رہبر قیام
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:”خداوند متعال حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کی عمر غیبت کے زمانے میں طولانی کر دے گااس کے بعد اپنی قدرت کاملہ سے ان کے چہرے کو چالیس سال سے کم سالہ جوان کی مانند بنا دے گا” امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : "جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو لو گ انکار کریں گے، اور کوئی ان کا پاس و لحاظ نہیں کرے گا؛ سوائے ان لوگوں کے جن سے خداوند عالم نے عالم ارواح میں عہد و پیمان لیا ہو، وہ ایک مکمل اور کامیاب اورمعتدل انداز میں آئے گا۔”
اس فصل میں،آپ کے جسمی اور اخلاقی خصوصیات و کرامات کے بارے میں گفتگو کریں گے۔الف) جسمی خصوصیات۱۔عمر اور چہرہ:حصین کا بیٹا عمران کہتا ہے میں نے رسول خدا سے کہا:اس شخص (مہدی) کا مجھے تعارف کرایئے؛ اور ان کے کچھ حالات بیان کیجئے ۔رسول خدا نے فرمایا:وہ میری اولاد میں سے ہے، ان کا جسم اسرائیل کے مردوں کے مانند سخت اور سڈول ہے؛میری امت کی مصیبت کے وقت قیام کرے گا؛ ان کے چہرے کا رنگ عربوں سے مشابہ ہے؛اس کا قیافہ چالیس ۴۰/سالہ مرد کے مانند ہوگا؛ صورت چاند کے ٹکڑے کے مانند چمکتی ہوگی؛زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا؛جب کہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی بیس سال تک حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے گا اورتمام کفار ممالک مانند قسطنطنیہ و روم و پر قبضہ جمائے گا ۔ (۱)امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں:”خداوند متعال حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ)کی عمر غیبت کے زمانے میں طولانی کر دے گااس کے بعد اپنی قدرت کاملہ سے ان کے چہرے کو چالیس سال سے کم سالہ جوان کی مانند بنا دے گا” (۲)امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں : "جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو لو گ انکار کریں گے، اور کوئی ان کا پاس و لحاظ نہیں کرے گا؛ سوائے ان لوگوں کے جن سے خداوند عالم نے عالم ارواح (۳)میں عہد و پیمان لیا ہو، وہ ایک مکمل اور کامیاب اورمعتدل انداز میں آئے گا۔”(۴)حضرت امیر الموٴ منین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”جب مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو آپ کا سن ۳۰/ اور ۴۰/سال کے درمیان ہوگا”(۵)مروی کہتا ہے میں نے امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا : ظہور و قیام کے وقت آپ کے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی کیا علامت ہے ؟امام نے فرمایا: "علامت یہ ہے کہ عمر تو زیادہ ہے لیکن چہرے سے جوان ہوں گے؛ اور اتنا جوان ہوں گے کہ دیکھنے والے کہیں گے کہ ۳۰/ یا چالیس سال کے ہیں ۔(۶)دوسری علامت یہ ہے کہ زمانے کی آمد و رفت اسے بوڑھا نہیں بنا سکے گی مگر یہ کہ ان کو موت آجائے "امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "یقینا ولی خدا ۱۲۰ / سال جناب ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح عمر کریں گے، لیکن چہرہ اور رخسار ۳۰/ یا ۴۰/ سالہ جوان کی طرح ہوگا”مرحوم مجلسی ۺ فرماتے ہیں : شاید اس سے مراد حکومت اور سلطنت کی مدت ہو یا یہ کہ حضرت کی عمر اتنی ہی تھی؛ اور لیکن اسے خدا وند عالم نے طولانی کر دیا ہے ۔