ہجرت پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
ہجرت پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم [36]مختلف قبائل قریش اور اشراف مکہ کا ایک گروہ جمع هوا تاکہ وہ” دار الند وہ” میں میٹنگ کریں اور انھیں رسول اللہ کی طرف سے درپیش خطرے پر غور وفکر کریں(کہتے ھیں) اثنائے راہ میں انھیں ایک خوش ظاھر بوڑھا شخص ملا جو در اصل شیطان تھا (یا کوئی انسان جو شیطانی روح وفکر کا حامل تھا)۔انهوں نے اس سے پوچھا : تم کون هو؟کہنے لگا : اھل نجد کا ایک بڑا بوڑھا هوں، مجھے تمھارے اراداے کی اطلاع ملی تو میں نے چاھا کہ تمھاری میٹنگ میں شرکت کروں اور اپنا نظریہ اور خیر خواھی کی رائے پیش کرنے میں دریغ نہ کروں ۔کہنے لگے : بہت اچھا اندر آجایئے ۔اس طرح وہ بھی” دارالندوة”میں داخل هوگیا ۔حاضرین میں سے ایک نے ان کی طرف رخ کیا اور ( پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف اشارہ کرتے هوئے ) کھا : اس شخص کے بارے میں کوئی سوچ بچار کرو ، کیونکہ بخدا ڈر ھے کہ وہ تم پر کامیاب هوجائے ( اور تمھارے دین اور تمھاری عظمت کو خاک میں ملادے گا )ایک نے تجویز پیش کی : اسے قید کردو یھاں تک کے زندان ھی میں مرجائے۔بوڑھے نجدی نے اس تجویز پراعتراض کیا اور کھا : اس میں خطرہ یہ ھے کہ اس کے طرف دار ٹوٹ پڑیں اور کسی مناسب وقت اسے قید خانے سے چھڑا کر اس سرزمین سے باھر لے جائیں لہٰذا کوئی اور بنیادی بات کرو ۔ایک اورشخص نے کھا: اسے اپنے شھرسے نکال دو تاکہ تمھیں اس سے چھٹکارامل جائے کیونکہ جب وہ تمھارے درمیان سے چلا جائے گا تو پھر جو کچھ بھی کرتا پھرے تمھیںکوئی نقصان نھیں پہنچا سکتا اور پھر وہ دوسروں ھی سے سروکار رکھے گا ۔اس بوڑھے نجدی نے کھا : واللہ یہ نظریہ بھی صحیح نھیں ھے ، کھا تم اس کی شیریں بیانی ،قدرت زبان اور لوگوں کے دلوں میں اس کے نفوذ نھیں دیکھتے؟ اگر ایسا کروگے تو وہ تمام دنیائے عرب کے پاس جائے گا اور وہ اس کے گرد جمع هوجائیں گے اور پھر وہ ایک انبوہ کثیر کے ساتھ تمھاری طرف پلٹے گا اور تمھیں تمھارے شھروں سے نکال باھر کرے گا اور بڑوں کو قتل کردےگا ۔مجمع نے کھا بخدا یہ سچ کہہ رھاھے کوئی اور تجویزسو چو۔
ابوجھل کی رائےابوجھل ابھی تک خاموش بیٹھا تھا ، اس نے گفتگو شروع کی اور کھا : میرا ایک نظریہ ھے اور اس کے علاوہ میں کسی رائے کو صحیح نھیں سمجھتا ۔حاضرین کہنے لگے :وہ کیا ھے ؟کہنے لگا : ھم ھر قبیلے سے ایک بھادر شمشیر زن کا انتخاب کریں اور ان میں سے ھر ایک ھاتھ میں ایک تیز تلوار دے دیدیں اور پھر وہ سب مل کر موقع پاتے ھی اس پر حملہ کریں جب وہ اس صورت میں قتل هوگا تو اس کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور میں نھیں سمجھتا کہ بنی ھاشم تمام قبائل قریش سے لڑسکیں گے لہٰذا مجبورا اس صورت میں خون بھا پر راضی هوجائیں گے اور یوں ھم بھی اس کے آزار سے نجات پالیں گے۔بوڑھے نجدی نے (خوش هوکر ) کھا: بخدا : صحیح رائے یھی ھے جو اس جواں مرد نے پیش کی ھے میرا بھی اس کے علاوہ کوئی نظریہ نھیں ۔اس طرح یہ تجویز اتفاق رائے سے پاس هوگئی اور وہ یھی مصمم ارادہ لے کروھاںسے اٹھے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جان کو بیچ ڈالیجبرئیل نازل هوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم ملا کہ وہ رات کو اپنے بستر پر نہ سوئیں ،پیغمبر اکرم رات کو غار ثور کی طرف روانہ هوگئے اور حکم دے گئے کہ علی آپ کے بستر پر سوجائیں (تاکہ جو لوگ دروازے کی درازسے بستر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نظر رکھے هوئے ھیں انھیں بستر پر سویا هوا سمجھیں اور آپ کو خطرے کے علاقہ سے دور نکل جانے کی مھلت مل جائے )۔