تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان
خداوند عالم فرماتاہے :(وَاِذْاَخَذَاللَّہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ لَمَآئَ اتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتَٰبٍ وَحِکْمَةٍ ثُمَّ جَائَکُمْ رَسُوْل مُصَدِّق لِمَامَعَکُمْ لِتُؤْمِنُنَّ بِہِ وَلَتَنْصُرُنَّہُ قَالَ ئَ أَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَیٰ ذَٰلِکُمْ أِصْرِیْ قَالُوأَقْرَرْنَاقَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَاْمَعَکُمْ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ۔ فَمَنَّ تَوَلَّیٰ بَعْدَ ذَٰلِکَ فَأُولٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ)(٣)…………..١۔سورئہ روم آیت٣٠ ۔٢۔ سورئہ روم آیت ٤٣۔٣۔سورئہ آل عمران آیت ٨١و٨٢۔”اور جب خدانے تمام انبیاء سے عہدلیا کہ ہم تم کو جو کتاب و حکمت دے رہے ہیں اس کے بعد جب وہ رسول آجائے جو تمھاری کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے تو تم سب اس پر ایمان لے آنا اور اس کی مدد کرنا اور پھر پوچھا کیا تم ان باتوں کا اقرار کرتے ہو اور ہمارے عہد کو قبول کرتے ہو سب نے کہاہم اقرار کرتے ہیں۔ارشاد ہوا:بس تم سب گواہ رہنااورمیں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں ۔اس کے بعد جو انحراف کرے گا وہ فاسقین میں ہوگا”۔یہ دین خدا ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کو عطاکیا گیا اور ان سب سے عہد لیاگیاہے کہ اس سلسلہ کو قبول کریں اور ان کی تصدیق اور تأئیدکریں۔کسی مخصوص نبی کی اتباع کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو سب کو ایک خداکی طرف دعوت دیتارہا ہے اسکے بعد خداوندعالم فرماتاہے:(اَفَغَیْرَدِیْنِ اللَّہِ یَبْغُوْنَ وَلَہُ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمَٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ طَوْعَاًوَکَرْھاًوَ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ)(١)”کیا لوگ دین خدا کے علاوہ کچھ اور تلاش کر رہے ہیں جب کہ زمین ا ور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اپنے اختیار سے یا غیر اختیاری طور پر اسی کی با رگاہ میں سر خم کئے ہو ئے ہیں اور سب کو اسی کی بارگا ہ میں وا پس جا نا ہے ”۔اس آیت کے بعد فرماتاہے :(قُلْ ئَ امَنَّا بِاللَّہِ وَمَااُنْزِلَ عَلَیْنَاوَمَااُنْزِلَ عَلَیٰ اِ بْرَٰھِیْمَ وَاِسْمَٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَالْاَ سْبَاطِ وَمَااُوْتِیَ مُوْسیَٰ وَعِیْسَیٰ وَالنَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّ بِّھِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُوْنَ )(٢)” ان سے کہہ دیجئے کہ ہما را اﷲ پر ،اور اس پرجو ہم پر نا زل ہو ا ہے اور(اسی طرح) جو ابرا ہیم اسما عیل، اسحاق ،یعقو ب اور اسباط پر نا زل ہو ا ہے اور جو مو سیٰ اور عیسیٰ اور انبیاء کو خدا کی طرف سے دیا گیا ہے ان سب پر ہمارا ایمان ہے ہم انکے درمیان کوئی تفر یق نہیں رکھتے اور ہم سب خدا کے اطا عت گذاربند ے ہیں ”۔اور اسکے بعد خداوندعالم فرماتا ہے :(وَمَنْ یَبْتَغِ غیْرَالْاِسْلَامِ دِیْناً فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَفِیْ الْأَخِرَةِ مِنَ الْخَٰسِرِیْنَ)َ(٣)”اور جو اسلا م کے علا وہ کو ئی بھی دین اختیار کر ے گا وہ دین اس سے قبو ل نہ کیا جا ئیگا اور وہ قیا مت کے دن خسا رہ اٹھا نے والو ں میں ہو گا ”۔