےگی جو دین کو افراط و تفریط سے نجات دے گا ۔ گمراہوں کی غلطیوں اور مغالطات سے محفوظ فرما ئے گا اور انکے شبھات کو رد کر کے ہماری ہدایت فرمائے گا ۔اس طرح دین کے بعض اسرار حقائق اور معارف عقل اور فکر سے سمجھ نہیں آتے تو حجۃ اللہ بیان فرما کر ہدایت فرماتا ہے ۔
3۔ حجۃ اللہ خدا کے حلال و حرام کو بتانے والا ہے
جب نظام شریعت اسی سے ہے اور امام دین کا نظام ہے تو حجۃ اللہ ہی اللہ کے حلال و حرام بنانے والے ہیں ۔
امام صادق × فرماتے ہیں : عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ مَا زَالَتِ الْأَرْضُ إِلَّا وَ لِلَّهِ فِيهَا الْحُجَّةُ يُعَرِّفُ الْحَلَالَ وَ الْحَرَامَ وَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى سَبِيلِ اللَّهِ ، زمین میں ہمیشہ اللہ کی حجت ہے جو حلال و حرام کی معرفت دینے والا ہے اور لوگوں کو اللہ کی راہ کی طرف دعوت دینے والا ہے۔پس حلال و حرام الھی کی معرفت کے لیے حجۃ اللہ کے وجود کی ضرورت ہے ۔
۴۔ اللہ کی حجت سے حق و باطل کی پہچان ہو گی
جب امام امر اللہ سے ہدایت فرما تا ہے تو حق کی طرف ہدایت اور باطل کی پہچان بھی امام عطا فرمائے گا ۔لذا امام معصوم ارشاد فرماتے ہیں : عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنْ أَحَدِهِمَا ع قَالَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَدَعِ الْأَرْضَ بِغَيْرِ عَالِمٍ وَ لَوْ لَا ذَلِكَ لَمْ يُعْرَفِ الْحَقُّ مِنَ الْبَاطِل‏ ، اللہ تبارک و تعالیٰ زمین کو عالم کے بغیر نہیں چھوڑیں گے اور اگر یہ عالم نہ ہو تو حق کو باطل سے نہیں پہچانا جا سکتا ۔عالم سے مراد ، علم لدنی کا عالم ہے اور وہ امام معصوم ہے جس نے آیات و روایات سے علم کسب کیا ہے وہ جائز الخطا ہے ۔ چونکہ حجۃ اللہ حق و باطل کا میزان ہیں لذا امام کا وجود ضروری ہے ۔
۵۔ حجۃ اللہ کائنات کی مصلحت ہے ۔
اس جہان کی اچھائی اور مصلحت امام کے بغیر حاصل نہیں ہوتی جب اس جہان کا وجود اور بقاء حجۃ اللہ سے ہے تو اسکی مصلحت بھی اسی سے پوری ہو گی ۔
امام صادق × فرماتے ہیں: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ لَا يَصْلُحُ النَّاسُ إِلَّا بِإِمَامٍ وَ لَا تَصْلُحُ الْأَرْضُ إِلَّا بِذَلِكَ ۔ لوگ صالح نہیں ہوں گے مگر امام سے زمین میں مصلحت ہے اور وہ مصلح کل سے پوری ہو گی اولین وآخرین جس صلح مطلق اور عدالت عامہ کے مننظر ہیں وہ فقط اللہ کی حجت سے پوری ہو گی اسکے علاوہ نا ممکن ہے لذا حجۃ اللہ کا جود کائنات کے لیے ضروری ہے۔
جابر نے امام باقر× سے پو چھا لوگ نبی یا امام کے کس شی میں محتاج ہیں ؟تو امام نے فرمایا : عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ قُلْتُ لِأَيِّ شَيْ‏ءٍ يُحْتَاجُ إِلَى النَّبِيِّ وَ الْإِمَامِ فَقَالَ لِبَقَاءِ الْعَالَمِ عَلَى صَلَاحِهِ وَ ذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَرْفَعُ الْعَذَابَ عَنْ أَهْلِ الْأَرْضِ إِذَا كَانَ فِيهَا نَبِيٌّ أَوْ إِمَام‏ ،جہان کا اپنی صلاح اور مصلحت پر باقی رہنے میں لوگ امام یا نبی کے محتاج ہیں اس لیے کہ اللہ اہل زمین سے عذاب اٹھا لیتا ہے جب اس میں نبی یا امام ہو ۔
6۔حجۃ اللہ خدا کی طرف سے مخلوق پر اتمام حجۃ ہے:
امام ہر ایک کاہادی ہے اور شیطان کے مقابل میں اللہ کی طرف ہدایت کرنے والا ہے لذا امام سے کائنات پر اللہ کی طرف سے حجت پوری ہو جائے گی؛لذا امام صادق × فرماتے ہیں : وَ قَالَ إِنَّ آخِرَ مَنْ يَمُوتُ الْإِمَامُ ع لِئَلَّا يَحْتَجَّ أَحَدٌ عَلَى اللَّهِ أَنَّهُ تَرَكَهُ بِغَيْرِ حُجَّةٍ لِلَّهِ عَلَيْه‏ ،امام کا ہونا ضروری ہے تاکہ کوئی ایک اللہ پر احتجاج نہ کر سکے کہ اللہ نےاسے بغیر امام کے چھوڑ دیا ۔
۷۔ تمام برکات حجۃ اللہ سے ہیں:
ہر خیر و برکت حجۃاللہ کے وجود سے حاصل ہوتی ہیں ۔
۱۔ امام زین العابدین × ارشاد فرماتے ہیں :عن الصادق جعفر بن محمد عن أبيه محمد بن علي عن أبيه علي بن الحسين ع قال نحن أئمة المسلمين و حجج الله على العالمين و سادة المؤمنين و قادة الغر المحجلين و موالي المؤمنين و نحن أمان لأهل الأرض كما أن النجوم أمان لأهل السماء و نحن الذين بنا يمسك الله السماء أن تقع على الأرض إلا بإذنه و بنا يمسك الأرض أن تميد بأهلها و بنا ينزل الغيث و تنشر الرحمة و تخرج بركات الأرض‏ ،ہمارے سبب اللہ بارش نازل فرماتاہے ہمارے ذریعہ رحمت کو منتشر اور تقسیم کرتا ہے اور زمین کی برکات کو خارج کرتا ہے پس زمین سے جو لقمہ پیدا ہو، اور آسمان سے جو رحمت نازل ہو ہم آئمہ ^ کے ذریعہ سے ہوتی ہے ۔
امام باقر × نے ارشاد فرمایا: بِهِمْ يَرْزُقُ اللَّهُ عِبَادَهُ وَ بِهِمْ يَعْمَرُ بِلَادَهُ وَ بِهِمْ يُنْزِلُ الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ وَ بِهِمْ تُخْرَجُ بَرَكَاتُ الْأَرْضِ وَ بِهِمْ يُمْهِلُ أَهْلَ الْمَعَاصِي وَ لَا يُعَجِّلُ عَلَيْهِمْ بِالْعُقُوبَةِ وَ الْعَذَابِ لَا يُفَارِقُهُمْ رُوحُ الْقُدُسِ وَ لَا يُفَارِقُونَهُ وَ لَا يُفَارِقُونَ الْقُرْآنَ وَ لَا يُفَارِقُهُمْ صَلَوَاتُ‏اَللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِين‏ ، اللہ تبار ک و تعا لیٰ آئمہ کے ذریعہ اپنے بندوں کو رزق عطا فرما تاہے ا نہیں کے سبب اپنے شہروں کو آباد فرماتاہے انہیں کے وجود سے آسمان سے بارش برساتا ہے اس کی وجہ سے زمین کی برکتیں خارج کرتا ہے انہیں کے وجود کی وجہ سے اللہ گناہگاروں کو مہلت دیتا ہے اور ان پر عذاب میں جلدی نہیں فرماتا روحُ القدس ان سے جدا نہیں اور وہ اس سے جدا نہیں وہ قرآن سے جدا نہیں ہوئے اور قرآن ان سے جدا نہیں ہے ۔
امام رضا × نے فرمایا:قَالَ قَالَ الرِّضَا ع نَحْنُ حُجَجُ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ وَ خُلَفَاؤُهُ فِي عِبَادِهِ وَ أُمَنَاؤُهُ عَلَى سِرِّهِ وَ نَحْنُ كَلِمَةُ التَّقْوَى وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ نَحْنُ شُهَدَاءُ اللَّهِ وَ أَعْلَامُهُ فِي بَرِيَّتِهِ بِنَا يُمْسِكُ اللَّهُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ أَنْ تَزُولا وَ بِنَا يُنْزِلُ الْغَيْثَ وَ يَنْشُرُ الرَّحْمَةَ لَا تَخْلُو الْأَرْضُ مِنْ قَائِمٍ مِنَّا ظَاهِرٍ أَوْ خَافٍ وَ لَوْ خَلَتْ يَوْماً بِغَيْرِ حُجَّةٍ لَمَاجَتْ بِأَهْلِهَا كَمَا يَمُوجُ الْبَحْرُ بِأَهْلِهِ ۔
ہم اللہ کی حجتیں ہیں اسکے بندوں میں اسکے جانشین ہیں اس کے راز پر اسکے امین ہیں ہم تقویٰ کا کلمہ ہیں ہم عروۃ الوثقیٰ ہیں ہم اللہ کی طرف سے شاہد ہیں اسکی مخلوق میں اسکے پر چم ہیں ہمارے سبب سے اللہ زمیں و آسمان کو باقی رکھتا ہے ہمارے سبب سے باران رحمت نازل فرماتا ہے رحمت کو پھیلاتا ہے ۔پس تمام برکات ِ اور رحمات امام کے وجود سے ہیں جو بشر کی بقاء اور ارتقاء کے لیے ضروری ہیں لذا اس کے لیے حجۃ اللہ کا وجود ضروری ہے ۔
پس حجۃ اللہ کی حقیقت خلق اول ہونا ہے جو وجود منبسط ہے، اور واسطہ فیضِ حق ہے عالمین کی روح ،قرآن ، دین اسلام کا قیّم اور محافظ ہے حجۃ اللہ خلق سے پہلے اسکے بعد اور اس کے ساتھ ہے حجۃ اللہ سے ہر شی کا وجود قائم ہے ۔ اور تمام برکات اور رحمات ا سکے وجود کی برکت سے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں حجۃ اللہ کی معرفت عطا فرمائے۔ جب حجۃ اللہ کی حقیقت روشن ہوگئی تو اب حقیقت امامت اور امام واضح ہوگی امام اللہ کی حجتِ عظمیٰ ہیں۔
امامت خاصہ
معرفت امام خاتم لا ئمہ × # معرفت امام مطلق
میر ا مو لا صاحب الزّمان × نبی خاتم ﷺ کا عِدل ہے جو کمالات اور فضائل ، حضرت نبی خاتم| میں ہے میرے امام خاتم الائمہ × میں موجود ہیں نبی خاتم کے خُلق عظیم کے وارث میرے امام خاتم ،ا ے سراج منیر مو لا کہ تیرے نور وجود سے ہر موجود نور وجود لے رہا ہے ، اے ہر موجود پر شاھد مولا اے ہر محروم و ضعیف اور مستضف کو امید کے نور کی بشارت دینے والے امام اے ہر ظالم اور گناہ گار کو اسکی درد ناک سزا سے ڈارنے والے اما م ،ہمارا خاتم الائمہ امام وہ ہے کہ سدرۃ جس کے قدموں کا بوسہ لے کر اللہ کی عبادت کر رہا ہے اور وہ اسی دنیا میں اللہ کے امر کے ذریعہ جہان کی ہدایت فرما رہا ہے اور جسکا ظہور امر اللہ کا ظہور ہے جسطرح کہ اسکی غیبت ، الھٰی غیبت ہے وہ جو صبر مطلق کی سلطنت کا یکتا بادشاہ ہے عالمین کا غم جسکے قلبِ مبارک میں ہے ۔
ہر نبی پر ہونے والے مظالم کا دکھ اسکے دریا دل میں ہے خاتم سے لیکر عسکریٰ تک کے مصائب کے طوفان کو تحمل فرمانے والا ، بنتِ زہراء مرضیہ ÷ کے شکستہ پہلو ، ورم شدہ ہاتھوں پرخون رونے والا ، اب اس کا ئنات میں اپنے محبّوں اور منتظرین پر ہونے والے مظالم کو سہنے والا، تمام انبیاء کا وارث علی × سے لیکر عسکریٰ تک تمام آئمہ کا وارث کہ جس نے کائنات کو امرِ کن سے چلانا ہے ۔ تو اسکی معرفت تو ناممکن ہے لیکن اگر ہم وظائف المنتظرین پر عمل کریں تو نظر لطف فرما کر ہمیں اپنے انصار میں شمار فرما لے گا۔جو اس وقت صاحب امامت ہے جو امامت حضرت ابر ہیم کو نبوت و رسالت کے بعد ملی جو عالمین کی پیشوائی فرما رہا ہے۔
محقق اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول من منہ الوجود خداو ند متعال ہے من بہ الوجود امام ہے ہر شی کا مبداء حق تبارک و تعالیٰ ہیں لیکن اُس شی کے وجود کا واسطہ ِ تحقق امام × ہیں ، جو اللہ کے امر سے ہر شی کی ملکوتی ہدایت فر ما رہا ہے جسطرح کہ ملکی ہدایت بھی فر ما رہا ہے ، اس وقت ہر شی خاتم الائمہ × کی ہدایت سے حرکت کر رہی ہے اگر شجر با ثمر ہو راہے ۔نطفہ حیوان بن رہا ہے شمش و قمر اپنے مدار پر صحیح حرکت کر رہے ہیں ، ہوا کی چلن ، پانی کی موج ، بادل کی سیر ، بجلی کی چمک، بادلوں کا بارش بر سانا ، افلا ک کا حرکت انجام دینا فر شتوں کا عبادت کر نا ، دوزخ کا بھڑکنا ، بہشت کا مزین ہو نا یہ سب امام خاتم × کی ہدایت سے واقع ہو رہی ہیں۔