اھل سنت کے مشهور مفسر ثعلبی کہتے ھیں کہ جب پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہجرت کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو اپنے قرضوں کی ادائیگی اور موجود امانتوں کی واپسی کے لئے حضرت علی علیہ السلام کو اپنی جگہ مقرر کیا اور جس رات آپ غار ثور کی طرف جانا چاہتے تھے اس رات مشرکین آپ پر حملہ کرنے کے لئے آپ کے گھر کا چاروں طرف سے محاصرہ کئے هوے تھے، آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ آپ کے بستر پر لیٹ جائیں ، اپنی مخصوص سبز رنگ کی چادر انھیں اوڑھنے کو دی ، اس وقت خدا وند عالم نے جبرائیل اور میکائیل پر وحی کی کہ میں نے تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ اور اخوت قائم کی ھے اور تم میں سے ایک کی عمر کو زیادہ مقرر کیا ھے تم میں سے کون ھے جو ایثار کرتے هوئے دوسرے کی زندگی کو اپنی حیات پر ترجیح دے ان میں سے کوئی بھی اس کے لئے تیار نہ هوا تو ان پروحی هوئی کہ اس وقت علی میرے پیغمبر کے بستر پر سویا هوا ھے اور وہ تیار ھے کہ اپنی جان ان پر قربان کردے، زمین پرجاؤ اور اس کے محافظ ونگھبان بن جاؤ ،جب جبرئیل ،حضرت علی علیہ السلام کے سرھانے آئے اور میکائیل پاؤں کی طرف بیٹھے تو جبرئیل کہہ رھے تھے: سبحان اللہ، صدآفرین آپ پر اے علی علیہ السلام کہ خدا آپ کے ذریعے فرشتوں پر فخر ومباھات کررھاھے ،اس موقع پر آیت نازل هوئی “کچھ لوگ اپنی جان خدا کی خوشنودی کے بدلے بیچ دیتے ھیں اور خدا اپنے بندوں پر مھربان ھے” اور اسی بناء پروہ تاریخی رات ” لیلة المبیت”(شب ہجرت) کے نام سے مشهور هوگئی ۔ابن عباسۻ کہتے ھیں :جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مشرکین سے چھپ کر ابوبکر کے ساتھ غار کی طرف جارھے تھے یہ آیت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل هوئی جو اس وقت بستر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر سوئے هوئے تھے ۔ابوجعفر اسکافی کہتے ھیں :جیسے ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ، جلد ۳ ص ۲۷۰ پر لکھا ھے :پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بستر پر حضرت علی علیہ السلام کے سونے کا واقعہ تو اتر سے ثابت ھے اور اس کا انکار غیر مسلموں اور کم ذہن لوگوں کے علاوہ کوئی نھیں کرتا [37]جب صبح هوئی تومشرکین گھر میں گھس آئے ۔ انهوں نے جستجو کی تو حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر کی جگہ پر دیکھا ۔ اس طرح سے خدا نے ان کی سازش کو نقش برآب کردیا ۔وہ پکارے: محمد کھاں ھے ؟آپ نے جواب دیا : میں نھیں جانتا ۔وہ آپ کے پاؤں کے نشانوں پر چل پڑے یھاں تک کہ غار کے پاس پہنچ گئے لیکن (انهوں نے تعجب سے دیکھا کہ مکڑی نے غار کے سامنے جالاتن رکھاھے ایک نے دوسرے سے کھا کہ اگر وہ اس غار میں هوتے تو غارکے دھانے پر مکڑی کا جالا نہ هوتا ، اس طرح وہ واپس چلے گئے )پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تین دن تک غار کے اندر رھے ( اور جب دشمن مکہ کے تمام بیابانوں میں آپ کو تلاش کرچکے اور تھک ھار کرمایوس پلٹ گئے تو آپ مدینہ کی طرف چل پڑے )۔
————————
[36] سورہٴ انفال آیت ۳۰ کے ذیل میں واقعہ ہجرت بیان هوا ھے۔[37] الغدیر، جلد ۲ ص۴۵ پر ھے کہ غزالی نے احیاء العلوم ج۳ ص ۲۳۸ پر، صفوری نے نزہتہ المجالس ج۲ ،ص ۲۰۹ پر، ابن صباغ مالکی نے فصول المھمہ، میں سبط ابن جوزی نے تذکرہ الخواص ص ۲۱ پر ، امام احمد نے مسندج ا ص ۳۴۸ پر، تاریخ طبری جلد ۲ ص۹۹ پر، سیرة ابن ہشام ج ۲، ص ۲۹۱ پر، سیرة حلبی ج ۱ ص ۲۹ پر، تاریخی یعقوبی ج۲ ص ۲۹ پرلیلة المبیت کے واقعہ کو نقل کیا ھے۔