دوسری آیتوںسے بھی ادیان اور انبیاء علیہم السلام کی ایک دوسرے سے وابستگی کا پتہ چلتا ہے ایک جگہ خدا…………..١۔ سورئہ آل عمران آیت٨٣۔٢۔سورۂ آل عمران آیت٨٤۔٣۔سورئہ آل عمران آیت٨٥۔فرماتاہے :(شَرَعَ لَکُم مِنَ الدِّ یْنَِ مَاوَصَّیٰ بِہِ نُوْحاًوَّالَّذِ یْ اَوْحَیْنَآاِلَیْکَ وَمَاوَصَّیْنَابِہِ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسَیٰ وَعِیْسَیٰ اَنْ اَقِیْمُوْاالدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْافِیْہِ کَبُرَعَلَیٰ الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ اللَّہُ یَجْتَبِیْ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَائُ وَیَھْدِیْ اِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْبُ۔وَمَاتَفَرَّقُوْا اِلَّامِنْ بَعْدِ مَاجَا ئَھُمُ الْعِلْمُ بَغْیاًبَیْنَھُمْ ۔۔۔)(١)” اس نے آپ کے لئے وہ آئین بنا یاہے جس کی نو ح کو نصیحت کی تھی اور جس کی (اے نبی) آپ کی طرف وحی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیم ، مو سیٰ اور عیسیٰ کو بھی کی ہے کہ دین کو قا ئم کریں اور اس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے پا ئے مشر کین کو وہ بات گراں گذر تی ہے جس کی آپ انھیں دعوت دے رہیںاﷲ جس کو چا ہتا ہے اپنی رسالت کے لئے چُن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجو ع کر تا ہے اس کی اپنی طرف ہدا یت کر دیتا ہے اور لو گو ں نے آپس میں تفر قہ نہیں کیا مگر یہ کہ جب ان کو علم و دانش ہاتھ آگیااور ایک دوسرے پر تسلط مل گیا”۔اوراس کے بعد آخر میں خداوندعالم ارشاد فرماتاہے :(۔۔۔وَقُلْ ئَ امَنْتُ بِمَآاَنْزَلَ اللَّہُ مِنْ کِتَٰبٍ )(٢)”اور کہہ دیجئے کہ میرا ایمان ہر اس کتاب پر ہے جو خدا نے نا زل کی ہے ”۔یعنی الٰہی کتابوںاور وحی کے مطالب میں کوئی تعارض اور ٹکراؤنہیں ہے سب ایک ہی راہ کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایک ہی چیز کی دعوت دیتے ہیں اور تمام لوگوں کو انھیں قبول کرنا چاہئے۔خداوندعالم، متّقین کی تعریف کر تے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :(وَالَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِمَآاُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ۔۔۔)(٣)”وہ لوگ ان تمام با توں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو (اے رسول ) آپ پر نا زل ہوئی ہیں اور جو آپ سے پہلے نا زل کی گئی ہیں ” ۔ایک اور آیت میں فرماتاہے :(قُوْلُوْائَ امَنَّابِاللَّہِ وَمَآاُنْزِلَ اِلَیْنَاوَمَآاُنْزِلَ اِلَیٰ اِبْرَٰھِیْمَ وَاِسْمَٰعِیْلَ وَ اِسْحَٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَااُوْتِیَ مُوْسَیٰ وَعِیْسَیٰ وَمآاُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّ بِّھِمْ لَاْنُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہُ…………..١۔ سورئہ شوریٰ آیت۔٣ا۔١٤۔٢۔سور ئہ شوریٰ آیت ١٥۔٣۔سورئہ بقرہ آیت٤۔مُسْلِمُوْنَ۔فَاِنْ ئَ امَنُوْابِمِثْلِ مَآئَ امَنْتُمْ بِہِ فَقَدِاھْتَدَوْاوَاِنْ تَوَلَّوْافَاِنَّمَاھُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللَّہُ وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ)(١)”اور (مسلمانو) تم ان سے کہو کہ ہم اﷲ پر اور جو اس نے ہما ری طرف بھیجا ہے اور جو ابر ا ہیم ، اسما عیل ، اسحٰق ، یعقوب ،اولادِ یعقوب کی طرف نا زل کیا ہے اور جو مو سیٰ ،عیسیٰ اور انبیاء کو پر ور دگار کی طرف سے دیا گیا ہے ان سب پر ایمان لے آئے ہیں ہم پیغمبروں میں تفریق نہیں کر تے اور ہم سب خدا کے سچے مسلمان ہیں ۔