اصول تفسیر

695

دلیل سوئم :قرآن کریم ایسے بلند ترین معانی، عمیق ترین مطالب، گوناگوں علوم اور بے پایاں اغراض پر مشتمل ہے کہ بشری ازھان ان تک ، پہنچنے سے قاصر اور ان کے ادراک سے عاجز ہیں وہ کیوں نہ عاجز ہوں جبکہ بشری ازھان وافہام تو نہج البلاغہ کے تمام معانی و مطالب کے کما حقہ ادراک سے بھی قاصر ہیں کہ جو ایک کامل انسان اوربشرکا کلام ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے علمائے متقدمین میں سے بعض کی ایسی کتابیںبھی موجود ہیں۔ جنہیں چند ایک ماہرین کے علاو ہ عام علماء بھی مکمل طور پر سمجھنے سے عاجز ہیں جب ایسا ہے تو وہ کتاب عظیم جسے جبرئیل روح الامین سید المرسلین ۖ کے پاس لایا جس میں اولین و آخرین کا علم ہے اور جو رب العالمین کے طرف سے نازل کردہ ہے عام انسان کیونکر اسے سمجھنے پر قادر ہو سکتاہے درود و سلام ہو ہمارے نبیۖ اور آپۖ کی پاک آل پر جب تک زمانہ باقی اور زمین و آسمان قائم ہیں ۔جواب:یہ یقیناایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ قرآن مجید ایسے معانی و مطالب اور علوم و معارف پر مشتمل ہے کہ ان کی کمال معرفت فقط اوصیاء نبیۖ اکرم ہی کا خاصہ ہے مگر یہ بات اس سے مانع نہیں کہ قرآن کے ظاہری معنی عام لوگوں کے لئے حجت ہوں اور وہ انہیں اپنی حد تک سمجھ سکتے ہوں جب کہ ہمارے ہاں محل بحث یہی نکتہ ہے لہذا آپ کی دلیل اپ کے دعویٰ کے مطابق نہیں۔دلیل چہارم کے بعد خود دیکھ لیجئے کہ دلیل آپ کے دعویٰ کے مطابق نہیں ہے۔ دلیل چہارم:ہمیں علم اجمالی حاصل ہے اس بات کا کہ قرآن مجید کے عمومات اور اطلاقات کیلئے کثیر تعداد میں مخصصات اور مقیدات احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہم اس امر کا علم اجمالی بھی رکھتے ہیں کہ فصیح عربی زبان کا ایک ماہر شخص جو بظاہرآیات قرآن کے معانی سمجھتا اور یہ خیال کرتا ہے کہ ان سے یہی معانی مراد ہیں۔۔۔ حقیقت میں قطعاً وہ مرادِ خدا نہیں ہیں جب اس علم اجمالی کو فرض کرنے کی صورت میں عمومات ، اطلاقات اور معانی ظاہر یہ یقینی طور پر مراد نہ لیا جا سکے تو اس علم اجمالی کے تقاضے پر عمل کرتے ہوئے ہم پر لازم ہے کہ ان عمومات اطلاقات اور ظواہر میں سے کسی پر بھی عمل نہ کریں، تاکہ واقع کی مخالفت کا ارتکاب کرنے سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ ایسے مقامات میں علم اجمالی کا ضابطہ اور تحقیق کے مطابق اس کا حکم یہی ہے کہ علم اجمالی شرعی تکلیف کا موجب ہوتا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے ایسا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس سے واقع کی مخالفت لازم نہ آئے۔۔۔ یعنی احتیاط پر عمل کرنا پڑتا ہے۔جواب:١۔ جواب نقضی یوں دیا جاسکتا ہے کہ جو بات آپ نے آیات کے حوالے سے کی۔۔۔ وہی بات روایات کے حوالے سے بھی کی جا سکتی ہے کیونکہ واضح ہے کہ روایات میں وارد شدہ عمومات و اطلاقات کے بارے میں ہمیں علم اجمالی خاص ہے کہ ان کے بھی کثیر تعداد میں مخصصات اور مقیدات دوسری روایات میں وارد ہوئے ہیں۔ لہذا اس علم اجمالی کے مقتضیٰ پر عمل کرتے ہوئے ضروری ہے کہ ان روایات کے عمومات و اطلاقات کے ظواہر کو حجیت سے خارج کر لیا جائے اور کہا جائے کہ یہ عمومات اور اطلاقات حجت نہیں میں حالانکہ خود مدعی اس کا قائل نہیں اور وہ ان کو حجت مانے ہوئے ہے، اسی لئے تو ان کے ذریعہ آیات کے عمومات کی تخصیص اور اطلاقات کی تقیید کے علاوہ احتیاط پر عمل کر رہا ہے۔٢۔ سابقہ جواب نقضی کے بعد جواب حلی یہ ہے کہ اس حقیقت سے بالکل انکار نہیں کیا جاسکتا اور بلاشک یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ہمیں مخصصات اور مقیدات کے وجود کا علم اجمالی حاصل ہے۔ روایات میں بکثرت مخصص ، مقید اور خلافِ ظاہر مراد ہونے کے قرائن موجود ہیں۔ اگر ہم انہیں تلاش کرنے کی کوشش کریں توحتماً انہیں پا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر ہم کسی ظاہری معنی کے خلاف قرینہ تلاش کریں اور بڑی جستجو کے بعد اور کامل تبتع کے باوجود بھی ہم کسی خلافِ ظاہر قرنیہ کو پا لینے میں کامیاب نہ ہو سکیں تو بھی ہم اس کلام کو اپنے ظاہر ی معنی پر حمل نہیں کر سکتے ۔ ایسا ہر گز نہیں۔ بلکہ اب ہمیں حق حاصل ہو جاتا ہے کہ اس ظاہر معنی کو حجت قراردیں اور اس کے مطابق عمل کریں، کیونکہ اب علم اجمالی اس کلام کی حد تک ختم ہو چکا ہے اور اس کے تقاضے پر عمل کرنا ضروری نہیں رہا۔ یاد رہے کہ ہماری بحث بھی انہیں ظواہر کی حجیت کے بارے میں ہو رہی ہے جن کے خلاف کامل جستجو کے باوجود قرینہ میسر نہ آئے۔اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارا علم اجمالی ان مخصصات و مقیدات کے مطلقاً وارد ہونے سے بایںمعنی متعلق ہے کہ ہماری معلومات کا دائرہ روایات میں واقع ان امور سے بھی زیادہ وسیع ہے. پھر تو ہم اس قسم کے علم اجمالی کے وجود سے انکاری ہیں، کیونکہ پہلی قسم کے علم اجمالی کا وجود تو تسلیم شدہ ہے اور وہ ظواہر کی حجیت کے منافی بھی نہیں، مگر اس دوسری قسم کے علم اجمالی کا وجود مسلّم نہیں ہے۔
دلیل پنجم:قرآن مجید متشابہ بات پر عمل کرنے سے منع فرماتا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔”مِنہُ اٰےَاتُ مُّحکَمَاتُ ُھنَّ اُ مُّ الکَتاِبِ وَاُخَرُ مُتَشَابِھَاتُ فَاَمَّا الَّذِینَ فِی قُلُو بِھم زَیغُ’ فَےَتَّبِعُونَ مَا تَشاَبَہَ مِنہُ ا بتِغَآئَ الفِتَنةَِ وَابتِغَآ ئَ تاوِ یلِہ ”۔(سورہ آل عمران۔ آیت ٧)(اس میں کچھ آیاتِ محکمات ہیں جو کتاب کی بنیاد ہیں اور کچھ دوسری متشابہات ہیں۔ پس وہ لوگ جن کے قلوب میں کجی ہے وہ اس میںسے متشابہ کی اتباع کرتے ہیں ،فتنہ پروری اور اس کی تاویل چاہتے ہوئے)۔لفظ کو اپنے ظاہر پر محمول کرنا بھی متشابہ کی اتباع ہے اور اگر ایسا نہیں تو کم از کم متشابہ کی اتباع میں اس ظاہری مراد کے شامل ہونے کا احتمال ضرور ہے ، بہرحال ہر دو صورت میں ظاہر کو اختیار کرنا حجت نہیں بن سکتا ۔ کیونکہ قرآن نے اس کی مذمت کی ہے۔جواب:آپ کے اس دعویٰ کے بارے میں چند احتمالات ہیں:١۔ اگر آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ لفظ ”المتشابہ” اپنی صراحت کے ساتھ لفظ کے اس معنی ِ ظاہر ی پر حمل کرنے کو شامل ہوتا ہے یعنی یہ کہ ظواہر یقینا متشابہ کے مصادیق ہیں تو ہم کہیں گے کہ یہ دعویٰ واضح طور پر باطل ہے، کیونکہ اس سے یہ دعویٰ کرنا پڑے گا کہ عرفِ عام کے اکثر متداول استعمالات متشابہات ہیں کیونکہ اکثر لوگ اپنی اغراض کے افہام اور مقاصد کی ادائیگی کے لئے ظواہر کو مراد لینے کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور صراحتیں بہت کم کی جاتی ہیں۔٢۔ اگر آپ کا دعویٰ یہ ہے کہ لفظ ”المتشابہ” سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ظواہر مراد لینے کو شامل ہے تو اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ یہ بات خلافِ واقع ہے کیونکہ عرف میں اور اہل لغت کے ہاںظواہر کا مراد لینا متشابہ کی مصادیق میں سے نہیں ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ظواہر کی حجیت کا انکار کرنے کے لئے قرآن کے ظواہرہی کو دلیل بنانا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ اس سے تو ایک شے کے وجود سے اس کے عدم کو ثابت کرنا لازم آتا ہے اور یہ ظاہر کی حجیت کے ذریعے خود ظاہر کی حجیت کا انکار ہے۔