طولانی عمر سائنس اورتاریخ کےمنظر میں

228

سب سے پہلے ہم سائنسي اعتبار سے يہ ديکھيں گے کہ کيا انسان کي زندگي کي کوئي حد ہے؟
ماضي ميں کچھ دانشوروں کا خيال تھا کہ زندہ موجودات ميں طبعي عمر کا ايک نظام موجود ہے۔
مشہور سائنسدان پاولوف کے مطابق انسان کي طبعي عمر سو ١٠٠ سال۔
روسي سائنسدان ميچنکوف کے مطابق عمر انسان کا اوسط ڈيڑھ سو سال۔
جرمن ڈاکٹر کو فلاند کے مطابق دو سو سال۔
مشہور فزيولوجسٹ فلوگرمعتقد تھا کہ انسان کي طبعي عمر چھ سو سال۔
انگريز فلسفي بيکن نے اس عدد کو بڑھا کر ہزار سال قرار ديا۔
ليکن اس دور کے ماہرين علم الاعضاء نے ان عقائد کے محل کو مسمار کر ديا ہے۔
اور يہ ثابت کر ديا ہے کہ انسان کي عمر طبعي کي حدمعين کرنا غلط ہے۔
اس سلسلے ميں کيميا يونيورسٹي کے استاد پروفيسر اسمبس کہتے ہيں۔
جس طرح آخر کار صوتي(صوتي آواز کي) ديوار ٹوٹ گئي اور آواز کي سرعت سے بھي زيادہ تيز رفتار سوارياں اور حمل و نقل کے ذرائع ايجاد ہو گئے ہيں اس طرح ايک دن انسان کي عمر کي سرحديں بھي ٹوٹ جائيں گي اور ہم نے اب تک جتني عمر کا مشاہدہ کيا ہے وہ اس سے بھي آگے بڑھ جائے گي۔
پروفيسر آتينگر نے اپني ايک تقرير ميں کہا: کہ جوان نسل ايک دن انسان کي جاويداني اور ابدي حيات کو اسي طرح قبول کرے گي جيسا کہ آج لوگوں نے فضائي سفر کو تسليم کيا ہے ميرا نظريہ ہے کہ ٹيکنالوجي کي ترقي اور اس تحقيق سے جو ہم نے شروع کر رکھي ہے کم از کم آئندہ صدي کا انسان ہزاروں سال کي زندگي بسر کرے گا۔ بحوالہ دانشمند شمارہ۔
ان سائنسدانوں کي تائيد وہ جرائد بھي کرتے ہيں جس سے پتہ چلتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ انسان کي عمر بڑھتي جا رہي ہے مثلاً برطانيہ ميں١٨٣٨ء سے ١٨٥٤ء تک مردوں کي عمر کا اوسط ٩١/٣٩ اور عورتوں کي عمر کا اوسط ٨٥/٤١تھا ليکن ١٩٣٨ء ميں مردوں کي عمر کا اوسط ١٨/٦٩ اور عورتوں کا اوسط ٤٠/٦٤ تھا۔
١٩٥١ء ميں امريکہ ميں مردوں کي عمر کا اوسط ٢٣/٤٨ اور عورتوں کا اوسط٨٠/٥١ تھا جب کہ ١٩٤٤ ميں مردوں کي عمر کا اوسط ٥٠/٦٣ اور عورتون کي عمر کا اوسط٩٥/٦٨ تک پہنچ چکا تھا يہ اضافہ بچوں کو شامل کرتے ہيں اور يہ طبعي حالت کي بہتري اور بيماريوں ميں خصوصاً متعدي بيماريوں کے سدباب کا مرہون منت ہے۔
اس عقيدے کا ثابت کرنے کے ليے جو زندہ دليليں پيش کر سکتے ہيں وہ بعض دانشوروں کے وہ تجربے جو انہوں نے مختلف حيوانوں اور نباتات پر کي ہيں۔
