انبیاء علیہم السلام کی امتیں

236

ایک تو یہ کہ مختلف امتو ں سے متعلق آیات کو تفصیل کے ساتھ الگ الگ رکھ کر تحقیق کی جا ئے اور پھر آیات کی تقسیم بندی اور تحقیقی جا ئزے کے بعد ان سے حا صل ہو نے وا لے نتیجو ں کا جا ئزہ لیا جا ئے ۔ تحقیق کا یہ طریقہ طویل گفتگو کا طا لب ہے اور اس مقام پر اس کی گنجا ئش نہیں ہے ۔دوسرا طریقہ جس کو ہم نے اپنا یا ہے یہ ہے کہ پہلے تو تمام امتو ں کے ما بین بعض مجمو عی اور مشترک موضوعات کو پیش نظر رکھا جا ئے اور پھر قر آ ن کریم کی آیات کی بنیاد پر ان کا جا ئزہ لیا جا ئے ۔انبیاء علیہم السلام کی امتوں کے با رے میں قر آ ن کریم سے ایک تو اس نکتہ کا پتہ چلتا ہے کہ ان تمام قو موں میں ہر ایک نے اپنے پیغمبر کے ساتھ کسی نہ کسی طرح مخا لف مو قف اپنایا اور ان کا مقا بلہ کر نے کے لئے اٹھ کھڑ ے ہو ئے ہیں بعض آیات اس بات کی شہا دت دیتی ہیں کہ تمام الٰہی انبیاء کو ان کی امتو ں نے جھٹلایا ہے ۔ اس تا ریخی حقیقت کو دیکھ کر جس کی قر آن کریم نے تا ئید فر ما ئی ہے چند سوا ل پیدا ہو تے ہیں ،کیا ایک قوم کے تمام افراد یکساں طور پر ایک دو سرے کے ہمراہ ہو کر اپنے پیغمبر سے مقا بلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہو تے یا شرو ع میں معا شرہ کے مخصوص افراد مخا لفت کا پرچم بلند کر تے اور اس کے بعد دو سرے گر وہ ان سے آکر مل جا یا کر تے تھے ۔اس حقیقت کے پیش نظر کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت انسانی فطرت کے مطابق ہوا کر تی تھی اور دین اسلام (اپنے عام معنی کے لحا ظ سے )چو نکہ تمام انبیاء علیہم السلام کا دین ہے اور دین فطرت ہے لہٰذا دیکھنا چا ہئے کہ انبیا ء علیہم السلام کی طویل تا ریخ میں وہ کو نسے اسباب تھے جن کی وجہ سے تمام قو میں اپنے پیغمبر کی مخا لفت کے لئے کھڑی ہوجایا کر تی تھیں ؟ مخا لفین کا رویہ انبیاء علیہم السلام سے کس طرح کا تھا اور وہ انبیاء علیہم السلام سے مقا بلہ کے لئے کن طریقو ں سے فا ئدہ اٹھا تے تھے ؟ان گر و ہو ں کا انجام کیا ہوا؟اور وہ کس عا قبت کے منتظر ہیں ؟
مو جو دہ بحث کا علو م سما جیات ونفسیات سے رابطہ !مذ کو رہ سوا لو ں کے جوابات تلاش کر نے سے پہلے منا سب معلوم ہو تا ہے اس بحث کے ساتھ مختصر طور پر علوم سما جیات اور اجتماعی نفسیات کے تعلق کے با رے میں کچھ گفتگو ہو جا ئے چنا نچہ اس سلسلہ میں چند سبق آموز نکات کہ جن کا قر آ ن کر یم سے استنباط کیا جا سکتا ہے ہم بیا ن کر تے ہیں ۔ ہم کو معلوم ہے کہ قر آن کریم کی روش یہ نہیں ہے کہ ہر بات تفصیل سے ،مختلف عنو ا نو ں کے تحت اور جدا جدا بیان کرے بلکہ کبھی کبھی قر آن کر یم بعض اہم مطالب صرف اشا رہ میں بیان کر جا تا ہے کہ اگر ان کے با رے میں غور کر یں تو انسان کے سا منے معر فت کے بہت سے ابواب کھل جا ئیں ۔ ایسے موقعوں پر ہم اگراپنے سوالات قر آن کے سا منے پیش کر یں تو قر آن کے مخصوص طریقہ کو سا منے رکھ کر اپنے سوا لات کے جوا بات حا صل کر سکتے ہیں ۔ اس صورت میں اشا روں میں بیان کی گئی قر آنی تعبیر یں ایسی بیش قیمت کنجی ثا بت ہو ں گی کہ جن سے علوم و معا رف کے بیش بہا خزا نو ں سے بھرے بڑے بڑے در وا زوں کے قفل کھو لے جا سکتے ہیں اور شاید مو جو دہ بحث کچھ اسی انداز کی ہے اگر اس مو ضوع سے متعلق قر آن کریم کی آیات پر غور کر یں تو سما جیات ،فلسفۂ تا ریخ ، اجتما عی اور انفرا دی نفسیات وغیرہ سے متعلق بہت سی ایسی با تیں معلوم ہو جا ئیں گی کہ جن سے ہر ایک کے با رے میں عرصۂ دراز تک تحقیق و جستجو کی ضرورت محسوس کی جا سکتی ہے ۔ آئندہ بحثو ں میں ایسے بعض مطالب جو قابل استنباط ہیں ہم اشا رہ کر یں گے ۔اب ہم مختصر طور پر مو جو دہ بحث کے ساتھ دو اہم علوم یعنی سما جیات اور اجتما عی نفسیات کے تعلق پر گفتگو کر تے ہیں ۔ ہم کو معلوم ہے کہ سما جیات میں بنیا دی ترین بحث یہ ہے کہ اس میں مختلف موجو دات کے وجو د کے اسباب ، پیدائش کی کیفیت نشو و نما کے مرا حل اور تغییرات اور ان کے نتا ئج و اثرات پر گفتگو ہو تی ہے ۔ اس بنیاد پر مختلف معاشروں میں لو گو ں کا پیغمبروں کی مخا لفت کر نا یہ خود ایک عجیب اور قا بل توجہ اجتما عی مسئلہ ہے کہ جس کی علم سما جیا ت کے نقطۂ نظر سے علل و اسباب کی تحقیق، سما جی ڈھا نچے کی بنا وٹ ،اس میں رو نما ہو نے وا لے تغییرات اور آثار و نتا ئج کا جا ئزہ لیا جا سکتا ہے اور یہ بات مسلّم ہے کہ اس با رے میں قر آن کر یم سے سوا لو ں کے جوا بات حا صل کئے جاسکتے ہیں ، قر آن کر یم کا مخصوص تبصرہ معلوم کیا جا سکتا ہے ۔ چنا نچہ اس طرح کی تحقیقات ایک طرف تو سما جیات کے مبا حث کو کہیں زیا دہ مالا مال کر دے گی اور دو سری طرف ان سے حا صل شدہ نتیجو ں کی بنیاد پر علم سما جیات کے بہت سے اسلامی یا قر آنی نظر یا ت کا ایک بڑا حصہ معلوم کیا جا سکتا ہے ۔یہ بحث اجتما عی نفسیات کے ساتھ بھی اسی بنیاد پر تعلق پیدا کر لیتی ہے کہ اجتما عی مسائل جیسے لو گو ں کا انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کر نا ، اس حیثیت سے کہ انسان کے ہی ایجا د کر دہ مسائل ہیں اور مخصوص د ما غی اور نفسیاتی وجوہات کے تحت پیدا ہو تے ہیں اس بنا پر کو ئی بھی اجتما عی عمل جومعا شرے کے کسی ایک طبقہ میں یا پو رے معا شرے میں رو نما ہو تا ہے اس طبقے یا معا شرے کی نفسیاتی خصو صیات کا نتیجہ ہو تا ہے اور ان نفسیاتی اسباب و عوا مل کا مطا لعہ اجتما عی نفسیات کے فر ائض میں سے ہے ۔اس بنا ء پر امتو ں کی انبیا ئے الٰہی کے ساتھ مخا لفت اِن قو موں کی کو نسی نفسیا تی خصو صیت سے متأثر ہے اس بات کی تحقیق اجتما عی نفسیات کی بحثو ں کے دا ئرے میں شما ر ہو گی ، علاوہ بر این انبیاء کے خلاف اجتما عی مقا بلہ آرا ئی کے سا تھ افراد اور معا شرے کے با ہمی ار تباط کا مطا لعہ بھی ایک اور اہم مسئلہ ہے جس کو قر آن کر یم میں علم سما جیات کے اصول و نظر یات یا اجتما عی نفسیات کے نقطۂ نظر سے تحقیق و جستجو کا محور قرار دیا جا سکتا ہے ۔
