امامت كے وجوب پر ادلہ

294

1. قانون لطفایك عقلی دلیل و برهان كه جس كی بنا پر اكثر متكلمین نے وجوب امامت پر استدلال كیا قاعده لطف هے شیخ طوسی علیه الرحمۃ فرماتے هیں: لطف وه عنایت هے كه انسان كو جو كام ضروری كرنا چاهیے ا سكے انجام دینے پر برانگیخته كرتا هے اور اسے اس كام میں مدد فراهم كرتا هے اگر اس كی طرف سے انگیزه اور مدد نه هو تو انسان وه كام انجام نهیں دے سكتا ، اسی طرح هو كام جو انسان كو نهیں كرنا چاهیے لطف اسے اس كام سے دور كرتا هے لطف كے تین مراحل هیں:1: توفیق: كام كو انجام دینے كےلۓ ضروری وساŵل اور اسباب فراهم كرنا-2: ارشاد و راهنمائ (راسته دكھلانا)3: عمل میں رهبری (مقصود تك پهنچانا) 1علامه حلی (رح) اس حوالے سے فرماتے هیں:امامت دین و دنیا كے امور میں ایك كلی الهی رهبری و حاكمیت هے بعنوان ناŵب پیغمبر بعض افراد كےلیے یه واجب عقلی هے كیونكه امامت لطف هے ،همیں یقین هے كه اگر لوگوں كےلیے ایسا كوئ شخص هو جو انكی رهبری كا ذمه داری اپنے كاندھوں پر لے اور انكی راهنمائ كرے دوسرے لوگ اس كی اطاعت كریں اور وه مظلوم كے حق كو ظالم سے لے اور ظالم كو ظلم سے منع كرے تو لوگ صلاح وخیر كے نزدیك اور فساد سے دور هوجاŵیں گے 2
لطف كی تعریفیه الله تعالی كی صفات فعلی میں سے هے ایسا الهی فعل هے كه جن كی بنا پر لوگ اطاعت كے قریب اور معصیت سےدور هوجاتے هیں-
لطف كی اقساماس كی دو قسمیں بیان هوئ هیں :
1. لطف محصلالله تعالی كی طرف سے ایسے اسباب فراهم هونا كه جن پر انسان كی خلقت كا هدف موقوف هے اگر الله تعالی یه اسباب و احكام فراهم نه كرے تو انسانی خلقت لغو هوجاŵیں مثلا احكام شرعیه بھیجنا ٬دین كی تبلیغ اور حفاظت كےلیے انبیا كا بھیجنا
2. لطف مقربوه امور الهی كه جن كے ذریعے احكام تكلیفه كا هدف پورا هو كیونكه اگر الله تعالی یه لطف نه كرے تو بهت سے بندگان اطاعت و امتثال كےلیے تیار نهیں هوتے مثلا نیك لوگوں كو جنت كا وعده ، برے لوگوں كو جهنم كے عذاب سے ڈراوا اور امتحان لینے كےلیے لوگوں كو نعمات اور مصاŵب دینا۔ ۔ ۔ اس قسم كا لطف انسان كو الهی احكام بجا لانے كے نزدیك كرتا هے اور سركشی سے دور كرتا هے
نتیجهاگر لطف محصل نه هو تو تكالیف شرعیه كےلیے انبیا كی بعثت هی نه هوگی اگر لطف مقرب نه هو تو اگرچه انبیاء و آŵمه كی صورت میں راهنما هونگے احكام شرعیه هونگے لیكن عموما لوگ امتثال و اطاعت نهیں بجا لاŵیں گے
قانون لطف كی امامت پر دلالتاكثر علماء علم كلام امامت كے مسأله كو لطف مقرب كے مصادیق میں سے شمار كرتے هیں اس طرح كه الله تعالی نے بندوں پر كچھ تكالیف واجب كیں تاكه وه ان تكالیف كی پیروی و اطاعت میں كمال و سعادت تك پهنچ جاŵیں ، یه غرض الهی بغیر امام معصوم كومنصوب كرنے اور لوگوں كو جنت كا وعده اور جهنم كے ڈراوے كے پوری نهیں هوسكتی پس خدا ے حكیم یقینا ان امور كو انجام دے گا تاكه تكالیف