تفسیر المیزان میں

450

بعض اوقات كرداركے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے حضرت موسی كوحضرت خضركاكہنا”سانبئك بتاویل مالم تستطع علیہ صبرا” (كہف ۷۸) ترجمہ: میں عنقریب تمہیں ان تمام كاموں كی تاویل بتادوں گاجن پرتم صبرنہیں كرسكے۔
تاویل كامعنی
تاویل چارمواردمیں استعمال ہواہے ان میں سے تین موردقرآن كریم میں استعمال ہوئے ہیں اور چوتھاموردبزرگوں كے كلام میں آیاہے۔
الف) متشابہ كی توحید
یوں ہے كہ ظاہرمبہم اور شبہ پیداكرنے والاہواس كاحق وحقیقت والاپہلوباطل كی طرح جلوہ نماہو۔ گویاحق وباطل كاایك دوسرے پرشبہ ہواور حیرانگی كاباعث بنے راغب اصفہانی كہتے ہیں:
“المتشابہ ماتشابہ بغیرہ”۔
متشابہ وہ ہے جودوسری چیزسے شباہت پیداكرے۔
دوسری چیزسے مردوہی باطل ہے كہ اس كاحقیقی چہرہ باطل كی صورت میں آگیاہو۔پس دیكھنے والاحیرت وسرگردانی میں ہے وہ ونہیں جانتاكہ جودیكھ رہاہے حق ہے یاباطل؟ ایك طرف تویہ كلام صاحب حكمت سے صادرہواہے پس حق ہوناچاہئے لیكن دوسری طرف اس كاظاہرشبہ ناك اور باطل كے مشابہ ہے۔ پس متشابہ (گفتارہویاكردار) كی صحیح تاویل یہ ہے كہ اس سے ابہام كاہالہ دوركیاجائے اور اس كے شبہ كے موارد كودوركیاجائے۔ یعنی لفظ اور عمل كاچہرہ جس طرف حق ہواسی طرف لوٹانااور دیكھنے یاسننے والے كی نظركوبھی اسی طرف متوجہ كرنااس طرح اس كو حیرت وسرگردانی سے نكالناہے البتہ یہ كام صالح علماء كے ہاتھوں انجام پاتاہے۔
پس اہل زیغ (جن كے دلوں میں كجی وانحراف ہے) متشابہات كے پیچھے ہیں تاكہ غیرواضح صورت حال سے سوء استفادہ كریں اور ان كی تاویل اپنے ذاتی منافع اور مفادات كے لئے كریں۔ یہی تاویل غیرصحیح اور باطل ہے جوغیرصالح افرادانجام دیتے ہیں۔ اس اعتبارسے تاویل اور تفسیركے معانی میں فرق ہے۔ تفسیرفقط ابہام كادوكرناہے لیكن تاویل ابہام كودوركرنے كے ساتھ ساتھ شبہ كودوركرنابھی ہے پس تاویل ایك اعتبارسے تفسیربھی ہے۔
ب) تعبیرخواب
سورہ یوسف میں تاویل آٹھ مرتبہ اس معنی میں استعمال ہواہے۔ معنی ومراد یہ ہے كہ خواب میں میں رمزورازكی صورت میں بعض مطالب پیش كئے جاتے ہین تاكہ اس كی صحیح تعبیرسے حقیقت مرادكوكشف كیاجائے۔
حضرت یعقوب حضرت یوسف كے بارے میں كہتے ہیں:
وكذلك یجتبیك ربك ویعلمك من تاویل الاحادیث ویتم نعمتہ علیك۔یوسف ۶۔
ترجمہ: اسی طرح اللہ تعالی تمہارا انتخاب فرمائے گااور تمہیں باتوں كی تاویل (حقائق كوآشكار كرنے) كی تعلیم دے گااور اپنی نعمت كوتم پرتمام كرے گایہ ان مطالب كی طرف اشارہ ہے جوخواب میں جلوہ گرہوتے ہیں تاكہ ان میں موجودپوشیدہ حقائق كوان كی طرف لوٹایاجائے جب كہ ان حقائق كوحضرت یوسف جیسی شخصیات جانتی ہیں۔ پس عزیزمصرنے خواب میں دیكھاكہ سات لاغرگایوں كوسات موٹی گائیں كھارہی ہیں اور سات ہری بالیوں كے ساتھ سات خشك بالیوں كامشاہدہ كیاتوا س نے اپنے اطرافیوں سے اس كی تعبیركے بارے میں پوچھاتوانہوں نے جواب دیا:یاایھاالملاء افتونی فی رؤیای ان كنتم للرؤیا تعبرون
ائے بزرگان قوم مجھے میرے خواب كی تعبیربتاؤاگرتم خوب كی تعبیرجانتے ہو۔تونجات یافتہ قیدیوں میں سے ایك نے كہا:
اناانبئكم بتاویلہ فارسلون یوسف ایھاالصدیق افتنافی سبع بقرات……
ترجمہ: میں تمہیں اس كی تعبیرسے آگاہ كرتاہوں مگرمجھے بھیج دو۔یوسف اے سچے انسان ہمیں ان سات گایوں كے بارے بتاؤ…یوسف نے جواب دیایہ غلے كی فراوانی اور پھرخشك سالی كے سالوں كی طرف اشارہ ہے۔
