امام زمانہ (عج) كی طولانی زندگی قرآن و حدیث كی رو سے

217

امام زمانہ عج كی طولانی عمر مبارك كے حوالے سے گفتگو كی دو جہات ہیں
1) جو لوگ كائنات كو ظاھری نگاہوں سے دیكھتے ہیں اور محض اس كے مادی و عنصری جنبہ كو تسلیم كرتے ہیں اور اس كائنات كے ماوراء اس نادیدہ خالق كو نہیں مانتے كہ جو بے پناہ علم و حكمت اور قدرت كا حامل ہے تو ایسے لوگوں سے امام كے وجود اور ان كی تمام صفات بالخصوص ان كی طولانی عمر كے بارے میں بحث كرنا فضول اور غیر معقول ہے ایسے لوگوں سے پہلے پروردگار كے وجود كے اثبات پر بحث ہو پھر دوسرے امور پر بحث ہوسكتی ہے ۔
2) وہ لوگ جو اس جہان مادہ كے ماوراء ایك بے پناہ علم اور قدرت كے مالك خالق پر ایمان ركھتے ہیں تو وہ امام زمانہ كے وجود اور ان كی طولانی عمر پر بھی ایمان ركھتے ہیں كیونكہ اس حوالے سے بہت سی عقلی و نقلی دلائل و شواھد ہیں كہ جو ہر انصاف پسند عاقل كے ایمان كے لئے كفایت كرتے ہیں ۔
جہاں تك اثبات امامت اور بالخصوص امام زمانہ كے وجود كے اثبات كا تعلق ہے اس پر بہت ہی واضح اور روشن دلیلیں ہیں كہ انسان كبھی بھی ان میں شك نہیں كرسكتا جیسا كہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب نے فرمایا ان الصبح احناء لدی عینین، صبح كی روشنی ان لوگوں كے لئے ہے جو دو حق دیكھنے والی آنكھیں ركھتے ہیں، قرآنی آیات اور شیعہ و سنی كتابوں سے بہت سی روایات حق كے متلاشیوں كے لئے موجود ہیں جو بھی اہل ایمان ہیں اور ان كا اللہ تعالی كے علم و قدرت اور تدبیر و حكمت پر عقیدہ ہے انہیں ذرا بھی امام زمانہ كے وجود اور ان كی طولانی عمر میں شك نہیں ہے كیونكہ قرآن مجید میں بعض انبیاء كرام جو كہ اللہ تعالی كی سب سے زیادہ با عظمت و فضیلت مخلوق میں مثلا حضرت نوح ،عیسی، یونس، خضر علیھم السلام كی طولانی عمر كے حوالے سے آیات مجیدہ ہیں ،بلكہ اس حوالے سے تو بعض شرور مخلوقات مثلا شیطان، فرعون وغیرہ كے بارے میں بھی ذكر آیا ہے مثلا:
1) حضرت نوح كے بارے میں پروردگار فرماتا ہے ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ فلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاما فاخذھم الطوفان و ھم ظالمون، ترجمہ: ہم نے نوح كو ان كی قوم كی طرف بھیجا تو وہ ان میں نو سو پچاس سال تك رہا پھر طوفان نے انہیں (قوم نوح كو) اس حال میں اپنی لپیٹ میں لے لیا كہ وہ ظالم تھے۔
حضرت نوح اللہ تعالی كی طرف سے مبعوث ہوئے تاكہ اپنی قوم كو معرفت خدا اور توحید كی طرف دعوت دیں جس طرح كلمہ ارسلنا سے واضح ہوتا ہے اور نو سوپچاس سال آپ كا زمانہ رسالت تھا اب یہ كہ آپ كی حقیقی عمر كتنی تھی اسے پروردگار جانتا ہے البتہ بعض تفسیروں میں آپ كی حقیقی عمر پچیس سو سال تك بتائی گئی ہے ۔
