قرآن میں تا ریخی مباحث کا محور

211

  ان میں ایک گروہ نے تاریخ کا محور اقتصاد کو قرار دیا ہے جیسے مارکسسٹ حضرات جو تا ریخی حوا دث کا اقتصاد کے محور پر معا شرے کے معا شی حالات کے پس منظر میں جا ئزہ لیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ تاریخ کا اصل پہیّا اقتصاد ہے اور انسانی معا شروں میں جو تغیر و تبدل ہو تے ہیں پیدا وار کے و سائل میں رو نما ہو نے والی تبدیلی کی وجہ سے ہوا کر تے ہیں۔ تجزیا تی تاریخ لکھنے والوں کے بعض دو سرے گروہ اگر چہ دو سرے اسباب و محر کات پر بھی زور دیتے ہیں لیکن انھوں نے زیادہ تر آدمی کے مادی پہلو ؤںاور اس کی دنیا وی اور حیوانی زند گی پر اعتماد کیا ہے۔قرآن مجید کی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے تا ریخ کا محورمعنویت کو قرار دیاہے ۔ قرآن کے تما م مبا حث کے مانند قرآن کی تا ریخی دا ستانوں کا محور بھی” توحید ”ہے۔اور قرآن کر یم کے تاریخی واقعات اسی محور کے ارد گرد گھو متے ہیں۔یہی وجہ ہے قرآن کی تاریخی واقعات کے مر کزی کر دار انبیاء ہیں جن کا معاشرہ میں اثر و رسوخ خدا کی وحدانیت اور یکتا پر ستی کی دعوت کے ساتھ ، خدا کی اطاعت اور دوسرے تمام معنوی امور سے وا بستہ ہے ۔یہ بہت ہی اہم بات ہے جو ہم کو قرآن سے سیکھنا چا ہئے اور ما دہ پر ستوں کے نظریوںکی اتباع کر نے سے پر ہیز کر نا چا ہئے ، کیونکہ انسانوں کی انسانیت اس کے معنوی پہلو ؤںکے گرد گھو متی ہے اور حق یہی ہے کہ انسان اور انسانی معا شرے کی تا ریخ کا انسانی پہلوؤں کے اعتبار سے جا ئزہ لینا چا ہئے ،کیو نکہ اس صورت میں خدا وند عالم کی بندگی سے چا ہیں یانہ چا ہیںبہر حال رابطہ پیدا ہو جاتا ہے۔
قرآ ن مجید میں انبیاء علیہم السلام سے متعلق آیات کی تقسیمقرآن کریم انبیاء علیہم السلام سے متعلق جومطالب بیان ہو ئے ہیں مجمو عی طور پر تین حصوں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں :پہلے حصے میں وہ مطالب ہیںجو خود انبیاء علیہم السلام کے با رے میں ہیں اس سے قطع نظر کہ اُن کا لوگوں کے ساتھ کیا رابطہ رہا ہے ۔دوسرا حصہ عوا م الناس کے ساتھ انبیا ء علیہم السلام کے رابطہ کے سلسلہ میں ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ عوام الناس کاانبیاء کے ساتھ کیا رویّہ رہا ہے اور جواب میں انبیاء علیہم السلام عوام کے ساتھ کس طرح پیش آئے ہیں ۔تیسرے حصہ میں بھی اس میں بھی انبیاء علیہم السلام کی مختلف قوموں کا ذکر ہے اور ان کی زندگانی کے تغیرات اور ان کے انجام کے با رے میں خبر دی گئی ہے ۔یقیناً یہ آخری حصہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت سے غیر مر بوط نہیں کہا جا سکتا اگر چہ اس میں قوموںکے ساتھ انبیاء علیہم السلام کے براہ راست رابطہ کو ملحوظ نظر نہیں رکھا گیا ہے ۔یہ تینوں حصے بھی الگ الگ دو حصوں میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں۔پہلے حصہ کے ایک جز ء میں مختلف انبیاء علیہم السلام میں عام طور پر مشتر ک بنیادی خصوصیات اور حالات بیان کئے گئے ہیں اور دوسرے جزء میں ہر نبی یا رسول کے مخصوص حالات بیان ہو ئے ہیں۔دو سرے حصہ کے بھی دو جزء ہیں ایک میں تمام انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کے ساتھ دوطرفہ مختلف پہلوؤ ں کو بیان کیا گیا ہے اور دو سرے حصہ میں مخصوص انبیاء علیہم السلام کے اپنی مخصوص قوم سے مخصوص رفتا ر کا ذکر کیاگیا ہے۔ تیسرے حصہ کے پہلے باب میں مختلف قومو ں کے عمو می اور بنیادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور دوسرے باب میں قومو ں کے خاص پہلوؤں کا بیان ہے ۔اس میںکوئی شک نہیں کہ مندرجہ بالا چھ قسموں کا تفصیلی جا ئزہ لینا قرآن مجید کی بیشمار آیا ت کے مطالعہ کے بغیرممکن نہیں ہے اور اس طرح کا تفصیلی جا ئزہ موجودہ بحث کے دا ئرے سے باہر ہے اس لئے ہم نے انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کے ایک دو سرے سے بنیادی قسم کے تعلقات کے ذکرپر ہی اکتفا کی ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.