ج) انجام كار
وزنوابالقسطاس المستقیم ذلك خیر واحسن تاویلا۔ بنی اسرائیل ۳۵۔
اور جب ناپوتوپوراناپواور جب تولوتوصحیح ترازوسے تولو (كیونكہ) یہی بہتراور بہترین انجام كارہے۔
سورہ اعراف ں۵۳ میں ارشادہے:
كیایہ لوگ صرف انجام كاركاانتظاركررہے ہیں توجس دن انجام سامنے آجائے گاتوجولوگ پہلے اسے بھولے ہوئے تھے وہ كہنے لگے كے بے شك ہمارے پروردگاركے رسول صحیح ہی پیغام لائے تھے۔
سورہ نساء ۵۹میں ارشادباری تعالی ہے:
ایے ایمان والواللہ كی اطاعت كرواور رسول اور صاحبان امركی اطاعت كروپس اگركسی امرمیں تمہارے مابین اختلاف ہوجائے تواسے اللہ اور رسول كی طرف پلٹادواگرتم اللہ اور یوم آخرت پرایمان ركھتے ہوتمہارے لئے یہی بہتراور بہترین انجام كارہے۔
د) كلی مفاہیم اخذكرنا
شایدبزرگان دین كے كلام میں اہم ترین معنی یہی ہے یہ معنی تنزیل كے مقابل ہے یہ واضح رہے كہ قرآن حكیم رائج كتابوں كی طرح منظم ومنسجم نہیں ہے بلكہ مختلف واقعات وحوادث كی مناسبت سے نازل ہواان واقعات كوسبب نزول یاشان نزول كہتے ہیں۔یہ امرموجب بنتاہے كہ ہرآیہ مجیدہ كاصرف ایك خاص معنی ومفہوم ہو۔ اگرایساہوتویقینا قرآن حكیم سے وقتی طورپراستفادہ ہوسكتاہے۔ جب كہ ایسانہیں ہے۔ قرآن حكیم ایك زندہ وجاویدكتاب ہے جوسب زمانوں كے انسانوں كی رہبری، ہدایت اور راہنمائی كے لئے نازل ہوئی ہے پس مواردنزول، آیات كے معانی ومفاہیم كی تخصیص كاباعث نہیں بنتے بلكہ انہی سے كلی مفاہیم قرآن كریم كوزندہ وجاویدركھتے ہیں جن كوتاریخ بشریت كے مشابہ واقعات سے مطابقت دی جاسكتی ہے اسكی وجہ یہ ہے كہ “العبرة بعموم اللفظ لابخصوص المورد” عبرت لفظ كی عمومت سے ہوتی ہے نہ كہ موردكی خصوصیت سے ۔ اسی لئے آیہ مجیدہ كے ظاہری پہلوؤں كی تنزیل كہتے ہیں۔ قرآن كریم كی تمام آیات اس اعتبارسے قابل “تاویل” ہیں جب كہ ا س سے قبل تاویل كامعنی متشابہ آیات كی توجیہ كرنابیان ہواہے۔ی
ہی كلی مفاہیم جوآیت كے پیام كو زندہ و جاوید بنادیتاہے ان كوبطن بھی كہاجاتاہے۔
اس كوباطن اس لئے كہاجاتاہے كیونكہ عام اور پنہاں معنی ظاہری لفظ كے پس پردہ ہوتاہے۔
ا سكے مقابل “ظہر”ہے جس كامعنی وہی ظاہری كلام ہے جوموجود قرائن پرانحصاركرتاہے اس طرح اس كوخاص موردسے مخصوص كردیتاہے۔
“ظھر و بطن” كو روز اول سے آنحضرت نے تنزیل وتاویل كے مترادف كے طورپرارشادفرمایا:
مافی القرآن آیة الا ولھا ظھور و بطن
ترجمہ قرآن میں ہرایك آیت كاایك ظاہراور ایك باطن ہے۔
فضیل بن یسارامام ابوجعفر باقر علیہ السلام سے اس حدیث نبوی كے بارے میں سوال كرتے ہں كہ ظاہر و باطن سے كیامراد ہے؟ توحضرت ارشاد فرماتے ہیں:
ظھرتنزیلہ وبطنہ تاویلہ منہ ماقدمضی ومنہ مالم یكن یجری كما تجری الشمس والقمر 1
ترجمہ: اس كاظاہر (وہی) تنزیل ہے اور اس كاباطن ا س كی تاویل ہے۔ اس میں سے كچھ تووہ ہے جوگزرگیااور كچھ وہ ہے جونہ تھااور جاری ہوجاتاہے جیسے شمس وقمرحركت میں ہیں۔ی
ہاں سب سے اہم معانی پہلااور آخری معنی ہے جوبزرگان اسلام كے كلام میں نظرآتے ہیں ان كے لئے تفسیركی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے۔۱۔ تاویل كامعنی متشابہ كی توجییہ كرناخصوصامتشابہ آیات كی۔
2۔ تاویل بمعنی باطن جب كہ آیت كاپیغام عمومی ہے اور یہ چیزسارے قرآن كریم میں جاری وساری ہے۔
