ادیان کے درمیان گفتگو
ادیان کے درمیان گفتگو اس کی ضرورت ،اس کے آداب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
خلاصہوجوہ مشترکہ حاصل کرنے کے لۓ ادیان کے درمیان گفتگو کی بحث زمانہ قدیم سے جاری ہے زیر نظر مقالے میں اس بحث کو اسلام کی نقطہ نگاہ سے دیکھا گیا ہے سب سے پہلے اختصار سے گفتگوی ادیان کے معنی اور تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے بعد اسلام کی نظر میں گفتگو کی ضرورت پر توجہ کی گئي ہے اور قرآنی آیات کے مطابق اجمالا اس بحث کے فوائد کا ذکر کیا گیا ہے آخر میں چار شرطوں کا ذکر کیا گيا ہے جس کی پابندی کرنا گفتگو کے طرفداروں کے لۓ ضروری ہے ۔
مقدمہ :گفتگو کی تاریخ کاآغاز انسانی تاریخ سے ہوتا ہے 1 زمانہ قدیم سے ادیان کے درمیان گفتگو کا مقصد اپنے عقائدکو صحیح ثابت کرنا اور مخالفین کو شکست دینا تھا لیکن نۓ نظریات اور مشترکہ اقدار کے حصول کے لۓ گفتگو اور بحث جسے ان دنوں کافی پذیرائي حاصل ہوئي ہے 2اور ادیان نے اس پر کافی توجہ دینی شروع کی ہے اس کے بارے میں نہیں معلوم یہ عمل کب سے شروع ہوا ہے بڑے ادیان جیسے عیسائيت اور یہودیت کی تاریخ کے مطالعے سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہےکہ یہ ادیان صرف خود کو حق اور دوسرے کو باطل قراردیتے تھے قرآن ان کی اس روش کو اس طرح بیان کرتا ہے “قالت الیھود لیست النصاری علی شیئ وقالت النصاری لیست الیھود علی شیئ 4 بقرہ 113 یہود کہتے ہیں کہ کہ نصاری کا مذھب کچھ ٹھیک نہیں اور نصاری کہتے ہیں کہ یہود کا مذھب کچھ ٹھیک نہیں ۔ظہور اسلام اور اسکی تیز ترقی اور اس کے عالمی مذھب کے طور پر سامنے آنے کے بعداس طرح کے طرزتفکر اورغیر اصولی روش کوختم کرنے اور دینی فکر کو رائج کرنے میں مسلمانوں کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئيں اور اسلام نے حصول مشترکات کے لۓ دوسرے مذاھب کے ساتھ گفتگو اور بحث و مباحثہ کی شروعات کی اور اس روش کو دینی فکر پیش کرنے کے لے مناسب اور آزاد و بلاجبر روش قراردیا ۔اسلام نے گفتگو اور منطقی بحث پر بہت تاکید کی ہے جبکہ دیگر ادیان آسمانی میں یا ان کی مقدس کتب ،سیرت اور سنت علماء دین میں ایسی کوئي بات دیکھنے کو نہیں ملتی 5 گرچہ بعض ادیان جیسے عیسائيت کو تبلیغ اور نۓ پیرووں کو خود میں شامل کرنے کا دعوی تھا لیکن اس مذھب نے دوسرے مذاھب کو کبھی یہ حق نہیں دیا ۔
قرآن وگفتگو ۔قرآن میں موافق و مخالف کے ساتھ گفتگو کرنے کو ایک پسندیدہ روش قراردیا گیا ہے اور اس کی بہت سی مثالیں بھی ذکر کی گئی ہیں ،قرآن کے مطابق سب سے پہلا گفتگو کرنے والا خود خداوند متعال ہے ،اللہ نے مسئلہ خلقت آدم (ع) میں ملائکہ سے گفتگو کی ہے اور ملائکہ نے بھی اپنے نظریات بیان کۓ ہیں خدا نے اپنا مدعا پیش کرنے کے لۓ حضرت آدم کو ان کے سامنے پیش کیا تاکہ حضرت آدم ملائکہ کو اپنی صلاحیتوں سے آشنا کرسکیں اس طرح خدا نے خلقت آدم کے بارے میں ملائکہ کے اندیشوں کو غلط قراردیکر ان کی مکمل وضاحت فرمادی 6 ،خدا نے شیطان سے بھی گفتگو کی جس نے اس کے حکم سے سرپیچي اور بغاوت کی تھی اور اس کو قیامت تک مہلت دی 7 انبیاء نے بھی اپنے مخالفین سے گفتگو کی سب سے زیادہ حضرت نوح (ع) نے اپنی قوم سے گفتگو کی جن کی عمر ساڑھے نو سوسال بتائي جاتی ہے 8 اس بارے میں قرآن میں آیا ہےکہ یانوح قد جادلتنا فاکثرت جدالنا 9 اے نوح تم نے ہم سے بہت زیادہ بحث و گفتگو کی ہے ،حضرت نوح ع نے اپنے بیٹے کے بارے میں خداسے گفتگوکی 10 حضرت ابراھیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے بحث و گفتگو کرنے کے علاوہ قوم لوط کو عذاب سے معاف کرانے کےلۓ خداسے گفتگو کی 11 اسی طرح دیگر انبیاء الھی جیسے حضرت صالح ،لوط،موسی ،اور عیسی علیھم السلام ۔۔۔۔۔نے اپنی قوموں سے بحث وگفتگو کی ہے ۔رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام نے بھی مخالفین و موافقین سے بحث کی ہے ان بحثوں کا ایک اھم حصہ مرحوم شیخ طوسی نے اپنی کتاب “الاحتجاج” میں ذکر کیا ہے انہوں نے کتاب کے مقدمے میں جدال اور اسکی اقسام کی تفصیل بیان کی ہےاوررسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جدال احسن کے کہ جن کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے نمونے ذکر کۓ ہیں اس کے علاوہ معصومین علیھم السلام کی بحثوں کوجو روایات میں وارد ہوئي ہیں بالترتیب ذکر کیا ہے ۔بہرحال قرآن میں ایسی آیات ہیں جو بحث وگفتگو کو ضروری قراردیتی ہیں ان میں بعض آيات حسب ذیل ہیں ۔ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنہ و جادلھم بالتی ھی احسن ۔حکمت و پسندیدہ وعظ ونصیحت کے ذریعے اپنے پروردگار کی راہ کی طرف دعوت دو اور اچھے اور بہتر انداز میں ان سے بحث کرو،اس آیۃ شریفہ میں صراحتا بیان کیا جارہا ہے کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذمہ داری ہےکہ دین خدا کی طرف دعوت دینے اور دین کا دفاع کرنے کے لۓ حکمت و موعظہ حسنہ سے کام لیں 13ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ “ولاتجادلوا اھل الکتاب الا بالتی ھی احسن یعنی اھل کتاب کے ساتھہ صرف بہتر طریقے سے گفتگو اور جدال کریں 14 ۔اس آیت میں تمام مومنین سے خطاب کیا گیا ہے ۔سورہ آل عمران کی آیت چونسٹھہ میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا گیا ہے کہ اھل کتاب سے گفتگو کريں اور بحث کا اصلی محور بھی معین کردیاگیا ہے ارشاد ہوتا ہے قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بینا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولانشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون”اے رسول تم اھل کتاب سے کہہ دو کہ تم ایسی ٹھکانے کی بات پرتو آؤکہ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیزکو اس کا شریک قرارنہ دیں اور خدا کے سوا ہم میں سے کوئي کسی کو اپنا پروردگارنہ بناے پھر اگر اس سے بھی منہ موڑیں تو کہہ دوکہ تم گواہ رہنا کہ ہم خداکے فرمانبردارہیں ۔اس آيت میں مندرجہ ذیل نکات پر توجہ کرنا ضروری ہے ۔1 قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیناو بینکم آیت کے اس حصے میں خدا صریحا حکم دیے رہا ہے کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اھل کتاب کے ساتھہ باب گفتگو کھولیں اور گفتگو کا اصل محور توحید ہو جوکہ تمام انبیاء کی تعلیمات میں سرفہرست ہے 15 ۔