( ثم ھدیٰ )کو اللہ تبارک و تعالیٰ خاتم الا ئمہ # کے ہاتھ سے محقق فر ما رہا ہے ، جس کا سینہ ، ہر شی کے احصاء کا خزینہ ہے ، جو اللہ کی وجودی کتاب مبین ہے اور امام مبین ہے ، اللہ کی وہ حجت جس کے قیام سے پورا عالمین قائم ہے جس کی سانسوں کے تسلسل سے عالمین سانس لے رہے ہیں اگر وہ سانس نہ لے تو پورے جہان کی سانس رک جائے گی ، جسکے پاک خون کی گردش سے اس جہان کی نبض چل رہی ہے ، جو عالمین کی نبضوں کو کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے جسکے وجود سے عالمین کو رزق بقاء یعنی روز ی مل رہی ہے ، وہ جو عالمین کا ہدف ہے ہر شی اپنے وجود میں اسے چاہتی ہے اور اسکی تلاش میں ہے جسکے وجود کے نور سے حق کو باطل سے پہچانا جا سکتا ہے خیر کو شر سے تمیز دی جا سکتی ہے اللہ کا حلال و حرام باقی ہے ، جو اسلام کے کلمہ توحید کی بقاء ہے اور قرآن کا قیّم بن کر اسے اپنے ہدف تک پہچانے والا ہے ۔ خاتم الا ئمہ# کی معرفت کے لیے ایک آیت از قرآن مجید اور ایک فرمائش از عترت اھل بیت ^ پر اکتفا کرتے ہیں ۔
قرآن : خاتم الائمہ امر اللہ ہیں
أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ ، اللہ کا امر آ پہنچا ہے پس تم اسکے بارے میں جلدی نہ کرو اللہ منزہ اور بلند ہے اس سے کہ اس کا شریک قرار دیا جائے۔
آیت کا مضمون
خطاب مشرکین کو ہے کہ جو امر اللہ کے آنے میں مذاقِ کرتے ہوئے جلدی چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم جو کہتے ہو کہ اللہ کا امر آ ئے گا تو سب فساد ختم ہو جائے گا مجرموں کو سزا دے گا تو وہ امر جلدی کیوں نہیں آتا ،تاکہ مشرکین کو سزا دے اور مو منین کو جزاء عطا کرے ، فساد ختم ہو جا ئے فلاح اور بہبود مادّی اور معنوی قائم ہو جا ئے ۔
اللہ تبا رک و تعالیٰ نے فرمایا : جلدی نہ کرو اللہ کا امر آ پہنچا ہے کہ جسکا ظہور عنقریب ہے یہ ایسے ہے جیسے کسی بادشاہ کے آنے کی انتظار میں ہوں اور وہ قریب آجائے تو کہتے ہیں بادشاہ یہ آگیا ۔ در حالانکہ ابھی بادشاہ آیا نہیں ہوتا لیکن اسکا آنا قریب ہے ۔
امر اللہ کی خصو صیات
امر اللہ کی خصو صیات جنہیں اسی آیت کریمہ سے سمجھا جا سکتا ہے اما دیگر خصوصیات بعد میں ذکر کریں گے ۔
۱۔ امر یطھر ساحۃ الر بو بیۃ من شرک المشرکین بحسم مادّتہ
مفسر کبیر علامہ طبا طبائی رحمۃ اللہ علیہ ،اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آیت کےسیا ق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ امر اللہ وہ ہے ذات ِ مقدس اللہ کو مشرکوں کے شرک سے تطھیر فرما ئے اس انداز میں کہ شرک کی جڑ اُ کھیڑ پھینکے اور پھر کوئی اللہ تبارک کےساتھ شرک کا سوچے بھی نہ ۔
۲۔ امر اللہ وہ ہے کہ اللہ تبا رک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں مو منین کو جس کے آنے کی کئی بار نوید سنائی ہے وہ مو منین کی مدد کرے گا اور مشرکین کو و عید سنائی ہے کہ جوکا فروں اور مشرکوں کی اصل ختم کر دے گا ۔
۳۔ امر اللہ ، اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب فرمائے گا ، جسطرح سورۃ بقرہ میں ارشاد فرمایا : فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ، معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے امر کو بھیجے ، پس امرُاللہ کے آنے کی انتطار میں رہو ، جو آ کر شرک کو ختم کرے گا اور اسلام کو عالمین میں غالب کر کے نافذ فرمائے گا ۔
یہ اس آیت کا اجمالی مضمون ہے تو یہ امر اللہ کی تفسیر ہے کہ جسکا مصداق امام خاتم الائمہ × ہیں۔
1۔ عن أبان بن تغلب عن أبي عبد الله ع أن أول من يبايع القائم جبرئيل ع ينزل عليه في صورة طير أبيض فيبايعه، ثم يضع رجلا على البيت الحرام و رجلا على البيت المقدس، ثم ينادي بصوت رفيع يسمع الخلائق « أَتى‏ أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ»
امام صادق × نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا امر اللہ سے مراد ہم اہلیبت ^ کا امر ہے اللہ عزیز و جلیل نے امر فرمایا ہے کہ اسکے بارے میں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ اللہ اسکی تین لشکر سے تائید فرمائے گا فرشتے ، مو منین اور رعب ، اور امر اللہ کا خروج ، رسول اللہ کے خروج کی طرح ہے اور وہ اللہ کا قول ہے جسطرح تجھے تیرے ربّ تیرے گھر سے حق کے ساتھ قیام کے لیے نکالا ۔ اس حدیث میں امر اللہ وہی اہل بیت ^ کا امر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے تین لشکروں سے مو ید ہو گا۔ اور وہ خاتم النبین ﷺ کے خروج کی طرح ہے ۔
۲۔ عن الصادق × : ان اول من یبایع القائم جبرائیل × ینزل علیہ فی صورۃ طیرا ایبض قیبا بعہ ثم یضع رجلا علی البیت الحرام و رجلا علی البیت المقدس ثم ینادی بصوت رفیع یسمع الخلائق اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ۔
امام صادق× نیز اس آیۃ کا مصداق بیان فرماتے ہیں کہ ۔ سب سے پہلے جو حضرت قائم × کی بیعت کرے گا جبرائیل× جو سفید پرندہ کی شکل میں آئے گا پھر ایک قدم کعبہ پر اور ایک قدم بیت المقدس پر رکھ کر بلند آواز سے ندا دے گا اور پوری مخلوق کو سنائے گا اللہ کا امر آ گیا ہے تو اس کے بارے میں جلدی نہ کرو ۔ اس مفہوم میں معتدد احادیث ہیں جو تفسیروں میں مذکور ہیں ، جو اس نکتہ کو بیان کر رہی ہیں کہ امر اللہ حضرت خاتم الا ئمہ × ہیں ۔ آیت کے مضمون میں امر اللہ کی تین خصوصیات بیان ہوئی ہیں جو کسی میں نہیں ملتی سوائے خاتم الا ئمہ × کے حضرت سے پہلے شرک اصل اور جڑ سے ختم نہیں ہوا ، دین اسلام تما م ادیان پر غالب نہیں ہوا جس کی تمام مو منین کو نوید سنائی گئی حتی کہ تمام گذشتہ انبیاء کو اور مشرکین اور کفار کو وعید سنا ئی گی حتیٰ کہ اولین و آخرین کو بتایا گیا یہ خصوصیات فقط حضرت خاتم الا ئمہ میں محقق ہیں اسی طرح وہ خصوصیات جو ان دو آیات میں ذکر ہوئی ہیں وہ بھی فقط حضرت خاتم الائمہ× میں ہیں ۔ تو پس امر اللہ وجود مقدس امام خاتم الائمہ # میں ہے ۔ کہ سب اسکے آنے کے منتظر ہیں دعا ہے کہ اللہ ان کے ظہور میں تعجیل فرمائے ۔
یہاں سے معلوم ہو اکہ یہاں پر امر اللہ سے مراد، اللہ کا اعتباری امر مراد نہیں جو احکام شرعیہ کے بارے میں ہوتا ہے بندوں میں سے بعض اس امر خدا کو انجام دیتے ہیں اور بعض انجام نہیں دیتے اور جوخصو صیات امر اللہ کی بیان ہوئی ہیں محال ہے کہ وہ اللہ کے اعتباری اور تشریعی امر میں محقق ہوں۔ پس امر اللہ سے مراد امر وجودی تکوینی ہے جو ایک حقیقت خارجیہ ہے اور یہ امر اللہ اللہ کی طرف سے ایک حقیقت ملکوتیہ ہے جو مُلکی لباس میں ظاہر ہو گا اور یہ امر اللہ وہی ہے جسکی تعریف اللہ تعالیٰ نے سورۃ یسٰ میں بیان فرمائی ہے ،إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ،ا مر اللہ کن ہے ، اور یہ کلمہ ایجاد ہے لفظ اور قول نہیں ۔ جسطرح پہلے آیات کی روشنی میں بیان ہو چکا ہے اب روایات کے نور میں بیان ہو اچاہتا ہے ۔
۱۔ امیر لمو منین علی × نے ارشاد فرمایا: ٍ يَقُولُ لِمَا أَرَادَ كَوْنَهُ كُنْ فَيَكُونُ لَا بِصَوْتٍ يَقْرَعُ وَ لَا نِدَاءٍ يُسْمَعُ وَ إِنَّمَا كَلَامُهُ سُبْحَانَهُ فِعْلٌ مِنْهُ أَنْشَأَهُ ، اللہ تبار ک وتعا لیٰ شی کے وجود کا جب ارادہ فر ماتے ہیں تو کن کہتے ہیں تو شی ہو جاتی ہے لیکن نہ کسی آواز سے جو کانوں سے ٹکرائے نہ ندا سے جسے سنا جائے سوائے اس کے نہیں کہ اس کا کلام اسکا فعل ہے جسے اللہ ایجاد فرماتا ہے ۔تو روشن ہوا کہ ا مرا للہ ، کن ہے اور کن لفظ نہیں بلکہ فعل خدا ہے جوحقیقت وجودیہ ہے اور وہ بھی ملکوتیہ کہ مزید روشن ہوجائے گا ۔
۲۔ امام صادق × نے ارشاد فرمایا: الْأَشْيَاءِ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ إِرَادَتِهِ قُلْتُ إِنَّ الْإِرَادَةَ مِنَ الْعِبَادِ الضَّمِيرُ وَ مَا يَبْدُو بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْفِعْلِ وَ أَمَّا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ فَالْإِرَادَةُ لِلْفِعْلِ إِحْدَاثُهُ إِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ بِلَا تَعَبٍ وَ لَا كَيْف‏ ۔ فعل کا رادہ کرنا اسے ایجاد کرنا ہے جو کن سے فیکون ہو جا تا ہے مشکل اور کفیت کےبغیر ۔ یعنی اللہ کے امر کے لیے زمان و مکان کی کفیت نہیں بلکہ وہ زمان و مکان کی قید سے بلند و بالا ہے ۔
۳۔ امام موسیٰ کاظم × فرماتے ہیں : ِ إِبْرَاهِيمَ ع أَنَّهُ قَالَ لَا أَقُولُ إِنَّهُ قَائِمٌ فَأُزِيلَهُ عَنْ مَكَانٍ وَ لَا أَحُدُّهُ بِمَكَانٍ يَكُونُ فِيهِ وَ لَا أَحُدُّهُ أَنْ يَتَحَرَّكَ فِي شَيْ‏ءٍ مِنَ الْأَرْكَانِ وَ الْجَوَارِحِ وَ لَا أَحُدُّهُ بِلَفْظِ شَقِّ فَمٍ وَ لَكِنْ كَمَا قَالَ عَزَّ وَ جَلَّ إِنَّما أَمْرُهُ إِذا أَرادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ بِمَشِيئَتِهِ مِنْ غَيْرِ تَرَدُّدٍ فِي نَفس ، میں امر اللہ کو منہ کے کھلنے سے لفظ کے ساتھ تعریف نہیں کرتا بلکہ وہ اسکی حقیقت جسطرح اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ کن ہے جو اسکی مشیت سے بغیر شک کے محقق ہو جاتا ہے ۔تو یہاں پر بھی امر اللہ کو کن کہاگیا ہے اور لفظ کی نفی کی گئی ہے ۔
4۔ حضرت رضا × نے ارشاد فرما تے ہیں: وکن منہ صنع و ما یکون،بہ المصنوع ۔ اللہ سے کن ، اسکی صنع وخلقت اور ایجاد ہے اور یکون وہی مصنوع و مخلوق ہے ، پس لفظ نہیں ہے ۔
۵۔ علی ابن ابراہیم قمی کی تفسیر میں امام معصوم× سے نقل کرتے ہیں کہ :خزائنہ فی کاف و نون ۔اللہ کے خزائن ، کاف اور نون کہ ( کن ) ہے ، میں ہیں فرمایا : وَ إِنْ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ وَ ما نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُوم‏ ۔ کو ئی شی نہیں ہے مگر ا سکے خزائن ہمارے پاس ہیں اور ہم اسے نازل نہیں کرتے مگر مقدار معین کے ساتھ ۔
تمام اشیاء اللہ کے خزائن میں سے ہیں اور تمام خزائن ،کاف نون میں ہیں تو پس تمام عالمین کن سے صادر ہوتی ہیں اور یہ کن امر اللہ اور امر اللہ امام خاتم الائمہ کی حقیقت اورو جود ہے ۔ اور جسطرح بیان ہو چکا ہے کہ خطاب کن مخاطب آفرین ہے کہ ہر شی اللہ کے علم سے عین اور خارج میں آجاتی ہے یہ آنا بالتجلی ہے نہ بالتجافی ۔ جسطرح لفظ ، کلمہ اور کلام انسان کے علم سے خارج میں آجاتا ہے تو انسان کے علم سے کوئی شی کم بھی نہیں ہوتی اور لفظ بھی بن جاتا ہے ۔اور یہی مراد ہے یھدون با مرہ ، اللہ کے امر سے ہدایت کرنا۔امام ، اللہ کا امر بن کر اسکے امر کے ساتھ ہدایت کرتا ہے چاہے بمعنی ملابست ہو یا بمعنی مصاحبت ، امام امر اللہ کا لباس پہن کر ہدایت فرما رہا ہے یا امر اللہ کے ساتھ ہدایت فرما رہا ہے یہ مصداق پیدا نہیں کرے گا مگر یہ کہ وجود امر اللہ ہو ۔
