شہرت سے قیادت تک
پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر شہرت کو اہلیت، مقبولیت کو بصیرت اور گلیمر کو قیادت سمجھ بیٹھتے ہیں
پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر شہرت کو اہلیت، مقبولیت کو بصیرت اور گلیمر کو قیادت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ کوئی شخص کھیل کے میدان میں نام پیدا کر لے، فلم کی دنیا میں مقبول ہو جائے یا اپنی شخصیت کے سحر سے لوگوں کو متاثر کرنے لگے تو ہم اسے قومی رہنماء بنانے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ کسی شعبے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنا اور قوم کی سیاسی رہنمائی کرنا دو بالکل مختلف صلاحیتیں ہیں۔ ایک اچھا کھلاڑی میدان میں مخالف کو شکست دینا جانتا ہے، ایک کامیاب اداکار پردۂ اسکرین پر لوگوں کے جذبات کو متاثر کرتا ہے، لیکن ایک حقیقی سیاسی رہنماء کو قوم کے اجتماعی شعور کی تشکیل، اداروں کی تعمیر، معاشی مسائل کے حل اور مشکل ترین حالات میں ثابت قدمی کا ہنر بھی آنا چاہیئے۔ شہرت کسی شخص کو عوام کی توجہ تو دلا سکتی ہے، مگر اس توجہ کو پائیدار سیاسی قوت میں تبدیل کرنے کے لیے کردار، نظریہ، تنظیم اور قربانی درکار ہوتی ہے۔
عمران خان کا سیاسی سفر اسی سوال کو سمجھنے کا ایک اہم حوالہ ہے۔ وہ ایک غیر معمولی کرکٹر تھے۔ عالمی سطح پر ان کی شہرت تھی، پاکستان کو کرکٹ کا عالمی اعزاز دلانے میں ان کا نمایاں کردار تھا اور ان کی شخصیت نوجوانوں کے لیے کشش رکھتی تھی۔ ان کی مقبولیت ایک حقیقی کامیابی تھی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کھیل کے میدان میں حاصل ہونے والی مقبولیت سیاسی قیادت کے لیے کافی تھی۔؟ عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا تو ان کے پاس شہرت، وسائل اور عوامی توجہ موجود تھی، لیکن سیاست محض کسی مقبول شخصیت کا نام نہیں؛ یہ ایک طویل اجتماعی عمل ہے۔ اس میں کارکنوں کی تربیت، تنظیم کی تعمیر، نظریاتی استقامت اور اقتدار سے محرومی کی صورت میں بھی جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ عمران خان کی سیاسی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ ان کی شخصیت کے گرد بننے والی مقبولیت کو ایک مضبوط، ادارہ جاتی اور نظریاتی سیاسی تحریک میں کس حد تک تبدیل کیا جا سکا۔
تاریخ میں حقیقی قیادت کی تشکیل اکثر طویل جدوجہد، آزمائشوں اور قربانیوں سے ہوتی ہے۔ نیلسن منڈیلا کی زندگی دیکھیے؛ انہوں نے نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی اور ستائیس برس قید میں گزارے۔ امام خمینی کی تحریک جلاوطنی، سیاسی مزاحمت اور مسلسل نظریاتی جدوجہد سے گزری۔ ان شخصیات کی مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ قیادت صرف لوگوں کے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نظریے کے لیے مشکلات برداشت کرنے اور ایک اجتماعی مقصد کو اپنی ذات پر مقدم رکھنے کا نام ہے۔ تاہم قربانی کا مطلب صرف جیل جانا، مال خرچ کرنا یا ذاتی آسائشیں چھوڑنا نہیں۔ اصل قربانی یہ بھی ہے کہ رہنماء اپنی ذات کی مقبولیت کے بجائے اداروں کو مضبوط کرے، اپنے مفاد کے بجائے اصولوں کو ترجیح دے اور وقتی فائدے کے لیے اپنے نظریے کو قربان نہ کرے۔