2 خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی بحث سے گفتگو کا آغازنہ کریں بلکہ غیر خدا کی پرستش نہ کرنے سے بحث شروع کی جاۓ اس آيت میں نفی شریک خدا کی بات کی گئي ہے نہ کہ اثبات وجود خدا کی کیونکہ قرآن کریم کی نگاہ میں اثبات وجود خدا اور اس کاحق ہونا فطری امر ہے اور بنیادی طور سے قرآن کی نظر میں انسان(کچہ شرپسند معاندیں کے علاوہ ) خدا کی پرستش کے سلسلے میں شک وشبہ کا شکار نہیں ہوتے یہانتک کہ جب بت پرستوں کی بات ہوتی ہے انہیں بھی خدا شناس بتاتا ہے وما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی17 ( بت پرستوں کے حوالے سے بیان ہورہا ہےکہ )ہم بتوں کی عبادت نہیں کرتے مگریہ کہ وہ ہمیں خدا سے قریب کرتے ہیں ،ہمیشہ مشکل یہ رہی ہےکہ انسان شرک کوپہچانے میں ناکام رہا ہے انسان گرچہ شرک میں گرفتار ہوتارہا ہےلیکن اس سے غافل رہا ہے قرآن کے مطابق مایومن اکثرھم باللہ الا وھم مشرکون 18۔ وہ خدا پر ایمان تو نہیں لاتے مگر شرک کۓ جاتے ہیں ۔حضرت امام صادق علیہ السلام نے اس بارے میں کہ بنوامیہ کس طرح اسلام کے نام پر عوام پر حکومت کرنے میں کامیاب رہے فرمایا ہےکہ ” بنو امیہ نے عوام کے لۓ تعلیم ایمان پر پابندی نہیں لگائی تھی بلکہ تعلیم شرک پر پابندی لگادی تھی کیونکہ اگرعوام کو شرک پر مجبور کرتے تو وہ ہرگزاسے قبول نہ کرتے 19 ۔علامہ مجلسی اس حدیث کے ذیل میں کہتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام کی مراد یہ ہے کہ بنی امیہ ان چیزوں سے عوام کو آکاہ نہیں کرتے تھے جن سے انسان اسلام سے خارج ہوجاتا ہے کیونکہ عوام حقائق کوسمجھہ لیتے تو ان کی اور ان جیسوں کی ہرگز پیروی نہ کرتے 20 ۔3 بحث نفی پرستش غیر خدا میں دو بنیادی نکتے پوشیدہ ہیں جن کے بارے میں گفتگو کرنا لازمی ہے ۔الف:خداکا کوئي شریک قرارنہ دیا جاۓ (ایسا شرک جو تثیلث،یا خداکے لۓ بیٹا قراردینا ،وغیرہ )کیونکہ الوھیت ایسا مقام ہے کہ ہرشیئي ہرجہت سے اسی میں اپنی پناہ تلاش کرتی ہے ،اس کے بارے میں حیران ہے اورذات الوھیت ہی تمام موجودات کے کمالات کا باعث ہے لھذا لازم ہےکہ انسان خدا کی عبادت کرے اورچونکہ وہ واحد معبود ہے اس کا کوئي شریک نہیں ہوسکتا ۔ب:ولایتخذبعضنا بعضا اربابا،آیت کایہ ٹکڑا اھل کتاب کی روش کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اتخذو احبارھم و رھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم 21 ان لوگوں نے تو خداکو چھوڑکراپنے عالموں ،اپنے زاہدوں اور مریم کے بیٹے مسیح (ع) کواپنا پروردگار بناڈالا ہے،کیونکہ تمام انسان اپنے تمام ترامتیازات کے باوجود حقیقت واحدہ یعنی حقیقت انسانی سے تعلق رکھتے ہیں یہ ہرگزصحیح نہیں ہےکہ بعض انسان دوسروں پر اپنی ہواے نفسانی مسلط کریں اسی طرح بعض انسانوں کا کسی ایک انسان یا انسانوں کے گروہ کے سامنے سرجھکانا اس طرح سے کہ خاضع انسان برابری کے حقوق سے محروم ہوجاۓ اور فرد مطاع کے تسلط و تحکم کی وجہ سے اسے “رب”یا پروردگارمان لے اور تمام امور میں اس کی اطاعت کرے یہ سارے امور فطرت وانسانیت کی نفی کرنے والے ہیں ۔4 جیسا کہ آپ نے دیکھا اس بحث میں اصول کلی اور امور فطری سے جو کہ تمام ادیان کے درمیان مشترک ہیں گفتگو کی جارہی ہے ان آیات میں اسلام کی طرف (دین خاص )نسبت نہیں دی جارہی ہے ۔ 5 فان تولوا فقولوا اشھدو بانا مسلمون آیت کا یہ حصہ اھل کتاب سے بحث کے اختتام کی روش بیان کررہا ہے کہ اگر وہ تمہاری بات نہ مانیں، صداے فطرت کو نہ سنیں کہ جس کو مسترد کرنے کی کوئي دلیل نہیں ہے، تمام انبیاء الھی کی دعوت حق کو ٹھکرادیں تو تم یہ اعلان کردو کہ ہم نے حق کے اصول قبول کرلۓ ہیں اور ان پر کاربند ہیں اورتم اس پرگواہ رہنا (یعنی بغیر کسی جھڑپ اور نظریہ مسلط کۓ بغیر ان سے الگ ہوجاؤ) بالفاظ دیگر یہ کہا جاسکتا ہےکہ اگر تم ان اصولوں کو قبول نہیں کرتے تو ایسا نہیں ہے کہ ہم انہیں نظر اندازکردیں اور ان پر توجہ نہ کریں بلکہ ہم انبیاء ماسلف کی راہ پر چلنے والے اور دعوت فطرت پر لبیک کہنے والے ہیں اور تم ان امورکو ہمارے اعمال و افعال میں مشاھدہ کروگے ۔ان تمام امور سے ہمیں پتہ چلتا ہےکہ اسلام دین کامل و جامع ہونے کے باوجود اھل کتاب کے ساتھہ مفاھمت آمیز زندگی گذارنے کادرس دیتا ہے ۔
گفتگوکے فائدے1 دشمنی کا خاتمہ کرنا:انسانوں کے درمیان دشمنی و اختلافات کا ایک اہم سبب تسلط پسندی و استعمارہے ،اس صورت میں طاقت سے مقابلہ کرنے کے علاوہ کوئي اورچارہ نہیں رہتا احکام جھاد جودراصل دفاع ہی ہے اسی غرض سے واجب قراردیا گیا ہے ۔دشمنی کے دوسرے اوربھی اسباب ہیں جن میں مذھبی اعتقادی سیاسی اورسماجی اختلافات ہیں ان اختلافات کا سرچشمہ ذاتی نظریات و افکار ہيں ،ہر وہ نظریہ جو خود کوبرحق جانتا ہے اسے مخالف کے سامنے تعصب وتشدد کامظاہرہ کرنے کے بجاۓ منطق و استدلال سے کام لینا چاہیے کیونکہ عقیدہ امر قلبی ہے اور اسے طاقت کے ذریعے نہیں بدلاجاسکتا اور تجربہ سے بھی ثابت ہوچکا ہےکہ برحق امرکوبھی جب طاقت کے بل پر منوانے کی کوشش کی گئي ہے ناکامی ہوئي ہے اور اس کے خلاف رد عمل سامنے آیا ہے ،یقینا منطقی رویے سے دشمنیوں کو دوستی میں بدلاجاسکتا ہے قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتاہے کہ ولا تستوی الحسنۃ ولاالسیئۃ ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک و بینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم 23 بھلائي اور برائی کبھی برابرنہیں ہوسکتی تو سخت کلامی کا ایسے طریقے سے جواب دو جو نہایت اچھا ہو تو تم دیکھو گے کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا دلسوزدوست تھاآیت میں لفظ احسن استعمال کیا گیا ہے جس کی روسے مومنین پر واجب ہےکہ وہ اچھی تعبیریں استعمال کریں اورخندہ پیشانی سے مد مقابل سے پیش آئيں اسی طرح نازیبا اور اشتعال انگيز الفاظ سے پرہیزکريں تاکہ مدمقابل کو محبت کا احساس دلاسکیں یقینا یہ روش مد مقابل کو متاثر کرے گی ۔اسلام نے گفتگو کا دروازہ کھول کرتاریخ میں پیداہونے والی دشمنیوں کو جو ایک دوسرے پر باطل عقائد کے الزامات لگانے کی وجہ سے وجود میں آئي تھیں اور جن کی وجہ سے خونریزاور تباہ کن جنگيں ہوئي تھیں ختم کرنے کاراستہ صاف کردیا ہے گرچہ حکومتوں نے عوام پر تسلط جمانے کے لۓ دینی نظریات سے غلط فائدہ اٹھایا ہے ۔