لفظ”موفق "سے مراد اعضاء کا معتدل اور متناسب ہونا ہے اس سے کنایہ یہ ہے کہ (درمیانی سن کے ہوں گے )یا آخر عمر میں ایک جوان کی طرح ہیں۔(۷)ظہور کے وقت آپ کے سن کے بارے میں دیگر اقوال بھی پائے جاتے ہیں ،ارطات کہتا ہے: حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ۶۰/ سال کے ہیں۔(۸) ابن حماد کہتا ہے : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ۱۸ / سالہ ہیں ۔(۹)۲۔جسمی خصوصیات ابو بصیر کی زبانیابو بصیر کہتے ہیں : میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے عرض کی کہ میں نے آپ کے والد بزر گوار سے سنا ہے کہ امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کاسینہ کشادہ اور شانے چوڑے ہوں گے ؟حضرت نے کہا: اے ابو محمد! میرے والد نے رسول خدا کی زرہ پہنی تو انھیں بڑی ہو رہی تھی اور اتنی بڑی کہ زمین سے خط کر رہی تھی، میں نے بھی اسے پہنا تو مجھے بھی بڑی ہوئی، لیکن وہی زرہ حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے جسم پر بالکل رسول خدا کے جسم کی طرح مناسب ہوگی ،اور اس زرہ کا نچلا حصہ کوتاہ ہے اس طرح سے کہ ہر دیکھنے والا گمان کرے گا کہ اسے موڑ دیا گیا ہے "(۱۰)صلت کے بیٹے ریان کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا : کیا آپ صاحب امر ہیں ؟تو آپ نے کہا : میں امام اور صاحب امر ہوں، لیکن نہ وہ صاحب امر جو زمین کوعدل و انصاف سے بھر دے گا؛ جب کہ ظلم و ستم سے بھرچکی ہوگی میں کس طرح وہ صاحب امر ہوں گا جب کہ میرے جسم کی ناتوانی دیکھ رہے ہو؟ حضر ت قائم وہ ہیں کہ جب ظہور کریں گے، توبوڑھوں کی عمر ہوگی لیکن صورت جوانوں کی سی ہوگی ، قوی اور تندرست جسم کے مالک ہوں گے، کہ اگر کسی بڑے سے بڑے درخت پر ہاتھ ماردیں گے تو وہ جڑ سے اکھڑ جائے گا، اور اگر پہاڑوں کے درمیان آواز دیں گے تو چٹان چٹخ جائیں گے،اور پہاڑ نیز اپنی جگہ چھوڑدیں گے جناب مو سیٰ(علیہ السلام) کا عصا اور حضرت سلیمان کی انگوٹھی ان کے ساتھ ہوگی”(۱۱)ب)اخلاقی کمالاتحضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) دیگر معصومین( علیہم السلام) کی مانند مخصوص اخلاقی کمالات کے مالک ہیں، یعنی حضرات معصومین( علیہم السلام) کامل انسان اور بشریت کے لئے نمونہ اور اعلیٰ حد تک نیک اخلاق کے مالک ہیں۔حضرت امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) لوگوں میں سب سے زیادہ دانا ، حلیم، بردبار اور پر ہیز گار ہیں وہ تمام انسانوں سے زیادہ بخشش کرنے والے، عابد اوربہادر ہیں "(۱۲)۱۔خوف خداکعب کہتے ہیں : حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کا خدا کے سامنے خوف و ہراس عقاب کی طرح ہے۔(۱۳) یعنی جس طرح اپنے پیروں کے سامنے سر جھکائے رہتا ہےشاید کعب کی مرادیہ ہوکہ اگر چہ عقاب طاقتور پرندہ ہے لیکن عقاب کی تمام قوت کا دارو مدار پروں پر ہے اگرکسی وقت اس کے پر اس کی مدد نہ کریں تو آسمان سے زمین پر گر پڑے گا حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) بھی الٰہی قدرت مند رہبر ہیں، لیکن اس قدرت کا سر چشمہ اللہ کی ذات ہے ،اگر خداوند عالم کسی وقت آپ کی مدد نہ کرے، تو کار کردگی کی قوت باقی نہیں رہے گی، اس وجہ سے حضرت خدا وندعالم کے سامنے خاضع و خاشع ہیں۔