عینیت تاویل كانظریہ
تاویل كے گزشتہ معانی مشہورعلمائے اسلام كانظریہ ہے كہ جس كوسب سے پہلے ابن تیمیہ نے پیش كیااور اسی كوعلامہ طباطبائی نے انتہائی گہرائی وگیرائی اور بہت صاف وشفاف اندازسے بیان فرمایاہے گویاحق مطلب اداكیاہے۔
ابن تیمیہ كاكہناہے كہ “تاویل تفسیركے مقابل ایك اصطلاح ہے جومتاخرین میں رائج ہے اس سے باطنی مرادلیتے ہیں جوظاہری معانی كے مقابل ہیں جب كہ ظاہری معانی كوتفسیركہتے ہیں۔
ایك اور مقام پرابن تیمیہ كے بقول گزشتہ علماء كی اصطلاح میں تاویل كے دومعانی ہیں۔
۱۔ كلام كامعنی اور تفسیربیان كرنا۔ طبری كی عبارت یوں ہے “الكلام فی تاویل ہذہ الآیة۔ اس آیت كی تاویل میں كلام یہ ہے كہ یااختلاف اہل التاویل فی ہذہ الآیة ۔ اس آیت كے معنی مین اہل تاویل نے اختلاف كیاہے یہاں تاویل سے مرادآیت كی تفسیرہے۔
۲۔ جان كلام اور حقیقت مراد۔ یعنی اگركلام میں “طلب” پائی جاتی ہوتواسكی تاویل درحقیقت “مطلوب” ہے اور اگرخبرموجودہوتواس كی تاویل درحقیقت وہ چیزہے جس سے خبردی گئی ہے تاویل اس اعتبارسے ایك تیسرامعنی اور گزشتہ دومعانی سے بہت مختلف ہے كیونكہ ان دومعانی میں تاویل، علم اور كلام (گفتگو) كی طرح ہے ك جس طرح تفسیریاشروح وتوضیح ہے اس میں تاویل قلب وزبان كی طرح ہے جوذہنی وكتبی وجودركھتی ہے لیكن تاویل كاتیسرامعنی صرف وجود خارجی ركھتاہے گزشتہ یاآیندہ ۔اگركہاجائے “طلعت الشمس” تواس كی تاویل وہی طلوع آفتاب ہے جوخارج میں متحقق ہے۔ یہ تیسرامعنی وہی لغت قرآن ہے جس پرنازل ہواہے۔
علامہ طباطبائی كانظریہ
علامہ طباطبائی ابن تیمیہ كے نظریہ كی بعض جوانب كوقابل اعتراض قراردیتے ہیں البتہ اصل نظرئیے كوقبول كرتے ہیں۔ ابن تیمیہ كے كلام كوپیش كرنے كے بعدفرماتے ہیں:
لكنہ اخطاء فی عدكل امرخارجی مرتبط بمضمون الكلام، حتی مصادیق الاخبار الحاكیة عن الحوادث الماضیة والمستقبلہ تاویلا للكلام 2
ترجمہ: لیكن ابن تیمیہ نے مضمون كلام سے مربوط ہرامرخارجی (حتی ماضی ومستقبل كے حوادث كی حكایت كرنے والی خبروں كے مصادیق) كوبھی كلام كی تاویل قراردیتے ہوئے خطاكی ہے۔
الحق فی التفسیرالتاویل انہ الحقیقة الواقعیة التی…قال تعالی والكتاب المبین اناجعلناہ قرآناعربیالعلكم تعقلون وانہ فی ام الكتاب لدینالعلی حكیم 3
ترجمہ: تاویل كی تشریح وتفسیرمیں حق مطلب یہ ہے كہ یہ ایك ایسی حقیقت واقعیہ ہے جس پرقرآنی حكم، موعظہ اور حكمت دلالت كرتے ہیں اور یہ قرآن حكیم كی تمام محكم ومتشابہ آیات میں موجودہے۔ یہ ان مفاہیم كی طرح نہیں ہے جن پرالفاظ دلالت كرتے ہیں بلكہ اس كاتعلق ان عینی ومتعالی امور (عظیم خارجی امور)سے ہے جودائرة الفاظ سے باہرہیں۔ ان اموركواللہ سبحانہ نے الفاظ كے ساتھ اس لئے مقیدفرمایاہے تاكہ ہمارے اذہان كے قریب ہوجائیں۔ پس یہ الفاظ مثالوں كیطرح ہیں جن كومقاصدواہداف سے قریب ترہونے كے لئے پیش كیاجاتاہے اور ان كی تشریح سامع یامخاطب كے فہم وادارك كے مطابق كی جاتی ہے ارشادباری تعالی ہے “اور كتاب مبین۔ہم نے قرآن كوعربی میں قراردیا تاكہ تم تعقل سے كام لو۔اور بے شك یہ ہمارے پاس لوح محفوظ (ام الكتاب) میں نہایت بلنددرجہ اور پرازاحكمت ہے۔