2 ھدایت کے اسباب فراہم کرناحق تک پنچنا ،کج فہمی اور انحرافات سے نجات ہرانسان کی آرزو ہے ان اھداف کے حصول کے لۓ بعض اصولوں کی پابندی ضروری ہے ان میں ایک اہم ترین اصول حق پسندی کا جذبہ پیداکرنا ہے انسان اسی وقت حق تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جب وہ بغیر کسی تعصب ،پہلے سے فیصلہ کۓ بغیر، دیگر افکار ونظریات کا مقابلہ کرے اور ان کی تمام دلیلوں کا غور سے جائزہ لے تاکہ ان میں سے سب سے اچھی اورمتقن دلیل کو قبول کرسکے ،اگر خاص ذھنیت اورفیصلے کے ساتھہ مخالف نظریے کا سامنا کریےگا تو اس کے درست یا نادرست ہونے کے بارے میں صحیح فیصلہ نہیں کرپاۓ گا اورنہ حق تک پہنچنے کے اپنے مقصد ہی کو حاصل کرپاۓ گا قرآن کریم اس سلسلے میں فرماتا ہے فبشرعبادالذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ھداھم اللہ و اولئک ھم اولوالالباب اور تم میرے بندوں کوخوش خبری دیدو جو بات کو جی لگاکرسنتے ہيں اور پھر اس میں سے اچھی بات پرعمل کرتے ہیں یہی لوگ وہ ہیں جن کی خدانے ھدایت کی ہے اور یہی عقل مند ہیں ۔حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے روایت ہےکہ خدانے اس آیت میں غوروفکرکرنے والوں کوبشارت دی ہے 25 اوریہ بشارت مومنین سے مخصوص نہیں ہے ۔علامہ طباطبائي نے اس آیت سے دوطرح کی ھدایت کے معنی اخذ کۓ ہیں ایک ھدایت اجمالی ہے دوسری ھدایت تفصیلی ہے ،انہوں نے ھدایت اجمالی کو حق پسندی کے جذبہ سے تعبیر کیا ہے اور کہتے ہیں کہ یہ جذبہ ھدایت تفصیلی پر منتج ہوسکتاہے جوکہ تمام معارف الھی کو سمجھنا ہے 26 ۔
گفتگو کے لۓ ضروری شرطیںگفتگو کے طرفداروں کو بعض اصولوں کو قبول کرنا ہوگا یہ اصول حسب ذیل ہیں ۔الف :علم و آگہی ؛حکماء و فلاسفہ کے نزدیک انسان کی صفت نطق اسے دیگر حیوانات سے ممتاز کرتی ہے ،ان کی مراد انسان کی غور و فکر کرنے کی صلاحیت ہے جس کا وہ اپنی زبان کے ذریعے اظہار کرتاہے تاہم انسانوں کے درمیان ایسے لوگ بھی پاۓ جاتے ہیں جو اس ذاتی صفت کے برخلاف تعقل و تدبر کو کوئي اھمیت نہیں دیتے قرآن نے اس گروہ کو جانوروں سے بدتر اور انسانوں کے زمرے سے خارج قراردیا ہے ارشاد ہوتاہے “ان شرالدواب عنداللہ الصم البکم الذین لا یعقلون 27 بے شک زمین پر چلنے والے تمام حیوانات سے بدتر خدا کے نزدیک وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو کچہ نہیں سمجھتے ۔ظاہر ہے کہ ہم ان لوگوں سے مخاطب نہیں ہیں کیونکہ یہ بحث و گفتگو نہیں کرسکتے ۔ہمارے دینی منابع میں مختلف جھات سے علم پر تاکید کی گئي ہے ان امور پر ذیل میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ علم حاصل کرنا دیگر واجبات کی طرح واجب ہےرسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ ،ہرمسلمان فرد مرد یا عورت پر علم حاصل کرنا واجب ہے 28 ۔2کسی خاص زمانے تک محدود نہیں ہے ۔رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہےکہ اطلبوا العلم من المھد الی اللحد ،یعنی زگہورہ تاگور دانش بجوئي ۔3 کسی خاص مکان تک محدود نہیں ہے جہان بھی علم حاصل ہوسکتاہے اسے حاصل کرنا چاہیے ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہےکہ اطلبواالعلم ولو بالصین ۔علم حاصل کرو گرچہ تمہں چین جانا پڑے ۔
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام سے روایت ہے کہ “لو یعلم الناس مافی طلب العلم لطلبوہ ولوبسفک المہج وخوض اللجج 30 یعنی اگر لوگ یہ جانتے کہ علم حاصل کرنے میں کتنے فائدے ہیں توحصول علم میں لگ جاتے گرچہ انہیں اس راہ میں خون بہانا پڑتا یا سمندروں میں سفر کرنا پڑتا۔4کسی خاص شخص یا گروہ سے حاصل کرنے (سیکھنے) میں منحصر نہیں ہے ۔حضرت امام باقرعلیہ اسلام فرماتے ہیں کہ الحکمۃ ضالۃ المومن فحیثما وجد احدکم ضالتہ فلیاخذھا 31 حکمت مومن کی گمشدہ شیئي ہے جھان بھی اسے پاتا ہے حاصل کرلیتا ہے ۔دیگر روایات میں ولوعندالمشرک یا ولو من اھل النفاق کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی گرچہ وہ حکمت مشرک یا منافق کے پاس ہو مومن اسے حاصل کرلیتا ہے ،یہانتک کہ امام علیہ السلام سے یہ تعبیر بھی وارد ہوئي ہےکہ حق کو اھل باطل سے بھی قبول کرلیں لیکن باطل کو گرچہ اھل حق سے ہوقبول نہ کریں اس کے بعد حضرت ذیل حدیث میں فرماتے ہیں کہ خود سخن شناس بنیں 33 یعنی جس چیزکی اھمیت ہے وہ کلام ہے نہ متکلم ۔
ائمہ معصومین علیھم السلام نے جھل و نادانی کی مذمت میں نہایت اھم نکات بیان فرماے ہيں ۔
1 نادانی خواری و ذلت کی باعث ہے ۔امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ “اذاارذل اللہ عبدا حظر علیہ العلم” 33 اگر خدا کسی بندے کو ذلیل و خوارکرنا چاھتا ہےتو اسے نعمت علم سے محروم کردیتا ہے ۔مولائ کائنات حضرت علی علیہ السلام بعثت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کی خصوصیات کا ذکرکرتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ “واستخفتھم الجاھلیۃ الجھلاء،جس وقت رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئي زمانہ جاھلیت کے لوگوں کوان کی جھالت نے ذلیل و خوارکررکھاتھا۔یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ جب کسی قوم کی زندگي علمی اصولوں پر استوار ہوتی ہے اور اس کی زندگی کے تمام شعبوں میں علمی قوانین حکم فرماہوتے ہیں وہ ترقی کی منزلیں طے کرتی ہے لیکن جس قوم میں علم کا فقدان ہوتاہے وہ زندگي کی ہرضرورت کے لۓ دوسروں کی محتاج ہوتی ہے ۔
2 نادانی و جھل شرپسندوں کے تسلط کاباعث ہے ۔امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔1 وہ اھل علم و دانا لوگ جو خداشناس بھی ہیں۔2 وہ معلم جو راہ سعادت میں کوشاں ہے ۔3 اور ایسے پست لوگ جو ادھر ادھر بھٹکتے رہتے ہیں اور ہرآوازکے پیچھے دوڑپڑتے ہیں اور ہواکے ہرجھونکے کے ساتھہ بہنے لگتے ہیں، نہ انہیں علم و دانش کی روشنی سے کوئي فروغ حاصل ہواہے اورنہ ہی انہوں نے کسی مستحکم پناھگاہ کی راہ پکڑی ہے 35 ،یہ تیسرا گروہ نہ عالم ہے اور نہ حصول علم کی کوشش میں رہتا ہے بلکہ ہر منحرف وگمراہ کے پیچھے جاسکتا ہے ۔بہر صورت خدا نے مومنین کو مکلف کیا ہے کہ وہ جس چیزکے بارے میں نہیں جانتے اس پر اصرار نہ کریں اور اس کی پیروی نہ کریں ،ارشاد ہوتاہے لاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع و البصر والفوادکل اولائک کان عنہ مسؤلا36 اس چیز کی پیروی نہ کروجس کاتمہیں علم نہیں ہے کیونکہ کان آنکھوں اور دل کے بارے میں سوال کیا جاے گا ۔