اور جو امام امر اللہ ہے وہی اولو الامر ہو سکتا ہے جوپہلے امر اللہ ہو وہی اولو الامر ہو سکتا ہے جو پہلے امر اللہ ہو تب جہان اور مسلمین کا امر ،اللہ تعالی کی طرف سے اسکے ہاتھ میں دیا جاتا ہے ، اگر کوئی تکویناً امر اللہ ہے تو تشریع میں وہ اولو الامر ہو گا ، پہلے اللہ کا امر وجودی بنے پھر مخلوق کے امر کامالک بنے گا پہلے اپنے وجود میں اللہ تعالیٰ کو وجودی امر بنے پھر مخلوق کے امر کا مالک بنے گا ،لذا غیر معصوم کا اولو الامر ہو نا محال ہے اگر چہ کہ بہت بڑا عالم مجتہد اور عادل ہی کیوں نہ ہو چہ برسد کہ کسی ظالم ، فاسق اور فاجر کو اولامر کہا جائے ، حضرت خاتم الائمہ × ، امر اللہ ہیں جس کا تمام خلائق کو وعدہ دیا گیا ہے ، وہ جو حضرت ِ حق کی مشیّت اور انبیاء و مرسلین مو منین کی آروز ہے اُسے محقق فرمائے گا اور حضرت کی ہدایت اسی جہان میں امر اللہ سے ہوگی کہ ذرّہ برابر بھی ظلم کہیں دکھائی نہیں دے گا ، صلح مطلق قائم ہو گی ۔
اُسکی حکومت بھی امر اللہ سے ہوگی کہ دشمن مذاق اڑاتے ہوئے اسکے آنے میں جلدی کرتا ہے اور دوست و منتظرین اللہ کے وعدہ کے محقق ہونے کے منتظر ہیں تاکہ ہر شی اپنے کمال تک پہنچ جائے اور ہر مخلوق کو اپنا مقصد مل جائے اس لیے کہ وہ اللہ کا امر ہے کہ پورے جہان کا امر جس کے ہاتھ میں ہے ، لذا وہ اولولا امر اور ولی امر ہے اب روشن ہوا کہ جب ظہور فرمائےگا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئے گی کہ اللہ کا امر آن پہنچا ہے جلدی نہ کرو امر اللہ کے ظہور سے دنیا و آخرت سارے جہان خوش و مسرور ہوں گے کیو نکہ اپنے کمال اور ہدف کو پہنچ جائیں گے ، زمین و آسمان مادہ و معنی ، جمادات ، نباتات ، حیوان اور انسان تمام اپنی صلاح و کمال پر پہنچ جائیں گے حتیٰ کہ قبروں میں سوئے ہوئے خوشی منائیں گے پانی ہوا چاند ستارے شمس و قمر شاداب ہوں گے مسجد ، کعبہ ، قرآن اور اسلام سب اپنی آروز و مقصد پر جاپہنچیں گے اولین و آخرین ، انبیاء ، اوصیاء و دیگر آئمہ ھدیٰ^ سب کے سب جس ا مر اللہ کی انتظار میں تھے جب وہ اللہ کی طرف سے ظاہر ہو گا تو انکی انتظار ختم ہوجائے گی کیو نکہ ہر ایک اپنے مقصد پر پہنچ گیا ہے
احادیث کے نور میں چند نمونے
عقل و علم
ہمارے امر ُاللہ امام کے ظہور سے عقل و علم اپنے کمال پر جا پہنچے گا۔ عقل انسان کی انسانیت ہے کیونکہ امام صادق × فرماتے ہیں )دِعَامَةُ الْإِنْسَانِ الْعَقْل ) انسان کاستون عقل ہے ، شی کی دعامت وہ شی کا اس انداز میں سہارا اور ٹیک ہو کہ اس کی بقاء کا سبب ہو اس طرح کہ شی کی بقاءہو ، پس عقل انسان کی حقیقت ہے اگر عقل نہ ہو تو انسان انسانیت سے گر جائے گا اور انسان عقل سے صراط مستقیم اور عبادت الھی پر باقی رہتا ہے اگر عقل نہ ہو تو گناہ کرتا ہے اور اسی طرح تمام مراتب انسانیت عقل سے طے ہوتے ہیں ۔ اور انسانی کمال ، عقل کا ،کامل ہونا ہے اور عقل کاکامل ہونا انسان میں موجود استعدادوں کا کھل کر بالفعل ہونا ہے ۔ اور انبیاء کی بعثت کا مقصد بھی انسان کو کمال تک پہنچا نا ہے اور انسانی کمال ، کمال عقل ہے لذا امیر المو منین × ارشاد فرماتے ہیں۔ ِ وَ يُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُول‏ ، کہ انبیاء لوگوں کے لیے عقلوں کےخزانے کو ابھارتے ہیں نبی استعداد کو فعلیت تک پہنچانے کے لیے آتے ہیں ۔ جب عقل کامل ہو گا تو معاشرہ صالح اور سالم ہوگا اور صلحِ قائم ہوگی ۔ علم : علم بھی حقیقت انسان ہے پوری انسانیت کا امام حضرت امیر المو منین × ارشاد فرماتے ہیں : قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ ۔ہر شخص کی قیمت اس کا علم ہے جتنا جس میں علم ہے اتنا بڑا انسان ہے اسی علم سے انسان ملائکہ کا مسجود واقع ہوا ، علم سے انسان کائنات پر حکومت کرتا ہے علم سے انسان تمام مخلوقات پر اشرف ہوا ہے ۔اللہ نے ،قلیل علم انسان کو دیا :و ما او تیتم من العلم الا قلیلاً۔ تمہیں علم میں سےنہیں دیا گیا مگر تھوڑا سا ، اس تھوڑے سے علم سے انسان نےترقی کی کتنی منازل کو طے کیا ہے؟ امام خاتم الائمہ × ، امر اللہ بن کر انسان کے عقل کو کمال تک پہنچائیں گے اور علم میں بھی معراج عطافرمائیں گے حضرت کے ظہور سے پہلے بشریت نہ اس مقام کو پاسکی نہ علم کی اس منزل کو چھو سکی ۔
امام باقر × فرماتے ہیں: عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ إِذَا قَامَ قَائِمُنَا وَضَعَ اللَّهُ يَدَهُ عَلَى رُءُوسِ الْعِبَادِ فَجَمَعَ بِهَا عُقُولَهُمْ وَ كَمَلَتْ بِهِ أَحْلَامُهُمْ ، جب ہمارا قائم قیام فرمائے گا تو اللہ اپنا ہاتھ بندوں کے سروں پر رکھے گا تو پس اس ہاتھ سے انکی عقلیں جامع اور کامل ہوجائیں گی ۔ تو معنی یہ ہو گا کہ خود حضرت خاتم الائمہ × ہاتھ رکھیں گے تو عقلیں کامل ہو جائیں گی ،دوسری روایت میں لفظ مبارک اللہ نہیں ہے۔ تو معنی یہ ہوگا کہ خود حضرت خاتم الائمہ × ہاتھ رکھیں گے تو عقلیں کامل ہو جائیں گی۔ لفظ جلا لۃ ہو یا نہ ہو حقیقت میں اللہ تبارک و تعالی کا ہاتھ ہے جو رحمت اور قدرت کے ساتھ مو منین پر پھیلا ہے دونوں صورتوں میں امام خاتم × کا وجودِمقدس ید اللہ بن کر مو منین کے سروں پراپنا ہاتھ رکھیں گے تو وہ کامل عقل بن جائیں گے ۔ بالفاظ دیگر :ا یک روایت میں اصل توحید کو بیان کیا گیا دوسری حدیث میں اصل امامت کو بیان کیا گیا ہے ایک میں من منہ الوجود کہ مبداء ہے اسے بیان کیا گیا دوسری میں من بہ الوجود کہ اللہ کی ایجاد کا واسطہ ہے بیان کیاگیا ہے ایک میں اللہ اور دوسری میں خلیفۃ اللہ کو بیان کیا گیا ہے ۔
کمال عقل :
عقل کی دو قسمیں ہیں : ۱۔ عقل نظری ، ۲۔ عقل عملی
انسان کی خصو صیت ادراک کا اعلی درجہ ہے جو اسے حیوانات سے جدا کرتا ہے اور وہ ادراک عقلی ہے اسی ادراک سے درک ہونے والی چیزیں دوقسم کی ہیں۔
۱۔ وہ امور جنہیں جاننا چاہیے۔ اللہ حق ہے ، اللہ ایک ہے امام موجود ہے اور وجود اور عدم جمع نہیں ہو سکتے یہ امور انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ اعتقادات اور نظریات سے مربوط ہیں ۔
۲۔ وہ امور جنہیں انجام دینا چاہیے مثلا ً: عدل محبوب ہے ، صبر لازم ہے ، توکل پسندیدہ ہے و امثال ذلک ، ان امور کو انجام دینا چاہیے کیونکہ انسان کے اختیار میں ہیں ۔
1۔ عقل نظری: عقل انسان ، کامل نہیں ہے بلکہ ناقص ہے یعنی استعداد اور صلاحیت فعلیت میں تبدیل ہوگی تب عقل کامل ہو گی، اس فعلیت تک پہنچنے کے لیے عقل نظری کے چار مرتبے ہیں ۔
۱۔ عقل جس میں حصول ِعلم کی صلاحیت ہے محض قوت اور استعداد ہے جو استعداد حیوانات میں بھی نہیں ہے ۔
۲۔ صلاحیت اکتساب ، یعنی معلومات کو ترکیب کر کے نظریات کسب کرنے کی صلاحیت ، یہاں پر بدہیات اور واضحات موجود ہیں ۔
۳۔ صلاحیت استحضار ، کلیات کو ذہن میں حاضر کرنے کی صلاحیت یعنی حاصل شدہ نتائج کو ذہن میں لے آنا علوم نظری اس مرحلہ میں موجود ہیں ۔
۴۔ کمال عقل اور فعلیت عقل میں بالفعل ہیں تمام معلومات انسان کے پاس حاضر ہیں تمام انسان پہلا اور دوسرا مرتبہ خو د بخود گردش ِزمان سے حاصل کر لیتے ہیں تیسرے مرتبہ کے لیے تمام علوم نظری ایجاد ہوئے ہیں اور بشر اس مرتبہ کو حاصل کر نے کے لیے مدارس ، کالج اور یونیورسٹیاں بنا رہا ہے ۔
تما م نظری علوم اس مرتبہ میں پرواز کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں ، علم منطق ، ریاضی ، طبعیات ، فیزکس ، بیالوجی ، سوشیالوجی ، کیمسٹری ، وغیرہ اسی طرح علم اصول ، علم فقہ ، حکمت و فلسفہ اور عرفان نظری ۔خلاصہ یہ کہ حکمت الہیہ اعم اوراخص سب اسی لیے ہیں سائنس میں جو ترقی ہو رہی ہے اسی مرتبہ میں ہیں آجکل جو آئی ٹی کا زمانہ ہے یہ سب تیسرے مرتبہ عقل میں پرواز کر کے یہاں تک پہنچنا ہے ، یہ سب علوم انسان کے عقل فطری کی پرواز کے لیے ہیں تو انسان ان علوم کے ذریعہ تیسرے مرتبہ عقل میں پرواز کرسکتا ہے جو ابھی اپنی معلومات بدیہّہ اور نظریہّ سے نظریات کوحاضر کر نے کی قوت ہے اور ان نظریات کو ذہن میں حاضر کر لیتا ہے ۔ چوتھے مرتبہ عقل فطری پر اکثر نہیں پہنچ پاتے اور بعض پہنچ جاتے ہیں اور جو پہنچتے ہیں وہ ایسے افراد ہیں جو نور ولایت الٰھیہ سے متصل ہے ، شمسِ امامت سے فیض الھیٰ لینے والے ہیں یہ مرتبہ علمی اور عملی ریاضت سے حاصل ہوسکتا ہے عبادت ، سجدہ ، دعا ، توسل ، گریہ اور پرہیز گاری سے حاصل ہوتا ہے خود اس مرتبہ کے بھی درجات ہیں ۔اور یہ کتاب حاضر اس مرتبہ کوحاصل کرنے کے لیے بہترین وسیلہ ہے اگر ہم واقعاً ان وظائف پر کاملا عمل کریں اور حضرت خاتم الائمہ × نظرکرم فرمائیں تو یہ مقام حاصل ہو سکتا ہے ۔
عقل عملی :
جو عقل انسان کی معاش اور معاد و قیامت سے مربوط ہے جو احکام ذمہ داریاں اعمال اور تعھّدات ، انسان سے مربوط ہیں اسکے بھی چار مرتبے ہیں ۔
۱۔ تجلیہ : اپنے ظاہر کو پاک و صاف کرنا اپنےظاہر کی تہذہیب کرنا ہے اور یہ احکام شرعیہ پر عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے واجبات شرعیہ کو انجام دیں محرمات شرعیہ سے پرہیز کریں اس مرتبہ کے حصول کے لیے علم فقہ تدوین ہوا ہے کہ ایک عبد و مومن اجتہاد کے ذریعہ یا احتیاط یا تقلید کے ذریعہ احکام شرعیہ کی اطاعت کرے ۔ پس عارف ہونے کے لیے یہ مرتبہ ضروری ہے واجب کو ترک کرکے اور حرام کا مرتکب ہو کر قطعا معرفت و عرفان حاصل نہیں ہوتا ۔
۲۔ تخلیہ : انسان اپنے باطن اور دل کو بری صفات اور گناہ کی نجاست سے پاک اور صاف کرے ، بُخل ، حسد ، اور تکبر کو دل سے نکال دے تاکہ الھٰی انوار کے لیے تیار ہوجائے ، اخلاقِ رذیلہ سے اپنے آپ کو پاک کرے تاکہ اخلاقِ حمیدہ کے لیے تیار ہوجائے ، تین چیزیں برے اخلاق کی اصل ہیں ، محبت الہیہ کے راستہ پر چلنے والا اپنے آپ کو ان تینوں سے پاک کرے ، ۱۔ زبان ۔۲۔شکم ،۳۔ دامن
۱۔ زبان :کو جھوٹ ، غیبت ، تہمت اور ہر ٖفضول گفتگو سے پاک کرے ، زبان کنٹرول میں ہو فقط ضرورت کے وقت کھلے ۔ کثرت کلام و لغویات سے محفوظ رہے۔
۲۔ شکم : کوحرام لقمہ سے خالی کرے جوغذائیں قساوت قلبی کی موجب ہیں ان سے پرہیز کرے ۔
