قبوليت دعاکی دو جزائيں
بيش قيمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدا وند عالم بنفس نفيس بندہ کی دعا کا جواب دے تو اس کا مطلب خدا وند عالم کا اپنے بندہ کی دعا قبول کرنا ہی ہے کيونکہ جتنی مرتبہ بهی خداوند عالم قبول کرے گا اتنی ہی مرتبہ گویا بندہ کی طرف توجہ کرے گا ۔دنيا کی ہر چيزکی قيمت اور حد ہوتی ہے ليکن خداوند قدوس کا اپنے بندہ کی طرف متوجہ ہونے کے لئے نہ کوئی حساب ہے اور نہ کو ئی حدہے۔ ليکن جب بندہ پر خدا کی خاص عنایت ہوتی ہے تو اس وقت بندہ کی سعادت کی کوئی حد نہيں ہوتی اور اس سعادت سے بلندکوئی اور سعادت نہيں ہوتی جس کو اللهاپنے بندوں ميں سے بعض بندوں سے مخصوص کردیتاہے اور اسکی دعا قبول کرکے یہ نشاندہی کراتا ہے کہ جس چيز کا بندہ نے خدا سے سوال کيا ہے وہ کتنی قيمتی اور اہم ہے۔حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے منقول ہے :”لقد دعوت اللّٰہ مرة فاٴستجاب،ونسيت الحاجة،لاٴنّ استجابتہ بإقبالہ علیٰ عبدہ عند دعوتہ اعظم واجل مما یرید منہ العبد،ولوکانت الجنة ونعيمهاالاٴبد ولکن ( لایعقل ذلک الّاالعالمون،المحبون،العابدون،العارفون، صفوة اللّٰہ وخاصتہ” ( ١ “ميں نے ایک مرتبہ خدا وند عالم سے دعا کی اور اس نے قبول کرلی تو ميں اپنی حا جت ہی کو بهول گيا اس لئے کہ اس کا دعا کی قبوليت کے ذریعہ بندہ کی طرف توجہ کرنا بندہ کی حاجت کے مقابلہ ميں بہت عظيم ہے چا ہے وہ صاحب حا جت اور اس کی ابدی نعمتوں سے متعلق ہی کيو ں نہ ہو ليکن اس بات کو صرف خداوند عالم کے علماء ،محبين ،عابدین ،عرفاء اور اس کے مخصوص بندے ہی سمجه سکتے ہيں “پس دعا اور استجابت دونوں الله اور بندہ کے مابين ایک تعلق ولگاؤ ہے یعنی سب سے افضل و اشرف تعلق ہے۔ اللهاور اسکے بندوں کے درميان اس سے افضل کونسا تعلق ولگاؤ ہوسکتا ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کے حضور ميں اپنی حاجت پيش کرے اللهاس کو قبول کرے اور اس سے مخصوص قراردے۔ اس تعلق کی لذت اور نشوونما اور بندہ پر خداوند عالم کی توفيق وعنایات ميں اسی وقت مزہ ہے جب انسان اپنی مناجات،ذکر اور دعاکو خداسے مخصوص کردےہم(مولف)کہتے ہيں الله سے اس تعلق ولگاؤ کی لذت یہ بندہ پر الله کی عنایت ہے کہ بندہ اس طرح خداوند عالم کی یاد ميںغرق ہوجاتاہے کہ انسان خداکی بارگاہ ميں اپنی حا جتيں پيش کرنے ميں مشغول ہوجاتا ہے ۔ اور کون لذت اس لذت کے مقابل ہوسکتی ہے ؟اور کونسی دولت خداوند عالم کے حضور ميں پيش ہونے،اس سے ملاقات ،مناجات اور اسکا تذکرہ کرنے اور اسکے جلال وجمال ميں منہمک ہونے کے مانند ہوسکتی ہے اور دعاکرنے کےلئے الله کے سامنے کهڑے ہونا یہ خدا کے سامنے حاضر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١)مصباح الشریعة صفحہ / ١۴ ۔ ١۵ ؛بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٣٢٣ ۔ )ہونے اس سے ملاقات ،مناجات اور اسکو یاد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ایک عارف کا کہناہے:الله کے حضور ميں الله کے علاوہ کسی اورسے کوئی سوال کرناالله کے نزد یک بہت برا ہے اور خدا کے علاوہ اس کے جلال اور جمال ميں منہمک ہوجاناہے۔رسول خدا (ص) سے مروی ہے کہ حدیث قدسی ميں آیاہے:( “من شغلہ ذکري عن مساٴلتي اعطيتہ افضل مااعطی السائلين “( ١ جو شخص مجه سے کوئی سوال کرے گاتوميں اس کوسوال سے زیادہ عطاکرونگا “حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے:”وانّ العبد لتکون لہ الحاجة الی اللّٰہ فيبداٴبالثناء علی اللّٰہ والصلاة علی محمد ( وآلہ حتّی ینسیٰ حاجتہ فيقضيهامن غيران یساٴلہ ایاها”( ٢ “اگر بندہ ،خداسے کوئی حاجت رکهتا ہواور وہ خداوند عالم سے اپنی حاجت کی ابتداء اس کی حمدوثنا اور محمد وآل محمد پر صلوات بهيج کر کرے اور اسی دوران وہ اپنی حاجت بهول جائے تو اس سے پہلے کہ وہ خداوند عالم سے حاجت کا سوال کرے وہ اس کی حاجت پوری کردے گا “مناجات محبين ميں حضرت امام زین العابدین عليہ السلام سے مروی ہے : <۔۔۔اِجعَْلنَْامِمَّن هَيَّمتَْ قَلبَْہُ لِاِرَادَتِکَ وَاجتَْبَيتَْہُ لِمُشَاهَدَتِکَ ،وَاَخلَْيتَْ وَجهَْہُ لَکَ ( وَفَرَّغتَْ فُوٴَادَہُ لِحُبِّکَ وَرَغَّبتَْہُ فِيمَْاعِندَْکَ ۔۔۔وَقَطَعتَْ عَنہُْ کُلَّ شَيءٍْ یَقطَْعُہُ عَنکَْ >( ٣ “ہم کو ان ميں سے قر ار دے کہ جن کے دلوں کو اپنی چاہت کے لئے گرویدہ کرليا ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١)بحارالانوار جلد ٩٣ صفحہ ٣٢٣ ۔ )٢)بحارالانوارجلد ٩٣ صفحہ ٣١٢ ۔ )٣)مناجات محبين۔ )اپنے مشاہدے کےلئے انهيںچن ليا ہے اپنی طرف توجہ کی یکسوئی عنایت کی ہے اور اپنی محبت کے لئے ان کے دلوںکو خا لی کر ليا ہے اور اپنے ثواب کے لئے راغب بنا یا ہے ۔۔۔اور ہر اس چيز سے الگ کر دیا ہے جو بندہ کو تجه سے الگ کرسکے ”