نجات دہندہ

295

خالی پیٹ رات کیسے بسر ہوتی ہے۔۔۔۔۔؟مناسب لباس، سر پر چھت، محفوظ دیواروں کی غیر موجودگی میں موسموں کی سختیوں سے کیسے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔۔۔۔۔؟ خواہشات اور حقائق کے مابین بڑھتی ہوئی مجبوریوں کی خلیج پر کیسے آنسو بہائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔؟ان باتوں کا احساس بھلا کسی خوشحال لکھاری، کالم نگار، شاعر، دانشور، سماجی کارکن، سیاسی راہنما یا انسانی حقوق کے علمبردار کو کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔؟
بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ محفوظ، نرم و گرم بستر پر سونے والا کسی جھونپڑی میں آخر کیوں جھانکے۔۔۔۔۔؟ جہاں برہنہ بچے ایک دبیز سے کپڑے تلے بھیک میں ملی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا کھا کر سونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کسی کو اس بات سے کوئی سروکار کیوں ہو۔۔۔۔۔؟ کہ یہ لوگ سردیوں کی لمبی راتوں کے بعد دھوپ نکلنے کا صرف اس لیے انتظار کرتے ہیں کہ اپنے جسم میں سرایت کر جانے والی سردی کو قدرتی تپش سے دور کر سکیں۔
عالمی اداروں کی سائٹس بھوکے اور بے گھر افراد کے بارے میں جو اعداد و شمار بتاتی ہیں، اگرچہ انہیں حتمی نہیں کہا جا سکتا، تاہم اس شماریات کو ان مسائل کی نوعیت کو سمجھنے کی کلید کہ سکتے ہیں۔ ان کے 2005ء میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی آبادی کا نصف سے زائد حصہ ڈھائی ڈالر یومیہ آمدن کی حد سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ (۱) اسی طرح دنیا کے تقریباً ایک سو ملین لوگ بے گھر ہیں۔ (2)ان بے گھر افراد میں صرف ایشیا اور افریقہ کے باسی ہی نہیں بلکہ امریکہ، یورپ اور ترقی یافتہ دنیا کے اکثر ممالک کے لوگ بھی شامل ہیں۔ مغربی اداروں کے اعداد و شمار یہ کہتے ہیں کہ دنیا کی 80فیصد آبادی 10ڈالر یومیہ آمدن کی حد سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ اعداد و شمار کو اوپر لے جاتے جایئے آپ کو انسانوں میں ایک ایسا اشرافیہ بھی ملے گا جو ایک فیصد ہونے کے باوجود دنیا کے 99 فیصد لوگوں پر حکومت کر رہا ہے۔ دنیا کے تمام تر وسائل چاہے وہ انسانی ہوں یا معاشی، صنعتی ہوں یا معدنی، سب انہی کی خدمت پر مامور ہیں۔ سرمایہ کی تقسیم کے اس نظام کو سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) کہا جاتا ہے۔
دنیا کے انیس فیصد انسان یعنی 10ڈالر یومیہ سے زیادہ کمانے والے، ایک فیصد اشرافیہ جیسا ہونے کے لیے دن رات سرگرم ہیں۔ اس دوڑ میں کچھ افراد وہ بھی شامل ہیں جو 10ڈالر یومیہ سے کم کماتے ہیں، تاہم باقی بچ جانے والی دنیا کی اسّی یا اناسی فیصد آبادی زندگی کیسے گزارتی ہے۔؟ وہ خود جانتے ہیں یا ان کا خدا۔
اس صورتحال میں افسوسناک امر تو یہ ہے کہ دنیا کی یہ اسّی فیصد آبادی اپنی ا کثریت کے باوجود اس قابل نہیں کہ اپنے حالات کو بدلنے کے لیے کوئی اقدام کر سکے۔ اشرافیہ منظم ہونے کے سبب ایسی کلی پالیسیاں وضع کرتا ہے، جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کیا جا سکے اور کسی نئے شخص کو اس میدان میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اپنے اعداد و شمار کے مطابق وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کچھ مخصوص وسائل کی حامل ہے، ان وسائل کے جتنے حصہ دار ہوں گے، اتنا ہی کم حصہ ہر کسی کو ملے گا۔ پس وہ نہیں چاہتے کہ ان وسائل کے نئے دعویدار ابھریں۔ غریب کو روٹی دینا ان کی مجبوری اس لیے بھی ہے کہ اگر اس کے جسم میں طاقت نہ ہوئی تو ان کی صنعتیں اور کاروبار کون چلائے گا۔
