ابوذر غفاری
ابوذر غفاری
جس دن سے سرور کائنات سرکار دو عالم حضرت محمد نے مسلسل تیرہ سال رنج و تعب اور مبارزئہ پیہم برداشت کرنے کے بعد مکہ کو چھوڑا تھا اور مدینے تشریف لائے تھے‘ یہ حقیقت ان پر روشن ہو گئی تھی کہ دین اسلام کے ضعف و کمزوری اور پوشیدہ رکھنے کے دن گزر چکے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے دلیر‘ بہادر اور جانثار ساتھیوں کی مدد سے اسلام کے پرعظمت اور پرشکوہ محل کی بنیاد رکھی جائے اور حسب فرمان خدا ایک سیاسی قلمرو کی نقشہ بندی کرتے ہوئے بنیادیں استوار کی جائیں۔ اسی دور میں جزیرہ نما کے مشرق میں شہنشاہ ایران کی پرشکوہ سلطنت بھی عروج پر تھی‘ اس حکومت کی درباری شان و شوکت اور دبدبے کی چار دانگ عالم میں دھوم تھی۔ اس میں ہزاروں زر خرید غلام اور کنیزیں درباری امور کی انجام دہی کے لئے تعینات تھیں۔ اس مرکز کو چلانے کے لئے محنت کش اور نادار لوگوں کی اجرت مصرف میں لائی جاتی تھی۔
ادھر شمالی عرب میں ہرکولیس بھی اپنی پرہیبت اور جلال آور سلطنت کے ساتھ متمکن تھا۔ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جو چیز ان دو عظیم سلطنتوں میں نمایاں طور پر کارفرما تھی‘ وہ یہی آسمان کو چھوتے ہوئے محلات تھے جو اپنے اپنے فرمانرواؤں سے مخصوص تھے۔ ہنر و ادب‘ جنگی معاملات‘ ٹیکس گزاری (باجگزاری)‘ ذوق و شوق اور جدت و ابتکار وغیرہ جیسے سبھی امور میں شاہی تکلفات کا خاص خیال رکھا جاتا اور ہر ممکنہ حد تک کوشش یہی تھی کہ جس قدر ہو سکے یہ شان و شوکت کے ساتھ انجام پانے چاہئیں۔
لیکن پیغمبر اسلام نے مدینے میں تشریف لاتے ہی ایک مسجد بنائی‘ اپنے لئے بھی ایک چھوٹا سا گھر اس مسجد کے پہلو میں تعمیر کیا۔ اس گھر کا دروازہ مسجد کے اندر کھلتا تھا‘ اگرچہ سلطنت اسلامی کی حدود بہت وسیع بھی ہو گئیں مگر اس کے باوجود سرکار دو عالم نے اپنے طرز زندگی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی۔
وہ ایک خود مختار مملکت کے فرمانروا تھے مگر جو کی روٹی کھاتے‘ فقراء و مساکین کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ جاتے‘ حتیٰ کہ حقیر ترین غلاموں کے ساتھ بھی فرش نشینی میں عار محسوس نہیں کرتے تھے‘ بغیر زین کے گدھے پر سواری کرتے اور اکثر کسی ایک شخص کو انہوں نے اپنے پیچھے سوار کیا ہوتا تھا۔
اسلامی سلطنت کے تاجدار۱کا یہ طرز زندگی اس بنا پر تھا تاکہ ان کی سلطنت اسلامی ایران اور روم کی شہنشاہیت سے مختلف اور نمایاں نظر آئے اور لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ دو پرشکوہ سلطنتوں کے درمیان ایک ایسی نئی حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے جس میں حاکم و محکوم‘ فرمانروا و تابع فرمان‘ آقا و بندہ کی تمیز نہیں ہے‘ سب کے سب عدالت خداوندی میں ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔
رسالتمآب اس سلطنت کے بانی اس دنیا سے چلے گئے۔ اب تمام تر محرومیت علی۱کے ساتھ تھی‘ سیاسی دھڑے بندیاں ہو چکی تھیں۔ خلافت کی دیوار کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی۔ حضرت ابوبکر نے بھی حضرت عمر۱کو اپنے جانشین کے طور پر انتخاب کیا‘ اب یہ سلطنت اسلامی پر دوسری کاری ضرب تھی۔ باوجود اس کے کہ حضرت عمر اور حضرت ابوبکر اس انحراف کا باعث بنے‘ مگر سلطنت اسلامی کی سیاسی تشکیلات وہی تھیں جن کی حضور نے اپنے زمانے میں بنیاد ڈالی۔ وہی روایات تھیں‘ سادگی‘ مساوات‘ منصفانہ تقسیم اور ارتکاز دولت سے اجتناب سب کچھ وہی نظر آتا تھا۔
حضرت عمر بھی اس دنیا سے چلے گئے‘ ان تقدس مآب بزرگ نے بلاتامل زمام سلطنت اپنے ہاتھ میں لے لی اور جو تزلزل اس سے پہلے حکومت اسلامی کی بنیادوں میں واقع ہوا تھا‘ اس کو مزید جھٹکے لگے‘ سلطنت محمدی ایک دم ویران سی ہو گئی۔ ان کے زمانے میں خلافت سلطنت میں‘ بانیان سلطنت کے چھوٹے چھوٹے گھر شاہی محلات میں‘سادگی معاویہ کے پرشکوہ اور عالی شان دربار میں اور حضرت عثمان کے امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ میں بدل گئی۔