3۔دامن : کو ہر گناہ سے پاک رکھے عفت اور پاکدامنی حاصل کرے جس کے لیے آنکھ کو بھی کنٹرول میں رکھنا پڑے گا اتنا حیاء ہو کہ اپنی شرمگاہ کو دیکھنے سے بھی شرم کرے جسطرح سلمان فارسی سے نقل ہے کہ فرماتے ہیں میں نے تین سو سال کی زندگی میں اپنی شرمگاہ کی طرف بھی نگاہ نہیں کی ۔جس بندے کو اللہ تبارک و تعالیٰ توفیق عطافرمائے کہ ان تین شرور سے بچ جائے تو وہ تمام برائیوں سے بچ سکتا ہے حضرت خاتم ﷺ فرماتے ہیں: وَ قَالَ ص مَنْ وُقِيَ شَرَّ ثَلَاثٍ فَقَدْ وُقِيَ الشَّرَّ كُلَّهُ لَقْلَقِهِ وَ قَبْقَبِهِ وَ ذَبْذَبِهِ فَلَقْلَقُهُ لِسَانُهُ وَ قَبْقَبُهُ بَطْنُهُ وَ ذَبْذَبُهُ فَرْجُه‏ ،جو بھی زبان ، شکم ، اور دامن کے شر سے محفوظ رہا وہ تمام شرور اور برائی سے محفوظ رہے گا کیونکہ انہیں تینوں سے باقی گناہ پیدا ہوتے ہیں اور اے کاش یہ تین نہ ہوتے تو اسلام کی بنیاد ہمیشہ تروتازہ رہتی ، اگر گناہ اور برائیوں کی جڑ نہ کاٹی گئی تو انجام واجبات اور ترک محرمات بھی تجلیہ سے مانع ہوجائیں گے اور انسان واجبات کے انجام دینے پر موفق نہیں ہو گا ۔
۳۔ تحلیہ :
اپنے آپ کو اخلاق فاضلہ اور حمیدہ یعنی اچھے اخلاق سے مز ّین کرنا جب انسان تکبر سے تخلیہ کرے گا تو تواضع حاصل ہو گی بزدلی نہیں ہو گی توشجاعت حاصل ہو گی ۔شہوت رانی اور بے حیائی سے خالی ہو گا تو عفت ، حیاء اور پاکدامنی سے مز ّین ہو گا رذائل جائیں گے تو فضائل اور کمالات پیدا ہوں گے ۔
۴۔ فناء:
اپنے آپ کو تمام موجودات سمیت نور حق میں فنا دیکھے کہ یہ وہی مقام شہود ہے ۔
نکتہ : یہاں پر ایک لطیف نکتہ سمجھ آ سکتا ہے کہ اول و آخر علم و معرفت ہے ۔ جو عقل عملی وعقل نظری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ عقل عملی کا چوتھا مرتبہ عمل نہیں علم و معرفت و عرفان اور شہود حق ہے پہلے تین مرتبے اس چوتھے مرتبہ کے لیے زمین ہموار کرنے کے لیے ہیں اور معد شمار ہوتے ہیں ایک علم ، عمل کے لیے ہے اور پھر وہ عمل ایک مرتبہ علم کو حاصل کرنے کے لیے ہے اور مرتبہ علم پھر عمل کے لیے نہیں بلکہ وہاں عمل یہی شہود حق ہےیہاں پر بندہ شہود کےمراتب طے کرے گا، پس علم و عمل ، علم شہودی کے لیے ہیں اور یہ ہدف الاا ہدف ہے مثلا علم فقہ اپنے مقدمات سمیت عمل کے لیے ہے جب عمل انجام دیں گے تو اس عمل کا نتیجہ علم شہودی ہے اور یہ مقصد ِتخلیق ہے۔ لذا فرمایا :فخلقت الخلق لکی اعرف ۔مخلوق خلق ہوئی کہ حضرت حق کا عرفان پایا جائے ۔ من عمل بما علم رزقہ اللہ علم مالم یعلم ۔ جس نے اپنے علم پر عمل کیا اللہ ا سے وہ علم رزق بنا کر عطا فرمائے گا جسے پہلے نہیں رکھتا تھا ۔ جب فنا شہود حق ہے تو بندہ یہاں جا پہنچے کہ ذات حق کے مقابل میں کسی حقیقت اور ذات وجود کو نہ دیکھے جب وہ حقیقت لا محدود ہے تو کسی کے لیے کوئی ذات نہیں ہے اسے توحید ذاتی کہتے ہیں ۔
کہ اس حدیث شریف کا نتیجہ ہے مولا امیرا لمو منین× سورۃ توحید کی تلاوت کے بعد ارشادفرما تے تھے ۔ یا ھو یا من لا ھو الا ھو یہ” ھو” کنایہ ہے ذات حق تبارک وتعالی کے لیے اس سے بہتر اور کوئی کلمہ نہیں جو اس مقام کی طرف توجہ دلائیں ۔ اے ذات وہ کہ کوئی ذات نہیں مگر وہی ذات، اسی طرح تمام صفات اور کمالات جہان کوصفات حق میں فناء دیکھے ، علم علماء ، قدرۃ قادر ، سب علم اللہ میں فناء ہیں ، لا الہ الا اللہ اسے بیا ن کر رہا ہے کیونکہ اسم اللہ ، تمام صفاتِ جمال اور جلال کو جامع ہے تو ان صفات حق کے مقابل میں کوئی صفت نہیں مگر اسکے ظہور ات ہیں ۔واللہ یعلم و انتم لا تعلمون
تم جس طرح حدِ ذات میں وجود نہیں رکھتے ہو اسی طرح علم اور کوئی کمال وجود بھی نہیں رکھتے ہو علم جہاں بھی ہے اس کا فیض ہے ،لہذا اللہ عالم ہے اور علم نہیں رکھتے ہو ، وَ لا يُحيطُونَ بِشَيْ‏ءٍ مِنْ عِلْمِهِ اللہ کا علم لا محدود ہے تو کسی علم کا کوئی مقام باقی نہیں رہتا اسے توحید صفاتی کہتے ہیں ۔اسی طرح ، بندہ ، علم اور عمل کے ذریعہ ، ریاضت ، عبادت اور تقوی سے یہاں پر جاپہنچے کہ تمام افعال کوا للہ میں فنا دیکھے ، اس کے لیے یوں تمثیل بیان ہوتی ہے جب خورشید طلوع کرتا ہے تو ستاروں کا نور اس میں محو ہوجاتا ہے جیسےجگنو کا نور دن کو فنا اور نابود ہوجاتا ہے اسے توحید افعالی کہتے ہیں اور یہ لاحول ولا قوۃ الاباللہ کا نتیجہ ہے کوئی قوت و طاقت نہیں مگر اللہ کی نیز قرآن میں ارشاد فرمایا: ٰ۔ فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلاءً حَسَنًا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ،تم مسلمانوں نے کافروں کو قتل ف نہیں کیا لیکن اللہ نے انھیں قتل کیا تو ( رسول اللہ ﷺ) نے نہیں پھینکا کہ جب تو نے پھینکا ہے لیکن اللہ نےپھینکا ہے ، مسلمانوں سے فعل کی نفی ،حضرت حق کے لیے اسی فعل کا اثبات توحید افعالی کو بیان کر رہا ہے لوگوں کے افعال کو اللہ کا فعل نہیں سمجھنا بلکہ تمام افعال کوحق کے فعل میں فانی سمجھنا ہے ۔ یہ ہے کمالِ عقل ، انسان جب کامل ہو تو یہ دید معرفت اور شھود پیدا کر لیتا ہے ، اس کے لیے ایک پوری زندگی عہد ریاضت ، عبادت اور زھد اختیار کرے اور تزکیہ نفس انجام دے اور سیر وسلوک کے مشکل مراحل کو طے کرے حرام کے علاوہ بعض حلال سے بھی گزر جائے اس کے لیے علم اخلاق اور عرفان عملی ہے ۔
اب حضرت خاتم الا ئمہ × جب کسی کے سر پر ہاتھ رکھیں گے تو اسکی عقل کامل ہوجائے گی ، چشم دلِ سے شھود کرنے لگ جائے گا جس کے پاس یہ عقل کا مرتبہ ہے اس کے پاس تمام پہلے مراتب بھی حاصل ہوجائیں گے اس لیے کہ جسکے پاس سو ہے اس کے پاس نوّے (90)بھی ہیں اسکے ہاتھ میں ہر تاثیر ہے کہ تمام علوم نظری بالفعل حاصل ہیں اور مقام شھود بھی حاصل ہے جس طرح کربلا والوں نے شب عاشورکو شب شھود بنا لیا تھا اور زمین پر بیٹھ کر جنت کا ملاحظہ کر رہے تھے ۔میرا عظیم مولا، حضرت امام خاتم × کیسا مسیحا ہے جسکے ہاتھ میں ملکوتی تاثیر ہے جس کے بدن ِ منور کا ہاتھ ، مومن کے سر پر آجائے تو عقل ِ ناقص ، عقل کامل بن جاتا ہے ،لحظہ میں کائنات کاعلم آجاتا ہے ، جس کے ہاتھ رکھنے سے دید توحیدی پیدا ہوجائے عیسی ٰ مسیح وہ ہیں جو بیمار پر ہاتھ مسلتے ہیں توزخم ٹھیک ہوجاتا ہے ہمارا مسیح وہ ہے جو ہاتھ رکھتا ہے مسلتا نہیں ، اثر فقط بدن میں نہیں بلکہ روح اور عقل میں ہوتا ہے تصرف کی حد یہ ہے کہ غرض بعثت ِ انبیاء کہ عقلوں کا کامل کرنا ہے ،لحظہ میں محقق ہوجاتی ہے یہ تصرف ملکوتی ممکن نہیں مگر امراللہ سے پس حضرت امام خاتم امر اللہ بن کر ظہور فرمائیں گے ہرمنتظر کا وظیفہ اور ذمہ داری ہے کہ اپنے موالا کا اس انداز میں عرفان رکھتا ہو۔
علم ، کمال علمی
جب عقل میں کمال آئے گا اور علم کثیر حاصل ہو گا بدن بھی متحول ہوجائے گا ہرمومن منتظر او ر مولا کا سپاہی جس سن میں ہوگا ، عین شباب اور جوانی میں آجائے گا ، ایک شخص میں چالیس قوی افراد کی قدرت اور طاقت آجائے گی ، حتیٰ کہ ہاتھ کی ہتیھلی سے پہاڑ کو ہٹا دے گا ۔ نگاہ میں اتنی وسعت آجائے گی کہ ایک فرد مشرق میں ہے تو ، دوسرا مغرب میں ہر ایک ، دوسرے کو دیکھ سکیں گے ، جمادات حضرت کے صحابی سے کلام کریں گے اور تمام موجودات اسکے تابع ہوں گی اور یہ صحابی جو ارادہ کرے گا وہی ہوتا چلاجائے گا یہ سب کچھ عقل کے کامل ہونے کا نتیجہ ہے۔
اور کمالِ عقل ،مولا کے ہاتھ کی تاثیر ہے بس یہ سب کچھ حضرت کے ید اللّھٰی ہاتھ کی خیرات ہے اما م خاتم کے اصحاب جوان ہوں گے ۔جب عقل کامل ہو گا تو یقیناََ علم کثیر اور عظیم ہو گا پوری کائنات میں علم کو ٹھوڑا سا دیا گیا ہے جب وہ ظہور فرمائے گا علم کثیر عطا ہو گا ۔حضرت صادق × ارشاد فرماتے ہیں: بحارالأنوار 52 336 باب 27- سيره و أخلاقه و عدد أصحابه
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ الْعِلْمُ سَبْعَةٌ وَ عِشْرُونَ حَرْفاً فَجَمِيعُ مَا جَاءَتْ بِهِ الرُّسُلُ حَرْفَانِ فَلَمْ يَعْرِفِ النَّاسُ حَتَّى الْيَوْمِ غَيْرَ الْحَرْفَيْنِ فَإِذَا قَامَ قَائِمُنَا أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ وَ الْعِشْرِينَ حَرْفاً فَبَثَّهَا فِي النَّاسِ وَ ضَمَّ إِلَيْهَا الْحَرْفَيْنِ حَتَّى يَبُثَّهَا سَبْعَةً وَ عِشْرِينَ حَرْفا ، علم ۲۷ حرف ہیں پس تمام وہ جسے مرسلین لائے ہیں دو حرف ہیں ، اور آج تک لوگوں کو دو حرفوں کے علاوہ کا علم نہیں دیا گیا پس جب ہمارا قائم قیام فرمائے گا تو ۲۵ حرف کوظاہر فرمائے گا پس لوگوں میں پھیلا دے گا پھر انکے ساتھ دو دیگر حرفوں کو منضم فرمائے گا یہاں تک کہ ۲۷ حرف کو پھیلا دے گا۔
حضرت آدم سے لیکر حضرت امام خاتم تک دو حرف تقسیم ہوئے ہیں تو دنیا میں ترقی کے یہ آثار ہیں ۔ جنکے تصور سے عقلیں حیران ہیں ، جب پورے ستائیس حرف ظاہر کر کے تقسیم ہوں گے توکیا نور اور روشنائی ہوگی ؟ بیان کرنا ممکن ہی نہیں فقط دل سے دعا کریں کہ وہ آجائے ۔ اسکے ظہور سے علم بھی ظاہر ہوگا ۔ دیکھیں گے تو پائیں گے ، قلم بیان سے قاصر ہے مہم یہ ہے کہ میرا مولا جو علم اللہ ہے تو اسکے علم کا مقام کیا ہوگا؟
نمونہ
اس علم کی تقسیم کا ادنیٰ سا نمونہ یہ ہے کہ خانہ دار عورت کامل فقیہ اور مجتہد ہو گی ۔امام باقر × ار شاد فرماتے ہیں : وَ تُؤْتَوْنَ الْحِكْمَةَ فِي زَمَانِهِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ لَتَقْضِي فِي بَيْتِهَا بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِﷺ ،حضرت اما م خاتم × کے ظہور کے زمانہ مین حکمت عطا کی جائے گی یہاں تک کہ ایک عورت اپنی گھر میں اللہ کی کتاب اور سنت رسول سے قضاوت کرے گی۔ قرآن کہتا ہے: وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثيراً َ،جسے حکمت عطاء کی گئی اسے خیر کثیر دی گئی ہے ، توحضرت کے ظہور سے یہ خیرات زن و مرد کو کم از کم اتنی عطا ہو گی کہ عورت فقیہ بن جائے گی ، تیرا ظہور ہے مولا یا تکامل انسانیت ؟ معلوم ہے کہ علم تابع عقل ہے لذا جتنا عقل کامل ہو گا اتنا علم کثیر ہوگا ابھی عقلیں کامل نہیں ہوئیں کہ انہیں اتنا زیادہ علم دیا جائے ، ابھی دو حرفوں کی ظرفیت عقل میں ہے جب عقل میں ظرفیت آئے گی تو علم بھی عظیم عطا ہوگا اللہ کرے کہ وہ آئے اور ہمیں اپنے انصار و اعوان اور اصحاب مخلصین میں قرار دے وظائف المتظرین پر عمل کرنے سے یہ ممکن ہے ۔
جب عقل میں کمال آئے گا اور علم کیثر حاصل ہوگا تو بدن متحول ہوجائے گا ہر مومن منتظر اور مولا کا سپاہی جس سن میں ہوگا ، عین شباب اور جوانی میں ہوگا ، ایک شخص میں چالیس قوی افراد کی قدرت اور طاقت آجائے گی ، حتیٰ کہ ایک فرد مشرق میں ہے تو ، دوسرا مغرب میں ہر ایک ، دوسرے کو دیکھ سکے گا جمادات حضرت کے صحابی سے کلام کریں گے اور تمام موجودات اسکے تابع ہوں گی اور یہ صحابی جو ارادہ کرئے گا وہی ہوتا چلا جائے گا یہ سب کچھ عقل کے کامل ہونے کا نتیجہ ہے اور کمال عقل ، مولا کے ہاتھ کی تاثیر ہے بس یہ کچھ حضرت کے ید اللہھی ہاتھ کی خیرات ہے ۔