2) حضرت عیسیٰ كے بارے میں پروردگار فرماتا ہے وما قتلوہ وما صلبوہ ولكن شبہ لھم و ان الذین اختلفوا فیہ لفی شك منہ الی قولہ و ما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ و كان اللہ عزیز و حكیما، ترجمہ: اور انہوں نے عیسیٰ كو نہ قتل كیا ہے اور نہ اسے دار پر آویزاں كیا ہے بلكہ وہ ان پر مشتبہ ہوگیا اور جو اس كے بارے میں اختلاف كرتے ہیں وہ اس كے حوالے سے مشكوك ہیں یہاں تك كہ اللہ تعالی فرماتا ہے انہوں نے اسے یقینی طور پر قتل نہیں كیا بلكہ اللہ نے اسے اٹھالیا اور پروردگار عزیز و حكیم ہے۔
اس سے واضح ہوا ہے كہ عیسیٰ ابھی تك زندہ ہیں اور احادیث و روایات كے مطابق امام زمانہ (عج) كے ساتھی ہوں گے اور ان كے زمانہ ظہور میں آسمان سے نازل ہوں گے اور ان كے پیچھے نماز پڑھیں گے ۔
3) حضرت یونس كے بارے میں پروردگار فرماتا ہے فلولا انہ كان من المسجین للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون، ترجمہ: اگر یونس (شكم ماہی میں) تسبیح كرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو وہ قیامت تك اس كے شكم میں رہتے۔یعنی قیامت تك مچھلی كے پیٹ میں قید رہتے۔یہاں تك كہ موجودات خبیثہ اور شرور میں سے شیطان كے بارے میں ملاحظہ فرمائیں كہ جس نے اللہ تعالی سے قیامت تك كی مہلت مانگی تھی فانظر الی یوم یبعثون تو اللہ تعالی نے فرمایا: انك من المنظرین الی یوم الوقت المعلوم، یعنی تو ان میں سے ہے كہ جنہیں قیامت تك كی مہلت دی گئی ہے ۔
قرآنی آیات پیش كرنے كے بعد ہم یہاں چند روایات اسی موضوع كے حوالے سے پیش كرتے ہیں۔
1۔ فی الكافی باسنادہ عن الحسن الوشاء قال سمعت الرضا یقول ان اباعبداللہ علیہ السلام قال الحجۃ لوتقوما الا بامام حتی یعرف؛
اصول كافی میں ہے حسن وشا كہتے ہیں كہ میں نے حضرت امام رضا سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے كہ: امام صادق نے فرمایا حجت صرف امام زندہ كے وجود سے قائم ہوتی ہے یہاں تك كہ وہ پہچانا جائے ۔
2۔ فیہ باسنادہ عن ابان بن تغلب قال قال ابوعبداللہ علیہ السلام الحجۃ قبل الخلق و مع الخلق و بعد الخلق؛
اصول كافی میں ابان بن تغلب سے روایت ہے كہ امام صادق نے فرمایا حجت سب پر خلقت سے پہلے، خلقت كے دوران اور خلقت كے بعد تك قائم ہے (تاكہ عذر باقی نہ رہے)
3۔ وفی الاكمال باسنادہ عن ابی حمزہ الثمالی عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال قلت لہ اتبقی الارض بغیر امام قال لو بقیت الارض بغیر امام ساعۃ لساخت؛
ابو حمزہ ثمالی كہتا ہے كہ امام صادق كی خدمت میں عرض كیا كہ آیا زمین امام كے بغیر باقی رہ سكتی ہے تو ا نہوں نے فرمایا جب بھی زمین ایك گھنٹہ حجت خدا سے خالی رہ جائے تو وہ سب كو نگل لے گی۔
4۔ وفی الكافی باسنادہ عن عبد اللہ بن سلیمان العامری عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال مازالت الارض الا و للہ فیھا الحجۃ یعرف الحلال والحرام و یدعوا الناس الی سبیل اللہ؛
اصول كافی میں عبد اللہ بن سلیمان عامری امام صادق علیہ السلام سے روایت كرتے ہیں كہ آپ نے فرمایا زمین كبھی بھی امام كے بغیر نہیں رہ سكتی لہذا ضروری ہے كہ اس پر حجت خدا رہے تاكہ وہ لوگوں كو حلال و حرام كی شناخت كروائے اور لوگوں كو اسلام كی طرف دعوت دے۔
