یومِ مباہلہ: دینی شناخت کے قیام اور اہلِ بیتؑ کے مذہبی تشخص کے استحکام کا عظیم تاریخی موڑ

تحریر: ڈاکٹر راشد الراشد

2

یومِ مباہلہ، جو 24 ذوالحجہ کو منایا جاتا ہے، اسلامی تاریخ کے نہایت اہم اور نمایاں واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ واقعہ عقلی مکالمے، الٰہی منطق اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن امتیاز کی ایک روشن مثال ہے، جس کے ذریعے دینی قیادت کی مشروعیت اور اعتقادی اختلافات کے حل کا ایک منفرد نمونہ سامنے آیا۔ یہ تاریخی مرحلہ دینی شناخت کی تشکیل، اہلِ بیتؑ کے مقام و منزلت کے استحکام، اور امتِ مسلمہ کی سیاسی و سماجی زندگی میں ان کے کردار کی بنیاد بن گیا۔ اس مختصر مضمون میں ہم اس دن کے دینی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہیں۔

اول: دینی تجزیہ — مباہلہ، الٰہی چیلنج اور حقانیت کا مظہر

الٰہیاتی نقطۂ نظر سے واقعۂ مباہلہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ اسلام اعتقادی اختلافات کے وجود کو تسلیم کرتا ہے، لیکن ان کے حل کے لیے ایک غیرمعمولی اور الٰہی طریقۂ کار بھی پیش کرتا ہے، جسے مباہلہ کہا جاتا ہے۔ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلے کی دعوت قبول کرنا رسولِ اکرم ﷺ کے اپنے منصبِ نبوت اور دعوتِ حق پر کامل یقین و اعتماد کا واضح ثبوت تھا۔

اس موقع پر آپؐ نے اپنی امت کے وسیع حلقے میں سے صرف اپنے اہلِ بیتؑ، یعنی حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو اپنے ساتھ مباہلے کے لیے منتخب فرمایا۔ اس انتخاب میں ایک گہرا دینی مفہوم پوشیدہ ہے۔ رسولِ خدا ﷺ نے اہلِ بیتؑ کو حقانیتِ دین کی دلیل، حجت اور نمائندہ قرار دے کر انہیں دینی مرجعیت اور اعتقادی رہنمائی کے مقام پر فائز کیا۔ یوں اہلِ بیتؑ کی شرعی و دینی نمائندگی کا اصول واضح طور پر امت کے سامنے آیا۔

دوم: سماجی تجزیہ — عقیدۂ اسلام میں اہلِ بیتؑ کی شناخت کا استحکام

یومِ مباہلہ نے “اہلِ بیتؑ” کے تصور کو محض خاندانی نسبت سے بلند کرکے ایک ممتاز دینی و اخلاقی تشخص عطا کیا۔ اس واقعے کے بعد اہلِ بیتؑ امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور میں ایک ایسے مرکز کے طور پر ابھرے جنہیں دینی قیادت اور مذہبی نمائندگی کا خاص مقام حاصل ہے۔

اس تاریخی واقعے نے مسلمانوں کے اجتماعی ذہن اور دینی ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اہلِ بیتؑ سے وابستگی اور محبت کو صحیح دینی وابستگی کی علامت سمجھا جانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے ادوار میں بھی اہلِ بیتؑ کی سیرت اور تعلیمات مختلف اسلامی مکاتبِ فکر، خصوصاً تصوف اور روحانی تربیت کی روایتوں کے لیے سرچشمۂ ہدایت و الہام بنیں۔

سوم: سیاسی تجزیہ — دینی قیادت کی مشروعیت کا اعلان

سیاسی زاویے سے واقعۂ مباہلہ کو رسولِ اکرم ﷺ کے بعد قیادت و مرجعیت کے مسئلے کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ مباہلے کے لیے اپنے قریبی اہلِ بیتؑ کو منتخب کرنا اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ وہ دینی، علمی اور اعتقادی اعتبار سے امت میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔

بہت سے مفکرین کے نزدیک یہ واقعہ شیعہ فکر میں “امامت” کے تصور کی بنیادوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں اہلِ بیتؑ کو دینی و علمی قیادت اور شرعی رہنمائی کے سب سے زیادہ مستحق قرار دیا گیا۔ وسیع تر سیاسی مفہوم میں یومِ مباہلہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ بڑے اور بنیادی تنازعات کا حل مادی طاقت یا عسکری قوت کے بجائے حق، صداقت اور الٰہی حجت کی بنیاد پر تلاش کیا جانا چاہیے۔

نتیجہ

یومِ مباہلہ ایک ہمہ جہت تاریخی واقعہ ہے جسے اہلِ بیتؑ کی دینی شناخت کے استحکام اور اعتقادی مسائل کے فیصلہ کن حل کے ایک منفرد نمونے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دن نے ایمان، عقیدے، دینی مشروعیت اور روحانی قیادت کو اہلِ بیتؑ کے ساتھ جوڑ کر ایک واضح اور مضبوط معیار پیش کیا۔

آج جبکہ دنیا مختلف مذہبی اور فکری تنازعات سے دوچار ہے، یومِ مباہلہ اہلِ بیتؑ کے مکتبِ فکر، ان کی تہذیبی و روحانی میراث، اور حق کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے جذبے کی ایک لازوال یادگار کے طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ قرآنِ کریم نے بنیادی عقائد کو دلیل، برہان اور حجت سے خالی نہیں چھوڑا، بلکہ انہیں روشن دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ اسی طرح واقعۂ مباہلہ بھی اس امر کا شاہد ہے کہ دین اور عقیدے کے اہم ترین مسائل کو اہلِ بیتؑ کے ذریعے واضح اور نمایاں انداز میں امت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اب جو ہدایت کو اختیار کرنا چاہے، وہ راہِ حق اختیار کرے، اور جو اس سے روگردانی کرے، وہ گمراہی اور سرگردانی کے راستے پر چلنے کا خود ذمہ دار ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.