ٍ حضرت امیر ا لمو منین علی × ارشاد فرماتے ہیں :عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ع قَالَ أَصْحَابُ الْمَهْدِيِّ شَبَابٌ لَا كُهُولٌ فِيهِمْ إِلَّا مِثْلَ كُحْلِ الْعَيْنِ وَ الْمِلْحِ فِي الزَّادِ وَ أَقَلُّ الزَّادِ الْمِلْحُ ، حضرت مھدی کے اصحاب جوان ہوں گے بوڑھے نہیں ہوں گے مگر آٹے میں نمک کی مقدار ، چالیس افراد جتنی طاقت ہو گی ۔امام صادق × فرماتے ہیں : قال أبو عبد الله ع يكون من شيعتنا في دولة القائم سنام الأرض و حكامها يعطى كل رجل منهم قوة أربعين رجلا ۔ہر شخص کو چالیس افراد جتنی قوت عطا کی جائے گی ، ہاتھ کی ہتھلی سے پہاڑ ہٹا دے گا امام باقر× ارشاد فرماتے ہیں : ِ لَوْ قَذَفْتُمْ بِهَا الْجِبَالَ فَلَقَتْهَا وَ أَنْتُمْ قُوَّامُ الْأَرْضِ وَ خُزَّانُهَا، اگر تم اس قوت کو پہاڑ پر ڈالو تو وہ پہاڑ کو پھاڑ دے گی ، امام صادق × فرماتے ہیں :ولو مروابجبال الحدید لقطعوہ ۔ اگر حضرت کے اصحاب لوہے کے پہاڑ سے گزریں تو اسے بھی کاٹ دیں گے ۔
حدت نظر : یہ نگاہ اتنی تیز اور وسیع ہوگی کہ مشرق و مغرب ملا دے گا امام صادق × ارشاد فرمااتے ہیں : وَ بِإِسْنَادِهِ يَرْفَعُهُ إِلَى ابْنِ مُسْكَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ فِي زَمَانِ الْقَائِمِ وَ هُوَ بِالْمَشْرِقِ لَيَرَى أَخَاهُ الَّذِي فِي الْمَغْرِبِ وَ كَذَا الَّذِي فِي الْمَغْرِبِ يَرَى أَخَاهُ الَّذِي فِي الْمَشْرِق‏ ۔ تحقیق مومن قائم کے زمانہ میں ایسا ہوگا کہ در حالانکہ مشرق میں ہے اپنے مومن بھائی کو دیکھے گا جو مغرب میں ہے ۔
اسی طرح بر عکس اسی طرح تکلم اور سماعت امام صادق × فرماتے ہیں : يَقُولُ إِنَّ قَائِمَنَا إِذَا قَامَ مَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لِشِيعَتِنَا فِي أَسْمَاعِهِمْ وَ أَبْصَارِهِمْ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ الْقَائِمِ بَرِيدٌ يُكَلِّمُهُمُ فَيَسْمَعُونَ وَ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَ هُوَ فِي مَكَانِهِ
جب ہمارا قائم قیام فرمائے گا اللہ ہمارے شیعوں کے لیے سماعت و بصارت کو وسیع کر دے گا یہاں تک کہ اسکے اور حضرت قائم کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہو گا ایک دوسرے کی سنیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں کے درحالانکہ حضرت اپنے جگہ پر رہیں گے ، اشتباہ نہ ہو کہ حتیٰ کہ انٹرنیٹ کے بھی بغیر ہو گا ۔
پوری کائنات مومن منتظر کی تابعدار :
امام باقر ×ارشاد فرماتے ہیں : عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ كَأَنِّي بِأَصْحَابِ الْقَائِمِ وَ قَدْ أَحَاطُوا بِمَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ لَيْسَ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلَّا وَ هُوَ مُطِيعٌ لَهُمْ حَتَّى سِبَاعُ الْأَرْضِ وَ سِبَاعُ الطَّيْرِ تَطْلُبُ رِضَاهُمْ فِي كُلِّ شَيْ‏ءٍ حَتَّى تَفْخَرَ الْأَرْضُ عَلَى الْأَرْضِ وَ تَقُولَ مَرَّ بِي الْيَوْمَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ ، گویا کہ میں دیکھ رہاہوں کہ حضرت قائم کے اصحاب نے تمام آفاق کا احاطہ کیا ہوا ہے کوئی شی نہیں ہے مگر وہ اصحاب کی مطیع اوور تابعدار ہے حتیٰ کہ زمین کے درندے اور وحشی پرندے یہ سب ہر شی میں اصحاب ِ مولا کی رضایت چاہتے ہیں یہا ں تک کہ ایک زمین دوسری پر فخر کرتے ہوئے کہے گی آج میرے اوپر قائم کا صحا بی گزرا ہے کیوں نہ فخر کریں کہ انسان کامل کا گزر ہوا ہے ۔
حجر و شجر ، مومن منتظر سے کلام کریں گے
امام باقر ×ارشاد فرماتے ہیں : إِنَّ الرَّجُلَ يَخْتَفِي فِي الشَّجَرَةِ وَ الْحَجَرَةِ فَتَقُولُ الشَّجَرَةُ وَ الْحَجَرَةُ يَا مُؤْمِنُ هَذَا رَجُلٌ كَافِرٌ فَاقْتُلْهُ فَيَقْتُلُهُ قَالَ فَتَشْبَعُ السِّبَاعُ وَ الطُّيُورُ مِنْ لُحُومِهِمْ ،تحقیق مرد ، درخت یا پتھر میں مخفی ہو گا تو درخت اور پتھر بول کر کہے گا اے مومن یہ مرد کافر ہے پس اسے قتل کریں وہ مومن اس کافر کو قتل کر دے گا درندے اور پرندے اسکے گوشت سے سیر ہو جائیں گے ۔ امام صادق × ارشاد فرماتے ہیں: لَوْ كَانَ كَافِرٌ أَوْ مُشْرِكٌ فِي بَطْنِ صَخْرَةٍ لَقَالَتْ يَا مُؤْمِنُ فِي بَطْنِي كَافِرٌ فَاكْسِرْنِي وَ اقْتُلْهُ ۔ اگر کافر یا مشرک کسی پتھر کے پیٹ میں ہو تو وہ بول کر کہے گا اے مومن میرے پیٹ میں کافر ہے مجھے توڑ اور اسے قتل کر ، مراد یہ ہے کہ دشمن خدا اور امام ،کہیں بھی مخفی نہیں ہو سکتا ، پس پتھر اور درخت مومن منتظر کے غلام بن کر اپنی ذمہ داری ادا کریں گے ۔
سنت : ایک مقام جو دیگر آئمہ سے ممتاز کرتا ہے ، وہ خاتم الائمہ#ہے:
حضرت خاتم الانبیاء محمد ﷺ نے خطبہ غدیر میں حضرت خاتم الائمہ# کی تقریباََ بیس (۲۰) مقامات منزلیں بیان فرمائی ہیں جن میں پہلا اور اہم اور عظیم مقام کہ جو اصل ِ اصیل ہے اور باقی کمالات اسکی فرع ہیں یون بیان فرمایا : أَلَا إِنَّ خَاتَمَ الْأَئِمَّةِ مِنَّا الْقَائِمُ الْمَهْدِي‏ ۔ خبرادر اور توجہ !تحقیق خاتم الائمہ# ہم میں سے ہیں جو قائم مھدیٰ ہے ۔ یہ خطبہ جس محدث نے جہاں بھی نقل کیا ہے تو یہ فقرہ موجود ہے جیسے الغدیر ، احقائق الحق و غیرہ ۔اسی طرح ہمارا پہلا امام حضرت امیر المومنین علی × نے اپنی ایک طویل و عظیم خطبہ میں توحید ، نبوت اور امامت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ِ وَ بِنَا تَقْطَعُ الْحُجَجُ وَ مِنَّا خَاتَمُ الْأَئِمَّة ۔ہم اہل بیت کے ذریعہ اللہ کی حجتوں کا سلسلہ منقطع ہو گا اور ہم سے ہی پس وہ خاتم الائمہ# ہے ۔ دیگر مقام پر ارشاد فرمایا : و بمھدینا تنقطع الحجج فھو خاتم الآ ئمہ ، اور ہمارے مھدی کے ذریعہ اللہ کی حجتوں کاسلسلہ منقطع ہو گا وہ خاتم الائمہ# ہے ۔حضرت امام حسن عسکری ٰ × نے مولا امام خاتم# کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :انت خاتم الآ ئمۃ الطاھرین ۔آپ آئمہ طاھرین کے خاتم ہیں ۔
علامہ مجلسی ؒ نے اس مقام کو دومقام پر عنوان فرمایا ہے ایک تو حضرت کی تاریخ کے ابواب میں خاتم الائمہ الاعلام ، دوسرا مقام نصوص الرسول ﷺ علی الائمہ کے ابواب میں ذکر فرمایا : خاتم الا ئمہ الاثنیٰ عشر ^ ، دعا ئم الاسلام میں خاتم الامامت ذکر ہوا ہے ۔ افسوس ! یہ اہم اور اساسی ترین اسم حضرت امام خاتم# عصر حاضر میں متروک ہو چکاہے جو حضرت کو اسماء اور کمالات و فضائل میں اصل کی حیثیت رکھتا ہے اور باقی تمام اسماء اور فضائل اس سے نشات لیتے ہیں اور اسی پر متفرّع ہیں جسطرح خاتم النبین ﷺ نے خطبہ غدیر میں اسے اصل کے طور پر بیان فرمایا۔(الا انّ خاتم الآ ئمہ#) ذکر کرنے کے بعد تمام اسماء اور حضرت کے مقامات کو (انّہ) سے بیان کیا کہ یہ ضمیر خاتم الآ ئمہ #کی طرف پلٹ رہی ہے جسطرح ہم کہتے ہیں اللہ واحد ہے وہی عالم ہے وہی قادر ہے و ہی رحمن اور رحیم ہے تو یہ ایسے ہے کہ کوئی اسم جلالہ (جوتمام صفات جلال و جمال کو جامع ہے )کو ترک کردے اور دیگر اسماء کو یاد رکھے ۔ خاتم الائمہ # تمام کمالات وفضائل اور مناقب کوجامع ہے جسطرح حضرت خاتم الرسل نے باقی فضائل کو اس پر مفترع فرمایا ہے ۔
خاتم الائمہ # پر افتخار :
حضرت خاتم النبین ﷺ نے ( منّا) فرما کر ، کہ ہم میں خاتم ا لائمہ ہے ، افتخار کیا ہے ، کہ مقام ِختم اما مت بھی ہم اہل بیت کو نصیب ہوا ہے اسی طرح حضرت امیر المو منین علی × نے ( منّا) فر ما ، کر اظہار فخر فرمایا ہے ، جسطرح آغاز امامت رسول اللہ ﷺ کے بعد ہم میں سے ہے اختتام امامت بھی ہم پر ہے ۔ جب نبی و علی کوخاتم الائمہ پر افتخار ہےتو ہم رعایہ اور محب کا وظیفہ اور ذمہ داری بنتی ہے کہ اس اسم مبارک پر افتخار کریں اور افتخار سے کہیں ہمارا امام خاتم الائمہ # ہے اور وظیفہ سمجھتے ہوئے اسے اپنی حد تک رائج کریں ۔ یہ مبارک اسم بھی سرزبان ہوجائے تو ضرور نبی و علی اور خود حضرتِ امام خاتم الائمہ #ہم پر نظر کرم فرمائیں گے ۔
معنی خاتم الائمہ#
جو معنی ٰ ذہن میں سب سے پہلے آتا ہے وہ یہ کہ آئمہ کا خاتم یعنی اماموں کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے جسطرح خاتم النبین وہ جس پر انبیاء کا سلسلہ ختم ہو رہا ہے جیسے حضرت محمد ﷺؑ کے بعد کوئی نبی اللہ کی طرف سے نہیں آئے گا اسی طرح حضرت ،م۔ ح۔ م۔د ،× کے بعد کوئی امام نہیں آئے گا ، جسطرح خاتم النبین ﷺ کے بعد کوئی دعویٰ نبوت کرے تو وہ کذَّاب اور جھوٹا ہے اسی طرح حضرت خاتم لائمہ کے بعد کو ئی دعویٰ امامت کرے تو وہ کذّاب اور جھوٹا ہے ۔
اس معنی کو دیگر احادیث کا ظاہر بھی بیان کر رہا ہے ۔
۱۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشا د فرمایا : قال رسول الله ص الأئمة بعدي اثنا عشر أولهم أنت يا علي و آخرهم القائم الذي يفتح الله عز و جل على يديه مشارق الأرض و مغاربها ، میرے بعد بارہ امام ہیں ان میں سے پہلے آپ ہیں اے علی ! اور انکا آخری قائم #ہے اللہ جس کے ہاتھوں پر زمین کے مشارق اور مغارب کو فتح فرمائے گا۔جب اول و آخر سے محدود کر دیا تو اسکے بعد امامم بنانا اجائز نہیں ہے ۔
۲۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قال سمعت أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ص يقول قال لي رسول الله ص يا علي الأئمة الراشدون المهتدون المعصومون من ولدك أحد عشر إماما و أنت أولهم و آخرهم اسمه اسمي‏ ،اے علی اللہ سے ہدایت یافتہ اور معصوم امام تیری نسل سے گیا رہ ہوں گے تو ان میں سے پہلا ہے اور انکا آخری وہ ہے جسکا اسم میرا اسم ہے۔اس حدیث میں صفت عصمت کو بھی ذکر کیا گیا ہے جسکا ظاہر یہ ہے کہ معصوم امام فقط یہی ہیں ۔ انکے علاوہ کوئی امام ہونے کا مدّعِی ہو گا تو معصوم نہیں ہوگا ۔
۳۔ مولا علی × نے رسول ﷺ سے پوچھا مھدی ہم ائمہ ھدی سے ہو گا یاہمارے غیر سے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، بل مناّ ، بلکہ ہم سے ہوگا پھر فرمایا :بنا یختم الدّین کما بنا فتح ، و بنا یستنقدون من ضلالۃ الفتنۃ کما استنفذوا من ضلا لۃ الشرک ، ہمارے ذریعہ دین کا اختتام ہو گا جسطرح اسکاافتتاح ہوا، ہمارے ذریعہ فتنہ کی گمراہی سے نکالا جائے گا ، جسطرح پہلے شرک کی گمراہی سے انہیں نکالا گیا تھا ۔بس انسان گمراہی سے تب بچ سکتا ہے جب آخری امام کے بعد کسی کو امام نہ مانے ۔
