حدیث “ثقلین”اور حدیث”سفینہ”

109

حدیث ثقلین کے اسناداس حدیث کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی ایک بڑی جماعت نے بلا واسطہ (براہ راست)آنحضرت سے نقل کیا ہے بعض بزرگ علماء نے اس حدیث کی روایت کر نے والے اصحاب کی تعداد تیس سے زیادہ بتائی ہے۔۱)مفسرین،محدثین اور مور خین کے ایک بڑے گروہ نے اس حدیث کو اپنی کتا بوں میں درج کیا ہے۔اس طرح اس حدیث کے متواتر ہو نے میں کوئی شک وشبہہ باقی نہیں رہتا ہے۔بزرگ عالم سید ہاشمۺ بحرانی نے اپنی کتاب”غایة المرام”میں اس حدیث کو اہل سنت علماء کے ۳۹ اسناد اور شیعہ علماء کے ۸۰ اسناد سے نقل کیاہے ۔اور عالم بزرگوار میر حامد حسین ۺ ہندی نے اس حدیث کے بارے میں مزید تحقیقات انجام دی ہیں اور تقریباً دوسو اہل سنت علماء سے یہ حدیث نقل کی ہے اور اس حدیث کے سلسلہ میں تحقیقات کو اپنی عظیم کتاب(احقاق الحق) کی چھ جلدوں میں جمع کیا ہے ۔جن مشہور اصحاب نے اس حدیث کو نقل کیا ہے ،ان میں :ابو سعید خدری ،ابوذر غفاری،زید بن ارقم،زید بن ثابت،ابورافع،جبیر بن مطعم ،یاخذیفہ،ضمرہ اسلمی ،جابر بن عبداللہ انصاری اور ام سلمہ قابل ذکر ہیں۔حضرت ابوذرغفاریۺ کے بیان کے مطابق اصل حدیث یوں ہے :ابوذر غفاری اس حال میں کہ خانہ کعبہ کے دروازے کو پکڑے ہوئے تھے، لوگوں کی طرف مخاطب ہو کربیان کر رہے تھے :میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسے سنا کہ آپ فر ماتے تھے :<إنی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ وعترتی وانھمالن تفترقاحتی یرد اعلی الحوض>( جامع ترمذی،طبق نقل ینابیع المودة،ص۳۷)”میں تمھارے درمیان دویاد گار گرانقدر چیزیں چھوڑ ے جارہاہوں، قرآن مجیداور میرے اہل بیت(ع)۔یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوںگے یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچ جائیں ،پس تم ان کا خیال رکھنا اور دیکھنا تم میری وصیت کا ان کے بارے میں کس قدر لحاظ رکھتے ہو۔”یہ روایت اہل سنت کے معتبر ترین مآخذ، جیسے ” صحیح ترمذی”، “نسائی”،”مسند احمد”، کنزالعمال” اور ” مستدرک حاکم” و غیرہ میں نقل ہوئی ہے۔بہت سی روایتوں میں”ثقلین”(دوگرانقدر چےزیں) کی تعبیر اور بعض روایات میں “خلیفتین”(دوجانشین) کی تعبیر آ ئی ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے ان دونوںمیں کوئی فرق نہیں ہے۔دلچسپ بات ہے کہ مختلف روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو مختلف مواقع پر لوگوںکے سامنے بیان فرمایاہے:”جابربن عبداللہ انصاری” کی روایت میں آیاہے کہ آنحضرت نے سفر حج کے دوران عرفہ کے دن اس حدیث (ثقلین) کو بیان فرمایا۔”عبداللہ بن خطب” کی روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت نے اس حدیث کو سرزمین جحفہ(جو مکہ اورمدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں سے بعض حجاج احرام باندھتے ہیں) میں بیان فرمایاہے۔” ام سلمہ” روایت کرتی ہیں کہ آنحضرتنے اس حدیث کو غدیر خم میں بیان فرمایا۔بعض روایتوں میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بستر علالت پر بیان فرمایاہے۔ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ نے یہ حدیث مدینہ منورہ میں منبر پر بیان فرمائی ہے(۱)۔حتی اہل سنت کے ایک مشہور عالم ” ابن حجر” اپنی کتاب”صواعق المحرقہ” میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں:” پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمانے کے بعد حضرتعلی(ع) کے ہاتھ کو پکڑ انھیں بلند کیا اور فرمایا:” یہ علی(ع) قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدانہیں ہوںگے یہاں تک کہ حوض کوثر کے پاس مجھ سے ملیں گے(2)۔”اس سے واضح ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلہ پر ایک بنیادی اصول کی حیثیت سے بار بار تا کید فر ما ئی ہے اور اس قطعی حقیقت کو بیان کر نے کے لئے کو ئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ہے تا کہ اسے کبھی فرا موش نہ کیا جائے۔