اصول کافی میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہےکہ “لو ان العباد اذا جھلوا وقفوا ولم یجحدوا ،لم یکفروا”37 یعنی اگر عوام جہل و نادانی کی صورت میں عمل نہ کریں اور انکارنہ کريں تو کافر نہیں ہونگے ادیان کے درمیان گفتگو اس کی ضرورت ،اس کے آدابب:انسانوں کی برابری کااصول ۔آج کل یہ سوال برابر ذھنوں میں خطور کررہا ہےکہ کیا انسان ایک دوسرے سے بیگانے ہیں ؟ مثال کے طور پر یہ سوال کبھی اس طرح بھی پیش کیا جاتاہے کہ کیا یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ کسی دن سارے انسانون کے درمیان مفاھمت اور یکجھتی پیدا ہوجاے گي ؟اگر انسان ذاتا ایک دوسرے سے بیگانے نہ ہوں تو یہ امید کی جاسکتی ہے ۔اس سلسلے میں دو متباین نظریات ہیں ۔1 انسان ایک دوسرے سے بیگانے ہیں ؛کسی فلسفی نے” تھامس ھابز”(1679-1588 )کی طرح اس مسئلہ پر بحث نہیں کی ہے ان کے استدلال کے مطابق انسان ذاتا اپنے بنی نوع کا مخالف ہے اگر طاقتور مرکزی حکومت نہ رہے جو ڈنڈے کے زور پر حکومت نہ کرے توانسان مفاھمت آمیززندگی نہیں گذارے گا بلکہ شدید مسائل میں گرفتار نظرآے گا ۔مجموعی طورسے ھابزکے فلسفے میں اس بیگانگی کے دوپہلو ہیں ایک پہلو نفسیات سے مربوط ہے ،انسان محض اپنی ذاتی خود غرضی اور خود محوری کی بناپر ایک دوسرے سے بیگانہ ہے ہر انسان پہلے مرحلے میں صرف اپنی زندگي کی فکر میں ہوتاہے اور بعد کے مراحل میں دولت منزلت و مقام ومنصب کی فکرکرتاہے، ھابز کا خیال ہے کہ “انسان کسی دوسرے کو اھمیت نہیں دیتا مگر یہ کہ اس کے ھدف میں ممدو معاون ثابت ہویا اس کی راہ میں رکاوٹ ہو بنابریں انسان کی زیادہ ترتوجہ اپنی زندگی اور مقام پر ہوتی ہے ۔اس نفسیاتی پہلوکے تحت ایک امر ہے جسے ہم “بیگانہ ہستی شناسی کا پہلو “کہہ سکتے ہیں ،ہستی مجموعہ اشیاء متحرک سے عبارت ہے ۔
ہر حقیقت و واقعیت مشخص زمان و مکان سے تعلق رکھتی ہے اور تغیر ناپذیر قوانین طبیعیات اس پر حاکم ہوتے ہیں ہر انسانی فرد اس دنیا کا تعمیری اور مفید جزء ہے وہ نباتات و جمادات سے پیچیدہ تر ہے تاہم ان سے ماھیتا فرق رکھتاہے ،مادی اشیاء ایک دوسرے سے صوری فرق رکھتی ہیں ،انسان کو شفقت ،ھمدلی ،اور مشترکہ ھدف جیسے قیود متحد نہیں کرسکتے انسان صرف اس لحاظ سے یگانگت اور اتحاد کا حامل ہوسکتاہے کہ اسے ایک دیوار میں پتھروں کی طرح سے چن دیا جاۓ (38)یہیں سے اخلاقیات میں نسبیت پسندی کا نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ کسی بھی اخلاقی قدر کلی اعتبار کی حامل نہیں ہے بلکہ تمام اخلاقی اقدارکا اعتبار تہذیب و تمدن و فردی لحاظ پر منحصرہے ۔برن یونیورسٹی کے استاد “جان لڈ”اخلاقي نسبیت پسندی کی اس طرح تعریف کرتے ہیں “اخلاقی نسبیت پسندی ایک ایسا امر ہے جس کے تحت اخلاقی لحاظ سے صحیح وغلط اعمال الگ الگ ہوتے ہیں اور کوئي بھی عام اور مطلق اخلاقی معیار جو تمام انسانوں کے لۓ ہرزمانے میں لازمی ہو موجود نہیں ہے(39) روث بندیکٹ دوسرے الفاظ میں یہ کہتے ہیں کہ “ہر تہذیب و تمدن انسانی محرکات و بالقوہ اھداف کے عظیم مجموعہ سے ترکیب پاتی ہے ،ہر تہذیب میں اس کے خاص مادی وسائل و ذرایع اور ثقافتی خصوصیات سے استفادہ کیا جاتاہے اوریہ مجموعہ جس میں انسان کا ہر ممکن عمل شامل ہوسکتاہے اس قدر عظیم اور متضاد ہوتا ہےکہ کوئي ایک تہذیب اس کا یا اس کے بیشتر عناصر کا احاطہ نہیں کرسکتی بنابریں انتخاب شرط اول ہے (40)
2 :دوسرا نظریہ ہے انسانوں کی يگانگت کا ،بہت سے مفکرین کا کہنا ہےکہ انسان بنیادی طورسے ایک ہیں اس نظریے کے حامل مفکرین میں ارسطو سرفہرست ہیں ان کی نظر میں انسان اس پتے کی طرح ہے جو اپنی طبیعت کے لحاظ سے درخت کا حصہ ہے اور اپنے تمام وجود کے ساتھہ ناگزیر شہر کا حصہ بھی ہے ،ارسطو کہتے ہیں کہ وہ گوشہ نشین انسان جو معاشرے کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا یا وہ انسان جو خود کفیل ہونے کی وجہ سے اس مشارکت سے بے نیاز ہے وہ شہر کے کارآمد عناصر میں شامل نہیں ہے بلکہ حیوان ہے یا خدا ہے 41اس نظریے کے طرفداروں کا کہنا ہےکہ نسبیت پسندوں نے یہ دیکہ کرکہ مختلف تہذیبوں کے قواعد الگ الگ ہیں یہ غلط نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کسی بھی تہذیب کے قواعد دوسری تہذیب سے اچھے نہيں ہیں بلکہ کسی تہذیب کے قواعد کا دوسری تہذیب کے قواعد سے بہتر ہونے کا انحصاراخلاقی نظام کے اھداف پر ہے اس نظریے کے حامل افراد کا کہنا ہےکہ اخلاقی قواعد کا ھدف معاشرے کی بقا،انسانوں کے رنج و غم برطرف کرنا ،انسانی رشد وشکوفائی اور ان کے مفادات کے تصادم کو منصفانہ طریقے سے حل کرنا ہے یہ اھداف مشترکہ اصولوں کو جنم دیتے ہیں جودرحقیقت ثقافتی اختلافات کا سبب بنتے ہیں ان ہی اصولوں کی تفصیلات انسان شناس ماہریں نے بیان کی ہیں ۔اٹھارویں صدی کے فلسفی “ڈیوڈھیوم نے کہا ہے کہ انسانی سرشت تمام اعصارو امصار میں ایک ہی رہی ہے اورحال ہی میں اے او ولسن نے انسانی سرشت کی بیس خصوصیات شمارکی ہیں 42۔
3 :اسلام کا نظریہ ؛اسلام انسان کی کلی خصوصیات کے بارے میں یگانگي کا نظریہ رکھتا ہے و اخلاقی اصول کوثابت اور تمام انسانوں کے درمیان اور تمام زمانوں میں مشترک سمجھتا ہے گرچہ ممکن ہے بعض فروعات میں تبدیلیاں آئيں بنابریں انسان میں تبدیلیاں جو ایک مادی حقیقت ہے اقدار کی تبدیلیوں سے الگ مسئلہ ہے اور اگر ہم انسانی اقدار کو قابل تغیر اور نسبی جانیں تو ہمیں ہر گروہ ،ہر طبقے اور ہر آئيڈیالوجی کے حامل فرد کے لۓ الگ الگ اخلاق و اقدار کا قائل ہونا پڑے گا اس کے معنی یہ ہونگے کہ اخلاق کاسرےسے انکار کرکے اخلاقی اقدارکو بے بنیاد قراردیں ۔
