وصیت کے مفہوم کی تاویل میں

446

وصیت کے مفہوم کی تاویل میں ایک اور عالم کی پریشانی

حضرت علی(ع)نے وصایت میں فرمایاہے:

لایقاس بآل محمد من ھذہ الامة احد ھمھم اساس الدین ولھم خصائص حق الولایة وفیھم الوصیة والوراثة

اس امت کے کسی فرد کا موازنہ آل محمد(ص) کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا  وہ دین کی اساس ہیںوہ استحقاق ولایت کی خصوصیات کے حامل ہیں۔ وہ صاحبان وصیت و وراثت ہیں۔

ابن ابی الحدید شافعی نے وصیت کے بارے میں حضرت علی(ع) کے اس کلام کی تشریح کرتے ہوئے کہاہے:

رہی وصیت تو اس کے بارے میں ہمارے ہاں طے شدہ بات یہ ہے کہ علی(ع) وصی رسول(ص) ہیں اگرچہ اس بارے میں بعض لوگ مخالفت کریں جو ہمارے نزدیک معاندین میں شمار ہوتے ہیں۔ البتہ ہمارے ہاں وصیت سے مراد خلافت کی تصریح نہیں بلکہ کچھ دیگر امور ہیں جن کی حقیقت سے پردہ اٹھ جائے تو شاید وہ زیادہ عظمت اور اہمیت کے حامل ثابت ہوں۔

یہ تھا ابن ابی الحدید کا قول۔ اب ہم اس کے جواب میں یوں عرض کریں گے:حضرت علی(ع)نے یہ نہیں فرمایاکہ میں ولایت، وصیت اور وراثت کا حقدار ہوں۔ اگر ایسا فرماتے تو شاید یہ تاویل کی جاسکتی کہ اس سے مراد فقط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھرانے کے بارے میں ولایت،وصایت اوروراثت کا حق ہے بلکہ آپ نے فرمایا:

آل محمد دین کی اساس ہیں (رسول کی)وصیت انہی کے حق میں ہےالخ۔

امام(ع) نے وصیت کے ساتھ یہ صفات آل رسول(ص) کے لیے ثابت کی ہیں۔ بنابریں اس بات کا کوئی مطلب نہیں بنتاکہ آل رسول(ص) کو آل رسول(ص) پر حق وصیت حاصل ہو۔امام(ع)نے وصیت کو آل رسول(ص)کے لیے ثابت کیا ہے جبکہ آپ ان میں سے ایک فرد ہیں۔باقی ماندہ آل رسول(ص) سے مراد آپ کی ذریت کے گیارہ امام ہیں۔یہی وجہ تھی کہ ابن ابی الحدید شافعی اس مقام پر وصیت کی تاویل کے مسئلے میں چکراگئے۔ انہیں طبرانی کی تاویل کو رد کرنے کی سکت بھی نہیں ہوئی اور یہی کہنے پر اکتفاء کیا کہ ہمارے ہاں وصیت سے مراد خلافت کی تصریح نہیں بلکہ کچھ دیگر امور ہیں۔ ہم مذکورہ روایت کی تاویل میں حیرت کا شکار ہونے والے اس عالم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ”دیگر امور “کیاتھے جن کا تذکرہ آپ نے مناسب نہیں سمجھا؟

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کتمان حقیقت کے اس شعبے میں علماء اور حکمران طبقے کے مفادات جب احادیث رسول(ص) سیرت رسول(ص) اور اہل بیت  رسول(ص) سے ٹکراتے ہوں یا جن سے ان پر اعتراض وتنقید کا پہلو نکلتاہو۔یوں وہ ان حصوں کو حکمران طبقے کے مفادات اور ان کی تعریف و توصیف کے حامل مفہوم کا لباس پہناتے ہیں۔
۴۔ صحابہ کے اقوال کے بعض حصوں کو حذف کرنااس کی طرف اشارہ کیے بغیر