لغت میں ختم و اختتام
اختتام مقابل افتتاح ہے اور ختم الشی ، شی کا آخر اور انتہا تک پہنچنا اور یہ تب ہے جب شی کامل ہوجائے ، طبع اور مہر اسکا ایک مصداق ہے مفہوم نہیں کیونکہ شی کے کامل ہونے کے بعد مہر لگائی جاتی ہے تو مہر کو خاتم کہا جاتا ہے ۔خاتم اسم فاعل ہے کھبی ذات پربھی بولا جاتا ہے کیونکہ وہ ذات و صف خاتمیت سے متصف ہے خاتم۔ مانند عالَم کے ہے اس میں مزید مبالغہ ہے جس سے صفت خاتمیہ واقع ہوتی ہے وہ ذات کہ فقط اسی سے صفت حتمیت محقق ہو ۔
پس خاتم النبین کا معنیٰ یہ ہوگا، انبیاء کا سلسلہ جس ذات سے کامل ہو کر ختم ہوتا ہے وہ حضرت محمد ﷺ کی ذات و الا صفات ہے مقام نبوت اس ذات پر کامل ہو گا لذا آگے نبی کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ نبوت کامل ہو گئی ہے ، شی کے کامل ہونے کے بعد وہ شی ختم ہو جاتی ہے اور اس پر مہر لگادی جاتی ہے تو اسکے بعد اگر کوئی اور شی ہوگی تو وہ اسکے علاوہ کوئی اورشی ہوگی پس خاتم النبین کے بعد نبی کاآنا ممکن ہی نہیں ، اسی طرح خاتم الائمہ کے بعد کسی امام کا آنا ممکن نہیں ہے کیونکہ امامت کامل ہوگئی اور اپنی انتہا تک پہنچ گئی ۔ امامت میں مقام خاتمیت کمال امامت کامقام ہے ۔
صاحب شوار ق کا بیان
متکلم عظیم الشان عبد الرازق لاھیجی اپنی کتاب (گوہر مراد) میں فرماتے ہیں کہ انسان کا اعلیٰ کمال مقام نبوت ہے اور نبوت کے درجات ہیں بعض نبیوں کو دیگر نبیوں پر فضیلت دی گئی ہے نبوت کا آخری درجہ مقام خاتمیت ہے خاتم النبین میں مقام نبوت کامل ہوا ہے حضرت محمد ﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء نبوت رکھتے تھے لیکن اس درجہ کی نہیں تھی جوحضرت خاتم کے پاس تھی حضرت پر آ کر نبوت اپنے کمال ِ کامل کو پہنچی پس تمام کمالات انسانی بھی کمال ِ کامل تک پہنچ گئے ۔ اسی طرح خاتم الائمہ# میں کمال امامت ، اپنے کمال کامل کو جاپہنچا ، کہ امرا للہ بن کر امر اللہ کے ذریعہ ہر شی کی ملکوتی ہدایت فرما کر ہر شی کو اپنے ہدف اور کمال تک پہنچائے گا کمال ِ علم و قدرت عصمت ، اور دیگرتمام کمالاتِ امامت اپنے کمال کامل پر پہنچ جائیں تو یہ خاتمیت امامت کا مقام ہے ۔ہر منتظر کاو ظیفہ ہے کہ وہ حضرت کے خاتم الائمہ ہونے کا عرفان رکھتا ہو اور حضرت کو خاتم الائمہ مانتے ہوئے کسی اور کو اپنا امام قرار نہ دے اور اس خاتم الائمہ کے کلمہ کے پر چار میں پوری کو شش کرتا رہے ۔ ہمارے ادرے اور رسالہ کا نام بھی اسی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔
قائم :
میرے کریم مولا حضرت خاتم الائمہ × عدل الھی کو تمام جہانوں میں قائم کرنے والے ہیں خود عدل الھی بن کر اسکی عدالت کو عالمین میں نافذ فرمائیں گے اولین و آخرین اس جہان میں جس عدالت کے نافذ ہونے کے منتظر ہیں اور تمام کو آخرالزّمان کا وعدہ دیا گیا ہے حتیٰ کہ تمام انبیاء اور آئمہ ^ اس الھی عدالت کے قائم ہونے کے منتظر ہیں ۔ کہ ہمارا آخری آئے گا جو کائنات کو عدل و قسط سے پُر کر دے گا ۔ اس معنی ٰ پر روایات تو اتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں بطور نمونہ چند احادیث سے تبرک لیتے ہیں ۔
۱۔ رسول اللہ ﷺ ار شاد فرماتے ہیں جب کسی کو ظلم سے بچنے کی پناہ نہیں ملے گی ، اس وقت عدل الھی آئے گا ۔
فَيَبْعَثُ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ عِتْرَتِي أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَ سَاكِنُ الْأَرْض‏ ، بس اللہ تبارک و تعالیٰ میری عتر ت اور میری اہل بیت سے ایک مرد کو مبعوث فرمائے گاجو زمین کو عدل سے پُر کر دے گا جس طرح وہ ظلم و بربریت سے پُر ہو گی اس مرد سے زمین و آسمان کے باسی راضی ہوں گے ۔عدل ا لھی سے ممکن ہے کہ ارضی و سماوی مخلوق راضی ہو ملک و ملکوت مادہ و معنی خاکی و نوری کلمہ سماء حتیٰ کہ لوح و قلم عرش کو بھی شامل ہے جنت و دوزخ کو بھی شامل ہے کیونکہ مراد اس زمین اور جہان ِ مادہ وطبعیت سے جو ماوارء ہیں راضی ہو ں گے۔ کیسا امام کہ ظاہرا اس دنیا میں ظہور فرمائے گا لیکن عدالت اسکی آسمان تک جائے گا ۔
۳۔ حدیث دیگر میں سے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَ اسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً ، میری امت ( مراد امت وسط کہ اہلیبت ہیں ) سے جسکا نام میرا نام ہو گا اسکا خلق میرا خلق ہو گا بس وہ زمین کو عدل و قسط سے پُر کرے گا جسطرح ظلم و وجور سے پُر ہو گی ۔اس میں مطلب عظیم بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ زمین عدل و قسط سے وہ کیوں پُر کرے گا ؟ سبب پہلے بیان ہو اہے کہ اسکا خُلق ، رسول اللہ ﷺ کا خُلق ہے اور خلق عظیم کہ وضاحت گزر چکی ہے جو پہلے صاحب خلق عظیم نہ ہو محال ہے کہ عدل قائم کرے ۔سب جہان ،و ورلڈ میں عدل قائم کرنے کے دعویٰ دار سب جھوٹے ہیں اس لیے کہ قدرت ہی نہیں رکھتے اور بین المللی عدالت ، خلق عظیم کے بغیر محال ہے جسکا وجود خلق عظیم ہو وہ عادل ، عدالت قائم کر سکتا ہے کیو نکہ اسکا وجود عینِ عدل ہو گا اس لیے کہ اسکے بدن اور روح میں عدالت قائم ہے ۔ اور افراط و تفریط نہیں ہے کہ سینکڑوں سال گزرنے کے بعد جب ظہو ر فرمائے گا تو تیس، چالیس سال کا ایک کامل انسان ہو گا ۔روح میں عدالت ، حواس ، مشاعر ، فکر ، اور وجود میں عدل قائم ہے کہ امر اللہ ہے اب جو افعال اس ذات سےصادر ہوں گے فعل عدل ہو گا کہ ذرہ برابر افراط و تفریط نہیں ہو گی کیونکہ عالمین کا ہر فرد اس سے راضی ہو گا ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے” خُلقُہ خُلقی”کے بعد “فاء” تفریع سے فرمایا” فیملا ھا عدلاً وقسطاً ” رابطہ اثر و موثر ہے جیسا عادل و یسا عدل ، جب وہ اللہ کا اسم عادل ہے تو جہان میں اثر بھی اللہ کا عدل ہو گا۔
۴۔ حدیث دیگر میں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: جب دنیا میں ظلم ہو گا بڑا چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا چھوٹا بڑے پر ، قوی ضعیف پر اور ضعیف قوی پر رحم نہیں کرے گا ھرج و مرج ہو گی اس وقت مناد یٰ ندا دے گا: ٍ يُنَادِي هَذَا الْمَهْدِيُّ خَلِيفَةُ اللَّهِ فَاتَّبِعُوهُ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْرا ،منادی ندای دے گا یہ مھدی ہے اللہ کا جانشین ہے پس اسکی اتباع کرو ، زمین کو عدل سے پُر کردے گا جسطرح ظلم سے پُر ہے اس حدیث میں اتباع کے واجب ہونے اور عدل کے قائم ہونے کی دلیل حضرت امام کا خلیفۃ اللہ ہونا بیان ہوا ہے کیونکہ وہ اللہ کا قائم مقام ہے لذا زمین کو عدل سے پُر کر دے گا ، کیونکہ عدالت کاقیام عالمین میں اللہ انجام دے سکتا ہے یا خلیفۃ اللہ ، باقی سب مدّعیٰ ہیں ۔
۵۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہ عدالت کے قائم ہونے کا ایک نتیجہ ذکر فرما رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دنیا عدل سے پُر ہو گی تو امام خاتم # کی حکومت میں میری امت کو ایسی نعمت نصیب ہو گی کہ پہلے کسی کو نصیب نہیں ہوئی ، تنعم امتی فی ولایتہ نعمۃ لم تنعمھا قطّ ۔ ایک ایسی نعمت ملے گی جو ابھی تک کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی ۔
۶۔ ا یک اور کلام نور میں حضور اکرم ﷺارشاد فرمارہے ہیں : اسکی عدالت کے قائم ہونے سے ہر شی راضی ہو گی : یفرح بہ اھل السماء واھل الارض و الطیر و الوحش والحیتان فی البحر ۔ نقل دیگر میں (والطیر فی الھویٰ ) اہل زمین و آسمان راضی ہوں کے پرندے ہوا میں مچھلیاں دریا میں جنگل کے درندے۔ اس عدالت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : تاویٰ الیہ امتہ کما تاویٰ النحلۃ یعسوبھا ۔ اسکی امت اسکی طرف ایسے آئے گی جیسے شہد کی مکھیاں اپنے پادشاہ یعسوب کے پاس آتیں ہیں ۔
۷۔ اسی طرح زمین اپنے خزانے اگل دے گی اور زمین تسبیح خدا سے آباد ہو جائےگی تو میرے رب نے مجھے فرمایا تو میرا عبد میں تیرا رب ہوں پھر آئمہ کے بارے بتایا تو آخر پر فرمایا : وَ بِالْقَائِمِ مِنْكُمْ أَعْمُرُ أَرْضِي بِتَسْبِيحِي وَ تَقْدِيسِي وَ تحليلي [تَهْلِيلِي‏] وَ تَكْبِيرِي وَ تَمْجِيدِي وَ بِهِ أُطَهِّرُ الْأَرْضَ مِنْ أَعْدَائِي وَ أُورِثُهَا أَوْلِيَائِي وَ بِهِ أَجْعَلُ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِيَ السُّفْلَى وَ كَلِمَتِيَ الْعُلْيَا وَ بِهِ أُحْيِي عِبَادِي وَ بِلَادِي بِعِلْمِي وَ لَهُ أُظْهِرُ الْكُنُوزَ وَ الذَّخَائِرَ بِمَشِيَّتِي‏ ، میں تم اہل بیت میں سے قائم کے ذریعہ اپنی زمین کو اپنی تسبیح ، تھلیل ، تقدیس ، تکیبر ، اور اپنی تمجید سے آباد کروں گا اور اسکے ذریعہ اپنے دشمنوں سے زمین پاک کروں گا اور اس زمین کو اپنے اولیاء کی میراث قرار دوں گا اور اسی کے ذریعہ اپنے کافروں کا کلمہ سر نگوں اور اپنے کلمہ کو سر بلند کروں گا اسی کے ذریعہ اپنے بندوں اور اپنے شہروں کو اپنے علم سے زندہ کروں گا اور اسی کے ذریعہ اپنی مشیت کے ساتھ خزانے ظاہر کروں گا۔
۸۔ اسکی عدالت سے صلحِ مطلق قائم ہو گی ، کوئی شی دوسری کو اذیت نہیں دے گی ، جب شیطان نے خدا سے مہلت مانگی تو حضرت حق نے ظہور حضرت تک مہلت دی تو اس زمانہ کی خوصیات بیان فرمائیں : ِ وَ أُلْقِيَ فِي تِلْكَ الزَّمَانِ الْأَمَانَةُ عَلَى الْأَرْضِ فَلَا يَضُرُّ شَيْ‏ءٌ شَيْئاً وَ لَا يَخَافُ شَيْ‏ءٌ مِنْ شَيْ‏ءٍ ثُمَّ تَكُونُ الْهَوَامُّ وَ الْمَوَاشِي بَيْنَ النَّاسِ فَلَا يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضا ۔میں اللہ اس زمانہ میں امانت زمین پر نازل کروں گا پس کوئی شی دوسری کو ضرر نہیں پہچائے گی کوئی شی کسی سے نہیں ڈرے گی درندے اور مویشی لوگوں کے ساتھ رہیں گے کو ئی کسی کو اذیت نہیں دے گا یعنی حتیٰ کہ مخا لف اور متضاد ہو کر بھی ایک دوسرے کو اذیت نہیں کریں گے حتیٰ کہ شیر اور بھڑنیں اکٹھے ریوڑ پرہوں گی ، حتى ترتع الأسود مع الإبل و النمور مع البقر و الذئاب مع الغنم و تلعب الصبيان بالحيات‏ ،حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں : یہاں تک کہ شیر بھیڑ کے ساتھ چرئے گا چیتا گائے کےساتھ ، بھیڑیا گوسفند کے ساتھ اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے۔