عمران خان کی سیاست پر تنقید کا ایک بنیادی پہلو یہی ہے کہ ان کے گرد عوامی مقبولیت کا ایک بڑا حلقہ تو تشکیل پایا، لیکن اس مقبولیت کو کس حد تک ایک ایسی تنظیمی قوت میں ڈھالا گیا، جو قیادت کی غیر موجودگی میں بھی اپنے اصولوں کے مطابق جدوجہد جاری رکھ سکے۔؟ اگر کسی تحریک کی تمام قوت ایک ہی شخصیت میں سمٹ جائے تو اس شخصیت کو درپیش بحران پوری تحریک کا بحران بن جاتا ہے۔ عمران خان سے منسوب ان کا مشہور تصور، یعنی "یوٹرن”، اسی بحث کا ایک اہم حصہ ہے۔ سیاسی حکمتِ عملی میں حالات کے مطابق راستہ بدلنا کبھی ناگزیر بھی ہوسکتا ہے۔ ہر فیصلہ واپس لینا کمزوری نہیں ہوتا، لیکن جب اصولوں اور وعدوں میں بار بار تبدیلی کو قیادت کی خوبی بنا کر پیش کیا جائے تو سوال ضرور اٹھتا ہے کہ رہنماء کی منزل کیا ہے اور اس کے نظریے کی بنیاد کتنی مضبوط ہے۔؟ ایک صاحبِ بصیرت رہنماء اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرسکتا ہے، مگر اسے اپنی منزل، بنیادی اصولوں اور عوام سے کیے گئے وعدوں کے بارے میں جواب دہ ہونا چاہیئے۔
حکمتِ عملی میں لچک اور اصولوں سے انحراف کے درمیان فرق ہے۔ یہی فرق سیاسی بلوغت اور موقع پرستی کو الگ کرتا ہے۔ عمران خان کی سیاست میں احتجاج، دھرنے اور بڑے عوامی اجتماعات نمایاں رہے۔ لیکن کسی سیاسی تحریک کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ کتنے لوگ جمع ہوئے، کتنی بلند آواز میں نعرے لگے یا مخالفین کتنے خوف زدہ ہوئے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس اجتماع کو کس حد تک منظم سیاسی قوت میں تبدیل کیا گیا، اس کے نتیجے میں کون سے پائیدار ادارے بنے اور مشکل وقت میں کارکنوں کو کس نوعیت کی واضح حکمتِ عملی میسر آئی۔ کسی رہنماء کے جلسوں میں لاکھوں افراد کی شرکت یقیناً اس کی مقبولیت کا اظہار ہے، لیکن مقبولیت اور نظریاتی وابستگی ایک چیز نہیں۔ ہجوم کسی شخصیت کے سحر میں بھی جمع ہوسکتا ہے، کسی وقتی سیاسی غصے کے تحت بھی اور کسی حقیقی اجتماعی مقصد کے لیے بھی۔ ان تینوں صورتوں کے نتائج مختلف ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنمائی کو صرف انتخابی کامیابی یا سوشل میڈیا کی مقبولیت سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا رہنماء نے عوام کو سیاسی طور پر باشعور بنایا۔؟ کیا اس نے کارکنوں کو اصولوں اور جمہوری اداروں کی اہمیت سمجھائی۔؟ کیا اس نے ایسی تنظیم تیار کی جو مشکل حالات میں بھی پُرامن، منظم اور مؤثر سیاسی کردار ادا کرسکے۔؟ عمران خان کے حامی ان کی عوامی مقبولیت، ان کے کچھ فلاحی منصوبوں اور ان کے افعال سے بڑھ کر ان کے سیاسی بیانیے کو ان کی کامیابیوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ناقدین ان کی حکومتی کارکردگی، سیاسی حکمتِ عملی اور جماعتی تنظیم کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان اختلافات سے قطع نظر، یہ بحث اہم ہے کہ مقبولیت کو پائیدار ادارہ جاتی قوت میں تبدیل کرنا کسی بھی سیاسی رہنماء کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔
خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی طویل حکمرانی بھی اسی پیمانے پر جانچی جانی چاہیئے۔ کسی جماعت کو برسوں اقتدار ملنا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس نے معاشرے میں کوئی انقلابی تبدیلی پیدا کر دی۔ اس کے لیے تعلیم، صحت، روزگار، انتظامی اصلاحات، مقامی حکومتوں اور ادارہ جاتی استحکام کے قابلِ پیمائش نتائج دیکھنا ضروری ہیں۔ اگر کوئی جماعت اپنے طویل اقتدار کے باوجود ایسی عوامی وابستگی پیدا نہ کرسکے، جو اس کے اقتدار سے محروم ہونے پر ایک منظم اور پُرامن سیاسی ردعمل کی صورت میں سامنے آئے تو اس کی تنظیمی قوت پر سوال اٹھانا بجا ہے، البتہ احتجاج کی شدت کو عوامی حمایت کا واحد پیمانہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ لوگ خوف، سیاسی تھکن، معاشی مجبوریوں یا دوسرے حالات کے باعث احتجاج میں شریک نہیں ہوتے۔ اس لیے کسی تحریک کی حقیقی قوت کا اندازہ لگانے کے لیے صرف سڑکوں پر نکلنے والوں کی تعداد نہیں، بلکہ انتخابی حمایت، تنظیمی فعالیت اور عوامی مسائل کے حل میں کارکردگی کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف عمران خان یا کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔ ہماری سیاست میں شخصیت پرستی کا رجحان اس قدر گہرا ہے کہ ہم اکثر رہنماء کی خامیوں کو نظر انداز کرکے اس کی ذات کو نجات دہندہ بنا لیتے ہیں۔ کبھی کسی خاندان کو سیاسی بصیرت کا واحد وارث سمجھا جاتا ہے، کبھی کسی مقبول کھلاڑی کو مسیحا بنا دیا جاتا ہے اور کبھی کسی طاقتور شخصیت سے تمام مسائل کے فوری حل کی توقع باندھ لی جاتی ہے۔ یہ رویہ سیاسی شعور کی نشوونما میں رکاوٹ بنتا ہے۔ قومیں افراد سے وابستگی ضرور رکھتی ہیں، مگر انہیں افراد سے آگے بڑھ کر اصولوں، اداروں اور اجتماعی مفادات سے وابستہ ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ رہنما کی ایک تقریر سے امیدوں کے چراغ روشن ہو جائیں اور اس کے ایک فیصلے سے پوری تحریک مایوسی میں ڈوب جائے۔ پاکستان کو ایسے سیاسی رہنماؤں کی ضرورت ہے، جو محض مقبول نہ ہوں بلکہ اہل بھی ہوں۔ جو صرف تقریر نہ کریں بلکہ ادارے بنائیں۔
جو صرف مخالفین کو شکست دینے کا خواب نہ دکھائیں بلکہ عوام کو بہتر زندگی دینے کا قابلِ عمل منصوبہ بھی پیش کریں۔ جو اپنی ذات کے گرد عقیدت کا حصار کھڑا کرنے کے بجائے اپنے کارکنوں میں تنقیدی شعور، جمہوری رویہ اور اصولی وابستگی پیدا کریں، قیادت کسی شخص کی شہرت کا اگلا مرحلہ نہیں، بلکہ ایک مستقل اخلاقی، فکری اور عملی امتحان ہے۔ کرکٹ کا عالمی اعزاز ایک کھلاڑی کو تاریخ میں جگہ دے سکتا ہے، اداکاری کی مقبولیت کسی فن کار کو عوام کا محبوب بنا سکتی ہے، مگر قوم کی قیادت کے لیے اس سے کہیں زیادہ درکار ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے رہنماء کی شخصیت سے متاثر ہو کر اس کے پیچھے چلنا چاہتے ہیں یا اس کے کردار، اہلیت، نظریے اور کارکردگی کو پرکھ کر اسے اپنا نمائندہ بنانا چاہتے ہیں۔
کیونکہ جب قومیں شہرت کو شعور پر، گلیمر کو کردار پر اور نعروں کو عمل پر ترجیح دیتی ہیں تو انہیں رہنماء تو مل جاتے ہیں، مگر منزل نہیں ملتی۔ قوموں کی تقدیر کسی مقبول چہرے سے نہیں بدلتی۔ اسے بدلنے کے لیے بصیرت، کردار، تنظیم اور مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ یہی وہ سبق ہے، جسے پاکستان کی سیاست کو اب سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے "نہج البلاغہ” میں بعض لوگوں کو "أَتْبَاعُ كُلِّ نَاعِقٍ” یعنی "ہر آواز لگانے والے کے پیروکار” کہا ہے۔ یہاں "نَاعِقٍ” کا مطلب آواز دینے یا پکارنے والا ہے۔ حضرت علیؑ ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جو علم، بصیرت اور پختہ اصولوں کے بجائے ہر نئے نعرے اور ہر پکارنے والے کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
تحریر: پروفیسر تنویر حیدر نقوی