ابن تیمیہ كے عقائد (1)

265

  اقرار كرے كہ صرف وھی عبادت كا مستحق ھے اور بس1

توحید الوھیت اور توحید ربوبیت

ابن تیمیہ نے توحید كی دوقسم كی ھیں :

1۔ توحید الوھیت ،

2۔ توحید ربوبیت،اور ان كے بارے میں كھا ھے : چونكہ تمام اسلامی فرقے توحید الوھیت سے جاھل ھیں، اسی وجہ سے غیر خدا كی عبادت كرتے ھیں، اور توحید سے صرف توحید ربوبیت كو پہچانتے ھیں، اور توحید ربوبیت سے اس كی مراد خدا كی ربوبیت كا اقرار كرنا ھے یعنی یہ اقرار كرنا كہ تمام چیزوں كا خالق خداوندعالم ھے ۔ وہ یہ كھتا ھے كہ مشركین بھی اسی معنی كو اعتراف كرتے ھیں۔

یعنی تو حید سے اس كی خالقیت كے قائل ھیں (بلكہ ھمیں چاہئے كہ توحید الوھیت یعنی اس كی خالقیت كا اعتراف كئے بغیر خدا كی خدائی كو قبول كریں)

یہ قول ابو حامد بن مرزوق سے نقل هوا ھے كہ اولاد آدم جب تك اپنی سالم فطرت پر باقی ھیں ان كی عقل میںیہ بات مسلم ھے كہ جس كی ربوبیت ثابت ھے وھی مستحق عبادت بھی ھے، لہٰذا كسی كے ربوبیت ثابت هوجانے كا ملازمہ یہ ھے كہ اس كی عبادت كی جائے۔ 2

ھم اسی كتاب میں یہ بات بیان كریں گے كہ ابن تیمیہ غیر خدا سے ھر قسم كا توسل اور استغاثہ، یا انبیاء واولیاء كو شفیع قرار دینا، اسی طرح قبور كی زیارت اور وھاں پر دعا كرنا، مثلاً یہ كہنا ”یا محمد“

اور پیغمبراكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صالحین كی قبور كے نزدیك نماز پڑھنا نیز ان كی قبور پر قربانی كرنا، یہ سب كچھ توحید كے مخالف و منافی اور باعث شرك جانتا ھے۔

لہٰذا اس بناپرابن تیمیہ كی نظر میں موحّد وہ شخص ھے جو اگر كوئی چیز طلب كرے توبراہ راست خدا سے طلب كرے اور كسی كو بھی واسطہ یا شفیع قرار نہ دے، اور كسی بھی عنوان سے غیر خدا كی طرف توجہ نہ كرے۔

2۔ كفر وشرك كے معنی میں وسعت دینا

بعض وہ اعمال جو تمام مسلمانوں كے درمیان جائز بلكہ مستحب بھی ھیں،ابن تیمیہ كی نظر میں شرك او ربے دینی كا سبب ھیں، مثلاً اگر كوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی قبر كی زیارت كے لئے سفر كرے اور اس كے سفر كا اصل مقصد مسجد النبی میں جانا نہ هو، تو ایسا شخص سید مرسلینكی شریعت سے خارج ھے۔ 3

اور اگر كوئی شخص طلب حاجت كی غرض سے پیغمبریا كسی دوسرے كی قبر كی زیارت كرے ،اس كوخدا كاشریك قرار دے او ر اس سے كوئی چیز طلب كرے تو اس كا یہ عمل حرام اور شرك ھے۔4

اسی طرح اگر كوئی قبور سے نفع كا امیدوار هو اور ان كو بلا ومصیت دفع كرنے والا تصور كرے، تو اس كا حكم بت پرستوں كی طرح ھے جس طرح بت پرست،بتوں سے حصول نفع ونقصان كے قائل ھیں۔ 5

اسی طرح جو لوگ قبور كی زیارت كے لئے جاتے ھیں تو اس كا مقصد بھی مشركین كے قصد كی طرح هوتا ھے ،كہ وہ لوگ بتوں سے وھی چیز طلب كرتے ھیں جو ایك مسلمان خدا سے طلب كرتا ھے۔ 6

اسی طرح سے ابن تیمیہ كا كہنا ھے:

اگر كوئی انسان غیر خدا كو پكارے اور غیر خدا كی طرف جائے (یعنی ان كی قبور كی زیارت كے لئے سفر كرے) اور مردوں كو پكارے چاھے وہ پیغمبر هوں یا غیر پیغمبر، تو گویا اس نے خدا كے ساتھ شرك كیا۔ 7

ابن تیمیہ كی نظر میں كفر اور شرك كا دائرہ اس سے كھیں زیادہ وسیع ھے جس كو ھم نے ذكر كیا، كیونكہ وہ جناب تو یھاں تك فرماتے ھیں كہ اگر كوئی مسجد كا پڑوسی هو ،اور اپنے كام وغیرہ كی وجہ سے نماز جماعت میں شریك نہ هوسكے، تو اس كو توبہ كرائی جائے گی اگر توبہ نہ كرے تو اس كا قتل واجب ھے۔ 8

گذشتہ مطلب كی وضاحت

شوكانی صاحب جو ابن تیمیہ كے طرفداروں او ر وھابیوںكے موافقین میں سے ھیں، كھتے ھیں:صاحب نجد كے ذریعہ ھم تك پهونچنے والی چیزوں میں سے ایك یہ ھے كہ ”جو كوئی شخص نماز جماعت میں شریك نہ هو اس كا خون حلال ھے“جبكہ یہ بات قانون شریعت كے برخلاف ھے۔ 9

اھل سنت كے سلف صالح اور ائمہ اربعہ اور عام اسلامی مذاھب كے پیشوا نماز كو گھر یا مسجد كے علاوہ كسی دوسری جگہ پڑھتے تھے، مثلاً امام مالك ،شروع میں نماز كے لئے مسجد میں جایا كرتے تھے لیكن بعض وجوھات كی بناپر مسجد میں جانا ترك كردیا، اور گھر ھی میں نماز پڑھنے لگے، لیكن جب اس بارے میں لوگوں نے ان پر اعتراضات كرنے شروع كردئے تو كھتے تھے: میں اس كی وجہ او ردلیل نھیں بتاسكتا۔ 10

