تاريخ كيا ہے؟
تاريخ كي تعريف تين طرح سے ہو سكتي ہے۔درحقيقت تاريخ سے متعلق تين ايسے علوم ہونے چاہيں جو ايك دوسرے سے قريبي تعلق ركھتے ہوں۔
1۔ زمانہ حال ميں موجود حالات و كيفيات كے بجائے گذرے ہوئے انسانوں كے اوضاع اور احوال اور بيتے ہوئے حادثات كا علم، ہر وہ كيفيت، ہر وہ حالت، ہر وہ واقعہ و حادثہ جس كا تعلق زمانہ حال سے ہو يعني اس زمانے سے ہو كہ جس ميں ابھي اس پر گفتگو چل رہي ہو، “آج كا واقعہ” اور “آج كا حادثہ” ہوگا اور جب يہ قيد تحرير ميں آجائے گا تو “روزآنہ” كہلائے گا۔ ليكن جونہي اس كي تازگي ختم ہوجائے گي اور وقت كي طنابيں كھينچ جائيں گى، يہ تاريخ كا حصہ بن جائے گا۔ پس اس مفہوم ميں علم تاريخ ان حادثات، واقعات اور ان افراد كے حالات و كيفيات پر مبني علم ہے جو گذشتہ سے اپنا رشتہ جوڑ چكے ہيں وہ تمام سوانح عمرياں، ظفرنامے اور سيرتوں پر مشتمل كتابيں جو ہر قوم ميں تاليف ہوئي ہيں اور ہو رہي ہيں، اسي ضمن ميں آتي ہيں ۔
علم تاريخ اس مفہوم ميں اولاً جزو ہے، كليات كا علم نہيں، يعني اس كا تعلق انفرادي اور ذاتي امور كے ايك سلسلے سے ہے نہ كہ قواعد و ضوابط، روابط اور كليات سے۔ ثانياً يہ عقلي نہيں نقلي علم ہے۔ ثالثاً اس كا تعلق كيوں ہوا سے نہيں، كيسے تھا سے ہے۔ رابعاً اس كي وابستگي حال سے نہيں ماضي سے ہے۔ ہم اس طرح كي تاريخ كو “نقلي تاريخ” كي اصطلاح ديتے ہيں۔
2۔ گذشتہ زندگيوں پر حكم فرما قواعد و روايات كا علم جو ماضي ميں رونما ہونے والے واقعات اور حوادث جو نقلي تاريخي ہيں، كے مطالعے اور تحليل و تجزيہ سے حاصل ہوتاہے۔ يعني گذشتہ كے حوادث و واقعات اس علم كے مبادي و مقدمات كي حيثيت ركھتے ہيں اور درحقيقت يہ حوادث و واقعات، تاريخ كے اس دوسرے مفہوم ميں ايك ايسے مواد كا حكم ركھتے ہيں اور درحقيقت يہ حوادث و واقعات، تاريخ كے اس دوسرے مفہوم ميں ايك ايسے مواد كا حكم ركھتے ہيں، جسے طبيعات كا سائنس دان اپني تجربہ گاہ ميں اس لئے اكٹھا كرتا ہے كہ اس پر تجزيہ و تحقيق كر كے اس كي خاصيت اور فطرت معلوم كرے اور اس كے علت و معلول سے متعلق رابطے كو سمجھے، تاريخي حوادث كا مزاج دريافت كرنے اور ان كے سبب و مسبب كو جاننے كي ٹوہ ميں ہوتا ہے تاكہ قواعد و ضوابط كا وہ عمومي سلسلہ اس كے ہاتھ آئے جس سے حال، مشابہ امور ميں ماضي كي صورت اختيار نہ كرے۔ ہم اس معني ميں تاريخ كو “علمي تاريخ” كي اصطلاح كا نام ديتے ہيں ۔
ہرچند كہ علمي تاريخ كا موضو ع تحقيق، وہ واقعات اور وہ حادثات ہيں، جن كا تعلق گذشتہ سے ہے، ليكن يہ جو مسائل اور قواعد استنباط كرتا ہے گذشتہ سے مخصوص نہيں ہوتے بلكہ عموميت ركھتے ہيں اور آئندہ پر بھي منطبق كئے جا سكتے ہيں۔
