حکومت اور سیاست کے سلسلہ میں اسلام کی خصوصیت

64

 اور نہ ھم کسی ایسے آدمی کوجانتے اور پھچانتے ھیں جو آزادی کو مطلق اور بے قید وبند مانے،بلکہ تمام دانشورںکا ماننا یہ ھے کہ آزادی کو مشروع اور قانونی دائرے میں ھونا چاھئے، کیونکہ اگر آزدای کو بے لگام مان لیا جائے تو پھر عسروحرج لازم آتا ھے اور اس کا نقصان انسانیت پر پڑتا ھے۔
ھمارے ملک کے قانون اساسی میں مشروع آزادی کو قبول کیا گیا ھے، اور شرعی اصطلاح کے مطابق ،مشروع آزادیاں یعنی وہ آزادیاں جن کو شریعت مقدس نے جائز قرار دیا ھے، اور عرفی اصطلاح کے مطابق یعنی قانونی آزادی، اور چونکہ ھمارے ملک میں وہ قوانین معتبر ھیں جو اسلامی اصول کے مطابق ھوں، اسی طرح وہ آزدای معتبر ھے جو اسلام کی نگاہ میں مُجاز اور جائزھیں،البتہ یہ جواب ان لوگوں کی نظر میں قابلِ قبول ھے کہ جو اسلامی نظام او رجمھوری اسلامی کے قانون اساسی کو قبول کرتے ھوں،لیکن اگر کوئی اسلامی نظام اور قانون اساسی کو قبول نہ کرتا ھو ، او راسلام اورقانون اساسی سے صرف نظر کرتے ھوئے اس سوال کو اچھالے اور کھے کہ کیا دلیل ھے کہ آزادی کو محدود اور اسلامی ھونا چاھئے؟ اسلام کی تجویز کردہ آزادی کی حد سے کیوں آگے نھیں بڑھا جاسکتا؟اس سوال کے جواب کے لئے کچھ مقدمات کو بیان کرنا ضروری ھے جن میں سے بعض کو اصول موضوعہ کے لحاظ سے آپ حضرات کو قبول کرنا پڑے گا، کیونکہ یہ مقدمات علم کلام، فلسفہ اور الھٰیات سے مربوط ھیں جن کو سبھی لوگ تسلیم کرتے ھیں، کیونکہ اگر ھم ان مقدمات کی توضیح اور تفسیر میں وارد ھوتے ھیں تو اصل گفتگو سے دور ھوجائیں گے، البتہ ان میں سے بعض مقدمات ،مقدمات قریبی ھیں کہ جن پر یھاں بحث کی جاسکتی ھے۔

2۔حکومت سے مخصوص کاموں کے بارے میں تین نظریےجس وقت ھم یہ کھتے ھیں کہ معاشرہ میں قانون کو جاری کرنے کےلئے حکومت کا ھونا ضروری ھے، یا حکومت کے دواھم اور بنیادی رکن قانون گذاری اور قانون کا جاری کرنا، لھٰذا ن قوانین کے لئے ایسے معیار وضوابط ھونا چاھئے جن کی روشنی میںیہ قوانین بنائے جائیں. اور وہ معیار وضوابط جن کو پیش نظر رکھا جاتا ھے ان میں سے کچھ اس چیز سے مربوط ھیںکہ حکومت کی تشکیل اور قوانین بنانے کاھدف او رمقصد کیا ھونا چاھئے؟ اسی وجہ سے بحث فلسفہ سیاست میں یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ حکومت تشکیل دینے کی وجہ کیا ھے البتہ اس سلسلہ میں ھم نے گذشتہ بحث میں مخصر طور پر عرض کیا ھے ، لیکن اس جگہ تفصیلی طور پر اس مطلب پر بحث کی تحقیق کرتے ھیں. (لیکن ابتداء میں ھم حکومت کے فلسفہ کے بارے میں فھرست وار تین نظریوں بیان کرتے ھیں تاکہ ان مطالب کی ارتباط کو بھتر طور پر پھچان لیا جائے او رپھر تفصیلی طور پر بحث میں وارد ھونگے):1۔”رنسانس” کے زمانہ کے بعد بعض سیاسی فلاسفہ حضرات مثل “ھابز” کا ماننا یہ ھے کہ حکومت بنانے کا ھدف او راس کی ذمہ داری فقط معاشرہ میں نظم وامنیت کو برقرار کرنا ھے؛ دوسرے رسا الفاظ میں یوں کھا جائے : حکومت کی ذمہ داری داخلی وخارجی امنیت کو برقرار کرنا ھے، یعنی حکومت کی اصلی ذمہ داری یہ ھے کہ ایسے قوانین کو جاری کرے ، جس سے معاشرہ میں بدنظمی اور عسروحرج نہ پھیلے،اور اس سلسلے میں اندرونی وخارجی خطرات سے نپٹنے کے لئے دفاعی قوت (پولیس او رفوج) تشکیل دے ، تاکہ وہ ملک اوراس کے تمام باشندوں کی حفاظت کرسکے۔2۔بعض لوگوں کا کھنا یہ ھے: حکومت کی ذمہ داری یہ ھے کہ معاشرہ میں نظم و امنیت کے ساتھ ساتھ عدالت کو بھی برقرار رکھا جائے.یھاں سے قانون،عدالت اورآزادی کے بارے میںایک عمیق بحث(خصوصاً سیاسی اورجامعہ شناس حضرات کے درمیان) شروع ھوجاتی ھے اور اس سلسلہ میں بھت سی کتابیں بھی لکھی گئیںکہ آزادی ،قانون اور عدالت میں کیا ھیں اور ان میں آپس میں کیارابطہ ھے؟اگر ھم قبول کریں کہ حکومت کی ذمہ داری معاشرہ میں امنیت برقرار کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت کا برقرار کرنا بھی ضروری ھے، تو یہ سوال پیدا ھوگاکہ عدالت کے کیا معنی ھیں؟ عدالت کی حقیقت اور اس کے اصول کے بارے میں، مسلم وغیرمسلم دانشمندوں کے بارے میں مختلف تفسیریں بیان کی گئی ھیں، اور جس بات کو سبھی قبول کرتے ھیں وہ یہ ھے کہ “ھر انسان کو اس کا حق دیا جانا چاھئے” اور عدالت کے اس معنی کو تقربیاً سبھی دانشمندوں نے قبول کیا ھے؛ لیکن حق کیا ھے اور اس کے حدود کیا ھیں اس سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ھے. اور چونکہ عدالت کے معنی میں “حق” کا لحاظ کیا گیا ھے، مجبوراً ھم کو ایک دوسری بحث کرنا ھوگی اور وہ یہ کہ آزادی، حق،قانون اور عدالت میں کیا او رحق وعدالت میں کیا رابطہ ھے. بالآخر بحث یھاں پھونچتی ھے کہ ھر انسان کا یہ حق ھے کہ اس کے منافع اور طبیعی مصالح پورے ھوں اور یہ صرف عادلانہ قوانین کے ذریعہ ھی ممکن ھوسکتا ھے، جس میں لوگوں کی اجتماعی زندگی کے تمام حقوق(یعنی وہ چیزیں کہ جن کو انسان کی طبیعی ضرورتیں اقتضاء کرتی ھوں) پورے ھوتے ھیں۔