علامہ طباطبائی ایك اور مقام پرارشادفرماتے ہیں آیت كی تاویل سے مرادوہ مفہوم مراد نہیں ہے جس پرآیت دلالت كرتی ہے مساوی ہے كہ یہ مفہوم ظاہرآیت كے مخالف ہویا موافق۔ بلكہ تاویل امور خارجیہ میں سے ہے البتہ امرخارجی نہیں تاكہ خبركاخارجی مصداق اس كی تاویل قرارپائے بلكہ یہ ایك خاص امرخارجی ہے۔ كلام سے اس كی نسبت ایسے ہے جیسے ممثل كی نسبت مثال سے اور باطن كی ظاہرسے 4 ایك اور جگہ فرماتے ہیں “وتاویل القرآن ہوالماخذالذی یاخذمنہ معارفة”5
قرآن كی تاویل وہ ماخذہے جس سے قرآنی معارف كواخذكیاجاتاہے۔
ان عبارتوں میں تین تعبیرات استعمال ہوئی ہیں۔
الف: حقیقت
ب: واقعیت عینیت۔
پس علامہ كی نظرمیں تاویل عالم ذہن سے ایك جدا حقیقت ہے كیونكہ اذہان میں مفاہیم سے بڑھ كے كچھ نہیں ہوتابس مفاہیم كسی چیزكاسرچشہ قرار نہیں پاسكتے كیونكہ مفاہیم تو خود حقائق واقعیہ سے نكلتے ہیں۔
دوسرے یہ كہ تاویل چونكہ قرآن كاباطن ہے اور باطن ظاہری كامنبع ہے جب كہ ظاہرجوكچھ ہوتاہے وہ پوشیدہ حقائق كا ایك پرتو ہے۔ پس قرآن كی حقیقت اس كے باطن اور تاویل سے تشكیل پاتی ہے اس طرح كہ الفاظ وعبارات كے ظواہركاسرچشمہ یہی ہیں اس كی مثال وجودانسانی میں روح كی سی ہے۔
قابل ذكرنكتہ یہ ہے كہ مذكورہ تینوں تعبیرات میں ایك قیداحترازی موجودہے گویاواقعیت كہنے سے توہمات اور اوہام كی نفی كی ہے۔
حقیقت جوكہاہے تواس لئے كہ كہیں اموراعتباریہ محض كاگمان نہ ہواور عینیت كہنے سے ذہنیت (امورذہنی) كی نفی كی ہے تاكہ یہ گمان نہ ہوا س كاتعلق مفاہیم سے ہے اور اس كامقام ذہن ہے البتہ عینیت سے مراد عینیت مصداقی نہیں ہے جیساكہ ابن تیمیہ كے كلام میں ہے بلكہ فقط خارج ازذہن ہونا مقصودہے۔ اسی اعتبارسے سورہ نساء كی آیت ۵۹ كی تفسیرمیں فرماتے ہیں، التاویل ہوالمصلحة الواقعیة التی ینشاء منھاالحكم ثم لتترتب علی العمل 6
تاویل وہ مصلحت واقعیہ ہے جس سے حم نشات پكڑتاہے پھریہ مصلحت عمل پرمترتب ہوتی ہے۔
پس علامہ كی نظرمیں تاویل ایسی واقعیت ہے جوحقیقت عینی ركھتی ہے اور حقیقت سے مرادیہ ہے كہ امرذہنی نہیں ہے تاكہ اس كومعانی ومفاہیم میں سے شماركیاجائے بلكہ ایك ایسی حقیقت ہے جوتمام قرانی احكام، تكالیف، آداب اور موعظہ كاسرچشمہ ہے قرآنی تعلیمات اور حكمتیں اس سے پھوٹتی ہیں۔
علامہ نے مندرجہ ذیل تین مواردكابیان فرمائے ہیں:۱۔ تاویل القرآن ہو الماخذ الذی یاخذ منہ معارفہ 7
۲۔ نسبة الممثل الی المثل 8
۳۔ والباطن الی الظاہر 9
یہاں ہم ان تین نكات كاتفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
۱۔ تاویل القرآن ہو الماخذ الذی یاخذ منہ معارفہ۔
اس سلسلے میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: جوكوئی بھی قران حكیم كی آیات میں تدبركرے توناچار اس نتیجہ پرپہنچے گاكہ قرآن جو پیامبر اسلام (ص) پرتدریجا نازل ہوااس كااسی حقیقت پرانحصارہے ایسی حقیقت جوعمومی اذہان كے ادراك سے ماور اء ہے۔ نفسانی خواہشات اور كثافتوں سے آلودہ ہاتھ اس كودرك یالمس نہیں كرسكتے “لایمسہ الا المطہرون۔ قرآن كامقصود نہائی اور مطلوب غائی جوكچھ بھی تھاسب كاسب شب قدر اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم كوسكھادیا اور اس حقیقت كوایك ہی مقام پریكجانازل فرمایا 10
مزیدفرماتے ہیں: تاویل ایك ایسی خارجی حقیقت ہے جوموجب بنتی ہے تاكہ كوئی حكم وضع ہو، كوئی معرفت بیان ہویاكوئی واقعہ بیان كیاجائے۔ یہ حقیقت ایسی چیزنہیں ہے جس پرقرآنی ظواہرصراحتادلالت كریں البتہ یہ ظواہراسی حقیقت سے ماخوذہیں اور یہ بھی كہ اس كاایك اثرہیں اس طرح كہ اس حقیقت كی حكایت یااس كی طرف اشارہ كرتے ہیں 11
