دعا کی قبو ليت ميں تاخير یا تبد یلی
رسو ل الله (ص)سے مروی ہے :<مامِن مسلم دعااللّٰہ سبحانہ دعوة ليس فيهاقطيعة رحم ولااثم ،الّااعطاہ اللّٰہ احد یٰ خصال ثلا ثة:امّاان یُعجّل دعوتہ،واماان یوٴخّرلہ،وامّاان یدفع عنہ من السوء مثلها ( >قالوا:یارسول اللّٰہ ،اذن نُکثِر۔قال:”اکثروا “۔( ١”جو مسلمان بهی خداوندعالم سے ایسی دعا ما نگتا ہے جس ميں رشتہ داروں سے رابطہ ختم کرنے یا کسی گناہ کا مطالبہ نہيں ہوتا توخداوند عالم اس کو تين صفات ميں سے کو ئی ایک صفت عطا کر دیتا ہے یا اس کی دعا جلد قبول کرليتا ہے یاتا خير سے قبول کرتا ہے یا اس سے کو ئی بلا دور کردیتا ہے لوگوں نے عرض کی یا رسول الله صلی الله عليہ وآلہ وسلم پهر تو ہم بہت زیادہ دعا کریں گے ۔آپ نے فرمایا :ہاں بہت زیادہ دعاکياکرو۔رسول خدا صلی الله عليہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ١)وسا ئل الشيعہ جلد ۴ صفحہ ١٠٨۶ حدیث ٨۶١٧ ۔ )
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الدعاء مخ العبادة،ومامِن موٴمن یدعواللّٰہ الّااستجاب لہ،اِمّااٴن یعجّل لہ فی الدنيا،اویوٴجّل لہ فی الآخرة،واماان یُکفّرمن ذنوبہ بقدرمادعا مالم یدع بماٴثم (١)<“دعا عبادت کی روح و جان ہے اور کو ئی ایسا مومن نہيں ہے جسکی دعا اللهقبول نہ کرتا ہو یاتو اس دعا کو دنيا ميں جلدی قبول کر ليتا ہے یا اس کے مستجاب ہو نے ميں آخرت تک تا خير کر دیتا ہے یاجتنی وہ دعا کرتا ہے خدا اس کو اس بندے کے گنا ہو ں کا کفارہ قرار دیتا ہے “حضرت امير المو منين عليہ السلام نے اپنے فر زند امام حسن کو وصيت کر تے ہو ئے فرمایا :< فَلاَیُقَنِّطَنَّکَ اِبطَْاءُ اِجَابَتِہِ فَاِنَّ العَْطِيَّةَ عَل یٰ قَدرِْالنِّيَّةِ وَرُبَمَااُخِّرَت عَنکَْ الِاجَابَةُ لِيَکُونَْ لٰذِکَ اَعظَْمَ لِاَجرِْالسَّائِلِ وَاجزَْلَ لِعَطَاءِ الآمِلَ وَرُبَمَاسَاٴلتَْ الشَّيءَ فَلَاتُوٴتَاہُ وَاُوتِْيَتَ خَيرْاً مِنہُْ عَاجِلاً اَوآْجلاً اوصُْرِفَ عَنکَْ لِمَاهُوَخَيرٌْلَکَ فَلِرُبَّ اَمرٍْقَد طَلَبتَْہُ فِيہِْ هَلَاکُ دِینِْکَ لَواُْوتِْيتَْہُ فَلتَْکُن مَساْٴلتُکَ فِيمَْایَبقْ یٰ لَکَ جَمَالُہُ وَیَنفْ یٰ عَنکَْ وَبَالُہُ وَالمَْالُ لَایَبقْ یٰ لَکَ ( وَلَاتَبقْ یٰ لَہُ> ( ٢”ہاں بعض اوقات قبو ليت ميں دیر ہو تو،اس سے نا اميد نہ ہو اس لئے کہ عطيہ نيت کے مطابق ہو تا ہے اور اکثر قبو ليت ميں اس لئے دیر کی جا تی ہے کہ سا ئل کے اجر ميں اور اضافہ ہو اور اميدوار کو عطيے اور زیادہ مليں اور کبهی یہ بهی ہو تا ہے کہ تم ایک چيز ما نگتے ہو اور وہ حا صل نہيں ہو تی مگر دنيا یا آخرت ميں اس سے بہتر چيز تمهيں مل جا تی ہے یا تمہا رے کسی مفاد کے پيش نظر تمهيں اس سے محروم کردیا جاتا ہے اس لئے کہ تم کبهی ایسی چيزیں بهی طلب کر ليتے ہو کہ اگر تمهيں دیدی جا ئيں ،تو تمہارا دین تباہ ہو جا ئے لہٰذا تمهيں بس وہ چيزیں طلب کرنا چا ہئے جس کا جمال پا ئيدار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
