یوم القد س، یوم اسلام ہے!
اسلام ٹائمز۔ رمضان المبارک ( بمطابق 3اگست 2013ء ) جو کہ ماہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ ( جمعتہ الوداع) کو عالمی یوم القدس کے طور پر منایا جائے گا اس لئے کہ امام خمینی(رہ) نے 22 رمضان المبارک ۱۳۹۹ھ ۱۹۷۹ ء کو ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا تھا اور اس ضمن میں فرمایا تھا کہ یوم القدس یوم اسلام ہے۔ اسی لئے امام نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس دن کو ہر سال نہایت عقیدت و احترام سے منا کر اسے زندہ رکھنے کی سعی کریں چونکہ فلسطین کی مقدس سرزمین پر نہ صرف اسلام کا قبلہ اول ہے بلکہ یہ سر زمین مرکز وحی الہیٰ پیغمبر ان توحید کی آرزووں کا محور اور رسول اسلام ﷺ کا مقام معراج بھی ہے ۔ اسی لئے القدس (بیت المقدس) کا اسلام اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی عزت و بزوگی کے ساتھ ایک ایسا ربط اور تعلق ہے جو کھبی نہیں ٹوٹ سکتا ہے اور امام خمینی (رہ) نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ ( جمعتہ الوداع ) کو اگر یوم القدس کے طور پر منتخب کیا ہے تو شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ چاہتے تھے کہ پوری دنیا کے مسلمان القدس اور فلسطین کو جو کہ تاریخ کا ایک خونین باپ ہے اسے ایک ساتھ یاد کریں اور اسے غاصب صہیونیوں کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔ القدس کی سرزمین جو کہ خون و آگ کی سرزمین ہے اسے اپنی اسارت کے پہلے دن سے لیکر آج تک نہایت ہی مظلومانہ انداز سے غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں مسجد اقصی (قبلہ اول) کو نذر آتش کرنے اور اسلامی آثار کو نیست و نابود کرنے کے اندوہناک مناظر دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ فلسطین جس سے پوری دنیا کے مستضعفین کی رگوں میں انقلابی خون گردش کر رہا ہے اسے طویل برسوں سے دشمنان اسلام کی طرف سے اپنے جسم پر بےشمار زخم اور اذیتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔ فلسطین جو پوری دنیا کے مسلمانوں کے جس کا ایک (اہم) حصہ ہے اسے ایک طویل مدت سے یعنی جب سے صہیونیوں نے اسے اپنے غاصبانہ قبضہ میں لیا ہے مسلسل صہیونی اسرائیل افواج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجہ میں اپنے عوام کے گھروں کو ویران ہوتے اور ارض مقدس کے مکینوں کو جن میں عورتیں، بچے اور بوڑھے شامل ہیں اپنے وطن سے محروم ہو کر دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے دیکھنا پڑ رہا ہے۔ القدس جو کہ مجسمہ عزت و بزرگی اور جرات و مقاومت ہے جس قدر بھی اندوہناک مظالم ڈھائے گئے ہیں ان کے پیش نظر وہ اسی امر کو بہتر سمجھتا ہے کہ اس کے کہنہ (پرانے) زخموں کی مرہم کا سامان نہ تو وہ بین الاقومی لیٹرے کریں جو انسانی حقوق کا بظاہر دم بھرنے والے ہیں اور نہ ہی وہ مسلمان جو عالمی سامراجیت کے کٹھ پتلی عناصر ہیں بلکہ القدس کی یہی تمنا اور آرزو ہے کہ اسے ان غیرتمند اور بہادر مسلمانوں کے ہاتھوں نجات اور آزادی میسر ہو جو اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ محلات میں بسنے والے عالمی خونخوار ہی تو ہیں جو پوری تاریخ اسلام کے دوران فلسطین اور فلسطینی مظلوم عوام کو طرح طرح کی بندشوں میں جکڑنے کا باعث بنتے رہے ہیں۔
مظلوم انسانیت کا سراپا القدس اپنی مظلوم نگاہیں پوری دنیا کے خدا پرست مسلمانوں پر مرکوز کئے ہوئے ہیں تاکہ فرزندان اسلام کے ہاتھوں اس کے تمام زخموں کا مرہم ہو سکے۔ دنیائے اسلام کا زخمی دل (فلسطین) ایک طویل عرصے سے اس انتظار میں ہے کہ اسے صہیونیوں کے غاصبانہ چنگل سے ہمیشہ کیلئے آزادی نصیب ہو تاکہ ایک بار پھر وہی یاد تازہ ہو جو ۱۱۸۷۱ء میں لشکر اسلام کے سپہ سالار صلاح الدین ایوبی نے صیلبی جنگوں کے ذریعے صہیونیوں سے القدس کو دوبارہ واپس لینے کے بعد مسجد اقصی کی دوبارہ تعمیر اور اس کی نقاشی کے ذریعے مسلمانوں کے اذہان میں نقش کی تھی۔ بہرحال بیت القدس جو کہ ارض موعود کا حصہ ہے اور صہیونیوں کی ناپاک سازشیں محض اسلامی مقدسات اور مسلمانوں کی مذہبی عمارتوں کی تحقیر و اہانت پر ہی ختم ہونے والی نہیں ہیں بلکہ اس کے بعد صہیونی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کیلئے دیگر اسلامی ممالک کو بھی اپنی سازشوں کا نشانہ بنانے کیلئے سرتوڈ کوششیں کریں گے۔ اس لئے ہماری دعا ہے کہ جلد ہی وہ دن آئے جب پوری دنیا کے مسلمان اسلام اور قرآن کی تعلیمات کے زیر سایہ مکمل وحدت و اتحاد کے ذریعے مسلمانوں کے قبلہ اول کو غاصب صہیونیوں کے چنگل سے مکمل طور پر نجات دلانے کے ساتھ ساتھ صہیونیوں کو بھی ہمیشہ کیلئے صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیں آمین انشاءﷲ وہ دن جلد ہی آنے والا ہے۔