ابوذر وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پانچویں نمبر پر اسلام قبول کیا‘ ان کی تلوار تحریک اسلام کی پیش رفت میں بہت موثر تھی‘ وہ یہ سب انحرافات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ علی۱مجسمہ جود و تقویٰ تھے اور امور سلطنت سے بالکل الگ تھلگ گوشہ گیری اختیار کئے ہوئے تھے۔ اسلام دشمن عناصر نے خلافت میں اپنا راستہ نکال لیا تھا اور دیمک کی طرح اندر ہی اندر اسلام کی عمارت کو کھوکھلا کر رہے تھے۔
تمام آزادی پسند اور حقیقت پرست کونوں کھدروں کی طرف دھکیل دیئے گئے‘ اسی وجہ سے وہ خاموش سے ہو گئے تھے۔ جس روز حضرت ابوبکر نے حضرت علی۱۱کو میدان سیاست سے بے مروتی سے پیچھے ڈال کر خود مسند خلافت پر سج گئے‘ اس دن سے ابوذر انتہائی مضطرب اور پریشان سے دکھائی دینے لگے‘ وہ اپنی نظروں میں اسلام کا مستقبل بہت ہی تیرہ و تار اور خوفناک صورت میں مجسم دیکھ رہے تھے‘ لیکن پھر یہ بات بھی ان کی نظر میں تھی کہ بہرحال کاروان اسلام اپنے اصلی راستے پر پیش رفت کر رہا ہے‘ اگرچہ ایک بہت بڑا حق پاؤں تلے روند دیا گیا ہے‘ پھر بھی اسلامی نظام کا تسلسل نہیں ٹوٹا۔ یہ سوچ کر اگرچہ وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے اور کھولتے ہی رہتے‘ لیکن انہوں نے خاموشی کی مہر اپنے ہونٹوں پر ثبت کر رکھی تھی‘ جب سلطنت عثمان اسلام پر مسلط ہوئی تو معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے اور محنت کش ان سود خوروں‘ بردہ فروشوں اور مالداروں کے قدموں تلے روندے گئے جن کا عثمان اور معاویہ کے درباروں میں آنا جانا تھا۔ طبقاتی منافرت اور ارتکاز دولت کے فتنے پھر نئے سرے سے سر اٹھانے لگے جو کہ اسلام کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ تھا۔ کہاں وہ پیغمبر اسلام۱کا طرز زندگی اور وضع قطع کی سادگی اور نمود و نمائش سے اجتناب۔ پہلے ابوبکر اور عمر معاشرے کے ایک معمولی فرد کی طرح بلکہ تنگدستی اور فقیری میں ہی گزر بسر کرتے تھے‘ پھر حالات دگرگوں ہو گئے۔ حاکم اسلامی معاویہ کے سبز محل کی تعمیر میں ہزاروں دینار خرچ ہو گئے‘ اب وہ سلطنت ایک ایسا مرکز تھی جو شہنشاہیت کی بھرپور عکاسی کر رہی تھی۔
حضرت ابوبکر۱کا ذریعہ معاش یہ تھا کہ وہ ایک یہودی کی بکریوں کا دودھ دوہا کرتے تھے اور عثمان بھی خلیفہ رسول تھے‘ ان کی بیوی کا گلوبند افریقہ کے مالیات کے ایک ثلث کے برابر تھا۔
حضرت عمر کے زمانے میں بڑے بڑے سرداروں میں سے ایک کے بیٹے نے اپنے باپ کی طاقت کے بل بوتے پر جھوٹا دعویٰ کیا‘ حضرت عمر نے ایک گھوڑے کے لئے دونوں کو مقدمے میں ملوث کر دیا‘ لیکن حضرت عثمان نے مروان بن حکم کو‘ جس کو حضور نے جلاوطن کر دیا تھا‘ عثمان نے اس کو بلا کر اپنا مشیر خاص مقرر کیا اور خیبر و شمالی افریقہ کے مالیات کی وصولی اس کے سپرد کر دی تھی۔
یہ سبھی شرمناک مناظر اور واقعات ابوذر کے چشم دید تھے‘ اب ان کے اندر اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہیں‘ لہٰذا انہوں نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ یہ ایک مردانہ وار اور حیرت انگیز قدم تھا‘ اس بغاوت سے سبھی اسلامی ممالک نے عثمان کے لئے فتنہ کھڑا کر دیا۔ یہ ایک ایسے طوفان کی بپھری ہوئی موجیں تھیں کہ آج بھی ہم وہ مناظر اس دنیا کے معاشروں میں اپنی ان آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔
ابوذر اسلام کی سیاسی اور اقتصادی اشتراکیت کی وسعت کے لئے کوشاں تھے اور سلطنت عثمان نے اشراف کی قدر و منزلت میں اضافہ کیا۔ ابوذر اسلام کو درماندہ‘ ستم دیدہ (مصیبت زدہ) اور محروم عوام کی پناہ گاہ خیال کرتے تھے‘ مگر عثمان نے اپنی حکومت کو سرمایہ داری کا ذریعہ اور منافع خوروں اور مالداروں اور امراء کے مفادات کا مضبوط قلعہ بنا رکھا تھا۔