١)وسائل الشيعہ کتاب الصلاة ،ابواب الدعا باب ١۵ ۔جلد ۴ صفحہ ١٠٨۶ حدیث ٨۶١٨ ۔ )٢)نہج البلاغہ قسم الر سائل و الکتب ، الکتاب /ا ٣۔ )
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہو اور جسکا وبال تمہارے سر نہ پڑنے والا ہو رہا دنيا کا مال ،تو یہ نہ تمہارے لئے رہے گا اور نہ تم اس کےلئے رہو گے “ہم ان تينوں روایات کو جمع کر نے کے بعد دعا مستجاب ہو نے کی پانچ حالتوں کا مشاہدہ کرتے ہيں :١۔(عجلت)خدا وند عالم کی بارگاہ ميں بندے کی دعا کا جلدی مستجا ب ہو نا ٢۔(مدت ) جس حا جت کےلئے بندے نے الله سے دعا کی ہے اس کو مستجاب کر نے ميں وقت لگا نا ۔٣۔(عوض)(تبدیلی)دعا کو تبدیل کر کے مستجاب کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کرنے والے سے اس دعا کے بدلہ برا ئيوں کو دور کر تاہے جس کے قبو ل ہو نے ميںفی الحال کو ئی مصلحت نہيںہوتی ہے ۔۴۔جس دعا کو قبول کر نے ميں کو ئی مصلحت نہ ہو الله اس کے بدلے دعا کر نے وا لے کو آخرت ميں بلند در جا ت عطا کر تا ہے ۔امام جعفر صادق عليہ السلام سے مروی ہے 🙁 <والله مصيّردعاء الموٴمنين یوم القيامةلهم عملایزیدهم فی الجنة>( ١”خداوند عالم بروز قيامت مو منين کی دعا کو ان کے حق ميں ایسے عمل ميں بدل دیگا جس سے جنت ميں ان کا مرتبہ بلند ہو تا رہے گا ” دوسری حدیث ميں امام محمد باقر عليہ السلام فر ما تے ہيں : <واللّٰہ مااخّراللّٰہ عزّوجلّ عن الموٴمنين مایطلبون من هٰذہ الدنياخيرلهم ( عمَّاعجّل لهم منها >( ٢۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٠٨۶ ا،حدیث/ ۵ا ٨۶ ۔ / ١)وسا ئل الشيعہ جلد ۴ )٢)قرب الاسناد صفحہ ١٧١ ۔اصول کا فی صفحہ ۵٢۶ ۔ )
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
“خدا کی قسم مو منين جو کچه اس دنيا ميں خدا سے طلب کر تے ہيں اُس ميں اِس دنيا ميں عطا کر دینے سے ان کےلئے تا خير کر نا بہتر ہے” ۵۔(تبدیل)جب دعا کو قبول کرنا بندے کی مصلحت کے خلاف ہو تا ہے تو خدا وند عالم اس کی دعا مستجاب کر تے وقت اس کی دعا کو اس کے گنا ہوں اور برا ( ئيوں کا کفارہ قرار دیتا ہے۔ ( ١اور کبهی کبهی ان کو تبد یل نہ کر نا اور مدّت معين کر نا دو حا لتو ںميں دعا مستجاب ہو نے ميں وقت در کار ہو نا اور اس کو معين قر ار دینے کے وقت دعا کر نے والے کی مصلحت کےلئے ہو تا ہے ۔کبهی کبهی یہ نظا م کی مصلحت کےلئے ہو تا ہے جو سا ئل اوردو سر ے افر اد کو بهی شا مل ہو تا ہے دعا مستجا ب ہو نے یاجلدی دعا مستجا ب ہو جا نے سے نظا م ميں خلل واقع ہو تا ہے جس کو اللهنے خا ص انسا ن یا عام دنيا کےلئے معين فرمایا ہے ۔جبدعا عمل ميں تبد یل ہو جاتی ہےدعا اور عمل دونو ں الگ الگ مقولہ ہيں اور ان ميں سے ہر ایک رحمت کے نا زل ہو نے کا سبب ہے بيشک عمل سے الله کی رحمت اسی طرح نا زل ہو تی ہے جس طرح دعا سے الله کی رحمت نازل ہو تی ہے خد اوند عا لم فر ما تا ہے : ( <وَقُل اعمَْلُواْ فَسَيَریَ اللهُعَمَلَکُم وَرَسُولُْہُ >( ٢”اور پيغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کو الله ، رسول اور صاحبان ایمان دیکه رہے ہيں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١)ان پانچوں باتوں ميں سے آخری تين با تيں صرف بندے کی دعا کو ملغیٰ قرار دینے سے ) مخصوص ہيں خدا وند عالم اپنے بندے کی دعا قبو ل کر نے کے ساته ساته اس کی دعا کو اس کے گنا ہوںکا کفا رہ قرار دتيا ہے اس سے برائيا ں دور کر دتيا ہے اور آخرت ميں بلند درجات عطا کر تا ہے ۔٢)۔سور ئہ تو بہ آیت ١٠۵ ۔ )
