جبریہ کی عقلی دلائل اور انکا رد

665

دلیل عقلی چند مقدے پر مشتمل ہیں:پہلا مقدمہ: ہرممکنات ، وجود میں آنے کیلئے علت کی طرف محتاج ہیں اور اسی طرح تمام علل معدّہ بھی علت تامہ پر محتاج ہیں۔ دوسرا مقدمہ: علت العلل وہی ذات پاک ہے ۔تیسرا مقدمہ: معلول کا علت سے جدا ہونا محال ہے۔ اسی طرح افعال انسان بھی مخلوقات خدا میں سے ہے اور خدا سے جدائی ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک قاعدۂ فلسفی ہے کہ جہاں علت تامہ ہو وہاں اس کا معلول ہونا ضروری ہے۔ پس اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افعال انسان بھی خدا سے وجود میں آیا ہے نہ خود انسان سے، جس میں انسان کا کوئی اختیار نہیں۔
دلیل عقلی پر اشکالان کی اس دلیل پر کئی اشکالات وارد ہوتی ہیں؛ اولا ً توجو شبہات جبریوں کے زہنوں میں آیات سے پیدا ہوتی ہیں یہ ہے کہ مشیت و ارادہ اور قضا و قدر الہی کے مقابلے میں انسان کو کسی چیز پر اختیار حاصل نہیں، صحیح نہیں کیونکہ ارادۂ خدا اور ارادۂ انسان ایک دوسرے کے طول میں ہے ۔ یہی وجہ ہے ارادۂ الہی جانشین ارادۂ انسان نہیں ہوسکتا۔ثانیا انسان کا ارادہ علل معدّہ ہے اور فعل انسا ن بھی اس کا معلول ۔ انسان جب ارادہ کرتا ہے تو فعل انجام پاتا ہے ۔ اگر ارادہ نہ کرے توانجام بھی نہیں پاتا ۔ لیکن یہی علت معدّہ (ارادہ) اور معلول (فعل) اور اس کے مبادی سب ارادۂ الہی سے متعلق ہے ۔ منتہا اس فعل کی نسبت علت معدّہ(ارادہ) مباشراور ملی ہوئی علت ہے ، اور ارادۂ خداوند علت بعیدہ ہے، لیکن اگر یہی علت بعیدہ نہ ہو تو نہ مرید (ہم) ہونگے نہ کوئی ارادہ ہوگا اور نہ ہی کوئی مراد(فعل) ۔ پس معلوم ہوا ارادۂ انسان تو اس کے اپنے اختیار میں ہے اور جو بھی کام انجام دیتا ہے اپنے ارادے سے انجام دیتا ہے۔ اور یہ سلسلۂ نظام ، ارادۂ الہی سے متعلق ہے ۔ یہی اس مشکل کا حل کی چابی ہے ۔
عقیدۂ جبریہ باطل کیوں؟• عقیدہ جبریہ باطل ہے کیونکہ ان کے مطابق کافر لوگ پیامبران الہی پر اپنی دلیل اور حجت قائم کرسکتے ہیں کہ خدا نے ہیہمیں کافر خلق کیا ہے اور ہم سے کفر چاہا ہے ۔ اور ہم ایمان لانے پر قادر نہیں ہیں ۔ لیکن اگر خدا چاہتا تو ہم بھی ایمان لے آتے ۔• اگر اہل اسلام ، کفار کے ساتھ مناظرہ اور احتجاج کریں اور اسلام کی حقانیت کو منوانا چا ہیں تو جبر کے قول کے مطابق کفار کیلئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ خدا نے ہمیں اسلام میں داخل ہونے سے منع کیا ہے۔ اور ہم مجبور ہیں کہ حالت کفر پر باقی رہیں ۔چنانچہ ابی بحرخاقانی کے دور شہنشاہیت میں سارے یہودی جمع ہوئے اور خاقانی سے کہنے لگے کہ آپ ایک عادل اور منصف بادشاہ ہے اور اس شہر میں آپ کے علمای دین کہ جن پر آپ کو اعتماد حاصل ہے۔ اس بات کے قائل ہیں کہ ہم یہودی اسلام اور ایمان لانے پر مختار نہیں ہیں ۔ تو آپ کس بنا پر ہم سے جزیہ اور خراج (ٹیکس) لیتے ہیں؟ اور یہ جزیہ لینا آپ کے عدل اور انصاف کے خلاف ہے۔ تو اس بادشاہ نے علمای مجبرہ کو جمع کیا اور یہودیوں کی بات کو ان تک پہنچادی ۔ تو تب کہا ؛ یہودی بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ تو بادشاہ نے کہا : کس بنا پر یہ لوگ قادر نہیں ہیں؟! یہ علماء جواب نہ دے سکے ۔تو بادشاہ نے انہیں شہر بدر کردیا ۔ -1