آیت فطرت میں خدا ارشاد فرماتاہے “فاقم وجھک للدین حنیفا فطرۃ اللہ التی فطرالناس علیھا لاتبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لایعلمون اے رسول تم باطل سے کتراکر اپنا رخ دین کی طرف کۓ رہو یہی خدا کی بناوٹ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے خدا کی درست کی ہوئي بناوٹ میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا یہی مضبوط اور بالکل سیدھادین ہے مگر بہت سے لوگ نہیں جانتے ۔اس آيت میں صراحتا دین کو امرفطری قراردیا گیا ہے ۔علامہ طباطبائي اس آيت کے ذیل میں اس بات کی تفصیل بیان کرتے ہوۓ کہ انسان کی سعادت ان کے اختلافات کی بناپر اگر مختلف ہوتی تو ایک صالح اور واحد معاشرہ جو انسان کی سعادت کا باعث ہوتا وجود میں نہ آتا، اسی طرح اگر انسان کی سعادت سرزمینوں کے الگ الگ ہونے کی بناپر جھان وہ زندگي گذارتے ہیں مختلف ہوتی اور اجتماعی اداب کے مطابق ہوتی تو انسان نوع واحد کے زمرے میں نہ آتے بلکہ علاقوں کے مطابق الگ الگ نوعیت کے ہوتے اسی طرح اگر انسانوں کی سعادت زمانے کے لحاظ سے مختلف ہوتی تو انسان مختلف قرون و اعصارمیں مختلف نوع کے ہوتے اور ہرعصر کا انسان دیگر زمانے کے انسان سے الگ ہوتا۔اس طرح انسان کبھی کمال کی منزلیں طے نہ کرتا اور انسانیت ناقص رہ جاتی کیونکہ اس صورت میں کوئي نقص وکمال ہی نہ ہوتا کیونکہ اگر ماضی کا انسان آج کے انسان سے مختلف ہوتا تو اس کا نقص و کمال اسی سے مخصوص ہوتا نیز آج کے انسان کا نقص وکمال اس سے مخصوص ہوتا ،یہ بات یاد رکھنے کی ہےکہ انسان صرف اسی صورت میں کمال کی طرف بڑہ سکتا ہے جب جہت تمام زمانوں میں تمام انسانوں کے درمیان مشترک و ثابت ہوالبتہ ہماری اس بات کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہے کہ افراداور زمان و مکان میں اختلاف دینی سنن کی برقراری میں موثر نہیں ہے بلکہ فی الجملہ اور کسی حدتک موثر ہے 44 بنابریں علامہ طباطبائي کی نظر میں دودلیلوں کی بناپر 1 انسان کے اجتماعی ہونے 2 اور اس کی وحدت نوعی کی بناپرانسانیت حقیقت واحدہ ہے جو تمام افراد و اقوام کے درمیان مشترک ہے علامہ نے اس بحث کے اختتام پر تفصیلی دلائل ذکرکۓ ہیں اوران مسائل کی مکمل وضاحت کی ہے ۔اس سلسلے میں دیگر آيات جیسے آیۃ ذر 45 اور آيۃ عھد 46 و47 کی طرف مراجعہ کیا جاسکتا ہے یہ آیات انسانی وحدت اور اس کی فطرت واحدہ پردلالت کرتی ہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام نے فلسفہ بعثت انبیاء بیان کرتے ہوۓ فرمایا ہےکہ فبعث فیھم رسلہ و واتر الیھم انبیاءہ لیستادوھم میثاق فطرتہ و یذکروھم منسی نعمتہ و یحتجوا علیھم بالتبلیغ و یثیروا لھم دفائن العقول 48 وقفے وقفے سے ان (انسانوں ) کے درمیان انبیاءو رسل بھیجتارہا اوران کے ذریعے انہیں انتباہ دیا کہ عھد الست (میثاق فطرت ) پر قائم رہیں اور فراموش شدہ نعمت کی یاددھانی کراتے رہیں اور تبلیغ سے ان پر حجت تمام کریں اور سوئي ہوئي عقلوں کو بیدار کریں (نہج البلاغہ خطبہ اول )انبیاء الھی اس وجہ سے آے تھے کہ لوگوں کو یہ سمجھائيں کہ تمہاری روح ضمیراور باطن کی گہرائيوں میں عظیم خزانے دفن ہیں اور تم اس سے غافل ہو ،بنابریں حقیقت و دانائی ھنر وجمال خیر وفضیلت عشق و پرستش ان سارے امورکا سرچشمہ فطرت ہے یعنی انسان روح وبدن سے مرکب حقیقت ہے ۔
انسان کی روح الھی ہے (ونفخت فیہ من روحی )49 اور اس کا جسم عناصر طبیعی سے مرکب ہے جس کی بناپر وہ نیچر یا طبیعت سے وابستہ ہے اور عناصر غیر طبیعی اسے ماوراء طبیعت کی طرف لے جاتے ہیں ۔
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر کو اپنے معروف جملے میں انسان کی تعریف سے آگاہ فرماتے ہیں کہ “اما اخ لک فی الدین اور نظیرلک فی الخلق ” 50یعنی انسان یا تمہارے دینی برادر ہیں یا خلقت میں تمہاری طرح مساوی ہیں ،لھذا اس قدر غرور ناسازگاری اور اختلاف کس بناپر؟ کیا سب انسان ہمرہ و ہم قافلہ و ہمزاد نہیں ہیں ؟51 مجموعی طورسے یہ کہا جاسکتا ہےکہ انبیاء الھی کی تعلیمات فطرت بشری کے مطابق ہیں ۔
ج:انسانوں کے درمیان اختلافات مسلم حقیقت ؛انسان ایک نوع ہونے کے ساتھہ ساتھہ اختلافات کا بھی حامل ہے ہر انسان کو ایک جیسا نہیں سمجھاجاسکتا افراد بشر میں ظاہری و مادی اور معنوی و باطنی امور میں اختلافات پاے جاتے ہیں ۔
1ظاہری اختلاف :انسان جنسیت ،نسل رنگ و علاقے کے لحاظ سے ظاہری طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے البتہ یہ امور ایک دوسرےپر برتری اورامتیاز کے موجب نہیں ہوسکتے اور نہ ان سے انسان کی ماھیت میں کوئي فرق آتاہے ۔قرآن نے ان اختلافات کو قبول کیا ہے اور تکوینی و طبیعی امور قراردیا ہے ارشاد ہوتاہے “یاایھاالناس انا خلقناکم من ذکرو انثی و جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقیکم 52 اے لوگو ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیداکیاہے اور گروہوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکولیکن خدا کی نظر مین سب سے عزیز وہی ہے جوسب سے زیادہ متقی و پرہیزکار ہے ۔2 معنوی و باطنی اختلافمعنوی اختلاف میں متعدد امور دخیل ہوسکتے ہیں جیسے صلاحیتوں کا مختلف ہونا ،ایمانی درجات کا مختلف ہونا وغیرہ ۔صلاحیتوں کے مختلف ہونے کاسبب ذاتی ہوسکتاہے یعنی بعض افراد کی صلاحیتیں دوسروں سے کہیں بہتر ہوسکتی ہیں یا ممکن ہے کوئي اور سبب ہو جیسے آج کی دنیا میں پیداہونا کیونکہ آج کی دنیا کی ترقی و پیشرفت ماضی کے انسان کے لۓ قابل درک نہیں تھی یہی مسئلہ بعض دینی معارف کے سمجھنے میں بھی صادق آتاہے ،معصومین علیھم السلام سے مروی ہے کہ آخری زمانے میں یہ ممکن ہوسکے گا کہ لوگ سورہ توحید اور سورہ حدید کی ابتدائي آیات کو بھرپور طرح سے سمجھہ لیں گے بہر صورت اس طرح کے اختلافات گرچہ موجود ہیں لیکن دین نے تعلیمات کا ایک کم سے کم نصاب سب کے لۓ معین کیا ہے جس کا فہم و ادراک سب کے لۓ لازمی ہے اور ان اختلافات کو آزمائيش و حصول کمالات کا ذریعہ قراردیا ہے ۔
سورہ مائدہ کی 48 وین آیت میں ارشاد ہوتاہے ” ما وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواءھم عماجاءک من الحق لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھاجا ولوشاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ ولکن لیبلوکم فی اتیکم فاستبقوا لخیرات “اے رسول ہم نے تم پر بھی برحق کتاب نازل کی کہ جو کتاب اسکے پہلے سے اس کے وقت میں موجود ہے اس کی تصدیق کرتی ہے اور اسکی نگہبان بھی ہے تو جو کچہ تم پر خدا نے نازل کیا ہے اسی کے مطابق تم بھی حکم کرو اور جو بات خداکی طرف سے آچکی ہے اس سے کتراکے ان لوگوں کی خواہش نفسانی کی پیروی نہ کرو اور ہم نے تم میں سے ہرایک کے واسطے (حسب مصلحت وقت ) ایک ایک شریعت اورخاص طریقہ مقررکردیا ہے اور اگرخدا چاھتا تم سب کے سب کو ایک ہی شریعت کی امت بنادیتا مگر (مختلف شریعتوں سے ) خداکا مقصود یہ تھا کہ جو کچہ تمہیں دیا ہے اس میں تمہارا امتحان لے بس تم نیکیوں میں لپک کرآگے بڑہ جاؤ۔
