صور کا پھونکنا ،اور نامۂ اعمال

354

اس دنیا کا اختتام اور دوسری دنیا کا آغاز ایک قیامت خیز چیخ کے ساتھ ہوگا قرآن کی بہت سی آیتوں میں صور پھونکنے کی طرف اشارہ ہے ان تمام آیتوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دوبارصورپھونکا جائے گا۔١۔اس دنیا کے خاتمہ کے وقت جس سے تما م مخلوق خدا فنا ہوجا ئے گی یہ صورموت ہے ۔٢۔ قیامت کے وقت جب تمام مخلو ق کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اوریہ صور قیامت ہے ان دواہم واقعہ کو قرآن نے مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے” نفخ صور” صیحہ’ نقر در ناقور” ” صاخہ”،”قارعہ” ”زجرة”۔( وَنُفِخَ فیِ الصُّورِ فَصُعِقَ مَن فِی السَّمواتِ وَمَن فِی الأَرض اِلا مَن شاء اللَّہ ثُمَّ نُفِخَ فیہِ أُخَریٰ فاِذاھُم قِیَامُ یَنظُرونَ)”اور جب صور پھو نکا جائے گا اس وقت تمام مخلوق جو آسمان و زمین میںہیں سب کے سب فنا ہوجائیں گے مگرصرف وہ لوگ بچیں گے جنہیں خدا چاہے گا پھر دوبارہ صور پھونکا جائیگا کہ اچانک سبھی اٹھ کھڑے ہو نگے اورحساب اور جزاء کے منتظر ہوںگے ”۔سورۂ یس کی ٥٣ آیت میں اس واقعہ کو”صیحہ ”چنگھا ڑ کے نام سے یاد کیاگیاہے ۔(اِنّ کَانَت اِلَّا صَیحَةً وَاحِدةً فاِذَا ھُم جَمِیعُ لدَینا مُحضَرُونَ) یس:٥٣) قیامت توصرف ایک چنگھاڑ ہے اس کے بعد سب ہماری بارگا ہ میں حاضر کردئے جائیں گے او رسورہ مدثر کی آیت ٨ میں نقر وناقور کے نام سے جانا جاتاہے(فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُورِ فَذلِک یَومَئذٍ یَوم عَسیر)پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن انتہائی مشکل دن ہوگا اور سورہ عبس کی آیة ٣٣ میں (فاِذَا جاء ت الصَّاخَةُ)پھر جب کان کے پردے پھاڑ نے والی قیامت آجا ئے گی ۔اور سورہ قارعة کی ایک سے تین تک کی آیتوں میں اس اہم واقعہ کو قارعہ سے یاد کیا ہے۔(القَارِعَةُ مَا القَارِعةُ وَمَا أدرَاک مَا القَارِعَةُ )کھڑکھڑانے والی اور کیسی کھڑکھڑانے والی اورتمہیں کیامعلوم کہ وہ کیسے کھڑکھڑانے والی ہے اور سورہ صافات کی آیة ١٩میں زجر کے نام سے یاد کیاگیاہے( فَاِنّما ھِیَ زَجَرَةُ وَاحِدةُ فَاِذَا ھُم یَنظُرُونَ)یہ قیامت تو صرف ایک للکا ر ہوگی جس کے بعد سب دیکھنے لگیں گے ان تمام آیات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس دنیا کا خاتمہ اور دوسری دنیا کا آغاز اچانک اور ایک چنگھا ڑ ”صیحہ ” کے ذریعہ ہوگا یہ تمام عنوان جو ذکر کئے گئے ہیں یہ سب کنایہ ہیں نفخ چاہے پھونکنے کے معنی میں ہو یا صورکے البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ یہ واقعہ سخت ہوگا او رصور کا پھونکا جانا عام طرح سے نہیں ہوگا بلکہ ایک سخت دن ہوگا اور عجیب طریقہ کی چنگھاڑ ہوگی جس سے ایک سکنڈ میں تمام زمین او رآسمان والے نابو د ہو جا ئیں گے خدااپنے دوسرے حکم سے قیام قیامت کی خاطر سب کو دوبارہ زندہ کرے گا ان دو حکم کے درمیان کا فاصلہ ہمیں معلوم نہیں ۔