احمد ابن حنبل پر بھی جب خلیفہ وقت كا غضب اور قھر پڑنے لگا تو انھوں نے بھی مسجد جانا ترك كردیا، یھاں تك كہ نماز یا دوسرے كام كے لئے بھی مسجد میں نھیں جاتے تھے۔ 11

مصر كے سابق مفتی اور الازھر یونیورسٹی كے سابق صدر شیخ محمود شلتوت صاحب كھتے ھیں: مسلمانوں كو اختیار ھے كہ جھاں بھی نماز پڑھنا چاھیں پڑھیں،چاھے مسجد هو یا گھر جنگل هو یا كارخانہ یا كتابخانہ، خلاصہ یہ كہ جھاں بھی نماز كا وقت هوجائے، وھیں پر نماز ادا كرلےں، نیز انھیں اختیار ھے كہ چاھے نماز كو فرادیٰ پڑھیں، البتہ جماعت كے ساتھ نماز ادا كرنا نماز كا بھترین طریقہ ھے۔ اس كے بعد جناب شلتوت صاحب نماز جماعت كے فوائد بیان كرتے ھیں۔ 12

ابن تیمیہ كی باقی گفتگو

ابن تیمیہ اس شخص كے بارے میں كھتا ھے كہ جو نماز ظھر كو مغرب تك اور نماز مغرب كو آدھی رات تك تاخیر سے پڑھے گویا وہ كافر ھے، اور اگر كوئی اس كام كو كفر نہ مانے، تو اس كی بھی گردن اڑادی جائے۔ 13

نیزاسی طرح كھتا ھے: اگر كوئی شخص چاھے وہ مرد هو یا عورت نماز نہ پڑھے تو اس كو نماز پڑھنے كے لئے كھا جائے اور اگر قبول نہ كرے تو اكثر علماء اس بات كو واجب جانتے ھیں كہ اس سے توبہ كرائی جائے اور اگر توبہ نہ كرے تو اس كو قتل كردیا جائے چاھے وہ شخص نماز كے وجوب كا اقرار كرتا هو۔ 14

اسی طرح وہ بالغ جو نماز پنجگانہ میں سے كسی ایك نماز كو ادا كرنے سے پرھیز كرے یا نماز كے كسی ایك مسلّم واجب كو ترك كرے تو ایسے شخص سے توبہ كرائی جائے اوراگر توبہ نہ كرے تو اس كو قتل كردیا جائے۔ 15

ابن تیمیہ مخلوقات میں سے كسی چیز كی قسم كھانے یا غیرخدا كے لئے نذر كرنے كو بھی شرك 16 جانتا تھا،جس كی تفصیل انشاء اللہ بعد میں ذكر هوگی۔

3۔ خدا كے دیدار اور اس كے لئے جھت كا ثابت كرنا

ابن تیمیہ كی معروفترین كتاب منھاج السنہ ھے، ابن تیمیہ نے اس كتاب كو منھاج الكرامة فی اثبات الامامة 17 تالیف مرحوم علامہ حلّی(متوفی ۷۲۶) كی ردّ میں لكھا ھے، اس نے پھلے علامہ حلی كے اعتقادات كو ایك ایك كركے نقل كیا ھے او راس كے بعد ان كو ردّ كرنے كی كوشش كی ھے، منجملہعلامہ حلی كے اس نظریہ كو نقل كیا كہ خدا كو دیكھا نھیں جاسكتا او رحواس خمسہ كے ذریعہ درك نھیں كیا جاسكتا، كیونكہ وہ خود فرماتا ھے:

< لاٰتُدْرِكُہُ الاَبْصَاْرُ وَهو یُدْرِكُ الاَبْصَاْرَ۔>18

”نگاھیں اس كودرك نھیں كرسكتیں اور وہ نگاهوں كا ادراك ركھتا ھے“۔

وہ علامہ حلّی مرحوم كا یہ قول نقل كرنے كے بعد كہ خداوندعالم جھت و مكان نھیں ركھتا، اس طرح كھتا ھے: اھل سنت سے منسوب تمام افراد خدا كے دیدار كے اثبات پر اتفاق ركھتے ھیں، اور سلف(علمائے قدیم) كا اس بات پر اجماع ھے كہ روز قیامت خدا كو ان ھی سر كی آنكھوں سے دیكھا جاسكتا ھے، لیكن دنیا میں اس كو نھیں دیكھا جاسكتا، ھاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كے بارے میں اختلاف ھے كہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دنیا میں خدا كا دیدار كیا ھے یا نھیں، او رمذكورہ آیہٴ شریفہ كے بارے میں كھتا ھے كہ ادراك كے بغیر خدا كا دیدار هونا ممكن ھے۔

ابن تیمیہ نے خداوندعالم كے دیدار اور جھت وسمت كو ثابت كرنے كے لئے تفصیلی بحث كی ھے اور ظاھر آیات واحادیث سے استدلال كیا ھے۔ 19

چنانچہ ابن تیمیہ نے اس مسئلہ كو ثابت كرنے كے لئے رسالہ حمویہ لكھا ھے، ابن تیمیہ اس مسئلہ كے بارے میں مذكورہ رسالہ میں كھتا ھے: تمام نصوص (قرآنی آیات واحادیث) اس مسئلہ پر دلالت كرتی ھیں كہ خداوندعالم عرش اور آسمان كے اوپر رھتا ھے، اور اس كی طرف انگلی سے اشارہ كیا جاسكتا ھے، روز قیامت خداوندعالم كو دیكھا جاسكتا ھے، اور یہ كہ خداوندعالم مسكراتا ھے، اور اگر كوئی شخص خدا كے آسمان میں هونے كا اعتقاد نہ ركھے، تو اس سے توبہ كرانی چاہئے اگر توبہ قبول كرلی تو ٹھیك ورنہ اس كی گردن اڑادینی چاہئے۔