اب چونکہ حقوق کی بات آگئی ھے لھٰذا یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ اجتماعی زندگی میں کون لوگ صاحب حق ھیں؟ کیا اجتماعی زندگی میں تمام لوگ صاحب حق ھیں یااجتماعی زندگی میں صرف بعض لوگوں کو حق حاصل ھے کہ اجتماعی کاموں میں دخیل ھوں؟ واضح طور پر عرض کریں کہ وہ انسان جو معلول(اپاھج) ھیں اور معاشرہ کی کوئی بھی خدمت انجام نھیں دے سکتے اور ھاسپٹل یا آسایشگاہ(1)میں رھتے ھیں اور اجتماعی زندگی میں ان کا کوئی کردار نھیں ھوتا،کیا وہ بھی معاشرہ میں حق رکھتے ھیں یا نھیں؟ اگر حق اس وجہ سے ھوتا ھے کہ وہ معاشرہ میں کچھ خدمت انجام دیں، تو ایسے افراد کو کوئی حق نھیں ھے؛ کیونکہ یہ لوگ تو صرف معاشرہ کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ معاشرہ کو کوئی فائدہ نھیں پھونچارھے ھیں۔البتہ ممکن ھے کہ بعض معلول افراد ذھنی طور پر معاشرہ کی خدمت کریں، لیکن ھماری گفتگو ان اپاھج لوگوں کے سلسلہ میں ھے جو جسمی اور ذھنی طور پر محروم پیدا ھوتے ھیں اورمعاشرہ کو جسمانی اور ذھنی خدمات نھیں پھونچاسکتے، کیا ایسے لوگ معاشرہ میں حق رکھتے ھیں؟ یا ایسا شخص جس نے صحت وسلامتی کے وقت معاشرہ کی خدمت کی ھے، لیکن اس وقت اپاھج ھوگیا ھے اور معاشرہ کی کوئی بھی خدمت نھیں کرسکتا کیا ایسا شخص معاشرہ میں حق رکھتا ھے یا نھیں؟بعض جامعہ شناس حضرات کے مطابق ایسے لوگوں کے لئے معاشرہ میں کوئی حق نھیں ھے، اور حکومت پر بھی ان کی کوئی ذمہ داری نھیں ھے، قدیم روس کی مارکسسٹی حکومت میں ایسے افراد کو معاشرہ میں کوئی حق نھیں تھا، اور کسی نہ کسی بھانہ سے ان کو ختم کردیا جاتا تھا۔(1) وہ جگہ جھاں بوڑھوں اور بے وارث بچوں کو رکھا جاتا ھے.دوسرے ممالک میں بھی اس طرح کا نظریہ موجود ھے. کیا معاشرہ میں حق پیدا کرنے کے لئے ضروری ھے کہ اس کے بدلے معاشرہ کی خدمت کی جائے؟ کیا وہ اپاھج کہ جو معاشرہ میں کچھ خدمت نھیں کرسکتا، صرف اس وجہ سے کہ وہ انسان ھے اور انسانوں میں پیدا ھوا ھے اور انسانوں میں زندگی گذارتا ھے، معاشرہ پر حق نھیں رکھتا؟ افسوس کہ وہ بعض افراد جو کھتے ھیں کہ حق معاشرہ کی خدمت کرنے سے حاصل ھوتا ھے ،لھٰذا ان لوگوں کو کوئی حق نھیں ھے کھتے ھیں کہ اگر کچھ لوگ رحم و محبت کی وجہ سے ان لوگوں کی خدمت کرنا چاھتے ھیں اور ان کی حفاظت کے لئے آسایشگاہ بنواتے ھیں ، ٹھیک ھے بنوائےں، ورنہ کوئی بھی ان کی موت کا ذمہ دار نھیں ھے!2۔ حکومت کی تشکیل کے ھدف کے بارے میں تیسرا نظریہ اسلامی ھے جس کے اندر حکومت کی ذمہ داری عدالت وامنیت کو برقرار رکھنے کے علاوہ معنوی اور روحانی ضرورتوں کو بھی پورا کرنا ھے۔

3۔ اسلامی اور غیر اسلامی حکومتوں کے کاموں میں ایک امتیازی فرقاسلامی نظریہ کے مطابق ، امنیت اور خارجی دشمن کے مقابلہ میں اپنا دفاع ، اور عدالت کو برقرار کرنا نیز معاشرہ کی خدمت کرنے والے کے حق کو ادا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری میںشمار کیا جاتا ھے، احسان، یعنی ضعیف وکمزوراور معاشرہ کے وہ لوگ کہ جو کچھ بھی خدمت انجام نھیں دے سکتے ان تمام لوگوں کی خدمت کرنا بھی حکومتوں کا وظیفہ ھے؛ جس طرح کہ خداوندعالم قرآن مجیدمیں فرماتا ھے:(إِنَّ اللّٰہ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ)(1)”بے شک خدا انصاف اور (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے کا حکم کرتا ھے”مسلمانوں کی ذمہ داری صرف عدل نھیں ھے بلکہ اس سے بڑھکر بعض موارد میں احسان بھی کریں، وہ فقیر لوگ جو کچھ نھیںکر سکتے یا وہ اپاھج کہ جو معاشرہ میں کوئی خدمت نھیں کرسکتے، یھاں تک کہ وہ مادرزاد اپاھج چونکہ انسان ھیں انسانی معاشرہ میں حق رکھتے ھیں اسلامی حکومت کی ذمہ داری ھے کہ ان کی روز مرہ ضرورتوں کو پورا کرے۔