ابوذر اور عثمان کے مابین مبارزہ شروع ہو گیا اور آخرکار ابوذر نے اسی جنگ و جدل میں جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ ابوذر کی ایک ہی پکار تھی کہ یہ سبھی سرمائے‘ یہ مال و دولت اور سونا چاندی جو آپ لوگوں نے جمع کر رکھا ہے وہ تمام مسلمانوں میں برابر تقسیم کیا جانا چاہئے۔ اسلام کے اس اخلاقی اور اقتصادی دور حکومت میں معاشرے کے سبھی افراد زندگی کی عطاؤں اور نعمات سے برابر میں بہرہ اندوز ہوں‘ لیکن عثمان اسلام کو محض ظاہری رسم و رسوم اور ظاہری تقویٰ کے اظہار کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
ابوذر نے جو جدال اسلامی اشتراکیت کے پھیلاؤ کی خاطر شروع کیا تھا اب وہ آرام سے بیٹھنے والے نہیں تھے‘ نہ ہی وہ دشمن کو آرام سے بیٹھنے دیتے تھے۔
یہ وہ آواز تھی جو ابوذر نے اس وقت کے معاشرے میں محروم طبقے کی طرف داری میں بلند کی‘ پھر بہت جلد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اس کی سب سے پہلی گرج ایک بہت بڑے آتش فشاں کی مانند تھی جو کہ ہزار سال بعد اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں یورپ میں سنائی دی‘ پھر اس کے انگاروں نے تمام اقوام کے دامنوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ آتش فشاں اب اگرچہ ذرا خاموش ہو گیا ہے‘ مگر پھر بھی اس کی سرگرمیاں جاری و ساری ہیں اور یہ اتنی جلدی خاموش بھی نہیں ہو گا۔ اس عظیم آتش فشاں کے پہلے پہل کے شرارے جو کہ دنیا میں فرانس کے انقلاب کبیر کے بعد مختلف قسم کے اقتصادی مکاتیب کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ یہ فریاد سب سے پہلے ابوذر کے حلق سے نکلی‘ لیکن سلطنت عثمان میں ان کو بہت جلد ربذہ کے وسیع و عریض صحرا میں خاموش کرا دیا گیا۔
سرمایہ دار اور امراء یہ سمجھے شاید ابوذر یعنی محرومین کے پیشوا اور مصیبت زدوں کی پناہ گاہ کی موت سے اس علاقے پر منڈلانے والا خطرہ ہمیشہ کے لئے نابود ہو گیا ہے لیکن اقتصادی انقلابات کے مشاہدے نے حال ہی میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ عثمان کی حکومت کامیاب ہوئی ہے یا ابوذر کا سوشلزم؟
جدید سوشلسٹ کہتے ہیں:
"دنیا کو سوشلسٹ ہو جانا چاہئے تاکہ صحیح طریقے سے زندگی گزارنے کے لائق ہو جائیں۔ یہ چھینا جھپٹی‘ خود سری اور بے حسی بالکل معدوم ہو جانی چاہئے‘ مٹ جانی چاہئے اور نیست و نابود ہو جانی چاہئے۔"
ہم بھی ابوذر کی پوری زندگی میں اسی طرز فکر کا اظہار دیکھتے ہیں۔ اگر سوشلزم کا نعرہ یہ ہے کہ "ہر کسی کو اس کی صلاحیت کے مطابق اور ہر کسی کو اس کے کام کے مطابق"۔
ہم یہی روح ابوذر کے تیرہ سو سال پہلے کے عالی شان نعرے میں دلیرانہ مبارزت کے ساتھ ملاحظہ کرتے ہیں:
میں جب بھی ابوذر۱کی حیران کن زندگی کے بارے میں سوچتا ہوں اور ان کی خدا پرستی کو دیکھتا ہوں تو "پاسکال" کی بات مجھے یاد آ جاتی ہے۔ پاسکال کہتا ہے کہ
"دل کے وہ دلائل ہیں جہاں تک عقل کو رسائی نہیں ہے اور دل ہی خدا کے وجود کی گواہی دیتا ہے‘ عقل نہیں اور ایمان بھی اسی راستے سے حاصل ہوتا ہے۔"
ابوذر۱کہتے ہیں کہ
"میں نے اس ہستی بیکراں میں ایک علامت ڈھونڈ لی ہے جس نے میری خدا کی طرف راہنمائی کی اور یہ امید نہیں ہے کہ عقل بحث و مباحثے کے باوجود اس کی حقیقت تک رسائی حاصل کر سکے کیونکہ وہ سب سے بزرگ ذات ہے اور اس کا احاطہ ممکن نہیں ہے۔"
جس طرح پاسکال یقین سے کہتا ہے کہ
"ابوذر نے خدا کو دل کے راستے شناخت کیا ہے اور حضور سے ملاقات کرنے سے تین سال پیشتر وہ خدا کی پرستش کرتا رہا ہے۔"
جب وہ سرمایہ داروں اور دولت کے پجاریوں کی بات کرتا ہے تو بہت اچھے طریقے سے بے نواؤں‘ بے کسوں اور ناداروں کا دفاع کرتا ہے اور شام و مدینہ کے امراء اور محل نشینوں پر براہ راست حملہ آور ہوتا ہے۔ پروڈن (Proudhon)جیسے زبردست سوشلسٹ کو درمیان میں لے آتا ہے‘ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ابوذر اور ہے اور پاسکال اور پروڈن اور ہے۔ جب سے ابوذر نے خدا کو پہچانا اس دن سے وہ ذرا دیر کے لئے بھی آسودہ نہیں ہوا اور نہ ہی ایک لمحے کے لئے وہ راہ فکر و عمل میں سست ہوا۔ نہ پروڈن میں ابوذر۱کا تقویٰ‘ پرہیزگاری اور پارسائی ہے اور نہ ہی پاسکال میں اس جیسی سرگرمیاں اور زور و شور ہے۔ ابوذر مکتب اسلام میں ایک "انسان کامل" ہو گیا تھا اور یہی مطلب اس کی عظمت کے اظہار کے لئے کافی ہے۔