اسی طرح وہ كھتا ھے: قرآن مجید كی ظاھری آیات كے مطابق خداوندعالم اعضاء وجوارح ركھتا ھے، لیكن خدا وندعالم كی فوقیت اور اس كے اعضاء وجوارح كو مخلوق (انسان) كے اعضاء وجوارح سے مقایسہ نھیں كیا جاسكتا، چنانچہ اسی مسئلہ كے ضمن میں كھتا ھے:

بعض لوگوں نے آیہ ذیل<اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ 20 (وہ رحمن عرش پر اختیار واقتدار ركھنے والا ھے) میں استویٰ كے معنی ”استویٰ” (بلندی) كے كئے ھیں جو باطل اور بے بنیاد ھیں، اور اس طرح كی تاویلات دوسری زبانوں كی كتب ضلال (گمراہ كن كتابوں) سے ترجمہ هوكر علماء علم كلام كے ذریعہ عربی زبان میں داخل هوگئی ھیں۔ 21

رویت خدا كے بارے میں ابن قیّم كا نظریہ

ابن تیمیہ كے شاگرد اور ھم فكرابن قیّم نے اس سلسلہ میں ایك طویل قصیدہ كھا ھے، جس كا نام كافیة الشافیہ ھے جس كی شرح حنبلی علماء میں سے احمد بن ابراھیم نے دوجلدوں میں توضیح المقاصد كے نام سے لكھی ھے، ابن قیّم لكھتا ھے كہ اھل بہشت خداوندعالم كا دیدار كریں گے اور اس كے چھرہٴ مبارك پر نظر كریں گے، اس نے اسی موضوع كو اپنے اشعار میں بیان كیا:

”وَیَرَوْنَہُ سُبْحَانَہُ مِنْ فوَقِهم

رُوْیَا الْعِبَادِ كَمَاْ یُریَ الْقَمَرَانِ

ہٰذَا تَوَاتَرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ لَمْ

یُنْكِرہُ اِلاّٰ فَاْسِدُ الاِیْمَانِ“

”اھل بہشت خداوندعالم كو اپنے سر كے اوپر سے دیكھیں گے، جس طرح چاندوسورج كو دیكھتے ھیں،یہ بات حضرت رسول اكر م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بطور تواتر نقل هوئی ھے، اور اس بات كا انكار وھی كرتا ھے جن كا ایمان فاسد ھے“

شارح (صاحب توضیح المقاصد) كھتا ھے كہ تمام انبیاء و مرسلین،صحابہ وتابعین اور ائمہ اسلام كااس بات(كہ اھل بہشت خدا كا دیدار كریں گے) پر اتفاق ھے، لیكن بعض اھل بدعت فرقے مثلاً جُھمَیہ، معتزلہ، باطنیہ اور رافضیہ خدا كے دیدار كے منكر ھیں۔

خدا كے دیدا ر كا مسئلہ قرآن مجید میں بطور واضح اور بطور اشارہ دونوں طریقوں سے بیان هوا ھے مثال كے طور پر درج ذیل آیات:

<وُجُوْہٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ اِلیٰ رَبِّها نَاظِرَةٌ۔ > 22

<واتَّقُوْا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْا اَنَّكُمْ مُلاٰقُوْہُ۔ > 23

<تَحِیَّتهم یَوْمَ یَلْقَوْنَہُ سَلاٰمٌ۔ > 24

< فَمَنْ كَانَ یَرْجُو لِقَاءَ رَبِّہ۔ > 25

”لہٰذا جو بھی اس كی ملاقات كا امیدوار ھے اسے چاہئے كہ عمل صالح كرے“۔

ابن قیّم اپنے مذكورہ قصیدہ میں كھتا ھے:

بَیْنَاهم فِیْ عَیْشِهم وَسُرُوْرِهم ْ

وَنَعِیْمِهم فِی لَذَّةٍ وَتَہٰانٍ

وَاِذَا بنُوْرٍ سَاطِعٍ قَدْ اُشْرِقَتْ

مِنْہُ الْجِنَانُ قَصِیُّھا وَالدَّان. ی

رَفَعُوْا اِلَیْہِ رُوٴُسَهم فَرَاوْہُ نُوْ

رَالرَّبِّ لاٰیَخْفٰی عَلَی اِنْسَانٍ

وَاِذَا بِرَبِّهم تَعَالیٰ فَوْقَهم

قَدْ جَاءَ لِلتَّسْلِیْمِ بِالاِحْسٰانِ

قَالَ اَلسَّلاٰمُ عَلَیْكُمْ فَیَرَوْنَہُ

جَہْراً تَعٰالَی الرَّبُ ذُوْالسُّلْطَانِ 26

ترجمہ اشعار:

”جس وقت اھل بہشت جنت میں عیش وآرام اور بہشتی نعمتوں میں غرق هوں گے اور ایك دوسرے كو مبارك باد دے رھے هوں گے،اچانك ایك نور چمكے گا جو تمام جنت كو روشن ومنو ر كردے گا، اس وقت تمام لوگ اوپر كی طرف اپنا سر اٹھائیں گے، تو پتہ چلے گا كہ یہ تو خدا كا نور ھے جو كسی پر بھی مخفی وپوشیدہ نھیں ھے، اسی حالت میں وہ خدا كو اپنے سروں كے اوپر دیكھیں گے،جو اھل بہشت كو سلام كرنے كے لئے حاضر هوا ھے، اس وقت خداوندعالم ان سے خطاب كرے گا: السلام علیكم، اس موقع پر اھل بہشت خدا كو واضح طور پر دیكھیں گے“۔

ابن قیم نے اس سلسلہ میں ابن ماجہ سے ایك روایت كو سند كے طور پر نقل كیا ھے،اس كے بعد ابن قیم كھتا ھے:

وكذاك یسمعھم لذیذ خطابہ

سبحانہ بتلاوة الفرقان

فكانّھم لم یسمعوہ قبل ذا

ہذا رواہ الحافظ الطبرانی

ہذا سماع مطلق وسماعنا

القرآن فی الدنیا قنوع ثانی 27

”خداوندعالم اھل بہشت كے لئے مترنم اور دلكش آواز میں ایك طریقہ سے قرآن پڑھے گاكہ ایسی تلاوت كو اھل بہشت نے اس سے پھلے كبھی نھیں سنا هوگا، اور اس كی روایت طبرانی نے بھی كی ھے، قرآن كو بطور مطلق اور بطور حقیقی سننا یھی ھے اور جو كچھ ھم نے دنیا میں سنا ھے وہ كوئی دوسری قسم تھی“۔

شارح نے طبرانی كی روایت كو نقل كیا ھے، جس كے مطابق اھل بہشت ھر روز دوبار خدا كی بارگاہ میں پهونچےں گے، اور خداوندعالم ان كے لئے قرآن پڑھے گا، درحالیكہ كہ اھل بہشت اپنی مخصوص جگہ (یاقوت وزبرجد اور زمرّد جیسے قیمتی پتھروں كے منبروں پر)تشریف فرماهوں گے،ان كی آنكھوں نے اس سے بھتر كوئی چیز نھیں دیكھی هوگی اور نہ ھی اس سے زیادہ دلنشین آواز سنی هوگی، چنانچہ اس واقعہ كے بعد اپنے اپنے حجروں میں چلے جائیں گے اور دوسری صبح هونے كا انتظار كریں گے تاكہ پھر اسی طرح كا واقعہ پیش آئے او ردوبارہ خدا كی اسی طرح آواز سنیں ۔

شیخ عبد العزیز محمد السلمان مدرّس مدرسہ پیشواے دعوت وھابیت ریاض (مراد محمد بن عبد الوھاب كا مدرسہ ھے جو اسی كے نام سے ھے) سے ابن تیمیہ كے رسالہ عقیدہ واسطیہ كے بارے میں سوال هوا توشیخ عبد العزیز محمد السلمان نے جواب دیا: اس بات پر ھمارا پورا یقین ھے كہ روز قیامت اھل بہشت خدا كو واضح طور پر اپنی انھی آنكھوں كے ذریعہ دیكھیں گے، اور اس كی زیارت كریں گے، خداوندعالم ان سے گفتگو كرے گا اور اھل بہشت بھی اس سے گفتگو كریں گے، جس كی طرف قرآن مجید میں یہ آیت اشارہ كرتی ھے:

<وُجُوْہٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ اِلیٰ رَبِّها نَاظِرَةٌ۔ >

(”اس دن بعض چھرے شاداب هوں گے، اپنے پرور دگار كودیكھ رھے هوں گے“۔ )

حدیث كا مضمون كچھ اس طرح ھے: جلد ھی تم اپنے پروردگار كا دیدار كروگے جس طرح چودھویں كے چاند كو دیكھتے هو۔

شیخ عبد العزیز اس كے بعد كھتے ھیں: آیہ مباركہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ھے كہ روز قیامت مخلص مومنین درحالیكہ ان كے چھرے نورانی اور نعمت خدا كی وجہ سے خوش وخرم هونگے اوراپنے خدا كا واضح اور آشكار طورسے دیدار كریں گے۔ 28

یاد دھانی

ابن تیمیہ اور ابن قیّم جوزی كی باتوں سے یہ نتیجہ نكلتاھے كہ خداوندعالم صاحب جسم ومكان ھے اور اعضاء وجوارح ركھتا ھے، جیسا كہ ابن تیمیہ معتقد ھے كہ خداوندعالم آسمان كے اوپر اور عرش پر تشریف فرما ھے، اور اپنی مخلوق سے جدا ھے، او ریہ معنی حق ھیں كہ چاھے اس كو مكان (جگہ) كا نام دیا جائے یامكان كا نام نہ دیا جائے۔ 29

اور جیسا كہ یہ بھی معلوم ھے كہ ان باتوں كانتیجہ خداوندعالم كے لئے مكان او رجگہ ثابت هونا ھے، كیونكہ اس نے یہ بھی كھا ھے كہ اس كی طرف انگلی سے بھی اشارہ كیا جاسكتا ھے، اور یہ بات مسلّم ھے كہ جس كے لئے ایك معین مكان او رجگہ هو اور اس كی طرف انگلی سے اشارہ كیا جاسكتاهو،اس كے لئے ھاتھ پیر آنكھ اور چھرہ اور دوسرے اعضاء بھی هونا چاہئے، جس كا نتیجہ یہ هوگا كہ خداوندعالم كو جسم وجسمانیت والا فرض كریں۔ 30

اس سلسلہ میں مرحوم علامہ حلی كا بیان اس طرح ھے: شیعوں كا اعتقاد یہ ھے كہ صرف خداوندعالم كی ذات گرامی ھے جو صفت ازلی اور قدیم سے مخصوص ھے، اور اس كے علاوہ ھر چیز حادث ھے (یعنی پھلے وجود نھیں تھی بعد میں پیدا هوئی ھے)، اسی طرح شیعوں كا عقیدہ یہ ھے كہ خداوندعالم جسم وجوھر نھیں ھے، كیونكہ ھر مركب اپنے جزء كا محتاج هوتا ھے اور چونكہ مركب كا جزء خود اس كے علاوہ ھے، نیز خداوندعالم عَرَض بھی نھیں ھے اور اس كے لئے كوئی خاص مكان اور جگہ بھی نھیں ھے، كیونكہ اگر اس كے لئے مكان هوگا تو پھر خداوندعالم حادث هوجائے گا، اس كے علاوہ یہ كہ خداوندعالم اپنی مخلوق میں كسی كی شبیہ یا كوئی مخلوق خدا كی شبیہ نھیں ھے او رخدا ھر طرح كی شباھت سے پاك ومنزہ ھے۔