مذھب اسلام اور دوسرے مذاھب میں ایک دوسرا فرق یہ بھی ھے کہ اسلام انسان کی ضرورتوں کو صرف مادّی اور بدنی ضرورتوں میں منحصر نھیں سمجھتا بلکہ معنوی اور اخروی ضرورتوں کو بھی پیش نظر رکھتا ھے؛ اسی وجہ سے اسلامی حکومت کی ذمہ داری ،لیبرل حکومتوں سے کھیں زیادہ ھیں: لیبرال حکومت صرف ان لوگوں جو معاشرہ میں کچھ خدمات کرتے ھیں ضرورتوں کو پورا کرنے کی ذمہ داری کے علاوہ کوئی ذمہ داری نھیں مانتی،لیکن اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری ھے کہ معاشرہ کی خدمت کرنے والوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے علاوہ اپاھج اورناتواں لوگوں کی بھی مدد کرے، اور اس کے علاوہ انسانوں کی معنوی وروحانی احتیاجات کو پورا کرے، اسی وجہ سے اسلامی حکومت کی ذمہ داری بھت زیادہ ھوجاتی ھے ، اس بناپراسلامی حکومت میں ایسے قوانین بنائے اور جاری کئے جائیں جن سے انسان کی انفرادی،اجتماعی، مادی او رمعنوی ، دنیاوی اور اخروی مصلحتوں کو پورا کیا جاسکے، نہ کہ صرف معاشرہ کے سرگرم افراد کی مادی منافعوں کی فکر میں رھے۔اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ اسلامی نظریہ کی صحت پر کیا دلیل ھے؟ اور کیوں دوسرے نظریات صحیح نھیںھیں؟ (توجہ رھے کہ ھماری یہ بحث صرف دینی نھیں ھے کہ ھم آیات وروایات کے ذریعہ دلیل قائم کردیں،اگرچہ جھاں آیات وروایات کا موقع ھوتا ھے وھاں آیات وروایات سے بھی بحث کی ھے) کیا واقعاً انسانی معاشروں میں تمام مادی ومعنوی منفعتوں کا پورا ھونا ضرور ی ھے یا صرف مادی منفعتوں کا پورا ھونا کافی ھے؟ دوسرے الفاظ میں یوں عرض کیا جائے کہ جس طرح حکومت کی تشکیل کے ھدف کے تحت یہ سوال ھوا تھا کیا حکومت اور قانون کا ھونا صرف امنیت کا برقرار ھونا اور عسروحرج سے روکنا ھے یا حکومت کی ذمہ داری یہ بھی ھے کہ انسان کی معنوی مصلحتوں پر بھی توجہ ضروری ھے؟ اس مسئلہ کوحل کرنے اور گذشتہ سوال کے جواب کےلئے ضروری ھے کہ ایک قدم پیچھے ھٹیں اور یہ سوال کریں کہ انسانی معاشرہ کی تشکیل کا کیا ھدف ھے؟

4۔ انسانی معاشرہ کی حقیقت اسلام کی نگاہ میںقبل اس کے کہ انسانی معاشرہ کی تشکیل کے ھدف کو پھچانےں ،ضروری ھے کہ پھلے یہ بحث کی جائے کہ انسان ذاتی طور پر ایک اجتماعی موجود ھے جس طرح شھد کی مکھی اور چیونٹی جو اجتماعی زندگی کا حق انتخاب نھیں رکھتے ؟ یا یہ کہ اجتماعی زندگی وہ چیز ھے جس کا انسان نے خود انتخاب کیا ھے؟ اس سلسلہ میں بھی بھت زیادہ بحث ھوئی ھیں ھم ان میں جانا نھیں چاھتے، صرف اس سلسلہ میں دو اھم نظریات کی طرف اشارہ کرتے ھیں:پھلا نظریہ یہ ھے کہ اجتماعی زندگی کے لئے کوئی خاص مقصد مانا جائے.دوسرا نظریہ یہ ھے کہ اجتماعی زندگی کا کوئی مقصد نھیں ھے.جیسا کہ یہ نھیں کھا جاتا کہ کیوں شھد کی مکھیا ں اجتماعی زندگی گذارتی ھیں، اور اس اجتماعی زندگی سے ان کا کیا مقصد ھے؟ ظاھر ھے کہ شھد کی مکھیاں ایک طبیعی ھدف رکھتی ھیں اور وہ یہ کہ شھد بناتی رھیں اور اپنی عمر اسی میں گذار تی رھیں،اس کے علاوہ ان کا کوئی ھدف نھیں ھے، البتہ خداوندعالم کی نظر میں ان شھد کی مکھیوں کے پیدا کرنے کے بھی بھت سے اھداف ومقاصد ھیں جن میں سے انسانوں کی خدمت ھے، الھٰی ھدف کے علاوہ شھد کی مکھیاںاپنی اجتماعی زندگی کا کوئی مقصد نھیں رکھتیں، تو کیا انسان کی اجتماعی زندگی بھی اسی طرح خود بخود پیدا ھوگئی ھے اور ان کا کوئی ھدف نھیں ھے؟ یا یہ کہ انسان کی اجتماعی زندگی ایک خاص ھدف کے تحت ھے جس کا لازمہ ایک دوسرے سے رابطہ ھے اور یہ رابطہ خاص قوانین کا تقاضا کرتا ھے؟اسلامی اورالھٰی نظریہ کے مطابق،انسان کی اجتماعی زندگی کا ایک ھدف اور مقصد ھے اور وہ یہ ھے کہ انسان اجتماعی زندگی کے سایہ میں رشد وترقی کرے اور انسانی کمال تک پھونچے. اس وقت سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ انسان کی خلقت کا ھدف کیا ھے؟ الھٰی نظریہ کے مطابق خصوصاً حضرت امام خمینیۺ اور دوسرے علماء کرام نے انقلاب اور اس کے بعد میں لوگوں کے سامنے جو بیانات پیش کئے ھیں ھم کو اسلامی معارف سے مزید آشنا کرتے ھیں ، اوریہ بات ھمارے معاشرہ کے لئے روشن ھے کہ انسان کا نھائی اور آخری ھدف قرب خدا ھے اور یہ انسانی کمال کی حد ھے۔البتہ اس مسئلہ میں ایک مقدار ابھام پایا جاتا ھے او راس کی وضاحت کی ضرورت ھے ،لیکن ھم اس وقت اس کوتفصیل سے بیان نھیں کرسکتے، بھرحال جو ھم نے عرض کیا کہ انسان کی خلقت ایک مقصد رکھتی ھے، لھٰذا انسان اپنی اس اجتماعی زندگی سے قرب پرروردگار حاصل کرے یھی اس کاآخری اور نھائی مقصد ھونا چاھئے، اور یہ نظریہ اجمالی طور پر سبھی لوگ تسلیم رکتے ھیں لھٰذا اگر ھم اس بات کو قبول کرلیں کہ انسان کی خلقت کا ھدف وہ کمال ھے جو خدا کی قربت میں حاصل ھوسکتا ھے،اور اجتماعی زندگی اس تک پھونچنے کےلئے ایک وسیلہ ھے تاکہ انسان کے لئے زمینہ ھموار ھوسکے کہ وہ اس کمال تک پھونچ سکے، اس کا مطلب یہ ھوا کہ اگر اجتماعی زندگی نہ ھو تو انسان ضروری معرفت حاصل نھیں کرسکتا اور نہ ھی ضروری عبادت انجام دے سکتا ۔