مقام رسالت اور ہنر شعر

327

مقالہ ھذا میں عنوان کو مدنظر رکھتے ہوئے (مقام رسالت اور ہنر شعر) مطالب کوتین مرحلوں میں پیش کیا جائے گا۔مرحلہ اول :مقام رسالت ، مرحلہ دوم : ہنر شعراور تیسرے مرحلے میں ان دونوںکے درمیان نسبت و تلازم کو مد نظر رکھتے ہوئے نتیجہ پیش کیا جائے گا ۔
مقام رسالتمقام رساست بیان کرنے کے لیے مستقل کتاب درکار ہے نہ کہ فقط کسی ایک مقالہ کا صرف ایک حصہ ، لیکن یہاں پر مقام رسالت ، ہنر شعر کے مقابل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے لہذا انتہائی اختصار مقصود ہے تاکہ بوقت نتیجہ اور دوران نسبت و تلازم استفادہ کیا جاسکے۔رسالت ایک الٰھی منصب ہے اگر چہ مناصب الٰھی متعدد ہیں اور ان میںسے ایک کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہے جس کو علماء علم کلام نے مفصل ذکر کیا ہے لیکن یہاں پر فقط منصب رسالت ہی مراد نہیں ہے بلکہ مطلق منصب و عھدہ الٰھی مقصود ہے یعنی رسالت ،نبوت، اولوالعزم حتی امامت کو بھی شامل ہے یعنی ہر وہ عنوان کہ جو جحت الٰھی پر صادق آتاہے اور پھر یہ دیکھنا ہے کہ حجج الٰہی شاعر گذرے ہیں یا نہیں اور اگر گزرے ہیں تو پھر خصوصا حضرت پیغمبر اکرم ۖ سے ہی کیوں اس صفت کو مستثنی رکھا گیا ۔اور خصوصا یہ مطلب کہ شاعری ایک فن و ہنر ہے جبکہ رسالت وغیرہ خداوند عالم کی جانب سے ایک عھدہ و منصب وعنایت خاصہ ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے (اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ)(١) ۔خداوند عالم کی جانب سے انسانی ہدایت کے لیے اور اس کی طرف سے خلائق پر حجت کے طور پر آنے والی شخصیت کو نبی،رسول اور امام وغیرہ کے لقب و منصب سے یاد کیا جاتا ہے علماء علم کلام نے پروردگار کے مناصب کو چند صورتوں میں پیش کیا ہے۔
مناصب الٰہینبوت ، رسالت ، اولوالعزم ، امامت اور اس تقسیم پر خود قرآن کریم دلالت کرتا ہے لہذا ارشاد ہے ۔(وما ارسلنا من قبلک من رسول ولانبی)(٢)کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبوت اور رسالت دو الگ الگ عہدے ہیں ۔( فاصبر کما صبر اولواالعزم من الرسل)(٣)کہ یہ آیت اس بات پر لالت کرتی ہے کہ کچھ رسول اولوالعزم ہیں اورکچھ نہیں ہیں یعنی اولوالعزم رسالت سے جدا گانہ عہدہ ہے۔(قال انی جاعلک للناس اماما)(٤) یہ آیت اس بات پر دال ہے کہ امامت مذکورہ عہدوں سے جداگانہ عہدہ ہے۔ان مناصب میں چونکہ مرتبتا فرق ہے لہذا ان کی تعریفیں بھی مختلف ہیں اور پھر علماء نے بھی اپنے اپنے نظریہ و ذوق کے اعتبار سے ہر ایک کی جداگانہ تعریف کی ہے لہذا خلاصتا ان مناصب کی اس طرح تعریف کی جاسکتی ہے۔نبوت: ایسا عہدہ الٰہی ہے کہ جس پر فائز ہونے والا شخص خداوندعالم کی طرف سے خبر دیتاہو، اس پر شریعت و کتاب نازل نہ ہوئی ہو، اور حکم الٰہی کو سنتے وقت فرشتے کو نہ دیکھتا ہو،اور لوگوں کے لیے تبلیغ پر مامور بھی نہ ہو۔رسالت: ایسا عہدہ ہے کہ جو شخص اس عہدہ پر فائز ہو وہ حکم الٰھی کے نزول کے وقت فرشتے کو دیکھ سکتا ہو اور لوگوں کے لیے تبلیغ پر بھی مامور ہو ، خواہ اس پر کتاب و شریعت نازل ہوئی ہو یا نازل نہ ہوئی ہو۔اولوالعزم : رسالت سے ما فوق عہدہ ہے یعنی ہر وہ رسول اولوالعزم ہے کہ جو صاحب شریعت ہو۔امامت : یہ عہدہ اگر چہ مذکورہ عہدوں کی ردیف اور ان کے عرض ہی میں ہے اور آیت قرآنی کے لحاظ سے سب سے بلند مرتبہ ہے جیساکہ ارشاد رب العزت ہے (واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی قال لاینال عھدی الظالمین)(٥)۔ کہ حضرت ابراہیم کو تمام مذکورہ عہدے حاصل ہونے کے بعد منصب امامت پر فائز کیا گیا اور پھر آپ نے کسی بھی منصب کے حصول کے وقت اپنی ذریت کے لیے خواہش نہیں کی سوائے امامت کے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت مذکورہ تمام عہدوں سے بلند و بالا ہے ۔ لیکن دوسری طرف اس منصب کو مذکورہ مناصب کے عرض میں نہیں بلکہ طول میں رکھا جاتاہے چونکہ اس کی تعریف میں ‘نیابتا عن النبی’ کی عبارت لاتے ہیں یعنی امام وہ ہوتا ہے کہ جو نبی کا نائب ہو۔اس تقسیم بندی کے سلسلے میں علم کلا م میں مفصل بحث ہے اور احادیث بھی اس ماب میں بہت زیادہ ہیں ۔لیکن ہمارا نصب العین فقط تنہا منصب رسالت نہیں ہے بلکہ مطلق عہدہ و منصب الٰھی ہے لہذا یہاں پر لفظ رسالت تسامحا ذکر ہوا ہے لیکن ہم یہاں پر کلمہ منصب الٰھی یا حجت الٰھی سے تعبیر کریں گے ۔
