ورزش کے سلسلے میں امام خمینیؒ کے بیانات
نوجوانو! اگر تم لوگ معاشرے کے حالات پہ غور وفکر کرو گے تو وہ لوگ جو عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہیں حقیقت میں اسے عیش وعشرت نہیں کہاجاسکتا کیونکہ ان کے ابدان افسردگی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی روحیں مرجائی ہوتی ہیں اگر وہ اپنے خیال میں دو گھنٹے عیش وعشرت میں بسر کرتے ہیں تو بقیہ بائیس گھنٹے انہیں چین وسکوں نہیں ملتا۔ وہ افراد جو خدا دوست ہیں ، خدا کی جانب ان کی توجہ ہے وہ جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی ورزش انجام دیتے ہیں وہ ایسے افراد ہیں جن میں افسردگی کانام ونشان نہیں ہوتا لہذا ورزش خدا وندمتعال کی ایک ایسی نعمت ہے جسے وہ ہر ایک انسان کو نصیب کرے۔انشاءاللہ۔
اے نوجوانو! جب آپ سبقت کی غرض سے دوسرے ممالک میں جاتے ہیں تو آپ لوگوں کو نمونہ عمل ہونا چاہئے کیونکہ تم لوگوں کا تعلق جمہوری اسلامی سے ہے ۔عصر حاضر میں ہمیں اسلام کو تقویت پہونچانے کی ضرورت ہے اور پوری دنیا میں اسلام پھیلانا ہماری غرض ہے آپ لوگ اسلام کے صدور کا اہم ذریعہ ہیں۔آپ جس ملک میں جاتے ہیں وہاں بہت سے لوگ آپ لوگوں کی زور آزمائی اور تماشے کی غرض سے آتے ہیں لہذا اپنے اعمال ،رفتار اور گردار کے نتیجہ میں ان لوگوں کو عملی طور پر اسلام کی دعوت دو اور جمہوری اسلامی کے لئے نمونہ بن کررہواور امید ہے جمہوری اسلامی آپ لوگوں کے ساتھ دوسرے ممالک میں بھی پھیلے انشاءاللہ۔
تمام اقوام حق اور انسانی اقدار کی خواہاں ہیں
خدا تم سب نوجوانوں کو کامیابی عنایت فرمائے جس طرح تم لوگ ورزش میں سرگرم رہتے ہو اسی طرح اپنی قوم کی ترقی کے لئے بھی قدم اٹھاؤ کیونکہ تم لوگ معاشرے کے قدرتمند بازو ہو۔۔۔
تمام اقوام حق کی خواہاں اور انسانی اقدار کی طرفدار ہیں لیکن اس سلسلے میں حکومتیں قصور وار ہیں جنہیں انسانی اقدار کے بارے کوئی اطلاع نہیں ہے۔ جب تم لوگ دوسرے ممالک میں جاتے ہو ،دوسری اقوام سے ملتے ہو تو جس طرح تم لوگ اپنی جسمانی قوت کو نمایاں کرتے ہوئے اور ایران کی اہمیت بڑھاتے ہو اسی طرح تم لوگ اپنے اخلاقی، اعمالی اور عقیدتی اقدار سے پوری دنیا کو متأثر کرو اور اپنے ملک میں معاشرے کے خدمتکار بن کر رہو۔
ہمارے معاشرے کو جوانوں اور ان کی سرگرمی کی ضرورت ہے آج اسلام کو آپ نوجوانوں کی ضرورت ہے کیونکہ آپ نوجوان ہی اپنی جسمانی اور روحانی قدرت کے نتیجہ میں اپنے ملک کو مفسدین کے شر سے نجات دلا سکتے ہیں خدا وند متعال تم سب لوگوں کو کامیابی عنایت فرمائے ۔