اسم مبارک : علی بن موسیٰ الرضا (ع)
اسم مبارک : علی بن موسیٰ الرضا (ع)
نسب پدری : امام موسیٰ کاظم (ع) بن امام جعفر صادق (ع) بن امام محمد باقر (ع) بن امام زین العابدین (ع) بن امام حسین (ع) بن امام علی ابن ابی طالب (ع) اور یہ تمام کے تمام امام معصوم تھے ۔
آئمہ معصو مین(ع) میں سے چار امام کا نام علی ہے جو مندرجہ ذیل ہیں :
پہلے امام حضرت علی ابن ابی طالب (ع) ، چوتھے امام حضرت علی بن الحسین (ع)، آٹھویں امام حضرت علی بن موسیٰ الرضا (ع) اور دسویں امام حضرت علی النقی بن محمد تقی (ع) .
کنیت : حضرت ابوالحسن ہے، چونکہ امام موسیٰ بن جعفر (ع) کی کنیت بھی ابوالحسن ہے اس لئے آپ کو ابوالحسن ثانی کہتے ہیں ۔
القاب: رضا، صابر، رضی، وفی، فاضل وصدیق لیکن لقب ” رضا ” کی شہرت زیادہ ہے اور ” رضا” نام اس لئے رکھا کیونکہ یہ خوشنودی خدا و رسول (ص) اورآئمہ اطہار(ع) ہے اور دوست و دشمن بالاتفاق راضی و خوش تھے ۔
آپکی والدہ گرامی ” نجمہ ” جو اپنے زمانے کی فاضل، پرہیزگاراورعاقلہ عورتوں میں سے تھیں ۔(1)
والدہ گرامی امام موسیٰ کاظم (ع) سے روایت ہے کہ جب ” نجمہ ” کوخرید کرگھر لائے تو رات میں پیغمبراکرم (ص) کو خواب میں دیکھا کہ مجھ سے فرما رہے ہیں: اے حمیدہ ! نجمہ کا عقد اپنے فرزند موسیٰ کاظم سے کر دو اس لئے کہ جلدی ہی اس سے ایک فرزند پیداہوگا جو زمین پر بہترین انسان ہوگا۔ لہذا میں نے ” نجمہ ” کا عقد اپنے فرزند موسیٰ کاظم (ع) سے کردیا اور کچھ ہی مدت کے بعد علی بن موسی الرضا(ع) کی ولادت ہوئی۔اس وقت امام موسیٰ کاظم (ع) نے ” نجمہ ” کا نام ” طاہرہ ” رکھ دیا ۔ (2)
ان معظمہ کے دوسرے نام بھی ہیں مثلاً آروی، سکن، تکتم، ام البنین، شقراء، خیزران، سمانہ و صقر لیکن معروف ترین نام نجمہ ہے ۔(3)
بعض معصوموں نے حضرت امام علی رضا (ع) کی ولادت با سعادت کی پیشین گوئی و بشارت دی تھی اس سلسلے میں امام جعفر صادق (ع) سے چند حدیثیں وارد ہوئی ہیں ۔
منجملہ یہ کہ عبداللہ بن فضل ہاشمی نے روایت کی ہے کہ طوس کا رہنے والا ایک شخص امام جعفرصادق (ع) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔امام (ع) نے اس سے فرمایا: جلدی ہی میرے بیٹے موسیٰ (ع) کے صلب سے ایک فرزند دنیا میں آنے والا ہے کہ وہ آسمان میں خدا کی خوشنودی کا اور زمین میں بندوں کی خوشنودی کا سبب بنےگا اور وہ تمہاری سر زمین (یعنی طوس ) پر ظلم وستم کے ساتھ زہر کے ذریعے شہید کیا جائے گا اور وہیں پر عالم غربت میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
پھر امام (ع) نے فرمایا: جان لو کہ جو کوئی بھی عالم غربت میں اس کو امام اور امام موسیٰ کاظم (ع) کے بعد شیعوں کا رہبرجانتے ہوئے زیارت کرے گا گویا اس نے رسول خدا (ص) کی زیارت کی ۔(4)
امام علی رضا (ع) 11 ذیقعدہ 148 ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں پیداہوئے اور دنیا کو نور الٰہی اور اپنے نور سے منورکردیا ۔(5)
اگرچہ بعض مورخین نے امام رضا (ع) کی تاریخ ولادت 11 ذی الحجہ 153 ہجری قمری و 11 ذی قعدہ 151 یا 153 ہجری قمری لکھی ہے لیکن علمائے شیعہ کے نزدیک مشہور و معروف 11 ذیقعدہ 148 ہجری قمری ہے جو امام جعفر صادق (ع) کی شہادت کے چند ہفتہ بعد ہے ۔
جناب نجمہ والدہ گرامی امام علی رضا (ع) نے فرمایا کہ جس وقت امام رضا (ع) پیدا ہوئے امام موسیٰ کاظم (ع) نے مجھ سے فرمایا: اس بچہ کی حفاظت کرو اس لئے کہ یہ زمین میں بقیۃ اللہ ہے ۔(6)
امام رضا (ع)، امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے بعد 35 سال کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور 55 سال کی عمر میں ماہ صفر، 203 ہجری قمری میں مامون عباسی نے زہر کے ذریعے شہید کردیا