ممکن ہے بہت سے تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والوں کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ کیا اس تحریک سے درخشاں نتائج حاصل ہوئے ماسوائے لشکر کشی کے اور پھر فتوحات پھر ایک بہت بڑی سلطنت کا قیام‘ جو کہ چند صدیوں کے بعد بالکل بکھر گئی… یہ سب کیا تھا؟ اور اسلامی تحریک کا دوسری سیاسی اور فوجی تحریکوں سے کیا فرق تھا؟ جو کامیابی کی منزل تک پہنچیں۔ خصوصاً ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک اسلام بہت ہی ابتداء میں سیاسی اختلافات سے دوچار ہو گئی تھی اور اپنے اصلی راستے سے ہٹ گئی تھی اور اسلام کے حقیقی پیشواؤں نے بھی اس نکتے کا اعتراف کیا ہے۔
پھر اسلام نے کیا کیا؟ وہ تمام ایثار اور جدال جو پیغمبر اور ان کے خدا پرست اور جرات مند اصحاب نے کیا‘ اس سے کیا نتیجہ اخذ کیا گیا ہے؟ اگر فتوحات عمل میں آئیں تو ہم دین کی رو سے دیکھیں تو اتنی اہمیت کی حامل نہیں۔ خاص طور پر اکثر فتوحات بنو عباس اور بنو امیہ کے سلاطین کے ہاتھوں ہوئیں‘ ان کا تو حقیقت میں اسلام کے ساتھ حقیقی رابطہ نہیں ہے۔
اس اعتبار سے یہ فیصلہ کسی حد تک صحیح ہے۔ اسلام کا بنیادی نصب العین محض کشور کشائی اور ہوس ملک گیری تو نہیں ہے‘ اگر ہمیں اس کو دیکھنا ہے تو چاہئے دین اسلام کے نکتہ نظر سے پرکھیں۔ تو نہ صرف ہمارا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘ بلکہ دین اسلام کی حیرت انگیز پیش رفت کی صورت میں روشن نتائج ہمارے سامنے آئیں گے۔
دین اسلام وہ واحد محرک ہے جو اپنا فرض اولین سمجھتا ہے کہ شخصیت انسانی کو تکمیل کی شاہراہ پر گامزن رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ انسان کو اس بات کی طرف لگائے رکھے کہ وہ زندگی بھر مرحلہ بہ مرحلہ ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے آپ کو نکھارتا رہے۔ یہ فطرت کا طے شدہ اصول ہے کہ جمادات سے نباتات‘ نباتات سے حیوانات‘ حیوانات سے انسان روبہ ترقی رہیں اور تکمیل کی صورت سامنے آتی رہے۔ دین اسلام بھی مخلوقات کے اس حیران کن افسانے کو تقویت بخشتا ہے اور انسان کو جس منزل پر ہونا چاہئے اس منزل مقصود کی طرف کشاں کشاں لئے جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بشر کا علم و عرفان اور انسانیت کی روح بلندیوں پر پرواز کرتی ہے‘ حتیٰ کہ انسان کے روحانی مدارج اتنے بلند ہو جاتے ہیں کہ وہ عروج کی انتہائی منازل پر پہنچ کر زمان و مکان کو بھی اپنے قدموں تلے دیکھتا ہے‘ لہٰذا اس سے یہ مطلب بہت آسانی کے ساتھ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دین انسان کو زینہ تکمیل طے کرنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں گویا دین ایک ایسی ورکشاپ ہے جہاں "حقیقی انسان" بنائے جاتے ہیں اور ہمیں بھی دین سے اس سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔
اب ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہے‘ کیا اسلام نے اس سلسلے میں اب تک کوئی مدد کی ہے؟ اور اپنی صنعت گری کے نمونے بازار بشریت میں پیش کئے ہیں؟