حدیث ثقلین کا مفہومیہاں پر چند نکات قابل توجہ ہیں:۱۔قرآن اور عترت (اہل بیت) کو پیغمبر اسلام کی طرف سے دو “خلیفہ ” یا دو گرانقدر چیزوں کے عنوان سے پیش کر نا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مسلمانوں کو ہر گز ان دوچیزوں کا دامن نہیں چھوڑ نا چاہئے ،بالخصوص اس قید وشرط کے ساتھ جو بہت سی روایتوں میں مذکور ہے :” اگر ان دو چیزوں کا دامن نہ چھوڑو گے تو ہر گز گمراہ نہ ہو گے “اس سے یہ حقیقت تا کید اً ثابت ہو تی ہے۔۲۔قرآن مجید کا عترت کے ساتھ اور عترت کا قرآن مجید کے ساتھ قرار پانا اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح قرآن مجید ہر قسم کے انحراف اور خطا سے محفوظ ہے،اسی طرح عترت اور اہل بیت پیغمبر بھی مرتبہ عصمت کے مالک ہیں۔۳۔ان بعض روایتوں میں پیغمبر اسلام نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت سے۱۔ الصواعق المحرقہ،ص ۷۵فر مایا ہے :میں قیامت کے دن تم سے ان دو یاد گاروں کے ساتھ کئے گئے تمھارے برتا ؤ کے بارے میں باز پرس کرونگا تاکہ دیکھ لو کہ تمھارا ان کے ساتھ کیسا سلوک رہا ہے؟۴۔بلاشک شبہہ،ہم “عترت واہل بیت”کی جس طرح بھی تفسیر وتوضیح کریں،حضرت علی (ع) ان کے نمایاں ترین مصداق ہیں ۔اور متعدد روایات کے مطابق آپ(ع) کبھی قرآن مجید سے جدا نہیں ہوئے ہیں اور قرآن مجید بھی آپ(ع) سے جدا نہیں ہوا ہے۔اس کے علاوہ متعدد روایتوں میں آیا ہے کہ آیہ “مباہلہ” کے نازل ہو نے کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی،فاطمہ حسن اور حسین (علیہم السلام) کو پکار کر فر مایا: “یہ میرے اہل بیت ہیں۔”(3)۵۔اگر چہ اس دنیا کی چار دیواری میں مقیّد ہم لوگوں کے لئے قیامت سے متعلق مسائل پوری طرح واضح نہیں ہیں ،لیکن جیسا کہ روایتوں سے معلوم ہو تا ہے “حوض کوثر”سے مراد بہشت میں موجود ایک خاص نہر ہے جس کے بہت سے خصوصیات ہیں، اور یہ نہر سچے مومنین ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے ائمہ اہل بیت(ع) اور ان کے مکتب کے پیروؤں کے لئے مخصوص ہے۔یہاں تک کی گئی ہماری گفتگو سے واضح ہو تا ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کے رہبر و قائد حضرت علی علیہ السلام ہیں اور آپ(ع) کے بعد آپ ہی کی نسل سے گیارہ ائمہ ہیں۔
حدیث سفینہاہل سنت اور شیعوں کی کتا بوں میں جو دلکش تعبیریں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسے نقل ہو ئی ہےں،ان میں سے ایک مشہور حدیث “سفینہ نوح”ہے۔اس حدیث کے راوی حضرت ابو ذر فر ماتے ہیں کہ پیغمبر نے یوں فر مایا:”اٴلا إن ّمثل اھل بیتی فیکم مثل سفینة نوح من رکبھا نجی ومن تخلف عنھا غرق””میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح جیسی ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا اور جو اس سے جدا ہوا وہ غرق (ہلاک) ہو گیا۔”(مستدرک حاکم ،ج۳،ص۱۵۱)یہ مشہور حدیث بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام اور اہل بیت پیغمبر کی پیروی و اطاعت کو ضروری اور لازم قرار دیتی ہے۔چونکہ ایسی عظیم اور عالمگیر طوفان کے وقت صرف حضرت نوح کی کشتی نجات کا ذریعہ تھی ،اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی رحلت کے بعد امت مسلمہ میں رونما ہو نے والے گمراہی کے طوفان میں راہ نجات صرف ولایت اہل بیت سے تمسک رکھنا تھا اور ہے۔__________________۱۔سیرہ حلی ج۳۳،ص۳۰۸۔2۔المراجعات،ص ۴۲۔3۔مشکوة المصابیح ،ص۵۶۸(طبع دہلی)ریاض المنضرہ ،ج۲،ص۲۴۸(بحوالہ مسلم و تر مذی)۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.