اب اگر یہ لوگ بھی ان سب پر تمہاری طرح ایمان لے آئیں تو ہدایت یا فتہ ہو جا ئیں گے لیکن اگر منھ مو ڑلیں تو یہ صرف تمہاری ہی مخالفت ہے پس اُ ن کے خلاف تمہا رے لئے خدا کا فی ہے وہ بڑا سننے والا بھی ہے اور جا ننے والا بھی ”۔(اٰ مَنَ الرَّ سُوْلُ بِمَااُنْزِلَ اِلَیْہِ مِنْ رَّبِّہِ وَالْمُوْ مِنُوْنَ کُلّ اٰمَنَ بِاﷲِ وَمَلٰئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ ۔۔۔)”رسول خود بھی ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتا ہے جوکچھ اُن پر ان کے پر ور دگا رکی طرف سے نا زل کیا گیا ہے ا ورتمام مو منین بھی اﷲ،اس کے ملا ئکہ اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں ” ۔(یَاَاَیُّھَاالَّذِیْن ئَ امَنُوْا ئَ امِنُوْا بِاللَّہِ وَرَسُوْلِہِ وَالْکِتَٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلَیٰ رَسُوْلِہِ وَالْکِتَٰبِ الَّذِیْ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۔۔۔)(٢)”اے ایمان وا لو خدا اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (محمد )پر نا زل کی ہے اور اس کتا ب پر جو اس نے پہلے نا زل کی ہے ایمان لا ؤ”۔بنابرین، جولوگ اس طرح کا ایمان نہیں رکھتے اور مطلق طور پر کسی قید وشرط کے بغیر خدا کے سا منے تسلیم نہیں ہوسکتے ان کا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا ۔ہم نے اس سے پہلے توحیدکی بحث میں کہاتھا کہ ایک خدا پرست مومن کے لئے اس بات پر ایمان ضروری ہے کہ پوری کا ئنات کا خالق ایک ہی ہے (خالقیت میں توحید )اور وہی پوری کا ئنات کے تخلیقی نظام اور شرعی نظام کا پرور دگار بھی ہے (ربوبیت میں توحید )؛اب اگر کوئی توحید خا لقیت پر ایمان رکھتا ہو اور ربوبیت میں توحید کا انکار کرے تو گو یا وہ اصل توحید کا ہی منکر ہے ۔ مو من کا ان دونوں پر ایمان ضروری ہے اور تجزیہ کریں تو اسی حقیقت کا پتہ چلے گا توحید ،خدا کے سا منے خود کو تسلیم کر دینے کا نام ہے ”ایمان با للہ ”کی تو ضیح کریںتو یہ تمام مطالب…………..١۔سورئہ بقرہ آیت ١٣٦و١٣٧۔٢۔سورئہ نساء آیت ١٣٦۔سا منے آتے ہیں ورنہ ہم نے عرض کیا تھا کہ شیطان خدا پر ایمان کے با وجود تمام کفار و مشرکین سے بد تر تھا کیوں اس کا ایمان مطلق نہیں تھا ایسا نہیں ہے کہ ایمان کے متعلقات ایمان کے مدارج طے کر تے ہوں یعنی جو خدا کی خالقیت مانتا ہو اس نے ایک حد تک سعادت پا لی ہو جی نہیں ،وہ ایمان کے کسی درجہ پر نہیں ہے اس کا ایمان زیرو ہے خدا وند عالم ارشا د فر ماتا ہے :(اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُ وْنَ بِاﷲِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْابَیْنَ اﷲِ وَرُسُلِہِ وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ)(١)”بیشک کچھ لوگ ہیں جو اﷲ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور خدا اور رسول کے درمیان جدا ئی ڈالنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لائیں گے اور بعض کو نہیںما نیں گے ”۔(وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَتَّخِذُوا بَیْنَ ذَٰلِکَ سَبِیْلاً )(٢)”اور وہ چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے درمیان، کوئی نیا راستہ نکال لیں”۔(أُولَٰئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ حَقًّاوَاَعْتَدْنَالِلْکَافِرِیْنَ عَذَ اباًمُھِیْناً)(٣)”اس طرح کے لوگ در حقیقت کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے بڑا رسوا کرنے والا عذاب تیار کررکھاہے ”۔(وَالَّذینَ ئَ امَنُوابِاﷲِ وَرُسُلِہِ وَلَمْ یُفَرِّقُوا بَیْنَ اَحَدٍ مِنْہُمْ أُولَٰئِکَ سَوْفَ یُؤتِیْہِمْ اُجُوْرَھُمْ وَکَانَ اﷲُ غَفُورَاًرَحِیْماً)(٤)”اور جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں اوراس کے رسولوں کے درمیان جدائی کے قائل نہیں ہیںخدا عنقریب انھیں ان کا اجر عطا کرے گا اور وہ بہت زیادہ بخشنے والااور مہربانی کرنے والاہے ”۔معلوم ہواجس طرح مقام تو حید میں اُس کے تمام ضروری مراتب کا تسلیم کر نا ،ضروری ہے نبو ت میںبھی جو کچھ اللہ کی طرف سے نا زل ہو ان سب کا قبو ل کر نا ضروری ہے، اس لئے کہ بعض کا انکار گو یاکل کا انکار ہے اور جن لوگوں نے خدا وند عالم کے تمام احکام کو قبول نہیں کیا خدا وند عالم نے ان کی سر زنش کی ہے :…………..١۔سورئہ نساء آیت١٤٩۔٢۔سورۂ نساء آیت١٥٠۔٣۔سورۂ نساء آیت ١٥١۔٤۔سورۂ نساء آیت ١٥٢۔( قُلْ یَااَھْلَ الْکِتَٰبِ ھَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّااِلَّااَنْ ئَ امَنَّابِاللَّہِ وَمَآاُنْزِلَ اِلَیْنَاوَمَآاُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَاَنَّ اَکْثَرَکُمْ فَٰسِقُوْنَ)(١)”(پیغمبر آپ) کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب کیا تم ہم سے صرف اس بات پر ناراض ہوکہ ہم اﷲاور اس نے جوکچھ ہم پر یا ہم سے پہلے نازل کیا ہے ان سب پر ایمان لائے ہیں اور تمہاری(تو) اکثریت فاسق اور نافرمان ہے”۔قر آن نے اسی پر اکتفاء نہیں کی ہے ،بلکہ جو لوگ دین میں یا اس کی کتا بوں اور رسولوں کے درمیان جدائی کے قائل ہوئے ہیں انہیں مشر کین میں شمار کیاہے :(وَلَاتَکُوْنُوْامِنَ الْمُشْرِکِیْنَ)(٢)”اورخبردار مشرکین میں نہ ہوجانا”۔اس کے بعد تفسیرو تشریح کر تا ہے:(مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوا دِیْنَہُمْ وَکَانُواشِیَعاًکُلُّ حِزْبٍ بِمَالَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ)(٣)”وہ لوگ کہ جنھوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھرہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی میں مست اور مگن ہے”۔یہ بھی ایک قسم کا شرک ہی ہے کہ انسان دین کے بعض احکام کو تو قبول کر تا ہو اور بعض احکام کا انکار کر دے، اس نے بعض احکام کو کس اساس و بنیاد پر ترک کیاہے ؟اگر بعض احکام کو قبول کر نا اللہ کی تشریعی ربوبیت پر ایمان رکھنا ہے تو بعض احکام کا انکار اور ان کی جگہ کسی دو سری چیز کے تسلیم کرنے کا مطلب کسی دو سرے کو معبود تسلیم کر لینا ہے ۔ پس جو لوگ دین میں تفر قہ اندازی کے قائل ہیں وہ گویا حقیقت میں مشرک ہیں ۔(وَ اَنَّ ھَذَاصِرَٰاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاَتَّبِعُوْہُ۔۔۔)(٤)”اور یہ ہمارا سیدھا راستہ ہے اس کا اتباع کرو ۔۔۔”۔…………..١۔سورئہ ما ئدہ آیت٥٩۔٢۔سورئہ روم آیت ٣١۔٣۔سورئہ روم آیت ٣٢۔٤۔سورئہ انعام آیت١٥٣۔ایک دو سرے مقام پر خدا ئے یکتا و یگانہ کی پر ستش کو”سیدھا راستہ”کہا گیا ہے ۔(وَاَنِ اعْبُدُونِیْ ھَذَٰا صِرَٰاط مُسْتَقِیْم)(١)”اور میری ہی عبادت کرنا یہی صراط مستقیم اورسیدھا راستہ ہے ”۔(وَلَا تَّتَبِعُّواالسُبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیِْلِہِ)”اورمختلف راستوں پر نہ چلوکیونکہ اس طرح راہ خداسے بھٹک کر بکھر جاؤ گے”۔