اس آيۃ مبارکہ میں چند نکات پر توجہ کرنا ضروری ہے ۔1 شریعت ودین کے معنی راہ کے ہیں تاہم ظاہرقرآن سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ شریعت کے معنی اخص اور دین سے کم ہیں کیونکہ انبیاء کوگرچہ اصحاب شرایع مانتا ہے لیکن تمام انبیاء کا دین ایک ہی ہے جو اسلام ہے 53 ان الدین عنداللہ الاسلام54 خدا کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے ،یا ماکان ابراھیم یھودیا و لانصرانیا ولکن کان حنیفامسلما 55ابراھیم نہ تو یہودی تھے اورنہ نصرانی بلکہ نرے کھرے حق پرست (مسلم، فرمانبرداربندے ) تھے ۔
2 خدانے اپنے بندوں کے لۓ صرف ایک دین یعنی دین اسلام معین فرمایا ہے اور اسی پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اس ھدف تک پہنچنے کے لۓ اسے مختلف راہیں دکھائي ہیں اور انسانون کی مختلف صلاحیتوں کے مطابق ان کے لۓ مختلف آداب وسنن مقررفرمائے جنہیں ہم مختلف انبیاء کرام علیھم السلام کی شریعتوں سے تعبیر کرتے ہیں چنانچہ خدا کسی شریعت میں کسی حکم کی مصلحت کے منقضی(ختم) ہونے اور نئي مصلحت کے وجود میں آنے سے بعض احکام کو منسوخ فرمادیتاہے ۔
3:شرایع میں اختلافات زمانے کے گذرنے ،انسان کی صلاحیتوں میں پیشرفت وترقی کی بناپربھی وجود میں آتےہیں اور خدا کی طرف سے معین کۓ گۓ فرائض و احکام شریعت انسان کے لۓ زندگی کے مختلف موقعوں پرامتحان کے علاوہ کچہ نہیں ہیں بعبارت دیگر خدانے ہرامت کے لۓ الگ شریعت و راستہ قراردیاہے اور اگر خدا چاھتا تو تمام قوموں کو ایک امت میں شامل کردیتا اور اس کے لۓ ایک شریعت اورایک طریقہ بنادیتا لیکن خدانے متعدد شرایع مقررفرماۓ تاکہ تمہیں گوناگون نعمتیں عطاکرکے تمہارا امتحان لے یہاں نعمتوں کا مختلف ہونا امتحان کے مختلف ہونے کا مستلزم ہے اور یہ امتحان فرائض و احکام شرعی سے عبارت ہیں ۔روایات میں بھی صلاحیتوں اور درجات ایمان کے اختلاف پر توجہ کی گئي ہے ۔مرحوم کلینی علیہ الرحمۃ کافی میں زرارہ سے نقل کرتے ہیں کہ زرارہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور عرض کیا ،کیا ہم خود کو میزان قراردیں امام علیہ السلام نے فرمایا میزان کیا ہے ؟انہوں نے کہا جو بھی ہم سے موافق ہو خواہ علوی ہو یا غیر علوی (اسے ہم مسلمان اوراھل نجات کے طورپر دوست رکھیں )اور جو ہمارا مخالف ہو خواہ علوی ہو یا غیر علوی اس سے بیزاری کا اظہارکريں (گمراہ و اھل ھلاکت کے طورپر )اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا کیا خداکا کلام تمہارے کلام سے زیادہ صحیح نہیں ہے ؟ان لوگوں کا کیا ہوگا جن کے بارے میں خدانے فرمایاہےکہ “مگر جو مرد اور عورتیں اور بچے اس قدر بے بس ہیں کہ نہ تو (دارلحرب سے نکلنے کی) کوئي تدبیر کرسکتے ہیں نہ انہیں اپنی رہائي کی کوئي راہ دکھائی دیتی ہے 56،اوران لوگوں کا کیا ہوگا جو خدا سے امید رکھتے ہیں 57 ،اور ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے نیک کاموں کے ساتھ برے کام بھی کۓ ہیں 58 اصحاب اعراف کا کیا ہوگا 59؟اور مولفۃ القلوب کا کیا بنے گا ؟حماد اپنی روایت میں زرارہ سے نقل کرتے ہیں کہ زرارہ نے کہا اس موقع پر میرے اورامام علیہ السلام کے درمیان بحث ہونے لگی ہم دونوں کی آوازبلند ہوگئي یہانتک کہ گھر سے باہر بھی آوازسنی جاسکتی تھی 60 ۔اس حدیث میں امام علیہ السلام کی مراد یہ ہےکہ اچھايی برائي اور اھل بہشت ودوزخ ہونے کا معیار صرف شیعوں سے ہم عقیدہ ہونا نہیں ہے بلکہ امام نے فرمایا کہ وہ لوگ جو شیعہ نہیں ہیں اور قاصرہیں اور عنادبھی نہیں رکھتے اور وہ لوگ جن کے اوصاف قرآن میں ذکر کۓ گۓ ہیں وہ جنت میں جائيں گے کیونکہ خدانے انہیں معاف کرنے کا وعدہ کیا ہے اوران سے بیزاری کا اظہارنہیں کرنا چاہیۓ ۔حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ “آپ لوگوں کو بیزاری سے کیا سروکارہے ایک دوسرےسے بیزاری کا اظہارکیوں کرتے ہیں ؟بعض مومنین کو بعض پر فضیلت حاصل ہے اور کچہ لوگ کچہ لوگوں سے زیادہ نمازیں پڑھتے ہيں اور کچہ لوگوں کی بصیرت دوسروںسے زیادہ ہے اور یہی ایمان کے درجات ہیں 61 جس کے بارے میں خدانے فرمایاہے “ھم درجات عنداللہ 62 ۔حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا خدا کی قسم اگر ابوذرکو معلوم ہوتاکہ سلمان کے دل میں کیاہے تو انہیں قتل کردیتے جبکہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان عقد اخوت پڑھا تھا 63 ،بنابریں بحث و گفتگو میں ان تمام اختلافات کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور بےجا توقع بھی نہیں رکھنا چاھیۓ ۔ھاشم بن البرید سے روایت ہےکہ میں ،محمد بن مسلم اورابوالخطاب ایک جگہ جمع تھے ،ابوالخطاب نے سوال کیا کہ جو شخص امر امامت سے واقف نہ ہواس کے بارے میں تمہاراکیا خیال ہے ،میں نے کہا میرے خیال میں وہ کافرہے ابوالخطاب نے کہا جب تک اس پر حجت تمام نہ ہوجاۓ وہ کافرنہیں ہے اگرحجت تمام ہوجاے اور اس کے بعد اس نے امام کونہیں پہچانا تو کافرہے ،محمد بن مسلم نے کہا سبحان اللہ اگر امام کو نہ پہچانتاہو اور انکاربھی نہ کرتاہو توکس طرح سے کافر کہلاۓ گا ہرگزنہیں غیرعارف اگر منکرنہ ہوتو کافرنہیں ہے ھاشم بن البرید کہتے ہیں اس طرح ہم تینوں تین الگ الگ نظریات کے حامل تھے ۔وہ کہتے ہیں موسم حج آن پہونچا مکہ میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اپنی بحث کی تفصیل سے امام کو آگاہ کیا اور آپ سے جواب چاھا ،امام نے فرمایا کہ میں اس وقت تمہاراجواب دونگا جب تم تینوں ساتھ ہوگے اور آج کی رات منی میں جمرہ وسطی کے پاس میرے پاس آنا ،رات کو ہم تینوں امام کی خدمت میں حاضر ہوۓ ،امام علیہ السلام نے ایسے عالم میں کہ اپنے سینے سے تکیہ لگاۓ ہوۓ تھے سوال پوچھنا شروع کیا کہ تم لوگ اپنے ملازموں ،عورتوں اور اھل خانہ کے بارے میں کیاکہتے ہو؟