امام زمان (عج) میں شہود غیبت كی تجلی
عالم شہود میں غیب كی كثرت
پروردگار عالم كے مظاھر قدرت میں سے بہت سی غیب چیزیں بھی ہیں كہ جو اس عالم شہود كے ظاھر و باطن میں موجود ہیں یہ بات ان لوگوں كے نظریہ كی رد میں ہے كہ جو كائنات كو محض مادی اور چند عناصر كا مجموعہ سمجھتے ہیں حالانكہ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو انہیں محسوس اور نظر آنے والی چیزوں میں سے بہت سی غیب اشیاء بھی پوشیدہ ہیں مثلا بدن انسان كو ہی لیجئے جو كہ عالم مادہ و شہود سے تشكیل پایا ہے لیكن اس میں پائی جانے والی روح یقینا عالم غیب میں سے ہے، اس طرح انسان درد محسوس كرتا ہے لیكن مركز اور میزان درد عالم غیب میں سے ہے انسان جتنا بھی درد محسوس كرے كبھی بھی كسی كو اپنا درد نہیں دكھا سكتا، علم طب جس قدر بھی ترقی كرجائے درد كی صورت جو كہ عالم غیب میں سے ہے اسے كبھی بھی عالم شہود میں نہیں لاسكتے۔
سلسلہ امامت میں غیب و شہود كے مظاھر
امامت كے مقدس سلسلہ میں بھی ہم انہیں دو چیزوں كو دیكھتے ہیں ،امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے لیكر امام حسن عسكری علیہ السلام تك سب كے سب عالم شہود كے مظاھر تھے ،یعنی لوگوں كی نگاہوں كے سامنے تھے اور لوگ ان كے نورانی چہروں كی زیارت كرتے تھے اور ان كے با بركت وجود سے خوب فیض یاب ہوتے تھے ۔
جبكہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم، ولی عصر امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف عالم غیب كے مظہر ہیں كہ لوگ ان كے دیدار اور فیض سے محروم ہیں، اگرچہ بعض خاص لوگوں كے لئے خاص حالات میں آپ كا وجود بھی عالم شہود میں سے ہے لیكن عام طور پر ہم جیسے لوگوں كے لئے آپ عالم غیب میں سے ہیں۔
جیسا كہ اس آیۃ مباركہ ذلك الكتاب لاریب فیہ ھدی للمتقین الذین یومنون بالغیب 1 ترجمہ: (قرآن) وہ كتاب ہے كہ جس میں كوئی شك نہیں متقین كے لئے (یہ) ہدایت ہے (اور متقین) وہ لوگ ہیں كہ جو غیب پر ایمان ركھتے ہیں۔
اس آیہ میں وہ غیب كہ جسے اللہ تعالی نے متقین كی نشانی كے طور پر ذكر كیا ہے اس كی حضرت ولی عصر امام زمان كے وجود مبارك كے ساتھ بھی تفسیر ہوئی ہے یا یہ كہ آپ كو اس غیب كا اہم مصداق اور فرد شمار كیا گیا ہے ،جیسا كہ عظیم مفسر قرآن مرحوم علامہ طبرسی اسی آیہ كی تفسیر میں فرماتے ہیں: وہ جو ہمارے علماء كرام امام زمانہ كی غیبت اور ان كے ظہور كے بارے میں روایت كرتے ہیں وہ غیب شمار ہوگا 2
اور داوود رقی روایت كرتے ہیں كہ امام صادق علیہ السلام كی اس كلام: الذین یومنون بالغیب كے بارے میں فرماتے ہیں من اقر بقیام القائم انہ حق 3 یعنی وہ غیب پر ایمان ركھتا ہے كہ جو حضرت قائم كے قیام اور ظہور كا اقرار كرے اور اسے حق سمجھے، اسی لئے تو امام زمانہ كو تمام آئمہ معصومین میں سے غائب كا لقب ملا، البتہ یہ تو توجہ رہے كہ امام زمانہ كا غائب ہونا فقط ہماری نگاہوں كے اعتبار سے ہے وگرنہ آپ اذن الھی سے ذرہ ذرہ كائنات پر نظر ركھے ہوئے ہیں، لوگوں كے احوال سے خوب واقف ہیں، بعض اوقات لوگوں كی محفلوں اور مجالس میں بھی شریك ہوتے ہیں، ان سے بات بھی كرتے ہیں اگرچہ لوگ متوجہ نہیں ہوتے ،جیسا كہ ہم دعائے ندبہ كے ایك جملہ میں پڑھتے ہیں: بنفسی انت من مغیب لم یخل منا ،اس پس پردہ پر میری جان فدا ہو جو ہم سے دور نہیں ہیں ۔
عالم غیب میں امام زمانہ كے رفقاء
