ادیان الٰہی ایک ہیں یا کئی؟
اصولی طور پر تمام ادیان اور آسمانی شریعتیں اس طرح ایک ہی دین میں پروئے ہوئے ہیں کہ ان کو متعدد ادیان شمار نہیں کیا جاسکتا ۔اب ممکن ہے کوئی کہے بہر حال آسمانی ادیان میں کچھ جزئی اختلافات دیکھنے میںآتے ہیں جن کا کسی صورت میں انکار نہیں کیا جاسکتا اور ان اختلافات کو دیکھتے ہوئے آسمانی ادیان کے ایک ہونے کا دعویٰ کس طرح کیا جاسکتا ہے؟ اس کے جواب میں پہلے ادیان کے مابین ایک دوسرے سے اختلاف کی کیفیت کا جا ئزہ لیں اور اسکے بعد یہ دیکھیں کہ کیا یہ اختلافات خدا کے ادیان کی اصل روح میں بھی اختلاف کا باعث ہیں یا نہیں؟در اصل ادیان حق کے مابین جو اختلافات قابل تصوّر ہیں تین حصّوں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں ۔الف :پہلے حصے میں وہ فرق آتے ہیں جو دو ادیان کے احکام کے دائرے میں اختلاف کا نتیجہ ہیں :ممکن ہے ایک دین کی آسمانی کتاب کے احکام و قوانین کا دائرہ دوسرے دین کی آسمانی کتاب کے دائرے سے زیادہ وسیع ہو۔اس صورت میں ہم کو کچھ ایسے احکام نظر آئیںگے جو ایک دین میں تو بیان کئے گئے ہیں لیکن دوسرے دین میں ان کا کوئی نا م و نشان بھی نہیں ہے ۔یہ اختلاف شاید دو امتوں کے درمیان ان کے پیچیدہ قسم کے معاشرتی روابط میں موجود اختلافات کا نتیجہ ہو بعض معاشرے سماجی طور پر سادہ زندگی بسر کیا کرتے تھے اور ان کے افراد کے درمیان معاشرتی روابط میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں تھی ۔ظاہر ہے اس طرح کے معاشرہ میں مخصوص معاشرتی قوانین بنانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی اور پیغمبر کے ذریعے اس طرح کے احکام کا بھیجا جانا بھی بیکار تھا۔ اسکے مقابل کچھ معاشرے بہت ہی پیچیدہ قسم کے معاشرتی امور میں الجھے ہوئے تھے اور یہ حقیقت اس بات کی متقاضی تھی کہ ان کیلئے مخصوص احکام و قوانین بنائے جائیں ۔اس بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ غالباً اس قسم کے اختلاف کی ایک دلیل مختلف امتوں اور معاشروں کا اپنی ساخت کے اعتبار سے مختلف ہونا رہا ہو جو اپنی جگہ خود شریعت اور معاشرتی احکام کے دائرہ میں شریعتوں کے اختلاف کا سبب ہوئے ہوں البتّہ جیسا کہ ہم نے اپنی تحریر میں زور دیا ہے یہ بات صرف احتمال کے طور پر پیش کی گئی ہے جو پہلی قسم کے اختلاف کی دلیل کے عنوان سے ذہن میں آتی ہے۔ب:اختلاف کی دوسری قسم ان امور سے تعلق رکھتی ہے جہاں شرعی حکم کے طورپر ایک دین میں بیان کیا ہوا قانون اور حکم دوسرے دین میں نسخ کردیا گیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ بہت سے امور جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی موسوی شریعت کے زمانہ میں بنی اسرائیل پر حرام تھے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں حلال ہوگئے ۔ دوسرے لفظوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے بعض احکام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آئین و شریعت میں منسوخ کردیئے گئے قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی، جب آپ بنی اسرائیل کے درمیان مبعوث کئے گئے ،فرماتاہے: (۔۔۔ وَلِاُُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ۔۔۔)