وہ لوگ ليبارٹري کي ايک مخصوص فضا اور کفيت ميں بعض اوقات ايک زندہ موجود کي عمر کو بارہ گنا بڑھانے ميں کامياب ہو سکے ہيں قابل اعتماد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حيوان کے بدن کے اعضائ رئيسہ ميں سے ہر ايک ميں لا محدود مدت تک رہنے کي صلاحيت موجود ہے۔ اگرانسان کے سامنے ايسے عوارض اور حادثات سامنے نہ آئيں جو کہ اس کي حيات کو منقطع کريں تو وہ ہزاروں سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔
ان سائنسدانوں کا نظريہ کوئي خيال تخمينہ نہيں ہے بلکہ ان کے تجربوں کا نتيجہ ہے۔
ايک جراح ڈاکٹر الکيس کارل جو کہ راکفلر کے علمي ادارے نيويارک کا ملازم تھا اس نے چوزے کے کٹے ہوئے جز پر تجريہ کيا اور وہ اس جز کو اس چوزے کي عام زندگي سے زيادہ دنوں تک زندہ رکھنے ميں کامياب ہوا اور اس نتيجہ پر پہنچا ہے کہ کٹے ہوئے جز کي حيات کا دارومدار اس کے ليے فراہم کي جانے والي غذا پر منحصر ہے جب تک اسے کافي غذا ملتي رہے گي اس وقت تک وہ زندہ رہے گا۔
موصوف اور دوسرے افراد نے يہي تجربہ انسان کے مصطوع اجزائ پر کيا جيسے عضلات قلب اور پھيپھڑے وغيرہ پر اور اس نتيجہ پر پہنچے کہ جب تک ان اجزائ کو غذا اور مناسب فضا ملتي رہے اس وقت تک وہ انہي حيات کا رشد و نمو جاري رکھ سکتے ہيں۔
جونس ہيکس يونيورسٹي کے پروفيسر ريمنڈيلوربرل کہتے ہيں۔
انسان کے جسم کے اعضائ رئيسہ ميں دائمي قابليت و استعداد موجود ہے يہ بات تجربات سے ثابت ہو چکي ہے اور يہ نظريہ نہايت واضح ہے۔
جاک لوب جو کہ خود بھي راکفلر ميں ملازم تھا جس وقت وہ مينڈک کو تلقيع نہ شدہ تخم سے پيدا کرنے والے موضوع پر تحقيق ميں مشغول تھا۔
اس وقت اچانک اس بات کي طرف متوجہ ہوا کہ بعض انڈوں کو مدت دراز تک زندہ رکھا جا سکتا ہے اس کے بر عکس بہت سے کم عمر مر جاتے ہيں يہ قضيہ باعث ہوا کہ وہ مينڈک کے اجزائ پر تجربہ کريں چنانچہ اس تجربے ميں انہيں مدت دراز تک زندہ رکھنے ميں کامياب ہو گيا۔
ڈاکٹر ورن لويس نے اپني زوجہ کے تعاون سے يہ ثابت کيا کہ پرندے کے جنين کے اجزائ کو نمکين پاني ميں زندہ رکھا جا سکتا ہے اس طرح کہ جب بھي اس ميں آبي مواد کا ضميمہ کيا جائے گا اسي وقت ان کے رشد و نمو کي تجديد ہو گي ايسے تجربے مسلسل ہوتے رہے اور اس بات کو ثابت کرتے رہے کہ حيوان کے زندہ خليے ايسي سيال چيز ميں اپني حيات جاري رکھ سکتے ہيں جس ميں ضروري غذائي مواد موجود ہے۔
موت کے کارشناس و ماہر پروفيسر متالينکف لکھتے ہيں انسان کا بدن تيس ٹريلين خليوں سے تشکيل پاتا ہے وہ سب يکبازگي نہيں ہو سکتے اس بنائ پر موت اس وقت مسلمہ ہو گي جب انسان کے مغز ميں اسے کيميائي تغيرات واقع ہو جائيں کہ جن کي مرمت ممکن نہ ہو۔