جیسا كہ ہم سب جانتے ہیں اور عقیدہ ركھتے ہیں كہ امام زمان (عج ) عالم غیب میں ہیں اور ہم لوگوں كی ظاھری نگاہوں سے اوجھل ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہوگا كہ اس عالم غیب میں آپ كے اصحاب اور رفقاء بھی ہیں یا آپ تنہا ہیں؟ آپ كی زیارت كے بعض جملات سے معلوم ہوتا ہے كہ آپ كے اس عالم غیب میں كچھ اصحاب اور خدام ہیں كہ جو آپ كے وجود مقدس كے جوار میں رہتے ہیں (اللھم صلی علیہ و علی خدامہ و اعوانہ علی غیبتہ و نایہ، مفاتیح الجنان تیسری زیارت) اور بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے كہ حضرت خضر علیہ السلام كہ جو خود بھی عالم غیب میں سے ہیں یعنی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں لیكن زندہ ہیں وہ امام زمانہ علیہ السلام كے ساتھ مربوط ہیں حضرت خضر علیہ السلام اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف كے درمیان تعلق، انس اور دوستی ثابت شدہ چیز ہے۔
احمد بن اسحاق قمی حضرت امام حسن عسكری علیہ السلام كی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تاكہ آپ سے آپ كی وفات كے بعد آپ كے جانشین كے بارے میں آگاہ ہو تو امام قبل اس كے كہ وہ اپنا سوال پیش كرے خود ہی بات شروع فرماتے ہیں كہ: اس كی مثال خضر كی سی مثال ہے وہی خضر كہ جس نے آب حیات نوش كیا اور اسی لئے وہ زندہ ہے ان پر موت نہیں آئے گی جب تك صور نہ پھونكا جائے و انہ لیحضر الموسم كل سنۃ و یقف بعرفۃ فیومن علی دعاء المومنین و سیونس اللہ بہ وحشتہ قائمنا فی غیبتہ و یصل بہ وحدتہ 4 بے شك خضر ہر سال حج كے دنوں میں آتے ہیں مقام عرفات پر ٹھہرتے ہیں اور مومنین كی دعاؤں پر آمین كہتے ہیں اور عنقریب اللہ تعالی اس كی ہمارے قائم كےساتھ انسیت برقرار كرنے سے ان كے زمانہ غیبت میں ان كی تنہائی دور كرے گا قائم كو خضر كے ساتھ ہمنشینی كی وجہ سے تنہائی نہیں رہے گی۔
امام زمانہ كی زندگی میں غیب كا واضح ترین نقطہ
امام زمانہ (عج) كے حوالے سے ایك اہم گفتگو ان كے وقت ظہور و قیام كے بارے میں ہے یہ بھی عالم غیب كا مصداق ہے كیونكہ كوئی بھی اس وقت كے بارے میں آگاہی نہیں ركھتا، بعض روایات میں تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے یہ چیز مصلحت پروردگار كی بنا پر خود حضرت بقیۃ اللہ علیہ السلام سے بھی پنھاں ہے اور جب زمانہ ظہور آپہنچے گا تو اس وقت فورا اس حجت الھی كو آگاہ كیا جائے گا اور آپ كے قیام كا اعلان ہوگا ۔
پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے روایت ہوئی ہے آپ نے امام زمانہ (عج) كے بارے میں یہ فرمایا: لہ علم اذا حان وقت خروجہ انتشر ذلك العلم بنفسہ فناداہ العلم اخرج یا ولی اللہ واقتل اعداء اللہ ولہ سیف اذا حان وقت خروجہ اقتلح من غمدہ فنادہ السیف اخرج یا ولی اللہ فلا یحل لك ان تقعد عن اعداء اللہ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں كہ: حضرت مہدی كے پاس ا یك پرچم ہوگا كہ آپ كے ظہور كا زمانہ آپہنچے گا تو وہ پرچم كھل جائے گا اور آپ كو آواز دے گا اور كہے گا اے اللہ كے ولی خروج كریں اور اللہ كے دشمنوں كو ہلاك كریں اور ان كی ایك تلوار ہوگی جب زمانہ ظہور آپہنچے گا تو وہ غلاف سے خودبخود باہر آجائے گی اور آواز دے گی اے اللہ كے ولی (پردہ غیبت سے) باہر آئیں كیونكہ اب آپ كے لئے صحیح نہیں ہے كہ آپ اللہ كے دشمنوں كو چھوڑ دیں…….