اسی طرح ظواہر کی حجیت کے قائلوں کے لئے جائز نہیںہے کہ وہ یہ دیکھتے ہوئے حجیت کے دعویٰ سے دست بردار ہو جائیں کہ متشابہ کی اتباع سے منع کرنے والی آیت کا ظہور ظواہر کو بھی شامل ہے کیونکہ یہ امر معلوم ہے کہ متشابہ عرفاً لغتہً ظواہر کو شامل نہیں ہو سکتا اور ظواہر کسی طرح بھی متشابہات کی فہرست میں نہیں آتے۔٣۔ اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ ایک احتمال ہے کہ ”متشابہ” ظواہر میں شامل ہے تو یہ احتمال ظواہر کی حجیت میں شک ڈالنے کا موجب بن گیا اور جہاں حجیت مشکوک ہو، وہاں عدم حجیت ثابت ہے، کیونکہ حجیت میں شک عدم حجیت کے برابر ہے، جیسا کہ علم اصولِ فقہ میں یہ ضابطہ ثابت ہے کہ ظن کی حجیت میں شک آنے سے اس کی عدم حجیت کا یقین حاصل ہو جانا لازم آتا ہے اور ایسے ظن پر حجیت کے آثار ہر گز مرتب نہیں ہو سکتے ، اس کا جواب یہ ہے کہ اولاً تو ایسے احتمال کا تحقق تسلیم بھی کر لیا جائے تو بھی یہ احتمال ظواہر کو حجیت سے خارج نہیں کر سکتا کیونکہ بدیہی ہے کہ عقلاء کے ہاں یہ روش قطعاً جاری و ساری ہے کہ وہ ظواہر پر عمل کرتے اور ان سے تمسک کیا کرتے ہیں ۔ عقلاء کی دنیا میں تمام لوگ اپنے ماتحتوں اور نوکروں پر اور اس طرح تمام نوکر اور ماتحت حضرات اپنے مالک اور افسروں پر انھی ظواہر کلام کے ساتھ اتمامِ حجت کرتے ہیں لہذا فرق اس احتمال کی بنیاد پر کہ لفظ ”المتشابہ” ظواہر کو شامل ہے وہ عقلاء اپنی روش سے دست بردار ہونے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔اگر شارع کے یہاں ظواہر، قرآن پر عمل کرنا ناجائز ہوتا اور قرآن میں مقاصد کے بیان میں عام عقلاء کے محاورات سے ہٹ کر کسی جداگانہ طریقے کو اختیار کیا گیا ہوتا تو شارع کا فریضہ تھا کہ وہ بڑی صراحت کے ساتھ اس بات سے منع کرتا کہ کتاب اللہ کے بارے میں عقلاء اپنی روش پر عمل کرنے سے باز رہیں یعنی اس ضمن میں ایک واضح ہدایت جاری ہوتی، جس سے کتاب خدا اور روایات کے فرق کو روشن کر دیا جاتا۔ چنانچہ یہ بتادیا جاتاکہ قرآن میں ظواہر پر بھروسہ کرنا جائز نہیں ہے جبکہ روایات میں جائز ہے فقط یہ بات کہ لفظ المتشابہ میںظواہر کو اپنے اندر شامل کر لینے کا احتمال موجود ہے وہ اس مقصد کے لئے کافی نہیں ہے۔بالفاظ دیگر اگر افہام و تفہیم اور اظہار مقاصد کے لئے قرآن مجید کی کوئی علیحدہ روش ہوتی اور شارع کے ہاں اس کاکوئی اوراسلوب ہوتا جو اس عقلائی روش کے خلاف ہوتا جس پر عقلاء اپنے محاورات میں عموماً عمل کر رہے ہیں،تو کیا اس بات کے بیان کے لئے فقط یہ کہنا کافی تھا کہ لفظ ”المتشابہ” جس کی پیروی سے منع کیا گیا ہے اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ وہ ظاہر کو شامل ہو سکتا ہے۔
دلیل ششم:قرآن مجید میں کمی کر کے اس میں تحریف کی گئی ہے جو ظواہر کی حجیت اور ان کی اتباع میں مانع ہے۔ لہذا اب یہ احتمال موجود ہے کہ شاید اس میں ایسے قرائن موجود تھے جو خلافِ ظاہر کے مراد ہونے پر دلالت کرتے تھے لیکن تحریف کی وجہ سے اب وہ ساقط ہو گئے ہیں۔ پس تحریف جو اس احتمال کے تحقق کا موجب ہے وہی اس امر سے مانع بھی ہے کہ قرآن مجید کے ظواہر کو حجت تسلیم کیا جائے۔جواب:اس قسم کی کوئی تحریف قرآن مجید میں نہیں ہوئی بلکہ قرآن میں کسی بھی اعتبار سے تحریف ثابت نہیںہے۔
