خوارج کی مخالفت کی وجہ اور اس کی وضاحت

333

لیکن خوارج ظاہر بین تھے اور آج کی اصطلاح میں خشک مقدس تھے اور اپنی جہالت ونادانی اور سطحی فکر ونظر اور اسلام کے اصول و مبانی سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے امام علیہ السلام کی مخالفت کرنے لگے، اورکھوکھلے اور بے بنیاد علل و اسباب گڑھ کر خدا کے چراغ ہدایت کے مقابلہ میں آگئے اور اس الٰھی چراغ کوخاموش کرنے کے لئے ہزاروں پاپڑ بیلے یہاں تک کہ خود کو ھلاک کرنے کے لئے بھی تیار ھو گئے۔
معاویہ اور خوارج کے درمیان اسی فرق کی وجہ سے امام علیہ السلام نے ان پرفتح وکامیابی حاصل کرنے کے بعد فرمایا: ” لاٰ تقاتلوا الخوارجَ بعدی، فلیسَ مَن طَلبَ الحقَّ فاٴخطاٰ ہ کَمَن طلب الباطل فادرکَہ”‘[1]، خبردار میرے بعد خوارج کو قتل نہ کرنا کیونکہ جو حق کا طالب ھے اور اسے حاصل کرنے میں کسی وجہ سے اس سے غلطی ھوجائے وہ اس شخص کے مثل نھیں ھے جس نے باطل کو چاہا اور اسے پا
بھی لیا۔( یعنی معاویہ اور اس کے اصحاب)
خوارج کی مخالفت کے تمام عوامل و اسباب کی تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ھے کہ یہ لوگ ، شامیوں کے برخلاف ہرگز جاہ ومنصب اور حکومت کے طلبگار نہ تھے بلکہ ایک خاص کج فکری اور ذہنی پستی ان پرمسلط تھی ۔ یہاں ھم خوارج کے اھم ترین اعتراضات نقل کررھے ھیں۔
۱۔دین پر لوگوں کی حکومت
وہ لوگ ھمیشہ یہ اعتراض کررھے تھے کہ کس طرح سے ممکن ھے کہ دومخالف گروہ کے دو آدمی اپنے اپنے سلیقے کے اعتبار سے مسلمانوں کی تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لیں اور اپنی رائے کو مسلمانوں کے معین شدہ رہبر کی رائے پر مقدم کریں ، دین اور مسلمانوں کا مقدر اس سے بلند وبرتر ھے کہ لوگ اپنی ناقص عقلوں سے ان کے اوپر حکومت کریں ۔وہ لوگ مستقل کہہ رھے تھے: ” حکم الرجال فی دین اللّٰہ ” یعنی علی نے لوگوں کو دین خدا پر حاکم قرار دیاھے۔
یہ اعتراض اس بات کی حکایت کرتاھے کہ وہ لوگ حکمین کے فیصلے کے قبول کرنے کے شرائط سے باخبر نہ تھے اور ان لوگوں نے خیال کیا کہ امام علیہ السلام نے ان دونوں کو مسلمانوں کی قسمت معین کرنے کے لئے آزاد چھوڑدیا ھے کہ جس طرح چاھےں ان کے لئے حکم معین کریں۔ امام علیہ السلام نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا:”اِنا لم نحکّم الرجالُ وانّما حکّمنٰا القرآنَ، ھذا القرآن انّما ھو خطٌّ مستورٌ بین الدَّفتین لا ینطقُ بلسانٍ ولابدَّلہ من ترجمان ، وانما ینطق عنہ الرجالُ ، ولمّٰا دَعانَا القَومُ اِلیٰ ان نُحکَّم بیننَا القرآن لم نَکُنِ الفریقَ المتولّي عن کتاب اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ، وقد قال اللّٰہ سبحانہ: ” فان تنازعتم فی شیءٍ فَردَّ وہُ اِلَی اللّٰہ والرّسول ِ “فرُدُّہُ اِ لٰی اللّٰہ اٴن نَحکُمَ بکتابِہِ ، وردّہُ اِلَی الرّسول اَن ناخذ بسنّتِہِ ، فاذا حُکِمَ بالصّدق فی کتابِ اللّٰہ فنحن اٴحقُّ الناس بہِ وان ُحکِمَ بسنةِ رسول اللّٰہ (ص) فنحن اٴحقُّ الناس وَ اَولاَ ھُم بِھا۔[2]
ھم نے لوگوں کو نھیں بلکہ قرآن کو حَکَم مقرر کیا ھےاور یہ قرآن دودفتیوں کے درمیان لکھی ھوئی کتاب ھے جو زبان سے نھیں بولتی اس کے لئے ترجمان ضروری ھے اور وہ ترجمان آدمی ھی ھوتے ھیں جو قرآن کی روشنی میں کلام کرتے ھیں جب قوم (اھل شام ) نے ھم سے خواہش کی کہ ھم اپنے اور ان کے درمیان قرآن مجید کو حکم قرار دیں تو ھم ایسے لوگ نہ تھے کہ اللہ کی کتاب سے منحرف ھوں حالانکہ خداوند عالم فرماتا ھے: “اگر تم کسی بات میں اختلاف کرو تو خدااور رسول کی طرف اسے پھیر دو” ۔خدا کی طرف رجوع کرنے کے معنی یہ ھیں کہ ھم اس کی کتاب کو حَکَم مانیں اور رسول کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنی ھیں کہ ھم ان کی سنت کو اختیار کریں ، پس اگر سچائی کے ساتھ کتاب خدا سے حکم حاصل کیا جائے تو اس کی رو سے لوگوں میں سب سے زیادہ ھم اس کے حق دار ھیں اور اگر سنت رسول کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو ھم سب سے زیادہ اس کے اھل ھیں ۔امام علیہ السلام ایک دوسرے خطبہ میں اسی جواب کو دوسری عبارت میں بیان کرتے ھیں اور فرماتے ھیں : ” دونوں حَکم کو اس لئے مقرر کیا گیا تھا کہ وہ انھیں چیزوں کو زندہ کریں جنھیں قرآن نے زندہ کیا ھے اور جن چیزوں کو قرآن نے ختم کیا ھے انھیں یہ بھی ختم کر دیں (حق کو زندہ اور باطل کو نابود کردےں) اور قرآن کا زندہ کرنا اس پر اتفاق کرناھے اور اسے ھلاک کرنا اس سے دوری اختیار کرنا ھے پس قرآن اگر ھمیں ان (شامیوں )کی طرف کھینچ لے جائے تو ھم ان کی پیروی کریں گے اور اگر وہ انھیں ھماری طرف کھینچ لائے تو انھیں ھماری پیروی کرنی چاھیے ، تمہارا برا ھو، میں نے اس بات میں کوئی غلط کام تو نھیں کیا نہ تمھیں دھوکہ دیا ھے اور نہ کسی بات کو شبہہ میں رکھا ھے ۔[3]
۲۔ وقت کا تعیین
خوارج کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ کیوں فیصلہ کرنے والوں کے لئے وقت معین ھوا ھے اور یہ طے پایا ھے کہ دونوں (عمروعاص اورابوموسیٰ )غیر جانب دار علاقہ (دومة الجندل) میں ماہ رمضان ختم ھونے تک اختلاف کے بارے میں اپنی اپنی رائے پیش کردیں اور یہ کام میدان صفین ھی میں اس دن کیوں نھیں انجام دیا گیا جس دن قرآن کو نیزہ بر بلند کیا گیا تھا؟!