جی ہاں حضرت حجۃ ابن الحسن علیہ السلام كے زمانہ ظہور كا اعلان اللہ كے اذن سے پرچم كے كھلنے سے اور اس كا انسانی آواز میں كلام كرنے سے ہوگا اور یہ آپ كی فتح اور دشمنوں پر غلبہ كا پرچم ہے اسی طرح الھی تلوار كے غلاف سے باہر آنے اور كلام كرنے كی صورت میں آپ كے زمانہ ظہور كا اعلان ہوگا اور یہ دونوں چیزیں بذات خود آپ كی معجزانہ زندگی كے معجزات میں سے شمار ہوتی ہے۔ 5
غیب و شہود دونوں كے رنگ
اگرچہ ہم نے ذكر كیا ہے كہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام زمانہ (عج) كائنات كی بدستور غیب اشیا میں سے ہیں لیكن مخلص مومنین كا آپ پر عمیق عقیدہ اور راسخ ایمان اس قدر زیادہ ہے كہ یوں معلوم ہوتا ہے آپ غیب نہیں ہیں بلكہ عالم شہود و حضور میں سے ہیں دوسرے لفظوں میں مومنین كے ایمان و یقین كی قدرت عالم غیب كے اس عظیم فرد كو عالم شہود و حضور میں كھینچ لائی ہے حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے كہ آپ نے فرمایا: كانی بالقائم علیہ السلام یوم عاشورا یوم السبت قائما بین الركن والمقام ید جبرائیل علی یدہ ینادی بالبیعۃ اللہ فیملا ھا عدلا 6
میں گویا دیكھ رہا ہوں كہ قائم علیہ السلام عاشورہ كے دن جو كہ ہفتہ كا دن بھی ہے ركن و مقام كے درمیان كھڑے ہیں جبرائیل كا ہاتھ ان كے ہاتھ كے اوپر ہے اور جبرائیل اللہ كی بیعت كے لئے آواز دے رہا ہے پس حضرت ولی عصر جہان كو عدل سے پر كردیں گے۔
اب ہمیں چاہیئے كہ اس آیت كریمہ الذین بالغیب كے تقاضا پر عمل كریں اور اپنی تمام تر كوششوں اور وسائل كے ساتھ غیب پر ایمان یعنی اللہ تعالی پر، آخرت پر، انبیاء پر، معصوم ائمہ پر اور حضرت بقیۃ اللہ كے وجود مبارك پر ایمان كو اپنی سرزمین قلب پر مسلط كریں اور اس عظیم ہستی كو شاھد اور اپنے اعمال پر ناظر سمجھیں اور اس كی رضا كے حصول كے لئے كوئی كسر نہ چھوڑیں ۔
آخر میں حضرت بقیۃ اللہ فی الارضین كے حضور مبارك میں عرض كرتا ہوں:
اے آنكھوں سے پنہاں اور اے عاشقوں اور عارفوں كےدلوں میں خانہ نشیں، ہم بے بس ہوچكے ہیں، تجھے تیری جدہ زھرا طاھرہ سلام اللہ علیھا كی قسم اپنا دروازہ الطاف كھول دے ہماری مدد فرما اور ہمیں جہالت و نادانی كی تاریكیوں سے نكال دے، اپنے نورانی الھی چہرہ كے ابدی فیض سے اس جہان ظلمت كو نور سے بھردے، اے محبوب عالم اے ہمارے دلوں كی دھڑكن كا مركز، كب ان پیاسے عاشقوں كے وجود كو اپنی زیارت كے مقدس چشمہ سے سیراب كرے گا كہ جو سیكنڑوں سالوں سے مشتاقانہ تیرے منتظر ہیں اے امام زمان۔….