قولِ معصُوم:معصوم خواہ نبی ہو یا امام ان کا قول بلا شبہ حجت ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب وہ کتاب خداوندی ”قرآن کریم ”کے الفاظ اور آیات کا معنی بیان کرتے ہوئے فرمائیں کہ اس لفظ سے یہ معنی مراد ہے تو ان کا ارشاد حجت ہے کیونکہ قولِ معصوم کی حجیت اپنے مقام میں ثابت ہو چکی ہے۔بنابراین اگر کوئی قول نبی کا ہو تو واضح ہے کہ حجت ہے اور اگر امام کاارشاد ہو تو وہ ان ثقلین میں سے ایک ہے جن سے تمسک کرنے اور جن کے دامن کو تھام لینے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس لئے ان کی پیروی کرنا اور ان کے قول کو تسلیم کرنا ہمارا فریضہ ہے، تاکہ جہالت سے دوری اور گمراہی سے اجتناب حاصل ہو۔ پس جب ثابت ہو جائے کہ تفسیر قرآن میں یہ قول معصوم ہے تو خواہ وہ قرآن کے ظاہری معنی کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کواخذ کرنا لازم ہے۔ کیونکہ ہر ایسا قول درحقیقت قرینہ صارفہ کی حیثیت رکھتا ہے ،البتہ یہ امر ضروری ہے کہ اس کا قول معصوم ہونا تواتر سے یا ایسی خبر سے ثابت ہو جو اپنے ساتھ قطعی قرینہ رکھتی ہو.ہاں اس بارے میں اشکال اور اختلاف ہے کہ کیا قول معصوم جامع الشرائط خبر واحد کے ذریعے بھی ثابت ہو جاتا ہے ؟اسں طرح سے کہ اگر کوئی ایک عادل شخص اپنی خبر میں بتائے کہ معصوم علیہ السلام نے فلاں حکم شرعی اس طرح بتایا ہے تو چونکہ عادل شخص کی حجیت واعتبار پر دلیل قطعی قائم ہے .اس لیے اس کی خبر سے قول معصوم ثابت ہو جائے گایا نہیں۔۔۔؟ اس سلسلے میںبعض علماء کا بیان ہے کہ تفسیر قرآن کے مقام پر منقول خبرِواحد کے ذریعے قول معصوم ہونا ثابت نہیں ہوتا،البتہ احکام اور فروع دین کے احکام شرعیہ میں ثابت ہو جاتا ہے،پس درحقیقت وہ علماء یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کسی آیت کے متعلق خبر واحد کے ذریعے قول معصوم نقل کیا جائے تو اگر آیت حکم شرعی کو بیان کررہی ہو تو اس میں خبر واحد کے ساتھ قول معصوم تسلیم کرلیا جائے گا اور وہ معتبر قرار پاجائے گا.لیکن اگر اس میں کسی ایسی آیت کی تفسیر بیان ہو جس کا تعلق احکام عملیہ کے ساتھ نہیں تو یہاں خبر واحد سے نقل کیا ہوا قول بالکل حجت نہیں ہوگا.کیونکہ خبر واحد کی حجیت کا مفہوم یہی ہے بلکہ کسی بھی ظنی امارة کی حیثیت اس سے زائد نہیں ہے کہ وہ مقام عمل میں ترتیب و آثار کا موجب بنتی ہے۔لہذا آیت حکم فرعی میں خبر واحد حجت ہو گی اور اس کے علاوہ دیگر آیات کی تفسیر میں حجیت نہ ہو گی۔اس کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ حجت کا معنی موافقت میںمنجزیت یعنی مر نافذہ اور مخالفت کی صورت میںمعذریت یعنی باعذر قرار دینے کا ذریعہ ہونا ہے.(یعنی جب آپ اس حجت کے مطابق عمل کریں تو اگر اس کا بیان مطابق واقع نکلا تو وہ آپ کے لیے تکلیف کے ثبوت کا باعث بن گئی اور آپ نے صحیح پیروی کی ہے اور اگر اس کا بیان واقع کے خلاف تھا تو چونکہ آپ نے حجت کے تحت عمل کیا ہے اس لیے وہ حجت آپ کے لیے معذّر بن جائے گی.یعنی آپ اس مخالفت میں معذور قرار دیے جائیں گے اور مستوجب عتاب قرار نہ پاسکیں گے.منجزیت یعنی وجہ نفاذ حکم اور معذریت یعنی وجہ عذر فعل یہ دونوں فقط ان فرضوں میں ثابت ہو سکتی ہیں جن کا تعلق اعمال سے ہوتا ہے جنہیں بجا لانا یا ترک کرنالازم ہوتا ہے لہذا جب بھی خبر کا مفاد حکم شرعی کے موضوع کو بیان کرنا ہو تو وہ خبر حجت قرار پائے گی کیونکہ اس صورت میں وہ خبرمنجزیت یا معذریت کے وصف سے متصف ہو سکتی ہے اور جس خبر میں ایسی شے نہ ہو اس میں یہ وصف موجود نہ ہو گا اس لیے کہ یہ وصف باب الاحکام کے علاوہ اور کہیں بھی متصور نہیں ہو سکتا چنانچہ اب نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہم کہیںکہ یہ خبرواحد اگر کسی ایسی آیت کی تفسیر بیان کرے جس کا تعلق حکم عملی کے ساتھ نہ ہو تو ایسی خبر واحد حجت نہیں ہوتی ۔یہ تھا علماء کی ایک جماعت کے نظریات کا بیان۔