خو د امتو ں کے ذریعے انبیاء علیہم السلام کی تکذیبسو شل سا ئنس کے بعض علو م کے ساتھ بحث کے بعض پہلو ؤںکے رابطہ کی طرف اشارہ کے بعد ہم گفتگو کے اس حصہ میں پہلے اُن آیات کا ذکر کر رہے ہیں جن میں گذشتہ امتوں کی جانب سے اپنے انبیاء علیہم السلام کی اصل مخالفت کو بیان کیاگیا ہے ۔قرآن کریم میں ایسی بہت سی آیات ہیں کہ جو کسی نہ کسی انداز سے اس تاریخی حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ان میں سے بعض آیات میں (نمونہ کے طور پر ) بعض قوموں کے نام لئے گئے ہیں اور پھر ان کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کی دعوت کے خلاف مشترکہ رد عمل کو بیان کیا گیا ہے :قر آن کریم میں ارشاد ہو تا ہے :(اَلَمْ یَا تِکُمْ نَبَؤُالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَعَادٍوَثَمُوْدَ وَالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِھِمْ لَا یَعْلَمُھُمْ اِلَّااﷲُ جَا ئَتْھُمْ رَسُلُھُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرَدُّوْااَیْدِیَھُمْ فِیْ اَفْوَاھِھِمْ وَقَالُوْااِنَّاکَفَرْنَا بِمَا اُرْسِلْتُمْ بِہِ وَ اِنَّالَفِیْ شَکٍ ِمَّا تَدْعُوْنَنااِلَیْہِ مُرِیْبٍ )(١)…………..١۔سورئہ ابراہیم آیت ٩۔’کیا تمہا رے پاس ان لو گو ں کی خبر نہیں پہنچی جو ہم سے پہلے تھے (جیسے)نوح کی قوم اور عاد و ثمو د اور جو ان کے بعد ہو ئے ہیں جن کو خدا کے سوا کو ئی جانتا ہی نہیں؟ ان کے پاس ان کے انبیاء علیہم السلام واضح دلیلیں لیکر آئے لیکن ان لو گوں نے (اعتراض کے عنوان سے منھ بند کرنے کے لئے ) ان کے ہاتھ ان کے منھ پر رکھ دیئے اور کہنے لگے : تم کوخدا کی طرف سے جو ذمہ داری دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کو نہیں ما نتے اور جس دین کی طرف تم ہم کو بلارہے ہو تو اس کے بارے میںہم بڑے گہرے شک میں ہیں ‘ ۔آیت میں (وَالَّذین من بعد ھم ۔۔۔)کی عبارت سے واضح ہے کہ یہ بات کچھ خاص قو موں سے مخصوص ہیں۔بلکہ بہت سی قوموں میں جاری رہی ہے ۔ اسی طرح صیغۂ جمع (انبأئ)کے مقام پر صیغۂ مفرد(نبأ)کا استعمال اس چیز کی غمّازی کرتا ہے کہ ان تمام قوموں کی ایک مشترک داستان ہے : ان سب کے درمیان خدا کے پیغمبر مبعوث ہو ئے لیکن ان سب نے ان نبیوں کو جھٹلایا ۔ عبارت (فَرُدُّوُااَیدِ یَھُمْ فیِ اَفوَا ھِھِم) عربی زبان کی ایک ضرب المثل ہے جو ایسے مقام پر بولی جاتی ہے جہاں بات بالکل صاف صاف دو ٹوک کرنا ہوتا ہے چنانچہ اس عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے اپنے نبیوں سے بالکل صاف و واضح طور پر کہدیا تھا کہ ہم آپ کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے اور ہمیں آپ کی دعوت کے صحیح ہونے میں شک ہے ۔قرآن کریم کی بعض دوسری آیات میںپیغمبر اسلام ۖکی تسلی اور دلداری کی گئی ہے کہ آپ کی رسالت کی مخالفت اور تکذیب صرف ان عرب مشرکوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ گذشتہ اقوام نے بھی اپنے انبیا ء علیہم السلام کی تکذیب کی ہے سورئہ حج میں قرآن کریم رسول اسلام ۖسے فرماتا ہے :(وَاِنْ یُکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَعَاد وَثَمُوْدُ۔ وَقَوْمُ اِبْرَٰھِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍ ۔ وَاَصْحَابُ مَدْیَنَ وَکُذِّ بَ مُوْسَیٰ فَاَمْلَیْتُ لِلْکَافِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْ تُھُمْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ)(١)اور اگر پیغمبر یہ لوگ آپ کو جھٹلا تے ہیںتو ان سے پہلے قوم نوح نے اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم نے اور اسی طرح مدین کے رہنے والوں نے (اپنے اپنے پیغمبروں کو)جھٹلایا ہے ۔اور موسیٰ (بھی)جھٹلا ئے جاچکے ہیں پس میں نے کافروں کو کچھ مہلت دیدی اور پھر (ان کا گر یبان )کس دیا دیکھئے تو میرا عذاب کیسا تھا ‘۔…………..١۔سورئہ حج آیت ٤٢۔٤٤۔ایک اور آیت میں ارشاد ہو تا ہے :(وَاِنْ یُکَذِّ بُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُل مِنْ قَبْلِکَ۔۔۔)(١)’اور اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلا ئیں تویقین ما نئے آپ سے پہلے (بھی)بہتیرے پیغمبر جھٹلائے جا چکے ہیں۔۔۔’ارشاد ہو تا ہے :(کَذَّ بَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَاَصْحَا بُ الرَّ سِّ وَثَمُوْ دُ۔وَعَٰاد وَفِرْعَوْ نُ وَ اِخْوٰانُ لُوْط۔ وَاَصْحَا بُ الْاَ یْکَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ کُلُّ کَذَّ بَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدٍ)(٢)’ ان سے پہلے قوم نو ح کی قوم اصحا ب رس اور ثمو د نے بھی تکذیب کی تھی اور قوم عا دو فرعون اور برا درانِ لوط نے بھی اور اصحا بِ ایکہ اور قوم تبع نے( مختصر یہ کہ ) سبھی نے ہما رے پیغمبروں کو جھٹلا یا(نتیجہ میں) ہما را (عذاب کا) وعدہ پو را ہو کر رہا ‘۔سورئہ فاطر میں ارشاد ہو تا ہے 🙁 وَاِ نْ یُکَذِّ بُوْکَ فَقَدْکَذَّبَ الَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ جَائَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنَٰاتِ وَبِالزُّبُرِوَبِالْکِتَٰابِ الْمُنِیْرِ۔ ثُمَّ اَخَذْ تُ الَّذِ یْنَ کَفَرُوْافَکَیْفَ کَا نَ نَکِیْرِ)(٣)’اور اگر یہ لو گ آپ کو جھٹلا ئیں تو یقینا ان سے پہلے وا لو ں نے بھی (اپنے اپنے پیغمبروں کو ) جھٹلایاہے (حا لا نکہ )جب ان کے پاس ان کے پیغمبرواضح و روشن دلیلیں،صحیفے اور کھلی کتاب لیکر آئے تھے پس ہم نے ان لوگوں کو جو کا فر ہو بیٹھے تھے جکڑ لیا(دیکھئے تو) میرا عذاب( ان پر) کیسا (سخت) ہوا ؟’ ۔قرآن کریم میں ارشاد ہو تا ہے:( فَاِنْ کَذَّ بُوْکَ فَقَدْ کُذِّ بَ رُسُل مِنْْ قَبْلِکَ جَائُ وْابِا لْبَیِّناتِ وَالزُّبُرِ وَالکِتَابِ الْمُنِیْرِ ) (٤)’اگر انھو ں نے آپ کو جھٹلایاتوآپ یقین رکھئے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسو ل روشن معجزے ، صحیفے…………..١۔سورئہ فا طرآیت ٤۔٢۔سورئہ ق آیت ١٢۔١٤۔٣۔سورئہ فا طر آیت٢٥۔٢٦۔٤۔سورئہ آلِ عمران آیت ١٨٤۔اورنو را نی کتاب لیکر آ چکے ہیں(جن کو جھٹلا یا گیا ہے )’۔