حقیقتاً اس طرح کے اعتراضات کیا ان کی جہالت پر دلالت نھیں کرتے ؟ کیا ایسا عظیم فیصلہ ، اوروہ بھی اس وقت دونوں گروہ کا ہاتھ کہنی تک ایک دوسرے کے خون میں ڈوبا ھواتھا، کوئی آسان کام تھا کہ ایک دو دن کے اندر فیصلہ ھوجاتا اور دونوں گروہ اُسے قبول کرلیتے؟ یا اس کے لئے صبر وضبط کی ضرورت تھی تاکہ جاھل کی بیداری اور عالم کے استحکام کا امکان زیادہ پیدا ھو جائے اور امت کے درمیان صلح کا ذریعہ اور زیادہ فراھم ھوجائے۔
امام علیہ السلام اس جواب کے اعتراض میں فرماتے ھیں : ” وَاماقَو لکم:لم جعلت بینکم و بھینم اٴجلاً فی التحیکم؟فانما فَعَلتُ ذالک لِیتبیّّنَ الجَاھِلُ ویتثبّتَ العالم ولَعلَّ اللّٰہ اَن یصلحَ فی ھذہِ الھُدنَةِ اٴمرھذہ الامةِ “[4]اب تمہارا یہ کہنا کہ آپ نے اپنے اور ان کے درمیان تحکیم کی مھلت کیوں دی تو میں نے یہ موقع اس لئے دیا کہ جاھل تحقیق کرے اور عالم ثابت قدم ھوجائے ، اور شاید خداوند عالم اس مھلت کے ذریعے اس امت کے حالات کی اصلاح فرمادے۔
۳۔ حاکمیت انسان اور حاکمیت خدا کے انحصار سے تارض
خوارج نے امام علیہ السلام سے مخالفت کے زمانے میںآیة ” لاحکم الّا لِلّٰہ ” کا سہارا لیا اورحضرت کے کام کو نص قرآن کے خلاف شمار کیا اور یہ نعرہ لگایا: “لاحکم الّا لِلّٰہ لا لَکَ و لا لِاَصحابک یا عليُّ”یعنی حاکمیت خدا سے مخصوص ھے نہ کہ تم سے اور نہ تمہارے ساتھیوں سے اور یہ نعرہ جیسا کہ بیان کیا گیا ھے قرآن سے اقتباس ھے جو سورہ یوسف آیت نمبر ۴۰ اور ۶۷ میں وارد ھوا ھے اور اس کا مفھوم توحید کے اصول میں شمار ھوتاھے اور اس بات کی حکایت کرتاھے کہ حاکمیت اور فرمانروائی ایک حقیقی اور اصل حق ھے جو خدا سے مخصوص ھے اور کوئی بھی انسان اس طرح کا حق دوسرے انسان پر نھیں رکھتا۔ لیکن خدا میں حاکمیت کا منحصر ھونا اس چیز کے منافی نھیں کہ کوئی گروہ ایک خاص ضوابط کے ساتھ جن میں سب سے اھم خداکی اجازت ھے دنیا پر حکومت کرے ، اورخدا کی حاکمیت کی تجلی گاہ ھوجائے اور کوئی بھی عقلمند انسان یہ نھیں کہہ سکتا کہ اجتماعی زندگی، بغیر حکومت کے ممکن ھے ، کیونکہ وظائف و فرائض کاانجام دینا، اختلافات کا حل ھونا اور لڑائی جھگڑے کا ختم ھوناوغیرہ یہ تمام چیزیں ایک حکومت کے سایہ میں انجام پاسکتی ھےں ۔
اما م علیہ السلام نے جب ان کے نعرہ کو سنا تو فرمایا ، ہاں یہ بات صحیح ھے کہ حکومت کاحق صرف خدا کو ھے لیکن اس حق کی بات سے باطل مراد لیا جا رہا ھے: ” کلمة حقٍ یراد بھا الباطل، نعم انّہ‘ لاحکم الّٰا لِلّٰہ ولکن ھولاءِ یقولون لا امراة الا لِلّٰہ وانَّہ لابُدَّ لِلنَّاسِ مِن اَمیرٍ بّرٍ او فاجر یعمل فی امرتہ المومن ویستمتع فیھا الکافر “[5]
“بات حق ھے مگر اس سے مراد باطل لیا جارہاھے ہاں بے شک حکم خدا ھی کے لئے ھے لیکن یہ لوگ تو کہتے ھیںکہ امیر (حاکم) بھی اس کے سوا کوئی نھیں ھے حالانکہ لوگوں کے لئے ایک نہ ایک امیر (حاکم ) کا ھونا لازم ھے نیکو کار ھویا فاسق وفاجر ، تاکہ اس حکومت میں مومن عمل (خیر ) کرے اور کافر اس میں اپنے پورے پورے حقوق حاصل کرے “۔
اگر حکومت نہ ھوتو امن اور چین نھیں ھوگا اور ایسی صورت میں نہ مومن اپنے کار خیر میں کامیاب ھوسکے گا اور نہ کافر دنیاکی زندگی سے فیضیاب ھوسکے گا اور اگر حقیقت میں مقصد، حکومت کا تشکیل نھیں دینا ھے تو اس صورت میں پیغمبراسلام(ص) اور شیخین کی حکومت کی کس طرح توجیہ کریں گے؟خوارج اپنے عقیدہ و عمل میں ھمیشہ کشمکش میں مبتلا تھے ، ایک طرف سمجھتے تھے کہ اجتماعی زندگی ایک با اثر مدیر اور رہبر کے بغیر ممن نھیں ھے اور دوسری طرف اپنی کج فھمی کے زیر اثر ہر طرح کی حکومت کی تشکیل کو حاکمیت خدا کے انحصار کے خلاف سمجھتے تھے ۔
اس سے بھی تعجب خیز بات یہ ھے کہ یہ کہ خوارج نے خود اپنے کام کے آغاز میں اپنے گروہ کے لئے حاکم کا انتخاب کیا ! طبری لکھتاھے : ماہ شوال ۳۸ ہجری میں خوارج کے کچھ گروہ عبداللہ بن وہب راسبی کے گھر جمع ھوئے اور عبداللہ نے اپنی تقریر میں کہا: یہ بات شائستہ نھیں ھے کہ لوگ خدا پر ایمان لائیں اور حکم قرآن کو تسلیم کریں اور دنیا کی زندگی ان لوگوں کی نظر میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر سے زیادہ باعث مشقت ھو ، پھر اس کے بعدحرقوص بن زھیر اور حمزہ بن سنان نے بھی گفتگو کی، اور تیسرے نے اپنے کلام کے آخر میں کہا :فولوا اٴمرکم رجلاً فانہ لابد لکم من عمادٍ وسنادٍ ورایة تحفون بھا وترجعون الیھا۔[6]
تم کسی شخص کو اپنا امیر اور حاکم بناؤ اس لئے کہ تمہارے لئے ایک ستون ، معتمد اور جھنڈا ضروری ھے جس کے پاس آؤ اور رجوع کرو۔
حکمیت، آخری امید
مسلمانوںکے درمیان ،جنگ صفین سے پھلے اور اس کے بعد بہت سے ایسے بنیادی مسائل تھے کہ جن کے حل کا ایک طریقہ ایسے فیصلہ کرنے والوں کا انتخاب کرنا تھا جوحقیقت بینی کے ساتھ مسائل کی دقیق اور بہترین تحقیق کریں اور پھر ان کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کریں۔ وہ مسائل یہ تھے:
۱۔ عثمان کا قتل ۔
۲۔ امام کے دوستوں پر خلیفہ کے قتل کا الزام ۔
۳۔ معاویہ کا دعویٰ کہ وہ عثمان کے خون کا ولی ھے ۔
بنیادی طور پر یھی مسائل تھے جس کی بنا پرجنگ صفین ھوئی اور ان مشکلوں کے حل کے لئے دو راستے تھے: پھلاراستہ یہ کہ دونوں فریق اپنے اختلافی مسائل کو مہاجرین اور انصار کے ذریعہ چنے ھوئے امام کے پاس پیش کریں اور وہ ایک آزاد شرعی عدالت میں خداکے حکم کو ان کے بارے میں جاری کریں اور یہ وھی راہ تھی جس کے بارے میں امام علیہ السلام نے صفین سے پھلے تاکید کی تھی اور اپنے خط میں معاویہ کو لکھا تھا: ” قد اکثرت فی قتلة عثمان فادخل فیمادخلَ فیہ النّاسُ ثمّ حاکمَ القومَ الیّ اٴن احملک وایّا ھم علی کتابِ اللّٰہ “[7]اور تم نے عثمان کے قاتلوں کا باربار ذکر کیا ھے اور جس دائرہ اطاعت میں لوگ داخل ھوچکے ھیں تم بھی (بیعت کرکے) داخل ھوجاوٴ پھر میری عدالت میں ان لوگوں کا مقدمہ پیش کرو تاکہ میں کتاب خدا کے مطابق تمہارے اور ان کے درمیان فیصلہ کروں۔
دوسراراستہ یہ ھے کہ ان لوگوں کو ایک صلح پسند عدالت میں بھیج دیا جائے تاکہ وہاں منصف مزاج اورحقیقت پسند قاضی مشکل کا حل تلاش کرےں اور فیصلہ کرتے وقت اسلام اور مسلمانوں کی حقیقی اور واقعی مصلحتوں سے چشم پوشی نہ کریں اور عمروعاص جیسے لوگوں کی ہر طرح کی بن الوقتی اور مفاد پرستی سےاور ابو موسیٰ جیسے لوگوں کے کینہ وبغض سے دو رھوں ، ایسی عدالت میں امام علیہ السلام اپنے حقیقی مقصد تک پھونچ سکتے تھے اور مشکلات کا حل وفیصلہ کرسکتے تھے۔خلیفہ کا قتل بہت پیچیدہ مسئلہ نہ تھا ۔ اس کے عوامل و اسباب کئی سالوں پھلے سے وجود میں آ چکے تھے اور روز بروز بڑھتے ھی جا رھے تھے یہاں تک کہ دباؤ اور گھٹن کی شدت صالحین پر ظلم وستم اورمصلحین پر سختی و شکنجہ دھماکے (قت ) کا سبب بن گیا یہ ایسا دھماکاتھا جسے علی علیہ السلام بھی روک نھیں سکے اور خلیفہ کو قتل سے بچانھیں سکے۔
معاویہ اورمقتول خلیفہ کے ھواخواھوں کے دعوے کے لئے ضروری تھا کہ اُسے شرعی عدالت میں
پیش کیا جاتا اورحق وباطل میں تمیز پیدا کی جاتی ۔ دنیا کی کسی بھی جگہ مقتول کے خون کا بدلہ لینے کے لئے لشکر کشی جائز نھیں سمجھی جاتی،تو پھر تقریباً ۶۵ ہزار انسانوں کے قتل کا جواز کیے ھو سکتا ھے ؟
” دومة الجندل ” کی عدالت میں اگرصحیح طریقہ سے فیصلہ ھوتا تو ان تمام مسائل کی صحیح چھان بین ھوتی اور مسلمانوں کا وظیفہ ان واقعات کے بارے میں واضح ھوجاتا۔ مگر افسوس ، اس عدالت میں جس چیز کے بارے میں بحث نھیں ھوئی وہ اختلاف کی جڑیں اور بنیادیں تھیں۔ عمروعاص اپنے رقیب ( ابوموسیٰ) کی عقل و رائے کو سلب کرنے کی فکر میں تھا تاکہ امام علیہ السلام کو خلافت سے معزول کرنے کے لئے اس کو راضی کرلے اورمعاویہ کی خلافت نافذ کر دے اور ابوموسیٰ اس فکر میں تھا کہ اپنے ھمفکروھم خیال عبداللہ بن عمر کو خلافت تک پھونچادے کیونکہ اس کا ہاتھ دونوں طرف میں سے کسی ایک کے خون سے آلودہ نہ ھوا تھا ۔ جب عدالت کے نظریہ کا اعلان ھوا تو علی علیہ السلام نے اسے قانونی و اصولی طور پر قبول نہ کیا اورفرمایا: فیصلہ کرنے والوں نے اپنے عہد وپیمان کے خلاف عمل کیا ھے اور ارادہ کیا کہ اپنی فوج کو منظم کر کے معاویہ سے جنگ کنے کو روانہ ھوںلیکن خوارج کے حادثہ نے معاویہ کا پیچھا کرنے سے روک دیا۔
فساد کو جڑ سے ختم کرنا
خوارج کے ساتھ امام علیہ السلام کا برتاؤ بہت ھی نرم اورلطف و مہربانی سے پُر تھا اور آپ جب بھی ان کو خطاب کرتے تھے تو صرف محبت ، نصیحت اور ہدایت وراہنمائی کرتے تھے اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز آپ سے نھیں سنی گئی ، حضرت نے بالکل اس باپ کے مثل جو چاہتا ھے کہ اپنے عاق اور سرکش بیٹے کوصحیح راستے پر لائے ان لوگوں سے برتاؤ کرتے تھے،ان کے حقوق کوبیت المال سے ادا کرتے تھے ، مسجد اور اس کے اطراف میں ان کے ظلم وستم اورشوروغل کرتے تھے، پرواہ نہ کی اور آپ کی پوری کوشش یہ تھی کہ اس گروہ کو مسخّر اور قابو میں کر کے معاشرے میں اتحاد کوواپس لے آئیں اور شام کے سرطانی غدّہ کو جڑ سے ختم کردیںکیونکہ خوارج بھی اسی کی پیداوار تھے ، اور صفین کا عہد وپیمان بھی امام علیہ السلام کو یہ حق دے رہا تھا کیونکہ عہدنامہ کی عبارت میں یہ بات لکھی گئی تھی کہ اگر حکمین نے قرآن وسنت کے برخلاف فیصلہ کیا تو امام علیہ السلام اپنے پھلے اصل منصب پر باقی رھیں گے۔[8]
اما م علیہ السلام نے لوگوں کو یہ بات واضح کرنے کے لئے بہت سی تقریر یں کیں کہ معاویہ سے دوبارہ جنگ صفین کے عہد نامہ کی خلاف ورزی نھیں ھے بلکہ اس کے مطابق تو جنگ دوبارہ ھونا چاھیے تاکہ دشمن کا خاتمہ ھوجائے ۔ آپ اپنی ایک تقریر میں فرماتے ھیں :” وقد سبق استثناوٴنا علیھما فی الحکم بالعدل والعمل بالحقّ سوء راٴیھماوجور حکمھما ، والثّقةُ فی ایدینا بانفسنا حین خالفا سبیل الحق وآتیٰا بما لایعرف من معکوس الحکمِ “[9]،ھم نے تو ان کی غلط رائے اور ناروا فیصلوں سے پھلے ھی ان سے شرط کرلی تھی کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے اور حق پر قائم رہنے میں بدنیتی اور ناانصافی کو دخل نہ دیں گے ، اب جب کہ انھوں نے راہ حق سے انحراف کیاھے اور طے شدہ قرار داد کے برعکس حکم لگایا ھے تو ھمارے ہاتھ میں ان کا فیصلہ ٹھکرادینے کے لئے ایک مستحکم دلیل اور معقول وجہ موجود ھے۔
امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کی نظر میں شجرہ خبیثہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور فساد کے غدہ کو نکال باہر کرنے کے علاوہ کچھ نہ تھا او ر ان لوگوں کی پوری سعی وکوشش یھی تھی لیکن اچانک تاریخ نے ورق پلٹا اور یہ واقعہ اس فکرونظر کے برخلاف ھوگیا اور معاویہ سے جنگ کے بجائے، خوارج سے جنگ ایک قطعی مسئلہ کی صورت میں چھڑ گئی، اب اس وقت دیکھنا یہ ھے کہ آخر کون سی چیز سبب بنی کہ امام علیہالسلام کے صبروتحمل کا جام لبریز ھوگیا اورآپ کو ان لوگوں سے جنگ کرنے پر مجبور کردیا۔ اس مسئلہ کی علت کو دومندرجہ ذیل باتوں سے معلوم کرسکتے ھیں :
۱۔ خبر ملی کی خوارج عبداللہ بن وہب راسبی کے گھر جمع ھوئے ھیں اور امربالمعروف اور نھی عن المنکر کے عنوان سے جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ھیں اور اسی مقصد کے لئے بصرہ میں موجود اپنے ھمفکروں کو خط لکھا ھے اور ان لوگوں کو دعوت دی ھے کہ جتنی جلدی ممکن ھو خوارج کی چھاوٴنی ” خیبر” کے پاس نہروان پھونچ جائیں ، بصرہ کے خوارج نے بھی اپنی آمادگی کا اعلان کردیاھے۔[10]
۲۔دومة الجندل کے قاضیوں کے فیصلے نے ، کہ جس میںنہایت بے حیائی سے امام علیہ السلام کو ان کے منصب سے معزول اور معاویہ کو ان کی جگہ پر منصوب کیا گیا تھا، امام علیہ السلام کوعمومی افکار کے واضح کرنے پر مجبورکیا۔ یھی وجہ ھے کہ امام علیہ السلام کوفہ کے منبر پر تشریف لائے اور خدا کی حمدو ثنا کے بعد فرمایا:” نیک، خیرخواہ اورصاحب علم وبصیرت شخص کی مخالفت حسرت وشرمندگی کاسبب ھے ، میں مسئلہ حکمیت اور ان دونوں آدمیوں کی قضاوت کے بارے میں منفی نظریہ رکھتا تھا لیکن تم لوگوں نے میرے نظریہ کو قبول نھیں کیا اور ان دونوں کو حاکمیت کے لئے معین کر دیا اور ان لوگوں نے اپنے عہد وپیمان کے برخلاف جس چیز کو قرآن نے مردہ کیا تھا اسے زندہ کردیا اور جس چیز کو قرآن نے زندہ کیا تھا اسے مردہ کردیا اور اپنے خواہشات نفس کی پیروی کی اور بغیر دلیل اور حجت کے حکم جاری کردیا ، اسی وجہ سے خدا وپیغمبر اور مومنین ان دونوں قاضیوں سے بری ء الذمہ ھیں ،جہاد کے لئے آمادہ اور شام چلنے کے لئے تیار ھوجاوٴ ، اور دوشنبہ کے دن نخیلہ کی چھاوٴنی کے پاس جمع ھوجاوٴ، خدا کی قسم ! میں اس گروہ (شامیوں ) سے جنگ کروں گا ، اگرچہ ھمارے لشکر میں میرے علاوہ کوئی بھی باقی نہ رھے”۔۳۔ امام علیہ السلام نے سوچا کہ جتنی جلدی ممکن ھو کوفہ چھوڑ کر صفین پھونچ جائیں ، آپ کے بعض دوستوں نے آپ سے کہا کہ بہتر ھے کہ خوارج جو ھمارے راستے سے دور ھوگئے ھیں انھیں بھی جنگ میں شریک ھونے کے لئے دعوت دیں ، اس وجہ سے امام علیہ السلام نے خوارج کے سرداروں کے پاس خط لکھا اور یاد دہانی کی کہ عمروعاص اورابوموسیٰ نے گناہ کیا ھے اور کتاب خدا کی مخالفت کی ھے اور اپنے خواہشات کی پیروی کی ھے نہ سنت پر عمل کیا ھے اور نہ ھی قرآن پر ، خدا اور اس کا رسول اور مومنین ان کے کرتوت سے بری ء الذمہ ھیں ، جب میرا خط تمہارے پاس پھونچے تو میری طرف آنے میں جلدی کرو تاکہ مشترک دشمن سے جنگ کرنے کے لئے ایک ساتھ چلیں ۔
۴۔ امام علیہ السلام کا خط خوارج کے لئے ذرہ برابر بھی موٴثر ثابت نہ ھواان لوگوں نے حضرت کی درخواست کو رد کردیا۔ اس وجہ سے امام علیہ السلام ان لوگوں سے مایوس ھوگئے اور ارادہ کیا کہ ان لوگوں کا انتظار نہ کریں اور جتنے سپاھی موجود ھیں یا آنے والے ھیں ان کے ساتھ صفین کی طرف جائیں، پھر آپ نے بصرہ کے حاکم ابن عباس کے پاس خط لکھا اور ان سے مدد طلب کی، جب امام علیہ السلام کا خط بصرہ کے حاکم کے پاس پھونچا تو انھوں نے لوگوں کے درمیان اس خط کو پڑھ کر سنایا مگر افسوس کہ صرف پندرہ سو آدمیوں نے اخنف بن قیس کی سرداری میں امام علیہ السلام کی آواز پر لبیک کھی۔ ابن عباس فوج کی اقلیت پر بہت رنجیدہ ھوئے اور لوگوں کے مجمع میں بہترین تقریر کی اور کہا: ” امیر المومنین علیہ السلام کا خط میرے پاس آیا ھے اور اس میں مجھے حکم دیا ھے کہ لوگوں کو میرے پاس جنگ میں شرکت کرنے کے لئے روانہ کرو لیکن صرف پندرہ سو (۱۵۰۰) لوگ جہاد کے لئے آمادہ ھیں جب کہ سرکاری رجسٹر میں ساٹھ ہزار آدمی کا نام درج ھے ۔جلدسے جلد روانہ ھوجاوٴ اور عذر اور بہانہ سے پرھیز کرو اور جو شخص بھی اپنے امام کی دعوت کی مخالفت کرے گا بہت زیادہ شرمندہ ھوگا ۔ میں نے ابوالاسود کو حکم دیا ھے کہ تم لوگوں کی روانگی کا پروگرام ترتیب دیں۔
