اصحاب امام زمانہ علیہ السلام کی تعداد
الف: امام زمانہ علیہ السلام کے اصحاب تین قسم کے ہیں:
۱):تین سو تیرہ (۳۱۳) افراد
۲):دس ہزار افراد
۳):تمام شیعہ اور مؤمنین
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب کی تعداد کے بارے میں تین قسم کی روایات موجود ہیں: (۱)۔ آئمہ اطہار علیھم السلام سے کئی احادیث ہم تک پہنچی ہیں کہ جن میں امام علیہ السلام کے اصحاب کی تعداد جنگ بدر میں پیغمبر کے اصحاب کی تعداد یعنی ۳۱۳ بیان کی گئی ہے۔( منتخب الاثر، صافی گلپائیگانی، فصل سابع، باب خامس، ۲۵احادیث اس بارے میں ہیں.) اہل سنت کے احادیثی مصادر میں بھی حضرت مہدی علیہ السلام کے اصحاب کی تعداد اتنی ہی بیان ہوئی ہے۔( مجمع الزوائد و منج الفوائد، نو ر الدین ھیثمی، ص۱۱۹،الحاوی الفتاوی، السیوطی ، ح۲، ص۱۵۰.)
(۲)۔ایسی احادیث بھی ہیں کہ جن میں اصحاب امام کی تعداد دس ہزار افراد ذکر کی گئی ہے۔( الغیبۃ،نعمانی،ص۳۰۷، بحار،ج۵۲، ص۳۰۶و۳۲۶.)
(۳)۔ بعض ایسی احادیث ہیں کہ جن میں کہا گیاہے کہ تمام شیعہ آنحضرت (ع) کے گرد جمع ہوں گے یا ان احادیث میں آیاہے کہ مشرق و مغرب سے لوگ ان کی تحریک کے ہمراہ ہوں گے۔( منتخب الاثر، صافیگلپائیگانی، فصل ۷، ب۶، ص۵۹۷.)
انہیں احادیث سے استفادہ ہونے والے قرائن اورشواہد کے پیش نظر ان احادیث کو جمع کرنے کا نتیجہ یہ نکلتاہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے لشکر کے کمانڈروں اور سپہ سالاروں کی تعداد، اہل بدر کی تعداد جتنے یعنی ۳۱۳ افراد ہوں گے۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: گویا میں کوفہ کے منبر پر کھڑے حضرت قائم کو دیکھ رہا ہوں جبکہ ان اصحاب ان کے گرد جمع ہیں، وہ زمین پر امام کے پرچم دار ہیں۔( کمال الدین، ص۶۷۳.)احادیث میں ان خاص اصحاب کو ‘ ‘نقباء‘‘ اور ” خواص‘‘ بھی کہا گیاہے۔( بحار،ج۵۳، ص۷.)یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی نے ان کی قابلیت اور لیاقت کی وجہ سے حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور سے پہلے منتخب کیاہے۔
امام علیہ السلام کے گرد سب سے پہلے جمع ہونے والے یہی خاص اصحاب ہیں جن کے ذریعے امام مہدی علیہ السلام کی عالمی دعوت شروع ہوگی ۔امام جواد علیہ السلام فرماتے ہیں: جب ۱۳ ۳ افراد امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ جائیں گے، تو اس وقت اللہ تعالی ان کا ظہور فرمائے گا اور جب یہ تعداد دس ہزار تک پہنچ جائے گی، تو اللہ تعالی کے حکم سے ان کا قیام شروع ہوگا۔( بحار،ج۵۲، ص۲۸۳، ح۱۰.)اس تحریک کے شروع ہونے کے بعد پور ی دنیا سے منجی عالم بشریت کا انتظار کرنے والے اور ظلم و ستم سے تنگ آنے والے بہت سے لوگ امام سے ملحق ہو ں گے۔( منتخب الاثر فصل۷، باب ۶، ص۵۹۷، اعلاحم و الفتن، سید ابن طاوؤس، ص۲۔۶۵.)
ب: یہ مختلف علاقوں سے ہوں گے امام تقی علیہ السلام سے ایک حدیث میں نقل ہواہے کہ زمین کے مختلف علاقوں سے ۳۱۳ افراد امام کے گرد جمع ہوں گے۔( کمال الدین، ح۲، ب۳۷ح۲.) البتہ بعض احادیث میں بعض شہروں سے آنے والے بعض افراد کے نام بھی لکھے گئے ہیں، لیکن ان افراد کے نام مبہم ہیں۔ مثال کے طور پر شہر طالقان سے محمد نامی فرد کہ کئی افراد کا نام محمد ہوسکتاہے، اس کے علاوہ بعض شہروں کے نام تبدیل ہوگئے ہیں۔ ان احادیث کی سند قابل اعتماد نہیں ہے، لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کس شہر سے کونسے لوگ ہوں گے، لیکن یہ چیز مسلم ہے کہ امام کے اصحاب مختلف علاقوں سے ہوں گے۔