تحقیق:جہاں تک تحقیقی مسلک کا تعلق ہے اس کے مطابق خبر واحد کے حجیت واعتبار میں ان دونوں قسموں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے.آیت خواہ فروع دین سے متعلق ہو یا اصول دین سے، خبر واحد ہر دو کے لیے حجت ہے .کیونکہ حجیت کا ملاک ومعیار دونوں صورتوں میں موجود ہے۔
توضیح:خبر واحد کی حجیت میں عقلاء اور علماء کی سیرت یعنی دیرینہ روش کو سندقرار دیا جاتا ہے.وہ خبر واحد پر عمل کرتے ہیں۔ عقلاء کا عمل اور اس کی بنیاد خبر واحد حجیت کے ادلہ میں سے عمدہ ترین دلیل ہے،جیسا کہ اپنے مقام پر ثابت اور تحقیق شدہ ہے۔ خبر واحد کی حجیت کو کتاب ،سنت اور اجماع جیسے ادلہ شرعیہ تعبدیہ کے ذریعہ ثابت کیا جاتا ہے.بشرطیکہ یہ فرض کیا جائے کہ یہ ادلہّ تعبدی تاسیسی حکم کے بیان پر دلالت کر سکتے ہیں۔١۔ پس اگر خبر واحد کو بناء عقلاء کے ذریعہ ثابت کیا جائے تو وہاں یہ لحاظ رکھنا ضروری ہو گا کہ کیا عقلاء فقط ایسے امر میں خبر واحد پر عمل کرتے ہیں،جس کا تعلق فروع دین سے ہو اور اس پر عملی اثر مرتب ہوتا ہو،یاعقلاء خبر واحد کو قطع ویقین کی طرح ہر جگہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں اور جو آثار قطع پر مرتب کرتے ہیں وہ خبر واحد پر بھی مرتب کرتے ہیں .ظاہر یہ ہے کہ عقلاء دوسری بات پر ہیں یعنی خبر واحد کو تمام امور میں مؤثر اور ترتیب امرکا موجب قرار دیتے ہیں۔مثلاًجب انہیں یقین ہو جائے کہ زید سفر سے واپس آگیا ہے.تو وہ اس کی خبر دینا جائزقرار دیتے ہیں،اگرچہ یہ خبر کسی عملی اثر کا موضوع نہ بنتی ہو اور مقام عمل میں زید کی آمد پر عقلاء سے تعلق رکھنے والا کوئی اثر مرتب نہ ہوتا ہو۔ بایں معنی کہ اس پہلو کے اعتبار سے زید کا آنااور نہ آنا برابر ہو اور اس میں کوئی فرق نہ ہو، من وعن اسی طرح جب عقلاء کو زید کی آمد کی اطلاع کوئی ایک قابل وثوق فرد پہنچائے تو بھی اس کے ہاں موثق آدمی کے واسطے سے اس کی خبر دینا صحیح ہوتا ہے اور یہی معاملہ ان تمام امور میں ہے جن پر عقلاء کا چلن ہوتا ہے مثلاًقبضہ کی مثال لے لیں عقلاء کے ہاںیہ قابض کی ملکیت کی علامت ہوتا ہے تو اب جہاں قبضہ ہو وہ وہاں قابض کی ملکیت کا حکم لگاتے ہیں .لہذا جہاں انہیں اس کا یقین ہو وہاں مقام عمل میں اس پر آثار مرتب کر دیتے ہیں اور اسے خرید کرنا جائز سمجھتے ہیںاو ر کہتے ہیں کہ فلاں چیز فلاں کی ملکیت ہے.خلاصہ یہ کہ خبر واحد کی حجیت میں بناء عقلاء کو ایک سند کی حیثیت حاصل ہے اس کے ہوتے ہوئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ایک عادل یہ خبر دے کہ معصوم علیہ السلام نے فلاں آیت کی تفسیر ایسے مفہوم کے ساتھ کی ہے جو خلاف ظاہر ہے یا وہ خود ظواہر کتاب ہوںکہ جن کے معتبر ہونے پر سوائے اس کے اور کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ عقلاء ان کلمات کے ظواہر پر عمل کرتے اور الفاظ وعبارات سے مقصود معانی کی تشخیص کیا کرتے ہیں.پس اب جس طرح بناء عقلاء کے باب میں تمام ظواہر مطلقاًحجت ہوتے ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ ظواہر عملی احکام میں سے کسی پر مشتمل ہو یانہ ہو،اسی طرح تمام وہ روایات جو باب تفسیر قرآن میں قول معصوم علیہ السلام کو نقل کرتی ہوں،وہ سب بھی حجت ہوتی ہیں اور ان میں اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایسی آیت کی تفسیر کو بیان کر رہی ہوں جو احکام عملیہ میں سے کسی پر مشتمل ہو یا ایسی آیت کی تفسیر جس کا احکام کے ساتھ کوئی ربط نہ ہو.