حضرت آیت‌الله سیستانی کے فتاویٰ: نبی اکرم ﷺ کا نام سنتے اور ذکر کرتے وقت صلوات بھیجنا مستحب ہے

جامع توضیح المسائل میں صلوات کے احکام؛ رسولِ اکرم ﷺ کے نام، لقب، کنیت اور آپؐ کی طرف اشارہ کرنے والے الفاظ کے ذکر پر صلوات کی تاکید

11

شفَقنا — حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے جلد اوّل ’’جامع توضیح المسائل‘‘ میں صلوات کے احکام بیان فرمائے ہیں۔

مسئلہ ۱۴۷۷۔ جب بھی انسان حضرت رسولِ اکرم ﷺ کا مبارک نام، مثلاً محمد اور احمد ﷺ، یا آپؐ کا لقب یا کنیت، جیسے مصطفیٰ اور ابوالقاسم ﷺ، زبان پر لائے یا سنے، تو اگرچہ وہ نماز میں ہی کیوں نہ ہو، صلوات بھیجنا مستحب ہے۔

یہ حکم اس وقت بھی جاری ہے جب انسان ایسے الفاظ کہے یا سنے، جیسے رسول اللہ، پیامبرِ اکرم، پیغمبرِ خدا اور اس جیسے دیگر الفاظ، جن سے مراد حضرت رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارک ہو، یا ایسا ضمیر استعمال کرے جو آپؐ کی طرف لوٹتا ہو۔

مسئلہ ۱۴۷۸۔ مستحب ہے کہ انسان حضرت رسولِ اکرم ﷺ کا مبارک نام، لقب یا کنیت لکھتے وقت صلوات بھی مکمل طور پر تحریر کرے۔ نیز بہتر ہے کہ جب بھی انسان آنحضرت ﷺ کو یاد کرے، صلوات بھیجے۔

مسئلہ ۱۴۷۹۔ جب بھی حضرت رسولِ اکرم ﷺ کا مبارک نام بار بار ذکر کیا جائے، تو مستحب ہے کہ صلوات بھی بار بار بھیجی جائے۔ نیز آنحضرت ﷺ پر صلوات بلند آواز سے بھیجنا مستحب ہے، اور روایت میں آیا ہے کہ یہ عمل نفاق کو دور کر دیتا ہے۔

مسئلہ ۱۴۸۰۔ اگر انسان تشہد کے دوران حضرت رسولِ اکرم ﷺ کا مبارک نام سنے، تو وہ تشہد میں واجب صلوات پر اکتفا کر سکتا ہے۔

مسئلہ ۱۴۸۱۔ احتیاط یہ ہے کہ صلوات کی فضیلت حاصل کرنے اور اس سلسلے میں مستحب حکم پر عمل کرنے کے لیے، حضرت رسولِ اکرم ﷺ کا مبارک نام ذکر کرنے اور صلوات بھیجنے کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ڈالا جائے۔ لہٰذا اگر نماز کی قراءت کے دوران حضرت رسولِ اکرم ﷺ کا مبارک نام کہا جائے یا سنا جائے، تو صلوات کو سورت کے اختتام تک مؤخر نہ کیا جائے؛ البتہ اگر سورت کے آخری حصے میں ہو اور اتنا فاصلہ زیادہ شمار نہ ہوتا ہو، تو اس صورت میں تاخیر کرنے میں حرج نہیں۔

مسئلہ ۱۴۸۲۔ پیغمبرِ اکرم ﷺ پر صلوات بھیجتے یا صلوات لکھتے وقت، آنحضرت ﷺ کی آل پر صلوات ترک کرنا مناسب نہیں ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ صرف «صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ» یا «صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَیْهِ» یا «اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ» کہنے یا لکھنے کے بجائے یوں کہا یا لکھا جائے:

«صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ»

یا

«صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَآلِهِ»

یا

«اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ»۔

مسئلہ ۱۴۸۳۔ جب بھی دوسرے انبیاء یا ائمہ علیہم صلوات اللہ کے نام ذکر کیے جائیں، تو ان پر بھی صلوات بھیجنا مستحب ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.