٣٠ اگست ١٩٥٩ء کو ڈاکٹر ہانس يسلي کينيڈا کے شہر مونٹرال ميں اخباري نمائندوں کو خليے کي ساخت اور بافت ديکھائي اور بتايا کہ يہ زندہ خليہ حرکت ميں ہے اور ہر گز نہيں مرے گا اس نے مزيد دعويٰ کيا کہ يہ خليے ازلي ہے اور کہا: کہ انسان کے بافت خليے کو بھي اسي شکل ميں لے آئيں تو انسان ايک ہزار سال تک زندہ رہے گا پروفيسر يسلي کا نظريہ ہے کہ موت تھيوري کے نقطہ نگاہ سے ايک تدريجي بيماري ہے موصوف ہي کا نظريہ ہے کہ کوئي شخص بڑھاپے کي وجہ سے نہيں مرتا کيونکہ اگر کوئي شخص ضعيفي کي وجہ سے مرے تو اس کے بدن کے خليوں کو فرسودہ اور بيکار ہوجانا چاہیے جب کہ ايسا نہيں ہے بلکہ بہت سے بوڑھوں کے اعضائ اور ان کے بدن کے مختلف خليے سالم رہتے ہيں ان ميں کوئي نقص واقع نہيں ہوتا بعض لوگوں کا انتقال اچانک اس ليے ہوتا ہے کہ اچانک ان کے بدن کا کوئي عضو بيکار ہو جاتا ہے اور چونکہ بدن کے تمام اعضائ ايک مشين کے پرزوں کي طرح مربوط اور متصل ہيں اس ليے ايک کے بيکار ہونے سے سارے بيکار ہوتے ہيں پروفيسر ميل نے اعلان کيا کہ علم طب اور ميڈيکل ايک دن اتني ترقي کرے گا کہ فرسودہ خليے کي جگہ نيا خليہ انجکشن کے ذريعے رکھ ديا جائے گا اس طرح انسان جب تک چاہے گا زندہ رہے گا بحوالہ دانشمند شمارہ۔
ڈاکٹر کارل نے اپنے پے در پے تجربوں سے ثابت کيا ہے کہ وہ اجزائ ضعيف نہيں ہوتے جن پر تجربہ کيا جاتا ہے اور پھر جواني کي مدت بھي طويل ہوتي ہے اس نے جنوري ١٩١٣ئ ميں اپنے کام کا آغاز کيا اس سلسلے ميں مشکلات بھي پيش آئے ليکن اس اور اس کے عملے نے کاميابي حاصل کي اور درج ذيل موضوعات کا انکشاف کيا۔
جب تک تجربہ کيے جانے والے زندہ خليوں پر کوئي ايسا عارضہ نہ ہو جوان کي موت کا باعث ہو جيسے جراثيم کا داخل ہونا يا غذائي مواد کا کم ہونا تو وہ زندہ رہيں گے اور رشد پاتے ہيں۔
مذکورہ اجزائ صرف حيات ہي نہيں رکھتے بلکہ ان ميں رشد و نمو بھي پائي جاتي ہے بالکل ايسے ہي جيسے يہ اس وقت رشد و نمو اختيار کرتے جب حيوان کے بدن کا جز ہوتے۔
ان کے نمو و تکاثر کا ان کے ليے فراہم کي جانے والي غذا سے موازنہ کيا جا سکتا ہے اور اندازہ لگايا جا سکتا ہے۔
ان پر مرورزمان کا اثر نہيں ہوتا ضعيف اور بوڑھے نہيں ہوتے بلکہ ان ميں ضعيفي کا معمولي بھي اثر مشاہدہ نہيں کيا جا سکتا وہ ہر سال ٹھيک گزشتہ سال کا نمو پاتے ہيں۔
مندرجہ بالا موضوعات سے اندازہ لگايا جا سکتا ہے کہ بڑھاپا علت نہيں بلکہ معلول ہے پھر سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ انسان مرتا کيوں ہے؟
وہ کونسے عوامل ہے جس سے عمر کو بڑھايا جا سکتا ہے؟
اور وہ کونسے عوامل ہے جو عمر کو کم کر ديتے ہيں؟
ہم باالترتيب ان سوالوں کا جواب ديں گے۔(انشائ اللہ)
انسان مرتا کيوں ہے؟