صحیفہ یانامۂ اعمالقرآن او راحادیث معصومین علیہم السلام میں نامہ اعمال کے متعلق بہت طویل بحث ہے ایسانامہ اعمال جس میں انسان کے تمام اعمال ثبت ہو ں گے اور قیامت کے دن ظاہر ہوں گے ۔١۔ اعمال کا ثبت ہونا:( وَنَکتُبُ مَا قَدَّموا وَآثَارھم وکُلَّ شَیئٍ أَحصَینَاھُ فِی اِمامٍ مُبینٍ) اور ہم ان گزشتہ اعمال اور ان کے آثار کو لکھتے جاتے ہیں اورہم نے ہر شی ٔ کو ایک روشن امام میں جمع کردیاہے۔ (١)(وَکُلّ شَیئٍ فَعَلُوہُ فِی الزُّبُرِ وَکُلُّ صَغِیرٍ وَکَبیرٍ مُستَطرُ) اور ان لوگو ں نے جو کچھ بھی کیا ہے سب نامۂ اعمال میں محفوظ ہے اور ہر چھوٹا اور بڑا عمل اس میں درج کردیاگیا ہے۔ (٢)(اِنَّ رُسُلُنا یَکتُبُونَ مَا تَمکُروَن) اور ہمارے نمایندہ تمہا رے مکر کو برابر لکھ رہے ہیں۔ (٣)( أَم یَحسَبُونَ أِنَّا لَا نَسمعُ سِرَّھمُ و نَجوٰھم بَلیٰ وَ رُسُلَنَا لَدیھِم یَکتبُونَ) یا ان کاخیال ہے کہ ہم ان کے راز اور خفیہ باتوں کو نہیں سن سکتے ہیں تم ہم کیا ہمارے نمایندہ سب کچھ لکھ رہے ہیں۔ (٤)(فَمَنْ یَعمَل مِنَ الصَّالِحَاتِ وَھُوَ مُؤمِنُ فلا کُفرانَ لِسَعیہِ وَاِنَّا لَہُ کَاتِبُونَ)پھر جوشخص صاحب ایما ن رہ کر عمل کرے گا اس کی کوشش برباد نہ ہوگی اورہم اس کی کوشش کوبرابر لکھ رہے ہیں۔ (5)اعمال کا ظاہر ہونا :(وَاِذَا الصُحُفُ نُشِرَت عَلِمَت نَفسُ مَا أَحَضَرت)اورجب نامۂ اعمال منتشر کر دئے جائیں گے تب ہر نفس کومعلوم ہوگا کہ اس نے کیا حاضرکیا ہے۔ (6) (بَل بَداَ لَھُم مَا کَا نُوا یُخفُونَ مِن قَبلُ) بلکہ ان کے لئے وہ سب واضح ہوگیا جسے پہلے سے چھپا رہے تھے۔(7)( یُنبَّوا الأِنسَانُ یَومئِذٍ بِمَا قَدَّمَ و اخَّرَ ) اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے پہلے اور بعد کیاکیا اعمال کئے ہیں۔ (8) (وَکُلَّ اِنسانٍ ألزمنَاہُ طَائِرہُ فِی عُنُقہِ وَنُخرِجُ لَہُ یَومَ القِیَامَةِ کِتَاباً یَلقیٰہُ مَنشُوراً)(9)اور ہم نے ہر انسان کے نامہ اعمال کو اس کی گردن میں آویزان کردیا ہے اور روز قیامت اسے ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح پیش کردیں گے (وَوُضِعَ الکِتَابُ فَتَریٰ المُجرمِینَ مُشفِقِینَ مِمَّا فِیہِ وَیَقُولُونَ یا وَیلَتَنَا مَالِ ھَذا الکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیرَةً وَلَاکَبِیرَةً اِلاَّ أَحصیٰھا وَ وجدُوا مَا عَمِلوا حَاضِراً وَلاَ یَظلِمُ رَبُّکَ أَحَداً)اور جب نامہ اعمال سامنے رکھا جائے گا تودیکھو گے کہ مجرمین اس کے مندرجات کو دیکھ کر خوفزدہ ہوں گے اورکہیں گے ہا ئے افسوس اس کتاب نے چھوٹا بڑا کچھ نہیں چھوڑا ہے اور سب کو جمع کرلیا ہے اور سب اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے اور تمہارا پرور دگار کسی ایک پربھی ظلم نہیں کرتا ہے۔ ( 10)