ابن طاوٴوس کی نقل کے مطابق(۱۴) حضرت کا خشوع خدا وندعالم کے سامنے نیزوں کے دو طرف سے تشبیہ دیا گیا ہے نیزہ کی کار کردگی اور نشانہ پر اس کا لگنا دوکنارے سے تعلق رکھتا ہے جودو پروں کے مانند ہے کہ اگر ایک سرا ٹیڑھا ہواتو نیزہ خطا کرجائے گا۔شاید ا س سے مراد یہ ہو کہ حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کی قدرت خدا وند عالم سے ہے اور خد اوند عالم کی مدد سے تعلق رکھتی ہے۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں:”حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور میں کیوں جلد بازی کرتے ہو؟ خدا جانتا ہے کہ آپ کا لباس معمولی ،اور کھر درا، غذا نان جو، حکومت، تلوار کی حکومت ہے، اور موت تلوارکے سایہ میں ہے”(۱۵ )عثمان بن حماد کہتے ہیں :ہم امام جعفر صادق (علیہ السلام) کی بزم میں تھے کہ ایک شخص نے حضرت سے عرض کی: حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ایسا معمولی لباس پہنتے تھے جس کی قیمت چار درہم تھی لیکن آپ قیمتی لباس پہنتے ہیں ! حضرت نے جواب دیا: "حضرت علی (علیہ السلام) نے ایسا لباس اس زمانے میں زیب تن کیا ہے کہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں تھا، ہر زمانے کا عمدہ لباس اس زمانے کے لوگوں کا ہے ،جب ہمارے قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو حضرت علی (علیہ السلام) کا لباس پہنیں گے، اور انھیں کی سیاست اور ڈگر پر چلیں گے۔(۱۶)۳۔ لباسروایات میں حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کا مخصوص لباس مذکور ہے کبھی رسول اللہ کے لباس کی بات آتی ہے تو کبھی جناب یوسف (علیہ السلام )کے لباس کی گفتگو ہوتی ہے۔شعیب کے بیٹے یعقوب کہتے ہیں : امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:” کیا تم نہیں چاہتے کہ میں تمہیں وہ لباس دیکھاوٴں جو حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کے وقت زیب تن کریں گے؟” میں نے کہا: کیوں نہیں دیکھنا چاہتاہوں، حضرت نے صندوقچہ منگوایا، اور اسے کھولا، اورکرباسی(روئی کے دھاگہ سے بناہوا) لباس نکالا اور اسے کھولا تو اس کے بائیں طرف ایک خون کا دھبّہ تھا۔امام (علیہ السلام) نے کہا:” یہ رسول خدا کا لباس ہے، جس دن حضرت کے اگلے چار دانت (جنگ احد) میں شہید ہوئے تھے حضرت نے اسے پہنا تھا، اور حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) یہی لباس پہنے ہوئے قیام کریں گے، میں نے اس خون کو چوما اور آنکھوں سے لگایا، پھر حضرت نے لباس تہہ کر کے اٹھا لیا "(۱۷)مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: جناب یوسف کے لباس کے بارے میں جانتے ہو؟ میںنے کہا: نہیں تو حضرت نے کہا: "جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام ) کے لئے آگ روشن کی گئی، تو جبرئیل (علیہ السلام )نے ایک لباس لا کر انھیں پہنایا جو سردی و گرمی سے حفاظت کرتا ہو،اور جب ان کی وفات نزدیک ہوئی ،تو انھوں نے دعا کی اور جلد میں رکھ کر حضرت اسحاق کے بازو پر باندھ دیا،انھوں نے یعقوب(علیہ السلام)کو دیااور جب جناب یوسف (علیہ السلام ) پیدا ہوگئے تو حضرت یعقوب (علیہ السلام )نے یوسف(علیہ السلام) کے بازو پر باندھ دیا یوسف بھی حادثات سے گذرنے کے بعد مصر کے باد شاہ ہوئے،جب جناب یوسف نے اسے وہاں کھولا توحضرت یعقوب نے اس کی خوشبو محسوس کی، یہ خدا وند کی گفتگو قرآن میں ہے کہ یوسف کی یعقوب کے قول کے مطابق حکایت کرتا ہے،کہ میں یوسف کی خوشبو محسو س کر رہا ہوں میری طرف خطا کی نسبت نہ دو”(۱۸)یہ وہی لباس ہے جو جنت سے آیا ہے”میں نے عرض کیا: میں قربان جاوٴں ؛وہ لباس کس کے ذریعہ آیا ہے؟ کہا: اس کے اہل کے ہاتھ؛لباس ہمارے قائم کے ہمراہ ہے جب وہ ظہور کریں گے "پھر کہا:ہر نبی جسے علم و دانش یا کوئی اور چیز بعنوان ارث ملی ہے وہ محمد تک پہنچی ہے۔”(۱۹)۴۔اسلحہرسول خدا نے حضرت علی (علیہ السلام) سے کہا:” جب ہمارے قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے اور ان کی ماموریت کا وقت آجائے گا تو ان کے ساتھ ایک تلوار ہوگی جو انھیں آوازدے گی: اے خدا کے ولی ! قیام کیجئے اور اپنے دشمنوں کو قتل کیجئے "(۲۰)امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :” حضرت مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کے وقت رسول خدا کا وہی لباس زیب تن کریں گے جو انھوں نے جنگ احد میں زیب تن کیا تھا اور وہی زرہ و عمامہ بھی ہوگا ،جو آنحضرت نے پہنا تھا اور ذوالفقار جو رسول خدا کی تلوار ہے ہاتھ میں لیں گے، تلوار آٹھ ماہ تک بے دینوں کے کشتوں کے پشتے لگائے گی”(21)جابر جعفیۻ کہتے ہیں : امام محمد باقر(علیہ السلام) نے فرمایا:”امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ) مکہ سے رکن و مقام کے درمیان اپنے وزیر اور ۳۱۳ / اصحاب کے ساتھ ظہور کریں گے، اور رسول خدا کا دستور العمل ،پر چم اوراسلحہ ان کے ہاتھ میں ہوگا ،اس وقت منادی آسمان مکہ سے حضرت کے نام اور آپ کی ولایت کے ساتھ آواز دے گا ؛اس طرح سے کہ تمام اہل زمین اس نام کو سنیں گے، آپ کا نام حضرت محمد کا نام ہے”(۲۲)۵۔امام اور صورت کی شناختحضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ) کی ایک خصوصیت یہ ہوگی کہ انسان کی اندرونی حالت چہروں سے پہچان لیں گے، اور نیک افراد کو بد کردار سے جدا کردیں گے، اور فساد کرنے والوں کو اسی شناخت کے مطابق کیفر کردار تک پہنچا ئیں گے۔امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں :”جب حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے، تو کوئی ایسا نہیں بچے گا جسے حضرت پہچانتے نہ ہوں کہ یہ نیک انسان ہے یا فاسد و بد کردار ۔”(۲۳)نیز فرماتے ہیں :”جب قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) قیام کریں گے تو ہمارے دشمنوں کو ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، اور اس وقت ان کے سرو پیر کو پکڑیں گے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ انھیں قتل کر دیں گے "(۲۴)اسی طرح فرماتے ہیں:” جب قیام کریں گے تو دوست و دشمن کو اپنی قوت شناخت سے الگ کردیں گے "معاویہ دھنی کہتے ہیں : امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے آیہٴ مجرمین جس میں ہے کہ وہ اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے تو پھر ان کے سر اور پیر پکڑے جائیں گے ۔ (۲۵)امام (علیہ السلام) نے کہا: اے معاویہ! اس سلسلے میں دوسرے لوگ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا: ان کا خیال ہے کہ خدا وند عالم قیامت کے دن گناہگاروں کو ان کے قیافے سے پہچان لے گا، اور سر کے بال و پاوٴں پکڑ کر جہنم میں ڈال دے گا،امام (علیہ السلام) نے کہا: خداوند عالم کو کیا ضرورت ہے کہ انھیں ان کے چہروں سے پہچانے جب کہ اسی نے انھیں پیدا کیا ہے”میں نے کہا: پھر آیت کے کیا معنی ہیں ؟ آپ نے کہا: جب قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ) ظہور کریں گے تو خدا وند عالم انھیں چہرہ شناسی کا علم عطا کرے گا،اور حضرت حکم دیں گے کہ کافروں کو سر اور پیر پکڑ کر ان پر سخت ضرب لگائی جائے”(۲۶)حواشی(۱)ابن طاوٴس ،ملاحم ،ص۱۴۲(۲)کمال الدین ،ج۱، ص ۳۱۵؛کفایة الاثر، ص۲۲۴؛اعلام الوری، ص۴۰۱؛الاحتجاج ،ص۲۸۹(۳)سورہ اعراف، آیت ۱۷۲(۴)نعمانی ،غیبة، ص۱۸۸؛عقد الدرر، ص۴۱؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۸۷؛ینابیع المودة، ص۴۹۲(۵)احقا ق الحق، ج۱۹، ص۶۵۴(۶)کمال الدین ،ج۲ ،ص۶۵۲؛اعلام الوری ،ص۴۳۵؛خرائج ،ج۳، ص۱۱۷۰(۷)بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۸۳(۸)بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۸۳(۹)ملاحم ،ابن طاوٴس، ص۷۳؛کنزل العمال، ج۱۴، ص۵۷۶(۱۰)ابن حماد، فتن، ص۱۰۲(۱۱)بصائر الدرجات، ج۴، ص۱۸۸؛ اثبات الہداة ،ج۳، ص۴۴۰و۵۲۰؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۱۹(۱۲)کمال الدین، ج۲، ص۴۸؛اعلام الوری، ص۴۰۷؛کشف الغمہ، ج۳ ،ص۴۱۳؛بحار الانوار،ج۵۲،ص۳۲۲؛ وافی ،ج۲، ص۱۱۳؛اثبات الہداة، ج۳ ،ص۴۷۸(۱۳)ینابیع المودة، ص۴۰۱ ؛اثبات الہداة ،ج۳، ص۵۳۷؛احقا ق الحق ،ج۱۳، ص۳۶۷(۱۴)ابن حماد، فتن، ص۱۰۰؛عقد الدرر، ص۱۵۸؛ابن طاوٴس ،ملاحم ،ص۷۳؛متقی ہندی، برہان، ص۱۰۱(۱۵)ابن طاوٴس، ملاحم ،ص۷۳(۱۶)نعمانی، غیبة، ص۲۳۳ و۲۳۴تھوڑے سے فرق کے ساتھ ؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۵۴(۱۷)کافی ،ج۶،ص ۴۴۴؛بحا رالانوار، ج۴۱،ص۱۵۹،و ج۴۷ ،ص۵۵(۱۸)نعمانی، غیبة، ص۲۴۳؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۴۲؛حلیة الابرار ،ج۲ ،ص۵۷۵؛بحار الانوار،ج۵۲، ص ۵ ۵ ۳(۱۹)سورہ ٴ یوسف، آیت ۹۴(۲۰)کافی، ج۱،ص۲۳۲؛کمال الدین ،ج۲، ص۶۷۴؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۳۲۷(۲۱)کفایة الاثر، ص۲۶۳؛بحار الانوار، ج۳۶،ص۴۰۹ ؛عوالم ،ج۱۵،بخش ۳ ،ص۲۶۹؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۶۳(۲۲)نعمانی ،غیبة، ص۳۰۸؛بحار الانوار، ج۵۲،ص۲۲۳؛ارشاد، ص۲۷۵(۲۳)الاصول الستة عشر، ص۷۹؛اثبات الہداة، ج۳، ص۵۸۸؛بحار الانوار، ج۲۶، ص۲۰۹؛مستدرک الوسائل، ج۱۱، ص۳۸(۲۴)کما ل الدین، ج۲، ص۶۷۱؛خرائج ،ج۲، ص۹۳۰؛اثبات الہداة، ج۳، ص۴۹۳؛بحار الانوار، ج۵۱،ص۵۸و ج۵۲، ص۳۸۹(۲۵)احقا ق الحق،ج۱۳،ص۳۵۷؛ملاحظہ ہو:نعمانی، غیبة،ص۲۴۲؛کمال الدین،ج۲، ص۳۶۶؛ ارشاد، ج۵، ص۳۶؛ اعلام الوری ،ص۴۳۳؛کشف الغمہ، ج۳، ص۲۵۶(۲۶)(اس وقت)گناہگار افراد اپنی علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے تو پیشانی کے پٹے اور پاوٴں پکڑے (جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔سورہ ٴ رحمن۵۵، آیت ۴۱