علماء کی کریت اور عصمت کا جاہلانہ نظریہ

270

بعض افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ گناہ کی تاثیر ہر شخص میں یکساں نہیں ہے’ عام لوگوں پر گناہ اثرانداز ہوتا ہے اور ان کی عدالت و تقویٰ زائل کر دیتا ہے’ لیکن علماء پر وہ کارگر ثابت نہیں ہوتا وہ ایک قسم کی “کُریت” اور ایک طرح کی عصمت کے مالک ہیں جو فرق آب قلیل و آب کثیر میں ہے (وہی فرق عوام اور علماء میں ہے) کہ اگر آب کثیر ایک کُر کے برابر ہو تو وہ نجاست کے مل جانے سے نجس نہیں ہوتا’ نجاست اس پر اثرانداز نہیں ہوتی’ جبکہ اسلام’ کسی کے لئے کُریت و اعتصام کا قائل نہیں ہے’ یہاں تک کہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی۔ قرآن مجید کیوں کہتا ہے:
قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم
“اے پیغمبر! کہہ دو کہ اگر میں بھی گناہ کروں تو مجھے بھی یوم عظیم کا خوف ہے۔”
کیونکہ ارشاد ہوتا ہے:
لئن اشرکت لیحبطن عملک
“اگر آپ کے عمل میں شرک کا شائبہ آ جائے تو آپ کا عمل رائیگاں چلا جائے گا۔”
یہ سب ہمیں بتانے کے لئے’ یہاں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہے کہ کسی کو کُریت و اعتصام حاصل نہیں ہے (کہ چاہے جتنا گناہ کرتے جائیں ان کی عدالت و تقویٰ پر حرف نہ آئے گا)۔
قرآن مجید میں موسیٰ۱۱و عبد صالح کی جو داستان بیان ہوئی ہے وہ بڑی عجیب داستان ہے’ اس داستان سے ایک عظیم درس یہ ملتا ہے کہ تابع و پیرو صرف اسی وقت تک پیشوا و رہنما کی اطاعت اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر سکتا ہے’ جب تک پیشوا قانون کی خلاف ورزی نہ کرے’ اصول نہ توڑے’ برائی کی طرف مائل نہ ہو۔ اگر پیشوا اصول و قوانین کے خلاف اقدام کرے تو یہاں خاموشی ہرگز جائز نہیں ہے’ اگرچہ اس داستان میں عبد صالح کے اقدامات… خود ان کی نظر میں’ ایک وسیع تر افق پر نظر رکھنے اور موضوع کے باطنی پہلو کی جانب توجہ کرنے کے باعث… اصول و قوانین کے خلاف نہ تھے’ بلکہ فریضہ و ذمہ داری کے عین مطابق تھے’ لیکن نکتہ یہ ہے کہ موسیٰ۱۱نے صبر کیوں نہیں کیا؟ اعتراض کیوں کر بیٹھے؟ باوجودیکہ وہ وعدہ کرتے تھے اور خود کو تلقین کرتے تھے کہ اعتراض نہیں کریں گے لیکن پھر بھی اعتراض کر بیٹھتے تھے۔ موسیٰ۱۱کا کمزور پہلوان کا اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ موضوع کی حقیقت اور اس کے باطن سے ناواقفیت تھی’ اگر انہیں حقیقت کا علم ہوتا تو وہ اعتراض نہ کرتے اور وہ حقیقت کو جاننا بھی چاہ رہے تھے لیکن جب تک وہ ان اقدامات کو الٰہی اصول و قوانین کے برخلاف تصور کر رہے تھے’ ان کا ایمان انہیں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ اگر قیامت تک عبد صالح کے اقدامات جاری رہتے تو موسیٰ۱۱بھی اعتراض و تنقید سے باز نہ آتے’ مگر یہ کہ حقیقت موضوع سے باخبر ہو جاتے۔
موسیٰ۱۱ان سے کہتے ہیں:
ھل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا
“کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں آپ کی پیروی کروں تاکہ آپ مجھے تعلیم دیں۔”
عبد صالح کہتے ہیں:
لن تستطیع معی صبرا
“تم میری مصاحبت برداشت اور جو کچھ دیکھو گے اس کے متعلق خاموش نہیں رہ سکتے۔”
اس کے بعد خود ہی اس کی وجہ بتائے دیتے ہیں:
وکیف تصبر علی مالم تحط بہ خبرا؟
“جب تم کوئی (بظاہر) غلط کام ہوتا دیکھو گے اور اس کی حقیقت و راز سے بھی واقف نہ ہو گے تو کیسے خاموش رہ سکتے ہو؟”
موسیٰ۱۱نے کہا:
ستجد نی انشاء اللہ صابراً و لا اعصی لک امراً
“انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔”