لہذا اس دعویٰ کی کوئی گنجائش ہو یا ایسی آیت کی تفسیر جس کا احکام کے ساتھ کوئی ربط ہی نہ ہو.لہذا اس دعویٰ کی کوئی گنجائش نہیں کہ روایات فقط اس صورت میں حجت ہوتی ہیں جب کسی ایسی آیت کی تفسیر میں ہوں جن میں احکام کا بیان ہو بلکہ معتبر روایت باب تفسیر میں مطلقاً حجت ہوتی ہیں اور یہ ایک روشن حقیقت ہے۔٢۔ اگر خبر واحد کی حجیت کی استناد ادلہ شرعیہ تعبدیہ کی طرف ہو تو وہاں بھی بظاہر عدم اختصاص ہی دکھائی دیتا ہے کیونکہ ان ادلہ شرعیہ میں سے کسی میں بھی ”حجیة” اور اس کے مشابہ عنوان دکھائی نہیں دیتا،تاکہ اس کی تفسیر میں اس منجزیت(وجہ نفاذ)اور معذریت(وجہ عذر) کا نام لیا جائے جو ان تکالیف کے باب میں ثابت ہوتی ہیں جن کا تعلق عمل کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ اگر آیت نَبَاء ْ ”اِن جَآء َکمُ فَاسِقُ بِنَبَاٍ فَتَبَّینُوا” (حجرات:٦)جب تمہیں ایک فاسق کوئی خبر سنائے تو اس کی تحقیق کرو۔کے مفہوم کے بارے میں تسلیم کر لیا جائے کہ اس سے خبر واحد کی حجیت ثابت ہو جاتی ہے ،جبکہ خبر دینے والا ایک عادل شخص ہوتو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عادل کی خبر کی طرف استناد جائز ہوگا،اس کی تحقیق ضروری نہیں ہو گی او ر اس کی صداقت کی تفتیش لازم نہیں ہوگی۔بلکہ اس کی بات بغیر تفتیش مان لی جائے گی تو پھر اس کو باب اعمال سے تعلق رکھنے والی خبر کے ساتھ مختص کرنا درست نہ ہوگا،بلکہ عادل کی خبرچاہے اعمال سے متعلق ہو یا کسی اور شے سے ماننا ہو گی اور وہ حجت ہو گی۔البتہ اس صورت میں اختصاص کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں جب خبر کاارتباط شارع کے ساتھ ہو اور اس کی شارع کی طرف نسبت بحیثیت اس کے شارع ہونے کے ہو،لیکن اس سے بھی یہ مقام بحث خارج نہیں ہوتا،کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف استناد اور قرآن کریم سے اللہ تعالیٰ کی مراد کو تشخیص دینا،اگرچہ کسی آیت کے حکم کے متعلق نہ بھی ہو،بلکہ مواعظ،نصائح،قصص حکایت یا ایسے امور کے متعلق ہو کہ جن پر کتاب خدا دلالت کرتی ہے.یہ استناد بھی ایک ایسا امر ہے جو لامحالہ شارع سے متعلق ہوتا ہے.لہذا اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت دیتے ہوئے یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسیٰ قتل نہیں ہوئے اور نہ ہی پھانسی دیے گئے ہیں .اگرچہ اس خبر کا تعلق باب تکالیف کے ساتھ بالکل نہیں ہے۔خلاصہ یہ کہ باب تفسیر میں خبر واحد کے مطلقاً حجت ہونے میں کسی اشکال کی گنجائش نہیں ہے۔ہاں جہاں تک کتاب الہی کے عمومات کو خبر واحد کے ذریعے تخصیص دینے کا تعلق ہے تو اس میں اختلاف ہے اور کئی ایک اقوال موجود ہیں جبکہ قرآن مجید کی کسی آیت کی خبر واحد کے ذریعے تنسیخ کرنا کسی طرح جائز نہیں اور اس پر اہل اسلام کا اتفاق ہے.البتہ یہ مسئلہ علم اصول فقہ میں تفصیل سے زیر بحث آتا ہے اور وہاں مرقوم ہے لہذا ہمیں یہاں اس سے سے بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہاں یہ یادر ہے کہ علمائے اہل سنت کا ایک گروہ خبر واحد سے قرآن کے عمومات کی تخصیص کے عدم جواز کا قائل ہے۔ اور خود اہل سنت میں بھی اس بارے میں اختلاف موجود ہے .تاہم قائلین عدم جواز کے ادلہ کمزور اور واضح البطلا ن ہیں۔
