زمانہ غیبت سے متعلق تنبیہ

263

بسم اللہ الرحمن الرحیم
«قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاء مَّعِينٍ»[1]
ان سے کہيں کہ مجھے بتائیں اگر ان کے استعمال میں آنے والا پانی زمین میں چلا جائے تو کون جاری پانی تمہارے لئے فراہم کرسکتا ہے ؟
«ارایتم »کالفظ ھمزہ استفہام اور فعل «رایتم» سے مرکب ہے۔يہي ترکیب اور اس کي مانند ترکيبيں ۳۰مرتبہ سے زیادہ قرآن میں استعمال ہوئی ہے ۔یہ ترکیب ایسے مقامات میں استعمال ہوئی ہے کہ جہاں مخاطب کے لئے زیادہ دقت نظرکی ضرورت ہوتی ہے اور«اخبرونی» یعنی «مجھے خبردو »کے معني ميں ہے۔لفظ «معین» اگر «معن »کے مادہ سے ہو،تو جاری ہونے کے معنی میں ہے ۔لیکن اگر« عین» کے معنی سے ہو، تو اس کا معني ظاہر اور نماياں ہوتاہے۔
زمين دو عنصروں سے تشکيل پائي ہے :ایک جذب کرنے والا عنصر کہ جو پانی کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے دوسرا جذب نہ کرنے والا عنصر کہ جو پانی کو جذب ہونے سے روکتا ہے۔ تمام چشمے، کنویں ،نہریں وغیرہ اس خاص ترکیب کی برکت سے وجود میں آتے ہیں؛ کیونکہ اگر زمین بہت گہرائی تک جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ،تو تمام پانی اس کے اندر چلا جاتا اور کوئی بھي اس پانی تک پہنچ نہیں سکتا تھا۔اسي طرح اگر زمین کی تمام سطح جذب کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی تو تمام پانی زمین کے اوپر رہتا اور بہت بڑي دلدل تشکيل پاتي يا دریاؤں میں گر جاتا جس کے نتیجے میں زمین کے نيچے پانی کا کوئی ذخیرہ باقی نہیں بچتا ۔یہ خدا کی عام رحمت کا ادنی سا نمونہ ہے کہ جس پر انسان کی زندگی اور موت کا انحصار ہے ۔[2]
آیت کا ظاھری کلام آب جاری کی اہمیت کو انسانی زندگی کے لئے بیان کررہا ہے؛ لیکن بہت سی روایات میں آب جاری کا مصداق« امام مہدی(عج)کا مقدس وجود»بتایا گیا ہے۔ معتبر روایات میں امام محمد باقر عليہ السلام سے نقل ہوا ہے:
«ھذِہ نزَلَتْ في القائم عليہ السلام يَقُولُ: اِنْ اَصبَحَ اِمامُکُمْ غائباً عَنْکُمْ لاتَدرُونَ أيْنَ ھُوَ فَمَنْ يَأتِيکُمْ بِامامٍ ظاھرٍ يَأتِيْکُمْ بِأخبارِ السَّماءِ وَالارْضِ وحَلالِ اللہِ جَلَّ وَعزَّ وَ حَرامِہِ۔ ثم قال عليہ السلام: واللہِ ما جاءَ تَأويلُ الآيۃِ وَلا بُدَّ أنْ يَجِيء تَأويلُھَا»[3]
یہ آيت امام قائم(عج) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر تمہارا امام (عج)غائب ہو اور يہ نہ جانو کہ کہاں ہے ؟کون تمہارے لئے امام کو ظاہر کرے گا تاکہ وہ زمین و آسمان کی خبریں اور خدا کے حلال و حرام کو تمہارے لئے بیان کرے ؟ پھر فرمايا: خدا کی قسم اس آیت کی تاویل ابھی تک پوري نہیں ہوئی بہرصورت پوري ہوگي۔
تھوڑا سا غورو فکر کرنے سے واضح ہوتاہے کہ آيت ميں پاني(جو انسان کی مادی حیات کا ضامن ہے) امام زمانہ عليہ السلام کے وجود مقدس کی نسبت (جو کہ انسانی معاشرے کی معنوی حیات کا سبب ہیں) ایک قابل قبول امر ہے ۔ انسانی معاشرے میں امام (عج)کا کردار پانی کی طرح نہایت اساسی اہمیت کا حامل ہے۔ البتہ ان دونوں کے درمیان شباہتیں موجود ہیں:
(١)۔قرآن کریم میں تمام موجودات کي حیات کا سبب پانی کو بتایا گیا ہے:
«وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَيْءِ حَيِّ»[4] ہم نے تمام چیزوں کو پانی کے ذریعے حیات عطا کی ۔
امام مہدی کی امامت بھی انسان کی فکری و معنوی حیات کا سبب ہے؛ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:
«اِذَا قامَ قائمنا وَضَعَ اللہُ يَدَہ عَلي رُؤوس العِبادِ فَجَمَع بِھا عُقُولَھم وَکَمُلَت بِھا أَحلامَھُمْ»[5]
جب ہمارا قائم قیام کرے گا ،خداوندعالم اپنے ہاتھ کو اپنے بندوں کے سر پر رکھے گا ،جس کی وجہ سے ان کی عقليں جمع اور کامل ہوجائیں گی ۔