موسیٰ۱۱نے یہ نہیں کہا کہ راز کا پتہ ہو یا نہ ہو میں صبر کروں گا’ بلکہ صرف اتنا کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ صبر و تحمل مجھ میں پیدا ہو جائے’ البتہ موسیٰ۱۱میں یہ تحمل اس وقت پیدا ہو گا جب وہ ان اقدامات کے راز سے واقف ہو جائیں گے۔
اس کے بعد عبد صالح نے موسیٰ۱۱سے مزید واضح اور پکا وعدہ لینا چاہا کہ راز معلوم ہو یا نہ ہو وہ اعتراض نہ کریں’ یہاں تک کہ وقت آنے پر میں خود اس کی وضاحت کروں:
قال فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شئی حتی احدث لک منہ ذکراً
“اگر میرے ساتھ آنا چاہتے ہو تو سب کچھ دیکھ بھی چپ رہنا ہو گا’ بعد میں خود توضیح دوں گا۔”
یہاں اب اس کے بعد آیت میں یہ نہیں ہے کہ موسیٰ۱۱نے یہ شرط مان لی’ آیت میں بس اتنا ہی ہے کہ اس کے بعد وہ لوگ چل پڑے اور ان کو سارے واقعات پیش آئے جنہیں آپ بارہا سن چکے ہیں۔
بہرحال میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ جاہل کا عالم کی تقلید کرنا سرسپردگی نہیں ہے’ ناجائز تقلید وہی ہے جو سرسپردگی کی شکل میں ہو اور یہ صورت اختیار کر لے کہ
“جاہل کو عالم سے بحث کرنے کا حق نہیں’ یہ باتیں ہماری سمجھ سے مافوق ہیں’ شاید یہ سب کچھ شرعی ذمہ داریوں کا تقاضا ہو۔”
میں نے یہ داستان امام جعفر صادق علیہ السلام کی تائید و شاہد کے طور پر پیش کی ہے۔
جائز تقلیدامام جعفر صادق علیہ السلام ناجائز و مذموم تقلید کے متعلق وہ جملے (جنہیں میں نقل کر چکا ہوں) بیان کرنے کے بعد جائز و ممدوح تقلید’ ان لفظوں میں بیان فرماتے ہیں:
فاما من کان من الفقہاء صائنا لنفسہ حافظاً لدینہ مخالفاً علیٰ ھواہ مطیعاً لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ
“اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو’ شیطان کی دعوتیں اور آوازیں اس کے قدم ڈگمگا نہ سکتی ہوں’ اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو’ دین کا سودا نہ کرتا ہو (شاید مراد یہ ہو کہ عوام اور معاشرہ میں دین کی حفاظت و بقاء کا انتقام کرتا ہو) نفسانی خواہشات کا مخالف اور الٰہی احکام کا مطیع و فرمانبردار ہو تو عوام ایسے شخص کی تقلید کر سکتے ہیں۔”
البتہ یہ نکتہ واضح ہے کہ نفسانی خواہشات کی مخالفت میں ایک عالم اور عام شخص کے درمیان فرق ہے’ کیونکہ ہر شخص کی خواہش نفس’ کچھ معین امور میں ہوتی ہے جوان کی خواہش نفس الگ ہے اور بوڑھے کی خواہش نفس الگ’ ہر شخص جس منصب’ جس طبقہ’ جس سن میں ہو اسی کے مطابق خواہش نفس رکھتا ہے۔ ایک عالم دین کی نفس پرستی کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ شراب پیتا ہے یا نہیں؟ جوا کھیلتا ہے یا نہیں؟ نماز و روزہ ترک کرتا ہے یا نہیں؟ اس کی ہوا پرستی کا معیار’ عہدہ و منصب کی خواہش’ شہرت و محبوبیت سے لگاؤ’ ہاتھ چموانے کی آرزو’ اپنے آگے پیچھے لوگوں کے چلنے کی تمنا’ اپنا اقتدار مضبوط بنانے کے لئے بیت المال کا استعمال’ اپنے ساتھیوں’ عزیز و اقرباء’ خاص طور سے اپنے صاحبزادوں کو بیت المال وغیرہ میں خرد برد کی کھلی چھوٹ اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ہیں۔
امام۱اس کے بعد فرماتے ہیں:
وھم بعض فقہاء الشیعة لاجمیعھم
“یہ اعلیٰ و ارفع اوصاف و فضائل صرف بعض شیعہ فقہاء میں پائے جا سکتے ہیں’ تمام شیعہ فقہاء میں نہیں۔”
یہ حدیث اپنے آخری جملوں کے لحاظ سے مسئلہ اجتہاد و تقلید کی ایک دلیل ہے۔
پس معلوم ہوا کہ اجتہاد و تقلید کی دو دو قسمیں ہیں’ جائز و ناجائز۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.