سورئہ سبا میں ارشاد ہو تا ہے :(وَکَذّ بَ الَّذِ یْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَمَابَلَغُوْامِعْشاَرَمَٰااٰ تَیْنٰھُمْ فَکَذَّبُوْارُسُلِی فَکَیْفَ کا نَ نَکِیْرِ)(١)’ اورجو لوگ ان سے پہلے تھے انھو ں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلا یا تھا حا لانکہ ہم نے جتنا ان لو گو ں کو دیا تھا یہ کفار (ابھی )اس کے دسو یں حصہ کو (بھی)نہیں پہو نچے پس ان لو گو ں نے میرے پیغمبر کو جھٹلا یاتو( دیکھا کہ) ہما را عذاب(ان پر ) کیسا (سخت )ہوا ‘۔مندر جہ بالا آیات کے علا وہ دوسری آیات میں بھی مخصوص قو موں کے جھٹلا نے کا ذکر ہے اور خدا وند عا لم کے پیغمبروں کی مخا لفت کا پردہ چا ک کیا گیا ہے۔ہم یہاں ان آیا ت کے کچھ نمو نے پیش کر رہے ہیں :سورئہ شعراء میں ارشاد ہو تا ہے :(کَذَّ بَتْ قَوْمُ نُوْ حِ الْمُرْ سَلِیْنَ )(٢)’ نو ح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا’۔اس کے بعد اسی سورہ میں فر ماتا ہے:( کَذَّ بَتْ عَا د الْمُرْسَلِیْنَ )(٣)’ ( قو م) عا د نے خدا کے پیغمبروں کو جھٹلایا ‘۔اور آگے بڑھکر کہتا ہے 🙁 کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ )(٤)’ ( قو مِ) ثمو د نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ‘ ۔اور اسی سورہ کی ایک اور آیت میں ارشاد ہو تا ہے:( کَذَّ بَتْ قَوْمُ لُوْطِ الْمُرْسَلِیْنَ )(٥)’اور قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ‘۔(٦)…………..١۔سورئہ سبا آیت٤٥۔٢۔سورئہ شعراء آیت ١٠٥۔٣۔سورئہ شعراء آیت١٢٣۔٤۔سورئہ شعراء آیت ١٤١۔٥۔سورئہ شعراء آیت١٦٠۔٦۔اسی طرح سورئہ قمر آیت ٩ ،١٨، ٢٣ اور ٣٣ ملا حظہ فر ما ئیں ۔
انبیاء علیہم السلام سے جنگ کر نے وا لے سردا روں کی پہچانگذ شتہ گفتگو کے پیش نظر قر آن کر یم کی آیات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ گذ شتہ تمام قو مو ں نے نبیو ں کو جھٹلایا اور انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کرنا ان کا معمول تھا۔اب یہ سوال ہے کہ کیا اس مخالفت میں معاشرہ کے تمام افراد برابر سے شریک تھے یا ابتداء میں کسی مخصوص طبقہ کے افراد مخالفت کیلئے اٹھتے اور پھر ان کی دعوت پر دوسرے لوگ پیغمبر کی مخالفت میں ان کے ساتھ ہوجایا کرتے تھے ؟اس سوال کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ قرآن نے دوسرے مفروضے پر زور دیا ہے اور کچھ مخصوص گروہوں کا انبیاء علیہم السلام سے جنگ کی ابتدا کرنے اور انبیاء علیہم السلام کو جھٹلانے میں پیش پیش رہنے کے عنوان سے تعارف کرا یا ہے ۔چنانچہ قرآن کے مطابق پہلے ایک خاص طبقہ کے لوگ ہی انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کیا کر تے تھے اور ا س کے بعد مختلف طریقو ں سے یہ گروہ یا افراد عامل لو گوں کے افکار کو منحر ف کر نے کے وسا ئل فر ا ہم کیا کرتے تھے ۔ قر آن کر یم نے انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کر نے وا لے سر دا روں کے کچھ او صا ف بیان کئے ہیں جن میں سب سے اہم صفت’ اتراف ‘ ہے ۔’