۹۔ حتیٰ کہ یہ زمین کے اسکے علاوہ بغیر اور زمین میں بدل جا ئے گی : و من نسل علي القائم المهدي الذي يبدل الأرض غير الأرض‏ ، حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں : کہ علی × کی نسل سے عدل قائم کر نے والا مھدی ٰ × ہو گا زمین کو اسکے غیر میں بدل دے گا یہی صفت رو ز قیامت کی ہے کہ زمین کو اسکے غیر میں تبد یل کر دیا جائے گا :يَوْمَ تُبَدَّلُ الأرْضُ غَيْرَ الأرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ، تو جو عدل ،اللہ روز قیامت قائم فرمائے گا کہیں ذرہ بر ابر کسی پر ظلم نہیں ہو گا تو خاتم الائمہ # خلیفۃ اللہ بن کر اسی عدل کو اپنی ظہور میں قائم کریں گے کہ ذرہ بر ابر بھی کسی پر ظلم نہیں ہو گا تو یہ زمین ، وہ ظلم والی زمین نہیں رہے گی بلکہ زمین عدل بن جائے گی ۔ امیرا لمومنین علی × ارشاد فرماتے ہیں : وَ لَذَهَبَتِ الشَّحْنَاءُ مِنْ قُلُوبِ الْعِبَادِ وَ اصْطَلَحَتِ السِّبَاعُ وَ الْبَهَائِمُ حَتَّى تَمْشِي الْمَرْأَةُ بَيْنَ الْعِرَاقِ إِلَى الشَّامِ لَا تَضَعُ قَدَمَيْهَا إِلَّا عَلَى النَّبَاتِ وَ عَلَى رَأْسِهَا زِينَتُهَا لَا يُهَيِّجُهَا سَبُعٌ وَ لَا تَخَافُه‏ ،لوگوں کے دلوں سے دشمنی کہَا چلا جائےگا اور درندوں اور چوپاؤں میں صلح ہو گی یہاں تک کہ ایک عورت عراق اور شام کے درمیان چلے گی تو اسکا قدم سبزہ زار پر آئے گا اسکے سر پر زبیل گھٹر ی ہو گی اسے کوئی درندہ بھی نہیں ڈرائے گا بھی ۔
۱۰ ۔ عدل یہاں تک کہ قبر و برزخ میں مردے خوش ہو کر ایک دوسرے کو مبارک دیں کہ امر اللہ اور عدل اللہ کا ظہور ہو گیا ہے۔امام صادق × ارشاد فرماتے ہیں : ً وَ لَا يَبْقَى مُؤْمِنٌ مَيِّتٌ إِلَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ الْفَرْحَةُ فِي قَبْرِهِ وَ ذَلِكَ حَيْثُ يَتَزَاوَرُونَ فِي قُبُورِهِمْ وَ يَتَبَاشَرُونَ بِقِيَامِ الْقَائِم‏ ،کو ئی متوفیٰ مومن نہیں ہو گا مگر اس پر اسکی قبر میں خوشی اور سرور نازل ہو گا تو وہا ں برزخ میں ایک دوسرے کو مل کر حضرت قائم کے عد ل قائم کرنے کی خوشخبری اور بشارت دیں گے ۔کیسا عدل کا قیام ہے کہ عدل دنیا میں قائم ہو رہا ہے اس کے اثر میں برزخ والوں کو بھی سرور آرہا ہے ؟
۱۱۔ اسی عدل کے اثر میں ہر نعمت کی فراوانی ہو گی ہر شی عام تام ہو گی ذرہ برابر فقر و غربت نہیں ہو گا اب پوری دنیا کو فقر و غربت نے ذلیل کیا ہو ا ہے اسکے ظہور اور عدل کے قائم کرنے سے فقر و غربت ذلیل ہو کر بھاگ جائے گا حضرت کی فوج کو اعلان ہو گا۔امام باقر × فرماتے ہیں کہ کوئی بھی کھانے پینے کی کو ئی شی نہ اٹھا ئے ۔ اً وَ يَحْمِلُ حَجَرَ مُوسَى الَّذِي انْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً فَلَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا نَصَبَهُ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ الْعُيُونُ فَمَنْ كَانَ جَائِعاً شَبِعَ وَ مَنْ كَانَ ظَمْآنَ رَوِي ، حضرت موسی کا پتھر اُٹھائیں گے جس سے بارہ چشمے نکلے تھے جس منزل پر نصب کریں گے تو اس سے بارہ چشمے نکلیں گے بس ہر بھوکا سیر ہو گا اور پیا سا سیراب،اما م صادق × فرماتے ہیں : تُظْهِرُ الْأَرْضُ كُنُوزَهَا حَتَّى تَرَاهَا النَّاسُ عَلَى وَجْهِهَا وَ يَطْلُبُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ مَنْ يَصِلُهُ بِمَالِهِ وَ يَأْخُذُ مِنْ زَكَاتِهِ لَا يُوجَدُ أَحَدٌ يَقْبَلُ مِنْهُ ذَلِكَ اسْتَغْنَى النَّاسُ بِمَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۔ زمین اپنے خزانے نکال دے گی لوگ سونے چاندی کے خزانوں کو زمین کے اوپر دیکھیں گے ۔ ایک شخص اس تلاش میں ہوگا کہ مال کے ساتھ صلہ رحمی کرے اسکی زکات لینے والا ہو لیکن کوئی لینے والا نہیں ملے گا تو لوگ بے نیاز ہوں گے ، جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں رزق دیا ہے۔ پس غربت اور فقر ،ذلیل ورسواء ہو جائے گا۔
خاتم الائمہ×# اللہ کے فیض کا واسطہ
ہر امام × واسطہ فیض ہے لیکن ہمارے امام عظیم واسطہ ہیں کیونکہ خاتم الائمہ × انبیاء اور دیگر آئمہ ^ کی رجعت کا بھی واسطہ ہیں ۔ جسطرح اپنے ظہور میں اللہ کے عظیم فیض کا واسطہ ہے اسی طرح غبیت الھیہ میں بھی اسکے فیض کا واسطہ ہیں جسطرح حدوث کا واسطہ اسی طرح بقاء کا بھی واسطہ ، کائنات میں ہر شی کی بقاء اسکے رزق سے ہے اگر وہ شی معنوی ہے تو رزق معنوی کی ضرورت ہے اور وہ علم ہے اگر شی مادّی ہے تو رزق مادّی کی ضرورت ہے اور وہ ہر ایک کے لیے مختلف غذائیں ہیں جو امام عین الحیات ہے اور ہر زندہ کی زندگی کا سر چشمہ ہے تو اسکی بقاء اور رزق کا واسطہ ہونا ضروریات میں سے ہے ۔
جو انبیاء ، ملائکہ اور جن و انس کے علم رزق معنوی کا واسطہ ہیں تو وہ بطریق اولی ٰ رزق مادّی کا بھی واسطہ ہیں ۔جسطرح اللہ تبارک و تعالیٰ ، محیٰ اور ممیت ہے لیکن احیاء و موت اور وفات دینے کا واسطہ قرار دیا ہے اسی لیے توفیٰ کی نسبت اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی طرف بھی دی ہے جسطرح ملائکہ کی طرف دی ۔اللَّهُ يَتَوَفَّى الأنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا ، اللہ جانوں کو انکی موت کے وقت وفات دینے و الا ہے۔وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۔ اللہ نے تمھیں خلق فرمایا پھر تمھیں وفا ت دے گا ۔پھر یہی اللہ فرما رہا ہے :قُلْ يَتَوَفَّاكُمْ مَلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ۔ ملک الموت جو تم پر موکل ہے تمہیں موت دے گا پھر تمہیں اللہ کی طرف پلٹایا جائے گا۔الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ۔ وہ جنہیں ملائکہ وفات دیتے ہیں ، اسی طرح تمام افعال واسطہ اور اسباب کے ذریعہ سے ہیں اور یہ قانون الھیٰ ہے کہ( ابی اللہ ان یجری الاموربغیر الاسباب ! امام صادق × فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشادفرمایا ہے :کہ کائنات کے امور بغیر اسباب کے ہوں بلکہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ امور اور افعال ، اسباب سے واقع ہوں بلکہ واسطہ کائنات کی ضرورت ہے اسکے بغیر کائنات کے لیے اللہ کا کوئی فیض بھی نازل نہیں ہوتا ، جب دین اسلام ، شریعت ، قرآن بغیر واسطہ کے نازل نہیں ہوئے تو دیگر امور کیسے بغیر واسطہ کے واقع ہوں گے پس جہان میں واسطہ کی نفی جہل ہے اور واسطہ کو استقلال دینا شرک ہے ۔مسئلہ بقاءِ جہان اور رزق بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے یہ ایک قرآنی حقیقت ہے اللہ تبارک و تعالیٰ رازق اور رزّاق سے جوخالق ہے وہی رازق ہے :اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۔ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں خلق فرمایا پھر تمہیں رزق عطا فرمایا پھر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ فرمائے گا اسی طرح کثرت سے ذکر فرمایا کہ رزقناکم ، رزقناھم ، ہم نے رزق دیا ، اس میں بھی وہی نکتہ ہے جو انزلنا میں گزر چکا ہے ، کہ وسائط کا ذکر ہے ، بالآخر مخلوق کو رزق دینے کا حکم دیا ۔ وارزقواھم ۔ تم یتموں اور فقیروں اور بے عقلوں کو رزق دو۔پس یہ عین ِ توحید ہے شرک نہیں بلکہ جو واسطہ کا منکر ہو ایک لحاظ سے وہ مشرک ہے مکتب اہل بیت ^ میں واسطہ ضروریات میں سے ہے ۔
شیخ حر عاملی & وسائل میں اور علامہ مجلسی & بحار الانوار میں کر اجکی سے ذکر کرتے ہو ئے اس روایت کو نقل کیا ہے ۔ ابو حنیفہ نے حضرت صادق × کے ساتھ کھانا کھایا امام صادق جب کھانا کھا چکے تو فرمایا : كَنْزُ الْفَوَائِدِ لِلْكَرَاجُكِيِّ، ذَكَرُوا أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ أَكَلَ طَعَاماً مَعَ الْإِمَامِ الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَ السَّلَامُ فَلَمَّا رَفَعَ الصَّادِقُ ع يَدَهُ مِنْ أَكْلِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ هَذَا مِنْكَ وَ مِنْ رَسُولِكَ ص:حمد خدا کو انجام دیا پھر فرمایا پروردگار! یہ ( طعام ) تجھ سے اور تیرے رسول ﷺ سے ہے ، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَ جَعَلْتَ مَعَ اللَّهِ شَرِيكاً ؟ابو حنیفہ نے کہا! آپ × نے اللہ کے ساتھ شریک قرار دیا ہے ؟ فقال × فَقَالَ ع لَهُ وَيْلَكَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ وَ ما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ يَقُولُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ وَ لَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا ما آتاهُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ قالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ رَسُولُهُ فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَ اللَّهِ لَكَأَنِّي مَا قَرَأْتُهُمَا قَطُّ ، امام × نے ارشا فرمایا : وائے ہو تم پر ! اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ! ( منا فقین انتقام نہیں لے رہے مگر اس لیے کہ اللہ اور اسکے رسول نے انہیں اپنے فضل سے ( سیر کر کے ) بے نیاز اور تو نگر کر دیا ہے اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا !( اے کاش) منافقین راضی ہوتے اس پر جو انہیں اللہ اور اسکے رسول نے عطا فرمایا ہے اور کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے عنقریب اللہ اور اسکا رسول اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائیں گے ۔ ابو حنیفہ نے کہا اللہ کی قسم ! گویا کہ میں نے ان دو آیات کو کھبی بھی نہیں پڑھا ۔
امام × نے اپنے عمل پر قرآن سے استشہاد فرمایا ہے :حضرت کا عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ اور خلیفۃ اللہ سے ہے ابو حنیفہ نے کہا! کہ یہ رزق میں اللہ کو شریک قرار دینا ہے تو امام × نے قرآن سے اثبات فرمایا کہ میرا عقیدہ ہی تو حید ہے ۔ آیات میں منا فقین اور مومنین کا عقیدہ بیان ہو ا ہے منافقین رزق کو اللہ اور اسکے رسول سے نہیں مانتے جبکہ مومنین رزق کو اللہ اور اسکے رسول سے جانتے ہیں ۔ بلکہ دوسری آیت کریمہ جسے امام نے ذکر فرمایا ہے اس میں تو خود خداوندمتعال اس عقیدہ کو بیان فرما رہا ہیں : کہ اے کاش منافقین اس عقیدے پر ہوتے اور اسی عقیدہ پر راضی ہوتے اور کہتے کہ اللہ اور رسول اپنے فضل سےہمیں عطا فرمائیں گے خود حضرت حق رزق کے واسطہ کو بیان فرمارہے ہیں ۔