امام زمانه كي سيرت پيش كرنے ميں افراط و تفريط
قيام امام زمانه كے آغاز ميں جو جنگيں اور قتل و غارت هوگي وهاں كچھ لوگ افراط و تفريط كرتے هوۓ منحرف نظريات پيش كرتے هيں:
حضرت كي محبت اور مهرباني سے معمور شخصيت
بعض لوگ حضرت كي شخصيت سے هر قسم كي جنگ و جهاد ك ومٹا ديتے هيں يه كه اس دور ميں معجزازنه انداز سے سب كام هوجاŵيں گے اور حضرت اسقدر مهربان هيں كه كسي ظالم كو اس كے عمل كي سزا بھي نه ديں گے ايسا منحرف خيال خود اهلبيت كے زمانه كے لوگوں ميں بھي موجود تھا: معمر بن خالد روایت كرتے ہیں كه امام رضا علیہ السلام سے حضرت قاŵم كے حوالے سے گفتگو هوئ تو آپۜ نے فرمايا:
لو قد خرج قاŵمنا لم يكن الا العلق و العرق والنوم علي السروج 7
گويا تم اس زمانه والوں سے سهل پسند هو جب قاŵم قيام كريں گے تو (سواريوں)زينوں پر (مسلسل كوشش اور جنگ كي تھكاوٹ سے) خون، پيسه بهانے اور نيند كو ترك كے علاوه كوئ كام نه هوگا-
اس منحرف نظريه كے نتاŵج
1) ظهور كے اسباب فراهم كرنے كےليے، تياري اور كوشش نه كرنا
2) جھوٹي اميد كه جس كي بنا پر بهت سے لوگ شرعي ذمه دارياں ادا كرنے ميں سست هوجاتے هيں-
ايسے منحرف نظريات كے اسباب
1) تمام امور كو معجزه سے حل كرنے كي سوچ
2) حضرت كي بے پناه حكيمانه محبت و مهرباني كے بارے دقيق فهم و فكر نه هوگا
3) دين (آيات اور سيرت اهلبيت) پر جامع نگاه كا نه هوگا-
علاج
دين ميں علم وبصيرت ركھنا، آيات و روايات اور سيره اهلبيت كا تجزيه كرنا اور بالخصوص مندرجه ذيل مطالب كو درك كرنا:
1) غيبي امداد سے كيا مراد هے اور قيام كے دوران اس كي وضعيت كيا هے ؟
2)حكمت اور محبت ميں رابطه كا تجزيہ كرنا كه حكيم كي محبت ومهرباني اس كي حكمت سے پيدا هوتي هے اور حكمت كا تقاصا نهيں هے كه ايسے ظالم لوگ جنهوں نےظلم وجنايات كے علاوه كوئ كام نهيں كيا، نه ان پر وعظ و نصيحت كا اثر هوتا هے اور نه وه صراط مستقيم پر چلتے هيں ان پر رحم كيا جاۓ۔ ۔ ۔
حضرت كا قهر
كچھ لوگ آپ كي شخصيت كو غيض و غضب سے معمور بنا كر پيش كرتے هيں كه جو سواۓ قتل اور خون بهانے كے اور كچھ نهيں كريں گے يه بات بھي قرآني آيات اور پيغمبروں اور اوصيا كي رسالت و وظاŵف سے مطابقت نهيں ركھتي اس نظريه كے نتاŵج:
1. لوگوں كے دلوں ميں امام كي نسبت نفرت اور اضطراب ڈالنا
2. حضرت سے ڈر اور خوفزده رهنا اور امام كو مهربان باپ كي حيثيت سے قبول نه كرنا
3. يه خوف كے شايد امام همارے اعمال صالحه قبول نه كريں مايوس هوجانا چونكه اكثر لوگ قتل هوجاŵيں گے شايد وه بھي ان ميں سے هو اسكے اعمال بھي قبول نه هوں