اس مطلب كی مزیدتشریح فرماتے ہیں:
جوكوئی “اسقنی”12 كاحكم دیتاہے یہ حكم اس كی اس فطرت سے ہے جوطالب كمال ہے۔ یہ خارجی حقیقت (طلب كمال كی فطرت) تقاضاكرتی ہے كہ انسان اپنے وجودكی حفاظت اور اپنی بقاء كی كوشش كرے۔
اسی طرح اس كے بدن سے اگركوئی چیز تحلیل یا ضائع ہوگئی ہوتوا سكا تدارك كرے۔
مناسب خوراك طلب كرے، پیاس بجھانے كاتقاضاكرے نتیجہ پانی پینے كاحكم صادركرے۔
فتاول قولہ اسقنی ہوماعلیہ الطبیعة الخارجیة الانسانیة من القضاء الكمال فی وجودہ وبقائہ 13
پس تاویل اور پانی كی فراہمی كے حكم میں بازگشت انسانی طلب كمال كی فطرت ہے یہ حكم اس حقیقت كی حكایت كررہاہے اور اس واقعیت كی طرف اشارہ ہے اس كی مزید توضیح سورہ كہف كی آیت۸۲ مالم تستطع علیہ صبرا كی تفسیرمیں فرماتے ہیں:
قرآنی عرف میں كسی چیزكی تاویل ایك ایسی حقیقت ہے جس پراس شئی كی بنیاد واساس ہوتی ہے اور اسی كی طرف وہ بولتی ہے جیسے خواب كی تاویل اس كی تعبیرہے، حكم كی تاویل اس كامعیاروكسوٹی ہے، فعل كی تاویل اس كی مصلحت وحقیقی غایت ہے، واقعہ كی تاویل اس كی حقیقی علت وسبب ہے اور اسی طرح… 14
حكم (وضعی اور تكلیفی شرعی احكام) كی تاویل اس حكم كی تشریع (قانون سازی) كامعیارہے كیونكہ شرعی احكام حقیقی معیارات اور مصلحتوں كے تابع ہیں یہی معیارات یامصلحتیں اس حكم كی تشریح كاموجب بنتے ہیں۔
عاقل كوی فعل بھی انجام نہیں دیتامگریہ كہ اس میں كوئی مصلحت پائی جاتی ہواور كسی ہدف كے حصول كے خاطرہو۔
پس ہرچیزكی تاویل اس كے اپنے دائرہ وجودمیں اس كی بنیادواساس ہے جواس كے ہدف وغایت كوتشكیل دیتی ہے۔
تاویل كالفظ قرآن كریم میں سترہ بار، پندرہ آیات اور سات سورتوں میں استعمال ہوہے 15
ان كے بارے میں فرماتے ہیں “لم یستعمل القرآن لفظ التاویل فی المواردالتی استعمل الافی ھذالامعنی 16
ترجمہ: قرآن كریم نے جن مواردمیں بھی لفظ تاویل استعمال كیاہے فقط اسی معنی میں استعمال كیاہے۔ اس مقصدكے لئے ہم بعض آیات كی تشریح كررہے ہیں۔
1۔ اعراف ۵۲، ۵۳، ولقد جئناہم بكتاب …ھل ینظرون الا تاویلہ یوم یاتی تاویلہ…۔
ان آیات كی تفسیر میں علامہ طباطبائی بیان فرماتے ہیں یوم یاتی تاویلہ۔ كی ضمیر پوری كتاب كی طرح لوٹتی ہے كیونكہ قرآن كی اصطلاح میں تاویل وہی حقیقت ہے جس پرقرآن كاانحصارہے… ھل ینظرون الاتاویلہ ۔ كامعنی یہ ہے كہ كس كاانتظاركررہے ہیں سوائے اس حقیقت كے كہ جوقرآن كریم كامحرك اور بنیادہے اور اب خوداپنی آنكھوں سے دیكھ رہے ہیں 17
2۔ یونس ۳۹۔بل كذبوا بمالم یحیطوابعلمہ ولما یاتھم تاویلہ۔
انہوں نے ایسی چیزكی تكذیب كی كہ جس كوجان نہ سكے تھے۔ پس ان كی نادانی وجہالت ان كے جھٹلا نے كاسبب بنی یعنی اس كی تاویل جاننے سے قبل انہوں نے ا س كوجھٹلادیا۔قیامت كے دن كی حقیقت آشكارہوجائے گی اور اس كامجبور مشاہدہ كریں گے۔ اس دن جس دن پردے ہٹ جائیں گے اور تمام كے تمام حقائق برملاہوجائیں گے۔
البتہ این آیات میں مشاہدہ سے مرادلمس حقیقی ہے جس كاپہلے سے انكار كرچكے تھے خود علامہ فرماتے ہیں۔ وبالجملة مایظھرحقیقتہ یوم القیامة من انباء النبوة واخبارھا 18
انبیاء علیھم الاسلام كی دعوت واخبارمیں جوكچھ بیان ہواہے قیامت كے دن اس كی ساری حقیقت ظاہرہوجائے گی۔