کیا یہ لوگ وحدانیت خداکی گواہی دیتے ہیں ،میں نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا کیارسول کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں میں نے کہا جی ہاں ،آپ نے فرمایا کیا وہ لوگ تم لوگوں کی طرح امامت وولایت کی شناخت رکھتے ہیں ،میں نے کہا جی نہیں اس موقع پر امام علیہ السلام نے فرمایاکہ پس تم لوگوں کی نظر مین ان کا انجام کیا ہوگا ؟مین نےکہا جو شخص امام کو نہ پہچانے کافرہے امام نے فرمایا سبحان اللہ کیا تم نے کوچہ وبازار میں لوگوں کونہیں دیکھا سقاوں(بہشتیوں ) کو نہیں دیکھا ،میں نے کہا کیوں نہیں دیکھا ہے اور دیکھتےہیں آپ نے سوال فرمایا کیا یہ لوگ نمازنہیں پڑھتے روزہ نہیں رکھتے حج نہیں بجالاتے اورخدا کی وحدانیت و رسول خدا کی رسالت کی گواہی نہیں دیتے ؟میں نے کہا جی ہاں ،اس کے بعد امام نے فرمایا کیا یہ لوگ تمہاری طرح امام کو پہچانتےہیں ؟میں نے کہا جی نہیں ،تو امام نے فرمایا پس ان کا کیا ہوگا ؟میں نے کہا میرےخیال میں جو شخص امام کو نہ پہچانے وہ کافر ہے ،اس وقت امام نے فرمایا سبحان اللہ کیا تم کعبہ کے اطراف لوگوں کی بھیڑاور ان کے طواف کو نہیں دیکھہ رہے ہو؟کیا تم نہیں دیکھہ رہے ہوکہ اھل یمن کس طرح سے کعبہ کے پردوں سے چپکے ہوۓ ہیں ،میں نے کہا جی بے شک آپ نے فرمایا کیا یہ لوگ توحید و نبوت کا اقرارنہیں کرتے ؟نمازنہیں پڑھتے ؟روزہ نہیں رکھتے ،حج نہیں بجالاتے ؟میں نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے فرمایا کیا یہ لوگ تمہاری طرح سے امام کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا جی نہیں ،امام نے فرمایا ان لوگوں کے بارے میں تمہارا کیاعقیدہ ہے میں نے کہا میرے خیال میں جو لوگ امام کو نہیں پہچانتے وہ کافرہیں امام نے فرمایا سبحان اللہ یہ تو خوارج کا عقیدہ ہے ۔اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا کیا چاہتے ہومیں تمہيں حقیقت سے آگاہ کروں ؟ھاشم کہ جوجانتا تھا امام کافیصلہ اس کے عقیدہ کے برخلاف ہوگااس نےکہا نہیں ۔اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایاکہ تم لوگوں کے لۓ کس قدر بری بات ہے کہ جو چیزیں ہم سے (اھل بیت ) سے نہیں سنی ہیں اپنی طرف سے کہو،ھاشم نے بعد میں دوسروں سے کہا کہ میں یہ سوچ رہا تھاکہ امام محمد بن مسلم کی نظر کی تائيد کرکے ہمیں اس کی پیروی کا حکم دیں گے 64 ۔اسلامی فلاسفہ نے اس مسئلہ کو الگ صورت میں بیان کیا ہے تاہم جو نتیجہ اخذ کیا ہے پوری طرح وہی ہے جو ہم نے آيات و روایت سے استفادہ کیا ہے ۔صدرالمتآلھیں اسفار میں خیروشر کی بحث میں اعتراضات کا جواب دیتے ہوۓ کہتے ہیں کہ یہ اعتراض کہ کس طرح خیرشرپر غالب ہے ؟جبکہ انسان جوکہ اشرف کائنات ہے جب اسے دیکھتے ہیں کہ اکثر انسان عمل کے لحاظ سے برے اعمال کا شکار ہیں اور اعتقاد کے لحاظ سے عقائد باطل اور جھل مرکب میں گرفتار ہیں اوراس سے ان کی آخرت خراب ہوجاتی ہے اور مستحق شقاوت و عذاب ہوجاتے ہیں لھذا بنی نوع انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کا انجام شقاوت و جہنم ہے ۔صدرالمتآلھین اس اعتراض کے جواب میں کہتے ہيں کہ آخرت میں لوگ شقاوت و سعادت کے لحاظ سے اس دنیا میں صحت وسلامتی کے لحاظ سے ہیں کیونکہ اس دنیا میں مکمل صحت وسلامتی ،مکمل خوبصورتی،مکمل بیماری وغیرہ نہایت کم یا اقلیت میں ہے اور اکثریت متوسطین کی ہے جو نستبا ان صفات کے حامل ہیں اسی طرح آخرت میں “کملین “کہ جنہیں قرآن السابقون کے لقب سے یاد کرتاہے ان کی تعداد بھی اقلیت میں ہے اور اکثریت متوسطین کی ہے جنہیں قرآن “اصحاب الیمین “کہتاہے بنابریں دونوں صورتوں میں اکثریت رحمت خدامیں شامل ہے 65 بالفاظ دیگر اسلام اور فقہی لحاظ سے وہ مسلمان نہیں ہیں لیکن حقیقت میں مسلم ہیں یعنی حقیقت کے سامنے تسلیم ہیں اور اس سے عناد نہیں رکھتے ہیں ۔
د:آزادی فکر،آزادی انتخاب مذھب و طریقت :اس بارے میں ادیان الھی کا کہنا ہےکہ دنیوی زندگی کاھدف آخرت ہے ۔انسانوں کو اس دنیا مین اس طرح زندگی گذرانا چاہیے کہ آخرت میں سعادت و کامرانی حاصل ہوسکے اور اس ھدف کوپانے کے لۓ دینی اعقتادات کاحامل ہونا ضروری ہے تاکہ اعمال درگآہ خداوندی میں قبول ہوں اور عفو بخشش کے سامان فراہم ہوسکیں ورنہ محض عقل و اخلاقی اصولوں کی پیروی انسان کو سعادت مند نہیں بناسکتی ۔
اب جبکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ انسان کی سعادت کے لۓ خدا اورمعاد پر ایمان ضروری ہے تو انسان کو اس راہ پر گامزن کرنے کے لۓ کیا کرنا چاہيے ؟بعض لوگوں کا خیال ہے کہ طاقت کے بل بوتے پر انسانوں کو سعادت کے راستے پر لگانا چاہیۓ “اگوسٹین “اس نظریے پر استدلال کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ اگر یہ یقینی ہوکہ کوئي ایمان سے دستبردار ہونے کی صورت میں ابدی عذاب میں گرفتارہونے والا ہے تو بہتر یہی ہے کہ اسے طاقت کے بل بوتے پر مومن بنایا جاےتاکہ اسے ابدی سعادت حاصل ہوجاۓ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح سے طاقت کا استعمال پسندیدہ ہے کیونکہ اس سے انسان کو بہشت حاصل ہوجاتی ہے اور اگر انسان طاقت کے استعمال کے دوران مر بھی جاے تو یہ تکلیفیں آخرت کے عذاب کے مقابل کچہ بھی نہیں ہیں کیونکہ ان تکلیفوں کے ذریعے انسان کی آخرت سدھاری جاتی ہے ۔اس نظریے کے مقابل دوسرا نظریہ، یہ ہےکہ دین پر اعتقاد،بلا جبر یعنی ازروی اختیار ہے ،طاقت کے استعمال اور جبرسے کبھی بھی قلبی اعتقاد وایمان حاصل نہیں ہوسکتا ۔جان لاک کہتے ہیں کہ طاقت کا استعمال موثر واقع نہیں ہوتا کیونکہ طاقت سے بظاہر انسان کو اطاعت کرنے پرمجبور کیا جاسکتا ہے لیکن دل کی گہرائيوں سے اسے کسی عقیدے کے قبول کرنے پر ہرگزمجبور نہیں کیا جاسکتا،وہ کہتے ہیں کہ طاقت کے استعمال کا واحد نتیجہ نفاق تظاہراور ریاکاری کوفروغ دینا ہے بنابریں عقائد کے سلسلے میں طاقت کا استعمال اخلاقی لحاظ سے نقصان دہ ہے اور بدرجہ اولی راہ راست کی طرف ھدایت کا باعث نہیں بن سکتا اور نہ سعادت کا موجب ہے66 ۔