امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کا دیدار
البتہ غیبت صغریٰ میں آپ کے خاص نائبین کے ذریعہ شیعہ اپنے محبوب امام سے رابطہ برقرار کئے ہوئے تھے اور ان میں بعض لوگ امام عليہ السلام کے حضور میں شرفیاب بھی ہوئے ہیں؛ جیسا کہ اس سلسلہ میں کثرت سے روایات پائی جاتی ہیں۔ لیکن غیبت کبریٰ میں یہ رابطہ ختم ہوگیاہے اور امام عليہ السلام سے عام طور پر یا خاص حضرات کے ذریعہ ملاقات کرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔
لیکن پھر بھی بہت سے علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ اس زمانہ میں بھی اس ماہِ منیر سے ملاقات کا امکان ہے اوربہت سے عظیم الشان علماء جیسے علامہ بحر العلوم، مقدس اردبیلی اور سید ابن طاووس وغیرہ کی امام زمانہ عليہ السلام سے ملاقات کے واقعات مشہور و معروف ہیں جن کوکئی علماء نے نقل کیا ہے۔ (دیکھئے:جنة الماویٰ،اور نجم الثاقب،محدث نوری.)
یہاں ضروری ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ملاقات کے بارے میں بحث کے حوالے سے درج ذیل نکات پر توجہ دی جائے:
پہلا نکتہ یہ ہے کہ امام عليہ السلام کی ملاقات کبھی ایسے لوگوںکی نصرت اور مدد کے لئے ہوتی ہے کہ جو پریشانیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور تنہائی و بے کسی کا احساس کرتے ہیں۔ مثلاً جیسے کوئی حج کے سفر میں راستہ بھٹک گیا اور امام عليہ السلام یا ان کے اصحاب میں سے کسی صحابی نے اسے سرگردانی سے نجات دی اور امام عليہ السلام سے اکثر ملاقاتیں اسی طرح کی ہوئی ہیں۔
لیکن بعض ملاقاتیں عام حالات میں بھی ہوئی ہیں اور ملاقات کرنے والے اپنے مخصوص روحانی مقام کی وجہ سے امام عليہ السلام کی ملاقات سے شرفیاب ہوئے ہیں۔لہٰذا مذکورہ نکتے کے مد نظر توجہ رہے کہ ہر کسی سے امام عليہ السلام کی ملاقات کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں خصوصاً آج کل بعض لوگ امام زمانہ عليہ السلام کی ملاقات کا دعویٰ کرکے اپنی دُکان چمکا کرشہرت اور دولت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح بہت سے لوگوں کو گمراہی اور عقیدہ و عمل میں انحراف کی طرف لے جاتے ہیں، بعض دعاؤں کے پڑھنے اور بعض ایسے اعمال انجام دینے کی دعوت دیتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے اذکار اور اعمال کی کوئی اصل اور بنیاد بھی نہیں ہے۔ امام زمانہ عليہ السلام کے دیدار کا وعدہ دے کر ایسی محفلوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں جن کے طور طریقے دین یا امام زمان عليہ السلام کے لئے قابل قبول نہیں اوریوں وہ لوگ امام غائب کی ملاقات کو سب کے لئے ایک آسان کام قرار دیتے ہیں، جبکہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام عليہ السلام خداوندعالم کے ارادہ کے مطابق مکمل طور پر غیبت میں ہیں اور صرف ایسے گنتی کے چند افراد ہی کی امام عليہ السلام سے ملاقات ہوتی ہے جن کی نجات فقط لطف الٰہی کے اس مظہر یعنی اما م عصر کی براہ راست عنایت پرمنحصر ہوتی ہے۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ امام عليہ السلام کی ملاقات صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب امام زمانہ عليہ السلام کی نظر میں کوئی مصلحت اس ملاقات میں ہو، لہٰذا اگرکسی عاشق امام عليہ السلام کو اس کے تمام تر اشتیاق ورغبت اور بھرپور کوشش کے باوجودبھی امام سے ملاقات کا شرف حاصل نہ ہوسکے تو اس کوما یوسی اور ناامیدی کا شکار نہیں ہونا چاہئے اورملاقات نہ ہونے کو امام عليہ السلام کے لطف و کرم کے نہ ہونے کی علامت قرار نہیں دینا چاہئے، جیسا کہ جو افراد امام عليہ السلام کی ملاقات سے فیض یاب ہوئے ہیں ان کی ملاقات کو ان کے تقویٰ اور فضیلت کی علامت قرارنہیں دیا جا سکتا ہے۔
حاصل کلام یہ کہ اگرچہ امام زمانہ عليہ السلام کے جمالِ پْر نور کی زیارت اور دلوں کے اس محبوب سے گفتگو اور کلام کرنا واقعاً ایک بڑی سعادت ہے لیکن آئمہ علیہم السلام خصوصاً امام عصر عليہ السلام اپنے شیعوں سے یہ نہیں چاہتے کہ ان سے ملاقات کی کوشش میں رہیں اور اپنے اس مقصود تک پہنچنے کے لئے چِلّہ کاٹیں، یا جنگلوں میں مارے مارے پھریں؛ بلکہ آئمہ معصومین علیہم السلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے کہ ہمارے شیعوں کو ہمیشہ اپنے امام کو یاد رکھنا چاہئے اور ان کے ظہور کے لئے دعا کرنا چاہئے اور آپ کی رضایت حاصل کرنے کے لئے اپنی رفتار و کردار کی اصلاح کی کو شش کرنا چاہئے اورآپ کے عظیم مقاصد کے حصول کے راستے پر قدم بڑھانا چاہئے تاکہ جلد از جلدبشریت کی اس آخری امید کے ظہور کا راستہ ہموار ہوجائے اور کائنات ان کے وجود سے براہ راست فیضیاب ہو۔
خود امام مہدی عليہ السلام فرماتے ہیں:
‘اَکثِرُْوا الدعَاء َ بِتَعجِیلِ الفرجِ، فانَّ ذَلکَ فَرَجُکُم’۔ ( کمال الدین،ج٢،باب٤٥،ح٤،ص٢٣٩.)
میرے ظہور کیلیے بہت زیادہ دعا کیا کرو یقیناً اس میں تمہارے لیے آسانی ہے