البتہ اس دنیامیں حقائق كاآشكارہوتااور عالم آخرت میں حقائق كاہویداہوناان دونوں میں فرق ہے اس بارے میں فرماتے ہیں “اس دن پردوں كاآنكھوں سے اٹھنا اور اس وقت آنكھوں كابہت روشن ہونااس مطلب كی طرف اشارہ ہے كہ اس دن انبیاء (ع) اور الہی شریعتوں كے بتائے ہوئے معاملات كادیكھناحسی مشاہدہ سے ہٹ كے ہے جس كے ہم لوگ عادی ہوچكے ۔اسی طرح خبروں كاانجام پانااور محقق ہونااور اس دن كاحاكم نظام سب كچھ اس چیزكے علاوہ ہے جس سے ہم اس دنیامیں آشناہیں۔
بنی اسرائیل ۳۵، واوفوا الكیل اذاكلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم ذلك خیرو احسن تاویلا۔
اس آیت كی تفسیركے بارے میں فرماتے ہیں “آیت كاظاہریہ ہے كہ تاویل ایك خارجی امر اور عینی اثرہے جوخارجی فعل پرمترتب ہوتاہے كیونكہ تاویل ایك خارجی امرہے جوایك دوسرے امر خارجی كے لئے منبع ومرجع بنتاہے۔
پس اس آیت كی اس تفسیر كوقبول نہیں فرماتے۔ كیل كاپوراكرنے اور وزن قائم كرنے كی تاویل وہی مصلحت ہے جوان دوپرمترتب ہوتی ہے اور وہ مصلحت معاشرتی امور كاقیام واستحكام ہے۔
اس كے قبول نہ كرنے كی وجہ بیان فرماتے ہیں كہ یہ امور عینی نہیں ہیں 19
تاہم اس آیة مجیدہ كے ذیل میں اس نظرئیے كوقبول كرتے ہیں 20
كہف ۸۷۔سانبئك تباویل مالم تستطع علیہ صبرا۔
اس آیت كی تفسیرمیں فرماتے ہیں: اس آیة مجیدہ میں تاویل سے مرادوہ صورت نہیں جوحضرت موسی نے انجام شدہ امورمیں دیكھی۔
كشتی میں سوراخ كے واقعہ میں اس كے سوارافرادكے ڈوب جانے كی بری تصویر حضرت موسی نے تصوركی لیكن آپ كے راہنمانے ایك دوسرارخ پیش كیااور كہا: یہ كشتی چند مساكین كی تھی جوسمندرمیں باربرداری كاكام كرتے تھے میں نے چاہاكہ ا س كوعیب داربنادوں كہ ان كے پیچھے ایك بادشاہ تھا جوہر كشتی كوغصب كرلیاكرتاتھا۔
بچے كے قتل كے واقعہ میں حضرت موسی نے جومحسوس كیاوہ یہ تھا: موسی نے كہا كیاآپ نے ایك پاكیزہ نفس كوبغیركسی نفس كے قتل كردیاہے یہ بڑی عجیب سی بات ہے (كہف۷۴)۔
لیكن حضرت موسی كے راہنمانے اس واقعہ كی ایك اور صورت پیش كی۔
اور یہ بچہ ۔اس كے ماں باپ مومن تھے اور مجھے خوف معلوم ہواكہ یہ بڑاہوكرسركشی اور كفركی بناپران سختیاں كرے گا۔ تومیں نے چاہاكہ ان كاپروردگار نہیں اس كے بدلے ایسا فرزند دیدے جوپاكیزگی میں اس سے بہترہواور صلہ رحم میں بھی۔ (كہف۸۰۔۸۱)۔
دیوار كھڑی كرنے كے واقعہ میں بھی حضرت موسی كاتصوراور ان كے راہنما كاتصور مختلف تھا۔
اس كے آخرمیں علامہ طباطبائی بیان فرماتے ہیں: پس ان آیات میں تاویل سے مرادہر چیزكی بازگشت اس كی حقیقی صورت اور اس كے اصلی عنوان كی طرف ہے 21
یہاں یہ نكتہ بہت قابل توجہ ہے كہ حضرت موسی كے راہنمانے كلام خودسے شروع كیا اور انتہائے امرخداتعالی كے سپردكیا مثلا:
۱۔ كشتی كے غرق كے معاملہ میں كہتے ہں: فاردت …میں نے چاہاكہ كشتی كونقصان پہنچاؤں…
2۔ لڑكے كے قتل كے واقعہ میں كہتے ہیں: فخشیناان یرھقھما… ہمیں خوف تھاكہ اس كے والدین پرغالب آجائے…
3۔ آخرمیں فقط اللہ تبارك تعالی كے كلام كونقل كیاہے:
فارادربك… پس تمہارے رب نے چاہے…
۴۔ اس طرح اپنے اور پرسے ذمہ داری كی نفی كرتے ہوئے كہا: ومافعلہ عن امری …میں نے خودسے كوئی امرانجام نہیں دیا…۔
۵۔ اور انہوں نے والدین كوتخت كے بلندمقام پرجگہ دی اور سب لوگ یوسف كے سامنے سجدہ میں گرپڑے اور یوسف نے كہابابایہ میرے اس سے قبل كے خواب كی تاویل ہے جسے میرے پروردگارنے سچ كردكھایاہے۔ (یوسف۱۰۰)۔
علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: اس آیت میں تاویل رجوع كے معنی میں ہے تاہم یہ مثال كاممثل (جس كی مثال دی گئی ہے) سے رجوع ہےں۔ عزیز مصركاخواب، حضرت یوسف كے ہمراہ قیدیوں كاخواب اور اس سورہ كی دیگرآیات ان تمام مواردمیں تاویل یعنی واقعیت وحقیقت كی صورت ہے جوخواب میں پیش كی گئی ہے اور مثال كے طورپرہے۔یہ مثال اس صورت میں ایك پوشیدہ حقیقت كی حكایت كررہی ہے 22
آخرمیں نتیجہ نكالتے ہوئے فرماتے ہیں:
اولا۔تاویل اس معنی میں آیات متشابہ سے مخصوص نہیں ہے ۔
ثانیا۔ تاویل مفاہیم (معانی ذہنیہ) میں سے نہیں ہے جوالفاظ وعبارات كامدلول ہوبلكہ امورخارجی میں ہے كہ جوعینیت ركھتے ہیں 23
البتہ علامہ كامقصود خارجی مصداق نہیں بلكہ حقیقت و واقعیت ہے جوكلام كے ہدف كوتشكیل دیتی ہے اور اس كاتحقق عینی طورپرہے فقط وہم یا اعتبار محض نہیں ہے حضرت موسی كے ساتھ كلام میں تغیرممكن ہے اسرار عالم سے آہستہ آہستہ آگاہ كرنے كے لئے ہوا اور یہ كہ عالم آفرینش كے نظام پرحاكم مصلحتیں تمام كی تمام ارادہ مشیت الہی كے تابع ہیں۔ اسی كوسنت الہی كہتے ہیں جونظام خلقت میں جاری وساری ہے۔
ولن تجد لسنة اللہ تبدیلا (فتح۲۳)۔
ترجمہ: اور اللہ كی سنت میں ہرگز تبدیلی نہ پاؤگے۔
البتہ علامہ طباطبائی كایہ نظریہ موردتنقید واقع ہواہے جس كاخلاصہ یہ ہے كہ نہ تومتشابہ كی تاویل اور نہ ہی آیت كے باطن كامعنی كوئی بھی تفسیركے دائرہ سے باہرنہیں ہیں اور ان كوحقیقت عینی یاواقعیت خارجی كے معنی میں قبول نہیں كیاجاسكتا۔
۲۔ باطن، ظاہركی نسبت
قرآنی تاویل الفاظ ومعانی كے پس پردہ ایك پوشیدہ حقیت ہے۔ وجود باطنی، وجودظاہری كے مقابل ایك اصلاح ہے اور اس كامطلب ایك حقیقی وجود یا ثابت چیزكاظاہری وجود یازائل ہونے والی چیزكے مقابل ہوتاہے۔
علامہ قرآن كریم كے لئے وجودلفظی وكتبی كے علاوہ ایك اور وجودكے قائل ہیں جبكہ قرآن كریم كی حقیقت اسی سے وابستہ ہے یہ وجود، جسم میں روح كی مانندہے یہ وہی ہے كہ شب قدرایك ہی مقام پرپیامبراكرم پرنازل ہوا۔ اس آیت شہررمضان الذی انزل فیہ القرآن…بقرہ۱۸۵۔ كے بارے میں فرماتے ہیں:
قرآن كریم جس حقیقت كوہم درك كرتے ہیں اس سے جداایك حقیقت ركھتاہے اور وہ تجزیہ وتفصیل سے خالی ہے كتاب احكمت آیاتہ ثم فصلت من لدن حكیم خبیر۔ (ہود۔۱)۔یہاں احكام (حكمت) تفصیل (فصلت) كے مقابل ہے قرآن كریم درحقیقت وحدت كامل كی صورت میں تھااس میں تفاصیل جونظرآتیں ہیں وہ بعدمیں اس پرعارض ہوئی ہیں۔
اعراف۔۵۲اور یونس۳۹كی آیات بھی اس امركی طرف اشارہ ہیں كہ قرآن كریم كاسورہ، سورہ ہونااور آیت، آیت ہونایااس كاتدریجی نزول یہ عارض اور اجزاء سے جدا ایك حقیقت ركھتی ہے جوبہت ہی باعظمت اور لوح محفوظ میں ناپاكوں كی دسترسی سے دورہے جیساكہ الہ العالمین كاارشادقدسی ہے۔
“بل ہو قرآن مجید فی لوح محفوظ۔ (بروج۲۱، ۲۲)۔
ترجمہ: بلكہ یہ قرآن مجیدہے جولوح محفوظ میں (محفوظ) ہے۔
فی كتاب مكنون لایمسہ الا المطہرون۔ (واقعہ۷۸۔۷۹)۔
ترجمہ: یہ (قرآن كریم) ایك پوشیدہ كتاب میں ہے جسے پاك وپاكیزہ انسانوں كے علاوہ كوئی مس نہیں كرسكتا۔یہ وہی كتاب مبین ہے كہ جس كوعربیت كالباس پہنایاگیاہے۔
حم ۔والكتاب المبین اناجعلناہ قرآنا عربیا لعلكم تعقلون۔ وانہ فی ام الكتاب لدینا لعلی حكیم (زخرف۱، ۴)۔