ـــــــــــــــــــــــــــــ
( <فَمَن یَّعمَْل مِثقَْالَ ذَرَّةٍ خَيرْاً یَرَہُ >( ١”پهر جس شخص نے ذرہ برابر نيکی کی ہے وہ اسے دیکهے گا ” ( اسی طر ح دعا رحمت کی کنجی ہے: <اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ >( ٢ليکن ایسا نہيں ہے کہ انسان جوکچه سوال کرے وہ اِس دنياکے عام نظام ميں ممکن بهی ہو،بلکہ کبهی کبهی انسان الله سے ایسی دعاکرتاہے جواس دنياکے عام نظام (قضا و قدر )ميں ممکن نہيں ہوتی لہٰذا اس کی دعا مستجاب نہيں ہو تی۔کبهی کبهی دعا کے مستجاب ہو نے یا دعا کے جلدی مستجاب ہو نے ميں صاحب دعا کےلئے کو ئی مصلحت نہيں ہو تی ، تو انسان دعاميں اتنی جد وجہدو کو شش کيوںکر تا ہے ؟جواب : بيشک دعا بذات خو دعمل اور عبا دت ميں تبدیل ہوجاتی ہے جس سے الله کی رحمت نا زل ہو تی ہے ۔لہٰذا (قضا و قدر )مصلحت دعا کے موانع ميں سے نہيں ہيں ۔ بيشک الله تبارک و تعالیٰ اگرچہ اپنے بندے کی دعا قبول نہيں کر تا ہے بلکہ بندے کی دعا تو خود اسی کے عمل اور عبادت پر مو قوف ہے اور اسی کے مطابق اس کو دنيا اور آخرت ميں جزایا سزا دی جا ئيگی ۔اسلامی رو ایات ميں اس دقيق معنی کی طرف اشارہ کيا گيا ہے کہ دعا عمل ميں تبدیل ہو جاتی ہے۔حما د بن عيسیٰ نے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل کيا ہے : ( <سمعتہ یقول:ادع،ولاتقل قدفرغ من الامر( ٣)فان الدعاء هوالعبادة >( ۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔١)سور ئہ الزلزلہ آیت/ ٧۔( ٢)سورئہ مومن آیت ۶٠ ۔ )٣)یعنی یہ امر خداوند عالم کے قضاء وقدر ميں ہے جس سے تجا وز کرنا ممکن نہيں ہے اور ) دعا کے ذریعہ اس کو تبدیل نہيں کيا جا سکتاہے “( ۴)وسائل الشيعہ صفحہ ٩٢ ۔حدیث ٨۶۴٣ ، اصول کافی صفحہ ۵١۶ )
ــــــــــــــــــــــــ
ميں نے آپ کو یہ فرما تے سنا ہے : دعا کرو اور یہ نہ کہو کہ خدا کا حکم تمام ہو گيا ہے بيشک دعا عبادت ہے”یعنی یہ امر الله کے قضا و قدر ميں ہے اور دعا کے ذر یعہ اسکو آگے پيچهے کردینا ممکن نہيں ہے ۔اور دو سری حدیث ميں امام جعفرصادق عليہ السلام سے مروی ہے : “ادعہ،ولاتقل قدفرغ من الاٴمر،فانّ الدعاء هوالعبادة انّ اللّٰہ عزّوجلّ یقول:< اِنَّ (٢)<( الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَہَنَّمَ دَاخِرِینْ( ١”خدا کو پکار و یہ نہ کہو کہ خدا کا امر( حکم ) تمام ہو گيا ہے بيشک دعا عبادت ہے خداوند عالم فرماتا ہے :< اِنَّ الَّذِینَْ یَستَْکبِْرُونَْ عَن عِبَادَتِی سَيَدخُْلُونَْ جَہَنَّمَ دَاخِرِینَْ> “اور یقينا جو لوگ ميری عبادت سے اکڑتے ہيں وہ عنقریب ذلت کے ساته جہنم ميں داخل ہوں گے “