جہاں تک انسان کے مرنے کا اور اس کي زندگي کے محدود ہونے کا سبب ہے وہ يہ کہ حيوان کے جسم کے اعضائ زيادہ اور مختلف ہيں اور ان کے درميان کمال ارتباط و اتصال موجود ہے ان ميں سے بعض کي حيات دوسرے بعض کي زندگي پر موقوف ہے اگر ان ميں سے کوئي کسي وجہ سے ناتواں ہو جائے اور مرجائے تو اس کي موت کي وجہ سے دوسرے اعضائ کي بھي موت آجاتي ہے اس کے ثبوت کے لیے وہ موت کافي ہے جو کہ جراثيم کے حملے سے اچانک واقع ہو جاتي ہے يہي چيز اس بات کا سبب ہوئي کہ عمر کا اوسط ستر اسي سال سے بھي کم قرار پائي۔
طول عمر کے عوامل
عمر کو بڑھانے والے کچھ عوامل ہيں جو کہ درج ذيل ہيں۔
موروثي عامل:
طول عمر ميں موروثي عامل کي اہميت و اثر واضح ہے ايسے خاندان بھي پائے جاتے ہيں کہ جس کے افراد کي اوسط عمر کا اوسط عام طور پر زيادہ ہيں مگر يہ کہ کوئي ان ميں سے حادثاتي طور پر مر جائے۔
اس سلسلے ميں جو دلچسپ اور تحقيقي مطالعات ہوئے ہيں ان ميں سے ايک ريمونڈپيرل کا مطالعہ ہے اس نے اپني بيٹي کے تعاون سے ايک کتاب تاليف کي اور اس ميں ايک خاندان کي طويل العمري کے بارے ميں لکھا جس ميں ايک فرد کي سات پشتوں، دادا، پردادا، نواسہ، نواسے کي اولاد اور موخراند کر کي اولاد کي اولاد کي مجموعي عمر ٦٩٩ سال ہوتي ہے جب کہ اس خاندان کے دو افراد حادثے سے مرجاتے ہيں۔
بيمہ کمپنيوں کي تحقيق سے جو نئي شرح لوٹي دو بلين اور ہر برٹ مارکس نے پيش کي ہے اس ميں انہوں نے ثابت کيا ہے کہ اسلاف کي درازي عمر اخلاف واولاد کي عمر پر اثر انداز ہوتي ہے۔
ماحول:
جس ماحول کي ہوا معتدل، صاف، جراثيم اور زہر سے پاک، سورو ہنگامے سے خالي، سکون سے مالا مال اور سورج کي شعاعوں کا مرکز ہو گي اس کے باشندوں کي عمر دراز ہو گي۔
غذا کي کيفيت:
غذا بھي مقدار اور نوعيت کے اعتبار سے درازي عمر پر گہرا اثر چھوڑتي ہے جن لوگوں کي عمر سو سال سے زيادہ تھي ان ميں سے اکثر کم خوراک تھے اس لیے ايک سائنسدان نے کہا کہ تم اپنے دانتوں سے خود اپني قبر کھودتے ہيں يعني زيادہ کھا کر غذائي امور کے ماہرين معتقد ہيں کہ طول عمر تغزيہ کے طريقے اور اقليمي شرائط سے بہت قريبي تعلق رکھتي ہے وہ لوگ شہد کي مکھيوں کي ملکہ پر جو دوسري مکھيوں کي نسبت کئي گنا زيادہ عمر رکھتي ہے تحقيقي مطالعہ کر کے اس نتيجے پر پہنچے ہيں کہ ملکہ کي طول عمر کا راز يہ ہے کہ وہ اس مخصوص غذا کو استعمال کرتي ہے جس کو مزدور شہد کي مکھياں اپني ملکہ کے ليے فراہم کرتي ہيں يہ غذا عام شہد سے بہت فرق رکھتي ہے اس سے پتہ چلا کہ مناسب غذا اور بہترين غذا استعمال کر کے زندگي کو کئي گنا بڑھا سکتے ہيں۔
ہايبرنيشن