ترجمہ: حم۔ اس روشن كتاب كی قسم بے شك ہم نے اسے عربی میں قرآن قراردیاہے تاكہ تم سمجھ سكواور بے شك یہ ہمارے پاس لوح محفوظ (ام الكتاب) میں نہایت بلنددرجہ اور پرازحكمت ہے۔
پس قرآن كریم كاعربی كے لباس سے آراستہ ہونااور اس میں نظرآنے والاتجزیہ وتفصیل یہ حقیقت واصل قرآن سے جداہے اور وہ حقیقت اسی طرح اپنے باعظمت مقام پرمستقرہے۔ اس بارے میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں:
كتاب مبین كوقرائت اور عربیت كالباس پہنایاگیاہے تاكہ انسان تعقل كریں ورنہ یہ اللہ تعالی كے یہاں ام الكتاب میں محفوظ ہے یہ كتاب “علی” ہے یعنی انسانی عقول كی اس تك دسترس نہیں اور حكیم ہے یعنی اس میں فصل، فصل، یاجزء جزء نہیں ہے… پس الكتاب المبین۔ جوآیت میں ہے یہ القرآن العربی المبین۔ كی اصل ہے…قرآن كریم كی موقعیت الكتاب المكنون میں ہے …جب كہ تنزیل اس پربعدمیں حاصل ہوئی ہے ام الكتاب جس كوہم حقیقةالكتاب كہتے ہیں یہ معنی كہ قرآن كریم، كتاب مبین كی نسبت مرتبہ تنزیل پرہے یعین ملتبس كے لباس كی طرح ہے، حقیقت كی مثال كی مانندہے یاغرض ومقصودكلام كی مثال كے طورپرہے _ 24
۳۔ ممثل (جس كی مثال دی گئی ہے) كی نسبت مثال
كلام میں مثال مقصودومرادكو رشن كرنے كے لئے لائی جاتی ہے “المثال یوضح المقال” مثال سے مطلب بہترآشكار ہوتاہے۔ مثال اذہان كوقریب كرنے كے لئے ہوتی ہے مثال جتنی گہری ہوگی مطلب اتناہی واضح وروشن ہوجاتاہے یہی سبب ہے كہ قرآن حكیم نے اس روش سے خوب استفادہ كیاہے۔
ان اللہ لایستحی ان یضرب مثلامابعوضة فمافوقھا۔
اللہ تعالی نے بے شك مچھریااس سے بھی چھوٹی مثال دینے سے نہیں جھجكتا۔ بقرہ۲۶۔
وتلك الامثال نضربھاللناس لعلہم یتفكرون (الحشر۲۱)۔یہ مثالیں ہم لوگوں كے لئے اس لئے بیان كرتے ہیں تاكہ تفكركریں۔
ویضرب اللہ الامثال لعلہم یتذكرون (ابراہیم۲۵)۔
اللہ تعالی لوگوں كے لئے مثالیں اس لئے بیان فرماتاہےے تاكہ شایدان كے لئے یاددہانی ہوجائے۔
اس بارے میں علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: مثال اگرچہ موردمثال پرمنطبق نہیں ہوتی تاہم اس سے حكایت كرتی ہے كیونكہ موردمثال كی وضیعت اور حالت كوروشن كرتی ہے۔ تمام آیات قرآنی میں قرآنی اوامر ونواہی اور ظواہرقرآن میں تاویل بھی اسی طرح ہے جواس كی كامل حقیقت كوبیان نہیں كرتی اگرچہ اسی كلام كے گوشہ وكنارمیں حقیقت بھی جلوہ نمائی كررہی ہوتی ہے ۔ 25
1. بصائرالدرجات۔صفارص۱۹۵۔
2. تفسیرالمیزان ج۳ص۴۸۔
3. تفسیرالمیزان ج۳ص۴۹۔
4. تفسیرالمیزان ج۳ص۴۶۔
5. تفسیرالمیزان ج۳ص۲۱۔
6. تفسیرالمیزان ج۴ص۴۲۸۔
7. تفسیرالمیزان ج۳ص۲۱۔
8. تفسیرالمیزان ج۳۔
9. تفسیرالمیزان ج۳ص۲۶۔
10. تفسیرالمیزان ج۳ص۱۶۔
11. تفسیرالمیزان ج۳ص۵۳۔
12. مجھے سیراب كرو۔
13. تفسیرالمیزان ج۳ص۵۳۔
14. تفسیرالمیزان ج۱۳ص۳۷۶۔
15. آل عمران، ۷نساء۔۵۹، اعراف۵۳، یونس۳۹، یوسف۶، ۲۱، ۳۶، ۳۷، ۴۴، ۴۵، ۱۰۰، ۱ ۱۰، بنی اسرائیل ۳۵، كہف۷۸، ۸۲۔
16. تفسیرالمیزان ج۳ص۴۹۔
17. تفسیرالمیزان ج۸ص۱۳۷۔
18. تفسیرالمیزان ج۳ص۳۲، ۲۴۔
19. تفسیرالمیزان ج۳ص۲۳۔
20. تفسیرالمیزان ج۳ص۹۶۔
21. تفسیرالمیزان ج۳ص۲۳۔۲۴۔
22. تفسیرالمیزان ج۳ص۲۴۔۲۵۔
23. تفسیرالمیزان ج۳ص۲۵۔
24. تفسیرالمیزان ج۲ص۱۴۔۱۶۔
25. تفسیرالمیزان ج۲ص۱۴۔۱۶۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.