اتراف’ کا مطلب یہ ہے کہ انسان نعمتو ں کی فر ا وانی کی وجہ سے سر کشی اور طغیان پرتُل جا ئے اور مترف اس شخصکو کہتے ہیں جو ما دی نعمتوں اور لذّتوں میں غر ق ہو جا ئے قر آن کر یم کی متعدد آیات میں انبیاء کی مخا لفت کر نے والوں میں سب سے پہلے متر فوں کا تذ کر ہ ہوا ہے :سورئہ سبامیں ارشاد ہو تا ہے :(وَمَااَرْسَلْنَٰافِیْ قَرْیةٍ مِنْ نَذِیْرٍ اِلّاَقَا لَ مُتْرَفُوھَٰااِنَّٰابِمَٰا اُرْسِلْتُمْ بِہِ کَٰافِرُوْنَ۔وَقَٰالُوْانَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَٰالاً وَاَوْلَادَاً وَمٰانَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ)(١)’اورہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا(پیغمبر)نہیں بھیجامگر یہ کہ وہا ں کے عیش پسندبڑ ے لوگ یہ کہہ اٹھے کہ جو چیز دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں ما نتے اور( یہ بھی )کہتے ہما رے پاس تو مال اور اولاد دو سروں سے کہیں زیا دہ ہے اور ہم پر عذاب نہیں ہو گا ‘۔اس آیت سے چند نکتے حا صل ہو تے ہیں :١۔ہر قوم کے درمیان سب سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت کر نے والا گروہ اس قوم کے آرام پسند بڑے لو گو ں کا ہو تا تھا ۔یہ گروہ با لکل صاف صاف انبیا ء علیہم السلام کی دعوت قبو ل نہ کر نے کا اعلان کر تا تھا ۔…………..١۔سورئہ سبا ٔ یت ٣٤ ۔٣٥۔٢۔اِن بڑے لو گو ں کا یہ کہنا تھا کہ ہما رے خا ندان کاقوم و قبیلہ کے لحا ظ سے طا قتور ،دولتمند اور اجتما عی اقتدار کا حا مل ہو نا انبیاء علیہم السلام سے ہر طرح بلند و بر تر اور ہر طرح کے عذاب سے محفو ظ ہو نے کا معیار ہے ۔اُن کے اس فلسفے سے ایک دوسرا نکتہ یہ نکلتا ہے کہ ان معا شروں میں کسی طبقہ کی دو سرے طبقوں سے بلندی و بر تری کا معیار دولت و ثر وت اور انسانی طا قت و قوت کا زیا دہ ہو نا تھا ۔قرآن میں ارشاد ہو تا ہے :(وَکَذَ ٰلِکَ مَااَرْسَلْنٰامِنْ قَبْلِکَ فِیْ قَرْیةٍ مِنْ نَذِیْرٍاِلّاَقَٰالَ مُتْرَفُوھَااِنّٰاوَجَدْ نَا اَبٰائَ نَاعَلَیٰ اُمَّةٍ وَاِنّٰاعَلَیٰ آثٰارِھِمْ مُقْتَدُوْنَ)(١)’اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرا نے والا نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہا ں کے آرام پسند لوگو ں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا ؤںکو ایک آئین اور طریقہ پر پایاہے اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ‘۔اس آیت میں بھی دو لتمند طبقہ کے با رے میںگفتگو ہے اور ان کے ایک دو سرے بہا نہ کا ذکر ہے کہ ہم اپنے دادا کے طریقہ کو ہی جا ری رکھیں گے اور ہم کو کسی نئے طریقہ کی کو ئی ضر ورت نہیں ہے ۔بعض آیات میں ‘ملأ ‘کا لفظ بھی آیا ہے نمو نہ کے طور پر قرآن کریم میںنوح کی قوم کے متعلق خدا وند عالم ارشاد فر ماتا ہے :(قَٰالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِہِ اِنّٰا لَنَرَٰکَ فِیْ ضَلاٰلٍ مُبِیْنٍ)(٢)’ان کی قو م کے سر داروں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ ہم تم کو کھلم کھلا گمر ا ہی میں مبتلا دیکھتے ہیں ‘۔