نتیجتاً وہ کمال تک نھیں پھونچ سکتا.پس اجتماعی زندگی ھی وہ وسیلہ ھے جس میں انسان تعلیم وتعلم حاصل کرتا ھے اور انسان بھتر زندگی کے راستہ کو پھچان سکتا ھے، او راس کو طے کرنے کے لئے موقع فراھم ھوتاھے اور اس کے نتیجہ میں کمال تک زیادہ نزدیک ھوسکتا ھے، اگر ان برھانی مقدمات (جو اپنے مقام پر ثابت ھوچکے ھیں او ران پر دلائل بھی موجود ھیں) کو قبول کریں تو نتیجہ نکال سکتے ھیں کہ اجتماعی زندگی کا ھدف انسانی کمال تک پھونچنا ھے نہ کہ صرف مادی چیزوں کو حاصل کرلینا،بلکہ انسان کے تمام پھلوٴوں کوکامل ھونا چاھئے۔پس اجتماعی زندگی کا ھدف تمام انسانوں کے دنیوی اور مادّی منافع اور معنوی واخروی منافع کو فراھم کرے، اور چونکہ تمام انسانوں کا یہ ھدف ھے لھٰذا تمام انسان اس زندگی میں حق رکھتے ھیں.اب جبکہ یہ ثابت ھوچکا کہ انسان کی اجتماعی زندگی کا ھدف صرف مادی منفعتوں کا پورا ھونا نھیں ھے ،اور قانون کا ھدف بھی صرف امنیت کا برقرار ھونا نھیں ھے بلکہ امنیت کے علاوہ دوسرے اھداف بھی ھےں، جن کو پورا ھونا چاھئے ،لھٰذا امنیت وآسائش اور مادی احتیاجات کا پورا ھونا اس نھائی کمال اور تقرب الٰھی تک پھونچنے کے لئے ایک مقدمہ ھے۔بھرحال ، اسلامی نظریہ کے اعتبار سے انسان کی خلقت کا ھدف یہ ھے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام اطراف وجوانب میں تکامل وتقرب الی اللہ کے وسائل فراھم کرے اور اپنی زندگی کے تمام پھلوٴں کو الھٰی اور اسلامی سانچے میں ڈھالے، چونکہ انسان کے مختلف پھلو ھیں ،اس بناپر تمام ھی پھلوٴں کی پیشرفت ،انسان کی حقیقی پیشرفت وترقی ھے، نہ کہ صرف مادی ، اجتماعی اور ٹیکنیکی ترقیاں، لھٰذا مادی پھلوٴں کے ساتھ معنوی پھلوٴ مل کر انسان کی حقیقت سنوارتے ھیں، پس اجتماعی زندگی کا ھدف انسان کی تمام پھلوٴں کی پیشرفت وترقی ھے ،اور وہ قانون سب سے بھتر ھے کہ جس میں انسان کے تمام پھلوٴں کی ترقی کے لئے راہ ھموار ھو اور ان چیزوں کو مقدم کرے کہ جن کے ذریعہ سے نھائی ھدف یعنی قرب الھٰی تک پھونچاجاسکے۔

5۔ قانون گذار کی ضروری صفاتاسلامی حکومت یہ نھیں کھہ سکتی کہ ھماری ذمہ داری فقط معاشرہ کی امنیت کو پورا کرنا ھے،کیونکہ یہ تو “ھابز” کا نظریہ ھے کہ جو کھتا ھے کہ انسان بھیڑئے کہ طرح ھیں، جو ایک دوسرے کی جان کے پیچھے پڑے ھیں کسی ایک طاقت کا ھونا ضروری ھے تاکہ ان کو کنٹرول کرسکے. انسان کو چاھئے کہ اپنا اختیار کسی ایسے انسان یا گروہ کے ھاتہ میں دیدے جو ان کو کنٹرول کرسکے اور ان کے ظلم وستم سے بچاسکے، پس یہ کھنا کہ حکومت کی ذمہ داری صرف لوگوں کی امنیت پورا کرنا اور عسر وحرج سے روکنے کے علاوہ کچھ نھیں ھے ،بے شک یہ نظریہ باطل ھے اور جانوروں کی اجتماعی زندگی کے لئے مناسب ھے، نہ کہ انسانی معاشرے کے افراد کے لئے جو اشرف المخلوقات اور بھت سی قابلیتوں کے مالک ھےں،بلکہ ان کا ھدف بھت بلندوبالا ھے۔لھٰذااسلامی حکومت کو وہ قوانین جاری کرنا چاھئے جن سے انسان کے تمام پھلورشد وترقی کرسکیںاور انسان کے تمام مصالح کو تمام پھلووٴں میں پورا کرسکےں،اور یہ سب اسلامی پرچم کے زیر سایہ عملی ھوسکتے ھیں؛ اور چونکہ ایسے قوانین کے لئے ضروری ھے کہ انسان کے تمام پھلوٴں کا علم ھونا چاھئے.ھم ایسے افراد کو جانتے ھیں جو انسان کے بعض پھلو میں مھارت رکھتے ھیں. لیکن عام لوگوں میں کوئی ایسا نھیں ھے کہ جسے انسان کے تمام پھلوٴں کا علم ھو. اگر قدیم زمانہ میں ایسے فلاسفہ ھوا کرتے تھے جو اس طرح کا دعویٰ کرتے تھے۔لیکن آج انسان کا جھل اور لاعلمی پھلے سے کھیں زیادہ واضح ھے . انسان کے پھلو اس حدتک مخفی ھیں کہ کوئی دانشمند یہ دعویٰ نھیں کرسکتا کہ میں انسان کے تمام زاویوں پر احاطہ رکھتا ھوںاور انسان کی تمام ضرورتوں کو بتاسکتا ھوں، اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ ھے کہ کبھی کبھی انسان کی ضرورتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ھیں، ممکن ھے کہ بعض مقامات پر معاشی ترقیاں ،الھٰی ومعنوی امور سے ٹکرائیں، البتہ ھمارا اعتقاد یہ ھے کہ الھٰی احسن نظام نے انسانی تمام مصالح کوپورا کیا ھے، لیکن ممکن ھے کہ کسی معاشرہ میں کسی مقام پر انسانی مصلحتوں کے درمیان ٹکراؤ دکھائی دے۔لھٰذا ضروری ھے کہ ان مصالح کی طبقہ بندی کی جائے اور بعض چیزوں کو مقدم کرنے کے قائل ھوں، تاکہ اگر دو مصلحتوں میں ٹکراؤ ھو تو ذمہ دار افراد کو معلوم ھو کہ کس کو مقدم کیا جائے؟ قانون گذار کا یہ بھی ایک وظیفہ ھے کہ ان امور کو مشخص کرے جو اولیت رکھتے ھیںیعنی قانون گذار کے اندر یہ صلاحیت ھونا چاھئے کہ وہ اولویات کو مشخص اور معین کرسکے یھاں آنے کے بعد انسان کی ناتوانی او رکمزوری مزید ظاھر ھوجاتی ھے،کیونکہ انسان کی اولویات کو پھچاننا انسان کے بس مںی نھیں ھے۔بھر حال انسان کے تمام پھلووٴں پر احاطہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ،قانون گذار کے لئے ایک اھم نکتہ یہ بھی ھے کہ اپنے کو ذاتی او رگروھی خواھشات سے خالی کرے، اورمعاشرہ کے مصالح ومنافع کو اپنے یا اپنے گروہ کے مصالح پر مقدم کرے اور یہ کام ھر ایک کے بس کی بات نھیں ھے. صرف انسان متقی وپرھیزگار ھی اپنے ومعاشرہ کے منافعوں کے ٹکراؤ کی صورت میں معاشرہ کے منافعوں کو مقدم کرے او راپنے یا اپنے گروہ کی منافعوں سے چشم پوشی کرسکتا ھے او رآزادانہ طور پر معاشرہ کے منافعوں کو اپنے منافع پر ترجیح دے سکتا ھے، لیکن معاشرہ میں ایسے افراد کا ملنا مشکل ھے او رشاید تقریباً محال کی منزل میں ھو. پس نتیجہ یہ نکلا کہ قانون گذار کو تمام مصلحتوں سے آگاھی کے ساتھ ساتھ اس میں ایسی صلاحیت ھونا چاھئے اپنے منافع پر معاشرہ کے منافع کو مقدم کرے ۔یھی سے الھٰی قانون کی افضلیت بشری قانون پر مکمل طور پر واضح وروشن ھوجاتی ھے، کیونکہ خداوندعالم تمام لوگوں سے انسانی مصلحتوں کو بھتر جانتا ھے اور صرف انسان کی مصلحتوں کی رعایت کرتا ھے اور اس کو انسانی کردار کی کوئی ضرورت نھیں ھے،تاکہ انسان کے اعمال سے خدا کی کوئی مصلحت او راس کے لئے فائدہ ھو، جس کے نتیجہ میں مزاحمت پیدا ھو: خدا انسان کے کاموں سے کوئی نفع نھیں حاصل کرتا ھے تاکہ اس کا نفع دوسروں کے نفع سے ٹکرائے.یہ تمام چیزیں اس وقت ھیں کہ جب ھم اپنے منافع کو خدا کے حق ربوبیت کے علاوہ سمجھیں، لیکن اسلامی نظریہ کے مطابق ان تمام چیزوں سے بلند تر وہ بلند کمال ھے جس تک انسان کو پھونچنا ھے، ھم اسی بنیاد پر کھتے ھیں: بالفرض اگر انسانی زندگی کے مادی مصالح اور اجتماعی روابط یھاں تک کہ روحی ومعنوی مصالح پورے ھوجائیں، پھر بھی ایسا معاشرہ نمونہ نھیں بن سکتا. ایسا انسان او رمعاشرہ نھائی ھدف تک نھیں پھونچ سکتا،کیونکہ نھائی کمال خدا کی قربت میں ھے، اور یہ قربت خدا کی عبادت واطاعت اوربندگی سے حاصل ھوسکتی ھے۔اگر انسان صحت وسلامتی کے ساتھ ساتھ معاشرہ کا چین وسکون، اوردشمن کے مقابلہ میں دفاع اور عدالت سے ھمکنار ھو یعنی انسان تمام اجتماعی حقوق سے مالامال ھو، لیکن اس زندگی میں خدا کی عبادت نہ کی جائے، تو ایسا انسان نھائی کمال تک نھیں پھونچا ھے او رخدا کی رضا وخوشنودی کا مستحق نھیں ھوا ھے. اسلامی نظریہ کے مطابق ، یہ تمام چیزیں انسان کے خدا سے رابطہ کا مقدمہ ھےں، انسان کا حقیقی کمال اسی خدا سے رابطہ میں ھے. چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ انسان کا حقیقی کمال خدا کے قرب میں ھے. خدا کا قرب ایک نعرہ نھیں ھے بلکہ ایک حقیقت اور ایسا معنوی ارتباط ھے جو خدا اور انسان کے درمیان برقرار ھوتا ھے،اورانسان اپنی زندگی کے مراحل کو طے کرتا ھوا آگے بڑھتا ھے یھاں تک اس بلند مقام تک پھونچتا ھے. اس بلند مقام کی پھچان ھر عام انسان کے بس کی بات نھیں ھے، اور اس کو نھیں معلوم کہ انسان کے لئے کتنا عظیم مرتبہ ھے ،تاکہ مادی ودنیوی خواھشات کے ساتھ ساتھ اس روحانی ومعنوی کمال تک پھونچ جائے۔اور یہ بات بھی یھاں سے واضح ھوجاتی ھے کہ خداوندعالم کو ھماری عبادت کی کوئی ضرورت نھیں ھے ،لیکن پھر انسان کو عبادت کے لئے کیوں پیدا کیا جیسا کہ ارشاد ھوتا ھے :(مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالاِنْسَ إلاَّ لِیَعْبُدُونِ)(2)”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اسی غرض سے پیدا کیا ھے کہ وہ میری عبادت کریں”جواب یہ ھے کہ انسان کا نھائی کمال عبادت کے علاوہ حاصل نھیں ھوسکتا، لھٰذا خدا کی پھچان اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ھے تاکہ انسان اپنے حقیقی کمال تک پھونچ سکے. ان مقدمات کے پیش نظراب ھم یہ کھہ سکتے ھیں کہ وہ قانون مناسب ومطلوب ھے جو معاشرہ کے سرگرم افراد کی مادی ومعنوی احتیاجات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ، ناتوان وکمزور اپاھج لوگوں کی بھی احتیاجات پورا کرے جو کہ معاشرہ میں کچھ بھی خدمات انجام نھیں دے سکتے ، کیونکہ یہ بھی حقوق رکھتے ھیں۔