قرآن میں آزادی کے بارے میں کئي آیات ہیں جن سے پتہ چلتا ہےکہ انسان اپنی آزادی کے سہارے اپنی راہ کے منتخب کرنے کاخود ذمہ دار ہے اور اسے اس بارے میں جواب دینا ہوگا ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے لااکراہ فی الدین قدتبین الرشد من الغی 67 دین مین کسی طرح کا جبرواکراہ نہیں ہے کیونکہ ھدایت کاراستہ گمراہی کے راستے سے الگ ہوچکاہے ۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دین سچا راستہ اورصراط مستقیم ہے ورنہ لااکراہ فی الدین کے کوئی معنی نہ ہوتے کیونکہ اکراہ و زبردستی کسی چیزکو اپنے قلبی لگاؤ کے برخلاف قبول کرنے وکوکہتے ہیں لیکن اگرکوئي فکر واضح اور سچائي پرمبنی ہوتو وہ انسان کو انتخاب واختیار کا موقع فراہم کرتی ہے اور ٹھوس دلیلوں اورمتقن گفتگوسے انسان کو ھدایت کی راہ دکھاتی ہے نیزاس نکتے پر بھی تاکید کرتی ہےکہ غلط راہ اور گمراہی کا انتخاب کرنے والااپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے اور اسے اپنے برے انجام کا منتظر رہنا ہوگا کیونکہ دین نے کسی طرح کی زبردستی نہیں کی ہے ارشاد ہوتاہے وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیومن و من شاء فلیکفر 68 اے رسول تم کہہ دو کہ سچی بات تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوچکی ہے جس جو چاہے مانے اور جوچاہے نہ مانے ۔اس آیت شریفہ سے یہ استفادہ ہوتاہےکہ ہرانسان اپنی راہ انتخاب کرنے کا خود ذمہ دار ہے ،ارشاد ہوتاہے ولوشاء ربک لآمن من فی الارض کلھم جمیعا ،افانت تکرہ الناس حتی یکونوامومنین 69 اگر تمہارا پروردگارچاھتا تو جتنے لوگ روے زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے توکیا تم لوگوں پرزبردستی کرنا چاہتے ہوتاکہ سب کے سب ایماندار ہوجائیں ۔ایک اور آيت میں ارشاد ہوتاکہ ولوشاء اللہ مااشرکوا وماجعلناک علیھم حفیظا وماانت علیھم بوکیل 70 اور اگر خداچاھتا تو یہ لوگ شرک ہی نہ کرتے اور ہم نے تمکو ان لوگوں کا نگہبان تو بنایا نہیں ہے اور نہ تم ان کے ذمہ دار ہو۔ان آيات سے یہ واضح ہوتاہے کہ اے پیغمبر تم لوگوں کی فکروں پر دباؤنہیں ڈال سکتے بلکہ اپنی فکرپیش کرواور اپنی رسالت کو اس کے نتائج کی پرواہ کۓ بغیر انجام دو ۔فذکرانماانت مذکر و لست علیھم بمسیطر 71 اے رسول تم بس نصیحت کرنے والے ہو تم لوگون پر داروغہ تو نہیں ہو۔ان تمام آیات سے فکروتعقل کی اھمیت واضح ہوتی ہے اوریہ بھی پتہ چلتا ہےکہ فکروخرد پر دباؤنہیں ڈالاجاسکتا کیونکہ یہ کام منطق و فکر سالم کے منافی ہے ۔بہر صورت خدا فرماتاہے کہ اگر ہم چاہتے تو سارے انسانوں کو ایک ملت میں شامل کردیتے لیکن ہم نے چاہا کہ ان کا امتحان لیں تاکہ وہ خود اپنی راہ پیدا کريں اور ولوشاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ ولایزالون مختلفین 72 اور اگر تمہاراپروردگارچاہتا تو بیشک تمام لوگوں کو ایک ہی قسم کی امت بنادیتا (مگراس نے نہ چاہا اسی وجہ سے )لوگ آپس میں پھوٹ ڈالاکریں گے ۔ولوشاء لجعلکم امۃ واحدۃ ولکن لیبلوکم فی مااتیکم 73 خدااگرچاہتاتو تم کوایک ہی امت بنادیتا تاکہ اپنی عطاکی ہوئي نعمتوں کے بارے میں تمہارا امتحان لے ۔ان تمام امور سے پتہ چلتاہےکہ اگردینداری جبراہوتو اسے دینداری نہیں کہ سکتے ،لوگوں کو مجبورکیا جاسکتاہے لیکن ان کی فکر کو بیڑی نہیں پہنائي جاسکتی اعتقاد کے لۓ ضروری ہےکہ دلیل و منطق پراستوار ہو البتہ امربالمعروف و نہی ازمنکرکا مسئلہ الگ ہے اس میں بھی ارشاد ہے اجبار نہیں ہے ۔
حاشیہ ۔1 سب سے پہلی گفتگو ھابیل و قابیل کے درمیان قربانی کی قبولیت یا عدم قبولیت کے بارے میں ہوئي تھی (سورہ مائدہ 27-30 )2 الامام الصدر و الحوار(کلمۃ سواء)الموتمرالدول ص953 دکتراحمد شلبی ،مقارنۃ الادیان ،الطبعۃ الثامنہ ج 1 ص274سورۃ بقرہ 1135 سورہ بقرہ6سورۃ بقرہ 32-307اسورہ اعراف 18-128 عنکبوت 149ھود 3210 ھود 47-4511ھود 7412نحل 12513 مفسرین کا کہنا ہےکہ صرف ایک خاص گروہ کو حکمت و برھان و دلیل عقلی وعلمی کے ذریعے دعوت ھدایت دی جاسکتی ہے لیکن بعض لوگ عقلی وعلمی استعداد کے حامل نہيں ہوتے ہیں انہیں وعظ ونصیحت و قصہ وحکایات کے ذریعے ھدایت کی جاسکتی ہے ،تیسراگروہ ایسا ہے جو صرف اعتراض کرنا جانتا ہے اس کے ساتھہ بحث ومباحثہ کرنا چاہیے لیکن اچھے اور بہتر طریقے سے ،مباحثہ کرتے وقت راہ حق وحقیقت سے خارج نہیں ہونا چاہیے بے انصاف حق کشی اور جھوٹ کا سہارانہی لینا چاہیے ۔14 عنکبوت 4815 نوح 21/شعراء130و151 /انبیاء54 /طہ47/زخرف63 /16 زخرف 87 /عنکبوت 61و63 /لقمان 25 /زمر38/زخرف 9/۔17 زمر3 ۔18 یوسف 10619 کلینی ،کافی ج4 ص 14320 مجلسی ،مرآۃ العقول ج11 ص234 ۔21 توبہ 31 ۔22 محمد ابوزہرہ ،تاریخ الجدل ۔23 فصلت 3424 زمر 1825 وصیتہ لھشام وصفتہ للعقل ان اللہ تبارک وتعالی بشراھل العقل والفہم فی کتابہ فقال فبشر عبادی۔۔۔۔۔بحارالانوار ج75 ص296 ۔کلینی کافی ج1 ص14 روایت 1226 المیزان ج23 ص 25127 انفال 2228 کلینی کافی ج1 ص3529 فیض کاشانی ،محجۃ البیضاء قم ج1ص21 ۔30 کلینی کافی ج1ص43 روایت 531 کلینی ایضا ج8ص16732 خذوالحق من اھل الباطل ولاتاخذالباطل من اھل الحق کونوانقادالکلام بحارالانوار ج2 ص96رایت 39۔33 نھج البلاغہ ،صبحی صالح حکمت 28934نہج البلاغہ خطبہ 9435 نہج البلاغہ حکمت 13936 اسراء 3637 اصول کافی ،چاپ آخوندی ج2ص38838 تفکرسیاسی ،گلن تیندر،ترجمہ محمود صدری ص2339 جانلد،نسبت گرائي اخلاقی ،ودسورث 1973 مجلہ نقد ونظر ش13-14 ص32740 الگوھاے فرھنگ نیویورک 1942 ،ص219 مجلہ نقد ونظر ش13-14 ص32741تفکرسیاسی گلن تندر ترجمہ محمودصدری ص 2342 مجلہ نقد ونظر ش 13-14 ص33543 سورہ روم 30 ۔44 ترجمہ تفسیر المیزان ج31 ص288-28745 سورہ اعراف 17246 يس 6047 سورہ نساء 148 نہج البلاغہ خطبہ اول49 ص 7250 نہج البلاغہ مکتوب 5351مولوی دیوان شمس52سورہ حجرات 1353 البتہ خدا کے سامنے تسلیم ہونے کے لۓ اس کے بھیجے ہوۓ احکام پر عمل کرنا ضروری ہے اور خدا کی آخری شریعت یعنی اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت پر عمل کرنا لازمی ہے ۔54 آل عمران 1955 آل عمران 6756 نساء 9857 یہ سورہ توبہ کی آیت 106 کی طرف اشارہ ہے58 سورہ توبہ کی آیت 102 کی طرف اشارہ ہے59 سورہ اعراف کی آيت 42 کی طرف اشارہ ہے60 کلینی کافی ج4 ص9261 کلینی ایضا ج3 ص76 ۔62آل عمران 16363 بحارالانوارج2 ص19064 کلینی ایضا ج2 باب الضلال ص 104 نقل ازکتاب عدل الھی شہید مطہری ص345 ۔65 نقل ازعدل الھی شہید مطہری ص 34966 تسامح آری یا نہ دفتر نخست ص 4967 بقرہ 25668 کھف 2969 یونس 9970 انعام ر10771 غاشیہ 21-2272 ھود 11873 آل عمران 48۔