خلاصه يه كه امام كي نسبت هميشه خوف، مايوسى، اور نفرت باعث بنے گي كه انسان كبھي حضرت اور انكي سيرت اور ادهداف كے بارے ميں فكر وتامل نهيں كرے گا-
ايسے منحرف نظريات كے اسباب
1. بصيرت كا نه هونا اور دين كي طرف جامع نگاه ركھنا
2. روايات كي سند اور متن پر تحقيق اور تجزيه نه كرنا
علاج
1- روايات كے تجزيه سے معلوم هوتا هے كه بهت سارے ايسے مطالب ٫٫خون كي نهريں، آدھي سے زياده دنيا كا قتل ۔ ۔ ۔ وغيره،، ثابت نهيں هيں ايسي روايات جو ان مطالب كو نقل كرتي هيں سند اور متن كے حوالے سے قابل اعتراض هيں-
2- محققين كے ذريعے تشريح كريں:
الف) جنگ صرف ان لوگوں سے هے كه جو جنگ كے علاوه كوئ زبان نهيں سمجھتے نه عام لوگ بلكه عام لوگ تو دل و جان سے حضرت كي طرف بڑھيں گے-
ب) حضرت لوگوں كے ساتھ انتهائ مهرباني سے پيش آŵيں گے بلكه ساري دنيا سے زياده آپ مهربان هونگے جيسا كه روايت ميں هے ٫٫جواد المال، رحيم بالمساكين ، شديد علي العمال 8 يعني آپ مال كے حوالے سے سخاوت كرنے والے هونگے، مسكينوں سے مهربان اور لوگوں كے امور كے ذمه دار افراد سے سختي كرنے والے هونگے-
ايك روايت ميں امام رضا علیہ السلام امام معصوم كي صفات يوں بيان فرماتے هيں:
يكون اعلم الناس و احكم الناس و اتقي الناس و احلم الناس و اشجع الناس و اسخي الناس ۔ ۔ ۔ و يكون اولي بالناس منھم بانفسھم و اشفق عليھم من آباŵھم و امھاتھم و ۔ ۔ ۔ ۔ 9
يعني امام سب لوگوں سے بڑھ كر عالم اور سب سے بڑھ كر صاحب حكمت سب سے بڑھ كر پرهيز گار، سب سے بڑھ كر حليم، سب سے بڑھ كر شجاع، سب سےبڑھ كر سخي ۔ ۔ ۔ وه لوگوں سے انكي جانوں سے بڑھ كر اولويت ركھنے والا اور لوگوں سے انكے والدين سے زياده درد دل ركھنے والا هے اور ۔ ۔ ۔ ۔
3- آخر ميں يهي كها جاسكتا هے كه روايات كے مطابق ايك عالم كي ذمه داري يه هے كه وه خوف و اميد كے درميان ميانه روي برقرار كرے تاكه نه خود افراط و تفريط كا شكار هو اور نه اپنے مخاطبين كو افراط و تفريط كے گھڑے ميں ڈالے-
حواشی
1. سورہ بقرہ، آیت ۱و۲
2. تفسیر مجمع البیان طبرسی، ج۱، ص ۳۸
3. كمال الدین شیخ صدوق، ص ۳۴۰
4. خرائج و خرائج قطب راوندی، ج۳ ص ۱۱۷۴
5. مترجم: شاید یہ چیز آپكے معجزات كے حوالے سے كنایہ ہو ورنہ بعید ہے كہ امام جو خود واسطہ فیض الہی ہیں انہیں ان چیزوں سے اپنے ظہور كا علم ہو
6. بحار الانوار، ج۵۲، ص ۲۹۰
7. الغيبة نعمانى، باب ۱۵، ص۲۸۵
8. بشارۃ المصطفى، ص۲۰۷
9. من لا يحضره الفقيه، ج۴، ص۴۱۸