5۔ و فی الاكمال باسنادہ عن ابراھیم بن ابی محمود قال قال الرضا علیہ السلام نحن حجج اللہ فی خلقہ و خلفائہ فی عبادہ و امناؤہ علی سرہ نحن كلمۃ التقوی والعروۃ الوثقی نحن شھداء اللہ و اعلامہ فی بریۃ بنا یمسك اللہ السموات والارض ان تزولا و بنا ینزل الغیث و ینشر الرحمۃ ولا تخلوا الارض من قائم منا ظاھر او خاف ولو خلت یوما بغیر حجۃ لماجت باھلھا كما یموج البحر باھلہ؛
ابراھیم بن ابی محمود كہتے ہیں كہ امام رضا نے فرمایا : ہم اللہ تعالی كی مخلوق میں اس كی حجتیں ہیں اور اس كے بندوں میں اس كے جانشین اور اس كے اسرار پر امین ہیں ہم كلمہ تقوی ہیں اور محكم گرہ ہیں، ہم اس كے بندوں میں اس كے شہید اور اس كے اعلان ہیں، ہماری وجہ سے اللہ تعالی آسمانوں اور زمینوں كو گرنے سے بچائے ہوئے ہے اور ہمارے وسیلے سے بارش ہوتی ہے اور اس كی رحمت پھیلتی ہے، ہمارے قائم كے بغیر زمین خالی نہیں رہے گی، چاہے وہ ظاھر ہو یا پوشیدہ، اگر زمین ایك روز حجت كے بغیر رہے تو موج كی مانند كروٹ لی گی اور دنیا یوں ہلاك ہوجائے گی جس طرح كہ سمندر كی موج سے لوگ ہلاك ہوجاتے ہیں ۔
6۔ و فی الكافی باسنادہ عن حمزۃ بن الطیار قال سمعت ابا عبداللہ علیہ السلام یقول لولم یبق فی الارض الا اثنان لكان احدھما الحجۃ؛
حمزہ بن طیار روایت كرتے ہیں كہ امام صادق سے میں نے سنا كہ وہ فرما رہے تھے اگر زمین پر صرف دو شخص رہ جائیں تو ان میں سے ایك یقینا حجت خدا ہے۔
7۔ و فیہ اسنادہ عن كرام قال ابوعبداللہ علیہ السلام لو كان الناس رجلین لكان احدھما الامام و قال ان آخر یموت الامام لئلا یحتج احد علی اللہ عزوجل انہ ترك بغیر حجۃ اللہ علیہ؛
كرام كہتا ہے كہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا اگر زمین پر دو شخص ہوتے تو ان میں یقینا ایك امام ہوتا اور فرمایا وہ جو سب سے آخر میں دار فانی كو وداع كرے گا وہ امام ہے تاكہ كوئی بھی بارگاہ الھی میں یہ احتجاج نہ كرے كہ اسے زمین پر بغیر حجت كے ركھا گیا ہے ۔
امام زمان علیہ السلام كی علمی حوالے سے طولانی عمر
1) آپ كے وجود مقدس پر تاریخی قطعی گواہی
ہم نے بہت سے لوگوں كو اگرچہ اپنی آنكھوں سے نہیں دیكھا لیكن ان كے وجود پر یقین ركھتے ہیں مثلا ہم حضرت ابراھیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، اور حبیب خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ جیسے اولوالعزم انبیاء بلكہ تمام انبیاء كو اپنی آنكھوں سے نہیں دیكھا لیكن ہم ان كے وجود كامل پر یقین ہے، اسی طرح دنیا كے مشہور علماء سقراط، افلاطون، ارسطو، اور پاستور وغیرہ كو نہیں دیكھا لیكن ہمیں ان كے وجود پر بھی یقین ہے، ہمارے یقین كی وجہ كیا ہے؟ كہ تاریخ میں ان كا ذكر آیا ہے، چند مورخین نے ان كے بارے میں لكھا ہے جبكہ امام زمان بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف كہ جن كے وجود مقدس كی ۳۰۰ سے زیادہ بلكہ ایسے پانچ سو مورخین نے گواہی دی ہے كہ جو سب كے سب علم تقوی اور حدیث كے حوالے سے ممتاز شخصیات تھیں تو اس دعوے كے ثبوت كے لئے یہ دلیل آیا كافی نہیں ہے؟