تو آیئے! اس موضوع پر تحقیق کریں اور انتہائی حیرت کے ساتھ تاریخ کے ہمراہ آگے بڑھتے چلیں اور تاریخ کے ان مردوں اور عورتوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں جن میں کچھ گوشہ گمنامی میں تھے‘ کچھ مظلوم‘ معاشرے کے دھتکارے ہوئے اور زرخرید غلام تھے۔ اس سے پہلے تاریخ نے ہمیشہ مغرور اور جلال آور بادشاہوں کو میدان جنگ میں بھی دکھایا ہے‘ ان کے مال و زر اور رعب و جلال کا بڑی انکساری سے ذکر کیا ہے‘ مگر اب کے ہم یہ دیکھیں گے یہی مایہ پرست اور خود پسند تاریخ پرانے بوسیدہ خیموں میں رہنے والوں اور ویران جھونپڑیوں میں رہنے والے زرخرید غلاموں اور افریقہ کے پا برہنہ گمنام صحراؤں میں زندگی بسر کرنے والے حبشی غلاموں اور ابوذر جیسے ناقابل اہمیت لوگوں کا بڑے تزک و احتشام سے ذکر کرے گی۔ ابوذر قبیلہ غفار سے تھے‘ اسی طرح سلمان فارسی بھی ایران سے پھرتے پھراتے سرزمین عرب پہنچے اور بلال حبشی جیسے غلام جو انتہائی کم قیمت پر فروخت ہوئے۔ تاریخ نے اس بات کا بغور جائزہ لیا ہے کہ ان تمام مذکورہ شخصیات کی زندگیوں کا ہر ہر لمحہ عشق حقیقی سے سرشار اور لبریز دکھائی دیتا ہے‘ اسی لئے تاریخ انتہائی فخر و انبساط کے ساتھ ان کے یہ خالص جذبے آنے والی نسلوں کی خدمت میں پیش کرتی ہے۔ اب ہمیں یہ تحقیق بھی کرنا ہے کہ کیوں اور کب سے یہ متکبر مغرور‘ خود غرض اور ابن الوقت تاریخ اتنی عاجز اور منکسرالمزاج کیسے ہو گئی ہے؟#
جو نتائج تحریک اسلام سے حاصل ہوئے‘ ان میں سے ایشیا‘ افریقہ اور جنوبی یورپ کی فتوحات کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اس پیش رفت کی طرف نظر ہونی چاہئے جس کی چھاپ ہمیں تحریک کے چند ایک پیروکاروں کے فکر و نظر اور دل و جان کی گہرائیوں میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
اسلام کی جو فتوحات پر پیچ و خم اور کٹھن وادیوں میں ان ارواح مقدسہ کے ذریعے سے عمل میں آئیں‘ ان لوگوں کی نظر میں جو حقیقت اور انسانیت کو عسکری اور ظاہری قوت پر غالب خیال کرتے ہیں‘ قدر و ارزش کا یہ یقین اپنے اندر وسعت‘ حیرت اور زیادہ اہمیت کے ساتھ جلوہ نما ہوتا ہے۔
روم اور ایران جیسے ممالک کی تاریخ میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ بہت طویل ہے اور جن ممالک میں چنگیز‘ دارا اور نپولین جیسے "بے مغز نامی گرامی" بہادروں کی مثال نہیں ملتی اور انہوں نے اپنی عظمت کا لوہا منوایا‘ وہاں جندب بن جنادہ جیسے ایک گمنام صحرا نشیں اور مجنوں کو ابوذر غفاری بنا دینا‘ ہر مکتب فکر اور ہر تحریک میں عدیم المثال ہے۔اگر ان چار پانچ انسانوں ابوذر۱‘ سلمان۱‘ عمار۱‘ یاسر اور بلال۱کی تربیت اسلام کا نتیجہ نہ ہوتی‘ تو اسلام کی عظیم فتوحات حیران اور ششدر کر دینے کے لئے کافی تھیں۔
لیکن بڑے افسوس سے یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ ایسے دلیر اور شجاع جواں مرد جن پر تاریخ کو بجا طور پر فخر ہے‘ کے حقوق تلف کر دیئے گئے ہیں۔ یہ وہ دین اسلام کے پیروکار ہیں جن کی فکری قوت اور تلوار کے بل بوتے پر اس دنیا میں اسلام پھیلا ہے اور اس کو تقویت حاصل ہوئی ہے‘ مگر دنیا ان ذوات مقدسہ سے ناآشنا اور بیگانہ رہ گئی ہے۔ سلسلہ بشریت کی تکمیل میں انسانیت کے ان عظیم پیکروں نے جو مدارج طے کئے ہیں‘ دنیا والے ان سے بھی بے خبر ہیں حتیٰ کہ ان کے مختصر سے حالات زندگی کی بھی صحیح معلومات میسر نہیں ہیں۔
ہم نے ان پرستاران حق اور مجسمہ پاکبازی و جسارت کے حق میں جس سستی اور تساہل کا مظاہرہ کیا ہے‘ وہ حقیقت اور انسانیت پر دراصل ایک ضرب سے کم نہیں اور اس کی تلافی بہت مشکل ہے اور یہ غلطی ہم سب مسلمانوں کی اجتماعی غلطی ہے‘ مگر ہمیں انتہائی ندامت اور افسوس سے اقرار کر لینا چاہئے کہ اس گناہ میں شیعہ زیادہ سہیم ہیں اور اس حق اور حقیقت کی پامالی میں اپنے بھائیوں سے آگے نکل گئے ہیں۔ البتہ گذشتہ چند سالوں میں اسلام کی ان عالی مقام ہستیوں کے حالات زندگی کی شرح و بسط چند ایک مجلات میں طبع ہوئی ہے جس سے کسی حد تک تلافی ہو گئی ہے‘ لیکن شیعہ حضرات اسی طرح اپنی غفلت شعاری پر مستقل مزاجی اور استقامت کے ساتھ قائم ہیں۔