شرائط منصب الٰہیشرط اول: ہر حجت الٰھی کے لیے معصوم ہو نا ضروری ہے ۔شرط دوم: حجت الٰھی اپنے زمانے میں سب سے افضل ہو۔شرط سوم : حجت الٰھی اپنے زمانے میں سب سے زیادہ عقل مند و ذہین و زیرک ہو ۔شرط چہارم : حجت الٰھی ہر طرح سے پاک و پاکیزہ ہو کہ اس سے لوگوں کی طبیعت متنفر نہ ہو۔شرط پنجم: حجت الٰھی کے ماں باپ کافر نہ ہوں ۔شرط ششم : حجت الٰھی صاحب معجزہ ہو۔یہ شرائط مستقل عنوان و گفتگو کے محتاج ہیں ان کی اثبات و نفی میں مفصل بحث ہے اوران شرائط پر متعدد لائل براہین علماء علم کلام نے تحریر فرمائے ہیں ۔صاحبان ذوق مفصل کتابوں میں مراجعہ کرسکتے ہیں ۔لیکن مذکورہ شرائط میں دو شرطیں ،شرط اول اور شرط ششم یعنی اول و آخر گو یا حجت الٰھی کا معصوم ہونا اور صاحب معجزہ ہونا بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں یوں تو کسی بھی شٔیکی ہر شرط ایک رکن وعلت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے فقدان سے معلول مفقود و معدوم ہوجاتا ہے یہی کیفیت یہاں پر بھی ہے لیکن اس باب میں یہ مذکورہ دو شرطیں کچھ زیادہ ہی خاص امتیاز کی حامل ہیں اس لیے کہ شاید ممکن ہے کہ باقی شرائط بحیثیت صفات کسی غیر حجت الٰھی میں پائی جاسکیں لیکن یہ دو شرطیں صرف حجت الٰھی ہی سے مخصوص ہیں لہذا ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ان دو شرطوں پر کچھ بیشتر توجہ کی جائے ۔
عصمتعصمت ایک فوق العادہ باطنی قوت اور ایک ایسی عظیم صفت کو کہتے ہیں کہ جس کے اثر سے موجودات عالم کی حقیقت اور دنیائے باطنی کا مشاہدہ ہوسکے اور اس کی وجہ سے خطا کاری اور گناہ کرنے سے بچا جاسکے ۔ یعنی صحیح ریاضت نفس سے ایک طاقت حاصل ہوجائے جس کے ذریعہ گناہ سے مصونیت مل سکے۔ اگر چہ اس صحیح ریاضت نفس کا منبع علم لدنی ہے کہ اسی سے تقوی اور مصونیت حاصل ہوتی ہے اور یہ علم لدنی جس کے پاس جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی عصمت کے درجہ میں بلند ہوگا۔چونکہ علم اکتسابی میں احتمال خطا ہے کہ جو خود خلاف عصمت ہے ۔مذہب امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حجت الٰھی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور اس مطلب پر چند دلیلیں قائم کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے :١ـ اگرحجت الٰہی معصوم نہ ہو تو تسلسل لازم آئے گا جو کہ عقلا محال ہے کیونکہ حجت الٰہی مخلوق کی ہدایت کرنے اور ان کی خطاکاریوں کو دور کرنے کے لیے معین کی گئی ہے اور اگر خود اسی میں خطا پائی جائے یا احتمال خطا ہو تو اس کا فائدہ کیا ہے ؟ پھر ضرورت ہوگی کہ کوئی اس کی رہنمائی کرے اوروہ بھی ایسی ہو کہ جس میں خطا کا احتمال نہ ہو اگر ایسی حجت الٰھی مل جائے کہ جو احتمال خطا سے منزہ ہو تو مقصود ثابت ، ورنہ پھر کسی اور رہبر کی ضرورت ہوگی اور اگر اس میں بھی خطا موجود ہو تو کسی اور کی تلاش اسی طرح تیسرے اور اس کے بعد چوتھے الی آخر، اور یہ قطعا درست نہیں ہے کیونکہ تسلسل لازم آئے گا کہ جس کا بطلان واضح ہے ۔٢ـ اگر حجت الٰھی معصوم نہ ہو تو اس کے قو ل پر وثوق و اطمینان نہیں ہوگا ۔کیونکہ ہوسکتا ہے غلط کہہ رہا ہو۔ لہذا حجت الٰھی کا بھیجنا عبث ہوجائے گا اور نتیجہ میں لوگ گمراہ ہوجائیں گے ۔٣ـ اگر حجت الٰھی معصوم نہ ہو تو امت اس کے قول و حکم سے انکار کرسکے گی اور یہ لزوم اطاعت کے منافی ہے کیونکہ قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ ارشاد خداوند ی ہے (اطیعواا للہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم ) یعنی اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ۖو اولی الامر کی اطاعت کرو ۔ یہاں اولی الامر کی اطاعت، رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر کی گئی ہے پس ضروری ہے کہ رسول و اولی الامر معصوم ہوں تاکہ ان کے قول و حکم پر عمل کرتے ہوئے کسی قسم کی خطا کا اندیشہ نہ ہو، لوگ ان کی اطاعت کرنے میں خدشہ نہ کریں ۔
اعجازاعجاز کا لغوی معنی عاجزکرنا ہے اور اصطلاح میں خلاف عادت کا م انجام دینے کو اعجاز کہا جاتا ہے اسی وجہ سے خلاف عادت چیز کومعجزے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ جس کام کے انجام دینے سے عاجز ہوں وہ واقع ہوجائے جیسے سنگریزوں کا حضرت پیغمبراکرم ۖسے کلام کرنا نباتات کا آپۖ کی رسالت کی گواہی دیتے ہوئے کلمہ پڑھنا ، حضرت موسی کے عصا کا مختلف صورتو ں میںتبدیل ہونا حضرت امام رضا کاقالین پر شیر کی تصویر کو اصلی شیر میں تبدیل کردینا وغیرہ۔
اثبات منصب الٰہیمنصب الٰہی کوئی امر محسوس نہیں ہے کہ اگر کوئی دعوی کرے تو اس کے دعوی کو حواس خمسہ سے احساس کیا جائے اور قبول کرلیا جائے بلکہ ایک امر معنوی ہے کہ جس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے لہذا منصب الٰھی کے دعوی کے اثبات کے لیے کم از کم دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔اول : یہ کہ اس سے پہلے خدا کی جانب سے کسی بھی وسیلے سے اعلان ہوا ہو یا اس سے پہلے نبی نے بتایا ہو،اسی کو علمی اصطلاح میں نص کہتے ہیں ،یعنی اثبات حجت الٰھی میں پہلی چیز نص کا ہونا ہے ۔دوم: یہ کہ اس کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر ہوتا ہو۔(٦)