جن طريقوں سے انسان کي عمر کو بڑھا سکتے ہيں اور اسے نيم جاں کر کے قابل مطالعہ قرار ديا جا سکتا ہے ان ميں سے ايک ہايبرنيشن (سردي کي نيند) پر نيند بعض حيوانات پر سردي کے موسم ميں طاري ہوتي ہے اور گرمي کے موسم ميں بھي ہو سکتي ہے جب حيوان پر يہ نيند طاري ہوتي ہے تو اس وقت اس کي غذا کي احتياج ختم ہوجاتي ہے اور بدن کے مايحتاج چيزوں ميں ٣٠ سے ١٠٠ تک کمي واقع ہوتي ہے اس کي حرارت کو منظم رکھنے والي مشينري وقتي طور پر بند ہو جاتي ہے اور فضا کي حرارت کم ہونے سے کھال اور باٹھٹھڑ کر سخت نہيں ہوتے اس کے بدن پر لرزہ طاري نہيں ہوتا بلکہ اسکے بدن کي حرارت فضا اور ماحول کي مانند ہو جاتي ہے کہ ممکن ہے درجہ اول نقطہ انجماد سے ٣٩۔٤١F سے بھي اوپر پہنچ جائے کہ جس سے سانس کي رفتار کم اور نا منظم ہو جاتي ہے اور حرکت قلب کبھي کبھي ہوتي ہے اعصاب کے مختلف رفلکس رک جاتے ہيں اور ٥٢ سے ٦٦ فارن ہائيٹ درجہ حرارت سے نيچے مغز کي برقي امواج کا مشاہدہ کيا جاسکتا ہے جس کي زندہ مثال وہ مچھلي ہے جو کچھ عرصہ پہلے قلبي برف کے تودوں کے درميان منجمد حالت ميں ہاتھ آئي۔
اس پر جمي ہوئي برف کي تہہ بتا رہي تھي کہ اس مچھلي کي عمر پانچ ہزار سال تک ہے پہلے يہ خيال ہوا کہ يہ مچھلي مر چکي ہے ليکن جب اس کو معتدل پاني ميں رکھا گيا تو سب نے تعجب سے ديکھا کہ وہ مچھلي تيرنے لگي معلوم ہوا کہ يہ مچھلي اتنے ہزاروں ساال زندہ رہي۔
بڑھاپے کے عوامل
بڑھاپے کے عوامل عام طور پر کسي بھي شخص ميں معين وقت پر ظاہر ہوتے ہيں ليکن يہ مسلمہ نہيں ہے کہ بڑھاپے کي اصل وجہ عمر کي يہي مقدار ہے کہ بدن کے اعضائ پر اتني مدت گزر جائے تو بڑھاپا آجاتاہے بلکہ ضعيفي کي بنيادي وجہ اختلال کي پيدائش کو قرار ديا جا سکتا ہے اور يہ اختلال عام طور پر اسي عمر ميں ظاہر ہوتے ہيں اور يہ اختلال کبھي بدن کے زيادہ محنت و مشقت کرنے سے ضعيف ہوتے ہيں کبھي غير معمولي حوادث اور پريشانيوں کي وجہ سے تو کبھي بيماريوں اوربري عادتوں کي وجہ سے اختلال جو کہ اس عمر ميں بدن ميں پيدا ہوتا ہے اور بدن کي مختلف مشنريوں کي فعاليت ميں کمي واقع ہوتي ہے اورتشريح الاعضائ کے نقطہ نظر سے ان کي مختلف صنعيں سکڑ جاتي ہیں ان کي رگوں کي تعداد کم ہوتي ہے نظام ہاضمہ بيکار اور ضروري غذائيں فراہم کرنے سے عاجز ہوجاتاہے اور نتيجے ميں پورے بدن پر ضعف طاري ہوتا ہے طاقت تناسل کم اور مغز کي حرکت مدہم پڑھ جاتي ہے بعض افراد کاحافظہ خصوصاً اسمائ کے سلسلے ميں بيکار پڑھ جاتاہے نيز قوت ارادي متاثر ہوتي ہے مذکورہ حوادث و توانياں بدن ميں واقع ہونے والے اختلال کي پيدا وار ہے پس ضعيفي علت نہيں ہے بلکہ معلول ہے يہاں تک کہ اگر کوئي شخص ايسا پايا جائے کہ جس کے اعضائ بدن ميں طويل عمر کے باوجود طبيعي حالات کے تحت اختلال پيدا نہيں ہوا ہے تو وہ سالم اور شاداب بدن کے ساتھ عرصہ دراز تک زندہ رہ سکتا ہے۔
قارئين کرام!
