انسان کے مختار ہونے پر دلائل قرآنی
انسان کے مختار ہونے پر دلائل قرآنی
ارسال رسل وانزال کتباگر انسان مختار نہ ہو تو اصولاً پیامبروں کا آنا اور کتب آسمانی کا نازل ہونا بیہودہ ہوگا ۔ اور خدا وند بیہودہ کام نہیں کرتا ۔ پس ارسال رسل اور انزال کتب اس بات کی دلیل ہے کہ خدا وند اور انبیاء انسان کو مختار جانتے ہیں ۔
امتحاناگر قرآن پر ایمان رکھنے والا ہو تو ماننا پڑے گا کہ امتحان کو ایک سنت الہی قرار دیا گیاہے ۔ جیسا کہ متعدد آیتوں میں ذکر کیا ہے :١ ۔ إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا-1- یقینا ہم نے انسان کو ایک ملے جلے نطفہ سے پیدا کیا ہے تاکہ اس کا امتحان لیں اور پھر اسے سماعت اور بصارت والا بنادیا ہے۔٢۔ إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا-2- بیشک ہم نے روئے زمین کی ہر چیز کو زمین کی زینت قرار دے دیا ہے تاکہ ان لوگوں کا امتحان لیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے ۔۳۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَمَوَالِ وَالأنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ -3-اور ہم یقینا تمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموالًنفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیں ۔پس امتحان ایسے افراد سے لیا جائے گا جو مجبور نہ ہو بلکہ آزاد ہو ۔ اور ہدف امتحان بھی معلوم ہے کہ انسان کو بلند وبالا مقام تک پہنچانا مقصود ہے ۔ لیکن اگر ہر ایک کو زیرو دینا مقصود تھا یا ہر ایک کو سو کے سو نمبر دینا ہوتا تو امتحان بے معنی ہوجائے گا ۔
وعدہ و وعیدیہ وہ صفات ہیں جنہیں خدا نے نبیوں کو عنایت کی ہے ، فرمایا : كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُواْ فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلاَّ الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ لِمَا اخْتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ وَاللّهُ يَهْدِي مَن يَشَاء إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ -4- (فطری اعتبار سے) سارے انسان ایک قوم تھے . پھر اللہ نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کریں اور اصل اختلاف ان ہی لوگوں نے کیا جنہیں کتاب مل گئی ہے اور ان پر آیات واضح ہوگئیں صرف بغاوت اور تعدی کی بنا پر———– تو خدا نے ایمان والوں کو ہدایت دے دی اور انہوں نے اختلافات میں حکم الٰہی سے حق دریافت کرلیا اور وہ تو جس کو چاہتا ہے صراظُ مستقیم کی ہدایت دے دیتا ہے۔ اگر انسان مختار نہ ہو تو کسی فعل پر بشارت دینا اور کسی فعل سے بھی ڈرانا اور اسی طرح درمیان میں اختلاف پیدا کرنا اور ان کے درمیان فیصلہ کرنا بے معنی ہوجائے گا ۔—————1 ۔ دھر ٢۔2 ۔ کہف٧۔3 ۔ بقرہ ۱۵۵۔4 ۔ بقرہ ٢١٣۔