حکمِ عقل:اس بات میں کوئی اشکال نہیں کہ عقل کا حکم قطعی اور ادراک جزی اصول تفسیر میں شامل ہے اور تفسیر کے لیے ایک بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے .لہذاجب بھی حکم عقل قطعی طور پر ظاہر کتاب کے خلاف فیصلہ دے رہا ہو تو وہاں اس کو تسلیم کرنا پڑے گااور ظاہر کتاب کو اخذ نہیں کیا جائے گا،کیونکہ عقل کا حکم ہی کتاب خدا کی حجیت اور اس کے لانے والے اصول کی صداقت کو ظاہر کرنے والے معجزہ کی اساس ہے اسی عقل نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ قرآن ایک معجزہ اور عادت بشری سے ماوریٰ ہے جس کی مثل نہ تو پیش کی جاسکی اور نہ پیش کی جاسکتی ہے،عقل ہی وہ رسول باطنی ہے جس کے حکم اور اس کی وحی کی مخالفت جائز نہیں ہے۔درحقیقت جب ظواہر کے خلاف حکم عقل قائم ہو گا توپھر عقل کا ادراک بالجزم اس ظاہر کی مخالفت کررہا ہو گا.وہاں یہ حکم عقل حقیقت میں اس قرینہ لفظیہ کی منزل پر ہوتا ہے اور حقیقی معنی کے مراد ہونے سے منصرف کرنے اور معنی مجازی میں ظہور کے منعقد ہونے کا موجب بنتا ہے.ظہور کی حجیت میں یہ ضروری نہیں کہ وہ معنی حقیقی سے متعلق ہی ہو بلکہ ظہور حجت ہے خواہ وہ معنی مجازی میں ہی کیوں نہ ہو کیونکہ واضح ہے کہ قانون أصالةُ الحقیقة جو ظہورکے انعقاد کے تمام مواقع پر جاری ہوتی ہے وہ اصالةالظہور کی ہی ایک خاص قسم ہے اور کوئی فرق نہیں کہ ظہور معنی حقیقی میں قائم ہو جیسے کہ لفظ میں خلاف کا کوئی قرینہ موجود ہی نہ ہو اور خواہ وہ ظہور معنی مجازی میں قائم ہو۔مثلاًکلام میں معنی حقیقی کے خلاف کا قرینہ موجود ہو تو معنی مجازی ہی ظاہر قرار پاجاتاہے یعنی ”رَاَیْتْ اَسَداً” کا ظہور معنی حقیقی میں قائم ہوتا ہے لیکن”رَایْتُ اَسَداً یَرْمِی”کا ظہور معنی مجازی میں قائم ہے.کیونکہ عرف میں سے اس سے مراد”رجل شجاع”یعنی بہادر آدمی ہوتا ہے.بغیر اس فرق کے کہ ہم یہ مان لیں کہ اس جملے کا ایک ہی ظہور ہوتا ہے جو جملے کے تمام ہونے کے بعد قائم ہوتا ہے .بایں نظر کہ لفظ”اسد” کا اپنے معنی حقیقی میں ظہور پیدا کرنا اس بات پر موقوف ہے کہ جملہ تمام ہو جائے اور خلاف حقیقت مراد ہونے پر کوئی قرینہ قائم نہ ہو۔جب خلاف کا قرینہ موجود ہو تو وہاں اس کا ظہوربالکل ہوتا ہی نہیں بلکہ لفظ کا ظہور ابتداًء ہی معنی مجازی میں قائم ہو جاتا ہے یا ہم یہ تسلیم کریں کہ دو ظہور موجود ہوتے ہیںلفظ”الاسد” کا ظہور اپنے معنی حقیقی میں اور لفظ”یرمی” کا ظہورمعنی مجازی میں ہے لیکن چونکہ دوسرا ظہور زیادہ طاقتور ہوتا ہے،اس لیے وہ پہلے ظہور پر تقدم حاصل کرلیتا ہے اور در حقیقت دونوں لفظوں میں ہر لفظ اپنے اپنے حقیقی معنی میں ظاہر ہوتاہے لیکن ادھر قرینہ کا ظہور جو معنی مجازی میں قائم ہوتا ہے وہ معنی اول کے ساتھ مل کر قوی اور کامل ہو جاتا ہے.ان دونوں قولوں کے مطابق جملے کا ظہور معنی مجازی میں قائم ہوتا ہے یعنی اس مقام پررجل شجاع ہی مراد ہوگا۔خلاصہ یہ کہ اصالةالظہور جو دراصل ارادہ جدیہ کا ارادہ استعمالیہ کے ساتھ تطابق اور کلام سے اس مفہوم کا مقصود واقعی ہونا ہے جس میں ظاہر لفظ دلالت کررہا ہو.یہ اصالةالظہور ہر دو صورتوں میں جاری ہوتی ہے اور دونوں میں کوئی بنیادی فرق برقرار نہیں ہوتا.اس قاعدے کے روشن ہونے کے بعد جب کبھی معلوم ہو کہ عقل کسی مقام پر کتاب خدا کے لفظوں کے ظاہری معنی کے خلاف حکم دے رہی ہے تو یہ حکم عقلی ایسے قرینۂِ قطعیۂِ متصلہ کا قائم مقام ہو گا جو اس بات کا موجب ہے کہ کلام کا ظہو ر فقط اسی مفہوم میں منعقد ہو جس کا حکم عقل دے رہی ہے اور اس کے خلاف نہ ہو۔