تاريخ كا يہ رخ اسے بڑا سود مند بنا ديتا ہے۔يہ انساني معرفت يا انساني شناخت كا ايك مآخذ بن كر انسان كو اس كے مستقبل پر دسترس ديتا ہے۔ علمي تاريخ كے محقق اور ماہر علم طبيعات كا كاموں ميں يہ فرق ہے كہ علم طبيعات كے ماہر كا تحقيقي مواد ايك موجود اور حاضر عيني مواد ہے جو لازماً اپني تحقيق اور تحليل و تجزيہ ميں عيني اور تجرباتي پہلو ركھتا ہے، ليكن مورخ كا تحقيقي مواد گذشتہ دور ميں تو تھا ليكن اب نہيں ہے صرف اس سے متعلق كچھ اطلاعات اور كچھ ريكارڈ مورخ كے پاس ہوتا ہے۔ مورخ اپنے فيصلوں ميں عدالت كے ايك قاضي كي طرح ہوتا ہے جو ريكارڈ ميں موجود دلائل و شواہد كي بنياد پر اپنا فيصلہ صادر كرتا ہے۔ اس كے پاس منطقى، ذہني اور عقلي تحليل ہے، خارجي اور عيني تحليل نہيں۔ مورخ اپنے تجزيوں كو خارجي تجربہ گاہ ميں يا قرع و انبيق جيسے آلات كے ذريعے انجام نہيں ديتا، بلكہ اس كا عمل عقل كي تجربہ گاہ ميں قياس و استدلال كے آلات سے ہوتا ہے، لہٰذا مورخ اس جہت سے علم طبيعات كے ماہر كي نسبت ايك فلسفي كے مشابہ ہوتا ہے۔
علمي تاريخ بھي نقلي تاريخ كي طرح سے ہي حال سے نہيں گذشتہ سے متعلق ہے۔ يہ علم”كيوں ہوا “كا نہيں، ” كيسے تھا” سے متعلق علم ہے ليكن نقلي تاريخ كے برخلاف كلي ہے جزوي ہے، نيز عقلي ہے محض نقلي نہيں ۔
علمي تاريخ درحقيقت عمرانيات كا ايك حصہ ہے، يعني گذشتہ معاشروں سے متعلق عمرانيات كا موضوع مطالعہ عمومي ہے، جو معاصر معاشرے اور گذشتہ معاشرے دونوں پر محيط ہے ۔
اگر ہم عمرانيات كو معاصر معاشروں كي شناخت كے لئے مختص كر ديں، تو پھر علمي تاريخ اور عمرانيات دو الگ علم ہوں گے، ليكن رشتہ ميں ان كا ايك دوسرے سے قريبي تعلق ہوگا اور وہ ايك دوسرے كے ضرورت مند ہوں گے۔
3۔ فلسفہ تاريخ يعني معاشروں كے ايك مرحلے سے دوسرے مرحلوں ميں جانے اور انقلابات سے دوچار ہونے كا علم، نيز ان قوانين كا علم جن كا ان انقلابات پر سكہ رہا ہے۔ بعبارت ديگر:يہ “كيوں ہوا” كا علم ہے نہ كہ “كيسے تھا” كا علم۔ ممكن ہے محترم قارئين كا ذہن اس طرف جائے كہ كيا يہ ممكن ہے كہ معاشروں ميں “كيسے تھا” بھي ہواور “كيوں ہوا” بھي جبكہ “كيسے تھا”، “علمي تاريخ” كے نام سے كسي علم كا موضوع ہو ليكن فلسفہ تاريخ كے نام سے كسي دوسرے علم كا موضوع ہو؟ جبكہ ان دونوں كے درميان اجتماع ناممكن ہے كيوں كہ “كيسے تھا” سكون ہے اور “كيوں ہوا” حركت، لہٰذا ان دونوں ميں سے ايك كا انتخاب كرنا ہوگا۔ گذشتہ معاشروں كے بارے ميں ہمارے پردہ ذہن كي تصوير يا “كيسے تھا” سے متعلق ہوني چاہيے يا “كيوں ہوا” سے۔ ممكن ہے محترم قارئين اشكال كو زيادہ كلي اور زيادہ جامع بنا كر پىش كريں اور وہ يوں كہ كلي طور پر كائنات اور معاشرہ بااعتبار اس كے كہ كلي كائنات كا ايك جزو ہے، سے متعلق ہماري شناخت اور پردہ ذہن كي تصوير يا ساكن اور ايستادہ امور ميں سے ہے يا ان ميں سے ہے جن ميں تحريك پايا جاتا ہے، اگر دنيا يا معاشرہ ساكن يا ايستادہ ہے تو پھر اس ميں”كيسے تھا”تو ہوگا۔ “كيوں ہوا” نہيں اور اگر يہ متحرك ہے تو اس ميں “كيوں ہوا” ہوگا، “كيسے تھا” نہيں۔ اس اعتبار سے ہم ديكھتے ہيں كہ يہ اہم ترين فلسفي نظام دو بنيادي گروہوں ميں تقسيم ہوتے ہيں ايك “كيسے تھا” كا فلسفہ اور دوسرا “كيوں ہوا” كا فلسفہ۔ پہلا فلسفہ وہ جو “ہونے” اور “نہ ہونے” كو ناقابل جمع اور متناقص قرار ديتا ہے۔ جہاں “ہونا” ہے وہ “نہ ہونا” نہيں اور جہاں “نہ ہونا” ہے وہاں “ہونا” نہيں۔ پس ان دونوں ميں سے ايك كا انتخاب ضروري ہے مگر چونكہ ضرورتاً “ہونا” ہے اور دنيا اور معاشرہ ايك حرف عبث نہيں لہٰذا اس دنيا پر “سكون” اور قيام كي حكومت ہے۔ “كيوں ہوا” كا فلسفہ وہ ہے كہ جو “ہونے” اور “نہ ہونے” كو آن واحد ميں قابل جمع جانتا ہے اور يہ حركت ہي ہے۔ حركت سوائے اس كے اور كچھ نہيں كہ كوئي شے اور باوجود ہونے كے نہ ہو۔ پس “كيسے تھا” كا فلسفہ اور “كيوں ہوا” كا فلسفہ ہستي كے بارے ميں دو بالكل متضاد اور مختلف نظريے ہيں۔ ان ميں سے ايك كا انتخاب كرنا ہوگا۔ اگر ہم پہلے گروہ ميں اپنے آپ كو شامل كر ليں تو ہميں يہ فرض كرنا ہوگا كہ معاشروں ميں “ہونا” رہا ہے “نہ ہونا” نہيں۔ اس كے برعكس اگر ہم دوسرا گروہ اختيار كر ليں تو وہاں معاشرے “نہ ہونے” سے متعلق ہيں، “ہونے” سے نہيں۔ پس ہمارے پاس گذشتہ مفہوم كے مطابق يا علمي تاريخ ہے اور فلسفہ تاريخ نہيں يا فلسفہ تاريخ ہے اور علمي تاريخ نہيں۔ جواب يہ ہے كہ ہستي اور نيستى، حركت و سكون اور امتناع تناقص كے قانون كے بارے ميں اس طرح كي سوچ مغربي انداز فكر ہے اور يہ ہستي كے فلسفي مسائل خاص طور “اصالت وجود” كے عميق مسئلے اور بہت سے ديگر مسائل سے ناواقفيت پر مبني ہے ۔
اول يہ كہ “ہونا” سكون كے مساوي بعبارت ديگر سكون “ہونا” ہے اور حركت ہونے نہ ہونے كے درميان ملاپ ہے يعني دو نقيضوں كا ملاپ ہے، يہ بات ان بڑے اشتباہات ميں سے ہے جن سے مغرب كے بعض فلسفي دوچار ہوئے ہيں، ثانياً جو كچھ يہاں ذكر ہوا ہے، اس كا اس فلسفي مسئلے سے كوئي واسطہ نہيں ہے۔ يہاں جو بات كہي گئي وہ يہ ہے كہ معاشرہ ہر زندہ وجود كي طرح دو قسم كے قوانين كا حامل ہے۔ ايك وہ قوانين جو ہر نوع كے دائرہ نوعيت پر حكم فرما ہے اور دوسرے وہ جو انواع كے تغيرات اور ان كے آپس ميں تبديلي سے وابستہ ہوتے ہيں۔ ہم پہلي قسم كو “كيسے تھا” اور دوسري كو “كيوں ہوا” سے متعلق قوانين كي اصطلاح ديتے ہيں ۔