اسلامی حکومت کا یہ وظیفہ ھے کہ ان لوگوں کے حقوق کو بھی تامین کرے، اور فقراء ومساکین اور اپاھج لوگوں کی ضرورتوں کو بھی پورا کیا جائے کیونکہ یہ بھی خدا کے بندے ھیں اور اس انسانی معاشرہ میں پیدا ھوئے ھیںاور جب تک زندہ ھیں ان کے حقوق کو دئے جائیں. لھٰذا معاشرہ میں وہ قوانین جاری ھوں ان لوگوں کے حقوق کو مدّ نظر رکھا جائے ، اسی وجہ سے قرآن نے عدالت کے علاوہ احسان پر بھی توجہ دلائی ھے ، ارشاد ھوتا ھے:(إِنَّ اللّٰہ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ)(3)”بے شک خدا انصاف اور (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے کا حکم کرتا ھے”خدا وندعالم کے احکامات صرف اخلاقی احکامات نھیں ھیں،بلکہ واجب احکام ھیں جن کی رعایت کرنا ضروری ھے، اور اگر صرف عدالت کی رعایت کرنا ضروری ھوتا تو پھر احسان کا اضافہ کرنا کیا ضروری تھا؛ پس جس طرح معاشرہ میں عدالت کا اجرا کرنا ضروری ھے، اسی طرح احسان کی رعایت بھی واجب ھے، یعنی صرف خدمات انجام دینے والے افراد ھی صاحب حقوق نھیں، بلکہ کچھ ایسے حقوق ھیں جن کو خداوندعالم نے ھر انسان کے لئے مقرر فرمائے ھیں، یھاں تک خداوندعالم نے ان افراد کے لئے بھی حقوق معین فرمائیں ھیں جواس دنیا میں بدترین حالات میں زندگی گذار رھے ھیں مثلاً ھاتہ پیر آنکہ اور کان سے محروم ھیںلیکن جب تک وہ سانس لے رھے ھیںاور زندہ ھیں تو اسلامی حکومت کو یہ حق ھے کہ وہ ان کے حقوق کی رعایت کریں. لھٰذا اس طرح کے قوانین پر حکومت اسلامی کو توجہ قرار دینا چاھئے، اور یہ نھیں سوچنا چاھئے کہ ھماری ذمہ داری فقط اتنی ھی ھے جس کو مغربی دانشوروں جیسے “ھابز” یا “روسو” وغیرہ نے کھا ھے، کیونکہ یا تو ان لوگوں کی نظر میں انسانی بلند مراتب نھیں تھے یا انسان کو بھیڑیا صفت یا شھد کی مکھیوں کی طرح مانتے ھیں،لیکن اسلام کی نظر میں انسان کی عظمت (اگرچہ اجتماعی زندگی بھی رکھتے ھیں)حیوانوں سے کھیں زیادہ بلند ھے۔پس قانون ایسا ھونا چاھئے جو انسان کی مادی اور معنوی ضروتوں پورا کرے جو نھائی کمال تک پھونچنے کا مقدمہ ھوں،اب اگر یہ مان لیا جائے کہ قانون کو انسان کی تمام مادّی ومعنوی مصلحتوں کی رعایت کرنا ضروری ھے تو پھر کیا انسان کو ھر طرح کی آزادی دی جاسکتی ھے؟ انسان کو اگر اس بلند مقصد تک پھونچنا ھے تو پھر اس کے ارادہ کو محدود اور سسٹمیٹک ھونا چاھئے، انسان کو ایک خاص راستہ پر چلنا ھوگا تاکہ اس بلند مقصد تک پھونچ سکے. کیا انسان کسی بھی راستہ پر چل کر اس بلند ھدف تک پھونچ سکتا ھے؟کیا وہ لوگ جنھوں نے خدا کو نھیں پھچانا یا خدا کا انکار کیا یا اس سے اور اس کے ماننے والوں سے مقابلہ کیا اس انسانی کمال تک پھونچ سکتے ھیں؟ کیا انسان کے کمال تک پھونچنے کا راستہ عبادت نھیں ھے ؟ تو پھر کس طرح وہ انسان جو خدا او رخدا پرستی سے مقابلہ کرتا آیا ھے انسانی حقیقی کمال تک پھونچ سکتاھے؟ اگر اسلامی حکومت کی ذمہ داری یہ ھے کہ انسانی پیشرفت کے لئے تمام پھلوٴں خصوصاً معنوی پھلو کے لئے راستہ ھموار کرے تو پھر انسانی ارادوں کو محدود ھونا چاھئے اور اس طرح کے قوانین بنائے جائیں جو انسان کے لئے ان کمالات عالیہ تک پھونچنے میں کوئی رکاوٹ نہ بنیں۔

6۔ اسلامی اور لیبرالیزم قوانین میں اختلافھمارے گذشتہ مطالب کے پیش نظرکہ اسلامی قوانین اور انسان کے بنائے قوانین(خصوصاً لیبرالیزم قوانین، جن کا ماننا یہ ھے کہ انسان کو حق معاشرہ کی خدمت کے عوض میں ملتا ھے) میںاختلاف پایا جاتا ھے ، چنانچہ ھم اس بات کو چند نکات میں بیان کرتے ھیں۔الف :لیبرال معاشرہ میں اپنی نظر کے مطابق ، جو لوگ اپنی مشکلات کی وجہ سے معاشرہ کی کوئی خدمت نھیں کرسکتے ان کے لئے کسی بھی طرح کے حق کے قائل نھیں ھیں،لیکن اسلام ان کے لئے بھی حق کا قائل ھے، اور ظاھر ھے کہ ان کے حق کی رعایت کے لئے اس کے منابع ھونا ضروری ھیں کیونکہ لوگوں کی ضروتوں کو پورا کرنے کے لئے کوئی ادارہ ھونا ضروری ھے ، اور اس ادارہ کی تامین کے لئے لازم ھوتا ھے کہ ھم دوسرے لوگوں کے ارادوں کو محدود کریں،یعنی معاشرہ کے مال کا کچھ حصہ ان لوگوں سے مخصوص کیا جائے، جبکہ دوسرے لوگ اس کو نھیں چاھےں گے،لھٰذا ان کی خواھشات کو لامحالا محدود کیاجانا پڑے گا۔