ہنر شعرفن شاعری قدیم الایام ہی سے رائج ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ شعر گوئی کی صلاحیت انسان کی طبیعت میں گفتگو وسخن گوئی کے ہمراہ ہے ۔ اور بعض افراد کا نظریہ یہ ہے کہ شاعری انسان کی فطری غرائز میں سے ہے ، اور اس بات پر دلیل یہ ہے کہ ماں جب بچوں کو بہلانے کی خاطر لوریاں سناتی ہے تو وہ بھی کسی حد تک شعر ہی کی شکل میں ہوتی ہیں خواہ ان میں وزن و قافیہ کا خاص خیال نہ ہو اور بچے کو بھی ان لوریوں ہی میںآرام سے نیند آتی ہے اسی طرح خوشیوں میں گیت و ترانے اور مصائب و آلام میں گریہ و ز اری کو نظم و شعر کی شکل میں انجام دینا اس امر کی تائید ہے ۔لیکن شعر گوئی بحیثیت علم کس زمانے سے رائج ہوئی یہ اختلافی امر ہے ،انتہائی چیز کہ جو شاعری کے آغاز کے سلسلے میں پیش کی جاسکتی ہے وہ ارسطو کا تالیف کردہ رسالہ ہے کہ جس میں فن شاعری اور شعر و ادب کو بحیثیت ایک علم متعارف کرایا گیا ہے ۔اور اس کے بعد سے علماء علم منطق نے صناعات خمس میںایک صنعت ، شعر کو قرار دیا ہے اسی باب میںصنعت شعر کے متعلق گفتگو کی جاتی ہے ، اگر چہ اصطلاح علم منطق میں شعر کی تعریف ، اصطلاح علم عروض و قافیہ اور علم بدیع میں شعر کی تعریف سے متفاوت ہے ،جس کو بطور اختصار یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ شعر منطقیین کے نزدیک فقط ایک تخیل و تصورکا نام ہے اور علم عروض و بدیع میں تخیل ، ردیف و قافیہ و وزن کے ساتھ شعر کہلاتا ہے ۔اگر چہ ارتقاء شاعری نے دونوں کو مدغم کردیا ہے اور جہاں وزن و ردیف و قافیہ کے ساتھ شاعری ہورہی ہے وہاں آزاد شاعری میں فقط تخیل ہی تخیل ہے ۔
تعریف شعرمذکورہ مطالب کو مدنظر رکھتے ہوئے شعر کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ’ تخیل اور عطوفت بھرے الفاظ کو ایک خاص شکل میں باندھنا شعر کہلاتا ہے’ اور اگر اس تعریف میں شرط وزن و قافیہ کا اضافہ کردیا جائے تو نظم کو شامل ہوجائے گا ، اسی وجہ سے اہل منطق شعر کی دو قسمیں کرتے ہیں١ـ شعر ارسطوئی : کہ جس میں فقط تخیل ہو ۔٢ـ شعر عروضی : وہ کہ جس میں تخیل ، وزن و قافیہ کے ہمراہ ہو ۔شعر کی خاصیت، جلب توجہ و نفوس پر اثر انداز ہونا ہے اور اس کا اثر وزن و قافیہ کے ہمراہ زیادہ حاصل ہوتا ہے لہذا اہل منطق نے بھی شعر میں اوزان و قافیہ کا اضافہ کیا ہے شیخ الرئیس کی فرمائش کے مطابق اب ارسطوئی شاعری یعنی یونان میں بھی عرب زبان کی طرح اوزان شعر ایجاد کرلیے گیے ہیں ۔لہذا متاخرین اہل منطق اب علم منطق میں صنعت شعر کے متعلق یوں بیان فرماتے ہیں کہ شعر ایک ایسا خیال انگیز کلام ہے کہ جو موزون ،برابر اور قافیہ دار عبارت سے مرکب ہو ۔
فوائد شعرشعر کے بطور مختصر مندوجہ ذیل فوائد پیش کیے جا سکتے ہیں١ـ جنگ میں سپاہیوں کی سجاعت و دلیری کو ابھارنا ۔٢ـ کسی دینی یا سیاسی عقیدہ کے متعلق لوگوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنا ۔یاپھر فکری یا اقتصادی انقلاب کی خاطر لوگوں کے عواطف میں ہیجان پیدا کرنا ۔٣ـ اپنے بزرگوں و رہبروں کی مدح و ثناء کرنا یا دشمنوں کی مذمت و ہجو کرنا ۔٤ـ مقام خوشی و مستی میں ایجاد شادمانی، سرور و نشاط۔٥ـ مقام غم و آلام میں ایجاد غم و اندوہ اور گریہ و دلتنگی ۔٦ـ ایجاد اشتیاق ملاقات دوست یا تحریک شہوت جنسی ۔٧ ـ برے کاموں سے روکنا ، آتش شہوت کو خاموش کرنا یا تہذیب نفس اور اچھے کاموں کی انجام دہی کی تمرین و مشق۔علامہ جعفری اپنی کتاب حکمت و عرفان درشعر نظامی ‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ شعر ایک وسیلہ معرفت ہے اور اس کا کام فلسفہ و علم سے متفاوت ہے بلکہ برترین و والاترین آلہ معرفت ہے اور شعر کی تاثیر فلسفہ سے کہیںزیادہ ہے ۔جبران خلیل جبران کہتاہے کہ شعراء اپنے شعر کے ذریعہ ایک نیا منظر کھیچ سکتے ہیں اور فلاسفہ و عرفاء سے کہیں زیادہ دل انگیز نقشہ پیش کرسکتے ہیں حتی خود عرفاء بھی جب کوئی حال و کیفیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں ۔
نفوس میں شعرکی تاثیر کے اسبابشعر میں تصور و تخیل رکن و قوام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی نفوس میں اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے چونکہ تصور و تخیل اور تمثیل خیالات کوبھڑکاتی ہیں اور اعجاب پیدا کرتی ہیں کہ جو نفس کے لیے باعث شادمانی و موجب التذاذ ہوتا ہے ۔ لیکن اگر انسان ، تصور وتمثیل سے پہلے حوادث کی واقعیت کو مشاہدہ کرلے تو پھر یہ لذت اس قدر نہیں حاصل ہوسکتی ۔لیکن خود شعر میں تصور و تخیل تین چیزوں سے پیدا ہوتاہے ۔١ـ وزن : نفس کے حالات کو تغییر دینے میں ہر ایک وزن خاص اثر رکھتا ہے اور نفس میں انفعالی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔٢ـ عطوفت بھرے ا لفاظ : یوں تو ہر حرف میں ایک آہنگ و نغمہ پایاجاتاہے لیکن اگر یہی کسی خاص ترکیب کے ساتھ پیش کیا جائے تو اور بھی زیادہ انفعالی کیفیت ایجاد کرتا ہے ۔٣ـ مخیل ومصور کلام : یعنی خود کلام کے معانی خیالات کوبھڑکاتے ہیںاور یہ وہی شعر کا رکن و قوام ہے کہ جس سے شعر اصل میں شعر کہلاتا ہے اور جب یہ تینوں چیزیں شعر میں جمع ہوجائیں تو صحیح معنوں میں شعر شعر کہلاتا ہے۔(٧)بہر حال شعراء نے اسی جامع صنف کو اختیار کرتے ہو ئے اور خالص تخیل کی دنیا سے باہر نکل کر بہت سے حقائق کو منظوم کیا ہے کہ جس میں واقعیت ہی واقعیت ہے جیسا کہ بہت سے شعراء نے متعدد علوم کو نظم کیا مانند نصاب الصبیان ، الفیہ، منظومہ اور مختلف ارجوزہ وغیرہ۔ لیکن شاعر پھر بھی شاعر ہے لہذا کسی بھی حقیقت کو کتنی بھی سچائی سے نظم کرے پھر بھی اس میں کنایہ و استعارہ کے ذریعہ کمی یا زیادتی اور اپنا تصرف ضرور کرتا ہے اسی لیے قرآن کریم میں جہاں شعراء کی مذمت ہوئی ہے وہیں استثناء کے ذریعہ مدح بھی ہے ۔