سرمایہ، وسائل، عیش و عشرت کی یہ ہوس اور اس کے حصول کی جنگ کیا کیا گل کھلاتی ہے، آج دنیا کے سامنے ہے۔ دنیا کے آزاد ممالک کے وسائل کو ہتھیانے کے لیے ان پر قبضے، اوپن مارکیٹس کا قیام، سبھی اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ لیکن یہ سب آخر کب تک۔؟ امریکہ جو سرمایہ داری کا سب سے بڑا رول ماڈل سمجھا جاتا تھا، کے غریب آج اپنا حق مانگنے کے لیے سڑکوں کا رخ کر چکے ہیں۔ یورپ، جاپان اور ایشیا غرضیکہ جہاں جہاں سرمایہ دارانہ نظام چل رہا ہے میں لوگ وسائل کی اس غیر منصفانہ تقسیم پر چلا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس چیخ و پکار میں ان لوگوں کی آواز تو شامل ہی نہیں، جن کے جسم اور جیبیں اس قسم کے کسی جوکھم کی اجازت نہیں دیتیں۔
معاشرتی ناانصافیوں کے سبب پیدا ہونے والی محرومیاں انسان کو نجات دہندہ کی تلاش پر آمادہ کرتی ہیں۔ ان محرومیوں کی سب سے قدیم مثال حضرت موسی ع کی قوم بنی اسرائیل ہے، جن کو فرعون اور اس کے حواریوں نے اپنے ظلم و ستم کے سبب اس نہج پر پہنچا دیا تھا کہ فرعون کے ایک حکم پر اس قوم کے سب نومولود قتل کر دیئے جاتے اور خواتین کو باندیاں بنا لیا جاتا۔ فرعون اور اس کے حواری بنی اسرائیل کو اتنی ہی خوراک دیتے تھے کہ وہ ان کے تعمیراتی منصوبوں میں کام کر سکیں۔
بنی اسرائیل خدا کے نمائندوں کی اولاد تھی، جنھیں یہ بتایا گیا تھا کہ ان کے درمیان ایک نجات دہندہ بھیجا جائے گا، جو ان کے دکھوں کا مداوا کرے گا اور معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرے گا۔ بنی اسرائیل سے کیا ہوا یہ وعدہ حضرت موسی ع کی صورت میں پورا ہوا۔ موسی ع اور بنی اسرائیل کے واقعے سے بچہ بچہ واقف ہے، تاہم وہ بات جسے ہم نے فراموش کر دیا یہ ہے کہ موسی ع بنی اسرائیل کے نجات دہندہ کے طور پر ظاہر ہوئے، جنھوں نے قوم بنی اسرائیل کو معاشرتی ناہمواریوں سے خلاصی بخشی اور خلاصی کے اس نظام کو شریعت موسوی کا نام دیا گیا۔
تاریخ کا سفر آگے بڑھا اور ایک خاص قسم کے گروہ نے، جو اپنے آپ کو شریعت کا عالم بھی کہتا تھا، اسی شریعت موسوی کے بل بوتے پر ایک اشرافیہ کو وجود بخشا۔ یسوع مسیح، جنہیں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے، انسانوں کے خالق کی جانب سے اس اشرافیہ کے رد میں ظاہر ہوئے۔ انبیا کی اولاد سے تعلق رکھنے والے مذہبی اشرافیہ اور ان کے خوشہ چینوں نے ایک اولی عزم نبی کی نبوت کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس کی پاکیزہ ماں پر طرح طرح کی تہمتیں دھریں۔ نومولود بچے کی گواہی بھی اس اشرافیہ کی آنکھیں نہ کھول سکیں۔ عیسی ع یہودی معاشرے میں رواج پانے والی معاشرتی ناہمواریوں اور اس کے مضمرات کے خلاف جنگ کرتے کرتے صلیب پر چڑھا دیے گئے۔ عیسی ع کے پیروکار اور ان کی بعد آنے والی شریعت جو صحرائے عرب میں ظہور پذیر ہوئی، پر عمل کرنے والے حضرت عیسی ع کے بطور نجات دہندہ لوٹ آنے پر آج بھی ایمان رکھتے ہیں۔