(١)”۔۔۔اورمیں بعض ان چیزوں کو حلال قرار دوگاں جو تم پر حرام تھیں ۔۔۔”۔اس طرح گذشتہ شریعت کے بعض احکام کا نئی شریعت میں نسخ کردیا جانابھی دو شریعتوں میں ایک قسم کے اختلاف کا باعث بنا ہے ۔ج:اختلاف کی تیسری قسم ایسے مقامات سے تعلق رکھتی ہے جہاں کسی دین میں ایک حکم بنیادی طور پر جس وقت…………..١۔سورئہ آلِ عمران آیت٥٠۔بیا ن کیا گیاہے اسی وقت سے اس کو ایک خاص گروہ یا خاص قوم سے اس طرح مخصوص کردیا گیا ہوکہ حتّیٰ اس حکم میں خود اس قوم کے معاصر دوسرے گروہوں یا قوموں کو شامل نہ کیا گیا ہو۔چنانچہ بنی اسرائیل پر حرام کی جانے والی بعض چیزیں اسی قسم کی تھیں 🙁 فَبِظُلْمٍ مِنْ الَّذِینَ ہَادُواحَرَّمْنَاعَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ ُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اﷲِ کَثِیرًا۔وََخْذِہِمُ الرِّبَاوَقَدْ نُہُواعَنْہُ وََکْلِہِمْ َمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وََعْتَدْنَا لِلْکَافِرِینَ مِنْہُمْ عَذَابًاَلِیمًا )(١)”پس ان یہو دیو ں کے ظلم کی بنا ء پر ہم نے جن پا کیزہ چیزو ں کو حلال کر رکھا تھا ان پر حر ا م کر دیا اور ان کے اکثر لو گو ں کو را ہِ خدا سے رو کنے کی بنا پر اور سود لینے کی بناء پر جس سے انھیں روکا گیا تھا اور ناجائز طریقہ سے لوگوںکا مال کھانے کی بناء پر(حلال چیزیں حرام کر دیں) اور ہم نے کافروں کے لئے بڑا دردناک عذاب مہیا کیا ہے ”۔جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ان آیات میں بظاہر (من الذین ھادوا )سے یہ پتہ چلتاہے کہ بعض حلال امور کا حرام کہا جانامخصوص طور پر بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے درمیان عام طور پر رائج بعض گناہ(جیسے ظلم و ستم کرنا اور سود لینا)اس کا سبب بنے تھے ۔اس بناء پراگر اسی زمانہ یا اس کے بعد والے زمانوں میں کوئی پیغمبر کسی دوسری قوم میں مبعوث کیا جائے گا تو اس کی شریعت میں یہ چیز حرام نہیں ہوگی ۔یہاں یہ بات بیان کردینا ضروری ہے کہ اختلاف کی آخری دو قسموں کے درمیان بہت باریک سا فرق ہے۔دوسری قسم کے اختلافا ت ہمیشہ دو مختلف زمانوں کے لحاظ سے رو نما ہوئے ہیں کیونکہ اس کے ذیل میںبھی وہ مقامات آتے ہیں کہ جہاں ایک حکم کسی مخصوص شریعت میں ایک خاص زمانہ کیلئے بنایاجاتاہے اور کچھ مدت گذرجانے کے بعدوہ حکم دوسری شریعت میں منسوخ ہوجاتاہے لیکن تیسری قسم کا اختلاف ایک زمانہ میں بھی اس طرح واقع ہوسکتا ہے کہ فرض کیجئے دو شریعتیں ایک دوسرے کی معاصرہیں اور ان میں سے ایک شریعت میں ایسا حکم موجود ہے جو کسی ایک قوم سے مخصوص ہے لیکن دوسری شریعت میں (جو دوسری قوم کیلئے نازل ہوئی ہے )وہ حکم نہیں پایا جاتابہر حال یہ جو کچھ میں نے عرض کیا وہ مختلف طریقوں سے ادیان الٰہی کے درمیان ممکنہ یاواقعی اختلاف کی قسمیں ہیں اور اس مقام پر دو نکتوں کی طرف توجہ لازم ہے :…………..١۔سورئہ نساء آیت ١٦٠۔١٦١۔ایک :جیسا کہ غور و فکر سے یہ بات آشکار ہوجاتی ہے کہ مختلف شریعتوں میں بیان شدہ تمام اختلافات مشیّت الٰہی کے تابع ہیں اور ان میں حقیقی مصلحتیں پائی جاتی ہیں جو مختلف قوموں کے درمیان موجود مخصوص حالات اور خصوصیّات کے تحت ہیں۔دوسرے لفظوںمیں یہ اختلافات امتوں پرزبر دستی نہیں لادے گئے تھے اور نہ ہی شارع مقدّس کے دائرہ ارادہ سے خارج تھے ۔دو :ادیان الٰہی کے پیرؤوں کے درمیان کچھ اختلافات ان تحریفات کی وجہ سے وجود میں آئے ہیںجو خود آسمانی شریعتوں کے طرفداروں نے تاریخ کے طویل دور میں انجام دئے ہیں چنانچہ ہم نے اس سے قبل جو تقسیم بندی کی تھی اس میں اس طرح کے اختلافات کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے ۔