ابوالاسود اور دوسرے افراد کی تمام تر کوششوں کے باوجود صرف اٹھارہ سو (۱۸۰۰) لوگ پھلے گروہ سے ملحق ھوئے اور بالآخر تین ہزار دوسو (۳۳۰۰) افراد پر مشتمل ایک لشکر کوفہ کے لئے روانہ ھوا ، امام علیہ السلام بصرہ کی فوج کی کمی پر بے حد رنجیدہ ھوئے اور کوفہ کے لوگوں کے درمیان آپ تقریر کرنے کے لئے اٹھے اور ان لوگوں کو مخاطب کرکے کہا:اے کوفہ کے لوگو! تم لوگ حق کے امور میں میرے بھائی اور میرے دوست ھو میں تم لوگوں کی مدد سے ،جوحق سے منھ موڑے گا اسے سرنگوں کردوں گا۔ مجھے امید ھے کہ تم لوگ اس راہ میں حق کے پاسدار اور ثابت قدم رھو گے ، تمھیں معلوم ھونا چاھیے کہ بصرہ سے صرف تین ہزار دوسو لوگ ھمارے پاس آئے ھیں۔ تم لوگوں پر لازم ھے کہ خلوص کے ساتھ اوردھوکہ ، فریب و خیانت سے دور رہ کر میری مدد کرو، اور قبیلے کے بزرگ اور سردار اپنے رشتہ داروں اور خاندان والوں کو خط لکھیںاور ان سے کھیں کہ جو لوگ جنگ کرنے کی طاقت رکھتے ھیں وہ اس جنگ میں شرکت کریں ۔
بڑی شخصیتیں مثلاً سعد بن قیس ھمدانی ، عدی بن حاتم ، حجر بن عدی اور قبیلوں کے بزرگ افراد نے امام کے فرمان کو دل وجان سے قبول کیا اور اپنے اپنے قبیلوں کو خط لکھا ، اور اس طرح چالیس ہزار (۰۰۰،۴۰) بہادر جنگجو اور سترہ ہزار (۱۷۰۰۰) نوجوان اور آٹھ ہزار (۸۰۰۰) غلام کوفہ میں داخل ھوئے اور بصرہ کا لشکر بھی اسی میں شامل ھوگیا اور ایک قابل دید اور دشمن شکن لشکر امام علیہ السلام کے پرچم تلے جمع ھوگیا۔
کچھ لوگوں نے امام علیہ السلام سے بہت زیادہ اصرار کیا کہ معاویہ سے جنگ کرنے سے پھلے خوارج کے معاملے کو ختم کردیں ، لیکن امام علیہ السلام نے ان کی درخواست پر توجہ نہ دی اور فرمایا: ان لوگوں کو چھوڑ دو اورایسے گروہ کی طرف چلو جو چاہتے ھیں کہ زمین پر ستمگروں کے بادشاہ رھیں ، اور مومنین کو اپنا غلام بنائیں ، اس وقت فوج کے ہر گوشہ سے آواز بلند ھوئی اور لوگوں نے امام سے کہا :آپ جہاں بھی مصلحت سمجھیں ھمیں بھیج دیں کیونکہ ھم سب کا دل ایک آدمی کے دل کی طرح ھے اور آپ کی نصرت و مدد کے لئے تڑپ رہا ھے۔
۵۔ایسے حساس حالات میں خبر پھونچی کہ خوارج نے عبداللہ بن خباب کو نہر کے کنارے بھیڑ کی طرح ذبح کردیا ھے اور صرف اتنے ھی پر اکتفا نھیں کیا ھے بلکہ ان کی بیوی کوبھی قتل کردیا ھے اور ان کے شکم سے بچہ نکال کر اسے بھی ذبح کردیا ھے۔
ابن قتیبہ ” الامامة والسیاسة ” میں اس بارے میں لکھتے ھیں :جب خوارج عبداللہ کے سامنے آئے تو ان سے کہا: تم کون ھو؟ انھوں نے کہا خدا کا مومن بندہ ھوں۔ ان لوگوں نے کہا: علی کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ھے ؟ انھوں نے کہا: وہ امیرالمومنین اور خدا اوراس کے رسول پر سب سے پھلے ایمان لانے والے ھیں ۔ ان لوگوں نے کہا: تمہارا نام کیا ھے ؟ انھوں نے کہا ، عبداللہ بن خباب بن الارّت ۔ ان لوگوں نے کہا: تمہارا باپ پیغمبر کا صحابی ھے ؟ انھوں نے کہا: ہاں۔ ان لوگوں نے کہا: ھم نے تمھیں ناراض کیا ھے ؟ کہا : ہاں ان لوگوں نے کہا۔ وہ حدیث جو کہ تم نے اپنے باپ سے اور انھوں نے پیغمبر سے سنی ھے ھمارے لئے نقل کرو ۔ انھوں نے کہا: میرے باپ نے نقل کیا ھے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایاھے:” میرے بعد ایسا فتنہ برپا ھوگا کہ مومن کا دل اس میں مرجائے گا ، رات کو باایمان سوئے گا اور دن میں کافر ھوجائے گا “۔ان لوگوں نے کہا :ھم لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ یہ حدیث تم سے سنیں قسم ھے تمھیں اس طرح قتل کریں گے کہ آج تک اس طرح کسی کو قتل نھیں کیا ھے اور پھر فوراً ھی ان کے ہاتھ پیر باندھ دیئے اورانھیںان کی حاملہ بیوی کے ساتھ کھجور کے درخت کے پاس لائے ۔اس وقت ایک کھجور پیڑ سے گری اور خوارج میں سے ایک شخص نے اُسے منھ میں رکھ لیا فوراً ھی اس کے ھم خیالوں نے اعتراض کیاکہ لوگوں کے مال کو بغیر اجازت یا بغیر قیمت دیئے ھوئے کھارھے ھو؟ اس نے فوراً کھجور منھ سے نکال دی اور پھینک دیا! اور اسی طرح ایک عیسائی کا سور وہاں سے گزررہا تھا جو کسی خوارج کے تیر سے اس وقت دوسروں نے اعتراض کیا کہ تمہار ایہ کام زمین پر فساد کرنا ھے لہٰذا اس کے مالک سے لوگوںنے رضایت طلب کی ۔پھر عبداللہ کو جنھیں باندھ رکھا تھا نہر کے کنارے لائے اور بھیڑ کی طرح ذبح کردیا اور صرف اسی پر اکتفاء نھیں کیا بلکہ ان کی بیوی کوبھی قتل کردیا اور ان کے شکم کو چاک کرکے بچے کے سر کو بھی کاٹ دیا ، اور پھر بھی اتنے ھی پر اکتفاء نھیں کیا بلکہ تین اور دوسری عورتوں کو بھی قتل کردیا جن میں سے ایک صحابیہ تھیں جن کا نام ام ّ سنان تھا۔[11]
خباب بن الارّت ، عبداللہ کے والد ، اسلام کے سابقین میں سے تھے اور قریش کے شکنجوں کے نشانات ان کے بدن پرآخر وقت تک موجودتھے۔ وہ امام علیہ السلام کے صفین سے کوفہ پھونچنے سے پھلے ھی انتقال کرگئے اورامام علیہ السلام صفین سے آنے کے بعد ان کی قبر پر گئے اور ان کے رحمت کی اور تعریف کی۔