ب :اجتماعی زندگی میں معاشرہ کے اندر ایسے حقوق کو پیش نظر رکھا جائے کہ اگر کسی موقع پر بعض افراد کے حقوق معاشرے کے حقوق سے ٹکرائیں تو معاشرے کے حقوق کو مقدم کی جائے، اور معاشرے کے حقوق اور افراد کے حقوق میں ٹکراؤ پیدا ھونے کی صورت میں، معاشرے کے حقوق کو مقدم ھونا چاھئے ، اور یہ کھنا کہ اگر معاشرہ کے حقوق اور فردی حقوق میں تعارض پیدا ھوجائے تو معاشرہ کے حقوق کو مقدم کیا جائے گا یا فردی حقوق کو، ھمیں اس بات کو مختلف نظریوں سے دیکھنا ھوگا کیونکہ اس بارے میں دو مختلف نظریہ پائے جاتے ھیں بعض لوگ انفرادی حقوق کو مقدم کرتے ھیں چنانچہ اس وقت مغربی دنیا میں جامعہ گرائی کے مقابلہ میں فرد گرائی زیادہ رائج ھے اگر جامعہ گرائی سوسیالسٹی(Socialisti) نظریہ بھی قدرے پایا جاتا ھے جس کی طرف سے گاھے گاھے فرد گرائی (صرف اپنے فکر کرنا) والوں پر اعتراضات ھوتے رھتے ھیں۔بھرحال لیبرال(Liberal) نظریہ کے مقابلے میں اسلام معاشرہ کے حقوق کو لوگوں کے حقوق سے زیادہ مانتا ھے یعنی اگر معاشرہ اور افراد کے حقوق میں ٹکراؤ پیدا ھوجائے خصوصاً اگر کو اھم ٹکراؤ ھو تو معاشرہ کے حقوق کو مقدم کیا جاتا ھے. لیکن لیبرال حکومتیںاس وجہ سے کہ مارکیٹ کا ریٹ نہ ٹوٹے اور مالداروں کا نقصان نہ ھو لاکھوں ٹن کھانے پینے کے سامان کو جلادیتے ھیں یا دریامیں ڈال دیتے ھیں ، لاکھوں لوگوں کا بھوک سے مرنا ان کو منظور ھے لیکن ان کا مادی نقصان نہ ھو، لیکن اسلام ھرگز اس طرح کی اجازت نھیں دیتایعنی اسلام کا نظریہ یہ ھے کہ ایسے افراد کو روکا جائے او ران کو محدود کیا جائے. لھٰذا نتیجہ یہ نکلاکہ معاشی آزادی بھی اس طرح بے لگام نھیں ھے بلکہ یہ آزادی بھی محدود ھونا چاھئے. پس جس طرح معاشرہ کے معذور ومحروم افراد کی وجہ سے معاشرہ کا منافع محدود ھونا ضروری ھے اسی طرح معاشرہ کے کلی مصلحتوں کی خاطر افراد کے ارادوں کو محدود ھونا چاھئے تاکہ تمام معاشرے کے مصالح تاٴمین ھوسکیں۔ج : اسلامی معاشرہ میں کچھ ایسے بھی مسائل ھیں جو خود اپنی ذات سے متعلق ھیں لیکن چونکہ ان کا اثر معاشرہ پر پڑتا ھے لھٰذا اجتماعی مسائل حساب ھوتے ھیں.مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے گھر میں تنھائی کے عالم میں جبکہ اس کو کوئی نہ دیکہ رھا ھو کسی گناہ کا مرتکب ھو تو بے شک اس کا یہ گناہ فردی ھے اور جو قوانین اس طرح کی چیزوں کو محدود کر تے ھیں ان کو “اخلاقی قوانین” کھتے ھیں (قطع نظر اس چیز سے کہ یھاں پر “اخلاقی ” کھنا صحیح ھے یا نھیں)مطلب یہ ھے کہ اگر کو ئی شخص تنھائی میں کسی گناہ کا مرتکب ھو تو دوسروں سے اس کا کوئی تعلق نھیں ھے او رحکومت کو بھی مداخلت کا کوئی حق نھیں ھے اس بات کو تقریباً تمام ھی سیاستداں حضرات قبول کرتے ھیں کیونکہ حکومت کا دائرہ معاشرہ تک محدود ھے نہ کہ شخص سے، لیکن یھاں اس بات پر اختلاف ھے کہ اگر کوئی شخص اس طرح کا کارنامہ انجام دے جس کاتھوڑا بھت اثر دوسروں پر پھونچتا ھویا کم سے کم یہ ھے کہ دوسرے لوگوں کو اسے دیکہ کر گناہ کرنے کا شوق ھوتا ھے تو کیا یہ کام اجتماعی شکل پیدا کرے گا یا نھیں؟اگر کوئی شخص سڑک پریا کوئی ایسی جگہ کہ دوسرے لوگ اس کو دیکہ رھے ھوں کوئی گناہ کرے ،اور اس کو دیکہ کر گناہ کرنے پر جرئت پیدا کرتے ھیںاو راس گناہ کے کرنے کا رجحان پیدا ھو ، تو اب اس کا یہ کام فردی حالت سے نکل کر اجتماعی شکل پیدا کرلیتا ھے ؛ کیا ھمیں حق نھیں ھے کہ اس کام میںدخالت کریںاس وجہ سے کہ اس گناہ کا ضررونقصان خود اسی کو پھونچے گا؟!اسلام تو اس چیز کی اجازت نھیں دیتا، اسی وجہ سے تظاھر بہ فسق (کھلے عام گناہ کرنا) ایک اجتماعی مسئلہ حساب ھوتا ھے. اگر کوئی شخص دوسروں کے سامنے گناہ کا مرتکب ھوتا ھے تو یہ گناہ حقوقی جرم (اخلاقی خلاف ورزی کے مقابلہ میں) ھے اور حکومت اس میں دخالت کرسکتی ھے. وہ قانون جو اس طرح کے گناھوں سے منع کرتا حکومتی قانون کھا جاتا ھے جس کے جاری کرنے کی حکومت ذمہ دار ھوتی ھے۔لھٰذا اگر تنھائی میں گناہ انجام پائے او رکسی کو پتہ بھی نہ لگے تو اس سے حکومت کا کوئی سروکار نھیں ھے اور کوئی عدالت ایسی نھیں کہ جو اس کو محکوم کرے، لیکن اگر گناہ اجتماعی صورت پیدا کرلے جس سے دوسروں میں بھی گناہ کا رجحان پیدا ھو تو اس وقت حقوقی او راجتماعی پھلو پیدا ھوجاتا ھے او رحکومت کی ذمہ داری ھے کہ ایسے گناھوں سے روکے۔د : گناہ اور معاشرے کو ضرر پھونچانا صرف مادّی چیزوں میں منحصر نھیں ھے بلکہ حیثیت اور آبرو کو ضرر پھونچانا بھی گناہ وجرم حساب ھوتا ھے. کسی بھی معاشرہ کو لے لیجئے کسی کی بے حرمتی او رتوھین کرنا چاھے فیزیکی اور ظاھری طور پر نہ ھو(مثلاً کسی کو توھین آمیز اور مذاق بنانے والی باتیں کھنا) گناہ سمجھا جاتا ھے، او رچونکہ دوسرے سے متعلق ھوتا ھے تو حکومت کو اس سلسلہ میں سزا دینے کا حق حاصل ھے،اسلامی معاشرہ میں دینی مقدسات کی توھین کرنا مسلمانوں کے نزدیک سب سے بڑی خلاف ورزی ھے، او راگر کوئی دین کی توھین کرے تو اس کی سزا بھی زیادہ ھونا چاھئے، کیونکہ اسلامی معاشرہ میں دینی مقدسات سے بڑہ کرکوئی چیز نھیں ھے، لھٰذا دینی مقدسات کی توھین سب سے بڑا جرم ھے۔