زمانہ ء جاہلیت میں شعر و شاعر کا مقامزمانہء جاہلیت میں شعر و شاعری اس قدر اہمیت کی حامل تھی کہ اس کو شمشیر و بہادر پر بھی فوقیت دی جاتی تھی بلکہ شعر و شاعر ، خطابت و خطیب پر بھی مقدم تھے چونکہ شاعر قبیلہ و خاندان کی زبان تھا کہ جس کے ذریعہ اپنے قبیلے کی مدح ثناء ودشمن کی ہجو کرتے اور دوران جنگ رجز پڑھ کر لشکر کو ابھار تے ان کے احساسات کو بھڑکا کر کامیابی و فتح سے ہمکنار ہوتے لہذا اگر کسی قبیلہ میں کوئی شاعر نامور ہوجاتا تو اس کا جشن منایا جاتا تھااس دور کے حالات کو قلمبند کرنے والے مورخین نے شعر و شاعر کی اہمیت کے بارے میں یوں تحریر کیا ہے ‘زمانہء جاہلیت میں اجتماعی امور اور تہذیب و تمدن کی باگ ڈور شعراء کے ہاتھ میں تھی ، شاعر کی عظمت خطیب سے زیادہ تھی چونکہ شاعربہت جلدی احساسات و حوادث کو الفاظ میں پروکر دلوں پر نقش باندھ دیتے تھے اسی لیے شاعر وں کے لیے لوگوں میں خاص خیال و عقیدے پائے جاتے تھے کہ شاعر کے ساتھ کوئی بیرونی طاقت ہے جیسے جن یا شیطان وغیرہ کہ جو اس پر الہام کرتا رہتا ہے ۔
ظہور اسلام اور شعری ارتقائظہور اسلام کے بعد شعر و شاعری نہ یہ کہ زوال پذیر نہیںہوئی بلکہ اس کا مقام و مرتبہ بلند تر ہوا اور پیغمبر اکرم ۖ کی خاص توجہ کی خاطر شعر و شاعری کو خاص عروج حاصل ہوا چنانچہ تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ جنگ احد میں رسول اکرم ۖ نے تمام اسیروں کو فدیہ لے کر آزاد کیا جبکہ شعراء کو بغیر فدیہ کے صرف یہ کہہ کر آزاد کردیا کہ اسلام و مسلمین کی مذمت میں شعر نہ کہیں ، یا دوسری طرف کعب بن زہیر کہ جو مہدور الدم شاعر تھا اسلام کی مدح میں شعر کہنے کی خاطراسے معاف کردیا یا پھر بعض روایات میں جہاں پیغمبر اکرم ۖ نے تعلیم قرآن کا حکم دیا وہیں پر حفظ شعر اور شعر گوئی کی تشویق و ترغیب بھی فرمائی ہے ۔
قرآن کریم اور شعراسلام میں شعر کی بہت اہمیت ہے اور رسول اکرمۖ نے بھی اپنے معاصر شعراء کو کافی عزت و احترام بخشا ہے او ر جہاں پر قرآن کریم شعراء کو گمراہ و بے راہ معرفی کرتا ہے وہیں ایمان دار شعراء کو بہت سراہتا ہے اور ان کی تمجید و تکریم کرتا ہے۔لہذا ارشاد ہوتا ہے(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملو االصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )(٨)۔ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی خیال میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے ہیںجو کرتے نہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔
احادیث شریفہ اور شعرجس طرح قرآن کریم شعر وشاعر ی کی مطلق مدح بھی نہیں کرتا اور نہ ہی مطلقا تایید بلکہ ایک طرف جہاں شعراء کو گمراہ و بے راہ اعلان کرتا ہے تو دوسری طرف ایمان دار شعراء کی تمجید و تکریم کرتا ہے ۔ اسی طرح معصومیں علیہم السلام سے مروی احادیث شریفہ میںبھی کہیں شعرو شعراء کی خیال پردازی کفر آمیزی اور لغویات پر مذمت کی توکہیںشعر کو تبلیغ دین کا بہترین ذریعہ قرار دیا اورمؤمنین شعراء کی مدح،تشویق و ترغیب فرمائی ہے ۔ حضرت رسول اکرمۖ نے ایک مسلمان شاعر کے کفار کی ہجو کرنے پر اس طرح فرمایا (والذی نفس محمد بیدہ فکانکم تنحضونھم بالنبل) (٩)یعنی اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے اس طرح کے اشعار کہہ کر گویا تم دشمنوں پر تیراندازی کر رہے ہو۔اور دوسرے مقام پر ایک مسلمان شاعر سے مخاطب ہوئے اور فرمایا ( اھجھم فان جبرئیل معک)(١٠) دشمنوں کی ہجو کرکہ بیشک جبرئیل تیرے ساتھ ہے۔بلکہ حضرت رسول اکرم ۖ نے اسلا م کی حمایت اور دشمن و کفار کی مذمت میں شعر کہنے کو جہاد سے تعبیر کیا ہے لہذا جب سورہ شعراء کی آیات نمبر٢٢٤ـ٢٢٧(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ) نازل ہوئیں تو شاعر صحابہ جناب کعب بن مالک اور حسان بن ثابت انصاری وغیرہ روتے ہوئے خدمت حضور انور میں تشریف لائے اور اپنی شعر و شاعری کے متعلق ان آیات کے ذیل میں حکم معلوم کیا تب آپ نے فرمایا ( ان المؤمن یجاھد بنفسہ وسیفہ و لسانہ)(١١)مؤمن جان، شمشیراور زبان سے جہاد کرتا ہے گویا شاعری اسلام کی خدمت کے لیے ہو تو جہاد باللسان ہے ۔اسی طرح آئمہ معصومین علیہم السلا م نے بھی اپنے معاصر شعراء کا خاص خیال رکھا اور عملی طور پر شعراء کو بلاکر ان سے کلام سننا اور ان کو ہدایا و تحایف پیش کرنا خصوصا آئمہ معصومین علیہم السلا م کے معاصر شعراء کے مراثی و مناقب بہت مشہور ہیں جیسے دعبل خزاعی کا امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں آکر مرثیہ پڑھنا اور امام زین العابدین علیہ السلام کا فرزدق شاعرکو منقبت و قصیدہ خوانی پر انعام پیش کرنا وغیرہاور ان کے علاوہ متعدد احایث معصومین علیہم السلا م سے مروی ہیں کہ خدمت، تبلیغ دین اور منقبت اہل بیت علیہم السلا م میں شعر کہنا اس قدر ثواب و فضیلت رکھتاہے کہ ہر ایک بیت وشعر پر جنت میں ایک گھر کا وعدہ فرمایا ہے ۔