يہاں تک ہم نے ثابت کيا کہ طول عمر سائنس کي دنيا ميں کوئي نئي بات نہيں اور نہ کوئي تعجب خيز مسئلہ ہے اب ہم تاريخ کي طرف رخ کريں گے۔ (انشائ اللہ)
تاريخي حوالے
کيا دنيا ميں ايسے افراد جو کہ طويل العمر ہوں اور حيرت ميں ڈال دياہو موجود ہيں؟ جي ہاں ايسے جاندار جنہوں نے انسانوں کو حيران کر ديا ہے وہ نہ صرف انسانوں ميں ہيں بلکہ نباتات اور حيوانوں ميں بھي موجود ہيں اگر آپ کو شک ہے تو درج ذيل افراد کي طرف نظر کرے انشائ اللہ شک دور ہو گا۔
نباتات کے طويل عمر افراد
جن لوگوں نے اسکاٹ لينڈ کي سير کي ہے وہ ايسے عجيب و غير درخت کا پتہ بتاتے ہيں جس کے تنے کا قطر٩٠ فٹ اور اس کي عمر کا اندازہ پانچ ہزار سال ہے۔
کيليفورنيا ميں ايک ايسا درخت ديکھا گيا ہے جس کي لمبائي سو ميٹر نيز نچلے حصے ميں اس کا قطر دس ميٹر ہے اور اس کي عمر کا اندازہ چھ ہزار سال ہے۔
جزائر کا ناري ميں پائے جانے والے خوبصورت درختوں کے بيج ميں دم الاخوين قسم کے درخت نے دانشوروں کو اپني طرف متوجہ کيا ہے اس درخت کے بارے ميں کہا جاتا ہے اس کے رشد و نمو ميں کوئي تبديلي نہيں آئي ہے ليکن اس کے باوجود ايسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کي عمر بہت طولاني ہے حالانکہ اس عرصے ميں زمانے کے گزرنے کے اثرات کے اوپر ظاہر نہيں ہوئے لہذا بعض لوگوں کا خيال ہے کہ يہ درخت خلقت آدمٴ سے بھي پہلے موجود تھا۔
قديم مصر ميں کھدائي ہوئي تو مصر کے جوان مرگ فرعون کے مقبرے مں گيہوں نکلے اور اخباروں ميں بتايا گيا کہ بعض علاقوں ميں انہيں بويا گيا تو وہ کامل طورپر سر سبز و شاداب ہوئے اس سے ثابت ہوا کہ گندم کا حياتي نقطہ نظر تقريباً تين چار ہزار سال تک زندہ رہنا ہے۔
حيوانوں ميں طويل العمر افراد
علم حيات کے ماہرين نے کچھ ايسي مچھليوں کا انکشاف کيا ہے جن کي عمر کا تخمينہ تيس لاکھ سال لگايا گيا ہے۔
حيوانات کے طويل العمر افراد ميں سے ايک وہ زندہ کچھوا ہے جو کہ گارگوش جزيرے ميں موجود ہے اس کي عمر ايک سو ستر سال(١٧٠) وزن تقريباً ٢٥٠ پونڈ ہے اور طول چار فٹ۔ بحوالہ دائرۃ المعارف۔
انہيں افراد ميں سے ايک متعدي بيماري کے جراثيم کو قديم ترين زندہ موجود قراردياجاتا ہے يہ ايسے زندہ موجودات ہيں کہ ممکن ہے جو زندگي کا مطالعہ حيات کے راز کو منکشف کر دے ان ہي سے بعض نباتي، حيواني اور انساني بيمارياں جيسے زکام انفلوانزا، خسرہ، چيچک جيسي بيمارياں پيدا ہوتي ہیں۔
اثار قديمہ کے ماہروں نے ان جراثيم کا وجود ما قبل تاريخ بتايا ہے يعني يہ موجودات ايک لاکھ سال کے بعد بھي زندہ ہيں اور ان کي زندگي کے آثار ختم نہيں ہوئے ہيں۔
اگرچہ اس دوران انہوں نے ففتہ اور نہفتہ زندگي بسر کي ہے بحوالہ دائرۃ المعارف۔
سنکھوں کے درميان ايسے سنکھے بھي نظرآتے ہيں جن کي عمريں کئي ہزارسال ہيں۔