دین اسلام کی ان سرکردہ شخصیات کی ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس دور میں حکومت ابوبکر اور اس کے جانشینوں کے پاس تھی تو علی۱جو کہ شیعوں کے پیشوا تھے‘ ان۱کے حق کو پاؤں تلے روند دیا گیا‘ ایسے میں ان ہستیوں نے پروانہ وار شمع حقیقت کا طواف کیا اور وہ ان کے حق میں باطل کے خلاف نبردآزما رہیں‘ پھر آخرکار علی۱کے قدموں میں ہی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ اس خویشتن سوزی کے نتیجے میں گویا انہوں نے اسلام کی حقیقت امانت کے طور پر تاریخ کو سونپ دی اور جہاں تک ممکن ہو سکا اسلامی سلطنت کی حمایت میں سرچشمہ معرفت کو پانے کے لئے انتہائی شجاعت کے ساتھ ڈٹے رہے۔
ابوذر بھی ان نجات دہندہ آزادی کے رہبروں (رہنماؤں) میں سے ایک ہیں۔ آج جہان بشریت کو ایسے ہی دلیر مطلوب ہیں‘ خاص طور پر جب سے اس اقتصادی دنیا میں مشینی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ آج اقتصادی مسائل نے زندگی کے بنیادی مسائل کی حیثیت اختیار کر لی ہے‘ آج کے دور میں ایک بار پھر نظریات ابوذر۱کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ آج پھر وہی مناظر دکھائی دے رہے ہیں‘ جو کبھی شام اور مدینہ میں نظر آیا کرتے تھے۔ وہ محروموں اور محتاجوں کو اپنے گرد و پیش جمع کر لیا کرتا تھا اور ان کو سود خوروں‘ زر پرستوں اور مالداروں کے خلاف اکساتا تھا۔ تمام دنیا کے مسلمان اس کی دلنشیں اور شعلہ بیان تقریریں اور صائب نظریات بڑے غور سے سنتے تھے۔ آج بھی ہماری نظریں تاریخ کے گرد و پیش میں متلاشی ہیں کہ اس نے مصیبت زدوں اور غم کے ماروں کو مسجد میں جمع کر رکھا ہے اور محل سراؤں میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے والوں اور عثمان کے نام نہاد جاہ و جلال اور ثروت و سطوت کے خلاف شدت سے بھڑکاتا ہے اور بآواز بلند ببانگ دہل یہ کہتا ہے:
والذین یکنزون الذھب و الفضة ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم(سورئہ توبہ‘ ۳۲)
"اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے پس ان کو درد ناک عذاب کی بشارت دے دو۔"
"اے معاویہ! یہ محل اگر تم اپنے پیسے سے بنا رہے ہو تو اسراف میں داخل ہے اور اگر لوگوں کے مال سے بنا رہے ہو تو سراسر خیانت ہے۔"
"اے عثمان! تو نے فقیروں اور بے نواؤں کو زیادہ محتاج کر دیا اور مالداروں کو زیادہ ثروت مند بنا دیا۔"
(مشہد ۱۳۳۲‘ علی شریعتی مزینانی) #9;
نور کا ایک لپکا
ابوذر نے کہا کہ پیغمبر خدا رسالتمآب۱کا دیدار کرنے سے تین سال قبل میں نے نماز پڑھی‘ میں اپنے آپ سے مخاطب ہوا کہ یہ کس کے لئے؟ میرے ضمیر کی آواز آئی: خدا کی خاطر۔ میں نے عرض کیا: تو کہاں جھکتا تھا؟ اس نے کہا: جہاں کہیں میرا خدا مجھے متوجہ کر لیتا تھا۔
قبیلہ غفار کے سرکردہ افراد ایک مقام پر اکٹھے ہوئے‘ ایک ہنگامہ سا بپا تھا‘ ایک عرصے سے بارش نہیں ہوئی تھی‘ یوں لگتا تھا جیسے نیکی اور رحمت نے ان کو بھلا دیا ہو۔ وہ بیچارے سخت تنگدستی‘ درماندگی اور بیچارگی کے عالم میں تھے‘ ان کے چوپائے اور بکریاں نحیف و نزار اور لاغر ہو چکے تھے۔ سبھی ایک دوسرے سے یہی پوچھتے نظر آتے تھے کہ ان کے خدا "منات" نے اس قدر تضرع و زاری اور منتوں سماجتوں اور قربانیوں کے بعد بھی ان کو چھوڑ کر دشمنی اختیار کر لی ہے؟
بارش کا موسم تو گزر چکا‘ اب آسمان پر کوئی بادل دکھائی نہیں دیتا‘ نہ کہیں باران رحمت کے آثار ہویدا ہیں۔ کیا وہ گمراہ ہو گئے ہیں؟ یا قہر الٰہی نے انہیں نگل لیا ہے؟ نہیں… نہیں… ہرگز نہیں۔ خدا کے تقرب کی خاطر تو بڑی بڑی قربانیاں دی گئی ہیں‘ خون بہائے گئے ہیں‘ التجائیں اور مناجاتیں کی گئی ہیں‘ لیکن آسمان کے کاموں میں کیا کیا جا سکتا ہے؟
غفاریوں کا تو اس میں کوئی دوش نہیں ہے‘ سوائے اس کے کہ ان کا سب سے بڑا خدا "منات" کسی کو بارش برسانے کے لئے بھیج دے تاکہ مرتی ہوئی زمین کو نئی زندگی مل جائے۔ سوائے اس کے کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ لوگ یعنی تمام مرد و زن اجتماعی طور پر خضوع و خشوع اور تضرع و زاری کے ساتھ باہر چلے جائیں اور "منات" سے رحمت و بخشش کے طلب گار ہوں‘ شاید اس کو ان کی حالت زار پر رحم آ جائے اور وہ بادلوں سے بھرپور ہواؤں کو اس سرزمین کی طرف برسنے کے لئے بھیج دے تاکہ اس کی رحمت کے بادلوں سے وہ فیضیاب ہوں‘ مردہ زمینوں کو حیات نو مل جائے اور ان کے دکھ اور پریشانیاں راحتوں میں بدل جائیں۔