چنانچہ اس کے لئے سزا بھی سب سے بڑی ھونا چاھئے، اسی بناپر اگر کوئی مرتد ھوجائے یا اسلامی مقدسات کی توھین کرے تو اس سے کوئی معاملہ نھیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر کوئی پیغمبر اکرم یا دوسری مقدسات کی توھین کرے تو اسلام کی نظر میں اس کی سزا پھانسی ھے؟ کیونکہ اس نے سب سے بڑا جرم کیا ھے کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک اس سے مقدس ترین کوئی چیز نھیں ھے اور ان مقدسات کی توھین سب سے بڑا جرم ھے لھٰذا اس کی سزا بھی سب سے بڑی یعنی پھانسی ھے اور یہ ایک بنیادی اختلاف ھے کہ جو اسلام اور لیبرال نظریہ میں پایا جاتا ھے۔یہ لوگ کھتے ھیں کہ اگر کسی نے آپ کو گالی دی ھے تو آپ بھی گالی دیدیں، یہ کوئی جرم نھیں ھے؛ کیونکہ زبان چلانا آزاد ھے! مثلاً اگر کسی نے آپ کے پیغمبر کو برا کھا ھے تو آپ ان کے پیغمبر کو برا کھہ دیں. لیکن اسلام کا نظریہ یہ نھیں ھے ، اسلام میں اسلامی مقدسات کی توھین کرنا سب سے بڑا جرم ھے اور صرف حقوقی پھلو نھیں ھے بلکہ جزائی او رسزائی پھلو رکھتا ھے، لھٰذا اس کے لئے سزا بھی اتنی ھی سخت رکھی گئی ھے اس طرح کی توھین کسی ایک فرد کی توھین نھیں ھے بلکہ پورے اسلامی معاشرہ کی توھین ھے. حقوقی مسائل ایک کے رابطہ سے مربوط ھے: اگر کسی نے کسی کو طمانچہ مارا ھے تو اسے بھی بدلے کا حق ھے ، وہ اس کی شکایت بھی کرسکتا ھے او رممکن ھے اس کو جیل بھیج دیا جائے یا اس کومالی جرمانہ دینا پڑے؛ لیکن اگر وہ شخص اس کو معاف کردے تو پھر قضیہ تمام ھوجاتا ھے اور عدالت بھی اس کو کچھ نھیں کھے گی، لیکن سزائی احکام میں اس طرح نھیں ھے،یھاں تک کہ اگر شکایت کرنے والا بھی اس کو معاف کردے تو بھی مدعی العموم (جو لوگ معاشرہ کے حقوق کے دفاع کرنے والے ھیں) حق رکھتے ھیں کہ اس کی پیروی کرے، کیونکہ یہ بے احترامی پورے معاشرے کی بے احترامی ھے، لھٰذا مدعی العموم اس کی شکایت کرسکتے ھیں۔اسلامی مقدسات کی توھین کسی ایک فرد کی توھین نھیں ھے کہ کوئی خاص فرد اس کی شکایت کرے اور اگر شکایت کرنے والے نے معاف کردیا تو مسئلہ تمام ھوجائے گا، پھر عدالت بھی اس کی تعقیب نھیں کرے گی. لیکن اگر کوئی اخبار یا تقریر میں اسلامی مقدسات کی توھین کرے تو ایسا شخص اسلام کی نظر میں محکوم ھے اور اسلامی قاضی کو اس کی تعقیب کرنا ھوگی؛ کیونکہ اس نے اسلامی معاشرہ اور مسلمانوں کے حقوق کو پامال کیا ھے اورشخصی وفردی مسئلہ نھیں ھے بلکہ کیفری وسزائی مسئلہ ھے کوئی اس جرم کو معاف نھیں کرسکتا، کیونکہ یہ ایک ایسا حق ھے کہ جو تمام مسلمانوں سے متعلق ھے بلکہ اس سے بڑہ کر یہ کہ یہ خدا سے مربوط ھے،یہ ایسے مسائل ھیں جن کے بارے میں مسلمان دانشور طبقہ خصوصاً ھمارے یونیورسٹی کے طالب علم توجہ رکھیں او رخیال نہ کریں کہ اسلام کے سیاسی وحقوقی مسائل مغربی نظریہ کی طرح ھیں اور صرف اس دنیا کے مادی ودنیوی مسائل سے مربوط ھیں. اسلامی نظریہ کے مطابق معاشرہ کے حقوق فردی حقوق پر مقدم ھیں، اور صرف خدمت کے عوض کسی کو حق نھیں ملتا۔بلکہ ھر وہ شخص جو اسلامی معاشرہ میں زندگی گذارتا ھے حق رکھتا ھے اور یہ حق کسی خاص گروہ سے مربوط نھیں ھے؛ اور جیسا کہ ھم نے عر ض کیا کہ معاشرہ بھی کچھ حقوق رکھتا ھے اوراس کے حقوق دوسرے افراد کے حقوق پر مقدم ھیںاور یہ حقوق صرف مادی نھیں ھیں بلکہ ان میں معنوی حقوق بھی شامل ھیں، اور صرف دنیاوی منافع سے مربوط نھیں ھیں بلکہ اخروی ومعنوی مصالح سے بھی مربوط ھیں۔اب تک جو کچھ ھم نے عر ض کیا اس سے اسلامی قوانین کا دوسرے قوانین سے امتیاز واضح ھوجاتا ھے ،اور سمجھ میں آتا ھے کہ کیوں اسلامی معاشرہ میںانسانوں کے فردی ارادوں کو محدود کرنا ضروری ھے اور سیکولر،لائک او رلیبرال نظریات کی طرح نھیں ھیں، اس کی وجہ یہ ھے کہ جو چیز ارادوں کو محدود کرسکتی ھے وہ مادی او رفردی منافع ھیں. لیکن اسلام میں معنوی واخروی منافع بھی ھیں، اور ان مصلحتوں میں سے ھر ایک خاص محدودیت چاھتی ھے جس کا لازمہ یہ ھے کہ اسلامی معاشرہ میں فردی آزادی ،لائک ولیبرال معاشروں سے کمتر پائی جاتی ھے، اور اسی چیز کا اسلامی حکومت مذھبی اعتقاد کی بناپر تقاضا کرتی ھے اور ھم کمال وضاحت اور شجاعت کے ساتھ اس کا دفاع کرتے ھیں۔

حوالےسورہ نحل آیت90سورہ ذاریات آیت 56سورہ نحل آیت 90

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.