پس اولا ًجو اس نظریہ کا قائل نہ ہو وہ اس عقیدہ میں اپنے آپ کو منافقین کی صف میں داخل کر رہا ہے ، و ثانیاً رئیس مذہب کا عقیدہ ہے لذا جو اس کا قائل ہے وہی سچاجعفری ہے ۔حضرت امام جعفر صادق × کے نزدیک رزق اللہ ، خلیفۃ اللہ سے ہے جو جعفری ہو ں گے انکا یہی عقیدہ ہوگا جو رزق کو امام کے واسطہ سے نہ مانے وہ جعفری نہیں ہے اسی بنیاد پر غیبت صغریٰ میں شیعوں کے درمیان اختلاف تھا کہ رزق اور دیگر امور کیسے واقع ہوتے ہیں تو حضرت صادق × کی فرمائش سے مسئلہ حل ہوا ۔ یہ حدیث ایک قاعدہ اور قانون بیان کر رہی ہے حضرت فرماتے ہیں : قَالَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَمْراً عَرَضَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص ثُمَّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ سَائِرِ الْأَئِمَّةِ ع وَاحِداً بَعْدَ وَاحِدٍ إِلَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِلَى صَاحِبِ الزَّمَانِ ع ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الدُّنْيَا۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ چاہتے ہیں کسی امر کو ایجاد کریں تو اسے رسول ﷺ پر پیش کرتے ہیں پھر امیر المومنین پر پھر با قی آئمہ ^ پر اسکے بعد یہاں تک صاحب ِ الزمان ×# پر منتھی ٰ ہوتا ہے پھر دنیا میں واقع ہوتا ہے ۔یہ قوس نزول کا بیان ہے اللہ سے جو شی پیدا ہو ، نازل ہو اسکا تکوینی راستہ یہی ہے اور یہ اللہ کا تکوینی قانون ہے ہر شی انہیں مراتب سے ہو کر دنیا میں واقع ہوتی ہے ۔اذا ارا داللہ امراً: امر سے مراد شی ہے نکرہ ہے جو ہر چھوٹی اور بڑی شی کو شامل ہے مادّی اور معنوی ہر شی کو شامل ہے جسطرح آیت کریمہ میں ہے :ان من شی الا عند نا خزائنہ و ما تنزلہ الا بقدر معلوم ِِ۔
کوئی شی نہیں مگر ہمارے پاس اسکے خزائن ہیں اور ہم اس شی کو نازل نہیں کرتے مگر ایک مقدار معین کے ساتھ ۔ یہاں پر بھی شی ہے جو اشیاء کو شامل ہے اور یہاں کلمہ نزول ہے خداوند متعال کی خلقت نزول ہے لذا ہر شی وہاں سے نازل ہوتی ہے یہ حدیث گویا کہ ا س آیت کریمہ کی مصداقی تفسیر ہے اللہ کے خزائن آئمہ معصومین ^ کو بیان کیا گیاہے تمام چیزیں انہیں خزائن سے ہو کر آتی ہیں اور یہ خزائن ، واسطہ ہیں اور یہ خزائن عالمین کی ضرورت ہیں پس آئمہ ھدیٰ ^ تمام عالم امکان کی ضرورت ہیں۔ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوتی ہے پس حضور اکرم صادر اوّل اور خلق اوّل ہیں جو سب سے پہلے اللہ کے فیض کو اپنے ظرف وجودی میں قبول فرماتے ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ اللہ کا خزینہ بن کر اس فیض کو محفوٖظ رکھتے ہیں کہ اس خزانہ سے نازل ہونے کے بعد وہ خزانہ خالی نہیں ہوتا بلکہ شی دنیا میں بھی آجاتی ہے اور الھی خزانہ میں اس شی سے خالی نہیں ہوتا۔ یہی فرق ہے دنیا کے خزانے اور اللہ کے خزانے میں ، دنیا کے خزانہ سے جو جتنإ نکل جائے تو خزانہ اتنا خالی ہوجاتا ہے ۔
ثم یخرج الی الدنیا ! یہ ( ثم ) ” پھر “بیان کر رہا ہے کہ ان خزائن سے شی خارج ہونے کے بعد اور دنیا تک پہنچنے میں اور کئی وسائط ہیں جیسے عرش ، کرسی ، ملائکہ پھر دنیا میں واقع ہوتی ہے وہ وسائط اور اسباب بھی آئمہ کے تحت ہیں یہ خدا سے متصل ہیں باقی سب انکے بعد ہیں اور یہ پہلے ہیں :وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ، أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ،پھر حضرت نے قوس صعود بیان فرمایا : قَالَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَمْراً عَرَضَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص ثُمَّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ سَائِرِ الْأَئِمَّةِ ع وَاحِداً بَعْدَ وَاحِدٍ إِلَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِلَى صَاحِبِ الزَّمَانِ ع ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الدُّنْيَا وَ إِذَا أَرَادَ الْمَلَائِكَةُ أَنْ يَرْفَعُوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَمَلًا عُرِضَ عَلَى صَاحِبِ الزَّمَانِ ع ثُمَّ عَلَى وَاحِدٍ وَاحِدٍ إِلَى أَنْ يُعْرَضَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص ثُمَّ يُعْرَضُ عَلَى اللَّه‏ ، اور جب ملائکہ چاہیں کہ اللہ کی طرف کوئی عمل لے جائیں تو وہ اسے صاحب الزَّمان × پر پیس کرتے ہیں پھر ایک کے بعد دوسرا امام یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ پر پیس ہوتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف پیش کیا جاتا ہے ۔ دنیا سے کوئی اللہ کی طرف صاعد ہو اور اللہ کی طرف بلند ہوتو اس کا راستہ یہی ہے ملائکہ اس عمل کو امام زمان × پر پیش کرتے ہیں ۔امام زمان × ہر وقت کا امام ہے مثلا ََ امام صادق × کے زمان میں وہ امام زمان × ہیں تو سلسلہ وہاں تک ہو گا ملائکہ کیوں پیش کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ ملائکہ مدبرات امر ہے تو بطور غلام اولو الامر کے سامنے اپنی غلامی کا وظیفہ انجام دیتے ہیں ۔
در حالانکہ خود امام بھی قادر ہے جسطرح ذاتِ واجب قادر ہے کہ بغیر نلائکہ کے عمل کو لے لیں ۔اِبی اللہ ان یجریٰ الاشیاء بغیر اسباب ِِ، اللہ نے اساب سے نظام چلایا ہے اسکے بعد امام صادق × قوس کے دونوں سلسلہ کو یوں بیان فرمارہے ہیں : فما نزل َ من اللہ فعلیٰ اید یھم و ما یخرج الیٰ اللہ ِ فعلیٰ اید یھم ،وہ شی جو اللہ سے نازل ہو وہ ان آئمہ ^ کے ہاتھوں پر اور وہ شی جو اللہ کی طرف پرواز کرے وہ انہیں کے ہاتھوں پر ، یہ ایک قانون کلی ہے لذا آئمہ ^ کے علاوہ ہر شی اسی قانون کے تحت دنیا پر آتی ہے اور دنیا سے چلی جاتی ہے ، الَا الیٰ اللہ تصیر الامور ، تما م چیزیں اللہ کی طرف ہوتی چلی جارہی ہیں تو وہ اسی راستہ سے جائیں گی ،الیٰ ربک المنتھیٰ ، تیرے رب کی طرف منتھیٰ ہے اسی صراط مستقیم سے وہاں تک پہنچتی ہیں ۔ آئمہ ^ حقیقی اور تکو ینی واسطہ فیض ہیں نہ اعتباری اور فرضی ۔ لذ امحال ہے کوئی شی انکے وجودی ہاتھوں کو بوسہ دیے بغیر دنیا میں نازل ہو اور اسی طرح محال ہےکوئی شی انکی قدم بوسی کیے بغیر خدا تک پہنچ جائے
لطیف نکتہ :
یہاں پر خاتم الا ئمہ ×# کی رعایا کے لیے ایک عظمت ہے جوپہلے آئمہ کے رعایا کو نصیب نہیں ہوئی مثلا ََ: جو امام زین العابدین × کے ز مانہ میں تھے وہ روٹی کا لقمہ اور پانی کا گھونٹ رسول اللہﷺ سے لیکر حضرت زین العابدین × تک انکے ہاتھوں سے مس ہو کر آتا تھا اور لوگ کھاتے تھے ، جو چھٹے امام کے زمانہ میں تھے وہ ان تک اسی طرح حضرت ِ عسکر ی × تک ۔
لیکن یہ واحد ، منتظرین خاتم الائمہ ×# کو شرف حاصل ہے کہ چودہ کے ہاتھوں سے رزق کھاتے ہیں ۔ اس نعمت عظمیٰ پر کو ئی نوکر اگر بے انتہا خوش ہو اور خوشی سے جان دے دے تو حق رکھتا ہے ۔ زندگی کی سانس دم بدم آرہی ہے تو چودہ سے ہو کر آرہی ہے البتہ یہ اور بات ہے کہ کوئی رعایا کا، فرد کھا کر نمک حلالی کرتا ہے اور کوئی نمک حرامی ۔ یہ اس فرد کی ظرفیت ہے ورنہ شمش امامت سے ہر فیض الھی نازل ہورہا ہے ، اس پر جتنا فکر کرتے چلیں جائیں گے حضرت سے محبت اور عقیدت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ آخر پر ارشاد فرماتے ہیں : فَمَا نَزَلَ مِنَ اللَّهِ فَعَلَى أَيْدِيهِمْ وَ مَا عَرَجَ إِلَى اللَّهِ فَعَلَى أَيْدِيهِمْ وَ مَا اسْتَغْنَوْا عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ طَرْفَةَ عَيْنٍ ،آئمہ ھدیٰ ^ اللہ تبارک و تعالیٰ سے پلک جھپکنے کی مقدار بھی بے نیاز اور مستقل نہیں ہیں یہ ایک قانون ہے کہ واسطہ کھبی بھی اللہ سے مستقل اور بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ اگر بے نیازہو جائے تو باقی نہیں رہے گا عبد نہیں رہے گا خدا سے جدا ممکن نہیں ہے ، اگر جد ا ہو جائے تو نابود ہو جائے گا اصلاباقی نہیں رہے گاباطل ہوجائے گا تو کہاں خلق کے لیے واسطہ فیض بن سکتا ہے واسطہ فیض وہی ہوگا جو ہمیشہ نیاز مند عبد ہوگا ۔بلکہ آئمہ ھدیٰ^ سب سےزیادہ اللہ کے نیاز مند اور محتاج ہیں ، جو آئمہ کو خدا سے بے نیاز مانیں یہ باطل تفویض ہے اور شرک ہے اور جو انہیں خدا کا نیاز مند اور محتاج مانیں اور ذرہ برابر بھی بے نیاز نہ جانیں یہ حق تفویض ہے اور اصلی توحید ہے اور جو انکے واسطہ کا منکر ہو وہ جاہل ِ مقصّر ہے ۔
پس منتظرین خاتم الائمہ ×# کا وظیفہ اور ذمہ داری ہے کہ اپنے مولا کا اس طرح عرفان رکھیں تاکہ ا پنے آپ کو اس کا نمک خوار بناکر اسکی خدمت کریں اور اپنے وظائف پر عمل کریں ۔حق رعایا یہ ہے کہ حق رعیّت ادا کریں اور ہمیشہ اسکی فکر میں ہوں کہ آیا ا پنی ذمہ داری اور وظیفہ انجام دے رہاہوں یا نہ ؟ایک منتظر کی پہلی ذمہ داری اور بنیادی وظیفہ اپنے مولا کی معرفت ہے جو عرفان عمل پر و ادار کرے پھر وظائف المنتطرین پر عمل کر کے اسکی معرفت حقیقیہ اور مزید قرب حاصل کریں تاکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے مقرب اور محبوب بندے بن جا ئیں ۔
باقی تمام وظائف کی پوزیشن اس مرکزی و ظیفہ کی پوزیشن کے مطابق ہے اسی وجہ سے اس ذمہ داری کو دیگر و ظائف کی نسبت ذرا تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔ اگرچہ کہ اس موضوع پر فی نفسہ انتہائی اختصار سے کام لیا گیا ہے ورنہ دسیوں جلدیں درکار ہیں اسی موضوع کا اسکا اختتام دعا معرفت پر کرتے ہیں ۔
{ يَا زُرَارَةُ قَالَ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدَاكَ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ الزَّمَانَ أَيَّ شَيْ‏ءٍ أَعْمَلُ قَالَ يَا زُرَارَةُ إِذَا أَدْرَكْتَ هَذَا الزَّمَانَ فَادْعُ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي نَفْسَكَ لَمْ أَعْرِفْ نَبِيَّكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي رَسُولَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي رَسُولَكَ لَمْ أَعْرِفْ حُجَّتَكَ اللَّهُمَّ عَرِّفْنِي حُجَّتَكَ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تُعَرِّفْنِي حُجَّتَكَ ضَلَلْ
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.