تاريخ انسانيت کے طويل افراد
اصحاب کہف:
اصحاب کہف کے بارے ميں قرآن ميں صريحاً موجود ہے کہ وہ لوگ تين سو نو سال تک اس غار ميں رہے جيسا کہ ارشاد الہيٰ ہے: وکھفہم ثلث مآۃ سنين و اذدادوتسعا اصحاب کہف کے اس واقعے سے بخوبي پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اس پورے عرصے ميں ايک ہي لباس پہنے رکھا تين سوسال تک سوتے رہے اور پھر بيدار ہوئے پھر دوبارہ سو گئے يہاں تک کہ ہمارے آخري پيغمبر۰ کا زمانہ آيا اور آنحضرت نے علي ٴ کو حکم ديا کہ آپ اندر جائيں علي ٴ اندر تشريف لے گئے اور انہيں سلام کرنے کے بعد ان کي احوال پرسي کي انہوں نے سلام کا جواب ديا اور پھر تيسري بار سو گئے اب وہ امام زمانہٴ کے ظہور پر نور تک سوتے رہيں گے پھر بيدار ہوں گے امامٴ کے اصحاب ميں شامل ہوں گے اصحاب کہف کے اب تک زندہ رہنے سے پتہ چلا کہ جو ذات امامٴ کے اصحاب کو اتنے عرصے زندہ رکھيں وہ ذات اگر ان کے امام و آقا کو آج تک زندہ رکھيں تو تعجب کي کونسي بات ہے۔
حضرت عزيز کا واقعہ
انہيں واقعات ميں سے ايک حضرت عزيز کا واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن ميں آيا کہ خدا نے ايک سو سال تک انگور کے خوشے کو ترو تازہ رکھا اور اس عرصے ميں حضرت عزيز کے بدن مبارک کو محفوظ رکھا۔
البتہ اس عرصے ميں ان کا گدھا اپنے طبعي تقاضوں کے مطابق ہو گيا اور اس کا جسم بھي بوسيدہ ہو گيا اور عزيز کے سامنے اللہ تعاليٰ نے پھر اس کو زندہ کيا اس واقعے سے صاف پتہ چلتا ہے وہ ذات جوانگور کے ايک خوشے کو ايک سو سال تروتازہ رکھ سکتي ہے وہ امام عصرٴ کو کچھ صدياں زندہ رکھيں تو کيا بعيد۔
حضرت نوحٴ:
تاريخ ميں ديکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعاليٰ نے حضرت نوحٴ کو تمام نبيوں سے زيادہ زندگي دي تھي اس ليے انہيں شيخ الانبيائ(نبيوں ميں سب سے بوڑھے) کہا جاتا ہے قرآن کے صريح اور واضح بيان سے پتہ چلتاہے کہ حضرت نوحٴ کي نبوت کازمانہ طوفان نوح سے پہلے ساڑھے نو سو سال(٩٥٠) کا تھا فلبث فيھم الف سنۃ الاخمين عاما۔ اب مجموعي عمر ڈيڑھ ہزار سال يا دو ہزار لکھي گئي ہے۔
حضرت خضرٴ:
حضرت خضرٴ کے روئے زمين ميں موجود ہونے سے کوئي انکار نہيں کر سکتا حضرت ذوالقرنينٴ کو معلوم ہوا تھا کہ جو شخص چشمہ آب حيات کا پاني پي لے اس کو اس وقت تک موت نہيں آئے گي جب تک صور نہ پھونکا جائے يا خود خواہش نہ کرے حضرت ذوالقرنين تلاش ميں نکلے بارہ برس کا سفر کيا ظلمات ميں گشت کرتے رہے مگر چشمہ ان کو نہ ملا ليکن ان کے وزير حضرت خضرٴ کو مل گيا انہوں نے اس چشمے سے پاني پيا اور غسل بھي کيا اور اب تک زندہ ہيں پس جب قدرت نے آب حيات ميں اتنا اثر رکھا ہے تو حضرت حجت ٴ کي طولاني عمر پر کيسے شک کر سکتے ہيں جو کہ خدا کي طرف سے سارے عالم کي حيات اور آب حيات کے وجود کا باعث ہیں۔