کتمان حقیقت کے شعبوں میں سے ایک یہ ہے کہ کسی روایت کے کچھ حصوں کو حذف کرنا اور اس حذف شدہ حصے کی طرف اشارہ کیے بغیر گزر جانا۔ جیسا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نعمان بن عجلان انصاریکے قصیدے کے ساتھ یہی کچھ ہوا ہے۔ اس قصیدے کے دوبند وصیت کے بارے میں کہے گئے اشعار کے باب میں بطور مثال بن چکے ہیں۔سقیفہ میں عمرو بن عاص نے انصاریوں کے خلاف بات کی تو نعمانبن عجلاننے اس کا جواب ایک قصیدے سے دیا جس میں قریش کے ساتھ رسول اللہ(ص) کی جنگوں کے دوران انصار کی کارکردگی نیز مہاجرین قریش کو پناہ دینے اور ان کے ساتھ اپنے اموال کو تقسیم کرنے کا تذکرہ ہے۔اس کے بعد سقیفہ کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
وقلتم حرام نصب سعد ونصبکم
 عتیق بن عثمان حلال ابابکر
 واھل ابوبکر لھا خیر قائم
 وان علیاً کان اخلق بالامر۱
وکان ھوانا فی علی وانہ
 لاھل لھا یاعمرو من حیث لاتدری
 فذاک بعون اللہ یدعوا الی الھدی
 وینھی عن الفحشاء والبغی والنکر
وصی النبی المصطفیٰ او ابن عمہ
 وقاتل فرسان الضلالة والکفر
 وھذا بحمد الله یھدی من العمی
ویفتح آذاناً ثقلن من الوقر
 نجی رسول اللہ فی الغار وحدہ
وصاحبہ الصدیق فی سالف الدھر ۱

ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اس قصیدے کو نعمان بن عجلان کے حالات زندگی کے ساتھ مکمل طور پر نقل کیاہے۔ ہاں اس نے ان دو اشعار کو حذف کیاہے۔
فذاک بعون اللہ یدعوالی الھدی
 وصی النبی المصطفیوابن عمہ
وینھی عن الفحشاء والبغی والنکر
 وقاتل فرسان الضلالہ والکفر

ابن عبدالبر نے ان دو اشعار کو اس لیے حذف کیاہے کیونکہ شاعر نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابن عم حضرت علی(ع) کی مدح کرتے ہوئے انہیں رسول(ص) کا وصی بتایاہے۔اس کے برعکس انہوں نے حضرت ابوبکرکی تعریف پر مشتمل دواشعار کو باقی رکھاہے۔ اس کے بعدموٴرخ ابن اثیر کا زمانہ آیا اور اس نے” اسد الغابہ“ میں حضرت نعمانکے حالات میں لکھاہے کہ ان کے اشعار سے انصار کی جنگوں اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلافت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔اس کے بعد ابن اثیر حضرت نعمانکے قصیدے کے صرف ابتدائی اشعار کونقل کرتے ہیں۔جن میں انصارکی جنگوں کا ذکر ہے مگر ان اشعار کو دیتے ہیں جن میں خلافت کے مسئلے پر سقیفہ میں ہونے والی کھینچاتانی کی طرف اشارہ ہے اور ان روایتوں کا بھی تذکرہ نہیں کیا جن میں حضرت علی(ع) کی مدح سرائی ہوئی ہے خاص کر اس بات کی کہ علی(ع) نبیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصی ہیں۔ابن اثیر کے بعد علامہ ابن حجرعسقلانی کا دور آیا۔انہوں نے حضرت نعمانکے حالات میں لکھاہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے بارے میں چند فخریہ اشعار کہے ہیں۔اس کے بعد علامہ ابن حجر ان ابیات کو نقل کرتے ہیں جن میں انصارکی جنگوں کا تذکرہ ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اس قصیدے کے کچھ اشعار خلافت سے متعلق ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علماء نے روایات کے ان حصوں کو حذف کرنے کا عمل جاری رکھا جو ان کو راس نہیں آتے تھے۔یوں ہم لوگ تاریخی حقائق کے ادراک سے دور ہوتے چلے گئے۔

اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ زبیر بن بکار (متوفی ۲۵۶ھ)نے اپنی کتاب ”الاخبار الموفقیات“ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امر خلافت میں ہونے والے اختلافات کا ذکر کیانیز اس سلسلے میں کہے گئے خطبوں اور اشعار کے ساتھ نعمانبن عجلان کے قصیدے کا بھی تذکرہ کیا جس میں حضرت علی(ع) کے فضائل خاص کر آپ کے وصی نبی(ص)ہونے کا ذکر ہواہے۔ابن بکار کے بعد حافظ ابن عبدالبر(متوفی ۴۶۳ھ)کو اس غلطی کا احساس ہوا اس لیے انہوں نے مذکورہ دو اشعار حذف کردیے۔ حافظ ابن عبدالبر کے بعد ابن اثیر(متوفی ۶۳۰ھ)کا دور آیا اور انہوں نے احساس کرلیا کہ خلافت پر ہونے والے جھگڑے کا ذکر بھی مفید نہیں ہے چنانچہ انہوں نے حضرت علی کی تعریف پر مشتمل اشعار کے علاوہ مذکورہ قصیدے سے ان اشعار کو بھی نکال دیا جن میں مسئلہ خلافت پر اصحاب کے جھگڑے کا تذکرہ ہے۔اس کے بعد انہوں نے خلافت کا ذکر کیاہے۔ ان دونوں کے بعدعلامہ ابن حجرعسقلانی (متوفی ۸۵۲ھ)کازمانہ آیا اور انہوں نے بھی مذکورہ باتوں کو حذف کیااور یہ بھی نہ کہاکہ قصیدے میں خلافت کا تذکرہ ہوا ہے۔یوں جوں جوں زمانہ گزرتا گیا علماء ان حقائق کی پردہ پوشی کی شرح میں اضافہ کرتے چلے گئے جن کا تذکرہ خلفاء کے لیے مفید نہ تھا۔

جب ہم گزشتہ بحثوں میں ذکر شدہ وصیت سے مربوط باتوں اور آنے والی بحثوں میں حقائق کی پردہ پوشی کی اقسام میں وصیت کے تذکرے کو چھپانے کا حال دیکھیں تو خوب واضح ہوجاتاہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے حضرت علی(ع) کو وصی بنانے کا تذکرہ اور اس بات کی تشہیر بعض لوگوں کو پسند نہیں ہے۔اسی لیے انہوں نے مذکورہ قصیدے اور روایت سے اس قسم کی باتوں کو حذف کر دیاہے اور یہ بھی نہیں بتایا کہ انہوں نے ان دونوں میں سے کسی چیز کو حذف بھی کیاہے۔اس قسم کی پردہ پوشی کتابوں میں پردہ پوشی کی دیگر اقسام سے زیادہ پائی جاتی ہے خواہ حدیث رسول(ص) کے حوالے سے ہویا آپ کی اور آپ کے صحابہکی سیرت کے حوالے سے۔اگر ہم وصایت کے مسئلے سے ہٹ کر سنت رسول کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں اس قسم کی پردہ پوشی کی مثالوں کا ذکر کرنا شروع کریں تو بات طویل ہوجائے گی۔
۵۔ پوری حدیث کو حذف کرنا حذف کی طرف اشارہ کیے بغیر

معروف سیرت نگار ابن ہشام نے سیرت ابن اسحاق سے سیرت رسول(ص) کے بارے میں ان روایات کو اپنی کتاب سیرت میں نقل کیاہے جو بکائی سے مروی ہیں۔کتاب کی ابتدا میں ہی ابن ہشام اپنی روش نگارش کے بارے میں کہتے ہیں :”میں اس کتاب میں ابن اسحاق کی ذکر کردہ بعض باتوں کا تذکرہ نہیں کروں گا۔اس کے علاوہ ان باتوں کا بھی تذکرہ نہ کروں گا جن کابیان کرنا قباحت سے خالی نہیں اور نہ ہی ان چیزوں کا جن کا ذکر کرنا عوام کے لیے ناگوار ہو۔“

ابن ہشام نے ابن اسحاق کی کتاب سیرت سے جن چیزوں کو حذف کیاہے(جن کا ذکربقول اس کے لوگوں کے لیے ناگوار ہے)ان میں سے ایک دعوت ذوالعشیرہ کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیََِْنَ والی آیت اترنے پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی عبدالمطلبکو دعوت دی تھی۔چنانچہ طبری نے اپنی تاریخ میں ابن اسحاق کی سند کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیاہے کہ آپ (ص)نے بنی عبدالمطلب کو دی گئی دعوت میں فرمایا:

تم میں سے کون ہے جو اس امر میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ اس کے بدلے میں وہ میرا بھائی، میرا وصی اور تمہاے درمیان میراخلیفہ قرار پائے؟اس بات پر ان سب نے خاموشی سادھ لی لیکن علی ابن ابی طالب نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول(ص)!اس کام میں آپ(ص) کا ہاتھ میں بٹاؤں گا۔ پس آپ(ص) نے میری (یعنی علی(ع)ابن ابی طالب کی)گردن تھامی اور فرمایا:یہ ہے تمہارے درمیان میرابھائی، میراوصی اور میرا خلیفہ۔پس اس کی سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ لوگ ہنستے ہوئے وہاں سے اٹھ گئے وہ ابوطالب سے کہہ رہے تھے:لواس (محمد)نے تجھے حکم دیاکہ تم اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔  2

ابن ہشام نے اس واقعے کو حذف کیا ہے نیز اسی طرح کی بہت سی دیگر باتوں کو بھی چھپایاہے جن کا لوگوں سے ذکر کرنا اس کی نظر میں برے اثرات کاحامل تھا۔

ان لوگوں سے اس کی مراد خلفاء کے طرفداروں کی جماعت ہے۔3  اسی لیے سیرت ابن اسحاق کو نظر انداز کردیاگیاہے۔ کیونکہ اس میں ایسی روایات ہیں جن کی ترویج کو یہ لوگ پسند نہیں کرتے یہاں تک کہ اس کے نسخے نایاب ہوگئے4  اور اس کے مقابلے میں سیرت ابن ہشام کو شہرت نصیب ہوئی اور اسے لوگوں کے نزدیک سب سے باوثوق کتاب سیرت ہونے کا مرتبہ حاصل ہوا۔

طبری نے حضرت علی(ع) کے حق میں مذکورہ حدیث اپنی تاریخ میں ثبت کردی لیکن بعد میں اسے اس حدیث کی اہمیت کا اندازہ ہوا چنانچہ اس نے اپنی تفسیر میں اس غلطی کا تدارک کیاجس سے وہ تاریخ طبری میں غافل رہے تھے۔طبری نے اپنی تفسیر میں مذکورہ حدیث کو اسی سند کے ساتھ آیت وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیََِْنَ کی تشریح میں نقل کیاہے اور کہاہے :تم میں سے کون ہے جواس امر میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ اس کے بدلے میں وہ میرا بھائی ”وغیرہ وغیرہ“قرار پائے؟اس کے بعد طبری کہتاہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :بے شک یہ میرابھائی ”وغیرہ وغیرہ“ہے پس اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔وہ لوگ مذاق اڑاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابوطالب سے کہنے لگے الخ 5

خلاصہ یہ کہ طبری نے اپنی تفسیر میں آپ کے کلام سے وصیی وخلیفتی فیکم کے الفاظ کو حذف کیاہے۔

بالکل یہی کارنامہ ابن کثیر نے بھی اپنی تاریخ ”البدایہ و النہایہ ج۳ صفحہ ۴۰“میں نیز مذکورہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے اپنی تفسیر میں انجام دیاہے۔محمد حسین ھیکل نے تو اس سے بھی چار قدم آگے بڑھائے ہیں۔اس نے اپنی کتاب ”حیات محمد“کے پہلے ایڈیشن کے صفحے ۱۰۴میں تو مذکورہ حدیث کو نقل کیاہے اور کہا ہے:

تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میرا بوجھ بٹائے نیز میرا بھائی اور تمہارے درمیان میراوصی اور جانشین قرار پائے؟
 
حوالہ جات
۱ الاخبار الموفقیات صفحہ ۵۹۲

2 تاریخ طبری ج۲ صفحہ ۲۱۶، سیرت ابن اسحاق کے حوالے سے تحریر کیا ہے۔

3 ہم نے اس کا ذکر اپنی کتاب ”من تاریخ الحدیث“ میں کیا ہے۔

4 حال ہی میں ”سیرت ابن اسحاق“ کا ایک حصہ شمالی افریقہ (رباط) میں ۱۳۹۶ئھ میں شائع ہو چکا ہے۔

5 تفسیر ابن جریر طبری ج۱۹ صفحہ ۷۲ تا۷۵ طبع اولیٰ بولاق مصر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.