چنانچہ خداوند تعالیٰ کاارشاد:”وَجَآئَ رَبُکَ وَالمَلَکُ صَفًا صَفًا”(سورة فجر:آیت٢٢)(اور جب تیرا رب آیا اور فرشتے صف بستہ تھے)اس کلا م کا ابتدائی ظہور تو یہ ہے کہ آنے والا بذات خود رب تعالیٰ ہے……یہ مفہوم اللہ تعالیٰ کے مجسم ہونے کا مستلزم ہے،حالانکہ اس کا مجسم ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ عقل کا قطعی حکم ہے کہ جسمیت خداوند تعالیٰ کے لیے محال ہے کیونکہ تجسم کا لازمہ احتیاج ہے اور احتیاج واجب الوجودکی شان کے منافی ہے جب کہ واجب الوجود تو بالذات غنی ہوتا ہے اب یہ قطعی حکم عقلی اس امر کا موجب بنے گا کہ کلام کا ظہور اس معنی میں منعقد نہ ہو سکے کہ آنیوالا خود رب تعالیٰ ہے۔اسی طرح یہ آیت ہے:”اَلَّرحمنُ عَلَی العَرشِ استَوٰی”(سورہ طٰہٰ:آیت٥)اس میں بھی خداوند تعالیٰ کا عرش پر محدود ہونا لازم آئے گا اس لیے اس کا ظہور ”اللہ تعالیٰ کے عرش پر بیٹھنے”میں منعقد نہ ہو گا کیونکہ عقل کے حکم کے خلاف ہے اور تما م ایسی آیات جن میں ابتدائی ظہور حکم عقل کے خلاف ہوتا ہے وہ اسی قبیل سے ہوں گی۔ہماری اس بحث کے بعد یہ نکتہ روشن ہو گیا کہ جہاں حکم عقل اصول تفسیر میں سے ایک اصل ہے اور کتاب الہی کی آیات میں سے اللہ تعالیٰ کی مراد کو حاصل کرنے میں اس سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ،وہاں حکم عقل سابقہ دو امور سے مقدم حیثیت رکھتا ہے،عقل کے حکم کے سامنے ”ظہور اور قول معصوم”ہر دو کا راج نہیں چلتا.یہ ظہور پر اس لیے مقدم ہے کہ اگر خلاف ظہور پر حکم عقل موجود ہو تو ظہور منعقد ہی نہیں ہو سکتا.کیونکہ اس کو ایک قرینہ قطعیہ کا مقام حاصل ہے۔پھر قول معصوم پر اس کے تقدم کی وجہ یہ ہے کہ خود قول معصوم کی حجیت بھی حکم عقل تک منتہی ہوتی ہے اور وہ عقل ہی کے سہارے پر حجت ہوتا ہے لہذا کوئی بھی حقیقی قول معصوم قول عقل کے مخالف ہو نہیں سکتا اور اگر بظاہر کہیں یہ مخالفت نظر آئے تو وہاں سمجھ لینا چاہیے کہ دراصل یہ قول معصوم سے صادر ہی نہیں ہوایا معصوم کی مراد اس کے ظاہری معنی سے نہیں ہے .پس جب حکم عقل کتابِ خدا کو اپنے ظاہری معنی سے روک لیتا اور خلاف ظاہر کی طرف موڑ دیتا ہے تو اس کا ایک روایت کو ظاہری معنی سے موڑ کر خلاف ظاہر کی طرف لے جانا بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔ہماری ان معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ تفسیر کی بنیاد ان تین امور پر استوار ہو سکتی ہے .
باب تفسیر میں ان تین کے علاوہ کسی دیگر شے کی طرف استناد جائز نہیں ہے.ہاں باب الظواہر میں قضیہ کے صغریٰ کا اطمینان کر لینا ضروری ہے یعنی وہ ظہور کہ جس کا مرجع ارادہ استعمالیہ ہوتا ہے،کیونکہ واضح ہے کہ دونوں ارادوںکا تطابق ارادہ استعمالیہ کی تشخیص اور لفظ کے مدلول کے بارے میں تسلی کر لینے کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتا۔اب یہ طے کرنا پڑ ے گا کہ کسی شخص کے لیے ارادہ استعمالیہ کی تشخیص کا طریقہ یہ ہو گاعربی زبان سے مکمل طور پر آشنانہ ہو اور خود اہل زبان بھی نہ ہو جبکہ ادھر کسی مفسر یا کسی لغوی (زبان شناس) کے قول پر بھروسہ کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ ان دونوں کا قول نہ مفید یقین ہوتا ہے اور نہ ہی مفید اطمینان مگر(عرفی طور پر یہی علم کہلاتا ہے)لیکن ان دونوں کے قول کے حجت ہونے پر کسی قسم کی کوئی دلیل موجود نہیں،پس نتیجہ یہی ہے کہ اس وقت تک کسی کی تفسیر کی طرف رجوع کرنے کا کوئی فائدہ مرتب نہ ہو سکے گا،جب تک اس سے یقین حاصل نہ ہو یا یقین کے قائم مقام کوئی صورت بن سکے.بایں معنی کہ وہ کسی معنی میں لفظ کے ظہور کا موجب بن جائے یعنی معلوم ہو جائے کہ ارادہ استعمالیہ کے ساتھ یہی معنی متکلم کی مراد ہے ۔١۔ظاہر ٢۔قول ٣۔حکم عقل

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.