خداوندعالم كے بارے میں شیعوں كا اعتقاد یہ بھی ھے كہ خداوندعالم كو دیكھانھیںجاسكتا، اور یھی نھیں بلكہ اس كو كسی بھی حواس كے ذریعہ درك نھیں كیا جاسكتا، كیونكہ خود خداوندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ھے:

<لاٰتُدْرِكُہُ الاَبْصَاْرُ وَهو یُدْرِكُ الاَبْصَاْرَ۔ >31

”نگاھیں اس كو پانھیں سكتیں اور وہ نگاهوں كا برابر ادراك ركھتا ھے“۔

مرحوم علامہ حلّی خواجہ نصیر الدین طوسیۺ كی كتاب” تجرید الاعتقاد“ كی شرح میں اس طرح فرماتے ھیں: خداوندعالم كا واجب الوجود هونا اس بات كا تقاضا كرتا ھے كہ اس كی ذات گرامی كو دیكھا نھیں جاسكتا، چنانچہ اكثر عقلاء نے اسی بات كو قبول كیا ھے كہ خدا وندعالم كو دیكھنا ناممكن ھے، لیكن وہ لوگ جو خداوندعالم كو جسم وجسمانیت والا مانتے ھیں وہ كھتے ھیں كہ خداوندعالم كو دیكھنا ممكن ھے، جبكہ اگر خداوندعالم كو مجرد مانا جائے تو اس كو دیكھنا محال ھے.

فرقہ اشاعرہ نے تمام عقلاء كی مخالفت كرتے هوئے كھا ھے كہ خداوندعالم كا دكھائی دینا اس كے مجرد الوجود هونے سے كوئی منافات اور مخالفت نھیں ركھتا، البتہ خدا كے نہ دكھائی دینے پر ان كی دلیل یہ ھے كہ خداوندعالم كے واجب الوجود هونے كا تقاضا یہ ھے كہ اس كی ذات گرامی مجرد هو، اور اس سے جھت وسمت اور مكان كی نفی كی جائے، جس كی بناپر ضروری ھے كہ اس كے دیكھنے كی نفی كی جائے، كیونكہ جس چیز كو دیكھنا ممكن ھے اس كے لئے جھت اور سمت كا هونا ضروری هو اور اس كی طرف اشارہ كیا جائے كہ وہ وھاں ھے یا یھاں ھے، اور ایسی چیز انسان كے مقابلہ میں هو، یا انسان كے مقابلہ كی مثل هو، جبكہ ایسا نھیں ھے لہٰذا خداوندعالم كو نھیں دیكھا جاسكتا۔ 32

روٴیت خدا كے سلسلہ میں شیعوں كے اعتقادات اور ان كے دلائل اور برھان نیز مخالفین كے اعتراضات كے جوابوں كے لئے علامہ حلّی كی مذكورہ دو كتابوں اور شیعوں كی دوسری كلامی كتابوں كی طرف رجوع كیا جائے، اور اس بات پر توجہ ركھنا چاہئے كہ وہ چیزیں جو بھت سی ملل ونحل كی كتابوں مثلاً كتاب الفِصَل ابن حزم،اور ملل ونحل شھرستانی میں شیعوں كی طرف بھت سی باتوں كی نسبت دی گئی ھے، وہ كسی بھی صورت میں صحیح نھیں ھیں، اور لكھنے والوں كے تعصب اور خود غرضی كا نتیجہ ھے ۔

امام الحرمین جُوَینی كا نظریہ

امام الحرمین عبد الملك جوینی پانچویں صدی كے مشهور اور بھت بڑے شافعی علماء میں سے تھے، وہ خداوندعالم كی صفات سلبیہ كو بیان كرتے وقت كھتے ھیں: خداوندعالم كسی بھی جھت وسمت سے مخصوص هونے، یا كسی محاذات (یعنی كسی چیز كے مقابلہ میں واقع هونا) كی صفت سے متصف هونے سے پاك ومنزہ ھے، كیونكہ ھر وہ چیز جو جھت ركھتی ھے وہ كسی ایك جگہ اور مكان میں هوتی ھے اور جوچیز كسی مكان یا جگہ میں هو تو وہ اس كی قابلیت ركھتی ھے كہ كوئی جوھر اس سے ملاقات كرے یا كوئی چیز اس سے جدا هوجائے اور جو چیزیں اس طرح سے هوتی ھیںوہ ان دونوں(اجتماع وافتراق) سے خالی نھیں هوسكتیں، اور جو چیز اجتماع اور افتراق سے خالی نہ هو (یعنی كسی جوھر كے ساتھ جمع هویا اس سے جدا هوجائے) تو وہ بھی اس جوھر كی مانند حادث ھے، لہٰذا ثابت یہ هوتا ھے كہ خداوندعالم ھر طرح كے مكان وجھت سے پاك ومنزہ ھے اور كسی جسم سے ملاقات نھیں كرسكتا۔

اگر كوئی سوال كرے كہ آیہ مباركہ ”اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ“ سے كیا مراد ھے؟

توھمارا جواب یہ هوگا كہ استویٰ سے مراد خداوندعالم كا قھر وغلبہ اور اس كی عظیم عظمت ھے، اور جس وقت عرب كھتے ھیں: استوی فلان علی المملكة یعنی فلاں شخص تمام مملكت پر غلبہ پاگیا، یہ بھی اسی طرح ھے چنانچہ عربی شاعر كھتا ھے:

قَدْاِسْتَویٰ بِشْرٌ عَلَی الْعِراقِ مِنْ غَیْرِ سَیْفٍ وَدَمٍ مُہْرَاقِ 33

(بشر(بشر ابن مروان)بغیر خوں ریزی كے عراق پر غلبہ پاگیا۔ )