نامۂ اعمال احادیث معصومین علیہم السلام کی نظر میںامام محمدباقرں سورہ اسراء کی آیة ١٤ کی تفسیر میں فرماتے ہیں ہر انسان کا نامہ اعمال اس کی گردن میں لٹکادیا جائیگا ۔(خیرہ وشرہ معہ حیث کان لا یستطیع فراقہ حتیٰ یعطیٰ کتابہ یوم القیامة بما عمل ) انسان کی اچھائیاں اور برائیاں نہ الگ ہونے والے ساتھی کی طرح ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں یہاں تک(نامہ اعمال) وہ کتاب ان کے کئے ہو ئے اعمال کے ساتھ اس کی خدمت میں پیش کی جائے گی۔ (11)عن أَبی عبد اللّہ علیہ السلام: اذاکان یوم القیامة دفع الانسان کتابہ ثم قیل لہ اقرأ فقال الراوی فیعرف ما فیہ :فقال أِنَّ اللَّہَ یُذکّرہ ، فما من لحظة ولا کلمة ولانقل قدم ولا شیء فعلہ الاذکرہ کأنہ فعلہ تلک الساعة فلذلک قالوا یا وَیلتَنا مالِ ھَذَا الکِتَابِ لَایُغادِرُ صَغیرةً ولا کَبیرةً اِلَّا أَحصیٰھَا.امام جعفر صادقںنے فرمایا :جب قیامت آئے گی انسان کے نامہ اعمال کواس کے ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس سے کہا جا ئے گا پڑھو راوی کہتا ہے کیا ان مطالب کو وہ جانتا ہوگا ؟امام نے فرمایا : خدا وند عالم اسے یاد دلا ئے گا اس طرح کہ جو بھی اس نے وقت گذار اجو کہا ،جو قدم اٹھایا ،یادوسری چیزیں جس پر عمل کیا ہوگا خدا اسے ان تمام لمحات کو اسے اس طرح یاد دلائے گا جیسے اس نے اسی وقت انجام دیاہواور وہ کہیں گے ہا ئے افسوس یہ کیسی کتاب ہے کہ جس میں ہر چھوٹا ،بڑا سب کچھ لکھ دیا گیاہے ۔(12)
نامۂ اعمال کسے کہتے ہیںجوچیز یقینی اور مسلّم ہے وہ یہ کہ انسان کے تمام اعمال اور کردار لکھے جاتے ہیں، اب کیا یہ کا غذ، ورق یا کتاب ہے یادوسری چیز ہے ؟اس کی مختلف تفسیریں کی گئیں ہیں تفسیر صافی میں مرحوم فیض کاشانی کہتے ہیں نامہ اعمال روح انسان کے لئے کنایہ ہے کہ اس میں تمام اعمال کے آثار چھپ جاتے ہیں۔تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائی مرحوم فرماتے ہیں نامہ اعمال انسان کے تمام حقیقت کو اپنے اندر شامل کئے ہوگا اوراس کے خطوط دنیاوی کتاب سے مماثلت نہیں رکھتے ہوںگے بلکہ وہ خود اعمال انسان ہے،کہ جس سے خدا باکل واضح طور پر انسان کو بتا دے گا اور مشاہدہ سے بڑھ کر کوئی دلیل نہیں ہے انھوں نے سورہ آل عمران کی آیت ٣٠ سے استفادہ کیا جس میں ارشاد ہو ا (جس دن انسان اپنے اچھے اور برے اعمال کو سامنے دیکھے گا )(13) اور بعض نے نامۂ اعمال کو ویڈیوکیسٹ کی تصویر یا ٹیپ کی کیسٹ سے مشابہ بتایا ہے بہر حال چونکہ نامۂ اعمال کا قرآن واحادیث میں کافی ذکر ہے ہم اس پر ایما ن رکھیں ہر چند اس کی حقیقی کیفیت کاہمیں علم نہیں ہے ۔
…………..(١)سورہ یس آیة: ١٢(٢) سورہ قمر آیة: ٥٢۔٥٣(٣) سورہ یونس آیة: ٢١(٤) سورہ زخرف آیة: ٨٠(١) سورہ انبیاء آیة: ٩٤(٢) تکویر آیة: ١٠۔١٤(٣) سورہ انعام آیة: ٢٨(٤) سورہ قیامت آیة: ١٣(٥)سورہ اسراء آیت١٣( ١)سورہ کہف آیة ٤٩(٢) نورالثقلین ج،٣ ص ،١٤٤(١)پیام قرآن ج،٦ ص ١٠١(٢) المیزان ج، ١٣ص،٥٨
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.