دعا کے شرائط

647

دعا کے شرائط بغیر کسی تفسیر ووضاحت کے اس طرح ھیں:طھارت جیسے وضو، غسل اور تیمم ، حق الناس کی ادائیگی، اخلاص، دعا کو صحیح طریقہ سے پڑھنا، حلال روزی، صلہٴ رحم، دعا سے پھلے صدقہ دینا، خدا کی اطاعت کرنا، گناھوں سے پرھیز، اپنے عمل کی اصلاح، سحر کے وقت دعا، نماز وتر میں، فجر صادق کے وقت، طلوع آفتاب کے وقت اللہ سے گڑگڑا کر اپنی حاجت پوری ھونے کی دعا کرنا، بدھ کے روز ظھر وعصر کی نماز کے درمیان دعا کرنا دعاسے پھلے صلوات پڑھنا۔[27]
شب جمعہاھل بیت عصمت وطھارت علیھم السلام کی روایات میں شب جمعہ کو دعاکابہترین اور مناسب وقت قرار دیا گیا ھے، اور شب جمعہ کو عظمت کے لحاظ سے شب قدر کی طرح قرار دیا گیا ھے۔بزرگ علماء کرام، اھل بصیرت اوراولیاء اللہ کہتے ھیں:اگر ھوسکے تم لوگ شب جمعہ کو دعا،ذکراور استغفار میںبسر کرو اور اس کے انجام سے غفلت نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنین پر رحم وکرم کرتے ھوئے اعمال کے اجرمیں اضافہ کے لئے فرشتوں کو آسمان اول پر بھیجتا ھے تاکہ تمھاری نیکیوں میں اضافہ کریں اور تمھارے گناھوں کو مٹادیں۔ایک معتبر حدیث میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ھوا ھے:ھوسکتا ھے کہ کوئی مومن کسی چیز کے لئے دعا کرے، اور خداوندعالم اس کی حاجت پوری کرنے میں دیر کرے، یھاں تک کہ جمعہ کا روز آجائے اور اس دن اس کی حاجت پوری کی جائے۔[28]اسی طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ھوا ھے کہ جس وقت برادران یوسف(ع) نے اپنے باپ سے یہ درخواست کی کہ وہ خدا کی بارگاہ میں ان کے گناھوں کی بخشش کی دعا فرمائیں توجناب یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: میں عنقریب تم لوگوںکی مغفرت کے لئے خداوندعالم سے استغفار کروں گا، اور اس دعا اور طلب مغفرت کو شب جمعہ کی سحر تک روکے رکھا تاکہ ان کی دعا (شب جمعہ کی سحر میں) قبول ھوجائے[29]حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:خداوندعالم ھر شب جمعہ اپنے فرشتوں کوحکم دیتا ھے کہ اے فرشتو! اپنے رب اعلیٰ کی طرف سے شب جمعہ کی ابتداء سے آخر تک یہ آواز دیتے رھو کہ کیا کوئی ایسا مومن بندہ ھے جو طلوع فجر سے پھلے پھلے دنیا وآخرت کی حاجت کے لئے اپنے پروردگار کوپکارے، تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کیا کوئی ایسا مومن بندہ ھے جو طلوع فجر سے پھلے پھلے اپنے گناھوں کی توبہ کرے تاکہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کیا کوئی ایسا مومن بندہ ھے جس کی روزی میں نے کم کردی ھواور وہ مجھ سے روزی زیادہ کراناچاہتا ھو تاکہ میں طلوع فجر سے پھلے پھلے اس کی روزی زیادہ کردوں؟ تاکہ اس کی روزی میں وسعت کردوں۔کیا کوئی مومن مریض ھے اور طلوع صبح سے پھلے پھلے مجھ سے صحت وسلامتی چاہتاھے تاکہ میں اس کو شفا اور عافیت عطا کردوں؟کیا کوئی بندہ مومن غمگین اور قیدی ھے،اوروہ طلوع صبح سے پھلے پھلے مجھ سے زندان سے رھائی چاھے تاکہ میں اس کی دعا کو مستجاب کرلوں؟ کیا کوئی مظلوم مومن بندہ ھے جو طلوع صبح سے پھلے پھلے مجھ سے ظالم سے چھٹکارہ پانے کی درخواست کرے کہ میں ظالم سے بدلہ لوں اور اس کا حق اس کو دلوادوں؟ چنانچہ فرشتہ صبح تک اس طرح کی آواز لگاتا رہتا ھے۔[30]حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ھیں:شب جمعہ گناھوں سے پرھیز کرو کیونکہ اس شب میں گناھوں کی سزا کئی گُنا ھوجاتی ھے، جیسا کہ نیکیوں کا ثواب بھی چند برابر ھوتا ھے، اور جو شخص شب جمعہ میں معصیت خدا کو ترک کرے خداوند عالم اس کے گزشتہ گناھوں کو اس شب کی برکت سے معاف کردیتا ھے، اور اگر کوئی شخص شب جمعہ علی الاعلان گناہ کا مرتکب ھو تو خداوندعالم اس کی عمر کے برابر اس کوعذاب میں مبتلا کردیتا ھے، اور شب جمعہ علی الاعلان گناہ کرنے کا عذاب اس وجہ سے چند برابر ھوجاتا ھے کیونکہ اس نے “شب جمعہ کی حرمت” کو پامال کیا ھے۔[31]قارئین کرام ! شب جمعہ کے لئے بہت سی دعائیں ، ذکر اور ورد بیان ھوئے ھیں جن میں سے دعاء کمیل خاص اھمیت کی حامل ھے۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.