ولادت ثامن الآئمہ امام علی بن موسی الرضا (ع)
چاروں طرف ایک مسحور کن خوشبو پھیلی ہوئی تھی، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ بھشت الھی کا ایک ٹکڑا زمین پر آ گیا ہے، لوگ دواں دواں اس بھشتی ٹکڑے کی طرف جا رہے تھے، ایک عجیب سماں تھا، کہیں سے ایک آواز کانوں سے ٹکرائی “السلام علیک یا علی بن موسی الرضا”یوں لگا کہ اس آواز نے مجھے مدہوشی کے عالم سے باہر نکال دیا، دیکھا تو سامنے گنبدِ طلائی حرم امام رضا ع ہے، یقین نہیں آ رہا تھا، آنکھیں آنسووں سے لبریز تھیں اور دل ایک عجیب سے غم و بغض اور خوشی و شادی سے پر تھا، دل کی یہ کیفیت سمجھ سے باہر تھی، خوشی آپکی ع زیارت کی تھی لیکن یہ غم کیسا ہے جو سوہان روح بنا ہوا ہے، جوں جوں ضریح مبارک نزدیک آتی گئی سب بچھڑے یاد آنے لگے، تمام ہموطن بہن بھائی، عراقی، افغانی، لبنانی، مصری، فلسطینی، لیبیائی، کشمیری الغرض کہ دنیا کے تمام نکات میں جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے ایک ایک کر کے تمام مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم گئے اور اسوقت بےساختہ زبان پر ان کی سلامتی کے لئے دعا جاری ہو گئی، آج اسی باب الحوائج کی شب ولادت با سعادت ہے، اسی ضمن میں امام علیہ السلام کا نہایت مختصر زندگینامہ تبرکا اسلام ٹائمز کے قارئین کی خدمت میں اس التجا کے ساتھ کہ آپ دنیا کے کسی خطے میں بھی ہوں اپنے وقت کے امام کے ظہور کی دعا ضرور کیا کریں، کہ وہ جلد از جلد استعمار کے اس ظلم و استبداد کو ختم کر کے پوری دنیا میں عدل و انصاف کے پرچم گاڑیں۔ ولادت با سعادت حجت خدا:آسمان امامت کے آٹھویں ستارے کی ولادت کے بارے میں علماء و مورخین کا بیان ہے کہ آپ بتاریخ ۱۱ذیقعدہ ۱۴۸ھ جمعرات کے دن مدینہ منورہ میں متولد ہوئے ہیں۔ (۱) آپ کی ولادت کے متعلق علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ آپکی والدہ کا کہنا ہے کہ “جب تک امام علی رضا علیہ السلام میرے بطن میں رہے میں اکثر خواب میں تسبیح و تہلیل کی آوازیں سنا کرتی تھی جب امام رضا علیہ السلام پیدا ہوئے تو آپ نے زمین پر تشریف لاتے ہی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک دیئے اور اپنا سر مبارک آسمان کی طرف بلند کر دیا آپ کے لبان مبارک جنبش کرنے لگے گویا آپ خدا سے کچھ باتیں کر رہے ہیں، اسی اثناء میں امام موسی کاظم علیہ السلام تشریف لائے اور مجھ سے ارشاد فرمایا کہ تمہیں خداوند عالم کی یہ عنایت و کرامت مبارک ہو، پھر میں نے مولود مسعود کو آپ کی آغوش میں دیدیا آپ نے اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ اسے لے لو یہ زمین پر خدا کی نشانی ہے اور میرے بعد امامت کے فرائض کا ذمہ دار ہے۔ ابن بابویہ فرماتے ہیں کہ آپ دیگر آئمہ علیہم السلام کی طرح مختون اور ناف بریدہ متولد ہوئے تھے۔ (۲)آپکا نام،کنیت،القاب:آپ کے والد بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے لوح محفوظ کے مطابق کہ جس میں آپکا نام رسول ص نے تعیین کیا تھا آپ کو “علی” کے نام سے موسوم فرمایا، آپ آل محمد ص میں تیسرے “علی” ہیں۔ (۳) آپ کی کنیت ابوالحسن تھی اور آپ کے القاب صابر، زکی، ولی، رضی، وصی تھے لیکن آپکا مشہور ترین لقب رضا تھا۔ (۴) علامہ طبرسی فرماتے ہیں کہ آپ کو رضا اس لیے کہتے ہیں کہ آسمان و زمین میں خدا و عالم، رسول اکرم اور آئمہ طاہرین، نیز تمام مخالفین و موافقین آپ سے راضی تھے (۵) علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ بزنطی نے حضرت امام محمدتقی علیہ السلام سے لوگوں کی افواہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے والد ماجد کو لقب رضا سے مامون الرشید نے نوازا تھا آپ نے فرمایا ہر گز ایسا نہیں ہے یہ لقب خدا اور رسول کی خوشنودی کا جلوہ بردار ہے اور خاص بات یہ ہے کہ آپ سے موافق و مخالف دونوں راضی اور خوشنود تھے۔ (۶) آپ کی تربیت اور ہمعصر بادشاہان وقت:آپ کی نشوونما اور تربیت اپنے والد بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے زیرسایہ ہوئی اور اسی مقدس ماحول میں بچپنا اور جوانی کی متعدد منازل طے کیں اور جب آپکی سن مبارک ۳۰ برس تک جا پہنچی اگرچہ یہ آخری وہ چند سال تھے جب امام موسی کاظم عراق میں قیدوبند کی سختیاں برداشت کر رہے تھے لیکن اس سے پہلے ۲۴ یا ۲۵ برس آپ کو اپنے والد بزرگوار کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔ آپ نے اپنی عمر بابرکت میں بہت سے بادشاہوں کے دور دیکھے۔ آپ منصور دوانقی کے عہد میں متولد ہوئے۔ آپکے ہم عصر بادشاہان میں ۱۵۳ھ میں منصور دوانقی، ۱۵۸ھ میں مہدی عباسی، ۱۶۹ھ میں ہادی عباسی، ۱۷۰ھ میں ہارون الرشید عباسی، ۱۹۴ھ میں امین عباسی، ۱۹۸ھ میں مامون الرشید عباسی علی الترتیب خلیفہ وقت ہوتے رہے۔ (۷) آپ نے ان تمام خلفاء کا دور دیکھا، آپ کے والد بزرگوار اور اولاد علی و فاطمہ ع کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا، اسے آپ ملاحظہ فرماتے رہے یہاں تک کہ ۲۳۰ ھ میں آپ دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔آغاز امامت امام رضا (ع): حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام امام ہونے کے ناتے جانتے تھے کہ حکومت وقت جس کی باگ ڈور اس وقت ہارون الرشید عباسی کے ہاتھوں میں تھی امام رضا ع کو بھی آزادی کا سانس نہ لینے دے گی اور ایسے حالات پیش آئیں گے کہ آپ ع کی عمر کے آخری حصہ میں اور دنیا کو چھوڑنے کے موقع پر دوستان اہلبیت ع کا آپ سے ملنا یا بعد کے لیے راہنما و امام کے بارے میں جاننا دشوار ہو جائے گا اس لئے آپ نے انھی آزادی اور سکون کے دنوں میں جب آپ مدینہ میں تھے پیروان اہلبیت کو اپنے بعد ہونے والے امام سے روشناس کرانا ضروری سمجھا۔ چنانچہ اولاد علی و فاطمہ ع میں سے سترہ آدمی جو ممتاز حیثیت رکھتے تھے انہیں جمع فرما کر اپنے فرزند حضرت علی رضا علیہ السلام کی امامت و جانشینی کا اعلان فرمایا اور ایک وصیت نامہ تحریر فرمایا جس میں مدینہ کے معززین میں سے ساٹھ آدمیوں کی گواہی لکھی گئی یہ اہتمام صرف ان خصوصی حالات کی بناء پر کیا گیا تھا جن سے دوسرے آئمہ اپنی وفات کے موقعہ پر دوچار نہیں تھے۔ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ہارون الرشید کے قیدخانہ میں اپنی عمر کا ایک بہت بڑا حصہ گذارنے کے بعد ۱۸۳ھ میں شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ آپ ع کی شھادت کے وقت امام رضا علیہ السلام کی عمر ۳۰سال تھی والد بزرگوار کی شہادت کے بعد امامت کی ذمہ داریاں آپ کی طرف دوش مبارک پر آ گئیں۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعد دس برس ہارون الرشید کا دور رہا۔ اسکی وفات کے بعد امین الرشید کا دور آیا جو امین اور مامون کے درمیان حکومت کے حصول کے لئے انتہائی کشمکش کا دور تھا، جس میں مامون اپنے بھائی کو قتل کروانے کے بعد برسر اقتدار آ جاتا ہے جس سے ملک میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے تاریخ ابوالفداء میں ہے کہ امین ننھیال کی طرف سے عربی النسل تھا اور مامون عجمی النسل تھا امین کے قتل ہونے سے عراق کی عرب قوم اور اراکان سلطنت کے دل مامون کی طرف سے میلے ہو گئے بلکہ وہ ایک غم و غصہ کی کیفیت محسوس کرتے تھے دوسری طرف خود بنی عباس میں سے ایک بڑی جماعت جو امین کی طرف دار تھی اس سے بھی مامون کو ہر طرح خطرہ لگا ہوا تھا۔ اس نازک گھڑی میں حالات کی درستگی کے لئے یہ امام ع کو مرو بلوانے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ امام رضا علیہ السلام کی مدینہ سے مرو میں طلبی:علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حالات کی روشنی میں مامون نے اپنے مقام کو حفظ کرنے کے لئے قطعی فیصلہ کر لیا کہ امام رضا علیہ السلام کو ولیعہد خلافت بنائے گا اس نے اپنے وزیراعظم فضل بن سہل کو بلابھیجا اور اس سے کہا کہ ہماری رائے ہے کہ ہم ولیعہدی امام رضا ع کے سپرد کر دیں تم خود بھی اس پر سوچ و بچار کرو اور اپنے بھائی حسن بن سہل سے مشورہ کرو ان دونوں نے آپس میں تبادلہ خیال کرنے کے بعد مامون کی دبے لفظوں میں مخالفت کی، ان کا مقصد تھا کہ مامون ایسا نہ کرے ورنہ خلافت آل عباس سے آل محمد ص میں چلی جائے گی، مامون نے کہا کہ میرا فیصلہ اٹل ہے اور میں تم دونوں کو حکم دیتا ہوں کہ تم مدینہ جا کر امام رضا ع کو اپنے ہمراہ لاؤ۔ آخرکار یہ دونوں امام رضا ع کی خدمت میں مقام مدینہ منورہ حاضر ہوئے اورمامون کاپیغام پہنچایا۔ حضرت امام علی رضا نے اس عرضداشت کو مسترد کر دیا اور فرمایا کہ میں اس امر کے لئے خود کو پیش کرنے سے قاصر ہوں لیکن چونکہ بادشاہ کا حکم تھا کہ انہیں ضرور لاؤ اس لیے ان دونوں نے بے انتہا اصرار کیا اور آپ کے ساتھ اس وقت تک لگے رہے جب تک آپ نے مشروط طور پر وعدہ نہیں کر لیا۔ (۸) امام رضا علیہ السلام کی مدینہ سے روانگی:اس سلسلہ میں جناب شیخ صدوق اعلی اللہ مقامہ نے تحریر فرمایا ہے کہ مامون نے اپنی زندگی کی حکایت بھی شائع کی کہ جب امین کا اور میرا مقابلہ تھا اور حالات بہت نازک موڑ پر تھے عین اسی وقت میرے خلاف سیستان اور کرمان میں بھی بغاوت ہو گئی تھی اورخراسان میں بھی بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور فوج کی طرف سے بھی اطمینان نہ تھا، اس سخت اور دشوار ماحول میں، میں نے خدا سے التجا کی اور منت مانی کہ اگر یہ سب جھگڑے ختم ہو جائیں اور میں بام خلافت تک پہنچوں تو اس کو اس کے اصل حقدار یعنی اولاد فاطمہ ع میں سے جو اس کا اہل ہے اس تک پہنچا دوں گا اسی نذر کے بعد سے میرے سب کام بننے لگے ،اور آخر تمام دشمنوں پر مجھے فتح حاصل ہوئی۔ یقینا یہ واقعہ مامون کی طرف سے اس لیے بیان کیا گیا کہ اس کا طرزعمل خلوص نیت اور حسن نیت پر مبنی سمجھا جائے، اہلبیت ع کے کھلے دشمن بھی ان کی حقیقت اور فضیلت سے واقف تھے اور ان کی عظمت کو جانتے تھے، شیعہ کے معنی صرف ان کی عظمت جاننا ہی نہیں ہے بلکہ اہل بیت سے محبت اور اطاعت کے ہیں اور مامون کے طرزعمل سے یہ ظاہر ہے کہ وہ شیعیت اور محبت اہل بیت ع کا ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود خود امام ع کی اطاعت نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ امام کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا تھا تا کہ اسکی حکومت حفظ ہو سکے۔ ولیعہد بننے کے بارے میں آپ کے اختیارات کو بالکل سلب کر دیا گیا اور آپ کو مجبور کیا گیا کہ آپ ولیعہدی کو قبول کریں، اس سے ظاہر ہے کہ ولی عہدی کی تفویض بھی ایک حاکمانہ تشدد تھا، اسکے پیچھے مامون کے دو نمایاں مقاصد تھے، اول یہ کہ امام ع کی حیثیت کو زیر سوال لائے کہ امام کو بھی دنیا کا لالچ ہے اسی لئے ولیعہدی قبول کی ہے، دوم یہ کہ لوگوں میں امام ع کا احترام ہے اس بہانے اسکی حکومت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ امام رضا علیہ السلام کا ولیعہدی کو قبول کرنا بالکل ویسا ہی تھا جیسا ہارون کے حکم سے امام موسی کاظم ع کا قیدخانہ میں چلا جانا اسی لیے جب امام رضا علیہ السلام مدینہ سے خراسان کی طرف روانہ ہو رہے تھے تو آپ کے رنج و غم اوراضطراب کی کوئی حد نہ تھی روضہ رسول ص سے رخصت کے وقت آپ کا وہی عالم تھا جو حضرت امام حسین علیہ السلام کا مدینہ سے روانگی کے وقت تھا دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ بےتابانہ روضہ کے اندر جاتے ہیں اور آہ و نالہ کے ساتھ امت کی شکایت کرتے ہیں پھر باہر نکل کرگھرجانے کا ارادہ کرتے ہیں لیکن پھر دل نہیں مانتا پھر روضہ اقدس سے جا کر لپٹ جاتے ہیں یہ صورتحال کئی مرتبہ ہوئی، محول شیبانی کا بیان ہے کہ میں حضرت کے قریب گیا تو فرمایا اے محول، میں اپنے جدامجد کے روضے سے جبرا جدا کیا جا رہا ہوں اب مجھ کو یہاں آنا نصیب نہ ہو گا، میں اسی مسافرت اور غریب الوطنی میں شہید کر دیا جاؤں گا اور ہارون الرشید کے مقبرہ میں مدفون ہوں گا اس کے بعد آپ دولت سرا میں تشریف لائے اور سب کو جمع کر کے فرمایا کہ میں تم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو رہا ہوں یہ سن کر گھر میں ایک عظیم کہرام بپا ہو گیا اور سب چھوٹے بڑے رونے لگے، آپ نے سب کو تسلی دی اور کچھ دینار اعزاء میں تقسیم کر کے راہ سفر اختیار فرمائی۔ ایک روایت کی بنا پر آپ مدینہ سے روانہ ہو کرمکہ معظمہ پہنچے اور وہاں طواف کرکے خانہ کعبہ کو رخصت فرمایا۔ (۹)اخلاق رضوی:علامہ شبلنجی ابراہیم بن عباس تحریر فرماتے ہیں کہ امام علی بن موسی رضا علیہ السلام نے کبھی کسی شخص کے ساتھ سختی سے گفتگو نہیں کی اور کبھی کسی کی بات کو قطع نہیں فرمایا آپ کے مکارم اخلاق میں تھا کہ جب بات کرنے والا اپنی بات ختم کر لیتا تھا تب اپنی طرف سے آغازکلام فرماتے تھے کسی کی حاجت روائی کی حتی المقدور کوششں کرتے، کبھی ہمنشین کے سامنے پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھتے اور نہ اہل محفل کے روبرو ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے کبھی اپنے غلاموں کو گالی نہ دی۔ آپ قہقہہ لگا کر ہرگز نہیں ہنستے تھے صرف تبسم فرمایا کرتے تھے محاسن اخلاق اور تواضع و انکساری کی یہ حالت تھی کہ دسترخوان پر خادمین کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لیتے، راتوں کو بہت کم سوتے اور راتوں میں شام سے صبح تک بیدار رہا کرتے تھے اکثر اوقات روزے سے ہوتے تھے مگر ہر ماہ کے تین روزے آپ سے کبھی قضا نہیں ہوئے، ارشاد فرماتے تھے کہ ہر ماہ میں کم ازکم تین روزے رکھ لینا ایسے ہی ہے جیسے کوئی ہمیشہ روزے سے رہے۔ کثرت سے خیرات کیا کرتے تھے اور اکثر رات کی تاریکی میں اس کام کو انجام فرمایا کرتے تھے۔ موسم گرما میں آپ کا فرش جس پر آپ بیٹھ کر فتوی دیتے یا مسائل بیان کیا کرتے بوریا ہوتا تھا اور سرما میں کمبل، آپ کا طرز زندگی اس وقت بھی یہی رہا جب آپ ولیعہد حکومت تھے۔ آپ کا لباس گھر میں موٹا اور خشن ہوتا تھا اور لوگوں کے طعنوں سے بچنے کے لئے باہر آپ اچھا لباس پہنتے تھے ایک مرتبہ کسی نے آپ سے کہا کہ اتنا عمدہ لباس کیوں استعمال فرماتے ہیں آپ نے اندر کا پیراہن دکھلا کر فرمایا اچھا لباس دنیا والوں کے لیے اور کھدر کا لباس خدا کے لیے ہے۔علم امام رضا علیہ السلام:امام رضا علیہ السلام کو علم و فضل کے اظہار کے زیادہ مواقع ملے کیونکہ جب تک دارالحکومت مرو میں مامون عباسی کے پاس تشریف فرما رہے، مختلف علوم کے بڑے بڑے علماء و فضلاء سے آپ کی استعداد اور فضیلت کا اندازہ کرایا گیا۔ ان میں مسلمان علماء کے علاوہ یہودی و نصاری سے بھی آپ کا مقابلہ کرایا گیا، مگر ان تمام مناظروں و مباحثوں مین ان تمام لوگوں پرآ پ کی فضیلت و فوقیت ظاہر ہوئی،خود مامون بھی خلفائے عباسیہ میں سب سے زیادہ علم رکھتا تھا لیکن آپکے علم کا اعتراف کرتا تھا چنانچہ علامہ ابن حجر “صواعق محرقہ” میں لکھتے ہیں کہ آپ کی جلالت، عزت و شرافت معروف تھی، اسی وجہ سے ماموننے اپنی بیٹی کا نکاح آپ علیہ السلام سے کیا۔ مامون علماء ادیان و فقہائے شریعت کو امام رضا علیہ السلام کے مقابلہ میں بلاتا اور مناظرہ کراتا، مگر آپ ہمیشہ ان لوگوں پر غالب آتے تھے اور خود ارشاد فرماتے تھے کہ میں مدینہ میں روضہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بیٹھتا، وہاں کے علمائے کثیر جب کسی علمی مسئلہ میں عاجز آ جاتے تو بالاتفاق میری طرف رجوع کرتے اور میں جواب دے کر ان کی تسلی و تسکین کر دیتا۔ ابوصلت ابن صالح کہتے ہیں کہ حضرت امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے زیادہ عالم تر میری نظر سے نہیں گزرا اور یہ مجھ پر ہی موقوف نہیں جو کوئی آپ کی زیارت سے مشرف ہو گا وہ میری طرح آپ کی اعلمیت کی شہادت دے گا۔ آپ کے علم و فضائل اسقدر ہیں ک بیان سے باہر ہیں،آخر میں پروردگار سے دعا ہے کہ علم کے اس سمندر میں سے کچھ قطرے ہمارے نصیب میں بھی فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)
1- (اعلام الوری ص ۱۸۲، جلاء الیعون ص ۲۸۰، روضة الصفا جلد ۳ ص ۱۳، انوارالنعمانیہ ص ۱۲۷)2۔ (فصل الخطاب وجلاء العیون ص ۲۷۹) 3۔(اعلام الوری ص ۲۲۵ ،مطالب السئول ص ۲۸۲)4۔(نورالابصارص ۱۲۸ وتذکرة خواص الامة ص ۱۹۸)5۔(اعلام الوری ص ۱۸۲)6۔ (جلاء العیون ص ۲۷۹ ،روضة الصفاجلد ۳ ص ۱۲)7۔(ابن الوردی حبیب السیرابوالفداء)8۔(نورالابصارص ۴۱)9۔(سوانح امام رضاجلد ۳ ص ۷)