ہدایت الہی کے اقسام

742

ہدایت الہی دوقسم کے ہیں:١۔ ہدایت عامہ آیات قرآنی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کی ہدایت الہی کسی ایک فرد سے مخصوص نہیں بلکہ تمام عالم کون ومکان کیلئے عام ہے ۔ خواہ عاقل ہو یا غیر عاقل ۔ اس ہدایت کو دو ہدایتوں میں خلاصہ کیا گیا ہے ۔ الف: ہدایت عامہ تکوینی: وہ آیات بتاتی ہیں کہ خدا نے جس چیز کو بھی خلق کیا تو فوراً اسے اس کی غایت اور ہدف کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا : فلان ہدف اور غرض کیلئے تمہیں خلق کیا ۔ چنانچہ موسی کلیم اللہ کی زبان پر جاری کیا : قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى -1- موسٰی نے کہا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی مناسب خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے۔ایک دانہ گندم کی مثال لیں کہ جب ہم زمین میں اسے بھوتے ہیں تو وہ اپنی نازک بال کے ذریعے سخت مٹی کو چیرتا ہو اکھلی فضا میں آتا ہے ۔ اور نشو نما پاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک تناور پودے کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ اور اپنا ثمرہ دینا شروع کرتا ہے ۔ اسی طرح حیوانات اور انسان بھی ہیں ۔ اور فرمایا: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىوَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى-2- اپنے بلند ترین رب کے نام کی تسبیح کرو ۔ جس نے پیدا کیا ہے اور درست بنایا ہے ۔ جس نے تقدیر معین کی ہے اور پھر ہدایت دی ہے یہ آیت بتاتی ہے کی خدا نے ہر شیی کو خلق کیاایک خاص تقدیر کی بنیاد پر پھر ہدایت عامہ بھی عطا کی ۔یہ آیتیں تو عموم ہدایت تکوینی کو ساری موجودات عالم کیلئے ثابت کرتی ہیں لیکن یہاں کچھ اور آیتیں ہیں جو ایک خاص وجود اور خاص ہدایت پر دلالت کرتی ہیں۔مثلا شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا: وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلاً يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ -3-اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کو اشارہ دیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور گھروں کی بلندیوں میں اپنے گھر بنائے اس کے بعد مختلف پھلوں سے غذا حاصل کرے اور نرمی کے ساتھ خدائی راستہ پر چلے جس کے بعد اس کے شکم سے مختلف قسم کے مشروب برآمد ہوں گے جس میں پورے عالم انسانیت کے لئے شفا کا سامان ہے اور اس میں بھی فکر کرنے والی قوم کے لئے ایک نشانی ہے ۔سبحان اللہ !! یہ آیت تو صاف صاف بیان کر رہی ہے کہ شہد کی مکھی کو خدا نے کس طرح ہدایت اور نصیحت کی ہے کہ کہاں اپنا گھر بنائیں اور کہاں سے تغذیہ کریں ۔ او ریہ سارا اہتمام خدانے کس کیلئے کیا ہے؟ اس انسان ظلوم و جہول کیلئے ، کہ اس شہد میں اس کیلئے دوا اور شفا قرار دیا ہے اور آخر میں فرمایا : اس قوم کیلئے جو خدا کی ان نعمتوں اور حکمتوں میں غور و فکر کرتی ہیں ۔ اس شہد کی مکھی میں بڑی نشانیاں نظر آئیں گی ۔اور ہدایت بغیر کسی استثناء کے تمام شہد کی مکھیوں کو فرداً فرداً دی گئی ہے ۔ اسی طرح تمام انسانوں کیلئے بھی ہدایت عامہ عطا کی ہے ۔ لیکن زمان و مکان اور ظرفیت کے مطابق کچھ فرق کیساتھ ۔ شہد کی مکھی کو جو ہدایت دی گئی ہے وہ مادی اور معنوی دونوں زندگی سے مربوط ہے۔ چنانچہ فرمایا ؛ أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْن ِوَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ۔ 4تاکہ وہ ان دو آنکھوں سے حکمت الہی کو دیکھا کرے ۔ اور لبوں کے ذریعے ورد کرے ۔ خیر کا راستہ اور شر کا راستہ بھی بتادے ۔اب یہ انسان اپنی پاک فطرت کے ذریعے حسن و قبح کو جان لیتا ہے اور کسی کے ہاں تلمّذ کرنے سے پہلے اچھائی اور برائی کی تمیز کرسکتا ہے ۔ یہی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کے اندر تکویناً ہدایت عامہ موجود ہے۔ —————1 ۔ طہ٥٠ ۔ 2 . اعلیٰ،١۔٣۔3 ۔ نحل ٦٩۔۔٦٨4 ۔ بلد١٠۔۔٨۔
ب : ہدایت عامہ تشریعیچنانچہ معلوم ہوا کہ ہدایت عامہ تکوینی تو ہر انسان کی فطرت میں پائی جاتی ہے لیکن ہدایت عامہ تشریعی عوامل خارجی جیسے انبیا و اولیاء الہی اور ان کے جانشینوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے ۔ چنانچہ فرمایا: إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ-1- ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں کوئی ڈرانے والا نہ گزرا ہو۔لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ -2- بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں اور ہم نے لوہے کو بھی نازل کیا ہے جس میں شدید جنگ کا سامان اور بہت سے دوسرے منافع بھی ہیں اور اس لئے کہ خدا یہ دیکھے کہ کون ہے جو بغیر دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے اور یقینا اللہ بڑا صاحبِ قوت اور صاحبِ عزت ہے۔یہ آیتیں تشریعی ہدایت عامہ پر دلالت کرتی ہیں ۔ جو پورے عالم انسانیت کیلئے ارسال کی گئی ہے۔پس ہر مکلف میں ہدایت عمومی تشریعی کے ثابت ہونے پر جبرکی نفی اور اختیار ثابت ہوتا ہے ۔ جب ہر انسان کو اپنی ظرفیت اور سوچ کے مطابق ہدایت مل جائے تو جبر کیلئے گنجائش باقی نہیں رہتا ۔ بعض آیتوں میں صریحا بیان ہوا ہے کہ جب تک انبیاء الہی کو مبعوث نہیں کیا کسی قوم کو عذاب میں مبتلانہیں کیا : مَّنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدي لِنَفْسِهِ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً-3- جو شخص بھی ہدایت حاصل کرتا ہے وہ اپنے فائدہ کے لئے کرتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے وہ بھی اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہے اور ہم تو اس وقت تک عذاب کرنے والے نہیں ہیں جب تک کہ کوئی رسول نہ بھیج دیں ۔
وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى حَتَّى يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ -4- اور آپ کا پروردگار کسی بستی کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ اس کے مرکزمیں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کرے اور ہم کسی بستی کے تباہ کرنے والے نہیں ہیں مگر یہ کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں۔ پس اگر جبر اور اختیار کا ملاک ہدایت الہی کا وسیع یا محدود ہونا ہے تو یہ آیتیں صریحا عمومیت پر دلالت کرتی ہیں ۔ جو جبر کو باطل اور اختیار کو ثابت کرتی ہیں ۔لیکن ہدایت یا ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے ، سے کیا مراد ہے درج ذیل بحث سے معلوم ہوگا ۔—————1 ۔ فاطر ٢٤۔2 ۔ الحدید ٢٥۔3 ۔ اسراء ١٥۔4 ۔ قصص٥٩۔
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.