• بطلان جبر پر بہلول کا قصہایک دن بہلول کا گذر ابو حنیفہ کے نزدیک سے ہوا جہاں وہ اپنے شاگردوں کو درس دے رہا تھا ، کہا : یہ جعفر صادق(ع) کا خیال ہے کہ جو بھی فعل بندے سے صادر ہوتا ہے خود اسی کے اختیار سے انجام پاتاہے جبکہ میں اسے نہیں مانتا ۔ کیونکہ ہر وہ فعل جو بندے سے صادر ہوتا ہے وہ خدا انجام دیتا ہے۔ اور جعفر صادق(ع) کہتے ہیں کہ شیطان کو قیامت کے دن آگ میں جلایا جائے گا جبکہ یہ ممکن نہیں کیونکہ شیطان کی جنسیت آگ سے ہے اور آگ آگ کو کیسے جلا سکتا ہے؟! اسی طرح جعفرصادق(ع)کہتے ہیں کہ خدا موجود ہے جبکہ یہ درست نہیں کیونکہ ہر موجود کو دیکھاجا سکتا ہے لیکن خداوند کوتو دیکھ نہیں سکتا۔ جس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا موجود نہیں ہے۔بہلول یہ سب کچھ سن رہا تھا ۔ ایک ڈھیلہ اٹھا کر ابو حنیفہ کے سر پر دے مارا اور بھاگ نکلا ۔ لیکن لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور خلیفہ کے پاس لے گئے۔ ہارون نے اس سے پوچھا : کیوں اس عالم جلیل کو اذیت دی؟بہلول نے کہا: یہ اپنے مذہب کے مطابق جھوٹ بول رہا ہے۔ کیونکہ میں نے نہیں مارا بلکہ خدا نے مارا ہے۔ اور اسے کوئی اذیت نہیں دی ہے اور نہ ہی میں نے کوئی صدمہ پہنچایا ہے ۔ کیونکہ اس کی خلقت خاک سے ہوئی ہے اور خاک(ڈھیلہ) جو اس کا ہم جنس ہے کیسے اسے صدمہ پہنچا سکتی ہے؟ اسی طرح اگر درد کا اظہار کر رہا ہے توبھی جھوٹ ہے کیونکہ اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو درد کو ہمیں کھادے ۔ یہ تو خود کہہ رہا تھا کہ خدا اگر موجود ہے تو ہر موجود دیکھنے میں آتا ہے تو خدا کیوں دکھائی نہیں دیتا ۔ابو حنیفہ سمجھ گیا کہ بہلول نے ایک ڈھیلہ سے تینوں اشکال کا جواب دیا اور اس کی غلطی کو سب پر واضح کردیا ۔ اس وقت ہارون ہنس پڑا اور انہیں چھوڑدیا ۔ -2اس مناظرے سے آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ اگر ہم جبر کے قائل ہوجائیں تو خداوند متعال کو غفور اور رحیم کہنا درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ عفو ودرگذر اس صورت میں ممکن ہے کہ بندہ مختار ہو ۔ اور گناہوں کو ترک کرے جبکہ وہ گناہ کو انجام دے سکتا ہو ۔ مگر یہاں خدا فاعل ہے کس طرح ایک بے گناہ بندے کو عفو کریگا اور بخش دیگا؟ اس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا اپنے آپ کو بخش رہا ہے۔• اگر اہل حق اوراہل باطل کے درمیان مناظرہ اور مباحثہ ہوجائے تو قول مجبرہ کے مطابق یہ لازم آتا ہے کی خدا نے خود مناظرہ کیا ہے ۔ کیونکہ مناظرہ فعل ہے اور خدا فاعل ۔ پس خدا ہم محق ہے اور ہم مبطل ۔ کیونکہ مناظرہ میں ایک حق پر ہوتا ہے دوسرا باطل پر۔ اس کا لازمہ یہ ہے کہ خداوند عالم بھی ہے اور جاہل بھی! در حالیکہ خدا کی ذات اس چیز سے پاک و منزہ ہے۔—————1 ۔ سید علم الھدی ؛معاد و عدل ،ص١٠۔2 ۔ ہمان ،ص۱۲۔
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.