عام الحزن

207

بعثت كے دسويں سال بطل جليل حضرت ابوطالب عليہ الصلاة والسلام كى رحلت ہوئي_ آپ كى وفات سے رسول(ص) الله اپنے اس مضبوط، وفادار اور باعظمت حامى سے محروم ہوگئے جو آپ(ص) كا، آپ(ص) كے دين كا اور آپ(ص) كے مشن كا ناصر و محافظ تھا (جيساكہ پہلے عرض كرچكے ہيں)_اس حادثے كے مختصر عرصے بعد بقولے تين دن بعد اور ايك قول كے مطابق ايك ماہ(1) بعدام المؤمنين حضرت خديجہ (صلوات اللہ وسلامہ عليہا) نے بھى جنت كى راہ لي_ وہ مرتبے كے لحاظ سے رسول(ص) الله كى ازواج ميں سب سے افضل ہيں_نيز آنحضرت(ص) كے ساتھ اخلاقى برتاؤ اور سيرت كے حوالے سے سب سے زيادہ باكمال تھيں_ رسول(ص) خدا كى ايك بيوي( حضرت عائشےہ) ان سے بہت حسد كرتى تھيں حالانكہ اس نے حضرت خديجہ(ع) كے ساتھ آنحضرت(ص) كے گھر ميں زندگى نہيں گزارى تھى كيونكہ آپ(ص) نے حضرت خديجہ كى رحلت كے بہت عرصہ بعد اس سے شادى كى تھي_(2)دين اسلام كى راہ ميں حضرت ابوطالب(ع) اور حضرت خديجہ سلام الله عليہا كى عظيم خدمات كا اندازہ اس حقيقت سے ہوسكتا ہے كہ نبى كريم(ص) نے ان دونوں كى وفات كے سال كو عام الحزن كا نام ديا(3) يعنى غم واندوہ كا سال_ آپ(ص) نے ان دونوں سے جدائي كو پورى امت كيلئے مصيبت اور سانحہ قرار ديا_چنانچہ فرمايا:’ اس امت پر دو مصيبتيں باہم ٹوٹ پڑيں اور ميں فيصلہ نہيں كرسكتا ان ميں سے كونسى مصيبت ميرے لئے دوسرى مصيبت كے مقابلے ميں زيادہ سخت تھي'(4)_ يہ بات آپ(ص) نے ان دونوں كى جدائي كے غم سے متا ثر ہوكر فرمائي_
محبت وعداوت، دونوں خداكى رضاكيلئےواضح ہے كہ ان دونوں ہستيوں سے رسول(ص) كى محبت اور ان دونوں كى جدائي ميں آپ(ص) كا حزن وغم نہ ذاتى مفادات ومصالح كے پيش نظر تھا اور نہ ہى خاندانى محبت وجذبے كى بنا پر بلكہ آپ(ص) كى محبت فقط اور فقط رضائے الہى كيلئے تھي_ آپ(ص) كسى بھى شخص كو اتنى ہى اہميت ديتے ،اس كى جدائي ميں اتنے ہى غمگين ہوتے اور اس سے اسى قدر روحانى و جذباتى لگاؤ ركھتے جس قدر اس شخص كا رابطہ خدا سے ہوتا ،جس قدر وہ الله سے نزديك اور اس كى راہ ميں فداكارى كے جذبے كا حامل ہوتا_آپ(ص) حضرت ابوطالب(ع) اور حضرت خديجہ(ع) كيلئے اس وجہ سے غمگين نہ ہوئے تھے كہ خديجہ آپ(ص) كى زوجہ تھيں يا ابوطالب آپ(ص) كے چچا تھے وگرنہ ابولہب بھى تو آپ(ص) كا چچا تھا _بلكہ وجہ يہ تھى كہ آپ(ص) نے اندونوں كى قوت ايماني، دين ميں پائيدارى اور اسلام كى راہ ميں فداكارى كو محسوس كرليا تھا_ اور يہى تو اسلام كا بنيادى اصول ہے جس كى خدانے يوں نشاندہى كى ہے (لاتجد قوماً يومنون بالله و اليوم الآخر يوادون من حاد الله و رسولہ و لو كانوا آبائہم او ابنائہم او اخوانہم او عشيرتہم …) (5) يعنى جولوگ الله اور روز قيامت پر ايمان ركھتے ہيں آپ ان كو خدا اور اس كے رسول(ص) كے مخالفين سے محبت كرتے ہوئے نہيں پائيں گے خواہ وہ ان كے باپ يا بيٹے يا بھائي يا رشتے دار ہى كيوں نہ ہوں_كيا شرك سے زيادہ كوئي دشمنى الله اور رسول(ص) كے ساتھ ہوسكتى ہے؟ وہى شرك جس كے بارے ميں خدانے فرمايا ہے: (ان الشرك لظلم عظيم) يعنى شرك سب سے بڑا ظلم ہے_نيز فرمايا ہے: (ان الله لايغفر ان يشرك بہ و يغفر ما دون ذلك) يعنى يہ كہ خدا شرك كے علاوہ ديگر گناہوں كو معاف كرديتا ہے_خداكى رضا كيلئے محبت كرنے اور اس كى رضا كيلئے بغض ركھنے كے بارے ميں آيات و احاديث حد سے زيادہ ہيں اور ان كے ذكر كى گنجائشے نہيں_اسى معيار كے پيش نظر خداوند تعالى نے حضرت نوح(ع) سے انكے بيٹے كے متعلق فرمايا: (انہ ليس من اہلك انہ عمل غيرصالح)(6) يعنى اس كا تيرے گھرانے سے كوئي تعلق نہيں ہے اسكا تو غيرصالح عمل ہے_ اسى طرح حضرت ابراہيم (ع) كا قول قرآن مجيد ميں ہے كہ ( من تبعنى فانہ مني) (7) جو ميرى پيروى كرے گا وہ ميرے خاندان سے ہوگا_نيز اسى بنا پر سلمان فارسى كا شمار اہلبيت پيغمبر(ص) ميں ہوا_ابوفراس كہتا ہے:
كانت مودة سلمان لہم رحماولم تكن بين نوح و ابنہ رحم …يعنى اہلبيت پيغمبر(ص) سے محبت كے باعث سلمان ان كے گھرانے كا ايك فرد بن گيا جبكہ اس كے برعكس نوح(ع) اور ان كے بيٹے كے درميان قرابت نہيں رہي_
1_ حضرت خديجہ عليہا السلامحضرت عائشه سے مروى ہے كہ ميں نے كسى عورت سے اتنى نفرت نہيں كى جس قدر خديجہ سے كى ہے_ اس كى وجہ يہ نہ تھى كہ ميں نے اس كے ساتھ زندگى گزارى ہو بلكہ يہ تھى كہ رسول(ص) الله انہيں زيادہ ياد كرتے تھے_ اگر آپ(ص) كوئي گوسفندبھى ذبح كرتے تو اسے حضرت خديجہ كى سہيليوں كے پاس بطور ہديہ بھيجتے تھے_ (8)يہ قول مختلف عبارات ميں مختلف اسناد كے ساتھ مذكور ہے_ايك دن رسول(ص) (ص) الله نے حضرت خديجہ كاذكر كيا تو ام المومنين عائشه نے ناك بھوں چڑھاتے ہوئے كہا:’ وہ تو بس ايك بوڑھى عورت تھى جس سے بہتر عورت خدا نے آپ(ص) كو عطاكى ہے’_ مسلم كے الفاظ يہ ہيں ‘جس كا آپ(ص) ذكر كرتے ہيں وہ تو قريش كى بوڑھيوں ميں سے ايك بڑھيا تھي_ جس كے لبوں كے گوشے سرخ تھے اور اسے مرے ہوئے عرصہ ہوگيا ہے _ خدا نے آپ كو اس سے بہتر عطا كى ہے’_ يہ سن كررسول(ص) الله غضبناك ہوئے يہاں تك كہ آپ(ص) كے سركے اگلے بال كھڑے ہوگئے_ پھر فرمايا :’خدا كى قسم ايسانہيں، الله نے مجھے اس سے بہتر عطا نہيںفرمايا …’_ (9)عسقلانى اور قسطلانى كا كہنا ہے كہ حضرت عائشه پيغمبراكرم(ص) كى بيويوں سے حسد كرتى تھيں ليكن حضرت خديجہ سے ان كا حسد زيادہ تھا_ (10)مجھے اپنى زندگى كى قسم يہ تو حضرت خديجہ كى زندگى كے بعد حضرت عائشه كى حالت ہے_ پتہ نہيں اگر وہ زندہ ہوتيں تو كيا حال ہوتا؟ نيز جب ام المومنين كے حسد نے مُردوں كوبھى نہ چھوڑا تو زندوں كے ساتھ ان كا رويہ كيسا رہا ہوگا؟
—————————-1_ السيرة الحلبيہ ج1 ص 346 ، السيرة النبويہ ( ابن كثير) ج 2 ص 132 ، البدايہ والنہايہ ج 3 ص 127 اورا لتنبيہ و الاشراف ص 200_2_ البدايہ والنہايہ (ابن كثير) ج 3 ص 127 و 128 ، السيرة النبويہ(ابن كثير) ج 2 ص 133 تا 135 ، صحيح بخارى ج 2 ص 202 ، عائشه (عسكري) ص 46 اور اس كے بعد اور اس كے بعض منابع ہم نے آنے والى فصل ‘ بيعت عقبہ تك ‘ ميں عائشه كے حسن و جمال كے ذكر ميں بيان كيا ہے_3_ سيرت مغلطاى ص 26، تاريخ الخميس ج1 ص 301 ، المواہب اللدنيہ ج 1 ص 56 ، السيرة النبويہ (دحلان ) ج 1 ص 139 ص 21 مطبوعہ دار المعرفہ اور اسنى المطالب ص 21_4_تاريخ يعقوبى ج 2ص 35 _5_ سورہ مجادلہ، آيت 22 _6_ سورہ ہود آيت 46_7_ سورہ ابراہيم آيت 36_8_ صحيح بخارى ج 9 ص 292 اور ج 5 ص 48 اور ج 7 ص 47 اور ج 8 ص 10 صحيح مسلم ج 7 ص 34_135 اسد الغابة ج 5 ص 438، المصنف ج 7 ص 493، الاستيعاب حاشية الاصابة ج 4 ص 286 صفة الصفوة ج 2 ص 8، بخارى و مسلم سے، تاريخ الاسلام ذہبى ج 2 ص 153البداية و النہاية ج 3 ص 128_9_ صحيح مسلم ج 7 ص 134 ليكن اس نے آپ(ص) كا جواب ذكر نہيں كيا، اسد الغابة ج 5 ص 438 نيز ص 557 و 558 ،الاصابة ج 4 ص 283 استيعاب ج 4 ص 286، صفة الصفوة ج 2 ص 8مسند احمد ج 6 ص 117بخارى ج 2 ص 202 مطبوعہ 1309 ہجرى ، البداية و النہاية ج 3 ص 128 نيز اسعاف الراغبين در حاشيہ نور الابصار ص 96_10_ فتح البارى ج 7 ص 102، ارشاد السارى ج 6 ص 166 و ج 8 ص 113 _
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.