پیغمبر اکرم ۖ کو شاعر کہنے کے اسباب ؟یوں تو ہر چیز کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے اور پیغمبر اکرمۖ کو بھی شاعر یا ساحر کہنے کا بھی کوئی نہ کوئی فلسفہ و سبب ضرور ہے لیکن جو متفق علیہ قول ہے وہ یہ ہے کہ کفار و مشرکین اپنے زخم دل کے مرحم کے لیے یہ تہمتیں لگاتے اور اس خیال میں خوش رہتے کہ یہ ایک شاعر ہے کہ جو آخر کا ر فوت ہوجائے گا اور اس نام و نشان بھی دوسرے شاعروں کی طرح مٹ جائے گا ۔ لہذا آپ کے ساحر ہونے کے متعلق بھی ولید بن مغیرہ نے جب اپنی قوم سے قرآن سمجھنے کی مہلت مانگی اور جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو پیغمبر اکرم ۖ کو ساحر بتا دیا اور اس پر یہ دلیل دی کہ جومحمد ۖکے کہنے پر آگیا اوراس کا دین اختیارکرلیا وہ اپنے قوم و قبیلہ اور عزیز و اقارب کو چھوڑدیتا ہے لہذا یہ سحر و جادو نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ؟! ۔اسی طرح آپ پر شاعر ہو نے کی تہمت لگانے کا قضیہ ہے چونکہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت ، سلاست و روانی ، معانی وبیان اور استعارہ وکنایات ان کی سطح سے بلند اور خود انہی کے اعتراف کے مطابقمافوق قول بشر تھا اور اس زمانے میں لوگ شعراء کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ان پر کوئی جن یا شیطان سوار رہتا ہے کہ جو ان پر یہ اشعار القاء کرتا ہے اسی جن یا شیطان کی وجہ سے شاعر کو مافوق طبیعت بشری جانتے تھے جیسا کہ تاریخ ادبیات عرب میں موجود ہے اور بعض مورخین نے تو مفصلا اس دور کے شعراء کے جنوں یا شیاطین کے نام بھی تحریر کیے ہیں مثلا اعشی کے شیطان کا نام مسحل تھا ، امرء القیس کے شیطان کا نام لافظ تھا اور عبید بن ابرص کے شیطان کا نام ہبید تھا وغیرہ۔(١٢)لہذا قریش پیغمبراکرمۖ کی زبان مبارک پر جاری کلام الٰھی کو مافوق بشر جانتے ہوئے کسی جن یا شیطان کی طرف نسبت دیتے کہ آپ پر بھی کوئی جن یا شیطان ہے کہ جو آپ پر یہ کلام القاء کرتا ہے (نعوذ باللہ) ۔
حضرت پیغمبراکرمۖ شاعر نہیں ہیںقرآن کریم نے شعر و شاعری کو مطلقا برا نہیں کہا ہے بلکہ اہل ایمان شعراء کی مدح کی ہے لیکن پھر بھی حضور انور ۖ کے شاعر ہونے سے صراحتا انکار کرتا ہے اورخود قرآن کریم کے شعر ہونے کا بھی منکر ہے لہذا ان آیات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ جو قرآن کریم کے شعر اور پیغمبر اکرم کے شاعر ہونے سے صراحتا انکار کرتی ہیں۔قرآن کریم نے شعر و شاعری کے متعلق اور اس سلسلے میں کہ نہ قرآن شعرہے اور نہ پیغمبر اکرم ۖ شاعر چھ سوروں میں تذکرہ کیا ہے ، وہ یہ ہیں:١ـ( بل قالوا اضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر فلیاتنا بآیة کماارسل الاولون)(١٣)ترجمہ: بلکہ انہوں نے کہدیا کہ یہ تو طرح طرح کے خیالی خواب ہیں بلکہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے بلکہ وہ شاعر ہے ۔ پھر چاہیے کہ وہ ہمارے لیے کوئی معجزہ لائے جیسا کہ پہلوں کو دیکر بھیجا گیا تھا ۔٢ـ (والشعراء یتبعھم الغاون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملو الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )(١٤)ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر جنگل میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے جو کرتے نہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔٣ـ (وماعلمنا ہ الشعر وما ینبغی لہ ان ھو الا ذکر و قرآن مبین)(١٥)ترجمہ: اور ہم نے اسے شعرکا علم نہیں دیا اور نہ ہی وہ اس کی شان کے لائق تھا ، یہ نہیں ہے مگر نصیحت اور بیان کردینے والا قرآن۔٤ـ ( و یقولون ا ئنالتارکوا آلھتنا لشاعر مجنون)(١٦)ترجمہ: اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی خاطر چھوڑدینے والے ہیں ۔٥ـ ( ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون)(١٧)ترجمہ : یا وہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ۔ پس ہم انتظار کررہے ہیں اس کی حادثاتی موت کا ۔٦ـ (وما بقول شاعر قلیلا ما تومنون )(١٨)ترجمہ: اور وہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے تم لوگ جو ایمان لاتے ہو وہ بہت تھوڑا ہے ۔