قبیلہ "منات" کی طرف روانہ ہونے کے لئے تیار ہو گیا‘ سب اپنے اپنے اونٹوں کے پیچھے بھاگے‘ انیس بھی اپنے اونٹ کی طرف لپکا اور ایک آواز بلند کی‘ اونٹ اٹھ کھڑا ہوا اور اس قافلے کے ہمراہ چل دیا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان سمندر کے کنارے کی طرف رواں دواں تھا۔ ان لوگوں نے "منات" کو وہاں نصب کر رکھا تھا… چنانچہ یہ لوگ چل پڑے‘ انیس نے اپنے گرد و پیش میں دیکھا تو اپنے بھائی کو نہ پایا۔ اپنے اونٹ کو بٹھا کر وہ گھر کی طرف دوڑا‘ آواز دی "جندب! جندب! گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھا‘ وہ بڑے سکون اور آرام سے اپنے بستر پر لیٹا ہوا ہے اور اس کا جانے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے‘ شاید اس نے خروج کا حکم دینے والے منادی کی آواز نہیں سنی ہے؟ کیوں چلتے کیوں نہیں؟ اس لئے کہ منات کو دیکھ کر کراہت اور بے رغبتی کا ایک شدید احساس مجھے گھیر لیتا ہے۔
چپ رہو! اس سے بخشش مانگو۔ کیا وہ تمہاری یہ بات سن کر تم پر مصیبت نازل نہیں کرے گا؟ کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا؟
تیرا خیال ہے کہ وہ ہمیں دیکھتا ہے اور ہماری باتیں سنتا ہے؟
… آج تجھے ہو کیا گیا ہے؟ کیا تجھ پر کسی جن کا اثر ہو گیا ہے؟ یا تم بیمار ہو گئے ہو؟ ہاں سنو‘ توبہ کرو شاید وہ تمہاری توبہ ہی قبول کر لے۔
ابوذر۱کسلمندی کے ساتھ اپنے بستر میں کروٹیں لیتا رہا اور کچھ بھی نہ کہا۔ انیس نے کہا اٹھو! اٹھو! جلدی کرو‘ قافلہ جا چکا ہے اور لوگ ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔
پھر وہیں کھڑا رہا تاکہ ابوذر۱کو اپنے ساتھ لے کر جائے۔ انیس بڑی پھرتی سے اپنی سواری پر بیٹھا‘ لیکن ابوذر بہت ہی خاموش اور دل گرفتہ سا اپنے اونٹ کی طرف بڑھا اور سوار ہو گیا۔
انیس نے اپنے بھائی سے مخاطب ہو کر کہا کہ "اپنے اس عقیدے کا اظہار لوگوں سے نہ کرنا ورنہ لوگ بارش نہ برسنے کے لئے تمہیں ہی دوش دیں گے‘ تمہیں اپنے لئے خدا کا غضب خیال کریں گے اور تمہیں سخت ایذائیں دیں گے۔" پھر وہ منات کے فضائل و مناقب جو عربوں میں مشہور ہیں‘ کا ذکر کرنے لگا۔
ابوذر۱ بھی یہ باتیں بہ جبر و اکراہ سن رہا تھا‘ لیکن خاموش تھا اور کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ چند دنوں کے بعد قافلہ کو منات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور اس وقت لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وصال کے اشتیاق کے وفور کی بنا پر وہ جوش کھا رہے تھے۔ انہوں نے اونٹوں کو باندھا اور جو قربانیاں اپنے ساتھ لائے تھے‘ وہ ہمراہ لے کر شور مچاتے ہوئے مگر تعظیم کے ساتھ دعائیں مانگ رہے تھے اور اپنے پروردگار کے حضور میں خضوع و خشوع سے بھرپور دلوں کے ساتھ دوڑے جا رہے تھے‘ انہوں نے قربانیاں ذبح کیں اور منات کو ان کا جو پاکیزہ اور سرخ خون پسند تھا‘ اس سے زمین کو رنگین کر دیا۔ ابوذر ان تمام سرگرمیوں میں بالکل بھی حصہ نہیں لے رہا تھا اور نہ ہی اپنے ساتھیوں جیسے جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہا تھا‘ بلکہ اس کی رمز شناس دوررس نگاہیں مستقل "منات" اور اپنے قبیلے والوں کے گرد گھوم رہی تھیں۔ وہ اپنی اور تمام اہل قبیلہ کی سادگی اور ناواقفیت پر انگشت بدنداں تھا۔ وہ اس پتھر کے خدا کو گھور رہا تھا جو اپنے گرد و پیش سے بے خبر‘ بے حس و حرکت تھا۔ جس خدا کے حضور میں سبھی جھکے جا رہے تھے وہ ان سوختہ دلوں اور والہانہ پرستش کرنے والوں کے دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والے شعلہ بار دھوئیں کو بھی نہیں دیکھ رہا تھا اور نہ ہی کچھ سن رہا تھا‘ اس بات کا ابوذر۱۱کو بہت تعجب تھا کہ وہ خدا تو اس قابل بھی نہیں کہ ان سب کی باتوں کا جواب ہی دے سکے مگر یہ لوگ سالہا سال سے اس خدا کے معاملے میں اپنے عقائد میں راسخ ہیں‘ جبکہ وہ خدا ان کی نگہداری کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔
رات آن پہنچی‘ اس نے "منات" اور اس کے پوجنے والوں کو اپنی تاریک چادر میں لپیٹ لیا‘ گویا پوری کائنات کو شب کی سیاہی نے ڈھانپ رکھا تھا‘ لیکن تابندہ ستارے جو شفاف آسمان پر چمک رہے تھے‘ مگر اس ملگجی روشنی میں دلوں کی آگ اتنی بھڑک رہی تھی کہ بڑی آسانی کے ساتھ ہر شخص نے اپنے مقام کو پہچان کر انتخاب کر لیا۔
قصہ گویوں کی انجمنیں جگہ جگہ تشکیل پا گئیں‘ ابوذر بھی ان بزرگ شخصیات میں شامل ہو گئے۔ خداؤں کی عظمت و بزرگی اور شرف کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی‘ ان میں سے ایک منات کے بارے میں قصیدہ سرائی کر رہا تھا اور دوسرا "لات و عزیٰ" کے متعلق دلچسپ اور مزیدار قصے کہانیاں سب کو سنا رہا تھا۔ "لات و عزیٰ" کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور ان کی شفاعت خدا کے حضور میں بہت مانی جاتی ہے۔ اسی داستان گوئی کے دوران جب ایک شخص "سعد" (ایک بت کا نام) کے مقام و منصب کی بلندی کے بارے میں بات کر رہا تھا تو اہل مجلس میں سے ایک شخص اس کی گفتگو میں ٹپک پڑا‘ کہنے لگا: کیا تم نے اس شخص کے متعلق سنا ہے جس نے "سعد" کو برا بھلا کہا ہے؟ سب کے سب بیک آواز ہو کر بولے: نہیں‘ تم بتاؤ اس نے کیا کہا ہے؟ ایک شخص "سعد" کے حضور میں اپنے اونٹوں کو وقف کرنے کے لئے لا رہا تھا‘ جونہی وہ "سعد" کے قریب پہنچا‘ اس نے اپنے اونٹوں کو چھوڑ دیا‘ اس کے سارے کے سارے اونٹ صحرا کی مختلف سمتوں میں منتشر ہو گئے۔ جب وہ اپنے اندر ان کو جمع کرنے کی قدرت نہیں پاتا تو اس نے غیظ و غضب کے عالم میں پتھر کا ایک ٹکڑا "سعد" کو دے مارا اور کہا‘ "تیرے اندر خدا کی طرف سے کوئی خیر نہیں"۔ پھر اس نے سعد کی طرف سے روگردانی کی اور اپنے اونٹوں کے پیچھے دوڑا‘ پھر اپنے آپ سے کہنے لگا کہ "ہم سعد کے پاس اس لئے آئے تھے کہ وہ ہمیں منتشر ہونے سے بچائے اور اتحاد و اتفاق کی ایک لڑی میں پرو دے‘ لیکن اس نے ہمیں پہلے سے زیادہ بکھیر دیا ہے‘ لہٰذا اب ہم اس کی پوجا نہیں کریں گے مگر "سعد" محض ایک پتھر کے ٹکڑے کی حیثیت سے زمین میں گڑا رہا‘ وہ تو اپنے نیک و بد کو بھی نہیں پہچانتا تھا۔
ایک شخص نے انتہائی غصے میں بلند آواز سے کہا:
خدا کی قسم یہ شخص کافر ہو گیا ہے… اچھا! تو پھر کیا ہوا؟
اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا‘ بس سب لوگوں کے سر جھک گئے اور وہ شک اور حیرت ملی سوچوں میں گم ہو گئے‘ مگر اس داستان کو سن کر ابوذر۱کا دل اطمینان اور استقلال سے بھرپور ہو گیا۔ یہ ماجرا سن کر سب اہل محفل کو بھی ایک خاص جرات ملی‘ یہاں تک کہ وہ تمام بتوں کے بارے میں افکار میں غلطاں و پیچاں ہونے لگے۔ اب اس قسم کی جرات و بہادری کی داستانیں ہر زبان پر تھیں۔ ان میں سے ایک کہنے لگا: کیا تم لوگوں نے عدی بن حاتم کے بارے میں سنا ہے جس نے "فلس" (ایک بت کا نام) کی پرستش سے سرتابی کی اور بت پرستی کو چھوڑ کر نصرانی ہو گیا؟ سب کہنے لگے: ہم نے تو یہ بات نہیں سنی‘ کہو؟ کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ وہ کہنے لگا کہ صیفی جو کہ "فلس" کا خدمت گار تھا‘ اس نے مالک بن کلثوم کے ہمسایہ قبیلہ بنی علیم کی ایک عورت کی اونٹنی اڑا لی اور اپنے ساتھ لے کر "فلس" کے دربار میں وقف کرنے کو چلا۔ اونٹ کے مالک نے مالک بن کلثوم سے درخواست کی کہ میرے اونٹ کو بچاؤ‘ چنانچہ مالک بن کلثوم برہنہ اونٹ پر سوار ہوا‘ اس نے اپنا نیزہ لیا اور صیفی کے پیچھے لپکا دیکھا تو وہ خدمت گار صیفی اور اونٹ فلس کی خدمت میں کھڑے ہیں‘ مالک بن کلثوم نے ایک آواز بلند کی:
میرے ہمسائے کے اونٹ کو چھوڑ دو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(جاری ہے )