(۲)جیسا کہ پانی کا اوپر سے نازل ہوتا ہے، اسی طرح حضرت مہدی (عج)کی امامت اور آنحضرت (عج) کاظہور بھی آسمانی امر ہے ۔ قرآن کریم پانی کے متعلق فرماتا ہے:«وَأَنزَلَ مِن السَّماء ماءً»[6] خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اور امامت کے متعلق فرماتا ہے:« لاینال عھدی الظالمين»[7] میرا منصب امامت ستمگروں تک نہیں پہنچ سکتا۔
(۳)پانی پاکیزگی کا سبب اور غلاظتوں کو دور کرتا ہے ۔امام مہدی (عج)کی حکومت بھی پاکیزگی اور قلبی طہارت کا سبب ہوگی۔ ایک روایت میں امام علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے:«لَو قَد قَامَ قائمنا… لَذھَھَبَتْ الشَّحْناءُ مِنْ قُلوبِ العباد»[8]
جب ہمارا قائم قیام کرے گا…۔ لوگوں کے دلوں سے دشمنی کاکینہ ختم ہوجائے گا۔
جس طرح اگر پانی زمین کی گہرائی میں چلا جائے، تو کوئی بھي شخص پاني حاصل نہیں کرسکتا ؛ بلکہ انسان اپنی تمام قدرت کے باوجود پانی تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ اگر امام خدا کے ارادے سے پردہ غیب میں ہوتو لوگوں کویہ حق نہیں ہے کہ اپنے درمیان میں سے کسی کا انتخاب کریں اور اسے امام بناديں؛ بلکہ وہ آسمانی امام اور پیشوا کے محتاج ر ہيں گے۔ بس اس صورت ميں لازم ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشريف کو تلاش کرتے رہیں اور خدا سے ان کے ظہور کی دعا کریں؛ جیسا کہ پانی میسر نہ ہو تو لازم ہے خدا سے طلب کریں کہ خدا ان کے چشموں کو بھردے۔
امام موسی بن جعفر علیہ السلام اپنے بھائی علی بن جعفر کو جواب دیتے ہوئے اس آیت کی تاویل فرماتے ہیں:
«اِذَا فَقَدْتُمْ اِمامَکُم فَلَم تَرَوہُ فَمَاذا تَصنَعُونَ»[9]
جب تمہارا امام تمہارے درمیان نہ ہو اور تم اسے دیکھ نہ سکو پھر اس وقت کیا کروگے؟
اس بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ آیت کا مضمون امام مہدی (عج)کی غیبت کے زمانےپر بھی دلالت کرسکتا ہے ؛جیسا کہ پيغمبراکرم ﷺنے جب اپنے بارہ جانشینوں کی خبر دی تھی،تو اس وقت عمار یاسر نے آنحضرت (ص)سے امام مہدی (عج)کے متعلق سوال کیا،جواب میں پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«يا عَمّار! اِن اللہ- تبارک و تعالي- عَھدَ اليّ أنّہ يَخْرُجُ مِنْ صُلبِ الحسين آئمۃ تِسْعَۃً والتاسِعُ مِنْ وُلدِہ يَغيبُ عَنْھم و ذلک قولہ عزّوجلّ : قل أرأيتُم اِن أصبَحَ ماؤکم غوراً فَمَنْ يأتيکم بِماءِ معينٍ تکون لہ غيبۃ طويلۃ ، يرجع عنھا قوم و يثبت عليھا آخرون فاذا کان في آخر الزمان يخرج فَيَملأ الدنيا قسطا وَ عدلاً کَما مُلِئت جَوراً و ظُلماً…»[10]
اے عمار! اللہ تعالی نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ حسین کی نسل سے نو امام ہونگے اور ان میں سےنواں ان کے درمیان سے غائب ہوجائے گا۔ یہ وہی خدا کا فرمان ہے کہ جس میں اس نے فرمایا ہے: کہو اے پيغمبر مجھے بتائیں جب ان کا مورد استعمال پانی زمین میں چلا جائے گا ،تو کون ہے جو ان کی دسترس میں جاری پانی قرار دے؟ مہدی کے لئے طولانی غیبت ہوگی کہ ایک گروہ ان کی امامت سے منحرف ہوجائے گااوردوسرا ثابت قدم رہے گا اورجب آخری زمانہ ہوگا تو وہ قیام کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا ؛جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر ی تھی ۔
نتیجہ
معمولی سا غوروفکر کرنے سے ہم جان لیتے ہیں کہ آحادیث کی تائید سے قران مجید کی بہت سی آیات مستضعفین اور عدالت کی عالمی حکومت اور حضرت مہدی (عج) کی رہبری کو بیان کررہی ہیں۔
[1] ۔ملک، آيہ ٣٠.
[2] ۔تفسير نمونہ، ج٢٤، ص٣٥٨.
[3] ۔کمال الدين و تمام النعمہ، ج١ ، باب٣٢، ص٣٢٥، ح٣.
[4] ۔انبياء،آيہ٢٢.
[5] ۔کافي، ج١ ، کتاب العقل والجھل، ص٢٥، ح٢١.
[6] ۔ بقرہ، آيہ ٢٢.
[7] ۔اس وعدہ الہي سے مراد امامت ہے، رجوع کريں تفسير مجمع البيان والميزان، ذيل آيہ.
[8] ۔شيخ صدوق، الخصال، ج٢ ، ص٦٢٦.
[9] ۔شيخ طوسي، کتاب الغيبہ،ص١٦٠.
[10] ۔البرھان في تفسير القرآن، ج٨، ح١ ، ص٧٩.
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.