شان نزول آیاتاولا یہ تمام آیات مکی ہیں بلکہ جن سوروں میں یہ آیات ہیں وہ سورے بھی مکی ہیں ۔ ثانیا مطلب کی حقیقت تک پہونچنے کے لیے ان آیا ت کی اجمالی شان نزول سے آشنا ہوا جائے ۔کفارقریش قرآن کریم کی جذابیت سے خوب واقف تھے اور بہت زیادہ متاثر ہوا کرتے تھے خصوصا اگر کلام الٰھی خود پیغمبر اکرم ۖ کی شیرین زبان ، لحن خاص و پرکشش آواز میں سنتے یہاں تک کہ اس کلام کی تاثیر اتنی تھی کہ بزرگان قریش رات کی تاریکی میں گوشہ و کنار میں چھپ چھپ کر کلام الٰھی کی تلاوت پیغمبر اکرم ۖ کی زبانی سنا کرتے تھے اور ان کی عقلیں قرآن کریم کے اعجاز کو درک کرنے میں متحیر رہتی تھیں۔(١٩)لیکن جب ان کے عقیدے کے خلاف بات آتی تو پھر وہ کسی بھی وہ کسی بھی طرح تہمت لگانے سے باز نہ آتے کبھی آپ کو شاعر کہتے تو کبھی ساحر اور کبھی مجنون حتی کبھی مفتر و جھوٹا یعنی اپنی طرف سے باتیں بنانے والا بھی کہا کرتے جبکہ یہ تہمتیں خود ایک دوسرے کی متضاد ہیں اور اس بات کی نشاندہی ہیں کہ وہ لوگ پیغمبر اکرمۖ کودرک کرنے میں ناکام رہے ہیں یاپھر حق کو درک کر چکے ہیں لیکن ہٹ دھرمی میں اپنے آباء و اجداد کے دین پر اٹل ہیں اس کے دفاع میں آپ پر طرح طرح کی تہمتیں لگارہے ہیں تاکہ لوگ آپ کی طرف مائل نہ ہوسکیں اور آپ کا دین پروان نہ چڑھ سکے۔اس مطلب کی تائید وہ روایات بھی کرتی ہیں کہ جو علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں نقل کی ہیں کہ ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ : قریش نے ایک گھر میں اجتماع کیا اور مشورے کے بعد عتبہ بن ربیعہ کو رسول اکرم ۖ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ وہ آپۖ سے اس طرح کہے کہ آپ ۖ کی قوم وقبیلے والے کہتے ہیںکہ آپ ایک عجیب و غریب اور امر عظیم لے کر آئے ہیںکہ آپ کے آباء و اجداد بھی اس آئین و دین پر نہ تھے اور ہم میں سے بھی کوئی فرد اس پر اعتماد نہیں کرتا اور نہ ہی آپ کی اس امر میں اتباع کرنے کو تیار ہیں جبکہ یقینا آپ کو کسی نہ کسی چیز کی ضرورت و احتیاج ہے کہ جس کو ہم پورا کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔آپ کو جس قدر مال و دولت چاہیے ہم دیں گے آپ فقط اس کام سے ہاتھ اٹھالیں عتبہ نے یہ پیغام آپ تک پہونچایا، تب آپ ۖ نے فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔کتاب فصلت آیاتہ قرآنا عربیا لقوم یعلمون ۔ تا آیت۔فان اعرضوا فقل انذرتکم صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود۔تلاوت فرمائی ۔عتبہ ان آیات کو سننے کے بعد قریش کی جانب واپس ہوا اور سارا ماجرا ان کو سنایا اور کہا :کلمنی بکلام ما ھو بشعر ولا بسحر انہ لکلام عجب ما ھو بکلام بشر(کہ آپ نے مجھ سے کچھ ایسا کلام کیا کہ جو نہ شعر تھا اور نہ سحر و جادو بلکہ وہ ایک عجیب کلام تھا بلکہ وہ انسانی کلام بھی نہیں تھا ۔اسی طرح کا واقعہ ولید بن مغیرہ کے ساتھ ہوا کہ جو سورہ حم کو سننے کے بعد اپنے گھر واپس گیا اور پھر گھر سے ایک مدت تک باہر نہ نکلا ۔ولید بن مغیرہ چونکہ ابوجہل کا چچا تھا لہذا قریش نے ابوجہل پر اعتراض کیا کہ تیرے چچا نے دین محمد کو اختیار کرلیا ہے یہ سن کر ابوجہل اور اس خاندان کے دوسرے لوگ بہت غضبناک ہوئے ۔اگلے روز صبح کو ابوجہل اپنے چچا ولید کے گھر گیا اور اس سے کہا کہ آپ نے مجھے شرمندہ کیا ہے اور ہماری بے عزتی کرادی ہے اور آپ نے دین محمدۖ اختیار کرلیا ۔ اس نے کہا نہیں میں ابھی تک اپنے آباء و اجداد کے دین پر ہوں لیکن میں نے محمدۖ سے ایسا کلام سنا ہے جس سے میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگیے ! پھر جب لوگوں نے معلوم کیا کہ کیا وہ کلام شعر تھا اس نے کہا نہیں ۔ تو پھر کہا کہ کیا تقریر و خطابت تھی کہا نہیں آخر کا رجو بھی معلوم کرتے وہ کہتا نہیں تو پھر کہا کہ آخر وہ کیا تھا تب ولید نے کہا مجھے مہلت دو تا کہ سوچ کر بتائوں کہ وہ کیا تھا ۔(٢٠)یہ روایت اور اس طرح کی بہت سی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قریش قرآن کریم کے متعلق متحیرتھے لہذا مسلسل آپس میں اجتماع کرتے میٹنگ بٹھاتے اور مشورہ کرتے تاکہ قرآن کے مقابلے کچھ جواب لاسکیں لیکن جب لاجواب ہوتے تو حضور اکرم ۖ پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے۔شیخ طوسی تفسیر تبیان میں ان آیات کے ذیل میں فرماتے ہیں : کفار و مشرکین یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ شاعر نہیں ہیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ مجنون بھی نہیں ہیں لیکن یہ تہمتیں اس لیے لگاتے تھے کہ وحی و نبوت کی تکذیب کرسکیں اور خود کو ہرطرح کی ذمہ داری و وظیفے سے سبکدوش کرسکیں۔سید قطب تفسیر ظلال القرآن میں رقمطراز ہیں : جی ہاں قریش اس وقت کہتے تھے کہ قرآن شعر ہے اور رسول اکرم ۖ شاعر کہ جب آپ کے کلام کے مقابل متحیر رہ جاتے اور لاجواب ہوتے اور عجیب و غریب و لطیف کلام سنتے کہ لوگ جس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے چلے جاتے ہیں اور کفر و شرک سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔
رسول خدا ۖ علم شعر رکھتے تھے یا نہیں؟ظاہرا ان آیات سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکر م ۖ شعر کا علم نہیں رکھتے تھے چونکہ آپ سے اس علم کی نفی کی گئی ہے ، اصلا خداوند عالم نے آپ کو ذوق و قریحہ شعر عطا ہی نہیں کیا تھا۔جناب طبرسی نے بھی یہی تحریر فرمایا ہے: ماعلمناہ الشعر ای ما اعطیناہ العلم بالشعر و انشائہ۔علامہ طباطبائی کا بھی یہی نظریہ ہے ۔ظاہرا مفاد آیات بھی یہی ہے اگر چہ شعر گوئی تقریبا فطری امر ہے لیکن یہی کمال اعجاز ہے کہ آپ کو یہ ذوق بھی عطا نہیں ہوا تاکہ قرآن کریم کے کلام الٰھی ہونے میں شک نہ ہو۔بلکہ معنی معجزہ یہی ہے کہ خارق عادت و خلاف فطرت ہو لہذا جہاں ایک شخص بغیر کسی سے تعلیم حاصل کیے تمام کائنات میں کائن و ماکان و مایکون کا عالم ہوسکتاہے وہاں ایک فن کو اسی کی مصلحت کے مدنظر اس سے سلب کرایا جاسکتاہے ۔
کیا دیگر حجج الٰھی شاعر تھے؟شعر و شاعری کے لیے جو اسباب و علل پیغمبر اکرم ۖ کے متعلق قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں وہ اگر چہ صرف آپ ہی سے مخصوص ہیں لیکن پھر بھی ظاہرا اس طرح کے ہیں کہ شاید تمام انبیاء و رسل میں کوئی فردبھی شاعر نہ تھا چو نکہ جو اسباب وعلل آپ کے یہاں ہیں وہی دیگر انبیاء و رسل میں بھی پائے جاتے ہیں ۔کہ آپ کے کلام کو کوئی شعر کہکر رد نہ کردے اور کلا م ا لہی کی قدر و قیمت اور شان ومنزلت کم ہوجائے اور اعتبار ساقط ہوجائے ۔ اگرچہ اس وقت دنیا میں انبیاء و رسل میں سے کسی کا بھی کلام موجود نہیں ہے اس لیے کہ مسلمانوں کے یہاں جو انبیاء و رسل کے فرامین ہیں وہ غیر مستقیم ہیں مثلا یا بنقل قرآن کریم ہیں یا بنقل معصومین علیہم السلام یعنی نقل قول ہیں کہ جس سے اثبات و نفی میں کوئی بھی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔ اور جو کلام دوسرے ادیان کے پاس ہے وہ تحریف شدہ ہے اس لیے کہ اگرکتب آسمانی کو سامنے رکھیں تو وہ خود کلام الٰہی ہیںنہ کلام انبیاء و رسل ،اور وہ بھی تحریف یافتہ۔اگر چہ بعض روایات سے استفادہ ہوتاہے کہ نفی شاعری صرف ہمارے پیغمبر ۖ سے ہے لہٰذا دیگر انبیاء میں شاعر گزرے ہیں بلکہ سب سے پہلے شاعر خود ابوالبشر حضرت آدم تھے اور وہ دلائل و وجوہات کہ جو آپ ۖ کی نفی شاعری پر پائی جاتی ہیں وہ صرف آپ ہی کے زمانے میں منحصر ہیں کسی اور زمانے میں شاعری اس عروج پر نہیں تھی کہ کسی نبی کو شاعر سے تعبیر کیا جاتا۔بہر حال اس دور حاضر میں ہمارے پیغمبر اکرم ۖ کے علاوہ انبیاء و رسل میں سے کسی کا بھی متن کلام موجود نہیں ہے کہ جس کے بارے میں شعر و عدم شعر پر گفتگو کی جائے ۔لیکن آئمہ طاہرین علیہم السلام ؟ آپ حضرات سب کے سب شاعر تھے حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کا دیوان اور حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کا مرثیہ اور اسی طرح ہر امام کے اشعار کہ جو مختلف مواقع پر ارشاد فرمائے کبھی مناجات کی صورت میں تو کبھی مرثیہ کی شکل میں سب آپ حضرات کے شاعر ہونے پر دلیل ہیں اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ شاعری خود ایک فن و ہنر ہے کہ جس کا پایاجانا کوئی عیب نہیں بلکہ کمال ہے اور پھر وہ وجوہات کہ جن کی وجہ سے حضرت پیغمبراکرمۖ کے شاعرہونے سے انکارہے وہ یہاں پر نہیں ہیں چونکہ حضرت پیغمبراکرمۖ صاحب شریعت اور آئمہ طاہرین محافظ شریعت ہیں ، حضرت پیغمبراکرمۖ کی حیات مبارک میں دین کامل ہوچکا ہے اب کوئی دین میں اپنی جانب یا بحیثیت شاعر کمی یا زیادتی کی تہمت نہیں لگا سکتا اور اگر کوئی تہمت لگائے بھی تواس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔
پیغمبر اکرم ۖ کے شاعر نہ ہونے کی وجہحضرت ختمی مرتبت محمد مصطفیۖ کے شاعر نہ ہونے کا اصلی فلسفہ یہ ہے کہ اولا آپ کی ذات والا صفات کو امتیازی صورت بچشنی تھی تاکہ آپ کا قیاس شعراء پر نہ کیا جاسکے ،ثانیا قرآن کریم کی عظمت کو محفوظ رکھنا تھا تاکہ کوئی اس کو شعر کہہ کر نہ ٹال دے، ثالثا شعر گوئی میں دوسروں کی مدح و ثناء ہوتی ہے اور حضرت رسول اکرمۖ اس مرتبہ کمال پر فائز ہیں کہ جن سے بلند ماسوی اللہ کوئی نہیں تو وہ کس کی مدح کرتے یعنی آپۖ کو صفت شاعری سے منزہ رکھنے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ آپ خودممدوح ہیں نہ کہ مداح۔حضرت پیغمبراکرم ۖ کے شاعرنہ ہونے کی خاص اور اصل وجہ یہ ہے کہ آپ پراحکام شریعت خداوندعالم کی جانب سے وحی کے ذریعہ سے پہونچتے ہیں او روحی کا ادراک ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے لہذا کفار و مشرکین اس کو شعر کی نسبت دیتے تھے جبکہ وحی و شعر میں بہت زیادہ فرق ہے مثلا:٭ شاعر از خود الہام لیتا ہے اور پیغمبر از غیر یعنی خداوند عالم سے، پس وحی و شعر متفاوت ہوئے لہذا شعرکی وحی سے تشبیہ نادرست ہے ۔