مبرّدنے اپنی کتاب ” کامل ” میں عبداللہ کے دردناک قتل کا تذکرہ کرتے ھوئے لکھا ھے کہ جب قاتل نے انھیں پکڑا تو عبداللہ نے کہا : میں تم سے درخواست کرتاھوں کہ جس چیز کو قرآن نے زندہ کیا ھے اسے زندہ کرو اور جس چیز کو مردہ کیاھے اسے ماردو، پھر عبداللہ کی روایت ان کے والد کے واسطے پیغمبر سے نقل کرنے کے بعدمبرد لکھتے ھیں:خوارج نے کھجور کے مالک سے درخواست کی کہ اس کی قیمت لے لے، اس نے کہا کہ میں نے اس پیڑ کی کھجور کے استعمال کو تم لوگوں کے لئے بخش دیاھے لیکن ان لوگوں نے قبول نھیں کیا اورکہا کہ تم کو اس کی قیمت لینا پڑے گی ، اس وقت ایک عیسائی نے فریاد بلند کی کہ تم لوگ ایک مسلمان کا خون بہانے سے نھیںڈرتے لیکن ایک پھل کھانے سے پرھیز کرتے ھو جب کہ اس کے مالک نے رضایت بھی دیدی ھے ؟! [12]
۶۔ امیرالمومنین علیہ السلام جب عبداللہ کے قتل سے باخبر ھوئے تو حارث بن مرّہ کو خوارج کی چھاوٴنی بھیجا تاکہ واقعہ کی حقیقت معلوم کریں جب حارث ان کے پاس پھونچے تاکہ واقعہ کا صحیح پتہ لگائیں تو ان لوگوں نے تمام اسلامی اورانسانی اصولوں کے برخلاف انھیں قتل کردیا۔ امام علیہ السلام پر سفیر کے قتل ھونے کی وجہ سے بہت اثرھوا ۔اس موقع پر کچھ لوگ امام علیہ السلام کے پاس پھونچے اور کہا : کیا یہ صحیح ھے کہ ایسے خطروں کے باوجود ھم شام جائیں اور اپنے بچوں اور عورتوں کو ان کے پاس چھوڑدیں؟
عبداللہ کے قاتلوںکی تنبیہ
عبداللہ کے قتل سے جو وحشت اور رعب پیدا ھوا اس نے امام علیہ السلام کو آمادہ کیا کہ جہالت اور بدبختی کو جڑ سے ختم کردیں ، اسی وجہ سے آپ نے ارادہ کیا کہ حروراء یا نہروان جائیں جب امام روانہ ھونے لگے تو اس وقت آپ کے دوستوں میں سے ایک شخص نے جو علم نجوم میں ماہر تھا ، علی علیہ السلام کو اس وقت سفر کرنے سے منع کیا اور کہا: اگر اس وقت آپ نے سفر کیا تو بہت سخت مشکل میں گرفتار ھوں گے امام علیہ السلام نے اس کی بات پر توجہ نھیں دی اور ان مسائل میں علم نجوم سے استفادہ کرنے کے سلسلہ میں تنقید کرتے ھوئے فرمایا: نجوم کو جنگل کی تاریکیوں اور دریاوٴں میں راہنمائی کے لئے استعمال کرو ، قضاء الھی سے امام علیہ السلام کو عظیم کامیابی ملی۔ امام علیہ السلام کوفہ سے کچھ ھی دور ھوئے تھے کہ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص دوڑا دوڑا آیا اور کہااے امیرالمومنین !بشارت دیجئے کہ خوارج کا گروہ آپ کے سفر سے آگاہ ھوگیا اور بھاگ گیا اور نہر عبور کرچکا ھے ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو نہر عبور کرتے دیکھا ھے ؟ اس نے کہا: ہاں ، امام نے اُسے تین مرتبہ قسم دی اور اس نے تینوں مرتبہ قسم کھا کر کہا: میں نے خوارج کو پانی اور پل پر سے گزرتے ھوئے دیکھا ھے ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: ” واللّٰہ ما عبروہ ولن یعبروہ وانّ مصارِعَھم دون النّطفة والذی خلق الحبّة وبرءَ النسمة لن یبلغوا الا ثلاث ولا قصر بوازِن “[13]خدا کی قسم ان لوگوں نے دریا کو عبور نھیں کیا ھے اور عبور کربھی نھیں کرسکتے ، ان کا مقتل دریا کے کنارے ھے۔ اس خدا کی قسم جس نے دانوں کو چاک کیا اور انسانوں کو پیدا کیا وہ لوگ ” اثلاث ” اور” قصربوازن” بھی نھیں پھونچ پائیں گے۔
اس شخص کی دو آدمیوں نے اور بھی تائید کی لیکن امام علیہ السلام نے ان کی باتوں کو قبول نھیں کیا اور امام کس طرح سے قبول کرتے کیونکہ پیغمبر معصوم (ص) نے آپ کو خبر دی تھی کہ تین گروہ سے تمہاری جنگ ھوگی ؟ دوگروھوں سے جنگ ھوچکی تھی اور تیسرا گروہ پیغمبر کے قول میں ذکر شدہ نشانیوں کے مطابق یھی گروہ تھا ۔ اس وقت ایک جوان شک وشبہ میں پڑ گیا اور سوچنے لگاکہ عینی شاہدوں کی بات مانے یا امام علیہ السلام کی غیبی باتوں کو صحیح مانے ، آخر اس نے فیصلہ کیا کہ اگر امام علیہ السلام کی بات کے برخلاف ثابت ھوا تو ان کے دشمن سے مل جائے گا۔
امام علیہ السلام گھوڑے پر سوار ھوئے اور آپ کی فوج بھی پیچھے پیچھے چلی، جب خوارج کی چھاوٴنی پر پھونچے تو پتہ چلا کہ ان لوگوں نے نیام کو توڑ ڈالا ھے اور گھوڑوں کو چھوڑدیا ھےاور جنگ کے لئے تیار ھیں اس وقت وہ سادہ لوح نوجوان امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اپنے برے خیال کے متعلق امام سے معافی مانگی۔
تاریخ بیان کرتی ھے کہ امام علیہ السلام مدائن سے گزر کر نہروان پھونچے اور انھیں پیغام دیا کہ عبداللہ اور اس کی بیوی بچے کے قاتل کو ھمارے حوالے کریں تاکہ ان کا قصاص لیں۔ خوارج نے جواب دیا ھم سب نے مل کر انھیں قتل کیا ھے اور ان کے خون کو حلال سمجھا ھے۔ امام علیہ السلام ان کے نزدیک پھونچے اور فرمایا:
” اے (سرکش)گروہ میں تم کو متنبّہ کررہا ھوں کہ ایسا نہ ھوکہ کل امت اسلامی تم کو لعنت کا
مستحق قراردے اور بغیر کسی واضح دلیل کے دریا کے کنارے قتل کردیئے جاوٴ۔