یہ بات معلوم هونا چاہئے كہ پھلے آخرت میںخدا كے دیدار كا نظریہ موجود تھا، چنانچہ ”مرجئہ“نامی فرقہ كے بعض افراد اس طرح كا اعتقاد ركھتے تھے، اسی طرح بعض لوگ خدا كو صاحب جسم یھاں تك كہ اعضاء وجوارح والا تصور كرتے تھے 34 تعالی اللّٰہ عما یقولون علواً كبیراً۔

4۔ خدا كا آسمانِ دنیا سے زمین پر اترنے كا عقیدہ

ابن بَطُوطہ (مشهور تاریخ نویس) دمشق كی توصیف بیان كرتے هوئے كھتا ھے:

دمشق كے حنبلی عظیم فقھاء میں سے ایك تقی الدین ابن تیمیہ تھا جو مختلف فنون میں مھارت ركھتا تھا، اور اھل دمشق كو منبر سے وعظ ونصیحت كرتا تھا، ایك مرتبہ اس نے ایك بات ایسی كھی، جس كو اس وقت كے علماء نے قبول نھیں كیا، اور اس كو برا سمجھا، اور اس وقت كے مصری بادشاہ ملك ناصركو خبر دی كہ ابن تیمیہ ایسی ایسی باتیں كہہ رھاھے، ملك ناصر نے حكم دیا كہ اس كو قاھرہ روانہ كردیا جائے، اور جب ابن تیمیہ قاھرہ لایا گیا تو اس وقت ملك ناصر نے قضات وفقھاء كو بلایا، جس میں سب سے پھلے شرف الدین زاوی مالكی نے آغاز سخن كیا، اور ابن تیمیہ كے عقائد كو شمار كرنا شروع كیا، (بحث وگفتگو كے بعد) ملك ناصر نے حكم سنایا كہ ابن تیمیہ كو زندان میں ڈال دیا جائے، چنانچہ چند سال ابن تیمیہ كو زندان میں رہنا پڑا، لیكن اس نے وھاں رہكر تفسیر میں ایك كتاب بنام”البحر المحیط“ لكھی جو تقریباً چالیس جلدوں پر مشتمل تھی،اور جب زندان سے آزاد هوا تو پھر وھی اپنا پرانا عقیدہ لوگوں كے سامنے بیان كرنا شروع كیا جس كی پھر علماء نے مخالفت كی، میں(ابن بطوطہ) اس وقت شام میں تھا جب ابن تیمیہ نے جمعہ كے دن جامع مسجد كے منبر پر تقریر كی اور لوگوں كو وعظ ونصیحت كی ،تو میں بھی اس وقت مسجد میں تھا، اس نے اپنی گفتگو كے دوران كھا كہ خداوندعالم آسمان دنیا(پھلے آسمان) پر اسی طرح نا زل هوتا ھے جس طرح میں نیچے آتا هوں، یہ كہہ كر ابن تیمیہ منبر كے ایك زینے سے نیچےاتر آیا۔ 35

جب اس نے یہ كلمات زبان پر جاری كئے تو ایك مالكی عالم بنام ابن الزھراء اس كی مخالفت كے لئے كھڑا هوگیا اور اس كی باتوں سے انكار كرنے لگا، یہ دیكھكر لوگوں نے ابن تیمیہ پر حملہ شروع كردیا اور اس پر جوتوں كی بارش هونے لگی، یھاں تك كہ اس كا عمامہ بھی گرپڑا، جب عمامہ گرا تو اس كے نیچے سے حریر كی ایك ٹوپی نكلی، جس كو دیكھ كر لوگ مزید برھم هوگئے كہ ایك فقیہ اور حریر كی ٹوپی پہنے هوئے ھے، اس كے بعد اس كو عزالدین ابن مسلم (حنبلی قاضی) كے پاس لے گئے، مذكورہ قاضی نے اس كی باتوں كو سن كر اس كوتعزیر (شرعی تنبیہ)كرنے كے بعد اس كو زندان كے لئے روانہ كردیا، مالكی اور شافعی قاضیوں كو اس حنبلی قاضی كا یہ حكم ناگوار گذرا انھوں نے اس بات كی خبر ملك الامراء سیف الدین تنكیز تك پهونچائی، سیف الدین نے اس موضوع اور ابن تیمیہ كی دوسری باتوں كو تحریر كر كے اس پر چند گواهوں اور قاضیوں كے دستخط لے كر ملك ناصر كو بھیج دیا، ملك ناصر نے حكم دیا كہ ابن تیمیہ كو زندان میں بھیج دیا جائے ،چنانچہ وہ قید میں رھا یھاں تك كہ اس دنیا سے چل بسا۔ 36

ابن تیمیہ نے رسالہ عقیدہ واسطیہ میں ایك حدیث ذكر كی ھے جس میں تحریر ھے كہ خداوندعالم ھر شب آسمان دنیا (آسمان اول) پر نازل هوتا ھے۔ 37

5۔ انبیاء علیهم السلام كا بعثت سے قبل معصوم هونا ضروری نھیں

ابن تیمیہ، علامہ حلّی ۺ كے اس نظریہ كو كہ انبیاء كا اول عمر سے آخر عمر تك گناہ كبیرہ وصغیرہ سے معصوم هونا ضروری ھے اور اگر معصوم نہ هوںتو ان پر اعتماد اور بھروسہ نھیں كیا جاسكتا، كا جواب دیتے هوئے كھتا ھے : انبیاء علیهم السلامكا بعثت سے قبل گناهوں سے معصوم هونا ضروری نھیں ھے، اور اپنی اس بات كو ثابت كرنے كے لئے دلیلیں بھی لاتا ھے۔ 38

ابن تیمیہ كا اعتقاد یہ تھا كہ انبیاء علیهم السلامكی عصمت فقط امور تبلیغ میں هوتی ھے، اوراس نے اس سلسلہ میں ایك رسالہ بھی لكھاھے۔ 39

6۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی وفات كے بعد

ابن تیمیہ اپنے عقائد او رنظریات كے مخالف احادیث كو ضعیف اور غیر صحیح بتاتاھے، مثلاً اس نے اس حدیث شریف ”مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِی بَعْدَ مَوْتِی كَاْنَ كَمَنْ زَاْرَنِی فِی حَیَاتِي“ (جس نے میری رحلت كے بعد حج كیا اور میری قبر كی زیارت كی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت كی) كو ضعیف بتاتے هوئے كھا ھے كہ چونكہ اس حدیث كا راوی حَفص بن سلیمان موثق نھیں ھے، لہٰذا اس حدیث كو قبول نھیں كیا جاسكتا۔

اسی طرح یہ حدیث شریف:

”مَنْ حَجَّ وَلَمْ یَزُرْنِی فَقَدْ جَفَانی“ (جو شخصحج بجالائے اور میری قبر كی زیارت نہ كرے گویا اس نے مجھ پر جفا كی) اور یہ حدیث شریف ”مَنْ زَارَ قَبْری. وَجَبَتْ لَہُ شفَاعَتی. “ (جو شخص میری زیارت كرے، مجھ پر اس كی شفاعت كرنا واجب ھے)اس نے ان دونوں احادیث كے راویوں كو بھی قبول نھیں كیا ھے۔ 40

ابن تیمیہ اس طرح كی احادیث كے مضامین كو رد كرتے هوئے كھتا ھے: جو كوئی شخص حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی حیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی زیارت كرے وہ (آنحضرت (ص)كی طرف) ہجرت كرنے والوں میں شمار هوتا ھے،اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی وفات كے بعد آپ كی زیارت كرے اور تمام واجبات كو انجام بھی دے تو بھی اصحاب پیغمبر كے مانند نھیں هوسكتا، چہ جائیكہ ان كاموں كو انجام دے جونافلہ ھیں یا سرے سے قربت اوراستحباب بھی نھیں ركھتیں۔ 41

(اس كا مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی قبرِ مطھر كی زیارت كرنا ھے)

اسی طرح ابن تیمیہ كھتا ھے كہ بعض لوگ رسول اكرمكی وفات كے بعد یہ دعویٰ كرتے ھیں كہ ھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی زیارت كی ھے اور ان سے احادیث اور فتووںكے بارے میں سوال كیا اور ھمیں جواب بھی ملا ھے، اور بعض لوگوں كو یہ وھم هوا كہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی قبر مطھر كھلی اور حضرت رسول خداظاھر هوئے یا ایسے ھی دوسرے واقعات، میں(ابن تیمیہ)نے بھت سے ایسے لوگوں كو دیكھا جن كے لئے ایسے واقعات رونما هوئے یا انھوں نے راستگو افراد سے ایسے واقعات سنے، بعض لوگ ان واقعات كو صحیح سمجھتے ھیں اور ان كو آیات الٰھی جانتے ھیںاور یہ اعتقاد ركھتے ھیں كہ ایسے واقعات دیندار اورصالح افراد كے لئے رونما هوتے ھیں، جبكہ یہ نھیں جانتے كہ یہ سب شیطانی