عیسائی، یہودی اور مسلمان نجات دہندہ کے لفظ کا استعمال کس معنی میں کرتے ہیں، صراحت سے معلوم نہیں، لیکن جو چیز بیان کردہ مثالوں سے عیاں ہے وہ یہی ہے کہ خدا کے نزدیک نجات دہندہ کا تصور صرف اخروی نہیں بلکہ دنیاوی بھی ہے۔ کائنات کے خالق نے معاشروں میں پھیلی ہوئی ناانصافیوں اور ان کے مضمرات کا حل پیش کرتے ہوئے اس کی تمام تر جہتوں کو مدنظر رکھا۔ اگر ایک طرف فرعون کی حکومت اور قدرت کو اس ناسور کی جڑ قرار دیا گیا تو دوسری طرف انسان کے باطن میں پیدا ہونے والے اخلاقی نقائص کو بھی فراموش نہیں کیا گیا۔ ان دونوں طرح کی بیماریوں کی وجہ ایک معبود سے دوری کو قرار دیا گیا۔
آج معروف آخری شریعت یعنی الہی نظام حیات کو آئے ہوئے چودہ سو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ معروف کا لفظ استعمال کرنے کی وجہ یہودیوں اور عیسائیوں کا اس شریعت پر ایمان نہ لانا ہے۔ ان کے نزدیک انہی کے نظام ہائے حیات آخری الہی پیغامات تھے، جس کا سلسلہ اب دوبارہ اس وقت قائم ہو گا جب ان کا نجات دہندہ دنیا میں ظہور کرے گا۔ کہتے ہیں کہ یثرب کے یہودی قبائل بنو نظیر اور بنو قیطاع اسی نجات دہندہ کے انتظار میں خیبر میں آ کر آباد ہوئے تھے۔ عیسی ع کے پیروکار ہونے کے دعویدار اور اسی نسبت سے اپنے آپ کو عیسائی یا کرسچین کہنے والے جو دنیا کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، بھی اپنے نجات دہندہ کے منتظر ہیں۔ مسلمانوں کو بھی ایک نجات دہندہ کی نوید سنائی جا چکی ہے، جو آخری زمانے میں ظہور کرے گا اور جس کے بارے میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ وہ دنیا کو اس طرح عدل و انصاف سے پر کر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی۔لو لم یبق من الدنیا الایوم لبعث اللہ رجلا من اھل بیتی یملاھا عدلا کما ملئت جورا (3)اگر دنیا کی مدت میں ایک دن بھی باقی رہ جائے تو خدا میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کو مبعوث کرے گا، جو دنیا کو اسی طرح عدل سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے پر ہو گی۔
مذکورہ بالا گذارشات اور بیان کردہ حدیث سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نجات دہندہ کوئی مذہبی لیڈر یا کسی رائج دین کا ٹھیکیدار نہیں بلکہ انسانیت کو ظلم و بربریت اور ناانصافیوں سے امان بخشنے والا ہو گا۔ اس کا ہدف معاشرتی ناانصافیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا خاتمہ ہو گا۔ وہ کسی بھی رائج طریقہ کار پر چلنے کے بجائے راہ عدل و انصاف کا علمبردار ہو گا۔
آج دنیا میں پھیلی ہوئی معاشرتی ناانصافیاں اور ان کے سبب پیدا ہونے والی خرابیاں اس لطف خدا کو پکار رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کا پسا ہوا طبقہ بیدار اور ہوشیار رہے۔ ان خدائی وعدوں کو سنے سنائے رائج دینی و مذہبی نظریات کی روشنی میں مت دیکھیں بلکہ معاشرے میں عدل وانصاف کے قیام کے مقاصد کی روشنی میں ان کی شناخت کو وطیرہ بنائیں۔
حوالہ جات1۔http://www.globalissues.org/article/26/poverty-facts-and-stats2۔http://www.homelessworldcup.org/content/homelessness-statistics3۔البیان فی اخبار صاحب الزمان : 428،سنن ابی داود4:4283/107،مسند احمد1:99،المصنف /ابن ابی شیبة 15:198
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.