… میں نے تم لوگوں کو مسئلہ حکمیت قبول کرنے سے منع کیا اور میں نے کہا تھا کہ بنی امیہ کو نہ دین سے محبت ھے اور نہ قرآن ھی چاہتے ھیں۔ میں ان لوگوں کو بچپن سے لے کر اس وقت تک کہ وہ بڑے ھوئے ھیں خوب پہچانتاھوں ، وہ لوگ بد ترین بچے اور بدترین لوگ ھیں ۔لیکن تم لوگوں نے میری بات غور سے نھیں سنی اور میری مخالفت کی اور میں نے ایسے ھی دن کے لئے دونوں قاضیوں سے عہد وپیمان لیا کہ جو کچھ قرآن نے زندہ کیاھے اُسے زندہ کریں اور جس چیز کو ختم کیا ھے اسے ختم کر دیں اب جبکہ دونوں نے قرآن و سنت کے برخلاف حکم کر دیا ھے ھم اپنے پھلے ھی قول اور طریقے پر باقی ھیں [14]
” خوارج کے پاس امام علیہ السلام کی معقول اور محکم گفتگو کے جواب میں بے ھودہ باتوں کی تکرار کے علاوہ کچھ نھیں تھااور اصرار کررھے تھے کہ مسئلہ حکمیت قبول کرنے کی وجہ سے ھم سب کافر ھوگئے ھیں اور ھم نے توبہ کی ھے آپ بھی اپنے کفر کا اعتراف کیجیے اور توبہ کیجئے، اس صورت میں ھم آپ کے ھمراہ ھیں اور اگر ایسا نھیں کیا تو ھم کوچھوڑ دیجیے اور اگر جنگ کرنا چاہتے ھیں تو ھم جنگ کے لئے تیار ھیں “۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا رسول اسلام پر ایمان اور ان کی رکاب میںجہاد کرنے کے بعد اپنے کفر پر گواھی دوں ؟ کیا مسئلہ حکمیت قبول کرنے کی وجہ سے تم لوگوں نے اپنی تلواروں کو کاندھوں پر رکھا ھے اور انھیں لوگوں کے سروں پر مارنا چاہتے ھو اور لوگوں کا خون بہانا چاہتے ھو ؟یہ تو کھلا ھوا گھاٹاھے۔
آخری اتمام حجت
امام علیہ السلام ان کے ساتھ گفتگو کرنے سے مایوس ھوگئے اور اپنی فوج منظم کرنے لگے فوج کے میمنہ کا سردار حجر بن عدی کواور میسرہ کا سردار شبث بن ربعی کو بنایا اور ابو ایوب انصاری کوسواروں کاسردار اور ابو قتادہ کو پیادہ چلنے والوں کا سردار بنایا ۔اس جنگ میں امام علیہ السلام کے ساتھ آٹھ سو صحابی شریک تھے اسی وجہ سے آپ نے ان لوگوں کا سردار قیس بن سعد بن عبادہ کو بنایا اور خود میںتھے پھر سوار لوچگوں میں ایک پرچم بلند کیا اور ابو ایوب انصاری کو حکم دیا کہ بلند آواز سے کھیں کہ واپسی کا راستہ کھلا ھواھے اور جو لوگ اس پرچم کے سایہ میں آجائیں گے ان کی توبہ قبول ھوجائے گی اور جو شخص بھی کوفہ چلا جائے یا اس گروہ سے الگ ھوجائے وہ امن وامان میں رھے گا ، ھم تم لوگوں کا خون بہانا نھیں چاہتے اس وقت ایک گروہ پرچم کے نیچے آگیا اور امام علیہ السلام نے ان کی توبہ قبول کرلی ۔[15] بعض لوگوں کا کہنا ھے کہ خوارج میں سے ایک ہزار لوگوں نے واپسی کا راستہ اختیار کر لیا اور پرچم کے سایہ میں آگئے ۔خوارج کے بعض سردار جو امام علیہ السلام کی طرف آگئے ان کے نام یہ ھیں ، مسعر بن فدکی ، عبداللہ طائی ، ابومریم سعدی، اشرس بن عوف اور سالم بن ربیعہ۔ حقیقت میں صرف عبداللہ بن وہب راسبی کے علاوہ ان کے ساتھ کوئی بھی سردار نہ بچا۔[16]
طبری لکھتے ھیں کہ امام علیہ السلام کی فوج میں اس گروہ کے شامل ھونے کے بعد خوارج کی فوج میں کل دو ہزار آٹھ سو (۲۸۰۰) سپاھی بچے،[17] اور ابن اثیر نے ان کی تعداد ایک ہزار آٹھ سو (۱۸۰۰)لکھی ھے ۔
امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ جب تک دشمن جنگ شروع نہ کرے تم لوگ جنگ شروع نہ کرنا۔ اسی وقت خوارج میں سے ایک شخص بڑھا اور امام علیہ السلام کے ساتھیوں پر حملہ کیا اور تین آدمیوں کو قتل کردیا ، اب امام علیہ السلام نے اپنے حملہ سے جنگ شروع کی اور اپنے پھلے ھی حملے میں اس شخص کو قتل کردیا اور پھر اپنے فوجیوں کو حملہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: خدا کی قسم تم لوگوں میں دس آدمی کے علاوہ کوئی قتل نھیں ھوگا اور ان میں سے صرف دس آدمی کے علاوہ کوئی زندہ نھیں رھے گا۔[18]
اس وقت عبداللہ بن وہب راسبی میدان میں آیا اور کہا : اے ابوطالب کے بیٹے !تم سے اس وقت تک جنگ کروں گا جب تک تمھیں قتل نھیں کردو یا تم مجھے قتل کر دو ۔ امام علیہ السلام نے اس کا جواب دیا: خدا اسے قتل کرے کتنا بے حیا شخص ھے وہ جانتاھے کہ میں تلوار اور نیزہ کا دوست ھوں۔ اور فرمایا کہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ھوگیا ھے اور جھوٹی امید میرے خلاف باندھے ھے۔ پھر ایک ھی حملہ میں اسے قتل کرکے اس کے دوستوں سے ملحق کردیا۔[19]
اس جنگ میں بہت کم وقت میں امام علیہ السلام کو کامیابی مل گئی، امام علیہ السلام کے بہادر سپاھیوں نے داہنے بائیں سے اور خود امام علیہ السلام نے قلب لشکر سے اپنے بدترین وذلیل دشمن پر حملہ کیااورکچھ ھی دیر میں خوارج کے بے جان جسم زمین پر پڑئے ھوئے نظر آئے ۔اس جنگ میں تمام خوارج قتل ھوگئے ، صرف نو آدمی باقی بچے تھے جن میں دو شخص خراسان میں، دو شخص عمّان میں، دو شخص یمن میں، دو شخص جزیرہ عراق میںاورایک شخص نے ” تلّ موزن ” میں پناہ لی ، اور وھیں زندگی بسر کرنے لگے اور خوارج کی نسل کو باقی رکھا[20]۔