شعراء منبع الہام کو داخل اور انبیاء منبع الہا م کو خارج جانتے ہیں لیکن جو لوگ مسائل فلسفی و عرفانی سے آگاہ نہیں ہیں وہ اس فرق کو درک نہیں کرسکتے کہ احساس و الہام کی ان دونوں قسموں میں کیا فرق ہے ۔کفار معاصر رسول ۖ بھی چونکہ علم عرفان و فلسفہ سے ناواقف تھے لہذا اس مطلب کو درک نہ کر پائے اور نہ سمجھ سکے کہ خارج از خود بھی منبع الہام ہوسکتا ہے ۔واضح ہے کہ اگر منبع الہام و احساس داخل یعنی خود انسان ہو جیسا کہ شعراء میں پایا جاتا ہے تو اچھے برے ہر طرح کے خیالات و احساسات کو ہر طرح کے الفاظ میں باندھ کر پیش کیا جا سکتا ہے ، لیکن اگر منبع الہام خارج از خود یعنی خداوندعالم کی ذات مقدس ہو تو پھر الہامات کے معانی بھی معجزہ ہونگے اور الفاظ بھی ۔ لیکن یہ بات اس دور کے کفار کی سطح سے بالا تھی ، لہذا قرآن نے اس فکر کو اس طرح پیش کیا ہے ۔(ا کان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منھم۔۔۔)(٢١) لوگوں کو یہ دیکھ کر تعجب ہوتاہے کہ کیسے ہم میں سے ہی ایک شخص پر خداوندعالم کی جانب سے وحی نازل ہوتی ہے۔٭ ٭ شاعر ، شعر کہنے کے بعد اگر چہ بہت اچھے شعر پر آمد کا احساس بھی کرے تو بھی ماوراء شاعر کوئی شٔینہیں ہے کہ جس کی طرف اس القاء کی نسبت دی جائے۔ جبکہ وحی میں تین مستقل وجود ہیں ١ـ وحی بھیجنے والا ، خداوندعالم۔ ٢۔ وحی لانے والا ،فرشتہ ۔ ٣۔ وحی دریافت کرنے والا ، نبی۔٭٭٭ شعر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اس کا جواب اور توڑ مل جاتا ہے اور آج تک کسی شاعر نے بھی یہ چیلنج و دعوی نہیں کیا کہ میرے شعرکا جواب لائو اور نہ ہی کوئی کرسکتا ہے ۔ جبکہ قرآن کریم اپنے مقابلہ کے لیے بارہا چیلنج کرتا رہا ہے ۔جیسا کہ یہ مندرجہ ذیل آیات:١ـ (ام یقولون مفتریات قل فاتوا بعشر سورمثلہ مفتریات وادعوامن استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٢) یعنی کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ خود کا گھڑ ا ہوا ہے، آپ کہدیجیے کہ تم بھی اس طرح کے گھڑے ہوئے دس سورے لے کرآئو اور اللہ کے علاوہ جس کو بلاسکتے ہو بلائو اگر تم سچے ہو ۔٢ ـ (ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورة مثلہ وادعو ا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٣) یعنی کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے خود نے گھڑ لیا ہے آپ کہدیجیے اس طرح کا کوئی سورہ لے کرآئو اور اللہ کے علاوہ جس کو بلاسکتے ہو بلائو اگر تم سچے ہو ۔٣ـ (وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ وادعو ا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٤) اور اگرتم شک میں ہو جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا تو تم بھی ویسی ہی سورت لے آئو اور اللہ تعالی کے علاوہ اپنے سب گواہوں کو بلالائواگر تم سچے ہو۔٭٭٭٭اگر منشاء وحی اور منشاء شعر ایک ہی ہوتے تو پھر کیوں شعر کو اقسام ہنر میں سے شمار کیا جاتا ہے جبکہ وحی کواقسام ہنر میں سے شمار نہیں کیا جاتاہے ۔اور ان کے علاوہ بہت زیادہ وحی وشعر کے درمیان فرق و تفاوت پایا جاتا ہے کہ جو اہل بصیرت پر مخفی نہیں ہے ۔
نتیجہاس مکمل گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہمقام رسالت ایک منصب و عہدہ الٰھی ہے کہ جو انتخابی نہیں ہے بلکہ خدا وندعالم کی جانب سے عطا ہوتا ہے ۔(وربک یخلق مایشاء و یختار ما کان لھم الخیرة)(٢٥) آپ کا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا اور جس کو چاہتا ہے منتخب کرتا ہے لوگوں کو کسی کے اختیار کا حق نہیں ہے ۔مقام رسالت اس قدرزیادہ امتیازات کا حامل ہے کہ جس کا کسی دنیاوی منصب و عہدہ سے یا کسی فن و ہنر سے قیاس نہیں کیا جاسکتاہے۔مقام رسالت عصمت کے ہمراہ ہے ۔مقام رسالت حامل معجزہ ہے۔لیکن شاعری ایک ہنر ہے کہ جس کو ہرکس و ناکس کسب کرسکتا ہے اگرچہ استعداد و صلاحیت خداداد ہوتی ہے تو وہ ہر فن و ہنر میں ایسا ہی ہے بلکہ مطلق وجود انسان خداداد ہے کہ جس کا عھدہ و منصب الہٰی اور حجج کبریا سے تقابل غیرقابل قیاس ہے ۔
منابع ومدارک١ـ سورہ انعام آیت ١٢٤ ٢ـ سورہ حج آیت٥٢٣ـ سورہ احقاف آیت٣٥ ٤ـ سورہ بقرہ آیت ١٢٤٥ـ سورہ بقرہ آیت ١٢٤٦ـ اقتباس از کتاب صراط الحق جلد ٢ ،مبحث نبوت ورسالت۔ آیت اللہ محسنی٧ـ اقتباس از کتاب المنطق ، صناعات خمس ۔آیت اللہ محمد رضا مظفر٨ـ سورہ شعراء آیت ٢٢٤ـ٢٢٧ ٩ـ مسند احمد بن حنبل ج٣ ، ص٤٦٠١٠ـ مسند احمد بن حنبل ، ج٣ ، ص٢٩٩ ١١ـ تفسیر قرطبی ، ج٧، ص ٤٨٦٩١٢ـ خاتم المرسلین ، محمد ابو زہرہ ، ج٢ ، ص ٣٤٥ ١٣ـ سورہ انبیاء آیت٥١٤ـ سورہ شعراء آیت ٢٢٤ـ٢٢٧ ١٥ـ سورہ یاسین آیت ٦٩١٦ـ سورہ صافات آیت ٣٦ ١٧ـ سورہ طور آیت ٣٠١٨ـ سورہ حاقہ آیت ٤١ ١٩ـ خاتم المرسلین ، محمد ابو زہرہ ، ج٢ ، ص ٢٣٤٢٠ـ بحار الانوار ، علامہ مجلسی، ج ١٤ ،ص ١٢٣ ٢١ـ سورہ یونس آیت ٢٢٢ـ سورہ ھود آیت ١٣ ٢٣ـ سورہ یونس آیت ٣٨٢٤ـ سورہ بقرہ آیت ٢٣ ٢٥ـ سورہ قصص آیت ٦٨
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.