(ذَٰلِکُم وَصَّٰکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ)(٢)”اس لئے پروردگار نے ہدایت کی ہے کہ تم اس طرح شاید متقی اور پرہیز گار بن جاؤ”یہا ں سے ہم پر اُس آیت کا مفہوم با لکل واضح ہو جا تا ہے کہ جس میں خد وند عالم فر ماتا ہے:(وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اﷲِ جَمِیْعاً وَلَا تَفَرَّقُوْا۔۔۔)(٣)”اور اﷲکی رسی کو مضبوط پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو ”۔یہاں پر تفر قہ سے مراد اللہ کے دین اور اللہ کی راہ سے تفر قہ کر نا ہے ۔خدا کے راستے سے منحر ف نہ ہونا اس لئے کہ یہ اختلاف اور جدائی کا با عث ہے ۔تمہا ری وحدت اور یکجہتی کاوسیلہ یہی ہے کہ تم سب کے سب خدا کی راہ میں،ایک راستہ اور ایک مقصد کی طرف حر کت کرو ۔دو سرے وسائل تمہا رے متفرق ہو نے کا با عث نہ بنیں۔(اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُواشِیَعاً لَسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْ ئٍ)(٤)”جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے”۔اس بنا پر اسلام کا تقاضا ہے کہ جو کچھ بھی خدا نے بھیجا ہے کسی بھی دور میں کسی بھی نبی پر کیوں نہ بھیجا ہوان کو تسلیم کیا جا ئے ۔یہ بات اس بات کی نشا ندہی کر تی ہے کہ انبیا ء علیہم السلام کی تعلیمات میں کو ئی تنا قض و تضاد نہیں پایا جاتا ، اس لئے کہ اگر ان میں تضاد ہوتا اور ایک کا قبول کر نا دوسرے کے قبول نہ کر نے کا سبب بنتا تو انسان کے لئے ہرایک…………..١۔سورئہ یس آیت٦١۔٢۔سورئہ انعام آیت١٥٣۔٣۔سورئہ آل عمران آیت ١٠٣۔٤۔سورئہ انعام آیت ١٥٩۔کا قبول کر نا ممکن نہیں تھا جب ہم خدا کی نازل کی ہوئی تمام چیزوں کو قبول کر تے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے درمیان کو ئی اختلاف نہیں ہے اگر جزئی احکام میں بعض اختلاف ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکم اُس زمانہ تک معتبر تھا یا کسی خاص شخص اورگروہ کے لئے خدا وند عالم کی طرف سے ایک مخصوص حکم یا دستور آیا تھااور دوسرے افراد بھی ان قوانین کا ان کے لئے صحیح اور بجا ہونا قبول کر تے ہیں ۔ تورات پر ایمان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم اس زمانہ میں بھی تو رات کے حکم پر عمل کر یں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بنی اسرائیل اور اُن کے زمانہ سے مخصوص تھا اور توریت میں بغیر کسی تحریف کے آیا ہے اس کو صحیح اور حق سمجھیں لیکن اس زمانہ میں خدا وند عالم کے قوانین پر عمل کر نے کے متعلق ہم کو یہ دیکھنا چا ہئے کہ اس دور میں خداوندعالم ہم سے کیا چا ہتا ہے ۔پس کسی پیغمبر پر ایمان لاناتمام انبیا ء علیہم السلام پر ایمان رکھنے کا بھی متقاضی ہے ،کیونکہ سب کا ایک ہی راستہ ہے ۔اگر حقیقت میں کو ئی حضرت مو سیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاحضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہے تو اس کو تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لا نا چا ہئے ۔