امام علیہ السلام جنگ کے بعد ان کے مردہ جسموں کے درمیان کھڑے ھوئے اور بہت ھی افسوس کرتے ھوئے فرمایا:”بؤساً لکم ، لقد ضرَّ کم من غرَّکم ، فقیل لہ‘ من غرّھم یا امیرالمومنین ؟ فقال: الشیطانُ المضلُّ والا نفسُ الامّارة بالسُّوءِ غرّتھم بالامانیّ وفسحت لھم بالمعاصی ووعدتھم الا ظھار فاٴ فتحمت بھم النّار”[21] تمہارے لئے بدبختی ھو ، جس نے تم لوگوں کو دھوکہ دیا اس نے تمھیں بہت بڑا نقصان پھونچایا۔ لوگوں نے پوچھا :کس نے انھیں دھوکہ دیاھے ؟ آپ نے فرمایا:گمراہ کن شیطان اور سر کش نفسوں نے ان لوگوں کو لالچ دے کر دھوکہ دیا اور نافرمانی کی راھوں کو ان کے لئے کھول فیا اور انھیں کامیابی کا وعدہ دیا اور بالآخر ان لوگوں کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا۔
امام علیہ السلام کے دوستوں نے سمجھا کہ خوارج کی نسل ختم ھوگئی ھے لیکن امام علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا:”کلّا ، واللّٰہ انّھم نطفٌفی اصلاب الرجال وقرارات النساء ، کلّما نَجَمَ منھم قرن قُطِعَ حتٰی یکون آخرھم لصوصاً سلّابین ” [22]نھیں ایسا ہرگزنھیں ھے ، خدا واہ ھے کہ وہ لوگ بصورت نطفہ مردوں کے صلب میں اور عورتوں کے رحم میں موجود ھیں اور جب بھی ان میں سے کوئی سرنکالے گا (حکومتوں کی طرف سے اسے) کاٹ دےا جائے گا ( اور دوسرا سروھیں پر نکل آئے گا) یہاں تک کہ آخر میں صرف چور اور لٹیرے ھو کر رہ جائیں گے۔
پھر آپ نے فرمایا: میرے بعد تم لوگ خوارج سے جنگ نہ کرنا کیونکہ تمہارا اصلی دشمن معاویہ ھے اور میں نے امن وامان کی حفاظت کے لئے ان لوگوں سے جنگ کی ھے ان میں سے بہت کم لوگ بچے ھیں اوروہ جنگ کرنے کے لائق نھیں ھیں ۔
امام علیہ السلام نے جنگی غنائم میں سے اسلحہ اور چوپایوں کو اپنے فوجیوں کے درمیان تقسیم کردیا اور ان کے سامان زندگی، کنیزوں اور غلاموں کو ان کے وارثوں کو واپس کردیا ۔ پھر اپنی ھماری تلواریں ٹوٹ گئی ھیں اور تیر ختم ھوگئے ھیں ، لہٰذا بہتر یہ ھے کہ کوفہ واپس چلیں اپنی قوت میں اضافہ کریں پھر آگے بڑھیںفو ج میں آئے اور فوجیوں کی جواں مردی کی تعریفیں کیں اور فرمایا اسی وقت صفین کی طرف بڑھنا ھے تاکہ فتنہ کو جڑ سے ختم کر دیا جائے مگر فوجیوں نے کہا ھم تھک گئے ھیں ان لوگوں نے واپس جانے پر اتنا زیادہ اصرار کیاکہ امام علیہ السلام کو افسوس ھوا اور مجبوراً آپ ان لوگوں کے ساتھ نخیلہ کوفہ کی چھاوٴنی پر واپس آگئے ۔ وہ لوگ دھیرے دھیرے کوفہ چلے جاتے تھے اور اپنی بیوی بچوں سے ملتے تھے اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ چھاوٴنی پر کچھ ھی لوگ باقی بچے ۔ اتنے کم سپاھیوں کے ساتھ شامیوں سے جنگ کرنا ممکن نہ تھا۔
فتنہٴ خوارج کے خاتمہ کی تاریخ
سرزمین صفین پر امام علیہ السلام کے اوپر خروج کرنے کی فکر ماہ صفر ۳۸ ہجری میں پیدا ھوئی اور زمانے کے ساتھ ساتھ کتاب خدا کے حکم کی مخالفت شدید ھوتی گئی ، کوفہ کے خوارج ماہ شوال ۳۸ کو عبداللہ بن وہب راسبی کے گھر جمع ھوئے اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی اورکوفہ چھوڑنے کا ارادہ کیا اوروہاں سے” حروراء “اور پھر ” نہروان ” چلے گئے ۔ امام علیہ السلام نے اپنے شام کے پروگرام کو مجبوراً بدل کر خوارج سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا اور مؤرخین کے نقل کرنے کے مطابق ۹ صفر ۳۸ ہجری کو فساد کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔[23]
 
[1] نہج البلاغہ خطبہ ۵۸ (عبدہ)۔
[2] نہج البلاغہ: خطبہ ۱۲۱۔
[3] نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۳،۱۷۔
[4] نہج البلاغہ خطبہ ۱۲۱
[5] نہج البلاغہ خطبہ ۴۰
[6] تاریخ طبری ج۶، ص ۵۵
[7] نہج البلاغہ مکتوب نمبر۶۴
[8] عہد نامہ کی عبارت یہ تھی : وان کتاب اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ بیننا عن فاتحتہ الیٰ خاتمتہ ، نحیی ما احیی القرآن ونمیت مااٴمات القرآن ۔ فان وجد الحکمان ذالک فی کتاب اللّٰہ اتبعناہ وان لم یجداہ اخذا بالسنة العادلة وغیر المفرقة۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۲ص۲۳۴
[9] نہج البلاغہ (عبدہ) خطبہ ۱۷۲
[10] الامامة والسیاسة ج۱، ص ۱۳۲
[11] الامامة والسیاسة: ص۱۳۶۔
[12] الکامل: ص ۵۶۰، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج۲، ص۲۸۲۔
[13] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص۲۷۲”مضارعھم دون النطفةواللّٰہ لایفلت منھم عشرةولا یھلک منکم عشرة”خطبہ ،۵۸
[14] شرح نہج البلاغہ خطبہ نمر ۳۶ کی طرف رجوع کریں
[15] الاخبار الطوال ص۲۱۰۔
[16] مقالات اسلامیین ج۱، ص ۲۱۰۔
[17] کامل ابن اثیر ج۳،ص ۳۴۶۔ تاریخ طبری ج۴،ص ۶۴ ۔
[18] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدج۲، ص۲۷۳،۲۸۲
[19] الامامة والسیاسة ص۱۳۸
[20] کلمات قصار نمبر ۳۱۵۔
[21] کشف الغمہ ج۱، ص ۲۶۷۔
[22] نہج البلاغہ خطبہ نمبر ۵۹۔
[23] تاریخ طبری ج۳، س۹۸ ۔والخوارج
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.