دین کے اندر اختلافاتاب یہ دیکھنا چاہیے کہ مندرجہ بالا اختلاف کی تینوں قسمیں کیا ایک ہی دین میں راہ بنا سکتی ہیں الٰہی ادیان میں اختلاف کی پہلی قسم دینی احکام و قوانین کے دائرے میں اختلاف سے تعلق رکھتی ہے اور بظاہر اس طرح کے اختلاف ایک ہی دین میں پایا جاناممکن ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر اکرم ۖ کی بعثت کی ابتداء میں تمام احکام ایک ساتھ نازل ہوئے ہیں بلکہ اسلامی احکام بعثت کے بعد کئی سال کے دور ان پہنچائے گئے ۔ پیغمبر اکرم ابتداء میں محدود دائرے میں کچھ احکام لیکر آئے تھے اور پھر ان احکام میں آہستہ آہستہ قدم بہ قدم وسعت عطا کی ہے ۔اس تاریخی حقیقت کے پیش نظر ممکن ہے کہ ایک دین کے احکام کا دائرہ اس دین کے لا نے والے پیغمبر کی زندگی کے دوران دو مختلف مرحلوں سے گذرے :ایک مرحلہ میں دائرہ احکام محدود ہوا اور دوسرے مرحلہ میں دائرہ احکام وسیع اور پھیلاہوا ہو ۔یہاں پہ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس طرح کا اختلاف ایک دین کو کئی ادیان قرار دینے کا باعث نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے الٰہی ادیان میں اس قسم کے اختلاف کو خدا کے دین میں بنیادی دوئی اور کثرت کی دلیل اور علامت نہیں سمجھناچاہئے ۔دوسرے لفظوں میں جس طرح یہ اختلاف اندرونی طورپر (اسلام جیسے)ایک دین میں ممکن ہے اس طرح کے اختلاف اگر دودین کے اندر ہوں تو اس کو ان کے درمیان کسی بنیادی اختلاف کی دلیل نہیں بنا یا جاسکتا ۔دوسری قسم کے اختلاف میں بھی یہی بات صادق آتی ہے ۔اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ اسلام کے آغاز میںبعض احکام (جیسے قبلہ کا مسئلہ )ایک عنوان سے بیان کیاگیا اور اسکے بعد وہ حکم منسوخ کرکے دوسرا حکم دیدیا گیا اسی طرح سورئہ نور میں اکثر مفسرّین قرآن کے خیال کے مطابق ایک ایسا حکم بیان ہوا ہے جو بعد میں منسوخ کردیا گیا :(اَلزَّانِیْ لَا ینْکِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِکَةً وَالزَّا نِیَةُ لَا یَنْکِحُھَااِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِک وَحُرِّمَ ذَالِکَ عَلَی الْمُوْمِنِیْنَ)( ١)”زانی مرد، زانیہ یا مشرکہ عو رت ہی سے نکا ح کر ے گا اور زانیہ عو رت زانی مرد یا مشرک مرد ہی سے نکا ح کرے گی کہ یہ صا حبانِ ایمان پر حرام ہیں ”۔اکثر مفسروں کے عقیدے کے مطابق مندرجہ بالا آیت سے ایک مسلمان زانی یا زانیہ کا کسی مشرک کے ساتھ شادی کرنا جائز ہے لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیااور موجودہ حکم شرعی کے تحت اس طرح کی شادی صحیح نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی بیان کردینا ضروری ہے کہ عصر حاضر کے بعض بزرگوں نے اس آیت کی ایک دوسرے طریقہ سے تفسیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آیت میں حکم شرعی بیان نہیں ہوا ہے لیکن حق یہی ہے کہ یہ آیت حکم شرعی کے بیان میں ظہور رکھتی ہے یعنی بظاہر اس میں شرعی حکم بیان ہوا ہے ۔بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کے بعض ابتدائی احکام منسوخ بھی ہوئے ہیں ۔اس بناء پر خود ایک شریعت کے اندر نسخ واقع ہونا ایک ممکن امر ہے اور اس شریعت کی وحدت کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا ۔اگر کسی شریعت میں کوئی حکم خدا ایک مدت تک ثابت رہے اور اسکے بعد منسوخ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شریعت ہی بدل گئی ہے ۔اس بناء پر جس طرح ایک دین کے اندر کسی حکم کامنسوخ ہونا کسی شریعت یا دین کے منسوخ ہونے کا باعث نہیں ہوتا اسی طرح کسی پیغمبر کے ذریعہ ایک الٰہی دین کے گذشتہ احکام کا منسوخ کیا جانا ان دونوں شریعتوں میں کسی بنیادی اختلاف کی دلیل نہیں کہاجائے گا۔مثال کے طور پر یہ حقیقت کہ حضرت عیسیٰ کے آنے کے بعد حضرت موسیٰ کی شریعت کے بعض احکام منسوخ ہوگئے بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے مذکورہ احکام خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور حیات میں منسوخ ہوگئے ہوں اور ان دونوں مفروضوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ہے مختصر یہ کہ دو شریعتوں میںاختلاف کی یہ دوسری قسم بھی (پہلی قسم کی طرح)بنیادی طورپر کئی ادیان ہونے کا باعث نہیں ہے ۔اب اختلاف کی تیسری قسم کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟کیا اختلاف کی یہ قسم بھی کسی دین کے اندر واقع ہوئی ہے ؟ اسکے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بہ ظاہر اس طرح کا اختلاف ایک دین کے اندر ممکن ہے اور اس میں کوئی عقلی قباحت نہیں ہے یعنی ممکن ہے ایک شریعت کے بعض احکام کسی مخصوص گروہ سے تعلق رکھتے ہوں اور بقیہ تمام احکام عام ہوں۔بیان شدہ مطالب سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مختلف ادیان الٰہی کے درمیان موجود اختلافات کو ایک ہی دین میں…………..١۔سورئہ نور آیت٣۔اس کے مشابہ اختلافات کے وقوع یا امکان وقوع کی بنیاد پر ان کی ذات میں جدائی کا باعث نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ اس اساس و بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ حقیقی دین ایک ہی ہے اوروہ اسلام کے علاوہ کچھ نہیں ہے لیکن زمانے کے تقاضوں کے اعتبار سے ان کے احکام کے دائرے اور ان پر عمل کرنے والوں کے لحاظ سے تبدیلی ہوئی ہے ۔اس بناء پر تمام ادیان الٰہی کی اساس و بنیاد ایک ہے اگر چہ زیر بحث اختلافات کی موجود گی کے تحت ایک طرح سے ادیان الٰہی کا کئی یاالگ الگ دین ہونا نظر میں رکھا جاسکتا ہے اس سے زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ حقیقت دین ایک ہی ہے اور یہ حقیقت واحدہ وہی اسلام (اپنے معنائے عام میں )ہے:(اِنَّ الدِیْنَ عِنْدَاﷲِالِاسْلَامُُ) لیکن تاریخ کے طویل دور میں زمانہ کے تقاضوں کے لحاظ سے مختلف شریعتیں انسانوں کے درمیان نازل ہوئی ہیں۔اس بناء پر دین الٰہی کا ایک ہونا شریعتوں کے کئی ہونے کے ساتھ بالکل سازگار ہے۔