شرعیه كے حوالے سے نقض غرض لازم نه آۓاكثر بزرگ علماء اهل كلام یهاں ایك مثال دیتے هیں كه جب بھی كوئ غذا تیار كرے اور اس كا م قصد یه هو كه لوگوں كو دعوت دے اور وه انهیں پیغام دعوت بھیجے اب وه جانتا هے كه لوگوں كے پاس اس كے ایڈریس كےلیے نشانی اور راهنمائ موجود نهیں هے نه كوئ انكے پاس ایسا راهنمنا هے كه جو اس كی نشانی بتاۓ اور وه بھی نشانی بتانے كےلیے كوئ راهنما نه بھیجے تو یقینا دعوت والا كام عبث اور فضول هوگا-اس عهد امامت لطف مقرب كے مصادیق میں سے هے اور امام كا مرتبه پیغمبر كے مرتبہكے قریب هے لیكن اس فرق كے ساتھ كه پیغمبر تكالیف شرعی كو لانے اوربیان كرنے كےلیے هوتے هیں جبكه امام بعنوان ناŵب پیغمبر ان تكالیف شرعیه كے محافظ اور پاسدار هوتے هیں 3بلاشبه قوانین الھی كی حفاظت اور امام كے دیگر وظاŵف سے انسان الهی اوامر كی پیروی كے قریب هوجاتے هیں اور سركشی سے دور هوجاتے هیں اور جب بھی كسی معاشره كا ایسا رهبر هو جو انكو ظلم سے روكے اور صلح وعدالت كے راسته پر لیجاۓ تو ایسا معاشره صلاح وخیر كے نزدیك اور فساد سے دور هوگا- 4اب ایسا رهبر اگر الله تعالی كی طرف سے هو اور معصوم بھی هو تو پھر اس كے لطف هونے میں كوئ شك نهیں رهے گا كیونكه الھی اور معصوم امام یا رهبر كے منصوب هونے سے نه كوئ مفسده اور نه كوئ مشكل پیش آتی هے كه الله اس مشكل كی بنا پر امام كو منصوب نه كرے
2. دین كے متخصص و ماهر كی ضرورتهمارا عقیده هے كه پیغمبر اسلام ۖ آخری پیغمبر هیں اور دین اسلام ایك جامع اور كامل دین هے تو اس وقت یه مشكل سامنے آتی هے كه پیغمبر اسلام كو 23 ساله زمانه تبلیغ میں اتنی فرصت نهیں ملی كه امت كی راهنمائ كےلیے تمام جزئیات اور تفصیلات بیان كریں اس كے علاوه لوگ بھی اس زمانه میں بهت سے معارف كو درك كرنے كی صلاحیت نهیں ركھتے تھے اور بعض مساŵل اس دور كے لوگوں كےلیے ضروری بھی نه تھے كه انهیں یاد كریں اور اور دوسروں تك پهنچاŵیںیهیں سے پیغمبر اسلامۖ كے بعد دین كے ماهر و متخصص كی بعنوان امام ضرورت پیش آتی هے ایسا ماهر و متخصص كو جو تبلیغ میں پیغمبر كی مانند كبھی خطا و اشتباه نه كرے-یه ایسا مسله هے كه جسے تمام عقلا عالم قبول كرتے هیں كه هر كام میں ماهر و متخصص كی ضرورت هے اسی طرح هر مكتب و مذهب كی پیچیدگیوں اور مساŵل كے حل كےلیے اس مذهب كے ماهر كی طرف رجوع هو-اگر ماهرین و متخصص نه هوں یا هوں لیكن امام نه هوں بلكه مساŵل میں خطا كرنے والے هوں تو یه مذهب لوگوں كےلیے ناكافی هوگا اور بالآخر یه مذهب ختم هو جاۓ گا یا مسخ هوجاŵیگا آیت الله سبحانی امامت پر ادله كی بحث میں ایك برهان یوں پیش كرتے هیں:1. الھی آیات كی شرح و تفسیر اور انكے اسرار و رموز كو كشف كرنا2. جدید پیش آنے والے مساŵل میں احكام شرعیه بیان كرنا3. شبھات كا جواب اور اهل كتاب كے سوالات كا جواب4. دین كو تحریف سے محفوظ ركھنایه چار اهم وظاŵف هے كه جو پیغمبر اكرم ۖ اپنی پر بركت حیات میں انجام دیتے تھے تو پیغمبر اكرم ۜ كے بعد كون ان وظاŵف كو انجام دے گا ؟ تین احتمال موجود هیں:الف) شارع اس مسله كی طرف توجه نه كرے اسے ایسے هی چھوڑ دے یه بات نا ممكن هےب) شارع اس مسله كو امت كے سپرد كردے كه وه خود انجام دیں تو یهاں هم دیكھتے هیں كه رحلت پیغمبر اكرم (ص) كے بعد امت اسلامی كیسے كیسے حوادث اور مساŵل میں گرفتار هوئ جس كے نتیجے میں لوگوں میں تفرقه پیدا هوا لهذا یه احتمال بھی قابل قبول نهیں هے-ج) الله تعالی یه ذمه داری پیغمبر اكرم(ص) كی مانند كسی شخص كے سپرد كرے جو انكی مانند معصوم هو اور دین كی درست تشریح و تفسیر كرے-پهلے دو احتمال باطل هیں تیسرا احتمال عقلا عالم كے نزدیك درست هے اور یه وهی بات هے كه الله تعالی پیغمبر اكرم كے بعد بعنوان امام انكا جانشین منتخب كرے-
3. سیرت مسلمیناسلامی متكلمین نے اپنی كلامی كتب میں یه دلیل ذكر كی مثلا خواجه نصیر الدین طوسی نے تلخیص المحصل میں ٬عضد الدین ایجی نے مواقف میں ٬سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصداور شرح عقاŵد نسفیہ میں اور شهرستانی نے نهایه الاقدام میں ذكر كیا هے كہ: سیرت مسلمین بالخصوص صدر اسلام كے مسلمانوں كی سیرت میں مطالعه كے بعد یه بات واضح هوجاتی هے كه یه سب لوگ وجوب امامت كو ایك مسلم امر شمار كرتے تھے حتی كه وه لوگ جو سقیفه میں بھی حاضر نه تھے مثلا حضرت علی(ع) بھی اسلامی معاشرے كی ایك امام كی طرف احتیاج كے منكر نه تھے-
4. شرعی حدود كا اجراء اور اسلامی نظام كی حفاظتبلاشبه شارع مقدس نے مسلمانوں سے چاها هے كه اسلامی حدود كو اجراء كریں اور اسلامی مملكت كی سرحدوں كی دینی دشمنوں سے حفاظت كریں یه چیز بغیر با صلاحیت اور مدبر رهبر و امام كے ممكن نهیں هے یه كه واجب كا مقدمه واجب هوتا هے اس امام كا منصوب كرنا بھی واجب هے عالم اهلسنت سعد الدین تفتازانی نے شرح مقاصد میں اس دلیل كی طرف اشاره كیا هے 5
5. بڑے خطرات سے بچنا واجب هےایك اور دلیل كے جسے اسلامی متكلمین مثلا علماء اهلسنت ٬فخر رازی٬ 6 اور سعد الدین تفتازانی 7 نے امامت كے وجوب پر پیش كیا هے یه هے كه امامت كی شكل میں امت اسلامی كو بهت بڑے اور عظیم سماجی فواŵد حاصل هیں كه اگر ان فواŵد كو نظر انداز كردیا جاۓ تو شخص اور معاشره بڑے خطرات اور نقصانات سے دوچار هوجاŵیگا كه ایسے خطرات سے بچنا شرعا و عقلا واجب هےان پانچ عقلی ادله كے پیش نظر كها جاسكتا هے كه شیعه و سنی تمام اسلامی متكلمین كے نزدیك امامت كا وجود اور وجوب مورد اتفاق هے——————-1. تمهید الاصول ص۷۶۷2. شرح باب حادی عشر ص ۸۳3. انیس الموحدین ٬محمد مهدی نراقی باب امامت4. كشف المراد، ص۳۶۲5. شرح مقاصد ج۵ ص۲۳۶- ۲۳۷6. تلخیص المحصل ص۴۰۷7. شرح مقاصد ج۵ ص۲۳۷- ۲۳۸
 
 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.