شب قدر میں کون سے امور مقدر ہوتے ہیں ؟

380

یہ بیان متعدد روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو کہتی ہیں کہ اسی رات میں انسان کے ایک سال کے مقدورات کی تعیین ہوتی ہے اور رزق ، عمریں اور دوسرے امور اسی مبارک رات میں تقسیم اور بیان کئے جاتے ہیں ۔ البتہ یہ چیز انسان کے ارادہ اور مسئلہ اختیار کے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی کیونکہ فرشتوں کے ذریعے تقدیر الہی لوگوں کی شائستگیوں اور لیاقتوں اوران کے ایمان اور تقوی اور نیت اعمال کی پاکیزگی کے ہو تی ہے یعنی ہر شخص کے لئے وہی کچھ مقدر کرتے ہیں جو اس کے لائق ہے یا دوسرے لفظوں میں اس کے مقدمات خود اسی کی طرف سے فراہم ہوتے ہیں اور یہ امر نہ صرف یہ کہ اختیار کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ۔ بلکہ یہ اس پر ایک تاکید ہے۔٢۔بعض نے یہ کہا ہے کہ اس رات کو اس وجہ سے شب قدر کہا جاتاہے کہ یہ ایک عظیم قدر و شرافت کی حامل ہے٣۔بعض نے یہ کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن اپنی پوری قدر و منزلت کے ساتھ ، قدر و منزلت والے رسول پر اور صاحب قدر و منزلت فرشتے کے ذریعے اس میں نازل ہوا ہے ۔٤۔یا یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک ایسی رات ہے جس میں قرآن کا نازل ہونا مقدر ہوا ہے۔٥۔یا یہ بیان ہواہے کہ جو شخص اس رات کو بیدار رہے تو صاحب قدر و مقام و منزلت ہو جاتاہے ۔٦۔ یا یہ بات کہی جاتی ہے کہ اس رات میں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ ان کے لئے زمین تنگ ہو جاتی ہے کیونکہ تقدیر تنگ ہونے کے معنی میں آ یا ہے’ و من قدر علیہ رزقہ'(طلاق٧)ان تمام تفاسیر کا ‘ لیلة القدر’کے وسیع مفہوم میں جمع ہونا پورے طور ے پر ممکن ہے اگر چہ پہلی تفسیرزیادہ مناسب اور زیادہ مشہور ہے [۱]۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[۱]۔تفسیر نمونہ ، دانشمندوں کی ایک جماعت،ج ٢٧،ص ١٨٧
…….
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.