کیا حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے نبی کی لوگوں کو بشارت نہیں دی تھی ؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت محمد ۖکے آنے کی بشارت نہیں دی تھی ؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تو ایمان رکھتا ہو لیکن جس نبی کاخود حضرت عیسیٰ علیہ السلام تعارف کرائیں ان پر ایمان نہ لا ئے یہ انکار،حقیقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعو ت کا انکار ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ جنھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا ہے اور ان کے دین پر عمل کر تے ہیں حقیقت میں وہ مومن ہیں یا یہ کہ وہ جا نتے ہیں کہ یہ پیغمبروہی پیغمبر ہے کہ جس کے آ نے کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی تھی اور ان پر ایمان لا نے کی سفارش کی تھی اور یہ ان کے مومن ہو نے کے لئے کا فی ہے ۔بلکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا اس کی بنیاد پر جو لوگ اس زمانہ میں اپنے کو کسی گزشتہ نبی کا پیروسمجھتے ہیں اگر ان پر حجت تمام ہو گئی ہو اور حضرت محمد خا تم النبیین ۖ کی نبو ت ان کے لئے ثابت ہوتو ان کا خود اپنے نبی پر ایمان لا نا تقاضا کر تا ہے کہ وہ پیغمبر اسلام ۖپر بھی ایمان لا ئیں، آج کے دور میں حضرت مو سیٰ علیہ السلام کاپیرو حقیقی یہو دی وہی ہے جو مسلمان ہو ،اس لئے کہ یہو دیت کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے فر مایا ہے اس کو تسلیم کریں ،حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے فر ما یا تھا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں تو ان کی مدد کرنا اور ان کی دعوت پر لبیک کہنا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایاتھا :(وَ مُبَشِّراً بِرَسُوْ لٍ یَا تِیْ مِنْ بَعْدِیْ اِسْمُہُ اَحْمَد)
پس حقیقی نصرانی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اتباع کر نے والا وہ ہی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد پیغمبر اسلا م ۖکی نبوت کو تسلیم کر تا ہو ۔کو ئی فرق نہیں ہے چا ہے یہودی ہو ،نصرانی ہو یا مسلمان سب کو اسلام اور خدا کے سامنے سر تسلیم خم کر نا ہے۔حقیقی یہو دی وہی ہے جو پیغمبر اسلام ۖ پر ایمان رکھتا ہو ،اور حقیقی مسلمان وہی ہے جو حضرت مو سیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کا اقرار کر تا ہو لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس دور میں جو چا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تابع ہو جا ئے اور جو چا ہے حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا تابع ہو جا ئے ۔حضرت مو سیٰ علیہ السلام کا پیرو وہ ہے جو حقیقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور پیغمبر اسلام ۖ کی نبوت اگر اس کے لئے ثابت ہو گئی ہو تو اس پر ایمان رکھتا ہو ۔ ورنہ اس نے حضرت موسیٰ کی نبوت کے بعض حصہ کو قبول نہیں کیا ہے ،اور جب ایک حصہ کو قبول نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے پوری نبوت ِمو سیٰ علیہ السلام کو تسلیم نہیں کیا ہے ،اس لئے ہم عرض کر چکے ہیں کہ کسی چون و چرا اور کسی قید و شرط کے بغیر قبول کرنا چا ہئے۔اگرایساہو تو پھر کو ئی اختلاف ہی با قی نہیں رہ جاتا ۔ حضرت مو سیٰ پیغمبر ہیں اور جب تک آپ کی نبوت کے لئے کو ئی نا سخ نہ آجا ئے اس وقت تک آ پ کے لا ئے ہو ئے احکام کی اطاعت وا جب ہے۔اگر ہم بھی اس زمانہ میں ہو تے تو تو رات کے قوانین پر عمل کر تے ۔بعد کے زمانہ میں اگر بعض احکام تبدیل ہو چکے ہوں تو جدید احکام پرہی عمل کر نا چاہئے ویسے ہی کہ جیسے خود حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہو کہ اب اس کے بعد اس طرح عمل کرنا ۔پس معلوم ہوا کہ دین ایک ہے اور دین کے کچھ احکام میں جزئی قسم کا اختلاف دین کو دو نہیں کرد یتا ،ہمیشہ سے یہی دین تھا اور ہمیشہ یہی دین رہے گا ۔