كام ھیں، اور جب كسی كے پاس كافی علم نھیں هوتا تو اس كو شیطان گمراہ كردیتا ھے۔ 42

ابن تیمیہ ایك دوسرے مقام پر اس طرح كھتا ھے: جو كوئی شخص حضرت رسول اكرمكے مرنے كے بعد ان كے وجود كو ان كی زندگی كے جیسا مانے، تو اس نے بھت بڑی غلطی كی ھے،43
منبع: تاریخ وھابیت؛ علی اصغر فقیھی – مترجم: اقبال حیدر حیدری
1. فتح المجید ص ۱۵،۱۶۔
2. التوسل بالنبی ص ۲۰ ۔
3. كتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۱۸،۲۱۔
4. كتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۵۲۔
5. كتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۵۶۔ ؛ 6262 كتاب الرد علی الاخنائی، تالیف ابن تیمیہ ص ۵۹۔
6. كتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۶۱،۶۷۔
7. فتاویٰ الكبریٰ جلد اول ص ۳۶۶، سعود بن عبد العزیز نجد كے مشهور بادشاہ (متوفی۱۲۲۹) نے ھر علاوہ میں امام جماعت مقرر كئے تھے، البتہ یہ امام جماعت دوم تھے یعنی اگر كوئی كسی عذر كی وجہ سے پھلی جماعت میں شریك نہ هوسكے تو اس دوسرے امام كی اقتداء كرے، یعنی ھر حال میں نماز جماعت میں شركت كرے، (ابن بشر جلد اول ص ۱۶۹) اسی طرح آل سعودمیں سے تركی نامی حاكم نے بھی ھر مسجد میں دو امام جماعت مقرر كئے تھے جن میں سے پھلا عام نماز جماعت كے لئے هوتا تھا اور دوسرا ان لوگوں كے لئے جو كام وغیرہ كی وجہ سے اول وقت نماز جماعت میں شریك نہ هوسكیں، اس كا مطلب یہ تھا كہ كوئی انسان بھی نماز كو فرادیٰ نہ پڑھے اور سب كے سب نماز با جماعت پڑھیں۔
8. البد رالطالع ج۲ ص ۶۔
9. ابن الندیم ص ۲۸۰،ابن خلكان ج۳ ص۲۵۸۔
10. صفدی ج ۶ ص ۳۶۸۔
11. الاسلام عقیدة وشریعة ص ۹۴۔
12. كتاب الایمان ص ۲۹۳۔
13. السیاسة الشرعیہ ص ۱۲۹۔
14. مجموعة الرسائل (الوصیة الكبریٰ) جلد اول ص ۳۲۱۔
15. فتح المجید ص ۱۶۳۔
16. حاج خلیفہ نے كتاب كا نام ”منھاج الاستقامہ“ لكھا ھے، (كشف الظنون ج۲ ص۱۸۷۰) لیكن حقیقت یہ ھے كہ منھاج الكرامہ صحیح ھے، او رخود علامہ حلی نے مقدمہ میں فرمایا ھے : ”سمیتھا منھاجالكرامة فی معرفة الامامة“ حاج خلیفہ نے ابن تیمیہ كی كتاب منھاج السنة كی گفتگو كرتے هوئے اس كتاب كا نام ”منھاج الكرامة“ بیان كیا ھے۔
17. سورہ انعام آیت ۱۰۳۔
18. منھاج السنہ ج۲ ص ۲۴۰تا۲۷۸،او رالفتاوی الكبری ج۵ ص ۵۴۔
19. سورہ طٰہ آیت۵۔
20. رسالة العقیدة الحمویہ، مجموعة الرسائل كے ضمن میں جلد اول ص ۴۲۹ اوراس كے بعد۔
21. سورہ قیامة آیت ۲۲،۲۳۔
22. سورہ بقرہ آیت ۲۲۳۔
23. سورہ احزاب آیت ۴۴۔
24. سورہ كہف آیت ۱۱۰۔
25. توضیح المقاصد ج۲ ص ۵۷۳۔
26. توضیح المقاصد ج۲ ص ۵۸۲۔
27. الاسئلة والاجوبة الاصولیة علی العقیدة الواسطیہ، ص ۱۹۸۔
28. منھاج السنة ج۲ ص ۱۰۶۔
29. جس سے اس كا مركب هونا لازم آتا ھے اور مركب اپنے اجزاء كا محتاج هوتا ھے، لہٰذا خداوندعالم جسم ركھنے میں اپنے دوسرے اعضاء كا محتاج هوا، اور جو محتاج هو وہ خدا نھیں هوسكتا، كیونكہ محتاج هونا بندہ كی صفت ھے خدا كی نھیں، اس كی صفت تو بے نیاز ی ھے،مترجم)
30. سورہ انعام آیت ۱۰۳۔ منھاج الكرامہ ص ۸۲(درمقدمہ جلد اول منھاج السنہ)
31. شرح تجریدالا عتقاد ص 281
32. لمع الادلہ فی عقائد اھل السنة والجماعة، تالیف امام الحرمین ص ۹۴، ۹۵، امام الحرمین كی بات تمام علماء كے لئے حجت ھے۔
33. مقالات الاسلامین ابو الحسن اشعری ص۲۳۳،۲۷۱،۲۹۰،۳۴۰۔ ابن تیمیہ نے خدا كے دیدار كے بارے میں چند رسالے بھی لكھے ھیں،(ابن شاكر جلد اول ص ۷۹
34. ابن تیمیہ كا بیان ھے كہ خداوندعالم آسمانوں كے اوپر رھتا ھے ،(العقیدة الحمویة الكبریٰ درضمن مجموعة الرسائل جلد اول ص ۴۲۹)اور آسمان دنیا (آسمان اول پر) نیچے آتا ھے ۔ وہ اس بات كو ثابت كرنے كے لئے كہ خداوند عالم آسمانوں پر رھتا ھے اور عرش پر مستقر ھے (بطور حقیقی اوربغیر كسی تاویل وتفسیر كے) اور اس چیز كا جواب دیتے هوئے كہ خدا كے صفات كو كس طرح ظاھر پر حمل كیا جاسكتا ھے، جبكہ وہ تشبیہ كا بھی منكر ھے اور اس كا بھی قائل ھے كہ عورتیں بھی بہشت میں خداوندعالم كا دیدار كریں گی، اس نے اسی طرح كے مسائل پر چند رسالے تحریر كئے ھیں۔ (صفدی ج۷ص۲۵)
35. رحلہٴ ابن بطوطہ جلد اول ص ۵۷،یہ تھی ابن بطوطہ كی باتیں، لیكن شیخ محمد بہجت البیطار ابن بطوطہ كی ان باتوں كا انكار كرتے هوئے كھتے ھیں كہ جس وقت ابن بطوطہ دمشق میں تھا ابن تیمیہ زندان میں تھا(حیاة ابن تیمیہ ص ۳۶)لیكن یہ بات مسلم ھے كہ ابن بطوطہ ۷۲۶ھ میں دمشق میں وارد هوا ھے اور ابن تیمیہ اسی سال قید هواھے اور ممكن ھے كہ ابن بطوطہ نے جو باتیں نقل كی ھیں ابن تیمیہ كے قید هونے كے بعد كی هوں۔
36. العقیدة الواسطیہ، مجموعہ الرسائل الكبریٰ جلد اول ص ۳۹۸۔
37. منھاج السنہ ج۲ ص ۳۰۸،۳۱۱۔
38. ابن شاكر جلد اول ص ۷۹، اس موقع پر ابن تیمیہ كی اس بات كو نقل كر ضروری ھے كہ، موصوف فرماتے ھیں كہ وہ جناب خضر جن كو حضرت موسیٰ ںكی مصاحبت ملی وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی بعثت سے قبل وفات پاچكے تھے،كیونكہ اگر زندہ هوتے تو ان كو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی خدمت میں حاضر هونا ضروری تھا، (مجموعہ الرسائل ج۲ص۶۶)،جبكہ صفدی كے مطابق جناب خضر نے احمد ابن حنبل (تیسری صدی كا درمیانی زمانہ) كے پاس ایك شخص كے ذریعہ پیغام پهونچایاتھا۔ (الوافی بالوفیات ج۶ص ۳۶۴)
39. كتاب الرد علی الاخنائی ص ۲۷،۲۸۔
40. الجواب الباھر، تالیف ابن تیمیہ ،ص۵۰۔
41. الجواب الباھر ص ۵۴،۵۵۔
42. الرد علی الاخنائی ص ۵۴۔ یھاں پر اس نكتہ كی طرف اشارہ كرنا ضروری ھے كہ وھابیوں كے عقائد كی شرح كرتے هوئے ان احادیث كا ذكر آئے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی قبر منور كی زیارت اور آپ كی وفات كے بعد آپ كی حیات طیبہ اور آپ كے علم سے متعلق ھیں ۔
43. كتاب الرد علی الاخنائی ص ۷۷۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.