افراد ديگر:
حضرت عيسيٰ عليہ السلام، حضرت ادريسٴ، حضرت الياسٴ ابھي تک زندہ ہيں جن کو خزانہ غيب سے روزي ملتي ہے ان کے علاوہ تاريخ ميں لا تعداد طويل العمر افراد ہيں جن ميں سے کچھ يہ ہيں حضرت آدمٴ کي عمر ٩٣٦ برس حضرت شيث ٩١٢ سال۔
حضرت سام ابن نوحٴ چھ سو برس لقمان حکيم کي ايک ہزار برس لقمان ابن عاد تين ہزار برس عوج ابن عناق دشمن خدا کي تين ہزار چھ سو شداد کي نو سو برس۔
اس کے علاوہ اتنے افراد ہيں جن کا ذکرکرنا باعث خستگي ہو سکتا ہے لہذا اکتفا کرتا ہوں۔
دعوت فکر:
پس جب ہم نے سائنس کے اعتبار سے ثابت کيا کہ اگر حوادث دنيا نہ ہوتے تو انسان عرصہ دراز تک عمر پا سکتا ہے نيز تاريخ اعتبار سے بھي ثابت کيا کہ ايسے طويل عمر افراد نہ صرف انسانوں ميں ہيں بلکہ نباتات اور حيوانوں ميں بھي موجود ہيں اور خصوصاً حضرت خضرٴ اور حضرت الياسٴ جو ہزاروں برس پہلے سے موجود ہيں ان کا يہ بقائ اور درازي عمرکا مقصد ان کي پيغمبري نہيں ہو سکتي جو کہ آئندہ وہ اظہار فرمائيں گے اور نہ ان پر کوئي آسماني کتاب نازل ہونے والي ہے نہ ان کے پيش نظر کسي تازہ شريعت کي ترويج ہے جس کي اطاعت فرض ہو۔
بلکہ ان کي حيات کا فلسفہ يہ ہے کہ مخلوق خدا ان کے طول عمر کو ديکھتے ہوئے آخري حجت الہيہٰ کي عمر طويل ہونے سے متعجب نہ ہوں اور حضرت کي وجود سے انکار نہ کريں اوراس حيثيت سے بھي بندوں پر حجت خدا قائم ہو جائے اور حضرت عيسيٰ عليہ السلام کے زندہ رکھنے کا فلسفہ يہ ہے کہ ان کي تصديق سے پيغمبر اکرم۰ کي رسالت پر اہل کتاب ايمان لائيں اور ان کي زندگي سے حضرت حجت خدا۰ کي زندگي کا ثبوت ہو جائے اور کتنا افسوس ہے اس انسان کے اوپر جسے خدا نے اشرف المخلوقات کا تاج پہنا کر دنيا ميں بھيجا تا کہ وہ عقل استعمال کرے اچھے برے کي تميز کرے مگر انسان کو ديکھيں کہ شيطان جو کہ عدو مبين ہے اس کي زندگي کو آدمٴ سے لے کے اب تک ماننا ہے ليکن امام مبين، بقيۃ اللہ، امام زمانہٴ کي کچھ صديوں پر مشتمل زندگي پر شک کرتا ہے اولئک کالانعام بل ھم اضل کے مصداق ہيں لوگ ہيں اگر يہ لوگ اپنے تعصب کے چشموں کواتار کر اور قلب سليم کے ساتھ صحيح راہ کي تلاش ميں نکلیں تو بہت جلد ہدايت پائيں گے کيونکہ ذات خداوندي کا يہ وعدہ ہے کہ جو ہماري راہ ميں ہدايت حاصل کرنے کي کوشش کريں ہم ان کي راہنمائي ضرور کرتے ہيں ہم بھي اس دعا کے ساتھ پروردگار ہميں بھي ہدايت کے راستے پر ثابت قدم رکھ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تيري نعمتيں نازل ہوئي اور ہمارے امامٴ کے ظہور ميں تعجيل فرما اور ہميں ان کے اعوان و انصار ميں شامل ہونے کے قابل بنا دے۔(آمين)
دنيا کو ہے اس مہديٴ برحق کي ضرورت ہو جس کي نگاہ زلزلہ عالم افکار
احقر العباد:

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.