اس كے علاوہ اہل سنت كے بیس دانشور اور علماء نے اپنی علم رجال كی كتابوں میں اسم محمد كے ساتھ امام زمانہ كا نام بھی لكھا ہے اور ان كے حالات زندگی پر بہت سی كتابیں تحریركی ہیں جس طرح كہ سبط ابن جوزی نے تذكرۃ الخواص میں، ابن صباغ مالكی نے فصول مھمہ میں، یوسف گنجی شافعی نے البیان میں، صاحب ینابیع المودۃ نے ،ابن خلكان نے اپنی تاریخ میں اور فرید وجدی نے دائرۃ المعارف میں اسی طرح دیگر بہت سے علماء نے اس حد تك آپ كے بارے میں تذكرہ كیا كہ آپ كے حالات زندگی تواتر كی حد تك پہنچ گئے ہیں كہ جن كے بارے میں كسی قسم كے شك و تردید كی گنجائش نہیں ہے۔
2) علم طبیعات كے ماہرین یہ ثابت كرچكے ہیں كہ مخلوقات كی ہر زندہ قسم كی طبعی عمر اس كےافراد كی معمولا كامل عمر كے سات یا تیرہ برابر ہے تو اس صورت میں اگر سات والے نظریہ كو اختیار كریں تو انسان كی طبعی عمر ۲۸۰ سال ہوگی اس كے علاوہ ماہرین كے نزدیك اگر طبعی اصولوں كی رعایت كی جائے اور غذا كی مقدار اور كیفیت كا مخصوص انداز میں خیال ركھا جائے تو عمر كی یہ مدت بڑھائی جاسكتی ہے اس كی بہت سی مثالیں ہیں مثلا شہد كی مكھی معمولا چار یا پانچ ماہ سے زیادہ عمر نہیں ہوتی حالانكہ ان كی ملكہ جو كہ ان كے چھتے میں رہتی ہے اور وہاں سے غذا لیتی ہے تقریبا آٹھ سال زندہ رہتی ہے ۔
ڈاكٹر جارج ژرژكلبی كہ جو جرمن كی ھال یونیورسٹی كے استاد ہیں، اس نے پانی پر نشو ونما پانے والی ایك بوٹی كہ جس كا نام ساپرولینامكستا ہے، اور اس كی عمر دو ہفتے سے زیادہ نہیں ہے، اس پر تجربہ كیا اور اس كی خاص حالت میں پرورش كی اس كی عمر كو چھ سال تك بڑھایا گویا وہ اپنی معمولی عمر سے ۱۵۶گنا بڑھ گئی اگر اسی اصول كو انسانی عمر میں لائیں اور انسان كی معمول كی عمر ۷۰سال فرض كریں اس تو قانون كے مطابق انسان كی عمر دس ہزار نوسو بیس سال (۱۰۹۲۰)تك بڑھائی جاسكتی ہے، اب یہاں امام زمان كی عمر شریف كا مقابلہ كریں تو ہم دیكھتے ہیں كہ آپ ۲۵۵ ھجری قمری میں پیدا ہوئے اور اب جب كہ ۱۴۲۴ہجری قمری ہے یعنی ۱۲۶۹سال فقط آپ كی عمر ہے ۔
تو ہم دیكھتے ہیں كہ ایسی طولانی عمریں جو پہلے بھی واقع ہوئیں ہیں جیسا كہ شروع میں ہم نے اشارہ كیا بعض انبیاء كی عمریں طولانی ہیں۔یہاں تك كہ شیطان جو كہ شرور میں سے ہے اس كی بھی عمر طولانی ہے اسی طرح تاریخ میں آیا ہے حضرت لقمان كی عمر چار ہزار سال تھی، ایك اخباری رپورٹ كے مطابق ماڈاكاسكار كے جزیرہ میں ایك ایسی مچھلی ملی ہے كہ جس كی عمر كے بارے میں چار سو ملین سال كا اندازہ لگایا گیا ہے، اگرچہ یہ بات بعض كی نظروں میں عجیب ہو لیكن جب ہم قرآن كی اس آیت كو دیكھتے ہیں تو عجیب محسوس نہیں ہوتا كہ جب اللہ تعالی نے حضرت یونس نبی كے بارے میں فرمایا ولولا ان كان من المسبحین للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون یعنی اگر یونس اللہ كی تسبیح كرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تك شكم ماھی میں رہتے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.