اتفاقاً بعض بہت اچھے ماہرين عمرانيات نے اس نكتہ پر توجہ مبذول كي ہے، “آگسٹ كانٹ” انہي ميں سے ہے۔ “ريمون آرون” كہتا ہے: حركت اور سكون “آگسٹ كانٹ” كي عمرانيات كے دو خاص مقولے ہيں۔ سكون اس موضوعي مطالعے سے متعلق ہے، جسے آگسٹ كانٹ نے اجتماعى اجماع (يا اجتماعى توافق) كا نام ديا ہے۔ معاشرہ ايك اعضاء كے ايك مجموعے (Organism) كي طرح زندہ ہے۔ جس طرح بدن كے كسي حصے كي كاركردگي كو سمجھنے كے لئے يہ ضروري ہوتا ہے كہ اسے اس زندہ كل سے وابستہ كيا جائے جس كا وہ خود ايك حصہ ہے۔ اسي طرح حكومت اور سياست كي جانچ پڑتال كے لئے بھي يہ ضروري ہوتا ہے كہ اسے تاريخ كے ايك معين وقت ميں معاشرے كے كل سے وابستہ كيا جائے۔ آغاز ميں حركت ان پے در پے مراحل كي سادہ سي توصيف سے عبارت ہے جسے انساني معاشرے طے كرتے چلے آئے ہيں ۔
دودھ پلانے والے جانور ہوں يا رينگنے والے كيڑے، پرند ہوں يا چرند، مختلف انواع كے زندہ موجودات كي ہر نوع كو اگر ديكھا جائے تو معلوم ہوگا كہ يہ اپنے خاص قوانين سے متصل ہيں جن كا تعلق ان كي نوعيت سے ہوتا ہے۔ جب تك وہ اپني اس نوع كي حدود ميں رہتے ہيں، مذكورہ قوانين ان پر لاگو ہوتے ہيں۔ جيسے كسي حيوان كے مراحل جين سے متعلق قوانين يا اس كي صحت يا بيماري يا طرز پىدائش و پرورش يا انداز حصول غذا ء يا پھر اس كي مہاجرت، جبلت اور توالد و تناسل سے متعلق قوانين ليكن تبديلي و تكامل انواع كے نظريے( 8 )كے مطابق خصوصي قوانين كے علاوہ ہر نوع اپنے نوعيت ميں كچھ اور قوانين بھي ركھتي ہے جو تبديلي و تكامل انواع اور ان كي پستي سے بلندي تك پہنچنے سے متعلق ہے۔ يہي قوانين ہيں جو فلسفي شكل اختيار كرتے ہيں اور جسے ہم فلسفہ تكامل تو كہہ سكتے ہيں مگر علم حياتيات نہيں، معاشرہ بھي اس اعتبار سے كہ ايك زندہ وجود ہے، دو طرح كے قوانين كا حامل ہے: ايك قوانين حيات اور دوسرے قوانين تكامل۔ وہ قوانين جن كا تعلق تمدنوں كي پىدائش اور ان كے انحطاط كے اسباب سے ہے اورجو معاشروں كي شرائط حيات كو معين كرتے ہيں اور جن كي حكمراني تمام معاشروں، اطوار اور تغيرات پر ہے، انہيں ہم معاشروں كے قوانين كي اصطلاح كہتے ہيں اور وہ قوانين جو معاشروں كے ايك عہد سے دوسرے عہد ميں ارتقاء پانے اور ايك نظام سے دوسرے نظام ميں جانے سے متعلق ہيں، ان كے لئے معاشروں كي “كيوں ہوا” كے قوانين كي اصطلاح لاتے ہيں، بعد ميں جب ہم دونوں قسم كے مسائل كو پىش كريں گے تو ان كا فرق بہتر طور پر واضح ہوگا۔ پس علم تاريخ تيسرے مفہوم ميں معاشروں كے ايك مرحلے سے دوسرے مرحلے ميں جانے اور تكامل پانے سے متعلق علم ہے۔ ان كي زندگي كا علم نہيں جو ان كے ايك خاص مرحلے يا تمام مراحل حيات كي عكاسي كرے۔ہم نے ان مسائل كے لئے “فلسفہ تاريخ” كي اصطلاح اس لئے پىش كي ہے تاكہ ان مسائل كا ان مسائل پر گمان نہ ہو، جنہيں ہم نے علمي تاريخ كے نام سے ياد كيا ہے۔ علمي تاريخ سے نسبت پانے والے مسائل جن كا تعلق معاشرے كي غير تكاملي حركات سے ہے، ان مسائل سے جدا نہيں كئے جا سكتے جو فلسفہ تاريخ سے متعلق ہيں اور جن كي نسبت معاشرے كي تكاملي حركات سے ہے اور اس لئے اشتباہات رونما ہوتے ہيں۔