اس بنیاد پر انبیاء علیہم السلام کی مخا لفت میں پیش پیش افراد کی ایک صفت یہ ہے کہ قوم کے سر دار اپنے نبی پر کھلم کھلا گمرا ہی میں مبتلا ہو نے کی تہمت لگا تے تھے ہم اس با رے میں انبیاء علیہم السلام کے مخا لفو ں کے طریقوں سے متعلق بحث میں تفصیل سے گفتگو کر یں گے ۔(قَٰالَ الْمَلَاُ الَّذِْیْنَ کَفَرُوامِنْ قَوْمِہِ اِنّٰالَنَرَیکَ فِیْ سَفَٰاھَةٍ وَاِنّٰالَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ)(٣)…………..١۔سورئہ زخرف آیت٢٣۔٢۔سورئہ اعراف آیت٦٠۔٣۔سورئہ اعراف آیت٦٦۔قوم ثمود کے با رے میں ار شاد ہو تا ہے :’قوم کے سر دار جو کا فر تھے کہنے لگے ہم تو بیشک تم کو ایک طرح کی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور پوری سنجید گی سے تم کو جھو ٹا سمجھتے ہیں ‘۔اس آیت میں بھی ایک خاص طبقہ ‘ ملأ ‘یعنی وہی قوم کے سر داروں پر زور دیا گیا ہے اور یہ زور دینا اس چیز کو بیان کر تا ہے کہ یہ گروہ مخا لفت کر نے میں آگے آگے تھا ایک اور آیت میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ یہ طبقۂ’ ملأ ‘اہل استکبار کا مغرور و سر کش گروہ تھا خداوند عالم قرآن میں ار شاد فر ما تا ہے :(قَالَ الْمَلَا ُٔ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوا مِنْ قَوْمِہِ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوا لِمَنْ آمَن مِنْہُمْ اَتَعَلَمُونَ اَنَّ صَلِحاً مُرْسَل مِنْ رَّبِّہ قَالُوْااِنّٰابِمَااُرْسِلَ بِہِ مُؤمِنُوْنَ ۔قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا اِنّٰابِالَّذِیْ اٰمَنْتُمْ بِہِ کَافِرُوْنَ)(١)’ ان کی قوم کے سر دار نے جن کوقوت و اقتدار نے بڑا بنا دیا تھا کمزو ر و محروم لو گو ں سے جو ان میں ایمان لائے تھے کہاکیا تمھیں معلوم ہے کہ صالح اپنے پر ور دگا ر کی طرف سے بھیجے گئے سچے رسول ہیں انھوں نے جواب دیا کہ بلا شبہ جن باتو ں کا وہ پیغام لا ئے ہیں ہما را تو اس پر ایمان ہے تب جن لوگوں کو (اپنی استکباری طاقت و قوت پر ) گھمنڈ تھا کہنے لگے ہم تو جس پر تم ایمان لائے ہو اسے نہیں مانتے ‘۔مستکبرین بذات خود حق قبول کر نے اور انبیا ء علیہم السلام کی دعوت پر لبیک کہنے سے انکار کے علا وہ دوسروں کو بھی بہکا نے ،چنگل میں جکڑ لینے اور ان کے دل و دماغ میں شک و شبہ کے بیج بو کر ان کے ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے ۔بہر حال مذ کو رہ تمام آیتو ں کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ وہ خاص طبقہ جو انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کا جھنڈا بلند کر نے میں پہل کیا کر تا تھا معا شرے میںخو ش حال آرام پسند اور عیاش طبقہ تھا جو اپنی دولت اور اپنے قوم و قبیلہ کے بل بو تے پر افتخار و گھمنڈ کر تا تھا ۔…………..١۔سورئہ اعراف آیت ٧٥۔٧٦۔اور سورئہ اعراف آیت ٨٨۔
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.