فلسفہ تاريخ علمي تاريخ كي طرح كلي ہے جزوي نہيں، عقلي ہے نقلي نہيں۔ ليكن علمي تاريخ كے برخلاف يہ معاشروں كے “كيوں ہوا” كا علم ہے “كيسے تھا” كا نہيں۔ نيز علمي تاريخ كے برخلاف فلسفہ تاريخ سے متعلق مسائل كا تاريخ سے رشتہ صرف يہ نہيں ہے كہ وہ گزرے ہوئے زمانے سے وابستہ ہيں بلكہ يہ ان واقعات كي نشاندہي كرتے ہيں جن كا آغاز گذشتہ زمانے ميں ہوا اور جن كا عمل اب بھي جاري ہے اور آئندہ بھي رہے گا۔ زمانہ اس طرح كے مسائل كے لئے محض ايك “ظرف” نہيں بلكہ يہ ان مسائل كے پہلوؤں سے ايك پہلو ہے ۔
علم تاريخ اپنے تينوں مفاہيم ميں مفيد ہے يہاں تك كہ نقلي تاريخ بھي جس كا تعلق اشخاص كي سيرت اور ان كے حالات سے ہو، سود مند ، انقلاب آفرين، مربي اور تعميري ہو سكتي ہے۔ البتہ يہ اس بات سے وابستہ ہے كہ ہم كن افراد كي تاريخ حيات كا مطالعہ كرتے ہيں اور ان كي زندگي سے كن نكات كو ليتے ہيں۔ انسان جس طرح “محاكات” كے قانون كے تحت اپنے زمانے كے لوگوں كي ہم نشينى، ان كي رفتار و كردار اور ارادوں سے متاثر ہوتا ہے اور جس طرح معاصر لوگوں كي زندگي اس كے لئے سبق آموز اور عبرت انگيز ہوتي ہے، نيز جس طرح وہ اپنے زمانے كے لوگوں سے ادب اور راہ و رسم زندگي سيكھتا ہے اور كبھي لقمان كي طرح بے ادبوں سے ادب سيكھتا ہے تاكہ ان جيسا نہ ہو، اسي طرح گذشتہ لوگوں كي سرنوشت بھي اس كے لئے باعث ہدايت ہوتي ہے۔ تاريخ ايك براہ راست نشر ہونے والي فلم كي طرح ہے جو ماضي كو حال ميں بدلتي ہے، اسي لئے قرآن كريم ان افراد كي زندگي كے مفيد نكات كو پىش كرتا ہے، جو نمونہ عمل اور “اسوہ” بننے كي صلاحيت ركھتے ہيں اور اس بات كي تصريح بھي كرتا ہے كہ انہيں “اسوہ” قرار دو۔ جب رسالت مآب صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بارے ميں ارشاد ہوتا ہے: لقد كان لكم في رسول اللہ اسوۃ حسنۃ. (سورہ احزاب، آيت 21)
“رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي زندگي ميں تمہارے لئے ايك عمدہ نمونہ حيات موجود ہے ۔”
حضرت ابراہيم عليہ السلام كے بارے ميں ارشاد ہوتا ہے: قد كانت لكم اسوۃ حسنۃ في ابراہيم والذي معہ. (سورہ ممتحنہ، آيت5)
“ابراہيم اور ان كے ساتھ رہنے والوں ميں تمہارے لئے “اسوئہ حسنہ” موجود ہے ۔”
قرآن “اسوہ” كے عنوان سے جن ہستيوں كو پىش كرتا ہے وہاں اس كے پىش نظر ان كي دنياوي شخصيت نہيں ہوتي بلكہ وہ ان كي اخلاقى اور انساني شخصيت كو پىش نظر ركھتا ہے۔ جيسے ايك سياہ رنگ غلام لقمان جو بادشاہ تھے نہ مشہور فلسفي اور نہ ہي دولت مندوں ميں ان كا شمار ہوتا تھا بلكہ اس كے برعكس ايك غلام تھے مگر صاحب بصيرت تھے۔ قرآن نے انہيں حكيم و دانا كے نام سے ياد كيا ہے اور ان كے علم كو حكمت و دانائي كہا ہے يہي صورت “مومن آل فرعون” اور “مومن آل ياسين” كي ہے ۔